Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 18)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

منال ماہم کا رویہ نوٹ کر رہی تھی۔۔وہ سمجھ نہی پا رہی تھی کہ ماہم کا رویہ ایسا کیوں ہے اس کے ساتھ۔۔۔۔!!!!

منال بیٹا آرام کر لو کچھ دیر طبیعت ٹھیک نہی ہے تمہاری۔۔۔مسز ملک منال کو دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!!!!!!

نہی ممی میں ٹھیک ہوں آپ لوگ پریشان نا ہو۔۔۔میڈیسن کھائی ہے آہستہ آہستہ ٹھیک ہو جاوں گی۔۔۔میں اب اکیلی کیا کروں گی کمرے میں جا کر۔۔۔آپ سب کے ساتھ بیٹھی رہوں گی تو دل لگا رہے گا میرا۔۔۔!!

ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہیں اچھا لگے۔۔۔اور اگر کچھ کھانا ہے تو منگوا دوں۔۔۔!!!

نہی ممی ابھی تو ناشتہ کیا ہے دوپہر کو کھانا کھاوں گی اب۔۔۔منال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔!!!!

ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔میں زرا اندر جا رہی ہوں آپ کی بڑی ماما کے ساتھ حیدر۔۔ماہم اور بھابی کے روم سیٹ کروانے۔۔تب تک آپ دادو کے پاس ہی رہنا۔۔۔اور حیدر بھی ہے یہاں۔۔کوئی کام ہو تو اس کے ہاتھ پیغام پہنچا دینا۔۔۔!!!!

جی ٹھیک ہے آپ بے فکر ہو کر جائیں۔۔میں یہی ہوں۔۔!!!!!

دونوں انرونی حصے کی جانب بڑھ گئیں۔۔۔جبکہ منال دادو کے پاس بیٹھی رہی۔۔۔۔!!!!!

حیدر اپنے فون پر مصروف تھا۔۔۔تب ہی ہانی وہاں آ گئی۔۔۔اے چنکو اکیلے اکیلے کیا کر رہے ہو یہاں بیٹھ کر۔۔۔ہانی اسے پھر سے تنگ کرنے لگ پڑی تھی۔۔۔!!!!!!!!!

اور تم کیا ہو بن بلائی مہمان۔۔جب دیکھوں یہی پڑی رہتی ہو۔۔۔جاو اپنے گھر واپس۔۔۔مفت کا مال کھا رہی ہو یہاں بیٹھ کر۔۔۔۔وہ بھی حیدر تھا اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والوں میں تھا۔۔۔۔!!!!!

تمہیں کیا تکلیف ہے میرے یہاں رہنے سے تمہارے گھر نہی بیٹھی میں جو باتیں سنا رہے ہو۔۔۔مہمان ہو مہمانوں کی طرح رہو۔۔کھاو پیو اور چلتے بنو یہاں سے۔۔۔۔ہانی اپنی اتنی عزت افزائی پر تپ چکی تھی۔۔۔۔!!!!

اوہ میڈم مہمان مہمان تم ہو حیدر نے اس کے سامنے چٹکی بجائی۔۔۔۔کھاو پیو اور نکلو یہاں سے۔۔۔اور تمہاری یاداشت اگر کمزور ہو گئی ہو تو بتا دوں۔۔یہ میرے باپ کا گھر ہے۔۔۔۔!!!

امید ہے تمہیں سمجھ آ گئی ہو گی۔۔اب جاو۔۔نکلو یہاں سے میرا دماغ مت خراب کرو۔۔تم تو فارغ ہو لیکن میں بہت بزی ہوں۔۔۔!!!!!

اور آئیندہ مجھے چنکو کہاں تو اچھا نہی ہو گا۔۔۔اب میں بچہ نہی رہا جو تمہاری باتیں برداشت کر لوں گا۔۔۔سمجھی۔۔۔حیدر اسے انگلی دکھا کر وارن کرتے ہوئے گارڈن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!

جبکہ ہانی وہی بیٹھی رہ گئی۔۔۔اور چند پل گزرنے کے بعد پیر پٹختی ہوئی ایک نظر دادو کے پاس بیٹھی مسکراتی منال پر ڈالتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!!

آنے دو آج حنان کو اس سے بات کرتی ہوں جو کرنا ہے جلدی کرے۔۔۔میں مزید انتظار نہی کر سکتی۔۔میری کوئی عزت ہی نہی ہے۔۔۔جس کو دیکھو مجھے ہی زلیل کر رہا ہے۔۔۔!!!!!

مجھے بھی اس گھر میں ایک مقام چاہیے۔۔۔آخر کب تک میں یہاں مہمانوں کی طرح رہوں گی۔۔۔آج حیدر نے بات کی ہے۔۔۔آہستہ آہستہ سب کو باتیں آ جائیں گی۔۔۔۔نہی۔۔۔بہت ہو گیا اب مجھے بات کرنی ہی پڑی گے۔۔۔۔!!!!!

ہانی انہی سوچوں میں گم کمرے میں ٹہل رہی تھی۔۔تب ہی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔ماہم مسکراتے ہوئے اندر آئی۔۔۔۔!!!!

ارے آو بیٹھو ماہم۔۔۔تمہیں کب سے دروازہ ناک کرنے کی ضرورت پڑنے لگی میرے کمرے میں آنے کے لیے۔۔۔آفٹر آل بچپن کے دوست ہیں ہم۔۔۔تم میں حنان اور حیدر۔۔۔!!!!

ہمممم ماہم مسکراتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ہاں بچپن کے دوست ہیں ہم۔۔۔لیکن دیکھو کتنا کچھ بدل چکا ہے اب۔۔۔حنان کو ہی دیکھ لو۔۔۔اس نے مجھ سے ٹھیک سے بات تک نہی کی صبح سے ماہم افسردگی سے بولی۔۔۔۔!!!!!

ہاں تم سہی کہ رہی ہو ماہم۔۔۔حنان نے یہ ٹھیک نہی کیا۔۔۔پہلے تو اس لڑکی سے زبردستی نکاح کیا۔۔۔اسے اپنانے کو تیار نہی تھا۔۔۔اور اب جب سے اسے چوٹ لگی ہے اس کے سوا اسے کچھ نظر ہی نہی آتا۔۔۔ہانی جلے پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہی تھی۔۔۔۔!!!!

ہانی جانتی تھی کہ ماہم حنان کو پسند کرتی تھی۔۔اور اس کی باتوں سے اب اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ حنان کے نکاح کی خبر سن کر وہ ٹوٹ چکی ہے۔۔۔!!!

اسی لیے ہانی اس کے زخموں پر نمک چھڑک رہی تھی۔۔۔۔تا کہ اس کے دل میں بھی منال کے لیے نفرت پیدا کر سکے۔۔۔۔۔!!!!

یہ لڑکی ملی کیسے حنان کو۔۔میرا مطلب ہے کہ حنان کیسے اس کے چکر میں پڑ گیا۔۔۔ماہم بہت رازدانہ انداز میں ہانی سے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔۔!!!!!

یہ سب کچھ سانیا کا کیا دھرا ہے۔۔اس کی غلطی کی سزا ملی ہے حنان کو۔۔۔۔۔یہ سانیہ کی نند ہے۔۔۔اس کے شوہر سے بدلہ لینے کے چکروں میں اس سے نکاح کر لیا حنان نے غصے میں آ کر۔۔۔۔!!!!!

اور اب بدلہ ودلہ سب بھول چکا ہے حنان۔۔۔اب تو بس دن رات اس کی خدمتوں میں گزرتے ہیں اس کے۔۔۔۔اور تو اور اس کو مہنگا ترین فون بھی گفٹ کر دیا۔۔۔۔۔!!!!

ہانی ساری باتیں ماہم کے سامنے کھول رہی تھی۔۔۔سوائے اپنی اور حنان کے درمیان ہوئی باتوں کے۔۔بہت چالاقی سے اپنی چال چل رہی تھی وہ۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

اور تو اور احسن کو بھی نہی چھوڑا اس مڈل کلاس لڑکی نے اسے بھی اپنے جال میں پھنسایا ہوا ہے اس نے۔۔۔تمہارے وہ ڈاکٹر بھائی صاحب بھی اس لڑکی کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔۔!!!!!

ماہم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ہانی کے اس انکشاف پر۔۔نہی احسن بھائی ایسے نہی ہیں۔۔۔تمہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ہانی۔۔۔ماہم جلدی سے احسن کے حق میں بول پڑی۔۔۔۔!!!!

جانتی ہوں تمہیں یقین نہی آئے گا میری بات کا۔۔مجھے بھی نہی یقین آیا تھا پہلے۔۔۔۔یہ دیکھو۔۔۔ہانی فون میں سے منال اور احسن کی وہی تصویریں ماہم کو دکھا رہی تھی۔۔جو اس نے حنان کو دکھائی تھیں۔۔۔۔۔!!!!!!

اب تم خود ہی دیکھ لو۔۔دونوں کے چہرے پر جو حیا کے رنگ بکھرے پڑے ہیں۔۔۔یہ تو دو چاہنے والوں کے چہروں پر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔۔۔!!!!!

تو اگر ایسی بات تھی تو تم نے یہ تصویریں حنان کو کیوں نہی دکھائیں۔۔۔ماہم دھنگ رہ گئی یہ تصویرے دیکھ کر۔۔۔۔۔اسی لیے بول پڑی۔۔۔!!!!!

اگر میں یہ تصویریں میں حنان کو دکھا دیتی تو اس گھر میں طوفان آ جاتا۔۔۔۔۔حنان اور احسن کے درمیان جھگڑا ہو جاتا۔۔۔میں نہی چاہتی کہ میری وجہ سے دو بھائی جدا ہو۔۔۔!!!!

اسی لیے میں نے یہ راز اپنے سینے میں چھپائے رکھا۔۔میں گئی تھی احسن کو سمجھانے مگر اس نے الٹا مجھے ہی دھتکار کر کمرے سے باہر نکال دیا۔۔۔۔کہنے لگا تم جھوٹا الزام لگا رہی ہو منال پر۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

میں پھر کیا کرتی چپ چاپ واپس آ گئی وہاں سے۔۔۔آج تم سے یہ ساری باتیں کر کے میرے دل کا بوجھ تھوڑا ہلکا ہوا ہے۔۔۔بہت اچھا کیا تم آ گئی۔۔۔اب ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔!!!!

میں نہی دیکھ سکتی حنان کو کسی اور کا ہوتے ہوئے۔۔۔میں نے تو ہمیشہ حنان کے ساتھ تمہیں سوچا تھا۔۔۔لیکن حنان نے یہ ٹھیک نہی کیا۔۔۔ہانی اپنی چال چل چکی تھی۔۔۔۔!!!!

ہانی کی بات پر ماہم کے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک گیا۔۔۔جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔۔وہ حیران کن نظروں سے ہانی کی طرف دیکھنے لگ پڑی۔۔۔۔۔!!!!!

ماہم کو یک ٹک اپنی طرف دیکھتے پایا تو ہانی مسکرا دی۔۔۔ایسے مت دیکھو۔۔۔۔مجھے سب پتہ ہے تم حنان کو پسند کرتی ہو۔۔۔اور حنان نے تمہارا دل توڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔!!!!!

لیکن ابھی بھی کچھ نہی بگڑا۔۔۔ہم دونوں مل کر اس لڑکی کو نکالیں گی۔۔۔۔اس گھر سے بھی اور حنان کی زندگی سے بھی۔۔۔اگر تم میرا ساتھ دو گی تب ہی ممکن ہو گا یہ۔۔۔۔!!!!

لیکن مجھے نہی لگتا کہ ایسا ہو گا۔۔۔حنان بہت دور جا چکا ہے۔۔۔اب اسے واپس لانا ممکن نہی۔۔۔۔ہماری کوشش بے کار ہے۔۔۔میں اس کام میں نہی پڑنے والی۔۔۔ماہم نے اسے انکار کر دیا۔۔۔۔!!!!

چھوڑو یہ سب آو۔۔گارڈن میں چلتے ہیں۔۔۔جھولا جھولتے ہیں۔۔ماہم جان بوجھ کر بات پلٹ گئی تھی۔۔۔۔!!!!!

ٹھیک ہے ماہم جیسے تمہاری مرضی۔۔۔ویسے اگر تمہیں میری بات سمجھ آ جائے تو بتا دینا۔۔۔میں ہر وقت تیار ہوں تمہاری مدد کرنے کے لیے۔۔۔۔ہانی اپنی چال ناکام ہوتے دیکھ۔۔آخری تیر لگاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔!!!!!

چلو چلتے ہیں گارڈن میں۔۔۔دونوں نیچے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔۔اور گارڈن میں چلی گئیں جھولا جھولنے۔۔۔!!!!

حیدر پہلے سے ہی جھولے پر براجمان تھا۔۔۔ماہم نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ جان بوجھ کر انجان بنا لیٹا رہا۔۔۔۔!!!!

آخر کار وہ دونوں وہاں سے واپس پلٹ گئیں۔۔۔اور دادو کے پاس بیٹھ گئیں۔چیئرز گھسیٹتے ہوئے۔۔۔۔دادو کیسی ہیں آپ۔۔۔ہانی دادو کو مخاطب کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!

دادو نے پہلے تو ایک نظر اوپر سے نیچے تک ہانی پر ڈالی۔۔۔پھر بول پڑیں۔۔۔تجھے یاد آ گئی دادو کی۔۔۔کتنی بار کہا ہے تجھے ڈھنگ کے کپڑے پہنا کر۔۔۔گھر میں جوان لڑکے ہیں۔۔۔!!!

پر تم تو سنتی ہی نہی۔۔۔۔مردوں والا لباس پہن کر گھومتی رہتی ہو دن بھر۔۔۔۔آنے دے تیری ماں کو اس کی بھی خبر لیتی ہوں میں۔۔۔تجھے سمجھاتی نہی وہ۔۔۔۔اب منال اور ماہم کو ہی دیکھ لو۔۔۔۔!!!!

مجال ہے جو کبھی ایسے کپڑے پہنیں ہو۔۔۔اور ایک تم ہو جو میری ایک نہی سنتی۔۔۔۔دادو تو ہانی پر ایسے برسیں جیسے کوئی پرانا حساب رہتا ہو اس پر۔۔۔۔!!!!

ماہم ہنس رہی تھی ہانی کی آو بھگت پر۔۔۔ہانی نے اسے گھورتے ہوئے کہنی ماری۔۔۔۔اور تیرے کیوں دانت نکل رہے ہیں۔۔۔اب ماہم کی باری تھی۔۔۔۔!!!!

ہانی کی بھی ہنسی نکل گئی۔۔۔ارے نہی دادو میں تو ایسے ہی۔۔۔چھوڑیں نا آپ یہ ہانی نہی سدھرنے والی۔۔اسے ایسے کپڑے پہننے کی عادت ہے۔۔۔آپ اپنا بی پی ہائی نا کریں۔۔!!!!

ماہم نے جلدی سے اپنا پلو جھاڑا۔۔۔۔مبادہ کہیں دادو اسے بھی دو چار کھری کھری نا سنا دیں منال کے سامنے۔۔۔اسی لیے اس نے وہاں سے کھسکنے میں ہی بھلائی سمجھی۔۔۔!!!!

ماہم کو وہاں سے کھسکتے دیکھ ہانی نے بھی پانی پینے کے بہانے اندر کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔!!!!!!

منال وہاں چپ چاپ بیٹھی تھی سب سے لا تعلق۔۔ اسے ان دونوں میں کوئی انٹرسٹ نہی تھا۔۔۔اسی لیے اس نے کسی بھی بات میں بولنا مناسب نہی سمجھا۔۔۔۔!!!!!

حیدر فون پر مصروف مسکراتے ہوئے اندر کی طرف جا رہا تھا۔۔۔تب ہی دادو نے اسے آواز لگائی۔۔۔۔اے کمبخت ادھر آ زرا۔۔۔کیا ہے فون میں مجھے بھی دکھا۔۔۔کس ماں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

حیدر نے جلدی سے فون پاکٹ میں رکھا۔۔۔اور دادو کی ٹانگیں دبانی شروع کر دیں۔۔۔نہی دادو کچھ نہی دوست نے ایک فنی ویڈیو سینڈ کی تھی وہی دیکھ رہا تھا۔۔اور کچھ نہی۔۔۔۔!!!!

دادو نے اسے کان سے پکڑ کر اپنے ساتھ بٹھایا۔۔۔یہ جو دوست ہے نا دوست نہی۔۔ضرور کوئی سہیلی ہو گی۔۔۔تب ہی تو جلدی سے فون جیب میں ڈال لیا تو نے سب سمجھتی ہوں میں۔۔۔۔!!!!

آہ۔۔۔۔دادو پلیز میرا کان چھوڑ دیں۔۔۔بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔ایسا کچھ نہی ہے۔۔۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔۔۔آپ چاہیں تو دیکھ لیں۔۔۔میں سچ کہ رہا ہوں۔۔۔۔۔!!!!!!!

دادو نے اس کا کان چھوڑ دیا۔۔۔اگر سچ بول رہے ہو تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔لیکن اگر مجھے کوئی ایسی ویسی بات پتہ چلی تو چھوڑوں گی نہی میں تمہیں۔۔۔۔دادو وارن کرنے کے انداز میں بولیں۔۔۔۔!!!!

حِیدر جلدی سے وہاں سے اٹھ کر کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔کہ کہی پھر سے اس کی شامت نا آ جائے۔۔۔منال مسکرا دی حیدر کی اس حرکت پر۔۔۔۔!!!!!!!!!

کیا دادو آپ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں کرتی ہیں۔۔دیکھیں نا بھابی بھی ہنس رہی ہیں۔۔۔آپ نے میری نئی نویلی بھابی کے سامنے انسلٹ کر دی میری۔۔۔۔حیدر منہ پھلاتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!

ہاں تو سہی ہے نا۔۔۔اسے بھی تو پتہ چلیں کرتوت تمہارے۔۔۔۔یعنی اکلوتے دیور کے۔۔۔۔دادو نے جواب دیا تو حیدر مسکرا دیا۔۔۔چلیں کوئی بات نہی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

دادو یہ کھانا کب ملے گا بہت بھوک لگ رہی ہے۔۔۔صبح کا ناشتہ کیا ہے۔۔۔اب چوہے دوڑ رہے ہیں پیٹ میں۔۔۔حیدر پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

اپنی ماں اور چچی سے پوچھ اب مجھے کیا پتہ بھلا۔۔۔لو آ گئیں دونوں۔۔۔دونوں کو ایک ساتھ آتے دیکھ کر دادو بولیں۔۔۔۔!!!!

چچِی جان کھانا کب ملے گا بہت بھوک لگی ہے۔۔۔حیدر بچوں کی طرح ضد کر رہا تھا۔۔۔۔۔!!!!!

کھانا تیار ہے بس ابھی لگواتی ہوں۔۔۔کہتے ہوئے مسز ملک اندر کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔!!!!!

چند منٹ بعد حنان کی گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔۔۔لیں بھابی بھائی صاحب بھی آ گئے۔۔۔دل نہی لگتا نا ان کا آپ کے بغیر۔۔۔حیدر مسکراتے ہوئے بولا۔۔دادو نے گھورا تو حیدر چپ ہو گیا۔۔۔۔!!!

اب کیا دادو۔۔۔۔۔اب میں مزاق بھی نا کروں۔۔۔ایک ہی تو بھابی ہے میری۔۔۔حیدر منہ پھلاتے ہوئے بیٹھ گیا۔۔۔۔!!!!

اسلام و علیکم۔۔۔حنان کی چہکتی ہوئی آواز آئی۔۔۔سب نے وعلیکم اسلام کہا۔۔۔حنان دادو کے گلے لگ گیا۔۔۔میری پیاری دادو۔۔۔بہت مس کیا آپ کو آج۔۔۔وہ کہ تو دادو سے رہا تھا۔۔۔لیکن نظریں اس کی دادو کے پاس بیٹھی منال پر تھیں۔۔۔!!!

منال حنان کے ایسے دیکھنے پر شرما کر نظریں جھکا گئی۔۔۔اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔!!!

بس کر ڈرامے باز سب سمجھتی ہوں میں۔۔۔زیادہ مکھن نا لگا مجھے۔۔۔پہلے تو تجھے میری یاد کبھی نہی آئی۔۔۔۔!!!!!

حیدر کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔سہی کہا دادو بات کچھ اور لگتی ہے مجھے بھی۔۔۔حیدر حنان کی طرف آنکھ دباتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

حنان نے اسےگھوری سے نوازا۔۔۔۔بیٹا تجھے بعد میں بتاتا ہوں۔۔۔آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے اشارہ کیا۔۔۔۔!!!!!

چلیں چھوڑیں اماں جان مان لیں۔۔۔بڑی امی مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔تو حنان کی جان چھوٹی۔۔۔میں زرا چینج کر لوں۔۔۔پھر آتا ہوں۔۔۔۔کہتے ہوئے حنان اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!

جاو منال کپڑے نکال دو جا کر اسے ورنہ پھر سے واپس آ جائے گا کسی بہانے سے۔۔۔دادو نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔تو منال اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

منال کمرے میں گئی تو ابھی کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ بند ہونے کی آواز پر واپس مڑی۔۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے دروازہ بند کیے کھڑا تھا۔۔۔۔!!!!!

منال پہلے ہی حنان کی نظروں سے پزل سی ہو رہی تھی۔۔اب تو اس کی گھبراہٹ مزید بڑھ گئی۔۔۔وہ الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔کون سے کپڑے نکالوں آپ کے منال گھبراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!

اس کے الفاظ اس کا ساتھ نہی دے رہے تھے۔۔۔گھبراتے ہوئے وہ ایک ایک ہینگر الٹ پلٹ کر کے واپس رکھی جا رہی تھی۔۔۔!!!!

حنان نے پیچھے سے آ کر الماری بند کر دی۔۔منال جلدی سے پیچھے ہٹی۔۔۔اور الماری سے جا لگی۔۔۔۔حنان نے اس کے فرار کے سارے راستے بند کر دئیے۔۔۔اب وہ منال کی دونوں طرف ہاتھ رکھے اسے جانے سے روکے ہوئے تھا۔۔۔۔!!!!

منال پسینے سے شرابور ہونے لگ پڑی۔۔۔حنان نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا اور مسکرا کر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔!!!!

حنان پیچھے ہٹا تو منال نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔!!!!!!!

منال دوبارہ الماری کی طرف بڑھی۔۔۔نہی منال مجھے چینج نہی کرنا ابھی آفس جانا ہے۔۔۔آو نیچے چلتے ہیں کھانا کھانے۔۔۔میں تو بس تمہیں میڈیسن کھلانے آیا تھا۔۔۔۔!!!!

منال مسکرا دی۔۔۔یہ رکھو فون اپنے پاس ہی رکھنا میں کال کرتا رہوں گا۔۔منال نے فون تھام لیا۔۔اور دونوں مسکراتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔!!!!!!!!

حنان خود اپنی کیفیت نہی سمجھ پا رہا تھا۔۔وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔۔صبح والی بات یاد آنے پر ایک نظر ساتھ چلتی منال پر ڈالی اور خود ہی مسکرا دیا۔۔۔!!!!!!!

سامنے سے کمرے سے باہر نکلتی ماہم نے یہ منظر دیکھا تو دل میں ایک درد سا اٹھا۔۔۔کاش تم میرا نصیب ہوتے حنان۔۔دل ہی دل میں سوچتی نیچے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!

حیدر نے جب منال اور حنان کو مسکراتے ہوئے ایک ساتھ آتے دیکھا تو دادو کے کان میں سرگوشی کرنے لگ پڑا۔۔۔دادو دیکھیں حنان نے کپڑے چینج نہی کیا۔۔یہ تو بس بہانہ تھا۔۔اصل بات کوئی اور تھی۔۔۔!!!!!!!!!!

اللہ خوش رکھے میرے بچوں کو دادو نے دل سےدعا دی۔۔۔۔۔ہٹ پیچھے تجھے شرم نہی آتی کیسی باتیں کرتا ہے دادی کے ساتھ۔۔۔تیرا بھی پتہ لگ جائے گا۔۔۔وقت آنے دے تیرا۔۔دادو نے الٹا اسے ہی سنا دیں۔۔۔۔!!!!!

حیدر کانوں میں انگلیاں ڈالتے واپس اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔اور کھانے سے انصاف کرنے لگ پڑا۔۔۔۔!!!!!!!!!

باقی سب لوگ بھی کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے۔۔لیکن حیدر کہاں چپ رہنے والا تھا۔۔۔حنان تم تو کپڑے چینج کرنے گئے تھےنا۔۔۔!!!

حیدر کی بات پر حنان کا نوالہ گلے میں اٹک گیا۔۔۔منال نے جلدی سے پانی کا گلاس حنان کی طرف بڑھایا۔۔۔حیدر مسکرا دیا۔۔۔!!!

وہ ایکچولی مجھے آفس سے کال آ گئی تھی۔۔۔واپس جانا ہے اسی لیے چینج نہی کیا میں نے حنان حیدر کو گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!

سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔سوائے ماہم کے۔۔۔!!!!

کھانا کھانے کے بعد حنان میڈیسن منال کو کھلا کر آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *