Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 30)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

ہانی ایک بار تم ہاتھ لگ جاو میرے میں تمہیں زندہ نہی چھوڑوں گا۔۔۔حنان ہانی کا نمبر ٹرائی کر رہا تھا۔۔لیکن اس کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔۔۔آ رہا ہوں میں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

اتنی ہوشیار تم ہو نہی جتنی تم بنتی ہو۔۔۔ملک حنان سے پالا پڑا ہے تمہارا اس بار۔۔۔ایسی سزا دوں گا کہ یاد رکھو گی۔۔۔بہت کر لیں تم نے اپنی من مانیاں۔۔۔بہت زندگیاں تباہ کر دیں تم نے۔۔۔۔۔!!!!!!!!

لیکن اب اور نہی۔۔۔اب تمہیں لگام میں ڈالوں گا۔۔۔جو شیرنی بنی پھرتی ہو۔۔۔اب تمہارے دن ختم ہو چکے ہیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!

حیدر بھی گاڑی روک چکا تھا۔۔۔حنان کو گاڑی روکتے دیکھ کر۔۔۔۔وہ ہارن پر ہارن بجا رہا تھا۔۔۔۔حنان نے ہارن کی آواز سنی تو حیدر کی گاڑی دیکھ کر اس نے بھی گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔!!!!!!!!

ارسل اور زوہان دونوں احد کے پاس ہی تھے۔۔۔احد،ارسل،زوہان،حیدر اور حنان۔۔۔یہ پانچوں بچپن کے دوست تھے۔۔۔۔ہانی اور ماہم بھی ان کی ہم کلاس تھیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!

بڑے ملک صاحب اور ان کی بیوی دونوں فیصل آباد میں اپنے آبائی گاوں میں ہی رہائش پزیر تھے۔۔۔۔احسن پڑھائی مکمل کرنے باہر کے ملک چلا گیا تھا۔۔۔حیدر اور ماہم دونوں حنان کے گھر پر ہی رہتے تھے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

حنان کے والد صاحب شہر آ گئے۔۔۔کیونکہ وہ گاوں کی زندگی نہی گزارنا چاہتے تھے۔۔۔وہاں وسائل کی بہت کمی تھی۔۔اور بچوں کی پڑھائی کا بھی مسلہ تھا۔۔۔اسی لیے انہوں نے گاوں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔۔۔۔سانیہ اس وقت چھ سال کی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

جب حنان ان کی زندگی میں آیا۔۔۔۔گاوں میں سکول تو تھا۔۔۔مگر ملک صاحب کو وہاں کی پڑھائی پسند نہی آئی۔۔۔کیونکہ وہ خود بھی یو کے سے سٹڈی کر کے آئے تھے۔۔۔۔۔!!!!!!!

اسی لیے ان کو اب گاوں کی زندگی راس نہی آ رہی تھی۔۔۔وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوانے کی غرض سے والد صاحب کے گزرنے کے بعد شہر میں آ بسے۔۔۔۔۔!!!!!!!!

لیکن بڑے ملک صاحب کسی صورت اپنا گاوں چھوڑنے پر راضی نہی ہو سکے۔۔۔۔۔لیکن بچوں کو پڑھائی کے لیے شہر بھیج دیا انہوں نے۔۔۔۔اسی طرح احسن انٹر کرنے کے بعد باقی کی پڑھائی مکمل کرنے باہر کے ملک چلا گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!

جبکہ حیدر،ماہم،سانیہ،حنان۔۔۔یہ یہی رہ کر پڑھائی کرتے رہے۔۔۔۔احسن ان سب سے زیادہ پڑھاکو تھا۔۔۔اسی لیے اس نے ڈاکٹر بننے کا سوچا۔۔۔۔جبکہ سانیہ، اور ماہم نے بس ماسٹرز کرنے کے بعد پڑھائی ختم کر دی۔۔۔!!!!!!!!

حیدر اور حنان نے بزنس مینیجمنٹ کی ڈگری حاصل کی۔۔۔۔حنان تو اپنے ڈیڈ کے ساتھ تین ماہ پہلے آفس جوائن کر چکا تھا۔۔بزنس مینیج کرنے میں۔۔۔جبکہ حیدر تین ماہ گاوں میں گزارنے چلا گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

اس طرح احد اور ارسل،زوہان اور حنان دوست تھے۔۔احد بھی ان کا سکول کے وقت سے دوست تھا۔۔اور یہیں حنان کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا۔۔۔وہ ہانی میں کافی انٹرسٹڈ تھا۔۔۔۔!!!!!!!

لیکن ہانی اسے لفٹ نہی کرواتی تھی۔۔۔۔پھر اچانک سے ہانی بدل گئی۔۔۔اور ان دونوں کی دوستی ہو گئی۔۔۔یہاں تک کہ احد اپنے دوستوں سے بھی الگ ہو کر رہ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!

ہانی یہ سمجھتی تھی کہ شاید ان تینوں کو پتہ نہی چلے گا کبھی اس کے اور احد کے بارے میں۔۔۔۔اس کے بعد ہانی کو اکثر مختلف جگہوں پر مختلف لڑکوں کے ساتھ دیکھا گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان اور ارسل نے احد کو سمجھانے کی بہت کوشش کی کہ ہانی اس کے لیے ٹھیک نہی ہے۔۔۔لیکن وہ تو الٹا ان سے دوستی ختم کر کے چلا گیا۔۔۔یہ کہتے ہوئے کہ تم لوگ میری ہونے والی بیوی پر الزام تراشی کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

یوں ان کے درمیان تناو بڑھتا گیا۔۔۔۔وہ تینوں جتنا احد کو سمجھانے کی کوشش کرتے وہ ان سے اتنا ہی زیادہ الجھتا جاتا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

پھر ایک دن ہوا یہ کہ ہانی کے ماں باپ آئے ہوئے تھے۔۔۔تو حنان نے سوچا کہ کیوں نا ان سے بات کی جائے۔۔۔تا کہ کسی بہانے یہ رشتہ نہ ہو سکے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

لیکن جب حنان ان کے کمرے کے باہر پہنچا۔۔۔اور اندر سے آتی آوازیں اس کے کانوں میں پڑیں۔۔۔تو اس کے ہوش اڑ گئے۔۔۔۔!!!!!!!!!!

مام آپ پریشان نا ہو۔۔۔اس احد کا بہت جلدی شکار کریں گے ہم۔۔۔۔وہ باقی دو چمچوں کا کتنا ملا آپ کو۔۔۔میرا حصہ تو بھیجا ہی نہی آپ نے۔۔۔۔ہانی ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

بہت اچھا کام کر رہے ہیں وہ دونوں۔۔۔جب تک یہ سمگلنگ کا دھندا چلتا رہے گا ہمارا کام بنتا رہے گا۔۔۔ان دونوں کا بیس لاکھ ملا ہے۔۔۔۔!!!!!!!

ویسے کمال کا ہنر تیرے ہاتھ میں ہانی۔۔۔کیسے بھولے بھالے لڑکوں کو پیار کے جال میں پھنسا کر ان کو مجنوں بنا دیتی ہو اور پھر ان کو اغوا کر کے۔۔۔اگلی بات وہ بولیں ہی نہی۔۔۔۔دونوں قہقہ لگا کر ہنس پڑیں۔۔۔۔!!!!!!!!!

بس مام۔۔۔آپ سے ہی سیکھا ہے۔۔۔۔اب تک پچیس لڑکے ہی اغوا کروا سکی ہوں میں۔۔۔۔میں چاہتی ہوں کہ کم ازکم ایک سال میں پچاس لڑکوں کا شکار کروں۔۔۔۔۔ساتھ ہی دونوں کا قہقہ گونجا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

حنان کی سمجھ میں ساری بات آ چکی تھی۔۔۔ہانی لڑکوں کو پیار کے جال میں پھنسا کر ان کو اغوا کرواتی۔۔انہیں بیچ دیتیں۔۔۔۔اور پھر ان سے زبردستی سمگلنگ کا کاروبار کرواتی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

اس سے پہلے کہ حنان کو وہاں کوئی دیکھتا۔۔حنان تیزی سے وہاں سے نکل آیا۔۔۔۔گھر آ کر۔۔۔وہ جلدی سے ارسل اور زوہان کو فون کر کے ان سےملنے چلا گیا۔۔۔اور ساری بات ان کو بتا دی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

اس کا مطلب وہ احد کے ساتھ بھی وہی کرنے والی ہے حنان۔۔۔ارسل پریشانی سے بولا۔۔۔!!!!!!!

ہاں لگتا تو یہی ہے۔۔۔ہمیں احد کو بچانا ہو گا اسے یہ ساری بات بتانی ہو گی۔۔۔!!!!!!!

لیکن ہم کریں بھی تو کیا کریں۔۔۔احد ہماری کوئی بات سننے کو تیار ہی نہی ہے۔۔۔زوہان بھی بول پڑا۔۔۔۔!!!!!!

ہم کوشش کرنی تو نہی چھوڑ سکتے نا زوہان۔۔۔ہم۔کل پھر سے بات کریں گے احد سے۔۔۔کل یونیورسٹی میں ہمارا لاسٹ ڈے ہے۔۔۔ہمیں کسی بھی طرح اسے یونیورسٹی میں ہی گھیرنا پڑے گا۔۔۔۔!!!!!!!!

اب یہی حل ہے۔۔اور تو کوئی راستہ نظر نہی آ رہا مجھے۔۔۔۔اس کے گھر جاو تو باہر نہی آتا۔۔۔۔کال کرو تو پک نہی کرتا۔۔۔۔اب اس کے ساتھ زبردستی کرنی پڑے گی ہمیں۔۔۔۔۔تو کل تیار رہنا تم لوگ۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!

اگلے دن ان تینوں نے احد کو زبردستی ایک کمرے میں بند کر کے بٹھایا۔۔۔اور اسے ساری بات بتا دی۔۔۔۔!!!!!!

دیکھو احد ہم تمہارا برا نہی چاہتے۔۔۔بچپن کے دوست ہیں ہم لوگ۔۔۔۔جو کہ رہے ہیں تمہاری بھلائی کے لیے کہ رہے ہیں۔۔۔بات مان لو ہماری۔۔۔اور پیچھا چھوڑ دو اس ہانی کا۔۔۔۔ارسل اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بول رہا تھا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

بہت ہو گیا تم لوگوں کا۔۔۔اب مجھے جانے دو۔۔۔احد اٹھ کھڑا ہوا جانے کے لیے۔۔۔جس کا مطلب تھا کہ۔۔۔اس پر ان کی باتوں کا کوئی اثر نہی ہوا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

زوہان نے آگے بڑھ کر احد کو گریبان سے کھینچتے ہوئے ایک تھپڑ رسید کیا۔۔۔اور احد نے بھی اسے تھپڑ مارا۔۔۔دونوں گتھم گتھا ہو چکے تھے۔۔۔۔!!!!!!!

ارسل اور حنان نے جلدی سے دونوں کو الگ کیا۔۔۔۔آج کے بعد میرے راستے میں نا آنا تم تینوں۔۔۔میرا تم سب سے کوئی رشتہ نہی ہے اب۔۔۔۔۔احد کہتے ہوئے کمرے سے جانے لگا ہی تھا کہ زوہان بول پڑا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

جا چلا جا یہاں سے۔۔۔ہمیں بھی نہی رکھنا تجھ سے کوئی رشتہ۔۔۔۔ایک لڑکی کے لیے بچپن کے دوست چھوڑ رہا ہے۔۔۔۔بہت پچھتائے کا تو۔۔۔۔۔یاد رکھنا میری بات۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

زوہان کی آواز پر احد رکا۔۔۔۔لیکن پلٹا نہی۔۔۔اور چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

اور ٹھیک ایک ہفتے بعد احد کے لا پتہ ہونے کی خبر ملی حنان کو۔۔۔۔اس کی ماما کا فون آیا حنان کو کہ احد ان کے ساتھ تو نہی ہے۔۔۔کل رات سے گھر نہی آیا۔۔۔!!!!!!!

جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا۔۔۔ان تینوں نے بہت کوشش کی احد کو ڈھونڈنے کی۔۔۔۔لیکن کچھ پتہ نہی چل سکا۔۔۔۔سب سے حیرت والی بات یہ تھی کہ ہانی اپنے پیرنٹس کے ساتھ ایک ہفتہ پہلے لندن جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

لیکن حنان کو یقین تھا کہ یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے۔۔۔۔ایک دن اچانک حنان کو ہانی نے سکائپ پر کال کی۔۔۔تو حنان نے جان بوجھ کر اس کے سامنے احد کا ذکر کیا۔۔۔جس پر ہانی گھبرا گئی۔۔۔۔!!!!!!

حنان کو اس کی گھبراہٹ اور بات کرنے کے انداز سے اندازہ ہو چکا تھا کہ یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے۔۔۔۔اور پھر دونوں کے درمیان کالز کا سلسلہ شروع ہو گیا۔۔۔اور پھر ایک دن حنان نے اسے پرپوز کر دیا۔۔۔۔!!!!!!!!!

جو ہانی نے خوشی خوشی قبول بھی کر لیا۔۔۔اسے اور کیا چاہیے تھا۔۔۔۔۔ہانی تو پہلے ہی شکار کی تلاش میں رہتی تھی۔۔۔اب شکار خود اس کے پاس آ گیا۔۔۔۔تو کیسے ہاتھ سے جانے دیتی وہ۔۔۔۔۔!!!!!!!

ماہم اور حیدر دونوں گاوں واپس جا چکے تھے۔۔۔حنان کو ان کے جانے کے بعد یہ احساس ہوا کہ اسے ماہم کی عادت سی ہو گئی ہے۔۔۔وہ دن بھر اسے تنگ کرتا رہتا تھا۔۔۔۔۔!!!!!!!

مگر اب وہ اکیلا سا ہو گیا تھا۔۔۔جب وہ ماہم سے بات کر لیتا تو ٹھیک رہتا ورنہ پھر سے وہی حالت ہو جاتی اس کی۔۔۔۔۔آہستہ آہستہ اسے احساس ہوا کہ اسے ماہم سے محبت ہو چکی ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!

یہ احساس بہت خوشگوار تھا اس کے لیے۔۔۔ملک صاحب نے اسے آفس جوائین کروا دیا۔۔۔۔وہ پورا دن آفس میں مصروف رہتا لیکن گھر آتے ہی اسے پھر سے ماہم کا خیال آ جاتا۔۔۔۔۔!!!!!!!!

وہ ماہم کو اب اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔لیکن اسے سمجھ نہی آ رہی تھی کہ کیسے بات کرے گھر والوں سے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

انہی دنوں گھر میں سانیہ اور احسن کی شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔۔۔۔احسن واپس آنے ہی والا تھا کہ۔۔۔شادی میں بس چند دن رہ گئے تھےکہ سانیہ گھر سے بھاگ گئی۔۔۔اور اس نے فہیم سے نکاح کر لیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

سانیہ خود تو چلی گئی تھی اپنی نئی زندگی بسانے۔۔۔ماں باپ کی عزت کو روندتے ہوئے۔۔۔۔سارے خاندان کے سامنے اور دنیا کے سامنے زلت و رسوائی کا سامان بنا گئی تھی ان کو۔۔۔۔۔!!!!!!!

ماں باپ کی عزت کو روند کر گھر بسانے والی لڑکیاں کبھی خوش نہی رہتیں۔۔۔۔اور جو آشیانہ دوسروں کی خوشیاں تباہ کر کے بنایا جائے وہ آخر ٹوٹ ہی جاتا ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

سانیہ کی زندگی بھی مشکلات سے بھر چکی تھی۔۔۔اسے عزت نہی رسوائی ہی ملی تھی۔۔۔۔فہیم کے گھر والوں نے اسے اور ان دونوں کے رشتے کو قبول ہی نہی کیا۔۔۔اور ان کو گھر سے نکال دیا گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

ماں باپ کی لاڈلی بیٹی۔۔۔جس نے آج تک کبھی پیسوں کا حساب نہی رکھا تھا۔۔۔اب ایک ایک روپیہ سوچ سوچ کر خرچ کرتی تھی۔۔۔۔شادی کا پہلا سال بہت تنگیوں میں گزارا ان دونوں نے۔۔۔۔۔!!!!!!

پھر فہیم کی انجنیرنگ مکمل ہوئی تو اسے اچھی کمپنی میں جاب مل گئی۔۔۔اور گاڑی بھی۔۔۔سب کچھ اچھا ہونے لگ پڑا۔۔۔۔مگر شادی کو دو سال ہو گئے۔۔۔۔ابھی تک ان کی گود خالی تھی۔۔۔۔۔اب تک اللہ نے ان کو اولاد جیسی نعمت سے محروم رکھا ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!

ملک صاحب نے کبھی سانیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش نہی کی۔۔۔۔جبکہ مسز ملک اکثر چھپ چھپ کر بیٹی کی یاد میں آنسو بہاتی رہتیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

ہانی واپس آ چکی تھی پاکستان۔۔۔حنان اس کے ساتھ دھوکا کر رہا تھا۔۔۔۔ہانی کے ساتھ باہر جاتے ہوئے وہ ہمیشہ اپنی گن اپنے پاس رکھتا تھا کہ نا جانے کب یہ حملہ کر دے۔۔۔۔!!!!!

وہ بھی شادی سے چند دن پہلے۔۔۔۔گھر میں قیامت سا سماں تھا۔۔۔۔ایسے میں حنان اپنی خوشیوں کو مکمل فراموش کر چکا تھا۔۔۔۔وہ کبھی سوچ بھی نہی سکتا تھا کہ اس کی بڑی بہن ایسا کرے گی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

اور اس معاملے کا قصور وار وہ ملک صاحب کو ٹہراتا تھا۔۔۔کہ اگر وہ زبردستی نا کرتے تو ایسا نا ہوتا کبھی بھی۔۔۔۔اور اسی لیے ان کے رشتے کے درمیان تناو بڑھتا چلا گیا۔۔۔۔!!!!

سانیہ کی فہیم سے شادی کے تقریباً چھ ماہ بعد ہی حنان اس تک پہنچ چکا تھا۔۔۔۔وہ اکثر چھپ کر وہاں دور کہیں ان کے گھر کے پاس گاڑی کھڑی کر کے رکتا کہ شاید۔۔۔۔سانیہ کو دیکھ سکے۔۔۔!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *