Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 29)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 29)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
حنان حیدر کی بھیجی گئی لوکیشن پر پہنچا۔۔۔تو حیدر تو اسے مل گیا لیکن۔۔۔ماہم کی لوکیشن آف ہو چکی تھی۔۔۔!!!!!!!!!!!
ماہم کال بھی اٹینڈ نہی کر رہی تھی۔۔۔حیدر دیکھ چکا تھا ماہم کو ہانی کے ساتھ جاتے ہوئے۔۔۔۔!!!!!!
اسی لیے وہ ماہم کو کال کر رہا تھا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ ان کی گاڑی کا پیچھا کرتا۔۔۔۔ان کی گاڑی کافی آگے جا چکی تھی۔۔۔!!!!!!!!!!!
پھر حیدر نے جلدی سے لوکیشن آن کی اور ماہم کے فون کو ٹریس کرتے ہوئے ان کا پیچھا کرنے نکل پڑا۔۔۔۔۔!!!!!!!
اور جب لوکیشن آف ہوئی تو اس نے حنان کو فون کرنا شروع کر دیا۔۔۔پہلے لوکیشن آف ہوئی۔۔اور اب فون بھی بند آ رہا تھا ان کا۔۔۔۔دونوں پریشان ہو چکے تھے۔۔۔۔۔!!!!!!!!
سمجھ میں نہی آ رہا تھا اب کیا کریں۔۔۔۔دونوں پریشانی سے اِدھر اُدھر ڈھونڈنے لگ پڑے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
نا تو ماہم کا فون آن تھا اور نا ہی ہانی کا۔۔۔۔اور سب سے بڑی بات ماہم ہانی کے ساتھ تھی۔۔۔سب سے زیادہ ٹینشن ان دونوں کو اس بات کی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!
کچھ یاد آنے پر حنان نے اپنا فون پر لوکیشن آن کی۔۔۔اور حیدر کو کہا کہ مجھے فالو کرے۔۔۔دونوں اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر نکل پڑے۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!
ماہم کو ہانی نے ساتھ چلنے کو کہا تھا شاپنگ پر جانے کے لیے۔۔۔۔ہانی نے آن لائن گاڑی منگوائی تھی۔۔وہ اپنا بیگ پہلے ہی گاڑی میں رکھ چکی تھی۔۔۔۔اور جلدی سے ماہم کو ساتھ لے گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!
گاڑِی ایک سنسان سڑک پر جا رہی تھی۔۔۔۔ماہم ڈر رہی تھی۔۔وہ کسی کو بتا کر بھی نہی آئی تھی گھر سے اچانک ہی آ گئی۔۔ہانی کے ضد کرنے پر۔۔۔کیونکہ اس نے ہانی پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
ہانِی پر بھروسہ ماہم کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔۔۔۔گاڑی انجان راستوں پر جاتے دیکھی ماہم نے گھبراتے ہوئے ہانی کی طرف دیکھا۔۔۔ہانی یہ کونسا راستہ ہے۔۔۔یہ شاپنگ مال کا راستہ تو نہی ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!
یہ ڈرائیور ہمیں کسی غلط جگہ تو نہی لے کر جا رہا۔۔ماہم گھبرا چکی تھی۔۔۔۔جبکہ ہانی اس کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔تم فکر مت کرو ماہم یہ ہمیں بلکل صحیح جگہ لے کر جائے گا۔۔۔۔!!!!!!
یہ ایک شارٹ کٹ ہے۔۔۔۔یہاں سے ہم جلدی پہنچ جائیں گے۔۔۔ہانی نخوست سے مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ماہم کو اس کی ہنسنا عجیب لگا۔۔۔!!!!!!!!!
وہ بھی تو ایک لڑکی تھی۔۔کیسے کسی انجان کے ساتھ کسی سنسان راستے سے جا رہی تھی۔۔۔مگر اس کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نہی تھے۔۔۔!!!!!!!!!!
ہانِی مجھے گھر جانا ہے۔۔اس سے کہو کہ گاڑی واپس موڑے۔۔۔مجھے نہی جانا شاپنگ کرنے۔۔۔ماہم ڈرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
اور میں گھر پر کسی کو بتا کر بھی نہی آئی۔۔۔تم نے تو کہا تھا۔۔۔۔ہم پاس ہی جا رہے ہیں۔۔۔لیکن ہمیں تو ایک گھنٹے سے بھی زیادہ ٹائم ہو گیا ہے گاڑی میں بیٹھے ہوئے۔۔۔۔!!!!!!!!
اور ہم ابھی تک راستے میں ہیں۔۔۔۔تم اس سے کہو گاڑی واپس موڑے۔۔۔ماہم کی گھبراہٹ اب بڑھ چکی تھی۔۔کیونکہ ہانی اس کی کسی بات کا جواب نہی دے رہی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
وہ بس چپ چاپ بیٹھی مسکرا رہی تھی۔۔۔ہانی میں تم سے بات کر رہی ہوں۔۔۔۔ماہم نے اسے جھنجوڑا۔۔۔!!!!!!!
تم اب گھر نہی جاوں گی ماہم۔۔۔اب تم میرے ساتھ جا رہی ہو۔۔۔۔ہانی مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!
ماہم کو اس کی ہنسی سے خوف آنے لگ پڑا۔۔۔۔کیا مطلب ہے تمہارا ہانی۔۔۔۔ماہم گھبراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!
یہی کہ تم اب کبھی گھر واپس نہی جاو گی۔۔۔میرے ساتھ جا رہی ہو۔۔میں نے تمہیں کڈنیپ کر لیا ہے۔۔۔۔اور یہ آدمی کوئی ڈرائیور نہی۔۔میرا اپنا آدمی ہے۔۔جو ہمیں یہاں سے کہی دور لے جائے گا محفوظ جگہ پر۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!
آخرِی بات ہانی ہنستے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔تم مزاق کر رہی ہو نا ہانی۔۔۔دیکھو مجھے ایسا مزاق بلکل پسند نہی ہے۔۔۔مجھے واپس گھر جانا ہے ابھی۔۔۔۔تم بولو اس سے گاڑی واپس موڑے۔۔۔!!!!!!!
ماہم نے جلدی سے اپنے بیگ سے اپنا فون نکالا۔۔تا کہ کسی کو فون کر سکے۔۔۔لیکن ہانی نے اس کے ہاتھ سے فون کھینچ لیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!
اور بند کر کے اپنے بیگ میں رکھ دیا۔۔۔۔اور گن نکال کر ماہم کے سر پر رکھ دی۔۔۔۔تمہیں ایک بار کی کہی بات سمجھ نہی آ رہی۔۔۔ایک بار کہ دیا کہ تم واپس نہی جا سکتی تو نہی جا سکتی۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!
اگر تم اب چین سے نہی بیٹھی تو اچھا نہی ہو گا۔۔۔مجھے مجبور مت کرو کہ میں تم سے سختی سے پیش آوں۔۔۔۔اسی لیے بہتر ہے کہ چپ چاپ بیٹھی رہو یہاں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!
اپنے سر پر رکھی ہانی کے ہاتھ میں گن دیکھ کر تو ماہم کے ہوش اڑ چکے تھے۔۔۔ماہم ابھی تک سمجھ نہی پائی یہ کیا ہوا اس کے ساتھ۔۔۔۔۔!!!!!!!!
تم ایسا کیوں کر رہی ہو ہانی۔۔۔۔میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔میں تو تمہاری دوست ہوں۔۔۔۔۔پھر یہ سب کیا ہے۔۔۔۔اور یہ گن کہاں سے آئی تمہارے پاس۔۔ماہم صدمے میں تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
دیہ
میں ایسا اس لیے کر رہی ہوں کیونکہ حنان نے میرے مام ڈیڈ کو تھانے پہنچا دیا ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!
اب تمہیں اغوا کر کے اس سے مطالبہ کروں گی ان کی رہائی کا۔۔۔۔اور یہ گن۔۔۔یہ تو کھلونا ہے میرے لیے۔۔۔۔!!!!!!!
اگر کہو۔۔تو چلا کر دکھاوں۔۔۔کہ کر ہانی نخوست سے ہنس دی۔۔اور گن بیگ میں رکھ دی۔۔۔!!!!!!!!
لیکن حنان نے ایسا کیوں کیا ہے۔۔۔۔اور تمہارے پیرنٹس تو لندن میں ہیں نا۔۔۔۔ماہم نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔!!!!!!!!!
تم بہت معصوم اور بھولی ہو ماہم۔۔۔ابھی بھی نہی سمجھی کہ میں کون ہوں۔۔۔تو میں تمہیں بتاتی ہوں۔۔۔میں صرف ہانی نہی ہوں۔۔۔۔ایک بہت بڑی دھوکے باز ہوں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
یہ تو تمہیں اس دھوکے سے اندازہ ہو گیا ہو گا۔۔۔۔چلو اب چپ چاپ بیٹھی رہو۔۔۔مجھے تنگ مت کرنا۔۔ورنہ میں یہ بھول جاوں گی کہ تم میری دوست ہو۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
کچھ دیر بعد گاڑی ایک پرانی عمارت کے پاس رکی۔۔۔اور ہانی ماہم کو بازو سے کھینچتے ہوئے اس کے سر پر گن رکھتے ہوئے اسے اس عمارت میں چلی گئی۔۔۔۔یہ کوئی پرانی حویلی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
ہانِی چھوڑ دو مجھے۔۔۔ماہم خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔لیکن ہانی نے گن اس کے سر پر رکھ کر اس کا منہ بند کروا دیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!
اگر اب تم نے آواز نکالی تو میں گولی چلا دوں گی۔۔۔ہانی نے گن اس کے سر پر رکھی تو ماہم چپ چاپ اس کے ساتھ چل پڑی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
وہ آدمی گاڑی اس عمارت کی پچھلی سائیڈ پر کھڑی کر کے اندر آ گیا۔۔۔۔۔ہانی نے ماہم کو ایک کرسی پر بٹھا کر اس کے ہاتھ پاوں باندھ دئیے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
اور اپنا فون آن کرتے ہوئے حنان کا نمبر ڈائیل کیا۔۔۔۔حنان نے گاڑی سائیڈ پر روک دی۔۔۔اور کال اٹنڈ کی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
ہیلو ہنی۔۔۔امید ہے اب تک تمہیں ماہم کے گھر میں نا ہونے کی خبر مل گئی ہو گی۔۔۔۔تو یہ بھی پتہ چل گیا ہو گا کہ میں بھی گھر پر نہی ہوں۔۔۔۔اور ماہم میرے ساتھ ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!
مجھے سب پتہ چل چکا ہے کام کی بات کرو۔۔کیا چاہتی ہو تم۔۔۔۔ماہم کو چھوڑ دو۔۔۔اس کا کوئی قصور نہی اس میں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
حنان ظبط کی انتہا پر تھا۔۔۔اس کا بس نہی چل رہا تھا۔۔۔کہ ہانی اس کے سامنے ہو۔۔۔اور وہ اس کا گلہ دبا دے۔۔۔!!!!!!!!!!!!
تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا چاہتی ہوں۔۔۔۔میرے مام ڈیڈ کو رہا کرواو ابھی کہ ابھی۔۔۔ورنہ اپنی اس ایکس محبوبہ اور کزن کو بھول جاو۔۔اس کی لاش بھی نہی ملے گی تمہیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!
شٹ اپ ہانی۔۔۔خبردار جو دوبارہ ماہم کا نام میرے نام کے ساتھ جوڑا تو۔۔۔میں تمہاری جان لے لوں گا۔۔۔۔حنان تپ چکا تھا ہانی کی بات پر۔۔۔۔!!!!!!!
ہانی بے باقی سے ہنس دی۔۔۔وہ کیا ہے نا حنان۔۔۔اب تم سب کچھ بھول جاو گے۔۔۔بس تمہیں اپنی فکر ہو گی بہت جلدی۔۔۔۔اسی لیے بہتر ہے کہ میرے مام ڈیڈ کو رہا کرواو ابھی کہ ابھی۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
یہ اتنا آسان نہی ہے ہانی۔۔۔وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔۔۔میں کچھ نہی کر سکتا۔۔۔۔پولیس نے ان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا ہے۔۔۔۔۔۔حنان بے بسی سے بولا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!
وہ سب میں کچھ نہی جانتی۔۔۔۔جو کرنا ہے کرو۔۔۔دو گھنٹے ہیں تمہارے پاس۔۔۔۔اس کے بعد جو ہو گا اس کے زمہ دار تم خود ہو گے۔۔۔۔کہ کر اس نے فون بند کر کے بیگ میں رکھ دیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!
ملک حنان بہت بڑی غلطی کر دی تم نے۔۔۔۔تمہاری ساری خوشیاں تباہ کر دوں گی میں۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی بےباقی سے قہقہ لگا دیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!
