Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 24)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

حنان کمرے میں آیا تو منال صوفے پر بیٹھی رو رہی تھی۔۔حنان دروازہ بند کرتے ہوئے اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔منال۔۔اب کیوں رو رہی ہو یار۔۔۔اب تو میں تمہارے پاس ہوں۔۔۔۔!!!!

ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔یار پلیز رونا بند کرو۔۔۔مجھ سے نہی دیکھا جاتا تمہارا رونا۔۔۔حنان اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔آج کے بعد اتنی دور نہی جاوں گا میں۔۔۔یہ میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔!!!!!!!!!!

چلو اب رونا بند کرو۔۔۔مجھے سونا ہے بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔تھکا ہوا ہوں یار۔۔۔۔!!!!!!

منال اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔۔۔آپ آرام کریں۔۔۔میں آتی ہوں۔۔۔۔منال باہر کی طرف جانے ہی لگی تھی کہ حنان نے اسے واپس کھینچ لیا۔۔۔!!!!!

نہی تم کہی نہی جا رہی یہی رکو میرے پاس۔۔۔حنان لائٹ بند کرتے ہوئے منال کو ساتھ لیے بیڈ پر آ گیا۔۔۔منال کا سر اپنے بازو پر رکھے سکون محسوس کرتے ہوئے نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔۔!!!

منال نے بھی پرسکون ہو کر سو گئی۔۔۔اب اس کو سکون مل چکا تھا۔۔اس کا شوہر۔۔اس کا محافظ۔۔اس کے ساتھ ہے۔۔۔۔۔!!!!!!

حیدر کی آنکھ فون کی بیل پر کھلی۔۔۔صبح کے 10 بج چکے تھے اور وہ ابھی تک سو رہا تھا۔۔۔بار کال کاٹ رہا تھا وہ مگر مسلسل فون کی بیل بج رہی تھی۔۔۔آخر کار اکتا کر اس نے کال اٹینڈ کر لی۔۔۔۔!!!!!!!!

اسلام و علیکم سر آپ کے لیے خوشخبری ہے۔۔۔۔ایک لڑکی کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔!!!!!

ہمممم وعلیکم اسلام۔۔۔کیا خوشخبری ہے۔۔۔حیدر کی نیند میں ڈوبی آواز سے بولا۔۔۔۔!!!!!

سر پیسنجر ملک حنان بلکل ٹھیک ہیں۔۔۔دراصل وہ اس پلین میں تھے ہی نہی۔۔۔وہ دوسرے پلین میں تھے۔۔ان کی بکنگ اسی پلین میں تھی جو کریش ہوا تھا۔۔مگر بائے چانس ہمیں وہ سیٹ کسی اور کو دینی پڑ گئی تھی۔۔۔۔!!!!!

اور ملک حنان دوسری فلائٹ سے دبئی چلے گئے تھے۔۔۔وئی آر ریلی سوری ہماری چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے آپ کو اتنی بڑی پرابلم سے گزرنا پڑا۔۔۔۔!!!!!

اٹس اوکے۔۔۔آئی ناو۔۔۔ملک حنان از فائن۔۔۔وہ آج صبح ہی گھر پہنچے ہیں۔۔۔ویل تھینکس فار انفارمنگ۔۔خدا حافظ کہتے ہوئے حیدر نے فون سائیڈ پر رکھ دیا۔۔۔۔!!!!!

حنان کی آنکھ کھلی تو منال بیڈ پر نہی تھی۔۔۔وہ فریش ہونے چلا گیا چینج کرنے کے بعد نیچے گیا تو منال نیچے بیٹھی تھی سب کے ساتھ۔۔۔حنان بھی نیچے جا کر منال کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔!!!!

ملک صاحب آفس چلے گئے تھے۔۔اور احسن ہاسپٹل جا چکا تھا۔۔۔۔!!!!!

مسز ملک نے حنان کو پیار کیا۔۔۔اللہ تم دونوں کی جوڑی سلامت رکھے۔۔اور ہر بری نظر سے بچائے تم دونوں کو۔۔۔آمین۔۔۔۔!!!!

ناشتہ لگوا رہی ہوں تم دونوں کے لیے۔۔۔منال نے بھی ابھی تک ناشتہ نہی کیا۔۔۔کب سے کہ رہی ہوں کہ کر لو ناشتہ۔۔۔لیکن یہ ضد لگائے بیٹھی ہے کہ تمہارے ساتھ ہی کھائے گی۔۔۔۔۔!!!!!!!

اوہ۔۔۔رئیلی۔۔۔حنان آہستہ سے منال کے کان کے قریب ہوتے ہوئے بولا۔۔۔منال مسکرا دی۔۔۔!!!!

ماہم دونوں کو مسکراتے دیکھ وہاں سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔وہ ایسا کرنا نہی چاہتی تھی۔۔مگر حنان کو منال کے ساتھ دیکھنا اس سے برداشت نہی ہوتا تھا۔۔۔۔پتہ نہی کیوں۔۔۔!!!!

شاید یہی محبت کی شرط ہوتی ہے۔۔محبت میں شراکت برداشت نہی ہوتی۔۔۔لیکن یہ محبت یکطرفہ تھی۔۔۔بس ماہم نے محبت کی تھی حنان سے۔۔۔حنان نے تو نہی کہا اسے محبت کرنے کو۔۔۔۔!!!!

یہ یکطرفہ محبت اسی کا فیصلہ تھا۔۔اور اب اس آگ میں اسے ہی جلنا تھا۔۔محبت دو دلوں کا ملن ہوتا ہے۔۔یکطرفہ محبت ایک ویران گھر کی طرح ہوتی ہے۔۔جہاں کوئی رہنا نہی چاہتا۔۔۔!!!

اپنے کمرے میں جا کر سر گھٹنوں پر رکھے جی بھر کر رو دی۔۔وہ اب مزید یہاں نہی رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔یا پھر یوں کہ لیں کہ دوبارہ یہاں نہی آنا چاہتی تھی۔۔۔۔اس نے سوچ لیا ماما سے بات کرتی ہوں گھر واپس چلتے ہیں۔۔۔۔!!!!

آنکھیں صاف کرتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اور اپنی ماما کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ماما ہم گھر کب جا رہے ہیں۔۔۔وہ ان کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔!!!

کیوں کیا ہوا۔۔تم آنے کو بھی تیار تھی اور جانے کو بھی۔۔ایک تو مجھے تمہاری سمجھ نہی آتی۔۔۔اور ادھر دیکھو میری طرف تم۔رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔!!!!!!!!!

کچھ نہی ہوا مما بس ایسے ہی شاید آنکھ میں کچھ لگ گیا ہے شاید۔۔۔۔آپ ایسا کریں آپ لوگ رہ لیں کچھ دن اور مجھے واپس بھیج دیں حیدر کے ساتھ کہتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

کیا ہو گیا ہے اس لڑکی کو پتہ نہی کیا کیا چلتا رہتا ہے اس کے دماغ میں۔۔خود ہی ضد کر کے آئی ہے یہاں اور اب خود ہی واپس جانے کی ضد کر رہی ہے۔۔۔وہ پریشان ہوتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!

تب ہی حنان اور منال ناشتہ کر کے وہاں آ بیٹھے۔۔۔کیا ہوا بڑی ماما پریشان کیوں ہیں آپ۔۔۔۔حنان ان کے پاس بیٹھتتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

کچھ نہی بیٹا۔۔۔۔یہ ماہم بہت تنگ کرتی ہے۔۔۔خود ہی ضد کر کے آئی تھی یہاں ہم سب کو بھی ساتھ لائی۔۔۔اور اب کہ رہی ہے مجھے واپس جانا ہے۔۔۔۔مجھے تو کچھ سمجھ نہی آتی اس لڑکی کی۔۔۔۔!!!!!!!!!!

بڑی ماما آپ پریشان نا ہو۔۔۔میں ابھی بات کرتا ہوں ماہم سے۔۔۔منال تم یہی بیٹھو۔۔۔میں ابھی آتا ہوں۔۔۔!!!!!

حنان دروازہ ناک کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔ماہم کھڑکی کے پاس کھڑی باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔!!!!!!

کیا ہوا ماہم۔۔۔کسی نے کچھ کہا کیا تم سے۔۔کیوں واپس جانے کی باتیں کر رہی ہوں۔۔۔بڑی ماما بہت ڈسٹرب ہیں تمہاری وجہ سے۔۔۔۔اور یار ابھی تو ہم لوگ کہیں گئے بھی نہی۔۔۔اور تم جانے کی بات کر رہی ہو۔۔۔۔!!!!!!

کیونکہ میرا دل نہی لگ رہا اب یہاں۔۔۔اسی لیے واپس جانا چاہتی ہوں میں۔۔۔ماہم بنا مڑے بولی۔۔۔۔!!!!!

کیوں دل نہی لگ رہا تمہارا کیسی باتیں کر رہی ہو تم۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔اس سے پہلے تو تم نے کبھی ایسا نہی کیا کبھی۔۔۔۔۔!!!!!

اس سے پہلے تم نے بھی تو کبھی ایسا نہی کیا حنان۔۔۔ماہم اب حنان کی طرف مڑتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!

کیا مطلب۔۔۔۔؟؟؟ میں نے کیا کیا ہے۔۔۔میں کچھ سمجھا نہی ماہم۔۔۔حنان نا سمجھی کے عالم میں بولا۔۔۔۔!!!!!

مطلب یہ کہ اب تمہارے پاس میرے لیے ٹائم نہی ہے۔۔بہت مصروف ہو گئے ہو تم۔۔اب تمہیں اپنی بیوی کے علاوہ اور کوئی دکھائی نہی دیتا۔۔۔!!!!

اوہ۔۔۔تو یہ بات ہے۔۔۔یار ایسا نہی ہے۔۔۔اس کی طبیعت خراب تھی تو اس لیے میں اس کی کئیر کرتا ہوں۔۔۔اور پھر کس آزمائشوں سے گزری ہے وہ۔۔۔ایسے میں اسے میری سب سے زیادہ ضروت ہے۔۔۔۔!!!!

اس کا یہ مطلب تو نہی ہے کہ میں تم سب کو اگنور کر رہا ہوں۔۔۔وہ میری لائف پارٹنر ہے۔۔اور تم میری دوست ہو۔۔۔میں تم سب میں سی کسی کی بھی ناراضگی برداشت نہی کر سکتا۔۔۔۔!!!!!

وہ تمہاری بیوی ہے۔۔تمہیں بس اسی کی فکر ہے۔۔۔آزمائش سے تو میں بھی گزری ہوں۔۔۔تمہیں بس اپنی بیوی کی فکر ہے۔۔۔۔!!!!

وہ میری بوی ہے ظاہری سی بات ہے میں اس کی فکر نہی کروں گا تو اور کون کرے گا۔۔تم اس بات کا اتنا ایشو کیوں بنا رہی ہو۔۔۔ماہم کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔!!!!!!

کیونکہ مجھ سے یہ سب برداشت نہی ہوتا۔۔۔ماہم دوبارہ کھڑکی کی طرف پلٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

کیا برداشت نہی ہوتا تم سے ماہم کہنا کیا چاہتی ہو تم۔۔۔صاف صاف کہو۔۔۔پہیلیاں کیوں بھجوا رہی ہو۔۔۔۔حنان اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!

مجھ سے برداشت نہی ہوتا تمہیں منال کے ساتھ دیکھنا۔۔۔کیونکہ میں تم سے محبت کرتی ہوں حنان۔۔۔ماہم حنان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!

حنان کو جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔۔۔وہ ماہم کا رویہ نوٹ کر رہا تھا منال کے ساتھ اسے لگا ہی رہا تھا کہ ماہم خوش نہی ہے میرے نکاح سے لیکن اس نے غلط فہمی سمجھتے ہوئے اگنور کیا۔۔۔۔!!!!!

یہ کیا کہ رہی ہو تم ماہم۔۔۔۔تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے نا۔۔۔حنان اس سے نظریں چراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

تم جانتے ہو حنان کہ میں کیا کہ رہی ہوں۔۔۔اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو۔۔۔۔۔!!!!

حنان نظریں چرا گیا۔۔۔اور باہر کی طرف بڑھا۔۔ماہم اس کے سامنے آ گئی۔۔بولو حنان۔۔۔میری بات کا جواب دئیے بغیر تم یہاں سے نہی جا سکتے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ماہم ہٹو سامنے سے کیا بے وقوفی ہے یہ۔۔۔۔تمہں جانا ہے تو جاو۔۔۔مجھے کوئی فرق نہی پڑتا۔۔۔!!!!!

میرِی طرف دیکھ کر کہو کہ تمہیں کوئی فرق نہی پڑتا۔۔۔ماہم اس کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوئے بولی۔۔حنان سوچ میں پڑ گیا۔چند پل سوچنے کے بعد بولا۔۔!!!!!

ہاں ماہم یہ سچ ہے کہ میں نے تم سے محبت کی ہے۔۔اور تم سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔۔اب میں کچھ نہی کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

حنان کا بس اتنا کہنا تھا کہ ماہم حنان کے گلے لگ گئی۔۔میں جانتی تھی حنان۔۔۔تم بھی مجھ سے محبت کرتے ہو۔۔۔لیکن اظہار نہی کرتے۔۔۔میں تو بس صحیح وقت کے انتظار میں تھی کہ تم خود مجھ سے اظہارِ محبت کرو گے۔۔۔۔!!!!!

لیکن تم نے مجھے دھوکا دیا۔۔۔منال سےنکاح کر لیا۔۔۔۔۔مجھ سے نکاح کر لو حنان میں تمہاری غلام بن کر زندگی گزار لوں گی۔۔۔!!!!

حنان نے اپنے بازو ماہم کے گرد پھیلا دئیے۔۔۔وہ کھو سا گیا ان دنوں میں جب اسے اس بات کا احساس ہوا کہ اسے ماہم سے محبت ہو چکی ہے۔۔۔!!!!!

سانیہ کی شادی کے بات وہ مام سے بات کرنے والا تھا کہ حالات میں اتنا الجھا کہ اپنی کوئی خبر ہی نہی رہی اس کو۔۔۔۔!!!

تم منال کو طلاق دے دو حنان۔۔۔مجھ سےشادی کر لو۔۔۔!!!!!

منال کے نام پر حنان ہوش کی دنیا میں واپس لوٹا۔اس نے جلدی سے ماہم کو خود سے دور کیا۔۔۔ماہم گرتے گرتے بچی۔۔۔یہ کیا بدتمیزی تھی ماہم۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

تم میرا گزرا ہوا کل ہو۔۔۔اور منال میرا آج ہے۔۔۔منال کو خود سے دور کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہی سکتا میں۔۔۔!!!!!

جو کچھ تھا وہ ماضی تھا گزر گیا۔۔۔میں نے تم سے کبھی کوئ دعوٰی نہی کیا۔۔۔میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں اب منال کے ساتھ۔۔۔بہتر یہی ہو گا کہ تم بھی مجھے بھلا کر اپنی نئی زندگی شروع کرو۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان خود کو ریلیکس ظاہر کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *