Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 21)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 21)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
ماہم اور ہانی اس وقت منال کے ہاتھ پاوں مل رہیں تھیں۔۔لیکن منال کو ہوش نہی آ رہا تھا۔۔۔سب کی سوچنے سمجھنے کی طاقت مفلوج ہو چکی تھی۔۔۔کچھ سمجھ نہی آ رہا تھا کیا کریں۔۔۔۔۔!!!!
ملک صاحب بھی پریشان سے گھر میں داخل ہوئے۔۔۔ان کی حالت بھی سب کے جیسی ہی تھی۔۔۔سامنے ٹی وی پر خبر چل رہی تھی کہ کچھ دیر پہلے دبئی جانےوالی فلائٹ کریش ہو چکی ہے۔۔!!!
جہاز میں عملے سمیٹ ساٹھ پیسینجر تھے۔۔کسی بھی مسافر اور عملے کے بچنے کی کوئی امید نہی۔۔۔لوگ اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے ائیرپورٹ پہنچ رہے ہیں۔۔تا کہ ان کو کوئی خبر مل سکے۔۔۔!!!!!
حیدر نے آگے بڑھ کر ٹی وی بند کر دیا۔۔۔آپ لوگ پریشان نا ہو۔۔۔ہو سکتا ہے۔۔۔یہ کوئی اور فلائٹ ہو۔۔حنان کی فلائٹ پہلے ہی جا چکی ہو۔۔۔یا ابھی گئی ہی نا ہو۔۔۔حیدر سب کو تسلی دینے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔۔!!!!!
لیکن سب اپنی اپنی جگہ پر ایسے کھڑے تھے جیسے یہاں ہو ہی نا۔۔۔چچی جان آپ بیٹھیں یہاں۔۔۔حیدر نے آگے بڑھ کر مسز ملک کو صوفے پر بٹھایا۔۔۔ماما۔۔۔بابا۔۔چاچو آپ سب سنبھالیں اپنے آپ کو۔۔۔حیدر چلا رہا تھا۔۔۔۔!!!!!!
حیدر نے جلدی سے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے احسن کو فون کر کے جلدی گھر آنے کا کہا۔۔۔۔احسن پریشانی میں جلدی جلدی گھر آ گیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
منال ابھی تک بے حوش پڑی تھی۔۔۔احسن جلدی سے منال کی طرف بڑھا۔۔۔منال کا ہاتھ پکڑنے ہی لگا تھا کہ اس کے کانوں میں ایک آواز گونجی۔۔۔میری بیوی سے دور رہو۔۔۔!!!!!
احسن نے زور سے آنکھیں بھینچیں اور منال کا ہاتھ تھام کر چیک کرنے لگ پڑا۔۔۔نبض بہت آہستہ چل رہی تھی۔۔۔۔احسن کے دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی۔۔۔۔۔وہ منال کو اٹھاتے ہوئے تیزی سے باہر کی جانب بڑھا۔۔۔۔!!!!!
حیدر بھی اس کے پیچھے دوڑا۔۔۔بھائی کہاں لے کر جا رہے ہیں بھابی کو۔۔۔احسن اس کی سنے بغیر ہی گاڑی بھگا کر لے گیا۔۔۔۔۔!!!!!
ملک صاحب بھی باہر کی بڑھے۔۔کیا ہوا منال کو۔۔۔۔پریشانی سے بولے۔۔۔۔!!!!!
پتہ نہی چاچو لگتا ہے کوئی سیریس بات ہے۔۔۔لگتا ہے احسن بھائی ہاسپٹل لے گئے ہیں ہم لوگ بھی چلتے ہیں۔۔۔وہ اپنے ہاسپٹل ہی لے کر گئے ہو گے۔حیدر کہتے ہوئے اندر کی طرف بڑھا۔۔!!!!
حیدر میں بھی ساتھ چلوں گی۔۔۔مسز ملک روتے ہوئے بولیں۔۔۔جی چچی جان آپ گاڑی میں بیٹھیں۔۔۔میں بس ابھی آیا۔۔۔حیدر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔!!!
بابا آپ میرے ساتھ چلیں۔۔۔ماہم تم یہی رہو ماما کے ساتھ ہمیں ہاسپٹل جانا پڑے گا۔۔۔ہاں ہاں جلدی چلو۔۔۔۔بڑے ملک صاحب تیزی سے باہر کی جانب دوڑے۔۔ماہم تم مجھے جلدی سے گاڑی کی چابی لا کر دو۔۔۔۔!!!!!
ماہم گاڑی کی چابی لے کر آئی تو حیدر اسے تاکید کرتے ہوئے کہ دروازے اچھی طرح بند کر لو۔۔۔کچھ بھی ہو گھر سے باہر مت نکلنا۔۔۔پتہ نہی کب تک رکنا پڑ جائے ہاسپٹل میں۔۔۔۔کہتے ہوئے حیدر تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!
ڈرائیور اور چوکیدار کو گھر کا خیال رکھنے اور چوکنا رہنے کی تاکید کرتے ہوئے گاڑی بھگا کر لے گیا ہاسپٹل کی طرف۔۔۔۔۔!!!!!
ہاسپٹل پہنچ کر ایمرجنسی کی طرف بڑھا۔۔۔اور ریسیپشن پر منال کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا وہ آئی سی یو میں ہیں۔۔۔اور ڈاکٹر احسن بھی وہاں ہی ہیں۔۔۔۔!!!!!
آئی سی یو کا نام سنتے ہی مسز ملک کے رونے میں روانی آ گئی۔۔۔کیا ہو گیا یہ سب۔۔۔میرے بیٹے کا کچھ پتہ نہی چلا ابھی تک اور بہو بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں۔۔۔۔!!!!
حوصلہ رکھیں بیگم۔۔۔آپ اتنی جلدی ہمت نا ہاریں۔۔اچھے کی امید رکھیں۔۔۔ملک صاحب ان کو حوصلہ دے رہے تھے۔۔۔!!!!
لیکن خود بھی وہ ہمت ہار چکے تھے۔۔انہوں نے ہی تو کہا تھا حنان کو دبئی جانے کے لیے۔۔۔حالانکہ جانے وہ خود جانے والے تھے۔۔۔۔صبح ٹکٹ انہوں نے خود ہی بک کروائی تھی۔۔۔!!!
لیکن انہوں نے زبردستی حنان کو بھیج دیا۔۔۔تا کہ وہ زمہ دار بن سکے۔۔۔۔کب تک زمہ داریوں سے جان چھڑواتا رہے گا۔۔۔آخر اسے ہی تو سنبھالنا ہے سارا بزنس۔۔۔!!!!
لیکن اب وہ خود ہی اپنے فیصلے پر پچھتا رہے تھے۔۔۔پتہ نہی کس حال میں ہو گا میرا بیٹا۔۔۔پتہ نہی ہو گا بھی کہ نہی۔۔۔ملک صاحب پوری طرح ٹوٹ چکے تھے۔۔۔۔۔!!!!
چاچو آپ لوگ یہی رکیں۔۔۔میں ائیرپورٹ جا رہا ہوں۔۔۔جانا تو پڑے گا۔۔۔آپ لوگ دعا کریں کہ ہمارا حنان سہی سلامت ہو۔۔۔حیدر ان کو تسلی دیتے ہوئے۔۔ائیرپورٹ کے لیے نکل گیا۔۔۔۔!!!!!
احسن آئی سی یو۔سے باہر آیا تو باہر سب کو دیکھ کر اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔۔چاچو وہ منال کی حالت بہت زیادہ خراب تھی۔۔۔اگر میں تھوڑی سی بھی دیر کر دیتا ہاسپٹل لانے میں تو اس کا برین ڈیمیج ہو سکتا تھا۔۔۔۔!!!!
اسی لیے میں عجلت میں اسے یہاں لے آیا۔۔۔مجھے اس وقت یہی ٹھیک لگا۔۔۔احسن سر جھکائے بولا۔۔۔۔۔!!!!!
نہی ایسی کوئی بات نہی احسن ہم تم سے ناراض نہی ہیں۔۔۔یہ بتاو اب کیسی طبیعت ہے منال کی۔۔۔ملک صاحب بہت تھکے تھکے سے بولے۔۔۔!!!!
کیسی ہے میری بچی احسن کچھ تو بتاو۔۔۔مسز ملک جلدی سے بولیں۔۔۔۔!!!!!
چچی جان آپ پریشان نہ ہو منال ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔۔اس کے ہوش میں آنے کا انتظار ہے۔۔اس کا ہوش میں آنا بہت ضروری ہے۔۔۔نہی تو۔۔۔۔احسن کہتے کہتے رک گیا۔۔۔!!!!
نہی تو کیا احسن۔۔۔تم کچھ بول کیوں نہی رہے۔۔۔مسز ملک اب باقاعدہ رو رہیں تھیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!
اگر منال کو ہوش نا آیا تو وہ قومہ میں جا سکتی ہے۔۔۔احسن کی بات پر سب کی امیدیں دم توڑ گئیں۔۔۔۔۔مسز ملک بینچ پر گر سی گئیں۔۔۔ایک طرف ان کا بیٹا تھا۔۔اور دوسری طرف بہو۔۔۔!!!!!
حیدر جیسے تیسے ائیرپورٹ پہنچا۔۔۔۔راستے میں بار بار حنان کے نمبر پر کال کرتا رہا لیکن اس کا نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔۔!!!!!!
حنان کے متعلق انفارمیشن لینے کی کوشش کرنے لگ پڑا۔۔۔۔ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی سے اس نے حنان کے بارے میں پوچھا۔۔۔!!!!
ایکسکیوزمی میم کائینڈلی کین یو ٹیل می سمتھنگ اباوٹ ملک حنان۔۔۔؟؟؟؟
ایکچولی ان کی آج دبئی کی فلائٹ تھی۔۔شام چار بجے کے قریب۔۔۔کیا آپ کنفرم کر کے بتا سکتی ہیں کہ وہ کریش ہونے والی فلائٹ میں تھے یا نہی حیدر بہت ہمت جمع کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!
ویٹ اے منٹ سر۔۔۔وہ چیک کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
جِی سر۔۔۔۔وہ اسی فلائٹ میں تھے۔۔۔!!!!!!
حیدر کو لگا جیسے اس کے پاوں کے نیچے زمین ہی نہی رہی۔۔۔۔وہ دیوار کا سہارا لیتے ہوئے پیچھے جا لگا دیوار سے۔۔۔نہی۔۔۔حنان تم ایسے چھوڑ کر نہی جا سکتے ہمیں۔۔۔۔حیدر جیسے اپنے حواس کھو بیٹھا تھا۔۔۔۔!!!!!
وہ لڑکی جلدی سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔سر آپ ٹھیک ہیں۔۔۔پلیز سر ہمت کریں۔۔۔۔آپ وہاں بیٹھیں۔۔باقی کی انفارمیشن دیتی ہوں میں آپ کو۔۔۔۔وہ حیدر کے پاس آتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔!!!!
حیدر خود کو سنبھالتے ہوئے سامنے بینچ پر بیٹھ گیا۔۔۔کچھ دیر بعد وہ ایک لڑکا حیدر کے پاس آیا۔۔۔۔سر ابھی پولیس کاروائی کر رہی ہے۔۔!!!!
پلین پہاڑوں پر کریش ہوا ہے۔۔وہاں پہنچنے میں بہت مشکل ہو رہی ہے پولیس کو۔۔۔۔ساری لاشیں جل چکی ہیں۔۔۔۔!!!!
اور اندھیرا بھی ہو چکا ہے۔۔۔جیسے ہی ہمیں کوئی انفارمیشن ملتی ہے ملک حنان کے بارے میں ہم آپ کو انفارم کر دیں گے۔۔۔۔!!!!!
سر پلیز آپ اپنا کانٹیکٹ نمبر یہاں لکھ دیں۔۔۔تا کہ جیسے ہی ہمیں کوئی انفارمیشن ملے ہم آپ کو بتا سکیں۔۔۔۔!!!!!
حیدر نے فائل تھامتے ہوئے۔۔۔اپنا نمبر لکھا اور وہاں سے نکل آیا۔۔۔کچھ دیر گاڑی میں بیٹھا رہا۔۔۔پھر وہاں سے ہاسپٹل کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔!!!
ہوسپٹل پہنچا تو سب اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگ پڑے۔۔۔احسن حیدر کی طرف بڑھا۔۔۔کیا خبر ہے حیدر۔۔کیا کہتے ہیں ائیرپورٹ والے۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
جو پلین کریش ہوا ہے حنان اسی پلین میں تھا۔۔۔کنفرم ہو گیا ہے۔۔۔حیدر آنکھیں بند کرتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!
حیدر احسن کے گلے لگ کر رونے لگ پڑا۔۔۔۔بھائی یہ سب کیا ہو گیا ہمارے ساتھ۔۔۔۔!!!!!
مسز ملک وہیں بینچ پر گر گئی۔۔۔سب ان کی طرف بڑھے۔۔۔چچی جان اٹھیں کیا ہوا آپ کو۔۔۔۔احسن ان کے ہاتھ ملتے ہوئے بولا۔۔۔!!!
ان کو سٹریچر پر ڈال کر نرس اندر لے گئیں۔۔۔۔ان کا بی پی ڈاون ہو چکا تھا۔۔۔ابھی تک منال کو ہوش نہی آیا تھا اور اب مسز ملک کی بھی طبیعت خراب ہو گئی تھی۔۔۔۔!!!!
تو پھر کیا کہا انہوں نے آئی مین باڈی کب تک ملے گی۔۔۔احسن بہت ہمت کر کے یہ بول پایا۔۔۔اس حادثے نے سب کو توڑ کر رکھ دیا۔۔۔۔!!!
بھائی وہ لوگ کہ رہے تھے جہاں پلین کریش ہوا ہے وہاں پہاڑ ہیں۔۔سب کچھ جل چکا ہے۔۔اندھیرے کی وجہ سے کچھ دکھائی نہی دے رہا۔۔۔!!!!
پولیس اپنی پوری کوشش کر رہی ہے لاشوں کو ڈھونڈنے کی۔۔۔۔جیسے ہی کچھ پتہ چلے گا ہمیں بتا دیں گے وہ لوگ۔۔۔میرا نمبر لکھوا لیا ہے انہوں نے۔۔!!!!!!!
حیدر ایسا کرو تم سب کو گھر چھوڑ کر واپس آ جاو یہاں سب لوگ کب تک بیٹھے رہیں گے یہاں۔۔۔جا کر سب کو کھانا کھلانے کی کوشش کرو اورخود بھی کھانا کھا کر واپس آ جانا۔۔۔۔!!!!
چچی جان کی طبیعت اب بہتر ہے۔۔ان کو میڈیسن کھلا دینا کھانا کھلا کر ان کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔۔۔یہ مشکل وقت ہے ہم سب کے لیے۔۔لیکن ہم سب کو ہمت سے کام لینا پڑے گا۔۔۔!!!!
حیدر ان سب کو لے کر گھر آ گیا۔۔۔ماہم نے زبردستی سب کو کھانا کھلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی۔۔سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔۔۔!!!!!
لیکن مسز ملک کو اس نے زبردستی تھوڑا سا کھانا کھلا کر دوائی کھلا کر کمرے میں چھوڑ آئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
حیدر نے ائیرپورٹ والی ساری بات ماہم کو بتا دی۔۔۔اور منال کی حالت کے بارے میں بتایا۔۔۔ماہم کو بہت دکھ ہوا منال کے لیے۔۔اسے اپنا کل والا رویہ یاد آیا تو روتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
