Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 16)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

ہانی جلدی سے لیپ ٹاپ بند کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔۔!!!

تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے میں اس طرح

آنے کی وہ تقریباً چلاتے ہوئے بولی۔۔۔۔اتنی بھی تمیز

نہی کہ کسی کے کمرے میں جانے سے پہلے دروازہ

ناک کرتے ہیں۔۔۔منہ اٹھا کر چلے آئے ہو۔۔۔۔!!!!!!!!!

دروازہ ان کا ناک کیا جاتا ہے جن میں شرم حیا نام کی کوئی چیز ہو۔۔۔اور یہ کوالٹی تو تم میں ہے نہی۔۔احسن بنا لحاظ کیے بولا۔۔۔۔!!!!

مجھے نہی پتہ تھا ڈاکٹرز اتنے بدلحاظ ہوتے ہیں۔۔نکلیں میرے کمرے سے ورنہ میں شور مچا کر سارے گھر والوں کو اکٹھا کر لوں گی۔۔۔۔!!!

اچھا مچاو شور۔۔۔لیکن کیا کہوں گی گھر والوں کو اکھٹا کر کے۔۔۔۔بتاو زرا۔۔۔احسن اس کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔!!!

ہانی پیچھے ہٹتی چلی گئی احسن کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر۔۔۔وہ دیوار سے جا لگی۔۔احسن اس کی طرف بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ ان کے درمیان چند قدم کا فاصلہ رہ گیا۔۔۔!!!!

مچاو شور۔۔۔بلاو سب کو چپ کیوں کھڑی ہو۔۔احسن اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!

ہانی کی سٹی گم ہو چکی تھی اسے احسن سے خوف محسوس ہونے لگ پڑا تھا۔۔۔!!

احسن نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں بازو پیچھے کی طرف موڑ دئیے۔۔۔اور اس کا منہ دیوار سے لگا دیا۔۔۔!!!

یہ جو تم حربے استعال کر رہی ہو نا میرے خلاف۔۔۔یہ سب بند کر دو۔۔۔ورنہ میں تمہیں دوسرا موقع نہی دوں گا۔۔۔اگر تم سمجھتی ہو کہ میرے اور منال پر الظام لگا کر تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاو گی۔۔۔۔!!!!!

تو یہ غلط فہمی ہے تمہاری۔۔۔یہ میری فرسٹ اینڈ لاسٹ وارننگ ہے تمہیں مس ہانی۔۔۔یہاں رہنا ہے تو تمیز سے رہو ورنہ اپنا بوری بستر اٹھاو اور چلتی بنو یہاں سے۔۔۔۔!!!!

چھوڑو مجھے ہانی درد سے تڑپ اٹھی۔۔۔میں نے کیا کیا ہے۔۔۔تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔۔ہانی خود کو چھڑانے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!

مجھے صفائی پیش مت کرو میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔حنان کے دماغ میں یہ غلاظت تمہاری ہی بھری ہوئی ہے۔۔۔۔اچھی طرح سمجھ گیا ہوں میں تمہارے ارادے تم کیا چاہتی ہو۔۔۔۔!!!!

احسن نے اس کے ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔اب دوبارہ ایسا کچھ کیا تو اپنی خیر منا لینا۔۔۔کہتے ہوئے احسن کمرے سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!!!!!!!!

ہاں میں نے کیا ہے یہ سب کچھ۔۔۔۔کیا کر لو تم۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟

احسن نے ابھی باہر کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ ہانی کے الفاظ اس کے کانوں میں پڑے۔۔۔وہ واپس پلٹا۔۔۔!!!!

ہاں میں نے ہی کیا ہے یہ سب بلکہ دکھایا ہے حنان کو۔۔کل جو تم دونوں گارڈن میں رنگ رلیاں منا رہے تھے۔۔۔۔تمہیں کیا لگا کسی کو پتہ نہی چلے گا۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ہانی۔۔۔اب تم حد سے بڑھ رہی ہو۔۔۔۔میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔اگر دوبارہ تم نے منال کے بارے میں ایسی کوئی بات کی تو۔۔۔احسن غصے میں آ چکا تھا۔۔۔۔!!!!

ہانی اس کی طرف بڑھی۔۔۔اوہ۔۔۔بے بی کو غصہ آ گیا۔۔۔سو سویٹ۔۔غصے میں بھی کیوٹ لگتے ہو۔۔۔بے باقی سے احسن کے گال پر انگلی پھیرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!

احسن مزید تپ چکا تھا۔۔۔اس نے ایک جھٹکے سے ہانی کے دونوں بازو پیچھے کی طرف موڑ دئیے۔۔۔میں تمہاری جان لے لوں گا ہانی۔۔۔تم باز آ جاو۔۔ورنہ اچھا نہی ہو گا۔۔۔!!!!

ابھی تم مجھے جانتی نہی ہو۔۔۔۔!!!!!

تو جان لوں گی آہستہ آہستہ۔۔۔ہانی درد میں بے باقی سے ہنستے ہوئے بولی۔۔۔!!!!

احسن کو اس کا لہجہ عجیب لگا۔۔۔بس یہی کر سکتی ہو تم۔۔۔وہ حنان ہے جو تمہاری ان اداوں پر فدا ہے۔۔۔میں احسن ہوں تمہاری ان اداوں کے جال میں نہی پھنسنے والا۔۔۔کہ کر احسن نے اس کے ہاتھ چھوڑ دئیے۔۔۔۔!!!!!

کب تک بھاگو گے۔۔کس کس سے چھپاو گے۔۔۔تمہاری آنکھوں میں صاف دکھتا ہے سب۔۔۔تم منال سے محبت کرتے ہو۔۔۔ہانی مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!!

احسن نظریں چرا گیا۔۔۔اور آگے بڑھ کر ایک تھپڑ ہانی کے نازک چہرے پر لگا دیا۔۔۔ہانی لڑکھڑاتے ہوئے بیڈ پر جا گری۔۔۔!!!!

احسن اس کے پاس جا رکا۔۔۔یہ سب تمہارے دماغ کی غلاظت ہے اور کچھ نہی ہے۔۔۔آئیندہ تمہارے منہ سے ایسی کوئی بات نہ سنو میں۔۔۔سمجھی۔۔۔احسن اسے وارن کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل آیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

احسن اپنے کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کر کے بیٹھ گیا۔۔۔ہانی نے اسے پریشان کر دیا تھا۔۔۔وہ کچھ غلط تو نہی کہ رہی تھی۔۔۔مجھے یہاں سے جانا ہو گا۔۔جب تک یہ ہانی یہاں پر ہے۔۔۔۔!!!!!

ورنہ یہ منال کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہے۔۔۔اوپر سے حنان بھی اس کی باتوں میں آ گیا ہے۔۔۔۔ایسا کرتا ہوں چچی جان سے بات کرتا ہوں۔۔۔نہی۔۔۔اگر وہ برا مان گئیں۔۔اور انہوں نے جانے کی وجہ پوچھی تو کیا بتاوں گا ان کو۔۔۔۔!!!!!

نہی یہ نہی ہو سکتا۔۔۔۔ایسا کرتا ہوں گھر آنا ہی کم کر دیتا ہوں۔۔جب تک یہ ہانی دفعہ نہی ہو جاتی۔۔۔یہ نا ہو میری کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ منال کی زندگی میں مشکلات پیدا کر دے۔۔۔!!!!

لیکن یہ مجھے یہاں سے اتنی جلدی جانے والی لگتی نہی ہے۔۔۔کیا کروں میں اس لڑکی کا۔۔۔کچھ سمجھ نہی آ رہا۔۔۔پریشان کر کے رکھ دیا ہے اس نے مجھے۔۔حنان کو اب خود پر ہی غصہ آ رہا تھا۔۔۔مجھے جانا ہی نہی چاہیے تھا اس کے کمرے میں۔۔۔۔!!!!!

یہ تھپڑ بہت مہنگا پڑے گا تمہیں۔۔۔ڈاکٹر احسن ملک۔۔۔!!! آج تک مجھے کسی نے ڈانٹا تک نہی اور تم نے مجھے تھپڑ مار دیا۔۔۔اس کا انجام اچھا نہی ہو گا۔۔۔آج تم نے مجھے جو تکلیف پہنچائی ہے نا۔۔۔!!!!!!!!!!

میں تمہیں اس سے کئی گنا زیادہ تکلیف پہنچاوں گی۔۔تمہیں بھی اور تمہاری محبوبہ کو بھی۔۔۔لوہے کے چنے نا چبوائے تو میرا نام بھی ہانی نہی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ابھی تم مجھے بھی نہی جانتے۔۔۔لیکن اب جانو گے تم مجھے۔۔دھکے مار کر تمہے اور منال کو اس گھر سے نا نکلوایا تو میرا نام بدل دینا۔۔۔۔!!!!!

منال کب سے یونہی بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی حنان نیچے چلا گیا تھا۔۔پانچ منٹ میں آنے کا کہ کر ابھی تک نہی آیا تھا۔۔۔مجھے اتنی جلدی حنان پر بھروسہ نہی کرنا چاہیے۔۔۔یہ ایک پل میں بدل جاتے ہیں۔۔۔!!!!

دور کہیں سے منال کو اپنے دل سے آواز آئی۔۔۔منال نے سر جھٹک دیا۔۔۔نہی وہ واقعی بدل چکے ہیں۔۔۔شاید احساس ہو چکا ہے ان کو مجھ پر کیے ظلموں کا۔۔۔لیکن پتہ نہی کیوں۔۔۔میرا دل ڈرتا ہے۔۔۔۔!!!!!

یہ سب کچھ اک خواب سا لگنے لگا ہے۔۔۔کہی ایسا نا ہو کہ میں نیند سے جاگو اور سارا خواب ٹوٹ جائے۔۔۔۔پھر خود ہی سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔اللہ نا کرے کہ ایسا کچھ ہو۔۔۔!!!!

اللہ چاہے تو نفرتوں کی جگہ دلوں میں محبتیں بھر دے۔۔۔یہ اللہ ہی ہے جو دلوں سے نفرتوں کو ختم کرنے والا ہے۔۔۔بے شک۔۔۔!!!

مجھے اچھا اچھا سوچنا چاہیے۔۔۔اور اچھے کی امید رکھنی چاہیے۔۔۔یہ سب میرا وہم بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ایسے ہی پتہ نہی کیا کیا سوچتی رہتی ہوں میں۔۔۔وہ سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔۔تب ہی حنان کمرے میں داخل ہوا۔۔۔تو وہ سوچوں کی دنیا سے باہر نکلی۔۔۔۔۔!!!!!!

منال کسی سے ملوانا ہے تمہیں۔۔۔اگر تم ایزی ہو تو میں اندر لے آوں۔۔حنان پیار سے منال سے اجازت لینے والے انداز میں بولا۔۔۔۔!!!!!

جی۔۔۔۔آپ لے آئیں مجھے کوئی مسلہ نہی۔۔۔جیسے آپ کی مرضی۔۔۔!!!!

ہمممم ٹھیک ہے حنان باہر کی طرف بڑھا۔۔۔اور چند پلوں بعد ارسل اور زوہان کو لیے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔اسلام و علیکم بھابی جی۔۔۔دونوں نے باری باری سلام کرتے ہوئے۔۔پھولوں کے گلدستے منال کی طرف بڑھائے۔۔۔۔!!!!

وعلیکم اسلام۔۔۔منال نے پہلے حنان کی طرف دیکھا۔۔جب حنان نے آنکھوں سے اشارہ کیا تو منال نے تھینکس کہتے ہوئے گلدستے سائیڈ پر رکھ دئیے۔۔۔۔!!!!

منال یہ میرے بیسٹ فرینڈز ہیں بچپن سے۔۔یہ ارسل ہے۔۔اور یہ زوہان۔۔۔حنان باری باری دونوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

لو دیکھو زرا۔۔ہمارے نام ایسے بتا رہا ہے بھابی کو جیسے ہم خود بتا نہی سکتے۔۔۔یا ہمیں پتہ نہی اپنے ناموں کا۔۔۔زوہان کہاں چپ رہنے والا تھا۔۔۔۔ارسل نے اس کی کمر میں ایک مکا رسید کیا تو اس کی زبان بند ہوئی۔۔۔۔!!!!

منال اس کی بات پر ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔ویسے بھابی یہ چوٹ آپ کو کیسے لگی۔۔۔میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔زوہان پھر سے بول پڑا۔۔۔۔!!!!!

اس کی بات پر منال نے حیرانگی سے پہلے اس کی طرف اور پھر حنان کی طرف دیکھا۔۔حنان مسکرا رہا تھا۔۔۔ !!!!

ضرور یہ حنان آپ کی کوئی بات نہی مان رہا ہو گا۔۔آپ کو غصہ آیا ہو گا۔۔۔اور آپ نے غصے میں پنچ مار دیا ہو گا اس کو۔۔۔پر یہ ہے ہی اتنا ڈھیٹ اس کو تو لگا نہی ہو گا۔۔۔الٹا آپ ہی کو چوٹ لگ گئی ہو گی۔۔۔۔!!!!

منال ہنس دی۔۔۔نہی بھائی ایسی کوئی بات نہی ہے۔۔۔وہ تو پاوں پھسلنے کی وجہ سے چوٹ لگی ہے مجھے۔۔۔۔منال مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!

اچھا پھر ٹھیک ہے۔۔میں سمجھا اس نے تنگ کیا ہے آپ کو۔۔۔زوہان ہنسی دباتے ہوئے بولا۔۔۔ویسے بھابی اگر یہ آپ کو تنگ کرے نا تو ہمیں بتا دینا آپ۔۔ایک منٹ میں طبیعت درست کر دیں گے ہم اس کی۔۔۔۔۔۔!!!!!

اوہ باتوں کی مشین چپ کر اب۔۔۔اور کتنا بولے گا۔۔پہلی بار ملا ہے اور اتنا بول رہا ہے بھابی کے کان پکائے گا کیا بول بول کر۔۔ارسل زوہان کی کمر میں مکا رسید کرتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!

ارے آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں۔۔۔بیٹھیں نا۔۔۔منال کو یاد آیا تو بول پڑی۔۔۔۔!!!!

ارے شکر ہے بھابی آپ کو یاد آ گیا۔۔۔ورنہ میں تو کھڑے کھڑے تھک جاتا۔۔۔زوہان پھر سے بول پڑا۔۔۔ارسل اسے کھینچتے ہوئے صوفے پر لے گیا۔۔۔بیٹھو یہاں۔۔اب کچھ مت بولنا۔۔۔!!!!

اچھا سوری بھابی مزاق کر رہا تھا۔۔۔میں تو آپ کا دل لگانے کے لیے ایسی باتیں کر رہا ہوں۔۔۔کیونکہ میں جانتا ہوں۔۔آپ تھک گئی ہو گی صبح سے کمرے میں بیٹھے بیٹھے۔۔۔اور یہ حنان اس نے بھی بور کیا ہو گا آپ کو صبح سے۔۔۔۔۔!!!!!

ہاں ہاں میں تو ہوں ہی بورنگ۔۔۔بیٹا نیچے چل پھر تجھے بتاتا ہوں۔۔۔حنان نے آنکھوں ہی آنکھوں میں زوہان کو دھمکی دی۔۔۔۔!!!!!

تب ہی ہانی آ ٹپکی۔۔۔ارے واہ۔۔۔تم دونوں کب آئے۔۔۔واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز۔۔۔ہانی کمرے میں ارسل اور زوہان کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!

ارے ہانی تم ابھی تک یہی ہو۔۔۔؟؟؟ میں تو سمجھا تم چلی گئی ہو گی۔۔۔ویسے کسی کے گھر زیادہ دن رہنے سے عزت خراب ہوتی ہے۔۔۔زوہان ہانی کو دیکھتے ہی بول پڑا۔۔۔!!!!

زوہان کی بات پر ارسل کی ہنسی نکل گئی۔۔۔اس نے زوہان کو کہنی ماری۔۔۔کہ چپ ہو جاو۔۔بہت ہو گیا۔۔۔لیکن زوہان کہاں رکنے والا تھا۔۔۔اچھا صبح چلی جاو گی میرا خیال ہے بارش کی وجہ سے تمہاری فلائٹ مس ہو گئی ہو گی۔۔۔!!!!

میں کیوں جانے لگی یہاں سے۔۔۔میں مہمان تھوڑی ہوں۔۔یہ میرا بھی گھر ہے۔۔۔ہانی میرا گھر پر زور ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔اینڈ بائے دا وے۔۔تمہیں کیا پرابلم ہو رہی ہے میرے یہاں رہنے سے۔۔۔میری مرضی جب تک میرا دل چاہے گا یہاں رہوں گی۔۔۔۔!!!!

اچھا مطلب تمہارا فلحال کوئی ارادہ نہی واپس جانے کا۔۔۔ویسے اچھا ہی ہے۔۔۔اس گھر میں ایک پاگل کی کمی تھی۔۔تمہارے آنے سے پوری ہو گئی۔۔۔زوہان پھر سے بول پڑا۔۔۔۔!!!!

کیا مطلب ہے تمہیں میں پاگل لگتی ہوں۔۔۔۔؟؟؟ ہانی صدمے سے چلائی۔۔۔۔زوہان تم بہت بولنے لگ پڑے ہو آج کل۔۔۔ٹھیک کر لو خود کو۔۔۔ہانی زوہان کو مکا دکھاتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!

میں کیا گاڑی ہوں۔۔۔جو خود کو ٹھیک کر لوں۔۔۔میں تو سچ بولتا ہوں۔۔ وہ الگ بات ہے تم فیل کر جاتی ہو۔۔۔زوہان ہنسی دباتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

زوہان پٹو گے تم مجھ سے آج۔۔۔حنان منع کیوں نہی کر رہے تم اسے کب سے مجھے تنگ کر رہا ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

زوہان کیوں تنگ کر رہے ہو بیچاری کو۔۔۔حنان زوہان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔تو زوہان کے چہرے کے زاویے دیکھ کر اس کی خود کی ہنسی نکل گئی۔۔۔!!!!!!

حنان کو ہنستے دیکھ ہانی پیر پٹختی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔بھاڑ میں جاو تم سب۔۔۔!!!!

ہانی کے جاتے ہی تینوں کا زور دار قہقہ گونجا کمرے میں۔۔۔۔بس کرو یار۔۔۔کتنا ہنساو گے۔۔۔ارسل ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے بولا۔۔۔۔!!!!

ارے بھابی آپ کیوں چپ ہو گئیں۔۔۔آپ کو ایک مزے کی بات بتاتا ہوں۔۔۔یہ جو حنان ہے نا اسے شریف مت سمجھئیے گا۔۔۔!!!!

یونی میں بہت لڑکیاں مرتی تھیں اس پے۔۔۔مگر یہ سب سے کام نکلوا لیتا تھا بہانے سے اسائمنٹس بنوانے کے لیے یہ ایسا کرتا تھا۔۔۔!!!

لڑکیاں بھی خوش اور یہ بھی خوش رہتا تھا۔۔۔اور جب یہ کسی لڑکی کے پاس کھڑا ہوتا تھا نا تو ہمیں پہچاننے سے ہی انکار کر دیتا تھا۔۔۔!!!

کون ارسل کون زوہان۔۔۔آہ۔۔۔کیا بتاوں آپ کو بھابی کیا کیا ستم کرتا تھا یہ ہم پر۔۔۔زوہان آنکھوں پر بازو رکھتے ہوئے رونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔!!!

منال بہت غور سے زوہان کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔منال کو غور سے زوہان کی باتیں سنتے دیکھ حنان پریشان ہو گیا۔۔۔۔!!!!

یہ سب جھوٹ ہے منال۔۔۔یہ سب ڈرامے کر رہا ہے یہ۔۔اس کی عادت ہے فضول باتیں کرنے کی تم اس کی باتوں پر دھیان مت دینا۔۔۔یہ ہماری لڑائی کروانا چاہتا ہے بس اور کچھ نہی۔۔۔حنان سیریس ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

حنان کی بات پر تینوں مسکرا دئیے۔۔۔دیکھا بھابی آپ نے کیسے صفائیاں دے رہا ہے۔۔وہ کہاوت تو سنی ہو گی نا آپ نے چور کی داڑھی میں تنکا۔۔۔یہ تنکا بول رہا ہے۔۔۔۔!!!!

ہاہاہاہا ویری فنی۔۔۔چلو اب دفع ہو جاو یہاں سے۔۔۔حنان زوہان کو مکا مارتے ہوئے بولا۔۔۔دیکھا بھابی آپ نے اب یہ ہمیں آپ کو سچائی بتانے سے روک رہا ہے۔۔۔زوہان پھر بھی نا رکا۔۔۔!!!!

دوست۔۔دوست نا رہا۔۔۔ظالم بن گیا۔۔۔!!!

کیسا یہ ستم ڈھایا تو نے زندگی۔۔۔۔۔!!!!

زوہان کنگنانے لگا۔۔۔اور سب مسکرا دئیے۔۔۔اچھا یار میں کھانا منگواتا ہوں تم لوگوں کے لیے۔۔میں آتا ہوں۔۔۔کہتے ہوئے حنان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!

چند منٹ بعد حنان کمرے میں آیا تو ملازمہ کھانا دے کر چلی گئی۔۔۔اور وہ تینوں کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔۔ارے بھابی آپ بھی کھائیں نا کھانا کہ ڈاکٹر نے آپ کو منع کیا ہے کھانا کھانے سے۔۔۔۔!!!!!!!!!

نہی نہی ایسی کوئی بات نہی بھائی آپ لوگ کھا لیں۔۔میں نے تھوڑی دیر پہلے ہی کھایا تھا کھانا مجھے ابھی بھوک نہی ہے۔۔۔۔منال مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!

کھانا کھانے کے بعد تینوں کچھ دیر باتیں کرتے رہے اور پھر واپس جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔شکر ہے بارش رکی ہوئی ہے۔۔۔ہم لوگ چلتے ہیں۔۔ورنہ بارش میں ڈرائیو کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ٹھیک ہے بڈیز۔۔۔پہنچ کر میسیج کر دینا مجھے تم دونوں یاد سے۔۔۔۔حنان دونوں کو باری باری گلے لگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

اوکے بھابی جی خدا حافظ پھر ملاقات ہو گی نئی خبروں کے ساتھ۔۔۔زوہان جاتے جاتے بھی منال کو ہنسا گیا۔۔۔منال نے خدا حافظ کہا مسکراتے ہوئے۔۔تو تینوں کمرے سے باہر نکل گئے۔۔۔۔!!!!

حنان تم بہت لکی ہو تمہیں منال بھابی جیسی بیوی ملی ہے۔۔۔ہم دونوں بہت خوش ہیں تمہارے لیے۔۔۔ارسل حنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!

ہاں یار وہ دوسری لڑکیوں جیسی بلکل نہی ہے۔۔فضول بات بھی نہی کرتیں۔۔۔اور نا ہی اٹیٹیوڈ دکھاتی ہے۔۔۔بس اب تم بھی بندے بن جاو۔۔۔اور اس ہانی کو دفع کرو یہاں سے۔۔۔!!!!

کیوں اپنا گھر خراب کرنا چاہتے ہو۔۔۔تم جانتے ہو ہانی کیسی لڑکی ہے۔۔۔پھر بھی تم یہ سب کر رہے ہو۔۔۔زوہان کہاں چپ رہنے والا تھا۔۔۔۔!!!!!

ہم اسی لیے تم سے ملنا چاہ رہے تھے تا کہ تمہیں سمجھا سکیں۔۔۔اسی لیے تمہیں صبح فون کیا تھا ملنے کے لیے۔۔۔لیکن تم نے انکار کر دیا یہ کہتے ہوئے کہ منال بھابی کو چوٹ لگی ہے اس لیے تم نہی آ سکتے۔۔۔۔!!!!

یقین کرو ہمیں بلکل برا نہی لگا۔۔۔بہت خوشی ہوئی یہ جان کر کہ تمہیں ان کی فکر ہے۔۔۔بس یونہی اللہ پاک تم دونوں کو خوش رکھے ہماری دعا ہے۔۔۔ارسل کہ کر مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ !!!!

آمین۔۔۔۔زوہان بھی۔۔آمین کہتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اور حنان دونوں کو ہاتھ ہلا کر اللہ حافظ کہتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *