Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 12)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

ہانی بھی وہاں آ گئی۔۔۔لیکن سب کے ساتھ احسن کو بیٹھے دیکھ کر وہیں سے واپس پلٹ گئی۔۔۔احسن کی اس پر نظر پڑ چکی تھی۔۔۔چچی جان یہ لڑکی کون ہے۔۔۔!!!

کون۔۔۔مسز ملک نا سمجھی میں بولی۔۔۔اوہ اچھا تم ہانی کی بات کر رہے ہو گے۔۔۔۔یاد آنے پر بولیں۔۔وہ حنان کی دوست ہے۔۔۔کل رات کو آئی ہے لندن سے۔۔۔!!!!!

اوہ اچھا۔۔۔احسن بس اتنا ہی بول سکا۔۔۔۔!!!!

اسی طرح باتیں کرتے کرتے دن بیت گیا۔۔۔لنچ کرنے کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔منال دادو کے ساتھ ان کے کمرے میں ہی چلی گئی۔۔۔۔ملک صاحب اور حنان نہی آ سکے ضروری میٹنگ کی وجہ سے۔۔۔۔۔!!!!!

شام کو حنان گھر آیا تو ہانی اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔حنان ابھی آ کر بیٹھا ہی تھا کہ ہانی آ گئی۔۔۔ہائے ہنی۔۔۔کیسا گزرا آج کا دن۔۔۔!!!

ہمم گڈ۔۔تم سناو حنان مصروف سا بولا۔۔۔نتھنگ سپیشل۔۔۔سو بورنگ۔۔۔۔ہانی صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!

کیوں کیا ہوا۔۔۔؟؟ حنان نے پوچھا۔۔۔۔؟؟

کچھ نہی وہ تمہارا فضول سا کزن۔۔۔اس نے صبح صبح موڈ خراب کر دیا میرا۔۔۔!!!!

احسن کی بات کر رہی ہو تم۔۔۔؟؟؟ چھوڑوں اس کو وہ ہے ہی ایسا۔۔۔۔۔!!!

میں تیار ہو کر آتی ہوں۔۔۔پھر کہی چلتے ہیں کھانا ہم باہر سے کھا لیں گے۔۔۔۔ہانی کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔!!!!

حنان کو عجیب سی بے چینی گھیرے ہوئے تھی۔۔۔اسے منال نظر نہی آئی کمرے میں۔۔۔یہی بات اسے بے چین کیے ہوئے تھی۔۔۔وہ ٹائی کھول کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!

دادو کے کمرے میں گیا تو منال دادو کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔۔منال تم یہاں بیٹھی ہو میں کب سے آ گیا ہوں آفس سے۔۔۔کوئی زمہ داری ہے کہ نہی تمہاری۔۔۔کب سے ویٹ کر رہا ہوں تمہارا۔۔۔!!!

کمرے میں داخل ہوتے ہی حنان منال پر برس پڑا۔۔۔اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو۔۔۔پانی لے کر آو میرے لیے اوپر جا رہا ہوں میں۔۔۔۔!!!!

جی میں لے کر آتی ہوں۔۔۔منال بولی تو حنان اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!

منال دادو کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔۔۔۔دونوں ہنس دیں۔۔۔۔دیکھا میں نے کہا تھا نا آئے گا تمہارے پیچھے پیچھے۔۔۔آ گیا نا۔۔۔۔دادو ہنستے ہوئے بولیں۔۔!!!!!

میاں بیوی کا رشتہ ہی ایسا ہے۔۔۔حنان کو بے چینی سی لگ گئی تمہیں کمرے میں نا دیکھ کر۔۔۔اسی لیے ڈھونڈتے ہوئے آ گیا نیچے۔۔۔۔اب جاو یہ نا ہو دوبارہ آ جائے۔۔۔!!!!

جی دادو میں چلتی ہوں۔۔منال مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔اسے دادو نے ہی روکا ہوا تھا اپنے کمرے میں۔۔۔یہ دیکھنے کے لیے کہ حنان کو اس کی فکر ہوتی ہے یا نہی۔۔۔۔!!!!!

منال نے پانی کا گلاس لے جا کر حنان کے سامنے رکھ دیا۔۔۔حنان نے گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔۔۔آئیندہ جب میں گھر آوں۔۔تو مجھے تم کمرے میں نظر آو۔۔۔۔!!!!!

جی کہتے ہوئے منال الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔حنان کے کپڑے نکالنے کے لیے۔۔۔!!!!!

تب ہی ہانی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔چلیں ہنی۔۔۔میں تیار بھی ہو کر آ گئی تم ابھی تک یہی بیٹھے ہو۔۔۔۔۔!!!!!

ہانی نے منال کو نہی دیکھا تھا ابھی۔۔۔۔!!!!!!

کہاں جانے کی بات ہو رہی ہے۔۔۔۔منال سامنے آتے ہوئے بولی۔۔۔!!!

حنان تو حیران ہی رہ گیا منال کے سوال پر۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

تم سے مطلب ہم کہی بھی جائیں۔۔۔تم اپنے کام سے کام رکھو سمجھی۔۔۔ہانی غصے سے منال سے بولی۔۔۔۔۔!!!!

ابھی ابھی تو یہ آئے ہیں آفس سے ان کو تھوڑا ریسٹ تو کرنے دیں۔۔۔کل سنڈے ہیں کل چلے جانا آپ لوگ۔۔۔بلکہ سب مل کر جانے والے ہیں کل۔۔۔احسن بھائی نے پلان بنایا ہے آوٹنگ کا۔۔۔منال نے بہت دھیمے لہجے میں ہانی کو جواب دیا۔۔۔۔۔!!!!

حنان سنا تم نے تمہاری بیوی کیا کہ رہی ہے۔۔؟؟؟ مجھے تمہارے ساتھ جانے سے روک رہی ہے۔۔۔اب میں کہیں نہی جانے والی۔۔ہانی ناراض ہوتے ہوئے کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔!!!!!

ہانی رک جاو یار چلتے ہیں۔۔۔ویٹ میں چینج کر کے آ رہا ہوں۔۔۔۔حنان نے آواز دی لیکن وہ نہی رکی۔۔۔۔!!!!!

منال تمہارا مسلہ کیا ہے۔۔۔کیوں تم نے ایسا کہا ہانی کو۔۔۔۔تم ہوتی کون ہو میرے معاملے میں بولنے والی۔۔۔حنان الٹا منال پر تپ گیا۔۔۔!!!!!

میں نے کچھ غلط تو نہی کہا۔۔۔۔آپ ابھی ابھی آئے ہیں آفس سے۔۔۔آپ کو آرام کی ضرورت ہے۔۔۔منال نے دھڑلے سے جواب دیا۔۔۔اس سے پہلے کہ حنان کچھ کہتا منال کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔!!!!

حنان چینج کرنے کے بعد ہانی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔ہانی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی منہ پھلائے۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔ ہانی چلو چلتے ہیں۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!

ہانی نے خونخوار نظروں سے حنان کی طرف دیکھا۔۔۔مجھے کہیں نہی جانا تم جاو یہاں سے۔۔اکیلا چھوڑ دو مجھے۔۔۔جاو اپنی بیوی کے پاس۔۔ہانی غصے سے بولتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔!!!!!

اچھا نا یار چھوڑو اسے۔۔اس کی وجہ سے مجھ سے تو ایسے بی ہیو مت کرو۔۔۔چلو اب۔۔۔ارسل اور زوہان کو بھی سرپرائزڈ کرنا ہے۔۔۔!!!!

تمہیں اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔چلو نا۔۔!!!! حنان اس کے سامنے آتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!

نہی ایک بار کہ دیا نا کہ نہی جانا تو نہی۔۔۔۔جاو یہاں سے مجھے تنگ مت کرو۔۔۔۔ہانی منہ موڑتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!

پلیز پلیز پلیز۔۔۔۔حنان اس کی آگے آتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!

ٹھیک ہے چلتی ہوں۔۔۔لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔ہانی تلخ لہجے میں بولی۔۔۔۔!!!!

کیا شرط ہے۔۔۔۔؟؟؟؟حنان کندھے اچکاتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔!!!!!!

اپنی بیوی سے کہو مجھ سے معافی مانگے۔۔۔۔۔ہانی حنان کی طرف پلٹتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!

کیا۔۔۔۔؟؟؟ حنان کو جیسے شاک لگا۔۔۔!!!!

کیوں نہی مانگ سکتی وہ معافی مجھ سے۔۔۔۔اس نے مجھے ہرٹ کیا ہے۔۔۔میرا موڈ اس کی وجہ سے خراب ہوا ہے۔۔۔۔اسی لیے اسے مجھ سے معافی مانگنی پڑے گی۔۔۔۔!!!

ہانی تم بلاوجہ بات کو بڑھا رہی ہو۔۔۔اگنور کرو یار۔۔اس نے تو بس اتنا ہی کہا کہ ہم کل چلے جائیں۔۔سب کے ساتھ۔۔اس نے مجھے منع تو نہی کیا تمہارےساتھ جانے سے۔۔۔تم غلط سمجھ رہی ہو۔۔۔!!!

کیا کہا تم نے حنان میں غلط سمجھ رہی ہوں۔۔۔اس نے صاف صاف کہا کہ میں تمہارے ساتھ نہی جا سکتی۔۔کل سب کے ساتھ جاوں۔۔۔اور تم کہ رہے ہو کہ اس نے مجھے منع نہی کیا۔۔۔!!!

یہ کہوں کے تم اپنی بیوی کے غلام بن چکے ہو۔۔اس کے اشاروں پر چلتے ہو۔۔۔اگر تم نے اسے ٹوکا ہوتا تو اس کی ہمت نہ بڑھتی کچھ بھی بولنے کی۔۔۔۔ہانی تلخ لہجے میں بولی۔۔۔۔!!!!!

اٹس انف ہانی۔۔۔۔بس کر دو۔۔۔چلو میرے ساتھ حنان اسے بازو سے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا۔۔۔منال کچن میں کھڑی رائتہ بنا رہی تھی۔۔۔تب ہی حنان ہانی کو بازو سے کھینچتے ہوئے کچن میں داخل ہوا۔۔۔۔!!!!!

منال کے سامنے آ رکا۔۔۔منال سوری بولو ہانی کو۔۔۔۔!!!!! منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

منال تو حیران رہ گئی حنان کی بات پر۔۔۔۔وہ کبھی حنان کو دیکھتی تو کبھی ہانی کو۔۔۔۔میں کس بات کے لیے سوری بولوں۔۔۔آخر کار ہمت کر کے منال بول پڑی۔۔۔۔!!!!!

جتنا بولا ہے اتنا کرو۔۔۔سوری بولو جلدی۔۔۔حنان کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔!!!!

میں سوری نہی بولوں گی۔۔۔منال کا بس اتنا کہنا تھا کہ حنان کا ہاتھ اٹھا اور منال کے گال پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔!!!!

سوری بولو جلدی۔۔۔۔حنان پھر سے بولا۔۔۔!!!!

آئی ایم سوری۔۔۔منال بس اتنا بول سکی اور تیزی سے وہاں سے باہر نکل گئی۔۔۔ایک نظر ہانی پر ڈالتے ہوئے۔۔۔اس کے چہرے پر جیت کی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔!!!!

منال وہاں سے بھاگتے ہوئے اسی کمرے میں چلی گئی۔۔۔جہاں اسے پہلے دن لا کر بند کیا گیا تھا۔۔۔اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔۔۔بنا لائٹ جلائے۔۔۔۔آج اسے اندھیرے سے ڈر نہی لگ رہا تھا۔۔۔!!!!

ملازموں کے سامنے اس کے شوہر نے اس کی جو تزلیل کی تھی۔۔اسے اس کی اوقات یاد کروا دی تھی اسے۔۔کہ منال کی حیثیت اس کی زندگی میں بس کاغذات کی حد تک تھی۔۔۔۔!!!!

احسن دیکھ چکا تھا منال کو اس کمرے کی طرف جاتے ہوئے۔۔۔منال کو کیا ہوا۔۔۔وہ تیزی سے اس کمرے کی طرف بھاگا۔۔۔اور دروازہ ناک کیا۔۔۔۔۔منال دروازہ کھولو۔۔۔کیا ہوا۔۔۔!!!!

احسن کافی دیر تک دروازہ ناک کرتا رہا لیکن منال نے دروازہ نہی کھولا۔۔۔آخر کار تھک کر احسن واپس چلا گیا۔۔۔باہر گیا تو مسز ملک کو ایک ملازمہ بتا رہی تھی کہ احسن نے منال کو سب کے سامنے تھپڑ مارا ہے۔۔۔۔اور ہانی سے معافی مانگنے کو کہا ہے۔۔۔!!!!!

اب کہاں ہیں حنان مسز ملک غصے میں آ چکی تھیں۔۔۔وہ ملازمہ سے پوچھ رہی تھیں۔۔۔۔!!!!!

اب تو وہ چلے گئے ہیں۔ہانی میڈم کے ساتھ ملازمہ نے جواب دیا۔۔۔!!!

اچھا تم جاو کام کرو۔۔۔اس کو پوچھ لوں گی میں۔۔۔منال کو دیکھ لوں میں زرا کہتے ہوئے مسز ملک اوپر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔!!!!

احسن کو بہت غصہ آیا حنان کی اس حرکت پر۔۔۔وہ دوبارہ اسی کمرے کی طرف واپس گیا۔۔اسے ڈر تھا کہیں منال کچھ کر نہ لے خود کو۔۔۔اس نے پھر سے دروازہ ناک کیا۔۔۔!!!

دو تین بار ناک کرنے پر آخر کار منال نے دروازہ کھول دیا۔۔۔منال یہاں کیا کر رہی تھی۔۔میں کب سے دروازہ بجا رہا ہوں۔۔کیا ہوا رو کیوں رہی ہو۔۔احسن نے ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے۔۔۔۔!!!!!

کچھ نہی بس وہ میں کسی کام سے آئی تھی یہاں۔۔۔منال نے سائیڈ سے گزر کر وہاں سے نکلنا چاہا لیکن احسن نے آگے بڑھ کر اسے جانے سے روک دیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!

یہ حنان نے اچھا نہی کیا تمہارے ساتھ منال تم کیوں اس کے اتنے ظلم برداشت کر رہی ہو۔۔مجھے چچی جان نے سب بتا دیا ہے۔۔سب جان چکا ہوں میں تمہارے اور حنان کے رشتے کے بارے میں۔۔۔۔!!!!

منال اگر تم ساتھ دو تو میں تمہاری مدد کر سکتا ہوں۔۔۔حنان سے تمہیں طلاق دلوانے میں۔۔۔!!!!

کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ احسن بھائی۔۔۔۔منال کو جیسے کرنٹ لگا۔۔ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں آپ۔۔۔وہ میرے شوہر ہیں۔۔اللہ نے ان کو چنا ہے میرے لیے۔۔۔میں طلاق کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہی سکتی۔۔۔۔!!!

صرف نکاح کرنے سے کوئی شوہر نہی بن جاتا منال۔۔۔بیوی کے کچھ حقوق بھی ہوتے ہیں۔۔۔شوہر کی کچھ زمہ داریاں ہوتی ہیں۔۔۔یہ نہی کہ سب کے سامنے بیوی کو زلیل کرتے رہو۔۔۔!!!!

منال میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔پلیز۔۔۔۔میرا ساتھ دو۔۔۔۔میں تمہیں اس جہنم سے باہر نکال سکتا ہوں۔۔۔۔لیکن تب تک میں کچھ نہی کر سکتا جب تک تم نہ چاہو۔۔۔۔!!!!

نہی احسن بھائی میں ایسا کچھ نہی کرنا چاہتی پلیز آپ مجھے راستہ دیں۔۔۔مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے۔۔۔منال اس کی باتوں کو نظر نظر انداز کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!

ٹھیک ہے منال جاو۔۔۔لیکن ایک بات یاد رکھنا کبھی بھی میری مدد کی ضرورت ہو۔۔میں حاظر رہوں گا۔۔۔کاش میری باتیں تمہیں سمجھ آ جائیں۔۔۔۔کہتے ہوئے احسن پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔!!!!

منال تیزی سے چلتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔مسز ملک اسے سامنے سے آتے دکھائی دیں۔۔منال تم کہاں تھی۔۔۔میں اوپر بھی دیکھ کر آئی ہوں۔۔اماں جان کے کمرے میں بھی نہی تھی۔۔۔۔!!!!

ممی میں نیچے ہی تھی۔۔۔آپ کو کوئی کام تھا کیا۔۔۔میں کر دیتی ہوں۔۔۔۔منال ایسے ظاہر کر رہی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔۔!!!!!

نہی منال مجھے کوئی کام نہی تھا۔۔میں تو بس تم سے بات کرنا چاہتی تھی۔۔۔مسز ملک دکھ سے منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!

اوکے ممی مجھے دادو کو سوپ پلانا ہے پھر ملتے ہیں کھانے کی میز پر۔۔۔کہتے ہوئے منال کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!

مسز ملک بھی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ملک صاحب سے بات کرتی ہوں اس بارے میں۔۔۔سوچتے ہوئے وہ کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔۔!!!!

حنان ہانی کو بازو سے کھینچتے ہوئے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے باہر نکل گیا۔۔۔۔اس کا غصہ ابھی بھی ویسے کا ویسا ہی تھا۔۔۔ہانی نے اس سے کوئی بات نہی کی۔۔۔۔!!!!!

آخر کار ہانی بول پڑی۔۔۔ارے واہ ہنی تمہاری بیوی تو بہت ڈرتی ہے تم سے۔۔۔۔ایک تھپڑ پر ہی سوری بول ڈالا۔۔۔ہمممم خوب روب ڈال کر رکھا ہے تم نے اسے۔۔۔ویل ڈن۔۔۔ہانی ہنستے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!

حنان نے ایک دم گاڑی کو بریک لگائی۔۔۔اور خونخوار نظروں سے ہانی کی طرف دیکھا۔۔۔۔ہانی کیا ہم کوئی اور بات کر سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟

کیا یہ تم جب سے آئی ہو۔۔۔بیوی بیوی لگا رکھا ہے۔۔میں جانتا ہوں وہ میری بیوی ہے۔۔۔تم مجھے بار بار یاد مت کرواو۔۔۔کہ کر حنان نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔!!!

اس کی بات پر ہانی مسکرا دی۔۔۔ریلیکس ہنی۔۔۔پلیز اپنا موڈ ٹھیک کرو پلیز اب کیا ایسے ملواوں گے مجھے ارسل اور زوہان سے۔۔۔۔!!!!!!

اوکے تو چلو چلتے ہیں۔۔۔۔پارٹی کرتے ہیں۔۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *