Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 28)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

حنان کے تیسری بار بولنے پر بھی وہ کچھ نہی بولا۔۔۔حنان نے انگلی دبائی۔۔۔اور گول چلا دی۔۔۔لیکن ہوا میں۔۔۔گولی کی آواز پر وہ خوف زدہ ہو گیا۔۔۔اسے تو لگا تھا کہ یہ ایسے ہی ڈرا رہا ہے مجھے گولی نہی چلائے گا۔۔۔!!!!!!

حنان نے دوبارہ گن لوڈ کر کے اس کے سر پر رکھی۔۔۔اب اگر نا بولے تو اس بار گولی ہوا میں نہی۔۔۔تمہارے سر میں اتارو گا۔۔۔۔بتاو اب جلدی۔۔۔احد کہاں ہے۔۔۔حنان چلایا۔۔۔۔!!!!!

وہ۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔۔اماں کو پتہ ہے۔۔۔احد کہاں ہے۔۔۔انہوں نے ہی کسی کو بیچ دیا ہو گا شاید احد کو۔۔۔وہ پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔۔۔۔اس سے بولا نہی جا رہا تھا۔۔۔۔!!!!!

کہاں بیچا اماں نے احد کو۔۔۔۔سب کچھ سچ سچ بتاو مجھے نہی تو پچھتانے کا بھی موقع نہی دوں گا میں۔۔۔۔حنان نے اس کے سر سے گن نہی ہٹائی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!

میں سچ کہ رہا ہوں۔۔۔اگر آپ کو نہی یقین تو گولی مار دیں مجھے۔۔۔ایسی زندگی سے تو مر جانا ہی اچھا ہے۔۔۔میں تنگ آ گیا ہوں۔۔۔اپنی ماں کے ان کاموں سے۔۔۔اور میں ان کا گھر چھوڑ چکا ہوں۔۔۔۔!!!!!!!

مجھ سے نہی دیکھا جاتا یہ سب کچھ۔۔۔۔چند پیسوں کے لیے۔۔۔دوسروں کو اپنے گھر والوں سے دور کرنا۔۔۔اور پھر دشمنوں کو بیچ دینا۔۔۔۔لعنت ہے ایسی زندگی پر۔۔۔۔!!!!!!!

حنان نے اس کے سر سے گن ہٹا دی۔۔۔۔دیکھو اگر تم سچ کہ رہے ہو تو میں تمہاری مدد کروں گا۔۔۔اس زندگی سے تمہیں نجات دلانے کی۔۔۔۔!!!!!!

لیکن تمہیں بھی میری مدد کرنی ہو گی۔۔۔۔اپنی اماں تک مجھے پہچانا ہو گا۔۔۔بولو کرو گے میری مدد۔۔۔مجھے احد کو واپس لانا ہے۔۔۔۔!!!!!

ٹھیک ہے میں کر دوں گا مدد۔۔تم مجھے اسلان بلا سکتے ہو۔۔۔ارسلان نام ہے میرا۔۔۔۔وہ لڑکا موئذب انداز میں بولا۔۔۔۔۔!!!!!!!

اور میرا نام حنان ہے۔۔۔ملک حنان۔۔۔۔اگر تم کل رات کو ہی ساری بات بتا دیتے تو تمہیں اتنی اذیت نا دیتا میں۔۔۔۔اب تم یہی رہو گے۔۔کیونکہ میں اتنی جلدی تم پر یقین نہی کر سکتا۔۔۔!!!!!

جب تک مجھے احد نہی مل جاتا۔۔اور تمہاری اماں تک نا پہنچ جاوں میں۔۔۔تب تک یہیں رہو گے تم۔۔۔حنان اس کی دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔اب تم ایڈریس بتاو مجھے۔۔۔!!!!!

تا کہ تمہاری اماں تک پہنچ سکوں میں۔۔۔۔حنان دوبارہ اس کی طرف مڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

اس نے ایڈریس لکھوایا تو حنان نے حیرانگی سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔یہ تو پاکستان کا ایڈریس ہے۔۔۔!!!!!!!

مجھ سے ہوشیاری مہنگی پڑ سکتی ہے تمہے۔۔۔اسی لیے بہتر ہے کہ تم مجھ سے سچ بولو۔۔۔۔حنان دوبارہ گن اس کے سر پر رکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!

ارسلان مسکرا دیا۔۔۔میں سچ کہ رہا ہوں۔۔۔وہ پاکستان میں ہی ہیں۔۔۔اور ہو سکتا ہے انہوں نے ابھی تک نا بیچا ہو احد کو۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

اگر تو وہ پاکستان میں ہوا۔۔تو مل جائے گا آپ کو۔۔۔لیکن اگر وہ پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا ہوا تو ملنا مشکل ہے۔۔۔!!!!!!!!

اسی لیے آپ یہاں اپنا وقت ضائع مت کریں۔۔۔اور جتنی جلدی ہو سکے اس پتہ پر پہنچ جائیں۔۔۔احد نا سہی نا جانے آپ کے اس قدم سے اور کتنی جانیں بچ جائیں۔۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان نے اس کے سر سے گن ہٹائی۔۔۔اور فون نکال کر ارسل اور ذوہان کو جلدی پہنچنے کو بولا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

وہ لوگ آئے تو ان دونوں کو ساتھ لے کر اور پولیس کو ساتھ لے کر حنان اس پتہ کی طرف بڑھ گیا۔۔جبکہ ارسلان ابھی بھی اس کی قید میں تھا۔۔۔وہ دونوں آدمیوں کو وہیں چھوڑ گیا تھا۔۔۔!!!!!!!!

پہلے اس نے ارسل کو اس گھر میں بھیجا یہ کنفرم کرنے کے لیے کہ واقعی یہ پتہ سہی ہے یا پھر ارسلان نے اس سے جھوٹ بولا ہے۔۔۔۔ارسل نے دروازے پر پہنچ کر بیل دی۔۔۔۔۔!!!!!!!

تو اندر سے ایک آدمی باہر آیا۔۔۔۔ارسل نے اس سے ارسلان کا پوچھا تو وہ غصے سے آگ بگولہ ہو گیا۔۔۔مر گیا ہے وہ کمبخت ہمارے لیے۔۔۔یہاں نہی رہتا اب وہ۔۔۔جاو تم یہاں سے۔۔۔۔کہتے ساتھ ہی اس نے گیٹ بند کر دیا۔۔۔!!!!!!

تھوڑی دیر بعد دوبارہ دروازے پر بیل بجی۔۔۔وہ آدمی دوبارہ دروازہ کھولنے آیا۔۔۔۔۔اب چونکنے کی باری اس کی تھی۔۔۔۔اس نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی۔۔۔!!!!!!!!

لیکن پولیس اسے دھکا مارتے ہوئے گھر میں داخل ہو چکی تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!

کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ۔۔۔۔ایسے بنا کسی وارنٹ کے آپ ہمارے گھر میں کیسے داخل ہو سکتے ہیں۔۔۔وہ چلا رہا تھا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

لیکن جیسے ہی اس کی نظر حنان پر پڑی۔۔۔اور اس کے پیچھے آتے ارسل اور زوہان پر پڑی تو اسے سمجھنے میں دیر نہی لگی۔۔۔کہ پولیس کیوں آئی ہے یہاں۔۔۔۔۔!!!!!!!!!

وہ آدمی حنان کی طرف بڑھا۔۔۔تم یہاں کیا کر رہے ہو اور کیا ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔دو پولیس والے اسے گرفتار کر کے لے گئے۔۔۔۔اس سے پہلے کہ حنان اس کی کسی بات کا جواب دیا۔۔۔۔۔!!!!!!!

لیڈیز پولیس اہلکار اندر سے اس عورت کو گرفتار کرتے ہوئے باہر آئیں۔۔۔۔حنان کی اس پر نظر پڑی تو جلدی سے آگے بڑھا۔۔۔۔احد کہاں ہے۔۔۔۔۔!!!!!!

وہ ہنس پڑی۔۔۔۔زیادہ دیر اندر نہی رہوں گی میں۔۔۔بہت جلد واپس آوں گی میں۔۔۔۔اور جب واپس آوں گی تو بدلہ ضرور لوں گی۔۔۔۔۔یاد رکھنا ملک حنان۔۔۔۔وہ چلائی تھی۔۔۔۔!!!!!!!!!

پولیس اہلکار اسے کھینچتے ہوئے وہاں سے لے گئیں۔۔۔اور وہ تینوں احد کو ڈھونڈنے کے لیے اندر کی طرف بڑھے۔۔۔۔لیکن ان کے اندر جانے سے پہلے ہی پولیس اہلکار احد کو سہارا دیتے ہوئے باہر آ رہا تھا۔۔۔۔!!!!!!!

احد کو دیکھتے ہی تینوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔۔۔۔تینوں جلدی سے اس کی طرف بڑھے۔۔۔اور آگے بڑھ کر اسے تھام لیا۔۔۔۔!!!!!!!!

احد بے ہوش تھا۔۔۔۔ان کو ہم لے جائیں گے۔۔۔حنان نے پولیس والے سے کہا تو وہ اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔احد کے علاوہ تین اور لڑکے تھے اندر۔۔۔ان کو ہاسپٹل لے جایا گیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!

احد کو وہ تینوں گاڑی میں ڈال کر ہاسپٹل لے گئے۔۔۔۔کچھ گھنٹوں بعد احد کو ہوش آیا تو تینوں کی جان میں جان آئی۔۔۔۔۔!!!!!!!!

احد پہلے تو سمجھ نہی پایا کہ وہ یہاں کیسے آیا۔۔۔لیکن جیسے ہی اس کی نظر کمرے میں داخل ہوے اپنے دوستوں پر پڑی تو۔۔۔وہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔!!!!!!!!!

لیکن اس سے اٹھا نہی گیا۔۔۔سر چکرایا اور وہ پھر سے بیڈ پر جا گرا۔۔۔۔وہ تینوں جلدی سے احد کی طرف بڑھے۔۔۔۔احد تم اب محفوظ ہو۔۔۔ہمارے ساتھ ہو۔۔۔زوہان بولا۔۔۔۔!!!!!!

احد ان تینوں کی طرف دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔جیسے شکریہ کہنا چاہ رہا ہو۔۔۔۔۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد حنان باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔ایک ادھورا کام ختم کر کے آتا ہوں۔۔۔تم دونوں احد کے پاس ہی رہنا کہتے ہوئے وہاں سے نکل آیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان گھر پہنچا تو ہانی کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔لیکن نا تو وہاں ہانی تھی۔۔۔اور نا ہی الماری میں ہانی کا سامان۔۔۔۔۔اوہ۔۔۔شٹ۔۔۔۔نہی ہانی تم بھاگ نہی سکتی۔۔۔۔بھاگ لو جہاں تک بھاگ سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان کے فون کی رنگ ٹون بج رہی تھی لیکن وہ اگنور کر رہا تھا۔۔۔اب آخر کار اس نے تھک کر فون دیکھا تو حیدر کی کال تھی۔۔۔۔۔!!!!!!!!

حنان نے کال پک کی تو حیدر کی گھبرائی ہوئی آواز آئی۔۔۔۔حنان وہ ماہم ہانی کے ساتھ گئی تھی ابھی تک نہی آئی۔۔۔اس کے فون کی لوکیشن کو فالو کر رہا ہوں میں۔۔۔تمہیں ایڈریس سینڈ کرتا ہوں۔۔جلدی یہاں پہنچو یار کچھ گڑ بڑ ہے۔۔۔۔۔!!!!!!!

حنان جلدی سے فون اٹھائے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔اگر ہانی نے ماہم کو کچھ۔۔۔نہی اس سے آگے وہ سوچنا نہی چاہتا تھا۔۔۔۔جلدی سے گاڑی سٹارٹ کی اور حیدر کے بھیجے گئے ایڈریس کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔!!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *