Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 31)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

حنان کو سانیہ تو کبھی نظر نہی آئی۔۔نظر آتی بھی کیسے وہ وہاں ہوتی تو نظر آتی ناں۔۔۔۔ البتہ اسے اکثر منال نظر آتی کسی نا کسی کے ساتھ گھر سے آتے جاتے۔۔۔۔کبھی وہ فہیم کے ساتھ ہوتی۔۔۔۔!!!!!

کبھی اپنے والد کے ساتھ تو کبھی لڑکیوں کے ساتھ۔۔۔۔بعد میں حنان کو پتہ چلا کہ سانیہ تو ہہاں رہتی ہی نہی۔۔۔فہیم نے اسے الگ گھر میں رکھا ہوا ہے۔۔۔۔۔!!!!!

حنان جب جب فہیم کو دیکھتا۔۔۔اس کے دل میں بدلے کی آگ جلتی۔۔۔۔وہ فہیم سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔۔۔مگر کیسے اسے یہ سمجھ نہی آتا تھا۔۔۔!!!!!!!!!!!!

آخر کار ایک سال بعد اس کے زہن میں بدلہ لینے کا زریعہ سمجھ آ ہی گیا۔۔۔۔اور وہ زریعہ تھا منال۔۔۔۔!!!!!!

اور منال کے بابا اسے کالج کے باہر چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔تو حنان پہنچ گیا وہاں۔۔۔اسے اپنے گارڈز کی مدد سے وہاں سے اپنے ساتھ لے آیا۔۔۔اور زبردستی نکاح کر لیا اس کے ساتھ۔۔۔!!!!!

اور نکاح کرنے کے بعد اسے اس کے گھر لے کر گیا۔۔۔تا کہ فہیم کے چہرے پر شکست دیکھ سکے۔۔۔اور اس دن حنان جیت چکا تھا۔۔۔بدلے کی آگ میں وہ ایک معصوم لڑکی کے جزبات سے کھیل گیا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

وہ منال کو ازیت دینے کی کوشش کرتا لیکن ایسا کر نہی پاتا تھا۔۔۔اگر کبھی اس کو ازیت دے بھی دیتا تو۔۔۔اس سے زیادہ خود ازیت میں مبتلا ہو جاتا۔۔۔۔آہستہ آہستہ وہ منال کے قریب ہوتا چلا گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

اور اسے اپنی زیادتیوں پر پچھتاوا ہونے لگا۔۔۔لیکن سب سے بڑی رکاوٹ تھی ہانی۔۔۔۔جب تک حنان احد تک نہ پہنچ جاتا۔۔۔تب تک اسے ہانی کو کسی طرح یہاں روک کر رکھنا تھا اپنے گھر میں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!

اور پھر ماہم آ گئی۔۔۔۔اور ہانی اور ماہم مل کر حنان کی زندگی میں مشکلات پیدا کرتیں۔۔۔اس سے پہلے ہی حنان ہانی کے بھائی تک پہنچ گیا۔۔۔اور اسے اغوا کروا لیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

جب اس کے پییرنٹس کو پولیس نے گرفتار کیا تو یہ خبر فوراً ہانی تک پہنچ گئی۔۔۔اور اس سے پہلے کہ حنان گھر پہنچتا ہانی ماہم کو ساتھ لیے وہاں سے فرار ہو گئی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

کچھ دیر ڈرائیو کرنے کے بعد حنان نے گاڑی روک دی۔۔حیدر بھی گاڑی سائیڈ پر روک کر گاڑی سے باہر نکل آیا۔۔۔اب کیا کرنا ہے حنان ہم یہاں کیوں رکے ہیں۔۔۔حیدر گاڑی سے باہر نکلتے ہی بول پڑا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

یہاں سے آگے ہمیں پیدل جانا پڑے گا۔۔حنان اپنا فون کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!

لیکن ہم جا کہاں رہے ہیں۔۔۔حیدر کو حنان کی کسی بات کی سمجھ نہی آ رہی تھی۔۔۔۔!!!!!!

بس یہ سمجھ لو کہ ہم اپنی منزل کے بہت قریب ہیں۔۔۔اب بنا شور کیے چلتے رہو میرے ساتھ۔۔کہتے ہوئے حنان چل پڑا۔۔۔۔!!!!!!!

دونوں چلتے چلتے ایک پرانی عمارت کے پاس پہنچ گئے۔۔حنان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اس عمارت کے پچھلی سائیڈ گاڑی کھڑی دیکھ کر۔۔۔۔۔!!!!!!!

حیدر تم یہی رہو گے جب تک میں واپس نہی آ جاتا۔۔۔کہتے ہوئے حنان آگے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!!

حیدر وہیں دیوار کے پیچھے چھپ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔اسے ابھی تک نہی سمجھ آئی حنان کر کیا رہا ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان عمارت کے اندر داخل ہو گیا۔۔۔اور ایک ایک منزل کا جائزہ لینے لگ پڑا چھپ چھپ کر۔۔۔جب حنان چھٹی منزل کی سیڑھیوں کے پاس پہنچا تو اسے ایک آدمی کی آواز آئی۔۔۔!!!!!!!!!!

وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔کچھ دیر حنان وہی رکا رہا۔۔۔وہ اس بات کا اندازہ لگا رہا تھا کہ کتنے آدمی ہیں ہانی کے ساتھ۔۔۔۔!!!!!!!!!!

چند پل ہی گزرے ہو گے کہ حنان کے کانوں میں ہانی کی آواز پڑی۔۔۔۔جاو کچھ کھانے کو لے آو۔۔۔صبح کا ناشتہ کیا ہوا ہے۔۔۔اب بھوک سے برا حال ہوا جا رہا ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!

ہانِی کی آواز پر حنان تیزی سے سیڑھیوں سےنیچے اتر کر پانچویں منزل میں چھپ گیا۔۔۔جیسے ہی اسے وہ آدمی سیڑھیاں اترتے دکھائی دیا۔۔۔۔حنان نے جلدی سے حیدر کو فون ملایا۔۔۔۔!!!!!!!

اور اسے جلدی سے وہاں سے ہٹنے کو کہا۔۔۔حیدر گاڑی کے پاس سے ہٹ کر دوسری دیوار کے پیچھے چھپ گیا۔۔۔جیسے ہی اسے گاڑی سٹارٹ ہونے کی آواز آئی۔۔۔تو وہ تیزی سے اندر کی طرف بڑھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان اب حیدر کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔جیسے ہی حیدر اوپر آیا۔۔۔وہ دونوں اوپر کی طرف بڑھ گئے۔اور اندر داخل ہو گئے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

ہانِی کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں حنان اور حیدر کو سامنے دیکھ کر۔۔۔۔!!!!!!!

وہ تیزی سے اپنے بیگ کی طرف لپکی۔۔۔لیکن اس سے پہلے ہی حنان تیزی سے اس کی طرف بڑھ کر اس کے سر پر گن تان چکا تھا۔۔۔۔ہینڈز اپ۔۔۔۔حنان اس کے سر پر گن رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!!

حیدر نے جلدی سے آگے بڑھ کر ماہم کو رسیوں سے آزاد کیا۔۔۔ماہم نے آگے بڑھ کر ہانی کو تھپڑ رسید کیا۔۔لعنت ہے تم جیسی دوست پر۔۔۔مجھے شرم آ رہی ہے خود پر۔۔کہ میں نے تم جیسی گھٹیا لڑکی پر بھروسہ کیا۔۔۔۔!!!!!!!!!

حیدر نے آگے بڑھ کر ماہم کو ہانی سے دور کیا۔۔۔۔ماہم رک جاو۔۔۔اس کو تو پولیس پوچھے گی اب۔۔اس کی ہمت کیسے ہوئی تمہارے ساتھ ایسا کرنے کی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

حیدر رسی اٹھاو۔۔۔اور اس کے ہاتھ باندھو۔۔۔حنان نے حیدر سے کہا تو وہ تیزی سے رسی لے کر ہانی کے ہاتھ پیچھے باندھنے لگا۔۔!!!!!!!!!!

ہانِی خونخوار نظروں سے حنان کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔یہ مت سمجھنا میں ہار گئی۔۔۔بہت جلد واپس آوں گی میں تم سے بدلہ لینے۔۔۔۔ملک حنان۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

اس کی بات پر حنان ہنس پڑا۔۔۔۔ہاں ہاں ضرور شوق سے آنا۔۔میں انتظار کروں گا۔۔۔ویل سرپرائز کیسا لگا بے بی کو پوچھوں گی نہی کیسے پہنچا میں تم تک۔۔۔!!!!!!!!

حنان نے آگے بڑھ کر اس کے گلے سے ایچ والا لاکٹ اتار کر ہانی کے سامنے لہرایا۔۔۔۔اور ہنس دیا۔۔یہ گفٹ بہت پیار سے لایا تھا میں تمہارے لیے۔۔کیونکہ مجھے پتہ تھا یہ نوبت آ سکتی ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!

اس میں چھوٹی سی لوکیشن ڈیوائس تھی جو میرے فون سے کنکٹیڈ تھی۔۔۔!!!!!!!

ہانی خونخوار نظروں سے حنان کی طرف دیکھتی کبھی تو کبھی اس لاکٹ کی طرف۔۔۔اس کے لالچ نے آج اسے شکست دکھا دی تھی۔۔۔۔وہ سوچ بھی نہی سکتی تھی کہ یہ عام لاکٹ نہی۔۔بلکہ ایک ڈیوائس ہے۔۔۔۔!!!!!!!!!!

اوہ۔۔۔شاک لگا۔۔۔حنان لاکٹ اپنی پاکٹ میں رکھتے ہوئے ہانی کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ڈونٹ وری ابھی اور بھی بہت سے شاک لگے گے تمہیں۔۔۔۔چلو تمہیں تھانے کی سیر کروا دوں۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان اسے بازو سے کھینچتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔حیدر نے ہانی کا بیگ اٹھا لیا۔۔۔۔اور ماہم کو ساتھ لیے نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

گاڑی کے پاس پہنچ کر حنان نے دروازہ کھول کر ہانی کو گاڑی میں بٹھایا اور حیدر کی طرف بڑھا۔۔۔تم ماہم کو لے کر گھر پہنچو میں اسے پولیس کے حوالے کر کے گھر آتا ہوں۔۔۔۔۔!!!!!!!

حیدر نے ہانی کا بیگ حنان کی طرف بڑھایا۔۔۔تو ماہم بول پڑی۔۔وہ میرا فون ہے اس میں۔۔۔۔ماہم ہچکچاتے ہوئے بولی۔۔۔وہ حنان سے نظریں نہی ملا پا رہی تھی۔۔۔!!!!!!!

حنان نے بنا اس کی طرف دیکھے بیگ میں سے فون نکال کر ماہم کی طرف بڑھا دیا۔۔۔اور بیگ پچھلی سیٹ پر پھینک کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔۔!!!!!!

جب ماہم اور حیدر گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔حیدر نے گاڑی واپس موڑی۔۔۔تو حنان نے بھی گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔!!!!!!!

ماہم اور حیدر گھر چلے گئے جب کہ حنان ہانی کو لے کر تھانے پہنچا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔۔۔۔!!!!!!!!

ہانی نے حنان کو آواز دی۔۔۔حنان اس کے پاس گیا تو ہانی ہنس دی۔۔۔حنان کو اس کا ایسی سیچوایشن میں ہنسنا عجیب لگا۔۔۔۔کیا مسلہ ہے اب حنان غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

کچھ نہی کچھ نہی۔۔۔۔جاو گھر جاو۔۔۔ہانی آنکھ دباتے ہوئے بولی۔۔۔تو حنان وہاں سے چل پڑا۔۔۔۔جب کہ لیڈیز کانسٹیبل نے ہانی کو جیل میں بند کر دیا۔۔۔!!!!!!!!

جاو جاو جلدی گھر پہنچو۔۔۔۔ملک حنان گھر پر تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔۔۔کہ کر ہانی قہقہ لگا کر ہنس پڑی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان نے سب سے پہلے اپنے آدمیوں کو فون کر کے ارسلان کو چھوڑنے کا کہا اور گاڑی ہاسپٹل کی طرف موڑ دی۔۔۔!!!!!!

احد سے ملا اور ارسل اور زوہان کو ہانی کی گرفتاری کی خبر سنائی تو وہ تینوں بہت خوش ہوئے۔۔۔اب وہ تینوں احد کو ساتھ لیے اس کے گھر کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔!!!!!!!!!!

احد گھر میں داخل ہوا۔۔۔تو اس کے گھر والے تو جیسے سکتے میں آ گئے اسے دیکھ کر۔۔۔۔اس کی ماما جلدی سے احد کی طرف بڑھیں اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔!!!!!!!

سب کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ماں بیٹے کے اس ملن پر۔۔۔۔احد کے گھر والوں نے حنان کا شکریہ ادا کیا۔۔۔کیونکہ حنان نے بہت محنت کی تھی اس کام کو سر انجام دینے میں۔۔۔اس نے ہار نہی مانی تھی۔۔۔اور آخر کار اپنی منزل تک پہنچ گیا تھا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان ان سب سے مل کر خدا حافظ کہتے ہوئے اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!!

گھر پہنچا تو دادو، مام، بڑی ماما، حیدر،ماہم اور بڑے پاپا۔۔۔سب اسے ٹی وی لاونج میں بیٹھے دکھائی دئیے سوائے منال کے۔۔۔۔!!!!!!!!

حیدر ماہم کو لے کر گھر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔شکر ہے کہ گھر میں کسی کو پتہ نہی چلا اس حادثے کا۔۔۔حیدر نے گھر آ کر کہا کہ وہ ماہم کو ساتھ لے کر گیا تھا باہر۔۔۔۔اس لیے کسی نے کوئی سوال ہی نہی کیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان دل میں منال کا تصور لیتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھا۔۔۔تب ہی مام نے اسے آواز دی۔۔۔حنان لنچ ریڈی ہے بیٹا۔۔۔منال کو بھی لے آو نیچے اور خود بھی آ جاو۔۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔کمرے میں گیا تو منال کمرے میں نہی تھی۔۔۔حنان نے سوچا شاید واش روم میں ہو۔۔۔آگے بڑھ کر دیکھا تو واش روم کا دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!

پھر حنان سٹڈی روم کی طرف بڑھا۔۔۔لیکن منال وہاں بھی نہی تھی۔۔۔۔منال نیچے بھی نہی تھی اور کمرے میں بھی نہی۔۔۔۔حنان تیزی سے نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔۔باہر بھی دیکھ لیا ہر جگہ منال باہر بھی نہی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

حنان دوبارہ اندر آیا۔۔۔۔۔۔مام۔۔۔منال کہاں ہے۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟

حنان کے سوال پر سب نے حیران کن نظروں سے حنان کی طرف دیکھا۔۔۔۔!!!!!

اپنے کمرے میں ہو گی حنان اور کہاں ہو گی۔۔۔تم بھی نا بچوں جیسے سوال پوچھتے ہو۔۔۔مسز ملک مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔۔۔آج صبح ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر ہی نہی آئی۔۔۔۔۔!!!!!!!

نہی مام۔۔۔منال کمرے میں نہی ہے۔۔۔اور نا ہی باہر میں نے پورے گھر میں دیکھ لیا ہے اس کو۔۔۔۔حنان کی بات پر سب اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔۔!!!!!!!

ایسا کیسے ہو سکتا بیٹا ٹھیک سے دیکھو اوپر ہی ہو گی منال۔۔۔شاید مزاق کر رہی ہو تمہارے ساتھ۔۔۔جاو میرا بیٹا دوبارہ دیکھو کمرے میں۔۔۔۔ہم سب بھی نیچے دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

بڑے پاپا کی بات پر حنان دوبارہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔لیکن اسے منال کہی نظر نہی آئی۔منال یہاں ہوتی تو نظر آتی نا۔۔۔۔۔!!!!!!!

حنان کی نظر ٹیبل پر پڑی۔۔۔منال کا فون اور اس کے ساتھ ایک پیج پڑا تھا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان نے پیج اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا۔۔۔۔!!!!!

مِیں جانتی ہوں۔میں جو کرنے جا رہی ہوں غلط ہے۔۔لیکن میں خود غرض نہی بن سکتی۔۔۔آپ کی خوشی مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے۔۔۔آپ نے مجھ سے نکاح میرے بھائی سے بدلہ لینے کے لیے کیا۔۔مجھے اپنے ساتھ رکھنا آپ کی مجبوری بن چکا ہے۔۔آئی ایم سوری میرے بھائی کی وجہ سے آپ کی زندگی میں مشکلات آئیں۔۔۔ان کی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں۔ہو سکے تو میرے بھائی اور اپنی بہن کو معاف کر دینا آپ۔۔۔۔اور اپنی خوشیوں کو پھر سے آباد کر لینا آپ۔۔۔۔اپنی محبت کو حاصل کر کے۔۔۔ماہم سے شادی کر لینا آپ۔۔۔میری وجہ سے آپ کی محبت آپ سے دور ہوئی۔۔۔شاید مجھے کبھی پتہ نہی چلتا اگر ہانی مجھے نہی بتاتی۔۔۔اگر مجھے وہ یہ ویڈیو نا دکھاتی تو۔۔۔۔میں نہی چاہتی آپ میرے ساتھ ساری زندگی مجبور بن کر گزار دیں۔۔۔آپ کا ہارنا مجھے پسند نہی۔۔۔اسی لیے خود کو ہار رہی ہوں میں۔۔۔۔۔۔ہو سکے تو معاف کر دینا آپ مجھے۔۔آپ کی منال۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!

سارا پیج پڑھ کر حنان نے جلدی سے فون اٹھایا۔۔۔اس پر جو ویڈیو سامنےچل رہی تھی۔۔۔حنان کو لگا جیسے اس میں جان ہی نہی رہی۔۔۔فون اس کے ہاتھ سے نیچے گر گیا۔۔۔وہ لڑکھراتے ہوئے زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔۔نہی منال تم مجھے چھوڑ کر نہی جا سکتی۔میں ختم کر دوں گا سب کچھ۔۔ حنان نے شیشے کا ٹیبل اٹھا کر غصے سے دیوار میں دے مارا۔۔۔ہر طرف شیشہ بکھر گیا۔۔۔۔وہ پیج اور فون اٹھاتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔!!!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *