Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 26)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 26)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
حنان اور منال پورا دن باہر گزار کر شام کو تھکے ہارے گھر آئے۔۔منال بہت خوش تھی آج۔۔۔جب سے نکاح ہوا تھا۔۔حنان آج اسے کہی باہر سیر کروانے کے لیے لے کر گیا تھا وہ تو وہ اس گھر میں قید ہو کر رہ گئی تھی۔۔۔۔!!!!!!
جب وہ دونوں ہنستے مسکراتے گھر واپس آئے تو ماہم سب کے ساتھ بیٹھی تھی ٹی وی لاونج میں۔۔۔ان دونوں کو دیکھتے ہی اپنی ماما سے بات کرنا شروع ہو گئی۔۔۔!!!!
آئی ایم سوری ماما۔۔آپ کو بہت تنگ کیا میں نے صبح۔۔۔میری وجہ سے آپ بہت پریشان ہوئیں۔۔۔!!!!!!!!!
لیکن اب میں یہاں رہنا چاہتی ہوں۔۔۔جب تک آپ کا دل چاہے۔۔۔مجھے معاف کر دیں پلیز۔۔۔میں نے آپ کو بہت تنگ گیا۔۔۔۔!!!!!!
وہ تو شکر ہے حنان مجھے منانے آ گیا۔۔۔۔حنان نے مجھے کہا کہ نا جاو۔۔تو اسی وجہ سے میں رک گئی۔۔!!!!!!!!!!!
اپنے نام پر حنان کے سیڑھیوں کی طرف بڑھت قدم رک گئے۔۔۔جبکہ منال تو پہلے ہی دادی کے ساتھ صوفے پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔۔!!!!!!
حنان غصیلی نگاہوں سے ماہم کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔یہ سب وہ اسے ہی سنانے کے لیے بول رہی تھی۔۔۔!!!!!!!!!/
کیونکہ حنان چاہتا تھا کہ ماہم جلد ازجلد یہاں سے چلی جائے۔۔۔۔لیکن ماہم اب ضد لگا رہی تھی حنان کے ساتھ کہ اب وہ یہاں سے نہی جائے گی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!
اس سے پہلے کہ حنان کچھ بولتا اس کے فون کی رنگ ٹون بجی۔۔۔۔وہ ایک غصیلی نظر ماہم پر ڈالتے ہوئے فون کان سے لگائے اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔!!!!!
مرضی ہے تمہاری اے لڑکی۔۔۔جو مرضی کرو۔۔ماں کی تو کوئی پرواہ ہی نہی ہے تمہیں۔۔جب دیکھو اپنی من مانیاں کرتی رہتی ہو۔۔ماہم کی ماما کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئیں۔۔۔۔!!!!!!!!
ہانی نے منال کی طرف انگوٹھے سے اشارہ کیا۔۔۔کہ بہت اچھا کام کیا ہے تم نے۔۔۔۔اور ماہم نے مسکراتے ہوئے اس کی داد وصول کی۔۔۔۔!!!!!
وہ یہ سب کچھ ہانی کے کہنے پر ہی تو کر رہی تھی۔۔۔ہانی نے ہی اسے کہا کہ وہ یہاں سے نہ جائے۔۔۔اور یہی رہ کر حنان کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔۔۔!!!!!!!!!
وہ دونوں کب سے نیچے بیٹھیں حنان کا انتظار کر رہیں تھیں۔۔۔تا کہ حنان آئے اور ماہم اپنی چال چلے۔۔۔حنان کو چیلنج کرنا چاہتی تھی وہ کہ کر لو جو کرنا ہے اب میں یہاں سے کہی نہی جانے والی۔۔۔۔!!!!!
فون پر ملنے والی خبر سے حنان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔!!!!!!
میں ابھی آ رہا ہوں۔۔۔ویل ڈن۔۔۔کہتے ہوئے حنان نے کال ڈسکنیکٹ کر دی۔۔۔اور نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!
مام میں کچھ دیر تک گھر آ جاوں گا۔کہتے ہی حنان تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔کہ تو وہ مام سے رہا تھا۔۔۔لیکن دھیان اس کا منال کی طرف تھا۔۔۔۔!!!!!!
منال پریشان ہو چکی تھی۔۔۔کہ ابھی تو ہم گھر آئے ہیں۔۔۔اور اب پھر سے حنان باہر جا رہے ہیں۔۔۔وہ بھی اتنی جلدی میں۔۔۔یا اللہ سب خیریت ہو منال نے دل میں دعا مانگی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
حیدر نے اوپر سے دیکھ لیا تھا ماہم اور ہانی کو ایک دوسرے کو اشارہ کرتے ہوئے اور مسکراتے ہوئے۔۔۔۔۔!!!!!
حیدر کی سمجھ میں نہی آئی ان دونوں کی یہ حرکت اسے یہ بات کچھ ہضم نہی ہوئی۔۔۔وہ نیچے آ کر ان دونوں کے صوفے کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔خود کو فون پر مصروف ظاہر کرتے ہوئے۔۔۔۔!!!!!
ان دونوں کی باتیں سننے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔لیکن وہ دونوں بہت آہستہ بات کر رہی تھیں۔۔۔۔حیدر کو ان کی کسی بات کی سمجھ نہی آئی۔۔۔۔!!!!!!
کیا چل رہا ہے ان دونوں کے درمیان۔۔۔حیدر کو جاننے کے لیے تجسس ہوا۔۔۔۔وہ جان بوجھ کر ہانی کے ساتھ صوفے پر بچی خالی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
حیدر کو بس حنان کے نام کی سمجھ آئی تھوڑی سی۔۔۔لیکن باقی اسے کچھ سمجھ نہی آئی۔۔۔۔اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
وہ ایک دم اٹھ کر ان کے سامنے جا رکا۔۔۔۔یہ کیا باتیں چل رہی ہیں تم دونوں کے درمیان۔۔۔اور کیا اشارے کر رہی تھیں تم دونوں۔۔۔۔حیدر بھنوئیں اچکاتے اچکاتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!
ماہم اور ہانی کی تو جیسے سٹی گم ہو گئی۔۔۔وہ اچانک حیدر کے سوالوں پر ڈر گئیں۔۔۔انہیں لگا حیدر نے ان دونوں کی باتیں سن لی ہیں۔۔۔۔وہ گھبراتے ہوئے ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگ پڑی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
اب بولو بھی کچھ تم دونوں سانپ سونگھ گیا ہے کیا۔۔۔میں جانتا ہوں تم دونوں حنان کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔۔۔۔سہی کہ رہا ہوں نا میں۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟
اب تو واقعی دونوں کو اپنی جان نکلتی محسوس ہوئی۔۔۔ان کو لگا کہ بس اب ہماری چوری پکڑی گئی ہے۔۔۔لیکن اگلے ہی پل۔۔ہانی خود کو سنبھالتے ہوئے بول پڑی۔۔۔!!!!!!!!!
تم سے مطلب۔۔۔ہم جو مرضی باتیں کریں۔۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔۔!!!!!
ہانِی کے جواب پر حیدر نے اسے غصے سے گھورا۔۔۔مطلب ہے۔۔۔تم اس گھر میں مہمان ہو مہمانوں کی طرح رہو۔۔۔حیدر نے ہلکی آواز میں اسے وارننگ دی۔۔۔کیونکہ پاس اس کے پاپا بیٹھے تھے۔۔۔۔!!!!!!
ایک منٹ میں تمہیں دھکے مار کر نکلوا دوں گا یہاں سے سمجھی۔۔۔۔حیدر نے اسے انگلی دکھائی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
کچھ دن صبر کر لو بییٹا۔۔۔تمہیں اور تمہاری ساری فیملی کو یہاں سے دھکے مار کر نا نکلوایا تو میرا نام بھی ہانی نہیی۔۔۔۔۔ہانی دل ہہی دل میں مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!
لیکن بولی کچھ نہی۔۔۔بس حیدر کو گھورتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
وہ نہی چاہتی تھی کہ اپنی کسی بے وقوفی کی وجہ سے بنا بنایا کام بگڑ جائے۔۔۔۔اس لیے اس نے صبر کا مظاہرہ کیا۔۔۔۔اور وہاں سے اٹھ کر جانے میں ہی بھلائی سمجھی۔۔۔۔!!!!!!!
حیدر کیا مسلہ ہے تمہیں۔۔۔آخر ہانی سے کس بات کی لڑائی ہے تمہاری۔۔۔جب دیکھو اس سے لڑائی کے بہانے ڈھونڈتے رہتے ہو تم۔۔۔۔مہمان ہے وہ ہماری۔۔۔ہانی کے جاتے ہی ماہم اس کی طرف داری میں بول پڑی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
مسلہ اسے ہے مجھے نہی ماہم۔۔۔مہمان ہے تو مہمانوں کی طرح رہے۔۔۔اور مہمان ایک دو دن کا ہوتا ہے۔۔۔مہینوں کا نہی۔۔۔۔اب اسے یہاں سے چلی جانا چاہیے۔۔۔۔۔اب تو حنان کی بھی شادی ہو گئی ہے۔۔۔۔!!!!!!!!
اس کا پیچھا چھوڑ دے اب۔۔۔ایسے ہی فضول میں تنگ کر رکھا ہے اس نے۔۔۔اور تم اس کی طرف داری مت کیا کرو۔۔۔تم ابھی اسے جانتی نہی ہو۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
اور کوشش کرو کہ اس سے دور رہو۔۔۔یہ کسی کی سگی نہی ہے۔۔۔۔آستین کا سانپ ہے یہ ہانی۔۔۔۔میری بات اچھی طرح اپنے دماغ میں بٹھا لو تم کہتے ہوئے حیدر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!
حیدر کی بات پر ماہم سوچ میں پڑ گئی۔۔۔۔لیکن اگلے ہی پل سر جھٹکتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔اس کی تو عادت ہے ہر کسی سے جھگڑنے کی۔۔۔!!!!!
احسن ابھی ابھی تھکا ہارا ہوسپٹل سے آ کر اپنے کمرے کی طرف گیا ہی تھا کہ اسے منال گزرتی نظر آئی اپنے کمرے کے سامنے سے۔۔۔احسن نے منال کو آواز دے کر روکا تو منال سلام کرتے ہوئے احسن کے کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔۔!!!!!!!
جی احسن بھائی۔۔۔کوئی کام تھا آپ کو۔۔۔۔منال کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!
نہی۔۔۔مجھے کوئی کام نہی تھا منال میں تو بس یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ اب کیسی طبیعت ہہے تمہاری۔۔۔۔ہاتھ کی چوٹ کیسی ہے اب۔۔۔۔احسن منال کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!!!
جِی احسن بھائی اب میری طبییعت ٹھیک ہے۔۔۔اور ہاتھ کی کل ڈرییسنگ کھولنی ہے۔۔۔اب کافی بہتر ہے پہلے سے۔۔۔منال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
ہممممم ٹھیک ہے اپنا خیال رکھا کرو۔۔۔احسن منال کو تاکید کرنے والے اندازز میں بولا۔۔۔تو منال مسسکراتے ہوئے بولی جی ٹھیک ہے احسن بھائی۔۔۔!!!!!
تب ہی ماہم کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔اور احسن اور منال کو آمنے سامنے کھڑے مسکرا کر باتیں دیکھ ماہم کو ہانی کی بات سچ لگی۔۔۔جو اس نے بتایا تھا کہ منال اور احسن کے درمیان کچھ ہے۔۔۔!!!!
اس وقت اسے ہانی کی بات پر یقین نہی آیا تھا۔۔۔لیکن اب اسے ہانی کی ایک ایک بات سچ لگنے لگ پڑی تھی۔۔۔وہ شاک کی سی کیفیت میں کھڑی تھی۔۔۔۔!!!!!!
میں چلتی ہوں احسن بھائی۔۔۔منال مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔!!!!!
کِیا ہوا ماہم ایسے کیوں کھڑی ہو گڑیا۔۔کوئی کام تھا کیا۔۔منال کے جاتے ہی احسن ماہم کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔!!!!
بھائی وہ میں تو یہ کہنے آئی تھی کہ کھانا لگ گیا ہے آپ آ جائیں جلدی فریش ہو کر۔۔۔۔۔۔لیکن یہاں تو مجھے کچھ اور ہی دیکھنے کو ملا ہے۔۔۔۔!!!!!
کیا مطلب۔۔۔احسن کو ماہم کی بات تھوڑی عجییب لگی۔۔۔۔!!!!!!
اس کا مطلب ہانی سچ کہ رہی تھی۔۔۔کب سے چل رہا ہے یہ سب آپ کے اور منال کے درمیان۔۔۔۔ماہم احسن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!
کیا کہا تم سے ہانی نے۔۔۔احسن بات کا مطلب سمجھا تو غصے سے ماہم کی طرف بڑھا۔۔۔اسے مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ رک گیا۔۔۔۔!!!!!
ماہم بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو کہ کیا کہ رہی ہو۔۔۔مجھے تم سے اس حرکت کی بلکل امید نہی تھی۔۔۔وہ حنان کی بیوی ہے۔۔۔اگر حنان نے یہ سن لیا تو سوچو کیا ہو گا۔۔۔۔احسن غصہ کنٹرول کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!!
مجھے بھی آپ سے یہ امید نہی تھی بھائی۔۔۔آپ ایک غیر لڑکی کے لیے مجھ پر ہاتھ اٹھائیں گے۔۔۔ماہم کہ کر روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!
آج سے پہلے کبھی ایسا نہی ہوا تھا۔۔ماہم پر کسی نے کبھی ہاتھ نہہی اٹھایا تھا۔۔۔وہ بہت لاڈلی بہن تھی اپنے دونوں بھائیوں کی۔۔۔۔احسن کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔لیکن تب تک ماہم جا چکی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!
اس میں ماہم کی کوئی غلطی نہی تھی۔۔۔۔یہ ساری غلاظت ہانی نے بھری تھی اس کے دماغ میں۔۔۔۔لیکن ماہم کو اپنے بھائی پر یقین ہونا چاہیے تھا۔۔۔اس نے بھی تو ہانی کی ہر بات پر یقین کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔!!!!!
احسن غصے سے ہانی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔ہانی بیڈ پر بیٹھی فون پر لگی تھی۔۔۔احسن نے اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔!!!!!!!!!!!
ہانِی اس حملے پر بوکھلا کر رہ گئی۔۔۔۔پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہی آئی۔جب سنبھلی تو سامنے احسن کو کھڑے دیکھ اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا۔۔۔۔!!!!!!!
کیا مسلہ ہے۔۔۔یہ کیا بدتمیزی تھی۔۔۔ڈاکٹر احسن۔۔ہانی غصے سے سیخ پا ہوتے بولی۔۔۔۔!!!!!
احسن نے اس کی گردن پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دیوار سے لگا دیا۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی ماہم سے ایسی بات کرنے کی۔۔۔آج میں تمہیں نہی چھوڑوں گا۔۔ختم کر دوں گا میں تمہیں۔۔۔۔!!!!!!
