Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 13)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

ارسل اور ذوہان پہلے سے ہی انتظار کر رہے تھے حنان کا۔۔۔حنان نے گاڑی ان کے پاس لا کر روکی۔۔اور گاڑی سے باہر نکل کر دونوں سے گلے ملا باری باری۔۔۔۔!!!!

میرے پاس ایک سر پرائز ہے تم دونوں کے لیے۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!

اچھا کیا سرپرائز ہے نظر تو نہی آ رہا ہمیں۔۔۔زوہان سوچتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!

تو چلو ابھی دکھاتا ہوں سرپرائز تم دونوں کو۔۔۔۔حنان نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا تو ہانی مسکراتے ہوئے گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔۔!!!!

ارسل اور زوہان دونوں دھنگ رہ گئے ہانی کو سامنے دیکھ کر۔۔۔ان دونوں نے ایک ساتھ حنان کی طرف دیکھا۔۔۔حنان کندھے اچکاتے ہوئے مسکرا دیا۔۔۔۔!!!!!

کیا ہوا۔۔۔تم دونوں کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے۔۔۔لگتا ہے میرے آنے سے خوش نہی ہو تم دونوں۔۔۔ہانی کمر پر دونوں ہاتھ ٹکاتے ہوئے بولی۔۔۔!!!

واٹ آ سرپرائز ہانی۔۔۔ارسل پر جوش آواز میں بولا تو زوہان بھی یاہوووو کا نعرہ لگانے لگ پڑا۔۔۔۔حنان واہ یار کیا سرپرائز دیا ہے تم نے تھینک یو۔۔۔ہم لوگ بہت خوش ہیں ہانی تمہیں واپس پاکستان میں دیکھ کر۔۔۔۔۔!!!!!

دونوں پرجوش ہو کر بولے تو ہانی مسکرا دی اور اپنے کندھے پر آتے بال پیچھے کو جھٹکے۔۔۔جیسے اپنے حسن پر بہت ناز ہو اسے۔۔۔!!!!

ہممم آج تو پارٹی بنتی ہے بھئی۔۔۔آج کی پارٹی میری طرف سے۔۔۔زوہان نے آفر کی۔۔۔!!!!!

نہی بھئی ہمیں نہی چاہیے۔۔۔تم اپنی پارٹی اپنے پاس ہی رکھو۔۔۔ہر بار ایسا ہی کہتے ہو اور بل بھرنے کی باری آتی ہے تو کبھی تو تم اے ٹی ایم کارڈ گھر بھول آتے ہو تو کبھی پرس۔۔۔بعد میں بھی ہم نے پیسے دینے ہیں۔۔ابھی بھی۔۔!!!!!

تو تم رہنے ہی دو۔۔۔۔میں دوں گا آج سب کو پارٹی۔۔۔میری طرف سے ہانی کے واپس آنے کی خوشی میں۔۔۔۔ارسل کی بات ہر حنان اور ہانی مسکرا دئیے۔۔۔۔ایگزیکٹلی۔۔۔زوہان تم تو رہنے ہی دو۔۔۔ہانی مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!

چلو بھئی پھر پزا ہٹ سامنے ہے دیر کس بات کی اپنی اپنی گاڑی پارک کرو اور اندر چلو۔۔حنان کی بات پر تینوں مسکراتے ہوئے گاڑیاں پارک کرنے چلے گئے۔۔۔۔اور ہانی اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!

تینوں اپنی اپنی گاڑی پارک کر کے اندر کی طرف بڑھ گئے۔۔ہانی نے دور سے ان کو ہاتھ ہلایا تو تینوں ٹیبل کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔اور آرڈر دے کر پزا کا ویٹ کرنے لگ پڑے۔۔۔۔!!!!

ہاں تو ہانی کب تک رکنے کا ارادہ ہے پاکستان میں زوہان ٹیبل بجاتے ہوئے بولا۔۔۔!!!

ہممم میرا تو اب مستقل یہیں رہنا کا ارادہ ہے ہانی مسکراتے ہوئے حنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!

مطلب۔۔۔ہم کچھ سمجھے نہی۔۔۔جواب ارسل کی طرف سے آیا تھا۔۔۔۔!!!!

اس میں سمجھنے کی کیا بات ہے۔۔۔تم لوگ تو جانتے ہو میری اور ہنی کی لو سٹوری کے بارے میں۔۔۔ہم دونوں شادی کرنے والے ہیں۔۔۔وہ بھی بہت جلد۔۔۔!!!!!!!

اس کی بات زوہان کا ٹیبل بجاتا ہاتھ رک گیا۔۔۔لیکن حنان کا تو نکاح ہو چکا ہے۔۔تمہے نہی پتہ کیا ہانی۔۔۔زوہان نے اس کے جلے پر نمک چھڑکا۔۔۔۔!!!!

مجھے پتہ ہے۔۔۔تم فکر مت کرو۔۔بہت جلد حنان اس جاہل لڑکی کو طلاق دینے والا ہے۔۔۔اور اس کو طلاق دینے کے بعد مجھ سے شادی کرنے والا ہے۔۔۔۔ہے نا ہنی۔۔۔وہ ہنی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!

ہاں فرینڈز۔۔۔ہانی بلکل ٹھیک کہ رہی ہے۔۔۔وہ نکاح تو بس ایک فارمیلیٹی تھی۔۔۔مجھے منال میں کوئی دلچسپی نہی ہے۔۔۔مجھے ہانی سے شادی کرنی ہے۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

حنان کی بات پر ارسل اور زوہان نے پریشان کن نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔ابھی ہانی کے سامنے انہوں نے کچھ کہنا مناسب نہی سمجھا۔۔۔۔اسی لیے بس اتنا ہی بولے۔۔۔بیسٹ آف لک۔۔۔!!!!

تھینک یو۔۔۔ہانی حنان کے کندھے پر سر رکھتے ہوئے بولی۔۔۔تب ہی ان کا پیزا آ گیا۔۔۔تو سب کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔!!!!!

پیزا کھانے کے بعد ارسل اور زوہان وہاں سے نکل آئے۔۔۔ان کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔۔لیکن وہ ظاہر نہی کر رہے تھے۔۔۔اسی لیے وہاں سے نکل پڑے۔۔۔۔!!!!

پارکنگ میں جاتے ہی زوہان بول پڑا۔۔۔۔یار یہ پاگل ہو گیا ہے کیا حنان۔۔۔یہ کیا کر رہا ہے مجھے تو اس کی زرا سمجھ نہی آ رہی۔۔۔پہلے اس بیچاری لڑکی کے ساتھ زبردستی نکاح کیا۔۔۔اور اب اسے چھوڑنے کی باتیں کر رہا ہے۔۔۔۔۔!!!!!

میں تو خود حیران ہوں زوہان۔۔۔یہ سب کیا کر رہا ہے حنان اسے سوچنا چاہیے۔۔۔۔منال کو چھوڑ کر ہانی سے شادی کرنے کا سوچ رہا ہے۔۔۔جس کے پتہ نہی کتنے لڑکوں کے ساتھ افییئر رہ چکے ہیں۔۔۔حنان اس کی ساری حرکتوں سے واقف ہے۔۔۔۔!!!!!

پھر بھی یہ سب کر رہا ہے۔۔۔مجھے حنان سے اس بات کی امید نہی تھی زوہان۔۔۔۔ارسل پریشان ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

ارسل ایسا کرو کل کی میٹنگ رکھتے ہیں اس کے ساتھ اسے سمجھاتے ہیں۔۔۔ایسا مت کرے۔۔۔ہانی ٹھیک نہی ہے اس کے لیے۔۔۔۔زوہان بھی پریشان ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!

ارے لیکن وہ سنے تو تب ہے نا۔۔۔اس نے آج تک اپنے باپ کی نہی سنی تو ہماری کیا سنے گا۔۔۔اپنی مرضی کا مالک ہے۔۔۔خیر ہم کوئی ٹائم دیکھ کر اسے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔!!!

اگر مان گیا تو ٹھیک ہے۔۔۔ورنہ اپنے راستے الگ کر لیں گے۔۔۔میں حنان کو برباد ہوتے ہوئے نہی دیکھ سکتا۔۔۔۔!!!!

سہی کہ رہے ہو ارسل اب کچھ ایسا ہی کرنا پڑے گا۔۔۔خیر خدا حافظ۔۔۔چلتے ہیں۔۔۔جب تمہاری ملاقات فائنل ہو جائے اس کے ساتھ تو مجھے بھی کال کر دینا۔۔۔کہتے ہوئے زوہان گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔۔۔!!!!

ارسل کچھ دیر وہاں کھڑا سوچتا رہا۔۔۔پھر وہ بھی گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔!!!!!

کچھ دیر ہانی اور حنان وہی بیٹھے رہے۔۔۔اس کے بعد حنان اسے لانگ ڈرائیو پر لے گیا۔۔اور اس کے بعد وہ لوگ واپسی پر آئس کریم کھا کر گھر واپس آ گئے۔۔۔!!!!

اسی طرح رات کے تین بج چکے تھے۔۔۔لیکن ان دونوں کو کوئی فکر نہی تھی۔۔۔حنان کے فون کی رنگ ٹون بجی۔۔۔ملک صاحب کا نام جگمگا رہا تھا۔۔۔حنان نے گاڑی سائیڈ پر روکی۔۔۔اور ان کی کال اٹینڈ کی۔۔۔۔!!!!!

جی ڈیڈ۔۔۔بنا سلام کیے بولا۔۔۔!!!

گھر پہنچو۔۔۔ٹائم دیکھو کتنا ہو گیا۔۔اور کتنی دیر باہر رہنے کا ارادہ ہے۔۔۔ملک صاحب حنان پر پھٹ پڑے۔۔۔۔۔!!!

کیا ہو گیا ہے ڈیڈ۔۔آ رہا ہوں گھر۔۔۔کہ کر اس نے کال کاٹ دی۔۔۔!!!!!

کیا کہ رہے تھے انکل۔۔۔ہانی حنان کے کندھے پر سر رکھے سونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔!!!

کچھ نہی گھر آنے کا بول رہے تھے۔۔۔۔اور کیا کہنا ہے انہوں نے۔۔۔حنان گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا۔۔۔اور گاڑی واپس موڑ دی گھر کے راستے پر۔۔۔۔!!!!!

مسز ملک نے ملک صاحب کو ساری بات بتا دی۔۔۔حنان نے کیسے سب کے سامنے منال کو تھپڑ مارا تھا۔۔وہ بہت غصے میں آ گئے حنان کی اس حرکت ہر۔۔۔بہت دیر سے حنان کے گھر آنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔!!!

جب رات بھر حنان گھر نا آیا تو مجبوراً ان کو حنان کو فون کرنا پڑا۔۔۔۔!!!!

حنان گھر آتے ہی اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔۔۔ہانی پہلے ہی کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔لیکن حنان پانی پہنے کچن میں چلا گیا تھا۔۔۔۔!!!!

ابھی سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھایا ہی تھا۔۔۔کہ ملک صاحب کی گرجدار آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔!!!!

اگر آ ہی گئے ہو تو کمرے میں آو زرا۔۔۔۔ضروری بات کرنی ہے۔۔۔کہ کر وہ پلٹ گئے۔۔۔!!!

حنان نا چاہتے ہوئے بھی ان کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔اور جاتے ہی بڑے مزے سے صوفے پر بیٹھ گیا ٹانگ پر ٹانگ جمائے۔۔۔۔!!!!

حنان یہ کیا طریقہ ہے بیٹھنے کا۔۔۔ساری تمیزیں بھول چکے ہو تم۔۔ہم نے بہت ڈھیل دے رکھی ہے تمہیں۔۔۔اس کا یہ مطلب نہی کہ تم ہمارے سر پر ہی ناچنا شروع کر دو۔۔۔مسز ملک سیخ پا ہو چکی تھیں۔۔۔!!!!!

کیا ہو گیا ہے مام۔۔۔کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔بتائیں ڈیڈ کیا ضروری بات کرنی تھی آپ کو مجھ سے۔۔۔بہت تھک چکا ہوں میں۔۔۔سونے بھی جانا ہے مجھے۔۔۔۔۔حنان لا پرواہی سے بولا۔۔۔!!!

مسز ملک ابھی کچھ بولنے ہی لگیں تھیں۔کہ ملک صاحب نے ان کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا بولنے سے۔۔۔وہ چپ ہو کر بیٹھ گئیں۔۔۔!!!!!

یہ آج کیا حرکت کی ہے تم نے حنان۔۔۔ملک صاحب غصہ کنٹرول کرتے ہوئے بولے۔۔۔!!!!!

کیا۔۔۔۔حنان نے لا پرواہی سے کندھے اچکا دئیے۔۔۔جیسے کچھ یاد ہی نا ہو۔۔۔!!!!

تم اچھی طرح جانتے ہو حنان میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں۔۔انجان بننے کی کوشش مت کرو۔۔ملک صاحب غصے سے بولے۔۔۔۔!!!!!

آپ کس بارے میں بات کر رہے ہیں مجھے کچھ نہی پتا۔۔۔میں چلتا ہوں۔۔بہت نیند آ رہی ہے۔۔۔حنان لا پرواہی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔!!!!

میں منال کی بات کر رہا ہوں۔۔۔ملک صاحب بولے تو حنان کے باہر کی طرف بڑھتے قدم رک گئے۔۔۔!!!!!!

اوہ۔۔تو یہ بات ہے۔۔۔آپ اس لڑکی کی طرف داری کے لیے مجھے یہاں روکے ہوئے ہیں۔۔۔تو اس نے اب میری شکایتیں لگانی شروع کر دی ہیں آپ دونوں سے۔۔۔۔۔!!!!!

اس نے ہم سے کوئی بات نہی کی حنان۔۔۔مجھے ملازمہ نے بتایا تھا۔۔۔کیسے سب ملازموں کے سامنے تم نے آج منال کی تزلیل کی ہے۔۔۔۔مسز ملک غصے سے بولیں۔۔۔۔۔!!!!!

میں نے کچھ غلط نہی کیا۔۔۔وہ میری بات نہی مان رہی تھی۔۔میں نے اسے سوری کہنے کو بولا ہانی کو تو وہ نہی بول رہی تھی۔۔۔مجھے غصہ آ گیا۔۔۔مار دیا تھپڑ۔۔۔اتنی چھوٹی بات کے لیے آپ دونوں نے مجھے یہاں روک رکھا ہے۔۔۔۔!!!!

تم کب تک ایسا کرتے رہو گے اس کے ساتھ حنان۔۔۔پچھلے ایک مہینے سے اس نے خود کو تمہارے مطابق ڈھال لیا ہے اور تم اس کو عزت بھی نہی دے سکتے۔۔۔عزت نہی دے سکتے تو کم ازکم اس کی تزلیل تو نہ کرو۔۔۔!!!

مسز ملک حنان کو سمجھانے کے انداز میں بولیں۔۔۔لیکن اس پر ان کی کسی بات کا اثر نہی ہوا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

خود کو ٹھیک کر لو حنان۔۔۔یہ نا ہو کہ ہمیں کوئی قدم اٹھانا پڑے تمہارے لیے۔۔۔میں نہی چاہتا کہ میں کوئی سختی کروں تمہارے ساتھ۔۔۔اب بچے نہی ہو تم۔۔۔آئیندہ مجھے ایسی کوئی بات پتہ چلی تو اچھا نہی ہو گا۔۔۔یاد رکھنا۔۔اب جا سکتے ہو تم۔۔۔!!!!!!!

ملک صاحب نے کہا تو حنان بنا کچھ کہے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔!!!!!

کمرے میں گیا تو منال صوفے پر کمبل اوڑھے سوئی ہوئی تھی۔۔۔حنان غصے سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔لیکن رک گیا۔۔جب اس کی نظر منال کے پھٹے ہوئے ہونٹ پر پڑی تو درد کا احساس جاگا اس میں۔۔۔!!!!!

نا چاہتے ہوئے بھی اس نے اپنا ہاتھ منال کی طرف بڑھا کر اس کے ہونٹ کو چھویا۔۔منال زرا سا ہلی۔۔۔تو حنان تیزی سے پیچھے ہٹا۔۔!!!!

اور نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔کچن سے مرہم لا کر بہت نرمی سے منال کے پھٹے ہونٹ پر لگائی۔۔۔اور تیزی سے پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔!!!

اسے ڈر تھا کہ کہیں منال اٹھ نا جائے۔۔۔لائٹ بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔۔چند پل ہی گزرے ہو گے کہ منال کو اپنے چہرے پر کسی لمس کا احساس ہوا۔۔منال کی آنکھ کھل گئی۔۔۔جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔!!!

کمرے میں اندھیرا تھا۔۔منال نے اٹھ کر لائٹ آن کی حنان بیڈ پر اوندھے منہ لیٹا سو رہا تھا۔۔۔منال جلدی سے لائٹ بند کر کے سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔اس نے اپنے ماتھے کو چھوا۔۔جہاں اسے کسی لمس کا احساس ہوا تھا۔۔۔اور اپنا وہم سمجھتے ہوئے۔۔آنکھیں موندے لیٹ گئی۔۔۔۔!!!!!

صبح سنڈے تھا۔۔۔۔سب نے لیٹ اٹھنا تھا۔۔لیکن منال کو جلدی اٹھنے کی عادت تھی۔۔۔منال نماز پڑھ کر باہر چلی گئی۔۔۔ہلکی ہلکی دھند پھیلی ہوئی تھی ہر طرف۔۔۔منال اپنی چادر اوڑھے باہر آئی کیوں کہ آج اسے سردی کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔!!!!

منال یونہی ٹہلتے ٹہلتے لان کی پچھلی سائیڈ پر چلی گئی۔۔۔جہاں اسے ٹریک پر چلتے ہوئے احسن نظر آیا۔۔۔!!!

منال نے واپس پلٹنا چاہا لیکن احسن نے اسے روک لیا۔۔۔گڈ مارننگ احسن خوشگوار انداز میں بولا۔۔۔۔۔۔!!!!!!

ہمممم گڈ مارننگ۔۔۔منال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔!!!

آئیں واک کرتے ہیں۔۔اور ساتھ ساتھ کچھ باتیں بھی کر لیں گے۔۔احسن چلتے ہوئے بولا تو منال بھی آہستہ آہستہ اس سے تھوڑا فاصلے پر چلنے لگ پڑی۔۔۔!!!!

ہمممم تو منال کیا کرتی تھیں آپ شادی سے پہلے۔۔۔میرا مطلب سٹڈی کہاں تک کی ہے آپ نے۔۔۔احسن بات شروع کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!

میں نے میٹرک کیا ہے۔۔۔ڈاکٹر بننا چاہتی تھی۔۔ابھی کالج میں پہلا ہی دن تھا کہ۔۔باقی آپ جانتے ہیں۔۔۔۔!!!!!

اوہ سو سیڈ۔۔۔۔حنان نے بہت برا کیا آپ کے ساتھ۔۔لیکن وہ سٹڈی جاری رکھنے کی اجازت تو دے ہی سکتا ہے آپ کو۔۔۔میں بات کروں گا اس سے۔۔۔۔!!!!!

نہی احسن بھائی آپ ان سے کوئی بات مت کرنا۔۔۔وہ غصہ ہو جائیں گے۔۔۔مجھ پر۔۔۔منال ڈرتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!

منال آخر کب تک ایسے ڈرتے ڈرتے زندگی گزارو گی۔۔۔احسن افسوس سے بولا۔۔۔۔!!!!

جب تک زندگی ہے۔۔۔منال مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!!!!!!!

احسن بھی اس کو مسکراتے دیکھ کر اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔منال نظریں جھکا گئی مسکراتے ہوئے۔۔۔!!!!

احسن کو منال کا یوں نظریں جھکا کر مسکرانا بہت اچھا لگا۔۔۔وہ چند پل اسے یونہی دیکھتا رہا۔۔۔!!!!!

کسی اور نے بھی یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔صرف دیکھا ہی نہی ریکارڈ بھی کر لیا تھا۔۔۔۔!!!!

کافی دیر تک دونوں ساتھ چلتے یونہی باتیں کرتے رہے۔۔پھر احسن گھڑی پر ٹائم دیکھتے ہوئے۔۔۔خدا حافظ کہتے ہوئے چلا گیا۔۔۔جبکہ منال سوئمنگ پول کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔!!!!!

منال بھی کچھ دیر تک وہاں بیٹھی رہی اور پھر اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔دادو کے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ان کو ناشتہ کروا کر دوائی کھلا کر وہیں بیٹھ گئی۔۔۔۔!!!!

ہانی۔۔۔مسکراتے ہوئے فون ہاتھ میں اٹھائے حنان کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔!!!!!

حنان سو رہا تھا۔۔۔ہنی اٹھو اور کتنا سونا ہے۔۔ہانی حنان پر سے کمبل کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!

حنان نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔کیا ہے یار صبح صبح کیوں تنگ کر رہی ہو سونے دو۔۔۔۔حنان دوبارہ کمبل کھینچ کر اوڑھتے ہوئے لیٹ گیا۔۔۔۔!!!!

میں تو تمہیں کچھ دکھانے آئی تھی۔۔۔تمہاری بیوی کے کرتوت۔۔۔تم سوتے رہو۔۔اور وہ دوسروں کے ساتھ رنگ رلیاں مناتی پھر رہی ہے۔۔۔!!!

ہانی کی بات پر۔۔حنان ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔کیا بدتمیزی ہے ہانی۔۔۔یہ کیسی بے ہودہ باتیں کر رہی ہو۔۔۔۔!!!!

اچھا۔۔۔۔میں بے ہودہ باتیں کر رہی ہوں۔۔۔تو یہ کیا ہے۔۔۔؟؟ خود ہی دیکھ لو۔۔۔ہانی نے فون حنان کی طرف بڑھا دیا۔۔۔!!!

منال اور احسن آمنے سامنے کھڑے مسکرا رہے تھے۔۔۔منال کی جھکی نظریں اور احسن کا اس کی طرف دیکھ کر مسکرانا۔۔۔۔حنان نے فون اٹھا کر دیوار میں دے مارا۔۔۔۔غصے سے حنان کی آنکھیں سرخ ہو چکیں تھیں۔۔۔۔۔!!!!!

حنان میرے فون پر غصہ کیوں نکال رہے ہو۔۔۔پتہ ہے کتنا مہنگا ہے۔۔۔حنان غصے سے اٹھا اور چیک بک نکال کر ایک لاکھ اماونٹ لکھ کر سائین کر کے ہانی کے سامنے رکھ دیا۔۔۔۔۔سوری ہانی نیا فون لے لینا۔۔۔۔۔!!!!!!

ابھی پلیز جاو یہاں سے مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔میں کچھ دیر اکیلا رہنا چاہتا ہوں۔۔۔پلیز ہانی جاو یہاں سے۔۔۔۔!!!!!

مجھے نہی چاہیے تمہارے پیسے رکھو اپنے پاس۔۔فون میں خود لے لوں گی۔۔۔ہانی چیک دو ٹکروں میں پھاڑتے ہوئے پھینک کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔!!!!

حنان سر تھامے وہی بیٹھ گیا۔۔۔اس کا سر درد سے پھٹے جا رہا تھا۔۔۔اس کی ہمت کیسے ہوئی میری بیوی کے ساتھ ایسا کرنے کی۔۔۔جان لے لوں گا میں اس کی۔۔۔حنان نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا گلاس اٹھا کر فرش پر دے مارا۔۔۔!!!!

منال کمرے میں بے دھیانی میں چلتی آئی۔۔۔اس نے فرش کی طرف دھیان ہی نہی دیا۔۔۔منال نے سلیپر پہن رکھے تھے۔۔۔پانی پر منال کا پاوں پھسلا۔۔اور وہ گر گئی۔۔۔۔!!!!

کانچ کا ایک بڑا ٹکرا اس کے ہاتھ میں چبھ گیا۔۔۔منال درد سے چلا اٹھی۔۔۔حنان ابھی واش روم سے باہر نکل ہی رہا تھا کہ منال کے چیخنے پر تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔۔۔!!!!

اوہ۔۔۔منال یہ کیا کر لیا تم نے دیکھ کر نہی چل سکتی تم۔۔۔منال کے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ کر حنان کے چہرے کا رنگ فق سے اڑ گیا۔۔۔منال کو اٹھا کر اس نے صوفے پر بٹھایا۔۔۔۔!!!!

منال رو رہی تھی۔۔۔منال کا ہاتھ حنان کے ہاتھ میں تھا۔۔۔حنان نے کانچ نکالنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا۔۔کہ منال نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور سر نا میں ہلا دیا۔۔۔۔!!!!

منال ضد مت کرو کانچ نکالنے دو مجھے۔۔۔حنان غصے سے بولا تو منال نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔۔۔منال نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔اور اپنا ہاتھ حنان کے کندھے پر رکھ کر سر حنان کے کندھے پر جھکا گئی۔۔۔۔!!!!

حنان نے ایک دم کانچ منال کے ہاتھ سے باہر نکال پھینکا۔۔۔منال بری طرح رو رہی تھی۔۔۔حنان نے منال کا ڈوپٹہ تیزی سے منال کے ہاتھ پر دبا کر رکھا۔۔!!!

اور منال کو اس پر ہاتھ رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے تیزی سے کچن سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر اوپر کی طرف دوڑا۔۔۔۔!!!!

حنان کو فرسٹ ایڈ باکس لے کر اوپر کی طرف بھاگتے دیکھا تو مسز ملک بھی اوپر کی طرف دوڑیں۔۔۔اللہ خیر کرے پتہ نہی کیا ہو گیا۔۔۔!!!!

حنان نے تیزی سے منال کا زخم صاف کیا اور جلدی سے اس پر پٹی باندھ دی۔۔۔تا کہ خون رک سکے۔۔۔!!!!!!!!!

مسز ملک کمرے میں داخل ہوئیں تو سامنے کا منظر دیکھ کر ان کے ہوش اڑ گیا۔۔۔کمرے میں جگہ جگہ خون کے قطرے گرے پڑے تھے۔۔اور ٹوٹا ہوا کانچ۔۔وہ تیزی سے منال کی طرف بڑھیں۔۔۔۔!!!!

یہ سب کیسے ہوا منال۔۔۔حنان اس کو ہاسپٹل لے جاو۔کتنا خون بہہ چکا تھا۔۔۔وہ جلدی سے حنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!!

جی مام میں لے کر جا رہا ہوں۔۔۔۔حنان اپنا وائلٹ اٹھائے منال کو ساتھ لیے کمرے سے باہر نکلنے لگا تھا۔۔تب ہی منال لڑکھڑاتے ہوئے چلنے کی کوشش کرنے لگی تو حنان نے اس کے پاوں کی طرف دیکھا تو اس کے پاوں میں بھی کانچ چھبنے کی وجہ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔!!!

حنان نے منال کو واپس صوفے پر بٹھایا اور اس کے جوتے اتار کر اس کے پاوں کا جائزہ لینے لگ پڑا۔۔۔منال نے اپنا پاوں پیچھے کھینچ لیا۔۔۔لیکن حنان نے اسے گھورتے ہوئے دوبارہ واپس پکڑ کر دیکھنے لگ پڑا۔۔۔۔۔!!!!!

پاوں میں کانچ تو نہی تھا کوئی۔۔۔بس کانچ لگنے کی وجہ سے خون نکل رہا تھا۔۔۔حنان منال کو بازوں میں اٹھا کر نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔مسز ملک بھی ان کے پیچھے پیچھے نیچے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔!!!!

ڈرائیور نے جلدی سے گاڑی کا دروازہ کھولا۔۔۔حنان نے منال کو سیٹ پر بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھالتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *