Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sambhal Ja Zara (Episode 36)

Sambhal Ja Zara by Khanzadi

حنان اور ارسل سانیہ کی بتائی گئی جگہ پر پہنچ چکے تھے۔۔۔چند منٹ بعد سانیہ فہیم کے ساتھ وہاں آ پہنچی۔۔!!!

فہیم کے چہرے پر تاثرات کچھ اچھے نہی تھے۔۔کہاں ہے منال۔۔فہیم آتے ہی بول پڑا۔۔۔!!!!!!

اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں یہاں کیوں ہوتا۔۔حنان ماتھے پر بل ڈالتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!

تمہاری زمہ داری تھی میری بہن حنان۔۔۔صرف نکاح کرنے شوہر بن جانا کافی نہی ہوتا۔۔اور بھی فرائض ہوتے ہیں شوہر کے۔۔اپنی بیوی کا محافظ ہوتا ہے شوہر۔۔اور تم۔۔؟؟؟

تم اپنی بیوی کی حفاظت بھی نہی کر سکے۔۔فہیم نان سٹاپ بولتا چلا گیا۔۔۔مجھے میری بہن واپس چاہیے۔۔جیسے ہی منال مل گئی۔۔میں اسے واپس لے جاوں گا گھر۔۔۔اور تم سے خلا دلواوں گا اسے۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان کڑوے تیور لیے اس کی طرف بڑھا۔۔۔اور فہیم کو گریبان سے پکڑ لیا۔۔۔دوبارہ ایسی بات مت کہنا۔۔بہنوئی ہو اسی لیے لحاظ کر رہا ہوں۔۔ورنہ ابھی زمین میں گاڑ دیتا۔۔۔منال صرف میری صرف میری۔۔اسے مجھ سے کوئی جُدا نہی کر سکتا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!

ارسل اور سانیہ جلدی سے آگے بڑھے۔۔۔حنان چھوڑو فہیم کو۔۔۔ارسل نے چھڑوانے کی کوشش کی۔۔مگر حنان کی گرفت مظبوط تھی۔۔۔!!!!!

بہت جلد ڈھونڈ لوں گا میں اسے۔۔۔مجھے تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہی۔۔۔آئی ایم سوری۔۔سانیہ تمہیں اور تمہارے شوہر کو اس وقت تکلیف دی۔جا سکتے ہو تم لوگ حنان اس کا گریبان چھوڑتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!!!!!؛؛

یہ کیا بدتمیزی تھی حنان۔۔۔یہ وقت لڑنے جھگڑنے کا نہی ہے۔۔ایک دوسرے کا ساتھ دینے کا ہے۔۔۔حنان کو بازو سے کھینچتے ہوئے ارسل نے اسے جانے سے روکا۔۔!!!!!!!

کیا کہا بدتمیزی میں کر رہا ہوں۔۔۔ارسل تم میرے ساتھ ہو یا فہیم کے۔۔۔حنان الٹا اس پر تپ گیا۔۔لڑائی میں نے شروع نہی کی۔۔اس نے شروع کی ہے۔۔۔!!!!!!!!!!

دیکھو حنان۔۔اس وقت سب پریشان ہیں۔۔تم بھی پریشان ہو۔۔فہیم بھی پریشان ہے۔۔منال اگر تمہاری بیوی ہے تو فہیم کی بھی بہن ہے۔۔۔تم دونوں اس وقت پریشان ہو۔۔۔!!!!!!

فہیم جزباتی ہو گیا تھا۔۔کیا ہو گیا یار اگر کچھ کہ بھی دیا اس نے تمہیں تو۔۔۔وہ صرف منال کا بھائی نہی۔۔۔تمہارا بہنوئی بھی ہے۔۔۔۔معزرت کرو۔۔اور فہیم نہی فہیم بھائی بولو۔۔۔!!!!!!!!!!!

ارسل کی بات پر حنان نے بھنوئیں اچکاتے ہوئے ارسل کی طرف دیکھا۔۔۔سوری میں بولو۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

جِی میں تم سے کہ رہا ہوں۔۔۔حنان کی نظر آنسو بہاتی سانیہ پر پڑی۔۔تو وہ گہری سانس لیتے ہوئے فہیم کی طرف بڑھا۔۔۔آئی ایم سوری۔۔۔فہیم۔۔۔میرا مطلب ہے فہیم بھائی۔۔۔ارسل کے گھورنے پر اس نے جملہ مکمل کیا۔۔۔!!!!!!!!!!

آئی ایم سوری ٹو۔۔میں جزبات میں کچھ زیادہ ہی بول گیا۔۔۔مجھے اندازہ ہو چکا ہے تمہیں منال کی فکر ہے۔۔جو شخص اپنی بہن کے سامنے بیوی کی محبت میں بہنوئی کا گریبان پکڑ سکتا ہے۔وہ اپنی بیوی سے سچی محبت کرتا ہے۔۔۔۔!!!!!!!

آخرِی جملہ فہیم مسکراتے ہوئے بولا۔۔تو حنان نے آگے بڑھ کر فہیم کی شرٹ ٹھیک کی۔۔۔اور مسکرا دیا۔۔۔!!!!!!!

سانیہ اور ارسل بھی مسکرا دئیے۔۔ہممم اٹس اوکے حنان۔۔۔ارسل نے اسے گلے لگا لیا۔۔۔۔اب یہ بتاو کرنا کیا ہے۔۔۔فہیم اسے خود سے الگ کرتے ہوئے بولا۔۔!!!!!!!!!!!!

ہم یہاں اس لیے آئے تھے کہ شاید منال کا کچھ پتہ چل سکے۔۔آپ کے کوئی اور ریلیٹوز۔۔کہی منال کسی ریلیٹو کے گھر یا اپنی کسی دوست کے گھر چلی گئی ہو۔۔۔!!!!!!!

نہی حنان۔۔ہمارے یہاں کوئی رشتہ دار نہی ہیں۔۔۔اور منال کی بس ایک ہی دوست تھی۔۔وہ بھی اب یہاں سے کہی اور شفٹ ہو چکی ہے۔۔۔اور شادی کے بعد منال کا اس سے کوئی رابطہ نہی ہو سکا۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

لیکن حنان ایسا ہوا کیا تم دونوں کے درمیان جو منال نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا۔۔۔سانیہ جب سے آئی تھی اب بولی تھی۔۔۔!!!!!!!!!!

حنان نے پیج نکال کر سانیہ کی طرف بڑھ دیا۔۔۔اور ویڈیو پلے کر کے فون بھی بڑھا دیا۔۔سانیہ نے پڑھ کر فہیم کی طرف بڑھا دیا۔۔دونوں نا سمجھی سے فہیم کی طرف دیکھنے لگ پڑے۔۔۔۔!!!!!!!!!

یہ سب کیا دھرا ماہم اور ہانی کا ہے۔۔۔اور ایک غلطی مجھ سے ہوئی جو میں ماہم کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔یہی غلطی میرے گلے کا پھندا بن گئی۔۔اور میری خوشیوں کو نگل گئی۔۔حنان کا لہجہ درد بھرا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!

فہِیم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔تم پریشان مت ہو۔۔حنان ہم سب تمہارے ساتھ ہیں۔۔۔مل کر ڈھونڈ لیں گے ہم منال کو۔۔۔تم اپنی طرف سے کوشش کرو۔۔۔میں اپنی طرف سے منال کو تلاش کرتا ہوں۔۔۔!!!!!

منال جتنی تمہیں عزیز ہے اتنی ہی مجھے بھی۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔جب بھی میری ضرورت محسوس ہو۔۔یاد کر لینا بس اپنے بھائی کو۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!

اب ہم چلتے ہیں۔۔گھر پر کسی کو بتا کر نہی آئے ہم۔۔اگر ابھی گھر نہی گئے تو کہی اماں اور بابا پریشان نا ہو جائیں۔۔!!!!!!!

ہمممم ٹھیک ہے۔۔حنان نے فہیم کو گلے لگا کر خدا حافظ کہا۔۔۔اور سانیہ کی طرف بڑھا۔۔میری دعا ہے کہ تم ہمشہ خوش رہو۔۔۔تمہارا لائف پارٹنر بہت اچھا ہے۔۔تمہاری چوائس بیسٹ ہے۔۔۔!!!!!!!

سانیہ نے آگے بڑھ کر اپنے اکلوتے بھائی کو گلے سے لگا لیا۔۔اور میری بھی دعا ہے کہ تمہیں منال جلد ازجلد مل جائے۔۔۔آمین۔۔کہ کر مسکراتے ہوئے سانیہ اس سے الگ ہوتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔۔فہیم پہلے ہی گاڑی میں بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!

اب کیا کرنا ہے حنان۔۔۔ان کے جاتے ہی ارسل پریشانی سے حنان کی طرف بڑھا۔۔۔!!!!!!!

تم گھر جاو ارسل میں گھر نہی جا سکتا۔۔جب میں گھر جاتا ہوں۔۔مجھے منال نظر نہی آتی گھر میں۔۔اور ماہم۔۔۔جب جب اس کو دیکھتا ہوں۔۔میرا دل کرتا ہے جان سے مار دوں اسے۔۔۔!!!!!!!!

حنان صبر سے کام لو۔۔اگر اسی طرح چلتا رہا تو تم پاگل ہو جاو گے۔۔خود کو سنبھالو اور ہمت سے کام لو۔۔اس طرح تو کبھی نہی ڈھونڈ سکتے تم منال کو۔۔کچھ کھایا بھی نہی ہو گا تم نے ابھی تک۔!!!!!!!!!!!!!

پہلے کچھ کھا لو۔۔پھر آگے بڑھنا۔۔۔اور اب تم جاو گے بھی تو کہاں۔۔۔ہر جگہ دیکھ چکے ہو تم۔۔اب تو صبح ہونے والی ہے۔۔۔چلو میرے ساتھ میرے گھر کچھ کھا لو۔۔۔گھر نا جاو میری طرف چلو۔۔۔ارسل اسے زبردستی گاڑی میں بٹھا دیا۔۔۔!!!!!!!!!

ارسل نے زبردستی حنان کو کھانا کھلایا۔۔اور میڈیسن میں نیند کی گولی ملا کر کھلا دی تا کہ یہ کچھ دیر سو سکے۔۔۔میڈیسن کھلانے کے بعد ارسل نے اسے وہی سونے کو کہا۔۔لیکن حنان سونا نہی چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!

وہ ضد کر رہا تھا کہ اسے جانا ہے منال کو ڈھونڈنے۔۔آہستہ آہستہ اس کا سر بھاری ہونے لگ پڑا۔۔۔اور وہ نا چاہتے ہوئے بھی وہیں بیڈ پر گر سا گیا۔۔۔ارسل نے اس کے شوز اتروا کر اس پر کمبل اوڑھ دیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!

اور لائٹ آف کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔اور باہر جاتے ہی حیدر کو کال کر کے بتا دیا کہ حنان اس کے گھر تا کہ گھر والے پریشان نا ہو جائیں۔۔۔!!!!!!!!

اگلِی صبح منال کمرے سے باہر آئی تو شمائلہ آپا ناشتے کی میز پر بیٹھی تھیں۔۔وہ شاید منال کا انتظار کر رہی تھیں۔۔۔۔!!!!!!!!!!

منال کو باہر آتے دیکھا تو مسکرا دیں۔۔۔آو عینی بیٹا۔۔میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔بہت وقت گزر گیا کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے ہوئے۔۔۔۔!!!!!!!

پانچ سال ہو گئے احمد کو یہاں سے گئے ہوئے۔تب سے اکیلے کھانے پینے کی عادت سی ہو گئی ہے۔۔مگر آج میں بہت خوش ہوں۔۔۔تمہارے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کروں گا۔۔۔!!!!!!!!!

منال ہچکچاتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔احمد کون۔۔آپا میں کچھ سمجھی نہی۔۔۔منال نا سمجھی سے بولی۔۔۔!!!!!!!!

ارے ہاں وہ میں تمہیں بتانا بھول گئی۔۔احمد میرا اکلوتا بیٹا ہے۔۔۔جو سٹڈی کے لیے باہر کے ملک گیا ہوا ہے۔۔۔ایک دو دن واپس آنے والا ہے۔۔۔پھر ہم کراچی چلے جائیں گے۔۔۔!!!!!!!!

کراچی کیوں آپا۔۔۔۔منال کو ان کی بات پر حیرانگی سی ہوئی۔۔۔!!!؛؛؛؛؛

بیٹا کیوں کہ میرا گھر کراچی میں ہے۔۔یہاں تو میں ایک بزنس میٹنگ کے لیے آئی تھی۔۔یہ گھر بھی میرا ہی ہے۔۔جب اصغر صاحب۔۔میرا مطلب میرے شوہر زندہ تھے تب ہم یہی رہتے تھے۔۔۔احمد کے ساتھ۔۔۔۔!!!!!!!!!!

مگر ان کے گزرنے کے بعد میرا یہاں رہنا مشکل ہو گیا تھا۔۔اسی لیے میں نے کراچی میں گھر خرید لیا۔۔اپنے مائیکے کے پاس۔۔۔بزنس بھی سنبھالنا تھا۔۔اور احمد کو بھی۔۔۔ایسے میں مجھے احمد کو دس سال کی عمر میں بورڈنگ سکول بھیجنا پڑا۔۔۔!!!!!!

بہت مشکل وقت گزارا ہے میں نے اپنے بیٹے کے بغیر۔۔اب تو جیسے ساری دعائیں پوری ہونے والی ہیں۔۔۔اب بس پڑھائی مکمل ہو گئی اس کی۔۔۔اب خود سے مزید دور نہی جانے دوں گی میں اپنے بیٹے کو۔۔۔!!!!!!!!!!!!

تم شروع کرو ناشتہ۔۔میں بھی نا کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی ہوں۔۔یہ باتیں تو پھر کبھی بھی ہو جائیں گی۔۔۔منال سوچ میں پڑ چکی تھی۔۔۔پتہ نہی گھر میں سب کیسے ہو گے۔۔۔پتہ نہی میں نے ٹھیک کیا یا نہی۔۔۔کوئی بات نہی آہستہ آہستہ سب بھول جائیں گے۔۔۔۔!!!!!!!!!

حنان کی آنکھ کھلی تو خود کو ارسل کے گھر میں پایا۔۔جلدی سے اٹھ کر باہر کی طرف دوڑا۔۔۔مجھے منال کو ڈھونڈنے جانا تھا۔۔اور میں سو گیا۔۔۔شٹ۔۔!!!!!!!!

ارسل نے حنان کو باہر جاتے دیکھا تو اس کے پیچھے چل پڑا۔۔۔رکو حنان میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔۔۔حنان نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو ارسل گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔حنان نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *