Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 11)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 11)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
منال ساری رات جاگ کر سوچتی رہی کہ اب اس کی زندگی پتہ نہی کیا موڑ لینے والی ہے۔۔۔یونہی سوچتے سوچتے صبح ہو گئی۔۔۔منال اٹھ کر نماز پڑھنے چلی گئی۔۔۔نماز پڑھ کر منال نیچے چلی گئی۔۔۔حنان ابھی تک سو رہا تھا۔۔۔۔!!!!
منال ایک نظر حنان پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔باہر لان میں چلی گئی۔۔صبح کی تازہ ہوا اور پھولوں کی مسحور کن خوشبو اسے بہت بھلی لگ رہی تھی۔۔۔لیکن اس کا دل بہت اداس تھا۔۔!!
مجھے خود کو آنے والے کل کے لیے تیار کرنا پڑے گا۔۔۔زندگی اتنی آسان نہی ہوتی جتنی ہمیں لگتی. ہے۔۔۔زندگی میں بہت سی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔۔۔۔!!
جو صبر کرتے ہیں۔۔۔اللہ ان کو صبر کا پھل عطا کرتا ہے۔۔۔میں بھی صبر کروں گی۔۔۔اور جو میرے مقدر میں میرے اللہ نے لکھا ہوا مجھے نہ اس سے زیادہ ملنا ہے اور نہ کم۔۔۔تو جیسے اللہ کی مرضی میں اس کی رضا میں خوش ہوں۔۔۔۔!!!
منال اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔سب لوگ ناشتے کی میز پر آ چکے تھے۔۔سوائے حنان کے۔۔۔منال سب کو سلام کرتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔۔!!!!
منال اوپر آو جلدی۔۔۔حنان کی آواز پر منال کا پلیٹ کی طرف جاتا ہاتھ رک گیا۔۔اور وہ اوپر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!
جی آپ نے مجھے بلایا۔۔۔کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!
جی آپ کو ہی بلایا ہے منال آپ ہی ہیں نا۔۔۔؟؟؟ حنان تیکھے لہجے میں بولا۔۔۔۔!!!
جی۔۔۔۔منال کو اس کی بات تھوڑی عجیب لگی۔۔۔!!!!!!!!!
میری شرٹ نہی مل رہی بلیو والی۔۔۔زرا نکال دو۔۔۔کہتے ہوئے حنان واش روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
منال الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔تب ہی ہانی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔!!!
اسلام و علیکم۔۔۔منال نے اسے سلام کیا۔۔۔۔!!!!
لیکن وہ منال کو اگنور کرتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔ہنی۔۔۔کہاں ہو تم۔۔۔۔زور زور سے آوازیں دینے لگ پڑی۔۔۔!!!!
وہ واش روم میں ہیں۔۔۔منال نے اسے جواب دیا۔۔۔۔!!!!!
تم سے میں نے پوچھا ہے کیا۔۔۔۔ہانی منال کی طرف پلٹی۔۔۔اپنے کام سے کام رکھو سمجھی۔میرے منہ لگنے کی ضرورت نہی ہے۔۔۔میں تم جیسی گنوار لڑکیوں کو اچھی طرح جانتی ہوں۔۔۔کیسے امیر لڑکوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتی ہیں۔۔۔۔!!!!!
منال کو اس کی بات پر صدمہ لگا اور اس کی آنکھوں میں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔!!!!!!
تب ہی حنان واش روم سے باہر آیا۔۔۔گڈ مارننگ۔۔۔وہ ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!
کاش میں بھی ایسا کہ سکتی۔۔۔ہانی منہ بناتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!
کیوں کیا ہوا۔۔۔؟؟؟ ایسا کیوں بول رہی ہو ہانی۔۔۔حنان فکر مند ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!
کچھ نہی۔۔۔تمہاری جاہل بیوی نے میرا موڈ خراب کر دیا صبح صبح۔۔۔۔!!!
کیوں کیا کہا اس نے تمہیں۔۔مجھے بتاو ابھی لیتا ہوں اس کی تم اپنا موڈ خراب مت کرو۔۔۔۔!!!!
چھوڑو یار۔۔۔آو چلتے ہیں نیچے سب سے ملنا بھی تو ہے۔۔رات کو مل نہی پائی کسی سے بھی۔۔۔ہانی مسکراتے ہوئے بولی تو حنان اسے ساتھ لیے نیچے آ گیا۔۔۔۔!!!!!
حنان کے کمرے میں آتے ہی منال کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔اور ناشتے کی میز پر جا کر ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھ گئی۔۔۔۔!!!!
چند منٹ بعد ہانی اور حنان ہنس ہنس کر باتیں کرتے نیچے اترے۔۔۔۔!!!!
سب کی نظریں دھنگ رہ گئی۔۔۔حنان کے ساتھ ہانی کو نیچے آتے دیکھ کر۔۔۔۔!!!!
ہانی واٹ آ سرپرائز۔۔۔۔مسز ملک ہانی کی طرف بڑھتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!
بس دیکھ لیں آنٹی۔۔۔ایکچولی میں رات کو ہی آ گئی تھی۔۔آپ لوگ ڈسٹرب نہ ہو۔۔اسی لیے سوچا صبح مل لوں گی۔۔۔۔!!!!
ارے بیٹا اس میں ڈسٹرب والی کونسی بات ہے۔۔آو بیٹھو ناشتہ کرو۔۔۔ملک صاحب بولے۔۔۔!!!!
جی ضرور انکل۔۔۔میں تو کب سے ترسی ہوئی ہوں پاکستانی کھانوں کے لیے۔۔۔۔ماما تو آنے ہی نہی دے رہی تھیں مجھے۔۔۔بہت مشکلوں سے آئی ہوں۔۔کہ رہی تھیں دیسی کھانے کھا کھا کر موٹی ہو جاو گی۔۔۔۔۔!!!!!
کوئی بات نہی جم جوائن کر لینا۔۔۔حنان بولا تو سب ہنس دئیے۔۔۔سوائے منال کے وہ چپ چاپ ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔سب سے لا تعلق سی بیٹھی۔۔۔!!!!
ناشتہ کرنے کے بعد ملک صاحب اور حنان آفس کے لیے نکل گئے۔۔۔۔بائے ہنی جلدی گھر آجانا۔۔۔کہی باہر چلیں گے۔۔۔گھومنے پھرنے۔۔۔۔!!! حنان کو جاتے دیکھ ہانی بولی۔۔۔۔!!!!
ناشتہ کرنے کے بعد منال دادو کے ساتھ باہر چلی گئی لان میں۔۔۔۔اس کی روز کی یہی روٹین تھی۔۔وہ ناشتہ کرنے کے بعد دادو کو باہر لے آتی ان کو ناشتہ کرواتی۔۔۔اور ان کو کبھی دباتی تو کبھی مالش کرتی ان کے سر کی۔۔۔۔!!!
منال کو باہر بیٹھے دیکھ ہانی بھی وہی چلی آئی۔۔۔ہائے دادو۔۔۔۔دادو کی طرف ہاتھ ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔اور کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!
یہ ہائے وائے کیا ہوتا ہے۔۔۔کتنی بار بولا ہے تم سے اے لڑکی کہ سلام کیا کرو۔۔۔۔لیکن تم تو ہر وقت ہائے ہائے کرتی رہتی ہو۔۔۔اگر اتنی ہی دردیں ہوتی ہیں تمہیں تو ڈاکٹر کو کیوں نہی دکھاتی۔۔۔شاید کوئی علاج مل جائے۔۔۔!!!!!!
دادو ہمیشہ ایسے ہی کلاس لیتی تھی ہانی کی۔۔۔لیکن اسے کوئی پرواہ نہی تھی وہ ایک کان سے سنتی تو دوسرے سے نکال دیتی تھی۔۔۔۔!!!!
اور یہ کپڑے تو دیکھو تمہارے۔۔۔۔اللہ معاف کرے۔۔کیسا بے ہودہ لباس پہنا ہے تم نے مردوں والا۔. کچھ تو حیا کرو لڑکی۔۔۔۔یہ منال سے ہی سیکھ لو کچھ کپڑے پہننے کا ڈھنگ۔۔۔۔!!!!
منال کے سامنے اپنی اتنی عزت افزائی پر ہانی دانت پیس کر رہ گئی۔۔۔۔!!!!
ارے میں اس کی بات کر رہی ہوں۔۔۔یہ منال ہے حنان کی دلہن۔۔۔تم ملی نہی اس سے۔۔۔۔دادو منال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہانی کو مخاطب کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!!
جی دادو میں مل چکی ہوں۔۔۔۔بس اتنا کہ ہانی وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔!!!!!!
ہانی کا موڈ خراب ہو چکا تھا۔۔۔۔یہ بڑھیا۔۔۔اس کی ہمت کیسے ہوئی اس دو ٹکے کی جاہل لڑکی کے سامنے زلیل کر کے رکھ دیا مجھے۔۔۔!!!
چھوڑوں گی نہی میں اس لڑکی کو۔۔۔ہانی بڑبڑاتے ہوئے اپنی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔تب ہی کس سے ٹکرا گئی۔۔۔۔!!!
او مسٹر۔۔۔دیکھ کر نہی چل سکتے کیا۔۔۔۔؟؟؟؟ ہانی چلائی۔۔۔!!!!
آہستہ بات کریں۔۔۔یہ گھر ہے۔۔۔کوئی پاگل خانہ نہی جو اتنی زور زور سے چلا رہی ہیں آپ۔۔۔احسن ابھی ابھی ہاسٹل سے آیا تھا۔۔۔دروازے میں ہی ہانی سے ٹکرا گیا۔۔۔!!!!
کیا کہا۔۔۔؟؟؟ تم نے مجھے پاگل کہا۔۔۔ہانی کو تو جیسے صدمہ لگا۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے پاگل کہنے کی۔۔۔تمہیں کیا میں پاگل لگتی ہوں شکل سے۔۔۔۔!!!!!
شکل سے تو نہی لگتی البتہ حرکتوں سے لگ رہی ہو تھوڑی تھوڑی۔۔۔خود سے باتیں کرنا یہ بھی ایک نشانی ہوتی ہے پاگل پن کی۔۔۔اور میں نے نوٹ کیے کہ سامنے سے آتے ہوئے خود سے باتیں کرتی آ رہی تھی آپ۔۔۔احسن مسکراتے ہوئے بول کر آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔!!!!
ہانی تو دھنگ رہ گئی اپنی صبح صبح اتنی بے عزتی پر۔۔۔کیا میں یہاں اپنی بے عزتی کروانے کے لیے آئی ہوں۔۔جس کا دل چاہے باتیں سنا دیتا ہے۔۔۔پہلے وہ بڑھیا۔۔اب یہ۔۔۔یہ تھا کون ویسے۔۔۔!!!!!
منال دادو کے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔اس نے سوچا کیوں نہ دادو سے ہانی کے بارے میں کچھ پوچھ لے۔۔۔۔!!!!!!
دادو آپ سے ایک بات پوچھنی تھی۔۔۔منال ہمت کر کے بولی۔۔۔وہ سمجھ نہی پا رہی تھی کہ کیسے بات شروع کرے۔۔۔۔!!!!
ہاں ہاں پوچھوں بیٹا کیا پوچھنا ہے۔۔۔۔!!!دادو مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!
دادو یہ لڑکی جو ابھی آئی تھی۔۔۔میرا مطلب ہانی یہ اور حنان کب سے دوست ہیں۔۔۔!!!!
یہ دونوں بچپن سے ساتھ پڑھتے تھے۔۔۔یہ اپنی خالہ کے گھر رہنے آئی تھی پڑھنے کے لیے۔۔۔حب چھ سال کی تھی۔۔۔یہ ساتھ والا گھر اس کی خالہ کا تھا۔۔۔مگر اب وہ یہاں سے کہی اور شفٹ ہو گئے ہیں۔۔۔!!!!!!!
مگر یہ ہمارے گلے پڑ گئی ہے۔۔۔۔واپس چلی گئی تھی یہ کچھ مہینوں پہلے پڑھائی مکمل جو ہو گئی تھی۔۔لیکن اب پھر سے واپس آ گئی ہے۔۔۔پتہ نہی کب جان چھوڑے گی میرے حنان کی یہ۔۔۔۔اس کا نام بھی بگاڑا ہوا ہے اس نے۔۔۔حنان نہی بولا جاتا اس سے اسی لیے ہنی کہتی ہے۔۔۔۔!!!!!
بے شرم کہی کی۔۔۔اور کپڑے تو دیکھو کیسے پہنتی ہے اللہ معاف کرے شرم حیا ہی نہی رہ گئی۔۔۔تم بھی تو ہو تم کیوں نہی پہنتی ایسے کپڑے۔۔۔یہ سارا اثر تربیت کا ہوتا ہے بیٹا۔۔۔!!!!
جیسی ماں ہو گی ویسی بیٹی۔۔۔۔جب ماں باپ بیٹی کو روکیں گے نہی ایسا لباس پہننے کو تو بیٹی کیسے رکے گی۔۔۔۔خیر چھوڑو ہمیں کیا۔۔۔جب دوزخ کی آگ میں جلے گی تب پتہ چلے گا اس کو۔۔۔!!!!
آج کل تو ہر طرف یہی حال ہے باہر جاو تو بے حیائی ہی نظر آتی ہے ہر طرف۔۔۔پہلے لڑکیوں نے ڈوپٹے سر سے اتار کر گلے میں لٹکا لیے۔۔۔اور اب تو گلے میں بھی نظر نہی آتے۔۔۔بلکل ہی اتار دیے۔۔۔اب ڈوپٹوں کا بوجھ نہی اٹھایا جاتا ان سے۔۔۔۔!!!!
اسی لیے گھر چھوڑ آتی ہیں۔۔۔لیکن ان کو یہ نہی پتہ یہ ڈوپٹہ نہی بلکہ اپنی عزت گھر چھوڑ آئی ہیں۔۔۔۔نہ جانے کتنے ہی غیر مردوں کی نظریں پڑتی ہو گی ان پر۔۔لیکن ان کو تو پرواہ ہی نہی۔۔دنیا کی رنگینیوں میں گم ہیں۔۔۔!!!
جہالت کا دور واپس آ گیا ہے۔۔بے حیائی عام ہو گئی۔۔۔ہر طرف قتل و غارت بھائی بھائی کا نہی رہا۔۔۔باپ بھائی کے سامنے بیٹیاں بہنیں ڈوپٹے کے بغیر گھومتے ہیں۔۔کوئی نہی روکنے والا۔۔۔۔!!!!
یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں۔۔۔۔اللہ سب کو ہدایت دے۔۔اور سب مسلمانوں کو صراطِ مستقیم عطا فرمائے۔۔۔آمین۔۔۔!!!!
آمین۔۔دادو آپ بلکل ٹھیک کہ رہی ہیں۔۔۔میں آپ کی بات پر اتفاق کرتی ہوں۔۔۔۔منال مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔!!!!!
بات سنو منال۔۔۔اب اس لڑکی کو تم ہی دور کر سکتی ہو حنان سے اسے نکالو یہاں سے اب تو شادی ہو گئی حنان کی پھر بھی جان نہی چھوڑ رہی اس کی۔۔۔۔!!!!
دادو میں کیسے نکال سکتی ہوں اس کو وہ مہمان ہے۔۔اور حنان کی دوست بھی۔۔۔!!!!منال نا سمجھی میں بولی۔۔۔!!!
وہ دوست ہے حنان کی اور تم بیوی ہو منال۔۔۔اسے یہ ظاہر کرو۔۔کہ حنان بہت خوش ہے تمہارے ساتھ۔۔تم دونوں خوش ہو اپنی شادی شدہ زندگی میں۔۔۔خود ہی جلتی بھنتی بھاگ جائے گی یہاں سے۔۔۔مجھے اس کے ارادے ٹھیک نہی لگ رہے۔۔۔!!!!
کس طرح سب کے سامنے حنان سے چپکتی پھرتی ہے۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب شادی ہو چکی ہے اس کی۔۔۔ایسی لڑکیاں دوسروں کا گھر خراب کر کے اپنے قدم جمانے میں بہت ماہر ہوتی ہیں۔۔۔۔!!!!
اسی لیے تمہیں سمجھا رہی ہوں کہ وقت سے پہلے سنبھل جاو۔۔۔کہی دیر نہ ہو جائے۔۔۔اور تمہارے پاس پچھتانے کے سوا کچھ نہ رہ جائے۔۔۔۔خود کو مظبوط بناو۔۔۔۔!!!
حنان تمہارا شوہر ہے تمہارا پورا پورا حق ہے اس پر۔۔۔اپنا حق استعمال کرو۔۔۔کسی تیسرے کو اپنے رشتے کی دیوار نہ بننے دو۔۔۔!!!!
اسلام و علیکم بیوٹی فل لیڈیز۔۔۔احسن کی آواز پر منال اور دادو نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔!!!!
وعلیکم اسلام۔۔۔آو بیٹھو۔۔۔ٹائم مل گیا دادو کو سلام کرنے کا۔۔۔دادو ناراض ہوتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!!!
منال مسکرا دی دادو کی بات پر۔۔۔۔!!!!!
نہی دادو ایسی بات نہی ہے کیا بتاوں آپ کو بہت مصروف رہتا ہوں۔۔۔دن رات ہوسپٹل میں ہی گزر جاتے ہیں۔۔۔آپ بتائیں آپ کی طبیعت کیسی ہے اب۔۔۔۔ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!
ہاں بیٹا طبیعت تو ٹھیک رہتی ہے اب شکر ہے اللہ کا۔۔۔تم سناو۔۔اپنا بلکل خیال نہی رکھتے ہو۔۔۔دیکھو تو کتنے دبلے ہو گئے ہو ٹھیک سے کھانا بھی کھاتے ہو کہ نہی۔۔۔۔!!!!
بس دادو کام کا بہت دباو ہے۔۔۔اتنے زیادہ پیشنٹس کو ہینڈل کرنا آسان نہی ہوتا۔۔۔خیر چھوڑیں میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گیا ہوں۔۔۔میں سوچ رہا ہوں کیوں نا ہم لوگ پکنک پر چلیں کہی۔۔۔!!!
بہت دن ہو گئے کہی فیملی کے ساتھ پکنگ پے گئے ہوئے۔۔پلان بناتے ہیں۔۔۔کیا خیال ہے منال۔۔۔احسن منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!
جی۔۔۔۔میں کیا بتاوں گی۔۔۔سب سے پوچھ لیں آپ مشورہ کر لیں۔۔۔مجھے تو کوئی اعتراض نہی احسن بھائی۔۔۔!!!
ہممم ٹھیک ہے سب سے مشورہ کر لیتے ہیں۔۔۔۔احسن نے جواب دیا۔۔۔!!!!!
ناشتہ کیا میرے بیٹے نے۔۔۔دادو پیار سے احسن کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!!
نہی دادو بس ابھی ابھی گھر آیا ہوں۔۔۔سوچا آپ سے مل لوں پہلے پھر کرتا ہوں ناشتہ۔۔۔۔!!!!!
اچھا تم یہی بیٹھو منال یہی لے آتی ہے ناشتہ تمہارے لیے۔۔جاو منال بیٹا ناشتہ لے آو احسن کے لیے۔۔۔۔!!!
نہی دادو میں اندر جا کر کر لوں گا۔۔۔احسن مسکراتے ہوئے بول کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔آپ دونوں بیٹھیں۔۔۔میں ناشتہ کر کے آتا ہوں۔۔۔!!!!!!
مسز ملک بھی وہی آگیں۔۔۔ان دونوں کے پاس کچھ دیر بعد احسن بھی ناشتہ کر کے وہاں آ گیا۔۔۔!!!!
آو احسن بہت دنوں بعد نظر آئے ہو بیٹا بہت مصروف رہتے ہو آپ تو۔۔۔مسز ملک احسن کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!
جی چچی جان بس کام ہی ایسا ہے۔۔آج دوسرا ڈاکٹر واپس آ گیا ہے۔۔تو اب کچھ ٹائم مل جائے گا مجھے۔۔وہ ڈاکٹر کے چھٹیوں پر ہونے کی وجہ سے مجھے ہی سب سنبھالنا پڑتا تھا۔۔۔۔!!!!
میں سوچ رہا تھا کیوں نا کہی آوٹنگ کا پروگرام بنایا جائے۔۔۔!!!
ہاں ہاں کیوں نہی شام کو ڈسائیڈ کرتے ہیں سب مل کر۔۔۔مسز ملک مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!
