Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 15)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 15)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
حنان دادو کے کمرے میں گیا تو وہ مسکراتے ہوئے
اٹھ بیٹھیں۔۔۔کیسے یاد آ گئی دادو کی۔۔۔وہ
مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!
کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ دادو۔۔یاد تو ان کو کیا
جاتا ہے جو دور ہوتے ہیں۔۔۔آپ تو ہمیشہ میرے دل
میں رہتی ہیں۔۔۔حنان ان کے ہاتھ پر پیار کرتے ہوئے
بولا۔۔۔۔!!!!
ہاں ہاں سب پتہ ہے مجھے کتنی فکر ہے تمہیں میری
منال کہاں ہے صبح سے نظر نہی آ رہی بس ایک دفعہ آئی تھی کمرے میں اس کے بعد تو جیسے کمرے کا راستہ ہی بھول گئی ہو۔۔۔ضرور تم نے کاموں میں الجھا رکھا ہو گا اسے۔۔۔۔!!!!
نہی دادو میں کیوں کروانے لگا اس سے کام گھر میں اتنے سارے ملازم ہیں۔۔۔شاید آپ کو کسی نے بتایا نہی۔۔منال کو چوٹ لگی ہے۔۔۔!!!!
چوٹ کیسے لگ گئی۔۔صبح تو اچھی بھلی گئی تھی یہاں سے اب کہاں ہے وہ۔۔۔دادو پریشان ہو گئیں تھیں۔۔۔!!!
دادو آپ پریشان نہ ہو۔۔۔منال بلکل ٹھیک ہے بس ہاتھ پر تھوڑا کانچ لگ گیا ہے۔۔۔ایک دو دن تک زخم ٹھیک ہو جائے گا۔۔منال اوپر کمرے میں ہے۔۔میں اس کا پورا خیال رکھ رہا ہوں۔۔۔آپ بے فکر ہو جائیں۔۔!!!!!
رکیں میں ابھی بات کرواتا ہوں آپ کی منال سے۔۔۔حنان اپنے فون سے منال کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!
حنان نے اپنا نمبر سیو کر دیا تھا۔۔۔دوسری بیل پر ہی منال نے کال اٹینڈ کر لی۔۔۔لیکن بولی کچھ نہی۔۔۔حنان سمجھ گیا تھا۔۔۔ابھی ابھی جو اس نے کیا تھا۔۔منال اس سے بات کرنے سے کترا رہی تھی۔۔۔۔!!!!!
منال یہ دادو تم سے بات کرنا چاہ رہی ہیں۔۔۔میں فون دادو کو دے رہا ہوں۔۔۔منال پھر بھی کچھ نہی بولی۔۔۔۔!!!
منال میری بچی کیسی طبیعت ہے اب۔۔۔دادو کی پریشان سی آواز منال کے کانوں میں پڑی۔۔۔!!!!
دادو میں ٹھیک ہوں آپ پریشان مت ہو۔۔۔کل ملنے آوں گی آپ سے۔۔۔آپ اپنی دوائیاں وقت پر کھاتی رہا کریں۔۔اور اپنا خیال رکھیں۔۔کل تک میری چوٹ ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔آپ فکر مت کریں۔۔۔!!!!
ارے فکر کیوں نا کروں۔۔۔اچھی بھلی تھی میری بچی صبح اچانک کیا ہو گیا۔۔میں تو صبح سے تمہاری راہ دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ تو ابھی مجھے حنان نے بتایا کہ تمہیں چوٹ لگی ہے۔۔۔ورنہ مجھے تو کسی نے بتانا ہی نہی تھا۔۔۔۔!!!!
آپ کو کسی نے اس لیے نہی بتایا کہ آپ پریشان نہ ہو۔۔آپ بے فکر ہو جائیں میں کل تک ٹھیک ہو جاوں گی۔۔۔آپ نے کھانا کھا لیا کیا۔۔۔؟؟؟ اگر نہی کھایا تو جلدی سے کھا لیں۔۔۔ورنہ میں ناراض ہو جاوں۔گی آپ سے۔۔۔۔!!!!
اچھا دادی اماں کھاتی ہوں کھانا۔۔۔تم اپنا خیال رکھو۔۔اور دوائی وقت پر کھاتی رہنا۔۔۔کہتے ہوئے انہوں نے فون حنان کی طرف بڑھا دیا۔۔۔۔!!!!
پانچ منٹ میں آ رہا ہوں اوپر لنچ ساتھ میں کریں گے۔۔۔کہتے ساتھ حنان نے فون بند کر دیا۔۔۔منال کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔!!!!!
دادو کے کمرے سے نکلا تو سامنے مام مل گئیں۔۔۔مام آپ میرا اور حنان کا کھانا اوپر ہی بھجوا دیں۔۔میں کھانا منال کے ساتھ ہی کھاوں گا۔۔۔کہتے ہوئے سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!!
مسز ملک اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کچن کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔ان کا کھانا اوپر بھجوانے کے لیے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
حنان کمرے میں آیا تو منال کمبل منہ تک اوڑھے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔بس کردو اٹھ جاو مسز حنان۔۔میں جانتا ہوں تم جاگ رہی ہو۔۔۔حنان نے کہا تو منال ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔!!!!
حنان نے اس کے منہ سے کمبل ہٹایا تو منال مسکرا دی۔۔۔اسے مسکراتے دیکھ حنان بھی مسکرا دیا۔۔۔۔چلو اب اٹھ کر بیٹھ جائیں۔۔۔کھانا آ رہا ہے۔۔۔کھا کر پھر میڈیسن بھی کھانی ہے۔۔۔!!!!
منال اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔حنان ہینڈ واش کرنے چلا گیا۔۔کمرے میں واپس آیا تو ملازمہ کھانا رکھ کے جا چکی تھی۔۔۔!!!!
حنان کھانا اٹھا کر وہیں بیڈ پر آ گیا۔۔۔پلیٹ میں بریانی ڈال کر منال کی طرف بڑھائی۔۔۔اوہ۔۔تمہارا تو ہاتھ خراب ہے کیسے کھاو گی۔۔۔۔ڈونٹ وری میں ہوں نا۔۔۔حنان آنکھ دباتے ہوئے بولا۔۔۔!!!
ننہی میں کھا لوں گی۔۔آپ اپنا کھانا کھا لیں۔۔ٹھنڈا ہو جائے گا۔۔۔!!!! منال ڈرتے ڈرتے بولی۔۔کہ کہی حنان ناراض نہ ہو جائے۔۔۔!!!!
میں نے کہا نا میں کھلا دوں گا۔۔۔حنان نے چمچ منال کی طرف بڑھایا تو منال ڈرتے ڈرتے کھانے لگ پڑی۔۔اسے حنان کے غصے سے بہت خوف آتا تھا۔۔۔حنان غصہ نہ ہو اسی لیے جلدی جلدی کھانا ختم کر لیا۔۔۔!!!!
ایک پلیٹ بریانی کھلانے کے بعد حنان کباب پلیٹ میں نکالنے لگ پڑا۔۔۔۔!!!!
نہی حنان بس میں اور نہی کھا سکتی۔۔۔میرا پیٹ بھر گیا ہے۔۔۔اور بھوک نہی ہے مجھے۔۔۔!!!!
لیکن حنان نے اس کی ایک نہی سنی۔۔۔اور زبردستی چار کباب منال کو کھلا دئیے۔۔۔منال کچھ نہ بول سکی۔۔اس کی ہمت ہی نہی ہوئی۔۔جب بھی بولنے کی کوشش کرتی حنان اسے گھوری سے نواز دیتا۔۔تو منال کی بولتی بند ہو جاتی۔۔۔!!!!
حنان اب منال کو پانی پلا رہا تھا۔۔۔تب ہی ہانی کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔ہنی۔۔۔اس سے آگے وہ کچھ نہی بول سکی۔۔۔حنان کو منال کو پانی پلاتے دیکھ ہانی کا پارہ ہائی ہو گیا۔۔۔۔!!!!!
ہنی جب اپنی بیوی کی خدمتوں سے فری ہو جاو تو میری بات سن جانا آ کر کمرے میں۔۔۔کہ کر رکی نہی تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔!!!!
حنان اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔۔جب کھانا کھا لیا تو ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے منال کو دوائی کھلانے لگ پڑا۔۔۔!!!!!
منال کو دوائی کھلا کر برتن اٹھا کر ٹیبل پر رکھ دئیے۔۔۔منال کو لٹا کر اس پر اچھی طرح کمبل اوڑھا دیا۔۔۔منال تم آرام کرو۔۔میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔۔۔۔!!!!!
کہتے ہوئے حنان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔منال جانتی تھی حنان کہاں گیا ہے۔۔لیکن اس نے اسے روکا نہی۔۔۔!!!!
حنان ہانی کے کمرے میں گیا تو ہانی نے رو رو کر اپنا برا حال کیا ہوا تھا۔۔۔۔پورے کمرے میں چیزیں بکھری پڑی تھیں۔۔۔حنان چلتا ہوا اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔!!!
ہانی کیا ہوا۔۔۔؟؟ رو کیوں رہی ہوں یار۔۔۔کیا ہو گیا ہے تمہیں۔۔۔حنان اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!!!
ہانی نے اور زیادہ رونا شروع کر دیا۔۔۔تم جاو یہاں سے ہنی مجھے تمہاری کوئی ضرورت نہی ہے۔۔۔جاو تم جا کر اپنی بیوی کے پاس بیٹھو۔۔اس کی خدمتیں کرو۔۔۔میرے پاس کیوں آئے ہو۔۔۔!!!!!
جب میں نے تم سے کہا کہ باہر سے کچھ کھانے چلتے ہیں۔۔تو تم نے مجھے ٹال دیا۔۔۔لیکن تم اس منال کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلا رہے تھے۔۔۔تم نے مجھے اپنی بیوی کے سامنے ڈی گریڈ کیا ہے۔۔۔جاو تم یہاں سے میں واپس جا رہی ہوں۔۔۔۔!!!!
ابھی ٹکٹ بک کرواتی ہوں۔۔۔تمہیں تو میری پرواہ ہی نہی ہے۔۔جب دیکھو اپنی بیوی سے چپکے بیٹھے ہوتے ہو۔۔۔میں یہاں تمہارے لیے آئی تھی۔۔تم مجھ سے شادی نہی کرو گے۔۔۔میں جانتی ہوں۔۔۔!!!!
تم بس مجھے اپنی بیوی کے سامنے زلیل کرتے رہنا چاہتے ہو۔۔۔جاو اب یہاں سے میرے سامنے مت بیٹھو۔۔ورنہ میں تمہارا سر پھاڑ دوں گی۔۔۔ہانی غصے سے پھنکارتی ہوئی بولی۔۔۔۔!!!!!
ہانی کیا ہو گیا ہے تمہیں عقل سے کام لو۔۔۔یہ سب میں تمہارے لیے ہی تو کر رہا ہوں۔۔۔تا کہ تم سے شادی کر سکوں۔۔۔کل جو ہوا اس کے بعد مام ڈیڈ بہت غصے میں تھے۔۔۔!!!!
تم تو اپنے روم میں بھاگ گئی تھی۔۔میری کلاس لگ گئی کل رات۔۔۔اس لڑکی کی وجہ سے بہت باتیں سننی پڑیں مجھے کل رات۔۔۔اسی لیے میں نے سوچ لیا کہ اب مجھے ایسے ہی کرنا پڑے گا۔۔۔۔!!!!
ورنہ پوری زندگی تم انتظار ہی کرتی رہ جاو گی۔۔۔میں جانتا ہوں۔۔میں نے تمہیں ہرٹ کیا ہے۔۔۔لیکن یہ سب کر بھی تو تمہارے لیے رہا ہوں۔۔۔!!!
مام ڈیڈ بھی منال کا ساتھ دے رہے ہیں۔۔۔پتہ نہی کیا جادو کر دیا ہے اس نے سب پر۔۔کوئی اس کےخلاف نہی بولتا۔۔۔اور صبح جو اسے چوٹ لگی وہ بھی میری وجہ سے ہی لگی ہے۔۔۔!!!!
اگر وہ سب کے سامنے کہ دیتی کہ میری وجہ سے چوٹ لگی ہے اسے تو سب میرے پیچھے پڑ جاتے۔۔۔یہ سب کچھ میں تمہاری خاطر ہی تو کر رہا ہوں۔۔۔میں منال کو اپنے اعتماد میں لے کر اس سے تم سے شادی کے لیے اجازت لینا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔!!!!
ورنہ مام ڈیڈ کبھی راضی نہی ہو گے میری دوسری شادی پر۔۔۔میں ان سب کو اعتماد میں لے کر تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔میں تمہیں سب کے سامنے اپنانا چاہتا ہوں۔۔۔مجھے چوروں والی زندگی نہی گزارنی۔۔۔!!!!
جب منال مجھے اجازت دے دے گی دوسری شادی کے لیے۔۔۔تو پھر کوئی اس معاملے میں نہی بولے گا۔۔ سمجھی تم۔۔۔پاگل لگ رہی ہو اس حلیے میں۔۔۔حنان ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!
بچپن سے ساتھ ہو میرے اور ابھی تک مجھے سمجھ نہی سکی تم۔۔۔۔ملک حنان کوئی بھی کام بنا پلان بنائے اور بنا مقصد کے نہی کرتا۔۔۔مائنڈ اٹ۔۔۔!!!!!!
اگر ایسی بات تھی تو تم مجھے پہلے بھی بتا سکتے تھے نا ہنی۔۔مجھے کتنی ٹینشن ہو رہی تھی۔۔۔میں سمجھی میں نے تمہیں کھو دیا ہے۔۔۔۔ہانی آنسو پونچھتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!
اگر بتا دیتا تو تمہاری اتنی فنی شکل کیسے دیکھنے کو ملتی۔۔۔اچھا اچھا مزاق کر رہا ہوں۔۔۔جاو جا کر فریش ہو جاو۔۔۔اور نیچے چل کر کھانا کھاو۔۔۔!!!
ہممم ٹھیک ہے کہتے ہوئے ہانی فریش ہونے چلی گئی۔۔۔اور حنان واپس اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!
منال دوائیوں کے زیرِاثر سو رہی رہی تھی۔۔۔بارش کی وجہ سے سردی بہت بڑھ چکی تھی۔۔حنان نے ہیٹر اون کروا دیا۔۔۔اور خود صوفے پر لیٹ گیا۔۔۔!!!!!!!!!
کچھ دیر بعد منال کی آنکھ کھلی تو حنان صوفے پر لیٹا سو رہا تھا۔۔منال کو تھوڑا عجیب لگا۔۔۔اس کی وجہ سے حنان کو صوفے پر سونا پڑ رہا ہے۔۔منال کے پاوں کی سوجن اتر چکی تھی۔۔اب درد بھی کم تھا پیروں میں۔۔۔!!!!
منال آہستہ سے اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گئی کہ کہی حنان اٹھ نہ جائے۔۔ورنہ وہ اسے واش روم میں بھی اٹھا کر لے جاتا۔۔۔!!!!!
منال واپس آئی تو حنان کی آنکھ کھل گئی۔۔۔منال بیڈ پر لیٹنے ہی والی تھی کہ حنان جلدی سے اس کے پاس آ گیا۔۔۔منال کہاں گئی تھی تم۔۔۔واش روم جانا تھا تو مجھے بتا دیتی۔۔۔!!!!
مجھے آواز دے دیتی اگر تم گر جاتی تو۔۔۔حنان اس کے اوپر کمبل اوڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔منال اب لیٹ نہی رہی تھی۔۔۔وہ بیڈ سے ٹیک لگائے بیٹھ گئی۔۔حنان بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔!!!!
منال تم لیٹ جاو آرام کرو بیٹھو مت طبیعت خراب ہو جائے گی۔۔۔حنان نیند سے بوجھل آنکھیں لیے جمائی لیتے ہوئے بولا۔۔۔حنان کے بکھرے بال منال کو بہت بھلے لگے۔۔۔!!!!
نہی میں ٹھیک ہوں آپ لیٹ جائیں آپ کی نیند ٹھیک سے پوری نہی ہوئی ابھی بہت تھکے تھکے لگ رہے ہیں۔۔۔!!!!
نہی اب میں اٹھ چکا ہوں۔۔۔ایک بار میری آنکھ کھل جائے تو پھر مجھے نیند نہی آتی۔۔حنان بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔تمہارے لیے کچھ لاو۔۔چائے یا کافی جو تمہیں پسند ہو بتا دو۔۔۔!!!!!
نہی کافی مجھے پسند نہی میں تو چائے پیتی ہوں۔۔منال بول پڑی۔۔۔!!!
اچھا تو پھر آج میں بھی چائے پیو گا۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!
لیکن آپ کو تو چائے پسند نہی ہے۔۔آپ تو کافی پیتے ہیں نا۔۔۔منال جلدی سے بول پڑی۔۔۔!!!!!
ہممم لیکن تمہیں کافی پسند نہی ہے۔۔۔اسی لیے مجھے بھی آج سے کافی پسند نہی ہے۔۔۔جو تمہیں پسند ہے وہی مجھے پسند ہے۔۔۔مسکراتے ہوئے حنان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!
حنان آپ کو میں نہی سمجھ سکتی آپ کیا ہے۔۔۔میں آپ کے ایک روپ کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں تو دوسرا روپ سامنے آ جاتا ہے آپ کا۔۔۔حنان کمرے میں واپس آیا تو منال بول پڑی۔۔۔!!!!
حنان منال کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔جو دکھتا ہوں۔۔وہ میں ہوں نہی۔۔۔اور جو میں ہوں۔۔وہ میں دکھتا نہی۔۔۔مجھے سمجھنا آسان نہی ہے مسز حنان۔۔۔بہت وقت لگے گا تمہیں مجھے سمجھنے میں۔۔۔۔!!!!!
کیا مطلب۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہی آئی آپ کی بات کی۔۔۔منال نا سمجھی میں بولی۔۔۔!!!!
دماغ پر زیادہ زور مت ڈالو۔۔۔میں نے کہا نا مجھے سمجھنا آسان نہی ہے۔۔۔حنان اپنی بات پھر سے دہراتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!
لو آ گئی چائے۔۔۔ملازمہ چائے لے کر آئی تو حنان نے ایک کپ منال کی طرف بڑھا دیا۔۔اور دوسرا خود تھام لیا۔۔۔!!!
حنان کی بات پر منال سوچ میں پڑ چکی تھی۔۔۔یہ پتہ نہی کونسا روپ ہے آپ کا حنان۔۔۔لیکن جو بھی ہو۔۔میں آپ کا ہر روپ دیکھنا چاہتی ہوں۔۔دیکھتی ہوں کتنے روپ بدلتے ہیں آپ۔۔!!!!
حنان چائے پی رہا تھا۔۔منال حیران تھی کہ اس دن حنان چائے دیکھتے ہی غصے میں آ گیا تھا۔۔اور آج کتنے مزے سے چائے پی رہے ہیں۔۔۔کیا واقعی ہی کوئی کسی کی خاطر خود کو اتنا بدل سکتا ہے۔۔۔۔!!!!!!
حنان کے فون پر رنگ ٹون بجی تو حنان فون کان سے لگائے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔تب ہی احسن کمرے میں داخل ہوا پریشان سا۔۔منال کیا ہوا تمہیں۔۔۔چچی جان بتا رہی تھیں تمہیں چوٹ لگ گئی تھی صبح۔۔۔!!!!
جی احسن بھائی یہ ہاتھ پر کانچ لگ گیا تھا تھوڑا۔۔پریشانی والی کوئی بات نہی ٹھیک ہو جاوں گی میں۔۔۔آپ پریشان نہ ہو۔۔۔!!!!
کیا کرتی ہو منال۔۔اتنی لا پرواہی کیسے لگا کانچ۔۔۔!!!!!!
کچھ نہی بس پاوں پھسل گیا تو گلاس میرے ہاتھ میں تھا۔۔تو گرتے ہی گلاس ٹوٹ کر ہاتھ میں چبھ گیا۔۔۔۔!!!!
اوہ۔۔۔منال اپنا دھیان رکھا کرو۔۔۔میں بس ابھی آیا تھا ہوسپٹل سے تو مجھے چچی جان نے بتایا۔۔تو میں ادھر ہی آ گیا۔۔۔!!!
زرا دکھاو مجھے ہاتھ۔۔۔احسن منال کے ہاتھ کا جائزہ لینے لگ پڑا۔۔۔!!!
تب ہی حنان کمرے میں داخل ہوا۔۔اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔۔۔منال کا ہاتھ احسن کے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔!!!!
منال زخم کافی زیادہ ہے تم اپنا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑے گا۔۔۔زرا بھی لا پرواہی مت کرنا۔۔میڈیسن ٹائم پر کھاتی رہنا۔۔۔۔!!!!!
احسن واپس جانے کے لیے مڑا تو سامنے حنان کھڑا تھا۔۔۔احسن سمجھ چکا تھا وہ اسے شک کی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔۔احسن ایک نظر حنان پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔!!!!
احسن ابھی اپنے کمرے میں پہنچا ہی تھا کہ حنان اس کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔!!!!
میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں احسن بھائی۔۔لیکن ایک بات میری یاد رکھئیے گا۔۔۔اگر آئیندہ آپ نے میری بیوی کو ہاتھ لگایا تو اچھا نہی ہو گا۔۔۔اس کی فکر کرنے کے لیے اس کا شوہر زندہ ہے ابھی۔۔۔!!!!!
حنان کا لہجہ غصے سے بھرا تھا۔۔۔!!!!!!
یہ کس قسم کی گھٹیا باتیں کر رہے ہو تم حنان۔۔۔احسن تپ چکا تھا۔۔۔تمہے اندازہ بھی ہے تم کیا بول رہے ہو۔۔۔تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو۔۔۔!!!!!
میں اچھی طرح جانتا ہوں میں کیا بول رہا ہوں۔۔۔حنان سارا لحاظ پرے رکھتے ہوئے بولا۔۔۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے کچھ نظر نہی آتا تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔۔۔!!!!!!
میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور سمجھ بھی رہا ہوں۔۔۔اسی لیے آپ کو وارن کر رہا ہوں کہ سنبھل جائیں۔۔۔آئیندہ میری بیوی کے آس پاس بھی نظر نہ آئیں آپ مجھے۔۔۔۔!!!!
اوہ۔۔۔تو تمہیں آج یاد آ گیا کہ تمہاری بیوی ہے وہ۔۔۔کل ج دوسروں کی وجہ سے اسے سب کے سامنے تھپڑ مارا۔۔۔زلیل کیا۔۔تب تہماری غیرت کہاں تھی۔۔۔تب تمہیں یاد نہی تھا کہ وہ بیوی ہے تمہاری۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
احسن بھی کوئی بچہ نہی تھا۔۔جو اس کی باتیں چپ چاپ سن لیتا۔۔۔۔اب چپ کیوں ہو۔۔۔بولتے کیوں نہی۔۔۔تب نہی یاد تھا تمہیں کہ منال تمہاری بیوی ہے۔۔۔اور ہانی تمہاری دوست۔۔۔!!!!!
تم نے بیوی پر دوست کو فوقیت دی۔۔۔وہ لڑکی جو تمہارے لیے غیر ہے کوئی رشتہ نہی تمہارا اس کے ساتھ۔۔اسے تم ساتھ لیے پھر رہے ہو۔۔۔اور تمہاری بیوی خود کو کمرے میں بند کیے روتی رہی۔۔۔تب نہی یاد تھا تمہیں کہ بیوی ہے وہ تمہاری۔۔۔۔!!!!!
جب تم نے اپنی بیوی پر اپنی دوست کو فوقیت دی۔۔تو ایک پل کے لیے بھی سوچا کہ وہ بیوی ہے تمہاری۔۔۔اس کا دل ٹوٹ گیا ہو گا۔۔۔کتنی تکلیف ہوئی ہو گی اسے۔۔۔!!!
اور جب تم اس لڑکی کے ساتھ پوری رات باہر گزار کر آئے تو سوچا تم نے وہ رات کتنی اذیت میں گزاری اس نے۔۔۔۔تب تمہے یاد نہی آیا کہ وہ بیوی ہے تمہاری۔۔اس کے پاس ہونا چاہیے تھا تمہیں پوری رات۔۔۔نا کہ اپنی دوست کے پاس۔۔۔۔!!!!
شوہر ہونے کا دعوٰی کرتے ہو تو اپنے حق بھی ادا کرو۔۔۔اگر تمہیں یاد آ ہی گیا ہے کہ وہ بیوی ہے تمہاری تو شوہر ہونے کا ثبوت دو۔۔۔اس کا رکھوالا بن کر۔۔۔!!!
تم مجھ پر الزام لگا رہے ہو۔۔۔یہ شک کا بیج بھی ضرور تمہاری دوست کا ہی بویا ہوا ہے۔۔۔جاو یہاں سے اور آئیندہ میرے سامنے مت آنا کہیں میں یہ نا بھول جاوں کے تم چھوٹے بھائی ہو میرے۔۔۔۔!!!!!
آپ مجھے مت سکھائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے کیا نہی۔۔۔میں اچھی طرح جانتا ہوں شوہر کے فرائض۔۔لیکن آپ میری بیوی سے دور رہیں۔۔۔بس اتنا ہی کہنا تھا مجھے۔۔۔کہ کر حنان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔!!!!!!!!
احسن حیران تھا۔۔حنان کے رویے پر۔۔۔اس لڑکے کا کچھ نہی ہو سکتا۔۔۔یہ اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی پاگل بنائے گا۔۔۔اور میں اچھی طرح جانتا ہوں۔۔۔یہ سب کچھ اس ہانی کا کیا دھرا ہے۔۔اسے تو میں دیکھ لوں گا۔۔!!!!
حنان کمرے میں گیا تو منال ویسے ہی بیٹھی تھی ابھی تک۔۔۔حنان اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔۔منال کیا ضرورت تھی تمہیں اپنا ہاتھ احسن کو دکھانے کی۔۔۔حنان غصے میں تھا۔۔۔۔!!!!
کیا ہوا۔۔۔وہ تو مجھے احسن بھائی نے مجھے کہا کہ اپنا ہاتھ دکھاو۔۔تو میں نے دکھا دیا۔۔۔منال ڈرتے ڈرتے بولی۔۔۔۔!!!!
کیا منال تمہیں کوئی کچھ بھی کہے گا تم اس کی بات مان لو گی۔۔۔کتنی بے وقوف ہو تم۔۔۔!!!!
نننہہہی۔۔۔وہ تو احسن بھائی تھے۔۔وہ بہت اچھے ہیں۔۔۔ویسے نہی ہیں جیسا آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔!!!!
شٹ اپ منال۔۔۔آئیندہ میں تمہارے منہ سے احسن کا نام نہی سنوں۔۔۔۔تمہارے منہ پر بس میرا نام ہونا ہونا چاہیے۔۔۔!!!
تم میری ہو بس۔۔۔تمہیں دیکھنے کا۔۔اور تمہیں چھونے کا حق صرف مجھے ہے۔۔۔حنان منال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!
کوئی اور تمہاری طرف دیکھے یا تمہے چھوئے میں یہ برداشت نہی کروں گا۔۔۔حنان کا لہجہ غصے سے بھرا تھا۔۔۔!!!
منال کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔منال کو روتے دیکھا تو حنان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔وہ منال کے تھوڑا قریب ہوا۔۔۔!!!
منال رونا بند کرو۔۔میں بس تمہیں یہ سمجھا رہا تھا کہ تم صرف میری ہو۔۔۔آنسو صاف کرتے ہوئے منال کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!
ہانی بہت مزے سے بیڈ سے ٹیک لگائے لیپ ٹاپ پر مووی دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔تب ہی سامنے سے دروازہ کھولا اور کمرے میں کوئی داخل ہوا۔۔جسے دیکھ کر ہانی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔۔۔!!!!
