Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 35)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

ڈید یہ آپ اسی سے پوچھیں۔۔۔یہ کیا کر رہا تھا ماہم کے کمرے میں۔۔۔احسن حنان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔اگر میں کمرے میں نا آتا تو شاید یہ اب تک ماہم کا گلہ دبا چکا ہوتا۔۔۔!!!!!؛

احسن کی بات پر سب نے حنان کی طرف دیکھا۔۔۔یہ اسی لائق ہے۔۔حنان ماہم کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔اس نے اور ہانی نے مل کر میری زندگی برباد کر دی۔۔میں نہی چھوڑوں گا ان دونوں کو۔۔۔!!!!

حنان پھر سے ماہم کی طرف بڑھا۔۔۔ملک صاحب سامنے آ گئے۔۔۔آخر ہوا کیا ہے حنان۔۔؟؟؟؟تم ہوش میں تو ہو۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔ماہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!

آپ اسی سے پوچھیں ڈیڈ اس نے کیا بگاڑا ہے میرا۔۔۔جانتے ہیں آپ منال گھر چھوڑ کر کیوں گئی۔۔ان دونوں کی وجہ سے۔۔۔ماہم اور ہانی نے منال سے یہ کہا کہ میں اور ماہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

اور اسی لیے وہ یہاں سے چلی گئی۔۔۔تا کہ میں ماہم سے شادی کر کے خوش رہ سکوں۔۔۔کہاں کہاں نہی ڈھونڈا میں نے منال کو۔۔۔۔وہ اپنے گھر بھی نہی گئی۔۔۔پتہ نہی کہاں ہے وہ۔۔۔یہ سب ان دونوں کی وجہ سے ہی ہوا ہے۔۔۔!!!!!!!!

بس کر دو حنان جو منہ میں آ رہا ہے بولی جا رہے ہو۔۔۔مسز ملک مزید نہی سن سکیں۔۔۔ماہم ایسا کیوں کرے گی۔۔اور ہانی۔۔۔وہ تو تمہاری دوست ہے نا۔۔۔وہ بھلا ایسا کیوں کرے گی۔۔۔!!!!!!!!

ضرور تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو گی۔۔تم دونوں کے درمیان کوئی جھگڑا ہوا ہو گا۔۔۔اور تم صرف شک کی بنیاد پر الزام ماہم اور ہانی پر ڈال رہے ہو۔۔۔۔!!!!!!!!!!

ثبوت چاہیے آپ سب کو۔۔۔یہ رہا ثبوت مام۔۔۔حنان نے پیج ان کی طرف بڑھا دیا۔۔۔اور فون پر ویڈیو بھی آن کر دی۔۔۔!!!!!!!!!!!

مسز ملک کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔انہوں نے فون ملک صاحب کی طرف بڑھا اور پیج بھی۔۔۔سب نے باری باری وہ ویڈیو دیکھی اور منال کی تحریر بھی۔۔۔!!!!!!!!!!

اب تو یقین آ گیا ہو گا آپ سب کو میری بات کا۔۔۔حنان حیدر کے ہاتھ سے فون اور پیج پکڑتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!!!

ماہم کیا ہے یہ سب۔۔۔ماہم کے پاپا غصے سے بولے۔۔۔!!!!!

ماہم کچھ نہی بولی۔۔۔بس سر جھکائے کھڑی آنسو بہاتی رہی۔۔۔ماہم تم سے یہ امید نہی تھی ہمیں۔۔مسز ملک بھی بول پڑیں۔۔۔!!!!!!!!!

خیر جو بھی ہوا ہو۔۔۔ماہم سے غلطی ہوئی۔۔۔میں مانتا ہوں۔۔لیکن حنان تم نے جو ماہم کے ساتھ کیا۔۔اس کے لیے تمہیں معافی مانگنی ہو گی اس سے۔۔احسن ماہم کے حق میں بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!

معافی۔۔۔۔کس بات کی۔۔معافی تو اسے مجھ سے مانگنی چاہیے۔۔۔اس کی وجہ سے میری بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔!!!!!!!!!!!!

در در کی ٹھوکریں کھانے۔۔۔صرف اور صرف اس کی غلطی کی وجہ سے۔۔۔اور آپ الٹا مجھے ہی معافی مانگنے کو کہ رہے ہیں۔۔حنان تپ چکا تھا احسن کی بات پر۔۔۔۔!!!!!!!!

منال ماہم کی وجہ سے نہی گئی اس گھر سے۔۔۔وہ تمہاری اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے چھوڑ کر گئی ہے تمہیں۔۔۔۔کیونکہ تم نے اسے کبھی بیوی کا درجہ دیا ہی نہی۔۔۔تم تو بس اسے اپنی غلام بنا کر رکھنا چاہتے تھے۔۔۔۔!!!!!!!

اگر تم اپنی بیوی کے ساتھ زرا سے بھی مخلص ہوتے تو وہ تمہیں چھوڑ کر نہی جاتی۔۔۔تم تو اپنی وہ چیپ سی دوست ہانی کے ساتھ ہی گھومتے پھرتے نظر آتے تھے ہمیشہ۔۔۔!!!!!!!!!!!

اب یہ سب تو تمہاری اپنی غلطیوں کا نتیجہ ہے جو تم ماہم پر الزام ڈال رہے ہو۔۔۔۔احسن بھی چپ رہنے والوں میں سے نہی تھا۔ہر بات کا جواب بخوبی دینا جانتا تھا۔۔۔!!!!!!!!!

ہانی کے بارے میں آپ لوگ سچ نہی جانتے۔۔۔وہ بہت بڑی مجرم تھی بھائی۔۔۔اگر آج حنان وقت پر نا پہنچتا تو شاید میں یہاں آپ سب کے سامنے زندہ نہی کھڑی ہوتی۔۔۔۔ماہم کی بات پر سب نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ماہم نے صبح ہونے والے حادثے کے بارے میں بتا دیا سب کو۔۔۔احسن کے دل میں حنان کے لیے نرمی پیدا ہوئی۔۔وہ اس کی طرف بڑھا مگر اس سے پہلے ہی حنان۔۔۔حیدر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!

میری گاڑی کی کیز کدھر ہے حیدر۔۔۔حنان حیدر کی طرف متوجہ ہو گیا۔۔۔۔!!!!!!!!

اب کہاں جا رہے ہو تم حنان۔۔۔کچھ دیر پہلے ہی تو گھر لایا ہوں میں تمہے۔۔حیدر حیرانگی سے اس کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔اور بارش ہو رہی ہے باہر۔۔کہاں جانا ہے تمہیں اس وقت۔۔۔۔!!!!!!!!

حیدر کے سوالوں پر حنان کا سر چکرا گیا۔۔۔حیدر کیز لا دو مجھے۔۔۔پلیز۔۔۔میرا دم گھٹ رہا ہے یہاں۔۔۔میں کچھ دیر باہر جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔حنان زور سے بولا۔۔۔تو حیدر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔!!!!!!

حِیدر نے کیز لا کر حنان کو دیں تو وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔ارسل اور زوہان کو فون کر کے ملنے کے لیے بلایا۔۔۔ارسل تو آ گیا۔۔مگر زوہان شہر سے باہر تھا۔۔اسی لیے نہی آ سکا۔۔۔۔!!!!!!!!

ارسل آیا تو حنان نے اسے خود پر بیتی ساری کہانی سنا دی۔۔۔ارسل بھی پریشان ہو چکا تھا۔۔اب تو رات ہو چکی تھی۔۔صبح منال گھر سے نکلی تھی۔۔۔اگر اپنے گھر نہی گئی تو گئی کہاں۔۔۔۔!!!!!!!

حنان ہو سکتا ہے وہ اپنی کسی دوست کے گھر یا پھر کسی رشتہ دار کے گھر چلی گئی ہو۔۔۔ہم ایسا کرتے ہیں۔۔وہیں چلتے ہیں بھابی کے گھر۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!

کسی ہمسائے سے فہیم کا یا پھر انکل کا کانٹیکٹ نمبر لے کر ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔چلو چلتے ہیں۔۔۔ارسل گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔لیکن حنان وہیں کھڑا رہا۔۔۔کوئی فائدہ نہی وہاں جانے کا صبح گیا تھا میں۔۔۔۔!!!!!!!!!

اچھا ایسا کرتے ہیں۔۔تم کہی دور رک جانا ان کے گھر سے۔۔۔میں ان کے ہمسائیوں سے بات کر کے دیکھتا ہوں۔۔۔۔اب ہم ہاتھ پے ہاتھ دھر کر تو نہی بیٹھ سکتے نا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

ارسل کی بات پر حنان سر ہلاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔ اور گاڑی سٹارٹ کر کے منال کے گھر کی طرف روانہ ہو گئے دونوں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

منال نے اپنے ہاتھ پر بندھی پٹی کھول دی۔۔۔اس کے ہاتھ کا زخم ٹھیک ہو چکا تھا۔۔۔یہ تو بیرونی زخم تھا ٹھیک ہو گیا۔۔۔مگر جو زخم روح پر لگے ہیں۔۔وہ کبھی نہی بھر سکتے۔۔حنان کی بے وفائی کے زخم۔۔۔۔!!!!!!!!!

اگر اپنانا نہی تھا تو جھوٹے خواب بھی نا دکھاتے آپ حنان۔۔۔بہت بڑی غلطی کر دی میں نے آپ پر بھروسہ کر کے۔۔۔شاید میں ہانی کی باتوں پر یقین نا کرتی۔۔۔مگر وہ ویڈیو۔۔۔وہ تو جھوٹی نہی تھی نا حنان۔۔۔!!!!!!!!

شاید مجھ سے ہی غلطی ہو گئی آپ کو سمجھنے میں۔۔۔سہی کہا تھا آپ نے۔۔۔جو میں ہوں۔۔وہ میں دکھتا نہی۔۔۔اور جو میں دکھتا ہوں وہ میں ہوں نہی۔۔منال ہنس پڑی۔۔ازیت کے ان لمحات میں بھی وہ حنان کی باتوں پر ہنس رہی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

ٹوٹ چکی تھی وہ۔۔مگر پھر بھی مسکرا رہی تھی۔کیونکہ وہ بکھرنا نہی چاہتی تھی۔۔اگر بکھر بھی جاتی تو کس کے سہارے۔۔اب اس کو سہارا دینے والا کوئی نہی تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

ہاں مگر ایک ذات ہے ایسی جو ہمیں کبھی نا امید نہی لوٹاتی۔۔۔ہر حال میں ہمارا ساتھ دیتی ہے۔۔چاہے ہم جتنے بھی گناہ کریں۔۔۔بس ایک بار رو کر۔۔گڑگڑا کر۔۔گناہوں کی معافی مانگ لیں تو ہمیں معاف کر دیتی ہے۔۔۔!!!!!!!

اور وہ ذات ہے۔۔۔اللہ کی جو غفورالرحیم ہے۔۔حالات جیسے بھی ہو جائیں۔۔۔ہماری ہر امید اللہ سے ہونی چاہیے۔۔صبر شکر کر کے زندگی گزارنی چاہیے۔۔۔اور اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔۔!!!!!!!

منال کے دل سے اسے آواز آئی۔۔اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔۔۔صبر۔۔منال نے یہ لفظ دہرایا۔۔۔ہاں میں صبر کروں گی۔۔۔اللہ کے سہارے یہ زندگی گزاروں گی۔۔۔آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی۔۔۔سونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔مگر نیند اب اسے کہاں آنے والی تھی۔۔۔!!!!!!!!!

صبر آہستہ آہستہ ہی آئے گا اسے۔۔اب اتنی جلدی تو نہی آئے گا صبر اسے۔۔۔کچھ وقت لگے گا۔۔۔۔!!!!!!

ارسل نے منال کے گھر کے ساتھ والے گھر سے فہیم کا نمبر لا کر حنان کو دیا۔۔۔یہ لو حنان فہیم کا نمبر ہی مل سکا ہے۔۔۔یہ لو بات کرو تم۔۔۔۔!!!!!!!

میں بات کروں۔۔۔پاگل ہو تم۔۔۔حنان ارسل پر تپ گیا۔۔!!!!!!

تو کون کرے گا بات۔۔۔میں بات کرتا اچھا تو نہی لگوں گا نا حنان۔۔۔ساری دشمنی سائیڈ پر رکھ کر بات کرنی پڑے گی تمہیں۔۔۔منال بھابی کی خاطر۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ارسل کی بات پر۔۔حنان نے نمبر اس کے ہاتھ سے کھینچنے کے انداز سے پکڑا اور فون میں ڈائیل کرنے لگ پڑا۔۔۔ارسل نے مسکراتے ہوئے کندھے اچکا دئیے۔۔۔۔۔!!!!!!!!

نمبر ڈائل کرنے کے بعد کافی دیر تک فون کان سے لگائے کھڑا رہا۔۔بیل جا رہی تھی۔۔لیکن فہیم فون نہی اٹھا رہا تھا۔۔۔آخر کار حنان تنگ آ کر کال کاٹنے ہی لگا تھا کہ کال پک کر لی گئی۔۔۔!!!!!!!!

ہیلو۔۔حنان بول رہا تھا مگر دوسری طرف سے کوئی نہی بول رہا تھا۔۔۔چند سیکنڈ بعد دوسری طرف سے سسکیوں کے ساتھ آواز آئی۔۔۔حنان۔۔!!!!!!!

حنان میں سانیہ۔۔۔سانیہ کی آواز سنتے ہی حنان کا دل تڑپ اٹھا۔۔۔رو کیوں رہی ہو تم سانیہ۔۔کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا۔۔۔کہیں فہیم نے کچھ کہا تو نہی تمہیں۔۔یا پھر اس کے گھر والوں نے۔۔۔حنان سب کچھ بھول کر پریشانی میں بول گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!

نہی حنان ایسا کچھ نہی ہے۔میں بلکل ٹھیک ہوں۔بہت عرصے بعد تمہاری آواز سنی ہے نا تو۔۔۔خود کو سنبھال نہی سکی۔۔۔تم بتاو کیسے ہو۔۔منال اور گھر والے مام ڈیڈ سب ٹھیک ہیں۔۔۔سانیہ خود کو ریلیکس کرتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!!!!!

ہاں باقی سب تو ٹھیک ہے سانیہ بس ایک پرابلم ہے۔وہ یہ کہ منال گھر چھوڑ کر چلی گئی ہے۔تو میں یہی پوچھنا چاہتا تھا کہ منال تم لوگوں کے ساتھ تو نہی۔۔۔مگر جب گھر گیا تو تم لوگ وہاں تھے ہی نہی۔۔۔۔!!!!!!!!!

نہی حنان۔۔۔منال ہمارے ساتھ تو نہی ہے۔۔ہم کہیں اور شفٹ ہو چکے ہیں۔۔۔مگر یہ سب کیسے ہو گیا حنان۔۔منال نے ایسا کیوں کیا آخر۔۔سانیہ بھی پریشان ہو چکی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!

یہ سب باتیں فون پر نہی ہو سکتیں۔۔۔تم فہیم کے ساتھ ملنے آ جاو۔۔۔یا پھر مجھے بتا دو ایڈریس میں آ جاتا ہوں۔۔۔!!!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *