Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 05)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

حنان اسے بازو سے کھینچتے ہوئے کمرے سے باہر لے گیا۔۔۔اور اوپر کی طرف بڑھا منال کو ساتھ کھینچتے ہوئے۔۔ایک کمرے کے سامنے جا کر رک گیا۔۔اور کمرے کا دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہو گیا۔۔۔!!

سامنے بیڈ پر ایک ادھیڑ عمر عورت لیٹی ہوئی تھی۔۔۔حنان کو اندر آتے دیکھ کر اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔حنان منال کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھا اور ان کو سہارا دے کر بٹھایا۔۔۔!!

اور ایک نظر منال پر ڈالی۔۔۔!! جانتی ہو یہ کون ہیں منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔؟؟؟

ؓمنال نے ڈرتے ڈرتے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔وہ عورت بھی منال کی طرف متوجہ ہوئیں۔۔۔!!

یہ میری دادو ہیں۔۔۔حنان سخت لہجے میں بولا۔۔اور جانتی ہو ان کی اس حالت کے زمہ دار کون ہیں۔۔۔؟؟تمہارا بھائی اور سانیہ۔۔۔!!

کیا ہوا سانیہ کو حنان کی دادو جلدی سے بولیں۔۔۔کچھ پتہ چلا سانیہ کا کہاں ہے میری بچی۔۔۔مجھے لے چلو حنان اس کے پاس۔۔۔!!

منال کو ان کی حالت پر بہت ترس آیا لیکن وہ بولی کچھ نہی۔۔۔آج اسے سمجھ آ چکی تھی کہ اس کے بھائی کی غلطی سے کتنے دل دکھے ہیں۔۔۔!!

دادو آپ ریلیکس ہو جائیں۔۔۔سانیہ بلکل ٹھیک ہے وہ بہت جلد آپ سے ملنے آئے گی۔۔۔حنان نرمی سے ان کے ہاتھ پر بوسہ دیتے ہوئے بولا۔۔۔!!

کیا سچ میں سانیہ مل گئی۔ ۔۔یا اللہ تیرا شکر ہے میری بچی سہی سلامت مل گئی۔۔۔!!

یہ لڑکی کون ہے حنان تمہاری دوست ہے کیا مجھے ملواو گے نہی اس سے۔۔۔منال کو سامنے کھڑے دیکھا تو بول پڑیں۔۔۔!!

جی کیوں نہی دادو ابھی ملواتا ہوں۔۔۔منال یہاں آو۔۔۔حنان منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو منال تیزی سے آگے بڑھی۔۔۔!!

اسلام و علیکم دادو۔۔۔منال نے ان کو سلام کیا۔۔۔وعلیکم اسلام انہوں نے بھی محبت سے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔۔۔بہت پیاری بچی ہے انہوں نے منال کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔!!

یہ آپ کی بہو ہے دادو۔۔۔مسز حنان ملک۔۔!! حنان نے کی بات پر انہیں شاک لگا۔۔۔کیا مطلب تم نے شادی کر لی حنان اور مجھے بتایا نہی۔۔۔وہ ناراض ہوتے ہوئے بولیں۔۔۔!!

اچھا مزاق کر لیتے ہو بہت شرارتی ہو گئے ہو تم آجکل بوڑھی دادی کے ساتھ اب ایسے مزاق کرو گے تم۔۔آنے دو تمہاری ماں کو ٹھیک کرواتی ہوں تمہیں میں وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔!!

اپنی کسی دوست کو میرے سامنے لا کر کہ رہے ہو کہ بیوی ہے میری۔۔۔میری آنکھیں ابھی اتنی کمزور نہی ہیں مجھے یونیفارم نظر آ رہا ہے اس کا۔۔۔!!

نہی دادو میں مزاق کیوں کروں گا میں نے واقعی اس سے نکاح کر لیا ہے کل رات۔۔۔!! جلدی جلدی میں بتانا یاد نہی رہا۔۔۔!!

لیکن اب بتا رہا ہوں نہ۔۔۔پلیز دادو آپ ناراض مت ہونا اب۔۔اس کو سیدھا کالج سے اٹھا کر لایا ہوں۔۔۔نکاح کرنے کے لیے۔۔۔اب یہ یہی رہے گی۔۔۔میری غلام بن کر۔۔۔!!

یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم حنان تمہارے ماں باپ کو پتہ چلے گا تو پتہ نہی کیا کرے گے تمہارے ساتھ تم اچھی طرح واقف ہو اپنے باپ کے غصے سے پتہ نہی کیا ہو گا جب اسے پتہ چلے گا کہ تم نے شادی کر لی ہے۔۔۔!!

نہی دادو شادی نہی صرف نکاح کیا ہے۔۔۔شادی تو میں آپ کی پسند کی لڑکی سے کروں گا اور بہت دھوم دھام سے کروں گا۔۔۔حنان منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا کہ منال کیسے ری ایکٹ کرتی ہے۔۔۔!!

منال کے چہرے پر کوئی ری ایکشن نہی تھا وہ چپ چاپ ویسے کی ویسے ہی کھڑی تھی۔۔۔وہ خود کو مکمل لا تعلق رکھے ہوئے تھی حنان کی بات سے۔۔۔!!

یہ کیسی باتیں کر رہے ہو حنان۔۔نکاح اس سے کیا ہے شادی کسی اور سے کرو گے۔۔۔مجھے تو تمہاری کسی بات کی سمجھ نہی آ رہی۔۔۔دادو بولیں۔۔!!

حنان مسکرا دیا ڈونٹ وری دادو بہت جلد پتہ چل جائے گا آپ کو فلحال اس بہو سے تو مل لیں آپ دوسری سے بھی جلدی ملاقات ہو گی آپ کی۔۔۔!!

منال نے ابھی بھی کوئی ری ایکشن نہی دیا حنان کی بات پر اور یہی بات حنان کو غصہ دلا رہی تھی وہ چاہتا تھا کہ منال روئے گی اس کی بات پر۔۔اسے تکلیف پہنچے گی لیکن منال نے ایسا کچھ نہی کیا۔۔۔!!

ٹھیک ہے دادو آپ آرام کریں۔۔۔میں زرا آپ کی بہو کو کمرے تک چھوڑ آوں اس کی طبیعت ٹھیک نہہی ہے۔۔۔!!

کیوں کیا ہوا بیٹا تمہاری طبیعت کو۔۔۔دادو منال کا جائزہ لیتے ہوئے بولیں۔۔۔کچھ نہی بس تھوڑا سا بخار تھا دادو اب ٹھیک ہے۔۔۔ان کو ناشتہ کر کے دوائی کھانی ہے اسی لیے کہ رہا ہوں۔۔۔اس سے پہلے کہ منال کوئی جواب دیتی حنان بول پڑا۔۔۔!!

چلیں حنان منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔تو منال اس کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔۔۔دادو وہی بیٹھی ان دونوں کو دیکھتے حیران رہ گئی یہ کیا ہو رہا ہے میری تو کچھ سمجھ میں نہی آ رہا۔۔۔!!

حنان دوبارہ منال کو اسی کمرے میں لے آیا اور اسے ناشتہ کرنے کو کہا منال چپ چاپ ناشتے کرنے کے لیے بیٹھ گئی۔۔۔حنان حیران تھا کہ منال نے اب کوئی ضد نہی کی۔۔۔!!

جب تک منال نے ناشتہ کر کے دوائی نہ کھا لی حنان وہی کھڑا رہا۔۔۔!!! جب منال ناشتہ کر چکی تو حنان نے اسے برتن اٹھانے کو کہا منال چپ چاپ برتن اٹھائے حنان کے پیچھے پیچھے چل پڑی۔۔۔!!

کچن میں پہنچ کر منال نے برتن کچن میں رکھ ۔دئیے۔۔۔میرے لیے ناشتہ بناو۔۔۔حنان نے کہا تو منال نے اسے ایسے دیکھا جیسے پتہ نہی کیا کہ دیا ہو اس نے۔۔۔!!

مممجھے کھانا بنانا نہی آتا۔میں نے کبھی کھانا نہی بنایا۔۔۔منال نظریں جھکائے ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔!!

مجھے کہانیاں مت سناو چپ چاپ جو کہا ہے کرو۔۔۔میں ویٹ کر رہا پانچ منٹ میں ناشتہ لے کر باہر پہنچو۔۔۔کہتے ہوئے حنان کچن سے باہر نکل گیا۔ ۔!!

تب ہی شبانہ کچن کے باہر مل گئی۔۔۔صاحب جی آپ کا ناشتہ ٹیبل پر لگا دیا ہے۔۔۔!!

ٹھیک ہے کہتے ہوئے حنان آگے بڑھ گیا۔۔۔حنان کی آواز منال کے کانوں تک پہنچ چکی تھی۔۔۔وہ جانتی تھی کہ حنان اس کے ہاتھ کا بنا ناشتہ نہی کھائے گا وہ تو بس اسے تکلیف پہنچانے کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے۔۔!!

خیر جو بھی ہو اب ناشتہ تو بنانا ہی تھا منال کو منال نے جلدی سے کیتلی میں پانی ڈال کر چائے کے لیے رکھا اور چائے بنانے لگ پڑی اور ساتھ آملیٹ اور بریڈ رکھ کر جلدی سے باہر کی طرف بڑھی۔۔۔!!

ناشتے کی ٹرے لے جا کر حنان کے سامنے رکھ دی۔۔۔ٹوٹا پھوٹا آملیٹ اور جلے ہوئے ٹوسٹ دیکھ کر حنان کو منال پر بہت غصہ آیا۔۔۔یہ ناشتہ ہے۔۔۔؟؟

وہ منال کی طرف بڑھا۔۔۔اور یہ چائے۔۔۔میں چائے نہی پیتا۔۔۔کافی پیتا ہوں وہ بھی شام کو ناشتے میں جوس پیتا ہوں میں۔۔۔چائے کا کپ منال کے سامنے کرتے ہوئے بولا۔۔۔اور اٹھا کر وہی کپ زور سے زمین پر پھینک دیا۔۔۔!!

گرم چائے منال کے پاوں پر گر گئی۔۔۔لیکن اسے اس وقت اس چائے کی جلن سے زیادہ حنان کے غصے سے ڈر لگ رہا تھا۔۔۔اس بیچاری نے تو کبھی گھر کا کوئی کام کیا ہی نہی تھا۔۔۔۔!!

جو اسے جلدی جلدی میں سمجھ میں آیا اس نے بنا دیا۔۔۔اب اسے کیا پتہ تھا کہ حنان کو چائے نہی جوس پسند ہے۔۔اسے کوئی بتاتا تو پتہ چلتا اسے۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔منال ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔!!

آئیندہ میں خیال رکھو گی۔۔۔مجھے نہی پتہ تھا کہ آپ کو چائے نہی جوس پسند ہے۔۔۔منال کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔۔۔وہ بہت مشکلوں سے درد کو ظبط کیے کھڑی تھی۔۔۔۔!!

مجھے تمہاری سوری کی ضرورت نہی ہے جاو یہاں سے اپنے کمرے میں اور جب تک میں نہ کہوں باہر مت آنا۔۔۔حنان چلاتے ہوئے بولا تو منال جلدی سے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔!!

کمرے میں جا کر دروازہ بند کر کے اپنے پاوں کا جائزہ لینے لگ پڑی اور ساتھ ہی ساتھ رونے لگ پڑی۔۔۔ایک بار کچن میں چائے بنانے گئی تو کپ میں چائے ڈالتے ہوئے تھوڑی چائے منال کے ہاتھ پر گر گئی۔۔تو اس نے چلا چلا کر سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔۔!!

اس کی آواز سن کر اس کی امی بھاگتی ہوئی کچن میں آئی اور اسے ڈانٹنے لگ پڑی۔۔۔منال اگر چائے پینی تھی تو مجھے بتا دیتی خود کیوں آ گئی کچن میں دیکھو نہ کتنا زیادہ ہاتھ جل گیا ہے۔۔۔!!

ماما آپ مصروف تھیں تو میں نے سوچا آپ کے لیے چائے بنا لوں اسی لیے آ گئی یہاں منال روتے روتے بولی۔۔۔!!

اچھا اب پریشان نہ ہو چلو میں مرہم لگا دیتی ہوں۔۔۔انہوں نے منال کے ہاتھ پر جلدی سے مرہم لگائی تو اس کے ہاتھ کی جلن ٹھیک ہو گئی۔۔اور انہوں نے منال کو منع کیا کہ آج کے بعد کچن میں نہ آئے۔۔۔۔!!

منال کے آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہی لے رہے تھے اسے اپنی امی کی بہت یاد آ رہی تھی۔۔۔ابھی کل کی تو بات تھی وہ اپنی امی کے پاس تھی۔۔۔ایک دن میں اس کی زندگی بدل گئی تھی۔۔۔!!

ایسا کبھی اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ یوں اپنے گھر والوں سے جدا ہو جائے گی اور یہ پتھر دل انسان اس کے مقدر میں لکھ دیا جائے گا۔۔۔!!

پورا دن منال یوں ہی کمرے میں بند بیٹھی رہی یوں ہی بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی۔۔۔شبانہ دوپہر کو اس کے لیے کھانا کے کر آئی تھی لیکن اس نے منع کر دیا کھانا کھانے سے اور شبانہ سے کہا کہ حنان کو نہ بتائے اس بارے میں۔۔۔!!

شبانہ مان گئی اور چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی کر بھی کیا سکتی تھی ملازمہ تھی اور منال اس گھر کی مالکن تھی اب اس کی بات پر کیسے انکار کر سکتی تھی۔۔۔!!

اور منال نے شکر ادا کیا کہ شکر ہے اللہ کا شبانہ مان گئی۔۔۔کل سے اس نے ایک نماز نہی پڑھی تھی اس نے۔۔۔ایسا کرتی ہوں اب جب شبانہ کمرے میں آئے گی تو اسے کہتی ہوں جائے نماز لا کر دے مجھے۔۔۔!!

پھر اپنے کپڑے دیکھ کر خیال آیا کہ یہ کپڑے تو گندے ہو چکے ہیں گندے فرش پر بیٹھے بیٹھے۔۔۔اب ان کا کیا کروں میرے پاس تو اور کپڑے بھی نہی ہیں۔۔۔!!

ایسا کرتی ہوں شبانہ سے کہتی ہوں کہ اپنا ایک جوڑا لا دے۔۔۔ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔ایسا ہی کرتی ہوں ابھی شبانہ دوبارہ آتی ہے تو۔۔۔!!اور کمرے کی صفائی بھی کرنی ہے کتنا گندہ فرش ہوا ہے۔۔۔!!

کمرے میں بلب کی روشنی مدھم سی تھی۔۔منال کی وہی بیٹھے بیٹھے آنکھ لگ گئی۔۔۔پاوں پر جلن اب تھوڑی کم ہو چکی تھی۔۔۔!!

کچھ دیر بعد منال کو باہر سے شور کی آوازیں سنائی دیں تو اس کی آنکھ کھل گئی۔۔۔حنان زور زور سے بول رہا تھا کسی سے۔۔۔بلکہ چلا رہا تھا۔۔!!

منال نے سوچا کہ کمرے سے باہر جا کر دیکھتی ہوں ابھی وہ دروازے کے پاس پہنچی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا۔۔۔اور حنان اندر داخل ہوا۔۔منال جلدی سے سائیڈ پر ہو کر دیوار سے لگ گئی۔۔۔!!

حنان آگے بڑھا اور منال کو بازو سے کھینچتے ہوِئے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔منال ننگے پاوں اس کے پیچھے کھینچتی چلی گئی۔۔۔اسے چلنے میں تکلیف ہو رہی تھی۔۔۔لیکن نا چاہتے ہوئے بھی وہ اس کے ساتھ کھینچتی چلی گئی۔۔۔اب پتہ نہی کون سا طوفان اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔!!

سوچ سوچ کر اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔۔۔!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *