Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 10)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 10)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
منال کو سوئے ابھی کچھ دیر ہی ہوئی تھی کہ اس کے کانوں میں حنان کی آواز پڑی۔۔۔ منال۔۔۔حنان منال کے پاس کھڑا اسے آوازیں دے رہا تھا۔۔منال جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔!!
کھانا نا کھا کر کیا ثابت کرنا چاہتی ہو تم۔۔۔کہ تم پر بہت ظلم کر رہا ہوں میں۔۔غلام بنا کر رکھا ہے تمہیں۔۔۔۔بتاو۔۔۔بول کیوں نہی رہی اب۔۔۔!!
نہی۔۔آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔میں تو آپ کے آنے کا انتظار کر رہی تھی بس اور کچھ نہی۔۔۔۔منال نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔۔۔!!
سب جانتا ہوں میں تم مجھ سے بدلہ لینا چاہتی ہو۔۔۔میں نے تمہیں تمہارے گھر والوں سے دور کیا ہے تو تم بھی مجھے میرے گھر والوں سے دور کرنا چاہتی ہو خود کو مظلوم ظاہر کرتے ہوئے۔۔۔۔!!
لیکن ایک بات یاد رکھنا۔۔۔۔حنان منال کا جبڑا دبوچتے ہوئے بولا۔۔۔تمہاری ان سازشوں کو میں کامیاب نہی ہونے دوں گا۔۔۔!!
کہ کر منال کو چھوڑ دیا۔۔۔۔منال صوفے پر جا گری۔۔۔ایسی سازشیں بنانا اور ان کو پایا تکمیل تک پہچانا آپ کا کام ہے ملک حنان۔۔۔۔منال اٹھتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!
منال کا لہجہ نفرت بھرا تھا۔۔۔!!
حنان غصے سے منال کی طرف بڑھا۔۔۔اور اسے بالوں سے دبوچتے ہوئے اپنے سامنے لایا۔۔۔آئیندہ میرے لیے میں نفرت کا اظہار مت کرنا ورنہ انجام اچھا نہی ہو گا۔۔۔۔!!
انجام کی فکر نہی ہے اب مجھے اب تو ظلم کی انتہا دیکھنے کی فکر ہے۔۔۔دیکھتی ہوں کہاں تک ظلم میرا مقدر بنتے ہیں۔۔۔منال بنا ڈرے بولی۔۔۔!!!
میں ظلم کی انتہا کر دوں گا اور تب تک کرتا رہوں گا جب تک تم مر نہی جاتی۔۔۔حنان نفرت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔اور ساتھ ہی منال کے بال چھوڑ دئیے۔۔۔!!
منال ہنس دی۔۔۔بس ملک حنان بس اتنا ہی ظلم کر کے تھک گئے آپ تو۔۔۔۔ابھی تو پوری زندگی پڑی ہے۔۔۔خود کو تیار کر لیں۔۔۔مجھے لگتا ہے آپ کمزور پڑ رہے ہیں۔۔۔منال مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔!!
حنان حیران تھا منال اس کے سامنے بول کیسے رہی ہے۔۔۔ڈرپوک سی منال بولنے کیسے لگی تھی۔۔۔وہ کمرے سے نکل گیا۔۔اور کچھ دیر بعد ہاتھ میں کھانے کی ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔!!
یہ کھانا کھاو جلدی سے مجھے سونا بھی ہے۔۔۔۔حنان ٹرے منال کے سامنے رکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!
مجھے بھوک نہی ہے میری بھوک ختم ہو چکی ہے۔۔۔منال نے نفرت سے منہ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!
حنان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔اسے منال کو بول کر جانا چاہیے تھا کہ کھانا کھا لے میرا انتظار مت کرے میں لیٹ ہو جاوں گا۔۔۔۔لیکن وہ اپنی غلطی ماننا نہی چاہتا تھا۔۔۔!!
منال چپ چاپ کھانا کھاو نہی تو میں تمہیں اٹھا کر اس کھڑکی سے نیچے پھینک دوں گا۔۔حنان کھڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!
تو پھینک دیں مجھے ڈر نہی لگتا۔۔۔منال بھی اسی کے انداز میں بولی۔۔۔!!
حنان بہت مشکل سے اپنے غصے کو ظبط کیے بیٹھا تھا۔۔۔وہ منال کی طرف بڑھا۔۔۔!!
حنان صوفے پر بیٹھ گیا منال کے ساتھ۔۔۔اور اس کے لیے پلیٹ میں سالن ڈال کر روٹی کا نوالہ اس کی طرف بڑھایا۔۔۔!!
منال تو حیران ہی رہ گئی حنان کے اس رویے پر۔۔وہ تو سمجھی تھی حنان اسے اٹھا کر نیچے ہھینکنے لگا ہے۔۔۔لیکن یہ تو الٹ ہی ہو گیا۔۔منال کو اپنی آنکھوں پر یقین نہی آ رہا تھا۔۔۔!!
چلو اب کھا بھی لو۔۔۔اتنا حیران ہونے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔بیوی ہو میری اتنا تو حق بنتا ہے میرا۔۔۔!!!
میں خود کھا لوں گی منال گھبراتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!!!!!!
کیوں مجھ پر اعتبار نہی ہے کیا۔۔۔حنان اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!
آپ کی کس بات پر اعتبار کروں میں اور کس بات پر اعتبار نہ کروں یہ بھی بتا دیں مجھے۔۔۔منال چہرہ دوسری طرف کرتے ہوئے بولی۔۔۔!!
ہر اس بات پر جو میں کہوں۔۔۔مطلب میری ہر بات ہر یقین کرنا پڑے گا تمہیں۔۔۔یہ میرا حکم ہے۔۔۔!!!!
میں خود کھا لوں گی آپ رہنے دیں۔۔۔منال حنان کے ہاتھ سے نوالہ لے کر پلیٹ میں رکھتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!
اوکے جلدی کھالو پھر مجھے صبح آفس جانا ہے جلدی اٹھنا پڑے گا۔۔۔ورنہ اگر لیٹ ہو گیا تو ملک صاحب جاب سے نکال دیں گے مجھے۔۔۔۔!!!!
حنان کی بات پر منال مسکرا دی۔۔۔اور حنان بھی مسکرا دیا۔۔۔ہاں نا۔۔۔نکال بھی سکتے ہیں۔۔۔۔کہ کر حنان بستر پر لیٹ گیا جب تک منال نے کھانا ختم نہی کر لیا۔۔۔اسے دیکھتا رہا۔۔۔!!
جب منال کھانا کھا کر برتن رکھ کر واپس آ کر سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔ تو حنان بھی سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔!!
سہی کہ رہا تھا ارسل آخر اس سب میں منال کی کیا غلطی ہے۔۔غلطی تو فہیم اور سانیہ کی تھی۔۔۔تو میں منال کے ساتھ یہ سب کیوں کر رہا ہوں۔۔حنان سوچتے سوچتے سو گیا۔۔کہی نا کہی اسے احساس ہو رہا تھا اپنی غلطیوں کا۔۔۔مگر انا اس کے آڑے آ رہی تھی۔۔۔وہ ماننا ہی نہی چاہتا تھا اپنی غلطیوں کو۔۔۔۔۔!!
صبح حنان نے اپنے کپڑے نکالنے کے لیے الماری کھولی تو غصہ سے بے قابو ہوتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔منال کچن میں ناشتہ کی تیاری کر رہی تھی شبانہ کے ساتھ مل کر۔۔۔۔!!
حنان بھنبھناتا ہوا منال کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے کچن میں آیا۔۔۔منال اوپر آو زرا دو منٹ کے لیے۔۔۔کہتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!
منال بھی اس کے پیچھے اوپر چل دی۔۔۔اب پتہ نہی کیا ہو گیا۔۔۔سوچتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔!!!!!!!
حنان غصیلی نظروں سے الماری کے پاس کھڑا منال کو گھور رہا تھا۔۔۔!!
جی۔۔۔کیا ہوا۔۔۔منال آخر کار خود ہی بول پڑی۔۔۔حنان تو بس اسے ہی گھوری جا رہا تھا۔۔۔!!
کیا ہے یہ سب کس سے پوچھ کر تم نے اپنا سامان میری الماری میں رکھا۔۔۔اور کس نے اجازت دی تمہیں کہ میری الماری کو ہاتھ لگاو۔۔۔۔حنان غصے سے بولا۔۔۔۔!!!!
لیکن میں نے تو۔۔۔۔منال ابھی بولنے ہی لگی تھی کہ حنان نے اسے ٹوک دیا.۔۔۔!!
لیکن ویکن کچھ نہی باہر نکالو یہ سب کچھ ابھی کے ابھی۔۔۔حنان نے جیسے حکم دیا منال کو۔۔۔۔منال جلدی سے الماری کی طرف بڑھی۔۔۔!!!!
تب ہی مسز ملک کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔رکو منال۔۔۔ان کی آواز پر منال رک گئی۔۔۔جی ممی۔۔۔!!!
منال تم نیچے جاو زرا میں سیٹ کر دوں گی الماری۔۔۔وہ حنان کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!!
منال کبھی ان کی طرف دیکھتی تو کبھی حنان کی طرف۔۔۔اب کس کی بات مانتی وہ۔۔۔۔منال جاو نیچے۔۔۔میں آتی ہوں۔۔۔۔مسز ملک نے دوبارہ کہا تو منال کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔!!!!
مام آپ کیوں کریں گی یہ سب منال کی غلطی ہے۔۔وہ خود کرے گی سیٹ۔۔۔۔حنان منال کے جاتے ہی بول پڑا۔۔۔!!!
اس میں منال کی غلطی نہی ہے۔۔۔یہ سارا سامان میں نے سیٹ کروایا ہے۔۔۔۔یہ کمرہ منال کا بھی ہے۔۔اور یہ الماری بھی۔۔۔مسز ملک حنان کے ڈریس باہر نکالتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!
کیا مطلب مام یہ میرا کمرہ ہے اور الماری بھی میری ہے۔۔۔۔منال کو آپ کوئی اور الماری دے دیں۔۔میں اپنی الماری منال کے ساتھ شئیر نہی کر سکتا۔۔۔حنان حیرانگی سے بولا۔۔۔۔!!!
اب تمہیں سب کچھ شئیر کرنا پڑے گا منال کے ساتھ۔۔۔اور خبردار جو اس کے کپڑے الماری میں سے باہر نکالے تو۔۔۔۔۔اچھا نہی ہو گا۔۔۔یہ اس کا بھی کمرہ ہے اور اس کمرے کی ہر چیز پر اس کا بھی اتنا حق ہے جتنا تمہارا۔۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گئیں۔۔۔!!!
اور حنان کندھے اچکاتے ہوئے چینج کرنے کے لیے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔!!!
ناشتہ کرنے کے بعد حنان اور ملک صاحب آفس کے لیے نکل گئے۔۔۔منال بھی ناشتہ کر کے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔یہ سوچتے ہوئے کہ حنان نے پتہ نہی کیا حال کیا ہو گا کمرے کا۔۔۔!!!
کمرے میں گئی تو کمرہ بلکل ٹھیک تھا اور منال کے کپڑے بھی الماری میں تھے۔۔۔منال نے سکھ کا سانس لیا۔اور بیٹھ گئی آرام سے صوفے پر۔۔۔۔!!!!
ابھی بیٹھی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ ناک ہوا۔۔۔منال جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔سامنے احسن دروازے میں کھڑا تھا۔لیپ ٹاپ اٹھائے۔۔۔!!!!
منال یہ لیپ ٹاپ حنان کو دے دیجیے گا۔۔۔مجھے یاد نہی رہا صبح واپس کرنا۔۔جب یاد آیا تو حنان آفس جا چکا تھا۔۔۔احسن لیپ ٹاپ لے کر منال کی طرف بڑھا۔۔۔۔!!!!
منال نے احسن سے لیپ ٹاپ تھام کر سٹڈی روم میں رکھ دیا۔۔واپس آئی تو احسن جا چکا تھا۔۔۔احسن بھی ہوسپٹل کے لیے نکل گی۔۔۔!!
منال تھوڑی دیر بعد دادو کو کمرے سے باہر لان میں لے گئی دھوپ میں۔۔مسز ملک بھی وہی آ گئیں۔۔۔تینوں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔۔۔!!
دن اسی طرح گزرتے گئے۔۔۔۔منال کو یہاں آئے ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ٹائم ہو چکا تھا۔۔۔حنان کا رویہ ابھی بھی ویسا ہی تھا۔۔کبھی بہت اچھا ہو جاتا تو کبھی بہت روکھا سا رویہ رکھتا وہ منال کے ساتھ۔۔۔!!!!
باقی سب گھر والوں کا رویہ ٹھیک تھا منال کے ساتھ ملک صاحب بھی منال کو قبول کر چکے تھے۔۔۔منال نے اپنے اچھے رویے اور اچھے اخلاق سے سب کا دل جیت لیا تھا۔۔۔۔۔!!!!
احسن زیادہ تر مصروف ہی رہتا تھا ہاسپٹل میں گھر کم ہی آتا تھا۔۔۔رات کو سب کے سونے کے بعد آتا اور صبح سب کے جاگنے سے پہلے نکل جاتا۔۔۔اور کبھی کبھی تو پوری رات گھر نہ آتا۔۔۔!!!
منال کو گھر والوں کی بہت یاد آتی تھی مگر کسی سے کہتی نہی تھی۔۔۔مسز ملک کئی بار منال کی اداسی محسوس کر چکی تھیں۔۔۔مگر وہ اس کے لیے کچھ کر نہی سکی۔۔۔!!!!
ملک صاحب آپ سے ایک بات کرنی تھی۔۔۔ملک صاحب لان میں بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے۔۔۔ان کو اکیلے بیٹھے دیکھ وہ ان کے پاس آ بیٹھیں۔۔۔!!!!
جی جی کہیے۔۔۔آپ کو کب سے ضرورت پڑنے لگ پڑی اجازت لے کر بات کرنے کی۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔۔!!!
ملک صاحب منال کو یہاں آئے ہوئے ایک ماہ سے زیادہ ٹائم ہو چکا ہے۔۔۔میں سوچ رہی تھی کیوں نا منال اور حنان کے ریسیپشن کا فنکشن رکھ دیا جائے۔۔۔۔ساری فیملی سے انٹروڈکشن کروا دینا چاہیے ہمیں اب منال کا۔۔۔!!!!
آخر یہ بات کب تک چھپی رہ سکتی ہے سب سے احسن تو گھر کا بچہ ہے وہ گھر کی بات باہر نہی نکالے گا لیکن۔۔۔باقی سارے خاندان کو کیا جواب دیں گے ہم۔۔۔۔یہ سب تو سوچنا ہی پڑے گا ہمیں۔۔۔۔!!!!!!
اور پھر حنان ہمارا اکلوتا بیٹا ہے۔۔میرا دل کرتا ہے اس کی خوشیاں دیکھنے کو۔۔۔کتنے ارمان تھے میرے حنان کو دلہا بنا دیکھنے کو۔۔۔اس نے سارے ارمان مٹی میں ملا دیے۔۔۔!!!!
ہممم کہ تو ٹھیک رہی ہیں آپ بیگم صاحبہ مجھے کوئی اعتراض نہی۔۔۔آپ اپنے صاحبزادے سے ایک بار بات کر لیں۔۔۔کہی اسے کوِئی اعتراض نہ ہو۔۔۔یہ ضروری ہے۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولے۔۔۔۔!!!!
ہاں وہ تو ہے۔۔۔ویسے اس کی یہ ساری عادتیں آپ پر ہی تو گئیں ہیں۔۔۔ضدی۔۔اپنی بات منوا کر چھوڑتا ہے۔۔۔!!!
ہاہاہاہا ان کی بات پر ملک صاحب کھلکھلا کر ہنس دئیے۔۔ہاں وہ تو ہے لیکن اب جب خود باپ بنا ہوں تو احساس ہوا ہے کہ جب ماں باپ کو ستاتا تھا تو ان کو کیسا محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔۔!!!!
ہاں خیر چھوڑیں یہ سب باتیں آپ کے لیے چائے لے کر آتی ہوں۔۔۔مسکراتے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔!!!!
رات کو جب حنان کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ پر آفس کا کوئی ضروری کام کر رہا تھا تو مسز ملک کمرے میں آئیں۔۔۔۔!!!!
حنان ایک ضروری بات کرنی تھی تم سے وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔۔۔منال کمرے میں نہی تھی۔۔۔!!!!!!!!!!!
جی مام بتائیں میں سن رہا ہوں۔۔۔حنان لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر بولا۔۔۔۔۔!!!!
ہم سوچ رہے تھے۔۔۔مطلب تمہارے ڈیڈ اور میں نے سوچا ہے کیوں نا تمہارا اور منال کا ایک ریسیپشن فنکشن رکھا جائے۔۔۔جس میں ساری فیملی کو انوائٹ کیا جائے۔۔۔تا کہ سب سے منال کا تعارف ہو جائے۔۔۔۔تم کیا کہتے ہو۔۔۔۔؟؟؟
منال نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر ان کی طرف دیکھا۔۔۔مام کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟؟؟ حنان کو جیسے یقین نہی آیا ان کی بات کا۔۔۔۔۔!!!!!
نو وے ایسا کچھ بھی سوچنا بھی مت آپ لوگ۔۔۔مجھے منال میں کوئی انٹرسٹ نہی ہے۔۔۔یہ نکاح میں نے کوئی اپنی خوشی کے لیے نہی کیا۔۔۔اور نہ ہی خاندان والوں کو دکھانے کے لیے۔۔۔۔!!!!
اٹس جسٹ آ ڈیل مام نتھنگ ایلز۔۔۔۔۔!!!!!!!
کمرے میں آتی منال کے قدم ان الفاظ پر کمرے سے باہر ہی رک گئے۔۔۔اس میں آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہی رہی۔۔۔۔!!!
حنان کی بات پر مسز ملک غصے میں آ گئیں۔۔۔۔تو یہ سب کچھ کیا ہے حنان۔۔۔۔تم ہر بات اپنی منوانا چاہتے ہو۔۔۔کیوں ایسا کر رہے ہو اس بچی کے ساتھ۔۔۔۔؟؟؟
آخر بگاڑا کیا ہے اس نے تمہارا۔۔۔۔؟؟؟؟ تم نے اس سے نکاح اس کے بھائی سے بدلہ لینے کے لیے کیا۔۔۔۔لیکن جو بھی ہو اب وہ بیوی ہے تمہاری۔۔۔۔اسے عزت دینا فرض ہے تمہارا۔۔۔۔اسے کوئی مقام دو معاشرے میں۔۔۔۔!!!!
حنان کے فون کی رنگ ٹون بجی۔۔۔اور وہ ان کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فون کان سے لگائے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔منال وہی کھڑی تھی حنان کو آتے دیکھ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!
حنان دیکھ چکا تھا منال کو۔۔۔۔لیکن نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!
منال کمرے میں داخل ہوئی تو مسز ملک رو رہی تھیں۔۔۔۔منال جلدی سے ان کی طرف بڑھی۔۔۔ممی آپ کیوں رو رہی ہیں۔۔۔۔یہ سب تو تقدیر کا لکھا ہے۔۔مجھے کوئی اعتراض نہی ہے۔۔۔۔!!!
میں خوش ہوں۔۔۔جیسے میرا اللہ مجھے خوش رکھے۔۔۔اگر اللہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔آپ پریشان نہ ہوا کریں میرے لیے۔۔۔آپ سب ہیں نہ میرے ساتھ۔۔۔۔!!!!
مسز ملک نے منال کو گلے سے لگا لیا۔۔۔وہ خوش تھیں کہ اللہ نے ان کو اتنی صابر اور بیٹی جیسی بہو عطا کی ہے۔۔۔!!!!!
اللہ میری بیٹی کی زندگی کو خوشیوں سے بھر دے آمین۔۔۔کہتے ہوئے انہوں نے منال کا ماتھا چوما۔۔۔منال نے بھی ان کے ہاتھ چومے۔۔۔۔چلیں آپ آرام کر لیں اب ممی۔۔۔صبح پھر جلدی اٹھنا ہو گا۔۔۔!!!
ہممم مسز ملک مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔بظاہر تو وہ مسکرا رہی تھیں۔۔۔لیکن ان کا دل اداس ہو چکا تھا۔۔۔۔!!!!
کچھ ہی دیر بعد حنان کمرے میں داخل ہوا۔۔لیکن وہ اکیلا نہی تھا۔۔۔اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی۔۔جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس۔۔۔میک اپ کیے۔۔۔حنان کے بازو میں ہاتھ ڈالے اس کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔!!!!!
ہنی یہ لڑکی کون ہے۔۔۔اور تمہارے کمرے میں کیا کر رہی ہے۔۔۔وہ بنا سلام کیے منال کی طرف تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!
منال نے آگے بڑھ کر اسے سلام کیا۔۔۔۔اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔!!!!
ہنی ٹیل می۔۔۔کون تھی وہ۔۔۔۔وہ پھر سے بولی۔۔۔۔۔!!!!!!
شی از مائی وائف۔۔۔۔منال۔۔۔!!!
واٹ۔۔۔۔وہ چلائی۔۔۔ہنی تم نے شادی کر لی۔۔۔تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو۔۔۔میں کچھ دنوں کے لیے تم سے دور کیا گئی۔۔۔تم نے شادی کر لی۔۔۔۔!!!
ریلیکس ہانی۔۔۔اٹس جسٹ آ ڈیل۔۔۔شی از جسٹ مائی وائف نتھنگ ایلز۔۔۔۔۔!!!
نہی مجھے تم پر یقین نہی کرنا اب میں جا رہی ہوں ابھی واپس لندن۔۔۔تم نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے ہنی۔۔۔۔میری مام سہی کہتی تھیں۔۔۔تم پاکستانی لڑکے کسی ایک کہ ہو کر نہی رہ سکتے۔۔۔پھر بھی میں نے تم سے پیار کیا۔۔اور تم نے شادی کر لی۔۔۔۔!!!!!!!
ہانی لسن۔۔۔۔ایسا کچھ نہی ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو۔۔۔میں تم سے ہی شادی کروں گا۔۔۔ڈونٹ وری۔۔۔بی ریلیکس۔۔۔تم بیٹھو یہاں سب بتاتا ہوں میں تمہیں۔۔۔۔!!!!
حنان زبردستی ہانی کو بٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔اور اسے ساری بات بتا دی۔۔۔سانیہ کی شادی سے لیکر اپنے نکاح تک۔۔۔۔!!!!
حنان جو بھی ہوا ہو مجھے پرواہ نہی تم اس لڑکی کو نکالو اپنی زندگی سے۔۔۔میں تمہارا نام کسی اور کے نام کے ساتھ برداشت نہی کر سکتی۔۔۔۔!!!!!
ڈونٹ وری۔۔۔بہت جلد میں اسے نکال دوں گا اپنی زندگی سے تم ناراض مت ہو۔۔۔ہانی میں تمہاری ناراضگی برداشت نہی کر سکتا۔۔۔!!!
منال کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو اس کے ہوش اڑ گئے۔۔۔اس نے تو کبھی سوچا بھی نہی تھا ایسا۔۔۔وہ تو یہ سوچتی تھی کہ جیسے جیسے وقت گزرے گا حنان کا رویہ ٹھیک ہو جائے گا اس کے ساتھ۔۔۔مگر وہ تو اسے اپنی زندگی سے باہر نکالنے کا سوچ رہا تھا۔۔۔۔!!!!!!
منال کمرے میں داخل ہوِئی تو حنان ہانی کو لے کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔آو تمہارا کمرہ دکھا دوں میں تمہیں۔۔۔ہانی ایک غصیلی نظر منال پر ڈالتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔!!!
منال سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔۔حنان دو گھنٹے بعد کمرے میں داخل ہوا۔۔۔اور آ کر لیپ اٹھا کر سائیڈ پر رکھ کر سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔منال ابھی تک جاگ رہی تھی۔۔۔منہ پر کمبل اوڑھے وہ سونے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔لیکن نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔!!!!!
