Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 38)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 38)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
اس شخص نے پانی کا گلاس بھر کر منال پر الٹ دیا۔۔منال ہڑبڑاتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔کککون ہو تم کیوں آئے ہو یہاں۔۔۔مممجھے چھوڑ دو۔۔میرے پاس کچھ بھی نہی ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
تتتتم کسی اور گھر میں چوری کر لو۔۔پلیز۔۔مجھے جانے دو۔۔منال ہکلاتے ہوئے بول رہی تھی ایک تو وہ ڈری ہوئی تھی اور دسرا ٹھنڈ میں اس کے کپڑے گیلے وہ تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔!!!!!!!!!
منال کی بات پر اس نے چھری سائیڈ پر رکھی۔۔اور چہرے سے ماسک اتارتے ہوئے منال کی طرف بڑھا۔۔کیا کہا تم نے میں چور ہوں۔۔۔دیکھو میری طرف میں کیا تمہیں چور لگتا ہوں۔۔وہ کڑے تیور لیے منال کی طرف بڑھا۔۔۔!!!!!!!!!!!
منال ڈر کے مارے پیچھے ہٹی۔۔اور اپنی آنکھیں زور سے بھینچ لیں۔۔۔کککون ہے آپ اور میں نے کیا بگاڑا ہےآپ کا۔۔۔مجھے جانے دیں پلیز۔۔۔۔۔آپا۔۔۔۔آپا۔۔۔منال زور زور سے چلانے لگ پڑی۔۔۔!!!!!!!!!!
اس نے آگے بڑھ کر منال کے منہ پر رکھا۔۔اسے اپنے اتنے قریب دیکھ کر منال کی تو جیسے سانس اٹک گئی۔۔۔اس نے خود کو چھڑوانا چاہا مگر کوئی فائدہ نہی ہوا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
پاگل لڑکی چلا کیوں رہی ہو۔۔کیوں شور مچا رہی ہو۔۔میں کوئی چور نہی ہوں۔۔تمہاری آپا کا اکلوتا بیٹا احمد ہوں۔۔کہتے کر اس نے اپنا ہاتھ ہٹا دیا۔۔اور منال کو گھورنے لگ پڑا۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئے مجھے چور کہنے کی۔۔۔!!!!!!!!!
اس سے پہلے کہ منال اس کی بات کا جواب دیتی شمائلہ آپا بھاگتی ہوئی کچن میں آئیں کیا ہوا عینی۔۔سامنے نظر احمد پر پڑی تو چلا اٹھی۔۔احمد۔۔تم کب آئے۔۔۔وہ جلدی سے اس سے لپک گئیں۔۔۔!!!!!!!!!!
بس ابھی مام۔۔میں نے سوچا آپ کو سرپرائزڈ کر دوں۔۔مگر اس لڑکی نے سارا پلان خراب کر دیا۔۔اور تو اور اس نے مجھے چور بولا۔۔۔۔وہ پھر سے منال کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔!!!!!!
آئی ایم سوری۔۔جیسے آپ چہرے پر ماسک لگائے کھڑکی سے اندر داخل ہوئے۔۔مجھے لگا کوئی چور ہے۔۔منال شرمندگی سے نظریں جھکائے کھڑی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
کوئِی بات نہی عینی بیٹا۔۔تم ایکسکیوز کیوں کر رہی ہو۔۔غلطی احمد کی ہے۔۔اس کی بچپن سے ایسی ہی عادتیں ہیں۔۔تم جاو اپنے کمرے میں آرام کرو۔۔!!!!!!!!!!
منال بنا کچھ بولے کچن سے نکل گئی۔۔۔کیا مام آپ نے اسے کچھ کہا کیوں نہی۔۔۔اس نے مجھے چور بولا۔۔۔!!!!!!!
وہ اس لیے کہ غلطی تمہاری ہے۔۔تم چوروں کی طرح گھر میں داخل ہوئے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔۔۔!!!!!!!!!
لیکن یہ ہے کون مام۔۔۔احمد پانی کی بوتل منہ سے لگاتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!
یہ بھی حالات کی ماری ایک دکھی لڑکی ہے۔۔عینی نام ہے اس کا۔۔۔باپ نے دوسری شادی کر لی اس کی ماں کے گزرنے کے بعد اور دوسرے ملک بس گیا دوسری بیوی کے ساتھ۔۔!!!!!!
اس کو اس کے چچا کے حوالے کر کے۔۔۔اب اس لڑکی کے نام جو جائیداد ہے اس کا چچا ہتھیانا چاہتا ہے۔اس کی شادی اپنے بیٹے سے کروا کر زبردستی اسی لیے یہ گھر سے بھاگ آئی۔۔۔!!!!!!!!!
مِیں میٹنگ سے واپس آ رہی تھی تو میری گاڑی سے ٹکرا کر بے حوش ہو گئی۔۔تو میں گھر لے آئی اسے۔۔جب اسے ہوش آیا تو یہاں سے جانے کی ضد کرنے لگی۔۔۔!!!!!!!!
میں نے اس کے گھر کا ایڈریس پوچھا تو اس نے مجھے ساری بات بتا دی۔۔تو میں نے اسے روک لیا۔۔یہ کراچی جائے گی ہمارے ساتھ وہیں رہے گی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
واہ گریٹ ماما۔۔مجھے لگتا ہے آپ نے سب کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔۔بنا تصدیق کیے کسی کو بھی اپنے ساتھ گھر لے آتی ہیں۔۔۔آپ نے تصدیق کروائی اس کے بارے میں۔۔۔ضروری نہی ہمیں جو نظر آ رہا ہے وہی سچ ہو۔۔۔!!!!؛!!!!؛
نہییی۔۔۔تصدیق تو نہی کروائی میں نے۔مجھے یاد ہی نہی رہا۔۔ویسے میں صبح اس سے پوچھوں گی اس کے گھر کے ایڈریس کے بارے میں۔۔۔پھر دیکھتے ہیں۔۔!!!!!!!!!
مجھے نہی لگتا یہ جھوٹ بولے گی۔۔۔بہت دکھی لگ رہی ہے مجھے۔۔۔تم ایسے ہی شک کر رہو ہو۔۔چھوڑو یہ سب۔۔۔آو کھانا کھاو۔۔۔میں کھانا لگاتی ہوں۔۔۔!!!!!!!!!!
احمد سوچ میں پڑ گیا۔۔۔مجھے تو کوئی اور بات لگ رہی ہے۔۔۔پتہ لگانا پڑے گا۔۔۔ایسے بنا تصدیق کے ہم اس لڑکی کو ساتھ لے کر نہی جا سکتے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!
منال کمرے میں آئی اور دروازہ بند کر کے اپنے بیگ میں سے حنان کی تصویر سینے سے لگا کر رو دی۔حنان کیوں کیا آپ نے ایسا۔۔۔؟؟؟؟؟
آپ تو کہ رہے تھے کہ آپ صرف میرے ہیں۔۔۔پھر کیوں بے وفائی کی آپ نے میرے ساتھ۔۔مجھے بہت ڈر لگتا ہے دوسروں کی نظروں سے۔۔میں ڈر گئی تھی آج۔۔۔پوری زندگی کیسے کٹے گی۔۔۔۔۔!!!!!!!
منال حنان کی تصویر سینے سے لگائے۔۔۔آنسو بہاتے بہاتے جب تھک گئی تو سو گئی۔۔۔۔!!!!!!!
حنان ابھی تھکا ہارا باہر سے گھر آیا تو سٹڈی میں اچانک اس کی نظر خالی فریم پر پڑی۔۔وہ فریم اتار کر دیکھنے لگ پڑا۔۔۔اس میں تو میری تصویر تھی۔وہ کہاں گئی۔۔!!!!!!!!
پھر خود ہی اپنے سوال پر مسکرا دیا۔۔۔منال اگر تم سمجھتی ہو کہ میری ایک تصویر کے سہارے زندگی گزار دو گی۔۔تو یہ غلط فہمی ہے تمہاری۔۔تم جتنی مرضی کوشش کر لو۔,!!!!!!!!!
میری یادیں تمہارا پیچھا نہی چھوڑیں گی۔۔جب تک میری سانس باقی ہے میں تمہیں تلاش کرتا رہوں گا۔۔چاہے پوری زندگی کیوں نا گزر جائے۔۔کاش منال تم مجھ پر یقین کر لیتی۔۔۔!!!!!!!
ایک بار بات تو کرتی مجھ سے۔۔۔مجھ سے ناراض ہو جاتی۔۔مجھ سے گلہ کرتی۔۔مگر میرے سامنے رہتی۔مجھ سے دور نا جاتی۔۔۔آ کر دیکھ لو ایک بار۔۔ملک حنان ٹوٹ چکا ہے۔۔۔!!!!!!!!!!
ہاں ٹوٹ چکا ہوں میں۔۔۔بکھر چکا ہوں میں۔۔نہی برداشت ہو رہی تمہاری جدائی مجھ سے۔۔کیوں آخر کیوں منال۔۔کیوں کیا تم نے ایسا۔۔۔میں تمہیں کبھی معاف نہی کروں گا۔کبھی نہی۔۔۔۔!!!!!!!!
حنان اپنے بال مٹھی میں جھکڑتے ہوئے درد کو ظبط کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔گاڑی کی چابی اٹھائے پھر سے گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔!!!!!!
حنان صبح گھر واپس آیا۔۔ساری رات سڑکوں پر گاڑی دوڑاتا رہا۔۔صبح گھر واپس آیا تو کمرہ بند کر کے لیٹ گیا۔۔۔!!!!!!!!!!
پری صبح صبح یہاں آ گئی۔۔۔اسلام و علیکم۔۔۔سب کو سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوئی۔۔سب ناشتے کی ٹیبل پر موجود تھے۔۔۔پری نے مٹھائی مسز ملک کو تھما دی۔۔۔!!!!!!!!!
ہممممم بہت بہت مبارک ہو بیٹا تمہیں نکاح کی۔۔۔مجھے بتایا تھا کل رات ماہم نے میں خود آنے والی تھی۔۔۔لیکن دیکھو تم آ گئی۔۔مسز ملک مسکراتے ہوئے پری کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!!!!
آو بیٹھو پری ناشتہ کرو۔۔ماہم نے زبردستی اسے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھا دیا۔۔۔ماہم نے ایک نظر سب کی طرف دیکھا۔۔۔اس کی نظریں جسے تلاش رہی تھیں وہ یہاں نہی تھا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
نہی ماہم میں ناشتہ کر کے آئی ہوں گھر سے۔۔میں نے سوچا مٹھائی دے آو پہلے۔۔۔کل رات تم دونوں کھانا کھائے بغیر ہی وہاں سے چلے آئے۔۔۔!!!!!!
ہاں یاررر۔۔پتہ نہی حیدر کو کیا ہو گیا تھا یہ کل رات اچانک وہاں سے اٹھ کر چل پڑا۔۔۔اس کو جاتے دیکھا تو میں بھی چل پڑی۔۔اب میں کس کے ساتھ آتی پھر گھر واپس۔۔!!!!!!!!!!!!
میں چلتی ہوں پھر کبھی آوں گی۔۔۔پری نے وہاں سےنکلنے کا بہانہ بنایا۔۔۔۔لیکن ماہم نے اسے روک لیا۔۔بیٹھ جاو یار۔۔جب بھی آتی ہو جلدی میں ہوتی ہو۔۔۔!!!!!!!!!!
پری نا چاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی۔۔پری یہاں سے جانا چاہ رہی تھی۔۔وہ حیدر کا سامنہ نہی کرنا چاہتی تھی۔۔لیکن ماہم نے اسے زبردستی بٹھا لیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!
ماہم اور پری باتوں میں مصروف تھی۔۔۔تبھی حیدر سلام کرتے ہوئے ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔۔اس نے پری کی طرف نہی دیکھا۔۔۔چپ چاپ ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔۔!!!!!!!!
پانی پکڑانا ماہ۔۔۔۔باقی کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے۔۔۔ماہم کے ساتھ جب اس نے پری کو بیٹھے دیکھا تو۔۔۔ہاتھ واپس کھینچ لیا اس نے۔۔۔پری نے جگ اس کی طرف بڑھا دیا۔۔!!!!!!!!
مگر حیدر ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔پری نے اس کی بے رخی محسوس کر لی تھی۔۔۔ماہم اپنے فون پر لگی تھی۔۔۔باقی سب بھی ناشتہ کر کے جا چکے تھے۔۔۔!!!!!!!
پری۔۔۔۔ماہم نے آواز دی تو پری ہوش میں آئی۔۔جی۔جلدی سے بولی۔۔!!!!!!!
لکھواو اپنا نمبر پری۔کہاں گم ہو گئی ہو۔۔ماہم مسکراتے ہوئے بولی تو پری نے اپنا نمبر لکھوا دیا اسے۔۔۔چلو آو باہر چلتے ہیں دھوپ نکل آئی ہو گی۔ماہم پری کو ساتھ لیے باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔!!!!!!!!!
اووہ۔۔۔پری تم چلو میں ہینڈ فری لے کر آ رہی ہوں۔۔۔ماہم اندر واپس چلی گئی۔۔۔جبکہ پری باہر لان کی طرف کی بڑھ گئی۔۔۔!!!!!!!!!
پرِی نے سامنے حیدر کو بیٹھے دیکھا تو واپس مڑ گئی۔۔۔!!!!!!!!!
کیا دیکھنے آئی ہو یہاں۔۔۔۔میں زندہ ہوں یا مر گیا ہوں۔۔۔حیدر کی آواز پر پری نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔!!!!!!!
اللہ نا کرے تمہیں کچھ ہو۔۔۔کیسی باتیں کر رہے ہو تم حیدر۔۔۔پاگل ہو گئے ہو کیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
ہاں ہو چکا ہوں میں پاگل۔۔۔اس سے پہلے کہ میں اپنے حواس کھو دوں۔۔چلی جاو تم یہاں سے۔۔۔اور کوشش کرنا کہ دوبارہ یہاں مت آنا۔۔حیدر بہت ہمت کر کے یہ چند الفاظ بول پایا۔۔!!!!!!!!!!
لیکن کیوں۔۔میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا۔۔۔تمہارے اس رویے کی وجہ جان سکتی ہوں میں۔۔۔پری کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!!!
کیونکہ میں محبت کر بیٹھا ہوں تم سے۔۔اور تم نے مجھے دھوکا دیا ہے۔۔۔میرے دل میں اپنے لیے جزبات جگا کر کسی اور کی منکوحہ بن گئی ہو تم۔۔۔اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ تم سے دور رہو میں۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
حیدر کے اقرار پر پری کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔میں بھی تم سے۔۔۔وہ بولتے بولتے رک گئی۔۔کیونکہ وہ اب کسی اور کی امانت تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
سب کچھ اتنا اچانک ہوا۔۔مجھےکچھ سمجھ نہی آیا۔۔۔۔۔خیر چلتی ہوں میں تم نہی سمجھو گے حیدر۔۔۔۔۔!!!!!!!
پری آنسو صاف کرتے ہوئے وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔۔ماہم نے پری کو جاتے دیکھا تو کندھے اچکاتے ہوئے واپس اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔!!!!!!
سب جانتا ہوں میں پری۔۔۔اگر تم مجھ سے واقعی محبت کرتی تو۔۔انکار بھی کر سکتی تھی اس نکاح سے مگر تم نے نہی کیا۔۔۔حیدر کرسی کو ٹھوکر مارتے ہوئے۔۔وہاں سے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔۔اور گھر سےباہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
منال صبح کمرے سے باہر گئی تو شمایلہ آپا ناشتہ بنانے میں مصروف تھیں۔۔۔منال ان کے ساتھ مدد کروانے چلی گئی۔۔۔تب ہی احمد سلام کرتے ہوئے کچن میں داخل ہوا۔۔۔!!!!!!!
منال نے ناشتہ ٹیبل پر لگا دیا تو تینوں ناشتہ کرنے بیٹھ گئے۔۔۔۔۔۔
