Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 08)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 08)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
حنان پیچھے ہٹا تو منال نے آنکھیں کھول دیں۔اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ حنان نے اسے کچھ نہی کہا۔۔۔وہ اب اس کشمکش میں تھی کہ نیچے جائے یا یہی بیٹھی رہے۔۔۔کہی میرے کمرے سے جانے سے حنان ناراض نہ ہو جائیں۔۔۔!!
سوچتے سوچتے تھک گئی۔۔۔تو وہی بیٹھ گئی۔۔۔کہ کہی حنان ناراض نہ ہو جائیں۔۔۔!!
حنان شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوئے واش روم سے باہر آیا تو سامنے منال کو بیٹھے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔۔۔تم ابھی تک یہی ہو۔۔۔؟؟
حنان کی آواز پر منال جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔وہ میں آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔کہ آپ آئیں تو نیچے جاوں میں۔۔۔!!
منال کی بات پر حنان نے بھںوئیں اچکائیں۔۔۔۔اچھا ٹھیک ہے جاو دیکھو جا کر لنچ تیار ہے یا نہی بہت بھوک لگی ہے مجھے۔۔۔حنان بولا تو منال جی کہتے ہوئے تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔!!
اور چند منٹ بعد واپس کمرے میں آئی۔۔۔جی کھانا تیار ہے آ جائیں۔۔۔سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔منال وہی دروازے میں کھڑی کھڑی بولی۔۔۔!!
حنان فون پر مصروف سا نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔لیکن منال وہی کھڑی رہی۔۔۔وہ منتظر تھی کہ حنان اسے کہے ساتھ آنے کو۔۔۔!!
وہ ابھی وہی ہی کھڑی تھی کہ حنان واپس آ گیا۔۔۔اور منال کا ہاتھ پکڑتے ہوئے نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اب کیا ہر بات کے لیے تمہیں کہنا پڑے گا۔۔حنان سیڑھیوں سے نیچے اترتے ہوئے بولا۔۔۔!!
سامنے سے آتے احسن کی ان دونوں پر نظر پڑی۔۔۔تو جان بوجھ کر فون کان سے لگائے دوسری طرف چل پڑا۔۔۔سچ تو یہ تھا وہ جب بھی منال کو حنان کے ساتھ دیکھتا تھا تو اسے اچھا نہی لگتا تھا۔۔۔!!
اسی لیے وہ ان دونوں کو اگنور کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!
حنان میرا ہاتھ چھوڑ دیں پلیز باہر سب بیٹھے ہیں۔۔۔اچھا نہی لگتا۔۔۔منال رک کر اپنا ہاتھ کھینچتے ہوئے بولی۔۔۔!!
حنان کے قدم رک گئے۔۔۔وہ واپس پلٹا۔۔۔کیا اچھا نہہی لگتا تمہیں میرا ساتھ۔۔۔؟؟؟حنان منال کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!
نننہی۔۔۔میں میں نے ایسا تو نہی کہا۔۔منال ڈر گئی تھی اس کے بگڑتے ہوئے تیور دیکھ کر۔۔۔۔وہ ایک دم پچھے ہٹی۔۔۔میں تو یہ کہ رہی تھی کہ سب دیکھیں گے۔۔۔تو اچھا نہی لگتا۔۔۔!!
تو۔۔۔؟؟؟ دیکھتے رہیں سب مجھے کوئی فرق نہی پڑتا چلو تم میرے ساتھ۔۔۔وہ پھر سے منال کا ہاتھ تھامتے ہوئے آگے بڑھا۔۔۔!!
سب لان میں بیٹھے لنچ کر رہے تھے۔۔اور ساتھ ساتھ دھوپ سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔حنان یونہی منال کا ہاتھ تھامے جا کر سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔اور منال کو بھی اشارہ کیا بیٹھنے کا۔۔!!
منال چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔۔اور چاول پلیٹ میں ڈال کر کھانے لگ پڑی۔۔۔اور ساتھ ساتھ دادو سے بھی باتیں کرنے لگ پڑی۔۔۔حنان نوٹ کر رہا تھا۔۔کیسے منال سب کے ساتھ گھل مل گئی تھی۔۔۔!!
حنان آفس جانا ہے اب یا نہی۔۔۔تم نے چینج کر لیا۔۔۔اس کا مطلب اب جانے کا ارادہ نہی ہے تمہارا۔۔۔ملک صاحب حنان کو مخاطب کرتے ہوئے بولے۔۔۔!!
جی بلکل ٹھیک سمجھے آپ ڈیڈ میرا ابھی کوئی ارادہ نہی ہے آفس جانے کا۔۔۔مجھے کسی ضروری کام سے جانا ہے اسی لیے آپ اکیلے ہی چلے جائیں۔۔حنان کا لہجہ سرد سا تھا۔۔۔!!
مسز ملک ایک ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے وہاں سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔۔۔پتہ نہی اس لڑکے کا رویہ کب ٹھیک ہو گا اپنے باپ کے ساتھ۔۔۔!!
ٹھیک ہے اماں جان میں چلتا ہوں دیر ہو رہی ہے۔۔ملک صاحب ماں کے ہاتھ چومتے ہوئے الوداع کہ کر کر چلے گئے ان کو آفس پہنچنا تھا۔۔۔اسی لیے وہ کھانا کھا کر آفس کے لیے نکل گئے۔۔۔!!
منال دادو کے ساتھ مصروف تھی باتوں میں۔۔۔حنان بھی دادو کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔۔۔حنان دادو کے پاس آ کر بیٹھا تو منال۔۔۔وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔اور برتن سمیٹنے لگ پڑی۔۔۔!!
تب ہی شبانہ وہاں آ گئی۔۔۔منال بیٹا آپ رہنے دیں میں اٹھا لوں گی۔۔۔شبانہ منال کے ہاتھ سے برتن پکڑتے ہوئے بولی۔۔۔!!
نہی آپا کوئی بات نہی میں بھی آپ کی مدد کر دیتی ہوں۔۔۔منال برتن اٹھاتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اور شبانہ بھی اس کے ساتھ چلی گئی برتن اٹھا کر۔۔۔۔!!
دادو آپ سے ایک بات پوچھوں۔۔۔؟؟ حنان دادو کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!
ہاں پوچھو۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔؟؟ وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔!!
دادو آپ کو منال کیسی لگی۔۔۔حنان جھجکتے ہوئے بولا۔۔۔اردگرد دیکھتے ہوئے۔۔۔کہ کہی کوئی دیکھ تو نہی رہا۔۔۔!!
حنان کی بات پر وہ مسکرا دیں۔۔۔بہت پیاری بچی ہے۔۔۔صبح سے میری خدمت میں لگی ہے۔۔۔مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے میری سانیہ واپس آ گئی ہو۔۔۔!!!!!
دادو اس کو آئے ہوئے ابھی بس دو دن ہوئے ہیں۔۔اور مام اور آپ کی زبان پر صرف اسی کا نام ہے۔۔میں تو آپ لوگوں کو یاد ہی نہی ہوں۔۔حنان ناراض ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا۔۔۔!!
بس کر ڈرامے باز۔۔۔بہت نخرے اٹھا لیے ہم نے تمہارے۔۔۔اب تمہاری بیوی کے دن ہیں۔۔۔وہ اتنی پیاری ہے۔۔۔دو دن میں ہی اس نے میرا دل جیت لیا ہے۔۔۔مجھے تو بہت اچھی لگی ہے۔۔۔!!
اللہ تم دونوں کو ہمیشہ خوش رکھے میری دعا ہے۔۔۔میں تو احسن کو بھی کہ رہی تھی کہ۔وہ بھی جلدی شادی کر لے اب تو پڑھائی بھی مکمل ہو گئی ہے اس کی۔۔۔لیکن اس کا تو کوئی ارادہ ہی نہی لگتا مجھے شادی کا۔۔۔!!
اچھا دادو میں چلتا ہوں۔۔ماما کو آپ کے پاس بھیجتا ہوں۔۔۔مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔کہ کر حنان وہاں سے اٹھ کر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!
اندر گیا تو منال اسے نظر نہی آئی۔۔۔مام کے کمرے میں گیا تو منال وہی بیٹھی نظر آئی۔۔۔!!
منال چلو میرے ساتھ۔۔۔حنان کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا۔۔۔!!
کہاں۔۔۔؟؟؟ حنان کی ماما بولیں۔۔۔!!
شاپنگ پر لے کر جانا ہے مام منال کو۔۔۔۔آپ پلیز دادو کے پاس چلی جائیں۔۔۔وہ اکیلی بیٹھی ہیں۔۔۔ہم کچھ دیر تک آ جائیں گے واپس۔۔۔!!
ٹھیک ہے جاو خیریت سے۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔!!
اور حنان بھی باہر کی طرف چل پڑا منال کو ساتھ لیے۔۔۔ڈرائیور سے گاڑی کی چابیاں پکڑیں۔۔۔تم رہنے دو میں کر لوں گا ڈرائیونگ۔۔۔۔!!
ڈرائیور سے بولا تو ڈرائیور جی سر کہتے ہوئے واپس چلا گیا اپنے کوارٹر میں۔۔۔!!
حنان گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے بیٹھ گیا ڈرائیونگ سیٹ پر۔۔۔لیکن منال وہی کھڑی رہی۔۔۔حنان گاڑی سے باہر نکل کر آیا اور منال کے لیے دروازہ کھولا اور اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔!!
منال چپ چاپ بیٹھ گئی گاڑی میں۔۔۔حنان واپس آ کر بیٹھ گیا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔!!
منال پورے راستے خاموش بیٹھی رہی۔۔۔حنان نے بھی کوئی بات نہی کی۔۔۔منال کو وہ دن یاد گیا۔۔۔جب حنان اسے کالج سے ساتھ لیے اس گاڑی میں لے کر آیا تھا۔۔۔!!
منال اداس ہو چکی تھی پھر سے اسے ماضی نے گھیر لیا تھا۔۔ اس کا گھر۔۔۔ماں باپ۔۔۔سب کچھ ختم ہو چکا تھا۔۔۔اس کی زندگی بدل چکی تھی۔۔۔!!
نا چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔۔۔اس نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔۔اور اِدھر دیکھنے لگ پڑی۔۔۔!!
حنان دیکھ چکا تھا منال کے آنسو۔۔۔لیکن اس نے کوئی ردِعمل ظاہر نہی کیا۔۔۔وہ سمجھ چکا تھا منال کیوں اداس ہے۔۔۔لیکن جانتے ہوئے بھی انجان بن کر بیٹھا رہا۔۔۔۔!!
گاڑی پارک کر کے منال کو ساتھ لیے شاپنگ مال میں داخل ہو گیا۔۔منال پہلے کبھی اتنی بڑی مارکیٹ میں نہی آئی تھی۔۔۔اتنے زیادہ لوگ دیکھ کر وہ گھبرا گئی۔۔۔!!
وہ تیزی سے حنان کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔حنان آگے سے مڑ کر ایک دکان میں چلا گیا۔۔۔لیکن منال پیچھے رہ گئی۔۔۔منال کو حنان نظر نہی آیا تو اس کے دل کی ڈھڑکن تیز ہو گئی۔۔۔!!
وہ یہاں کس سے کہتی اب۔۔۔اس میں آگے بڑھنے کی ہمت ہی نہی تھی۔۔۔اس سمجھ ہی نہی آیا کہ اب کیا کرے۔۔۔!!
حنان جب دکان میں داخل ہوا تو اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اسے منال نظر نہی آئی۔۔۔وہ تیزی سے باہر کی طرف بڑھا۔۔۔!!
منال رونا شروع ہو گئی۔۔۔ایک لڑکی منال کو روتے دیکھ کر اس کے پاس رک گئی۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔۔۔وہ منال کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔۔۔تو منال ڈر گئی۔۔۔!!
آپ میرے ساتھ آئیں۔۔۔وہ منال کو بازو سے پکڑتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئی۔۔۔سامنے کافی شاپ میں۔۔۔اور اس کے لیے پانی منگوایا۔۔۔!!
آپ یہ پانی پی لیں۔۔ اور مجھے بتائیں کیا ہوا ہے آپ کس کے ساتھ آئیں ہیں اور رو کیوں رہی ہیں۔۔۔اس کا لہجہ بہت نرم تھا منال کے ساتھ۔۔!!
منال نے تھوڑا سا پانی پیا۔۔۔میں حنان۔۔۔میرا مطلب ہے اپنے ہسبینڈ کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔وہ کھو گئے ہیں۔۔۔پتہ نہی کہاں چلے گئے۔۔۔اب میں ان کو نہی ڈھونڈ پاوں گی۔۔۔مجھے تو گھر کا راستہ بھی نہی یاد ہے۔۔۔!!
منال اور زیادہ رونے لگ پڑی۔۔۔!!
میڈم آپ کے ہسبینڈ نہی کھوئے۔۔۔آپ کھو گئی ہیں۔۔۔پریشان مت ہو ابھی مل جائیں گے وہ آپ کو۔۔۔مجھے ان کا فون نمبر لکوائیں۔۔۔وہ اپنا فون بیگ میں سے نکالتے ہوئے بولی۔۔۔!!
مجھے ان کا فون نمبر یاد ہی نہی ہے۔۔۔منال روتے ہوئے بولی۔۔۔!!
وہ لڑکی اب پچھتا رہی تھی منال کو بلا کر۔۔۔اچھی بھلی جا رہی تھی میں کہاں پھنس گئی۔۔۔وہ بڑبڑائی۔۔!!
کیسی بیوی ہیں آپ جو آپ کو اپنے ہسبینڈ کا نمبر ہی یاد نہی ہے۔۔۔اور آپ کے ہسبینڈ بھی کتنے غیر زمہ دار ہیں۔۔۔ان کو آپ کے ساتھ رہنا چاہیے تھا۔۔۔خیر آپ پریشان نہ ہو۔۔۔آپ کے ہسبینڈ آپ کو مل جائیں گے۔۔۔۔!!
حنان نے اِدھر اُدھر دیکھا لیکن اسے منال کہی نظر نہی آئی۔۔۔اس کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا۔۔۔ایک پل کو اس کے زہن میں آیا کہ کہی منال اپنے گھر تو نہی چلی گئی۔۔۔!!
لیکن اگلے ہی پل اس نے سر جھٹک دیا۔۔۔نہی اسے تو یہاں کے راستے بھی معلوم نہی ہیں۔۔۔گھر کیسے جا سکتی ہے وہ۔۔۔۔سٹوپڈ لڑکی پتہ نہی کہاں چلی گئی۔۔۔حنان کو اب غصہ آ رہا تھا۔۔۔خود پر اسے منال کو ساتھ ہی نہی لانا چاہیے تھا۔۔۔۔!!
کافی دیر تک حنان اِدھر ڈھونڈتا رہا۔۔۔اسے منال کہہی نظر نہی آئی۔۔۔آخر کار وہ پانی پینے سامنے کافی شاپ میں گیا۔۔۔تو منال اسے سامنے کرسی پر بیٹھی نظر آ گئی۔۔۔۔!!
حنان جلدی سے منال کی طرف بڑھا۔۔۔منال بھی حنان کو دیکھ چکی تھی۔۔۔تیزی سے حنان کی طرف بڑھی۔۔۔اور حنان کے گلے لگ گئی۔۔۔حنان تو دھنگ رہ گیا منال کی اس حرکت پر۔۔۔!!
سب لوگ ان کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔۔حنان کے لبوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔اس نے منال کو خود سے الگ کرنا چاہا تو منال نے اسے اور زور سے پکڑ لیا۔۔۔ایسے جیسے اسے ڈر ہو کہ اگر اس نے حنان کو چھوڑا تو پھر سے گم ہو جائے گا۔۔۔۔!!
منال سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔میں یہی ہوں تمہارے پاس کہی نہی جا رہا۔۔۔حنان نے آہستہ سے منال کے کان میں کہا تو۔۔۔منال کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔۔وہ جلدی سے پیچھے ہٹی۔۔۔۔!!
واو۔۔۔۔کتنی خوبصورت جوڑی ہے۔۔۔پاس سے گزرتی لڑکی نے کمپلیمنٹ دیا تو منال شرم سے نظریں جھکا گئی۔۔۔!!
کیسے شوہر ہیں آپ اپنی بیوی کا خیال بھی نہی رکھ سکتے۔۔۔بیچاری کتنی ڈر گئی تھی۔۔۔!!
نسوانی آواز پر حنان پلٹا۔۔۔!!۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟
جی۔۔۔میں آپ ہی سے کہ رہی ہوں۔۔۔مسٹر حنان۔۔۔!!
میں چلتی ہوں منال مجھے دیر ہو رہی ہے اپنا خیال رکھنا۔۔۔اس سے پہلے کہ حنان کچھ بولتا وہ۔۔منال سے کہتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔۔۔۔!!
حنان نے کرسی کھینچ کر منال کو بٹھایا اور اپنے لیے پانی منگوایا۔۔۔منال سے کہا پانی پی لے۔۔لیکن اس نے یہ کہ کر پینے سے انکار کر دیا کہ ابھی پیا ہے۔۔۔!!
منال نظریں نہی ملا رہی تھی حنان سے اسے بہت شرمندگی ہو رہی تھی اپنی حرکت پر۔۔۔!!
چلیں۔۔۔حنان اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔؟؟؟
جی۔۔۔منال بھی جلدی سے کھڑی ہو گئی۔۔۔حنان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔۔اور باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!!!!
حنان نے اس لیے منال کا ہاتھ تھام لیا کہ کہی پھر سے گم نہ ہو جائے منال۔۔۔!!
منال جھجکتے ہوئے حنان کے ساتھ چلتی گئی۔۔۔اسے اب ایک تخفظ کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔اسے اب سمجھ آئی کہ مرد کتنا بڑا سہارا ہوتا ہے ایک عورت کے لیے۔۔۔!!
حنان نے مختلف دکانوں سے منال کے لیے کپڑے اور جوتے خریدے۔۔۔منال کو تو سمجھ ہی نہی آ رہی تھی کیا خریدے۔۔۔حنان خود ہی اس کے لیے شاپنگ کرتا گیا۔۔۔!!
اور دونوں واپس آ کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔۔۔تو حنان نے گاڑی واپس گھر کی طرف موڑ دی۔۔۔گھر پہنچ کر ڈرائیور سے کہ کر سارا سامان کمرے میں رکھوایا۔۔۔منال بہت تھک چکی تھی۔۔۔۔!!
حنان تو جاتے ہی بستر پر گر کر سو گیا۔۔۔منال نماز پڑھ کر نیچے چلی گئی دادو کے کمرے میں۔۔۔اب وہ کمرے میں آ گئیں تھیں۔۔۔!!
حنان کی امی بھی وہیں تھی۔۔۔وہ تینوں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔۔۔منال نے ان کو اپنے گم ہونے کی بات بتائی تو دونوں پریشان ہو گئیں۔۔۔!!
منال آئیندہ دھیان رکھنا بیٹا اگر کچھ ہو جاتا تو۔۔۔حنان کی ماما پریشان ہوتے ہوئے بولیں۔۔۔!!
جی ممی۔۔۔آئیندہ دھیان رکھوں گی۔۔۔منال مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔!!
تھک گئی ہو گی۔۔۔جاو آرام کر لو کچھ دیر۔۔۔منال کی امی بولیں۔۔۔تو منال نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔نہی ممی میں ٹھیک ہوں۔۔۔!!
نہی ٹھیک ہو تمہارے چہرے سے ہی لگ رہا ہے کہ تم تھکی ہوئی ہو۔۔۔ادھر آ کر لیٹ جاو کچھ دیر۔۔۔دادو نے بہت پیار سے کہا۔۔۔!!
ہاں یہ ٹھیک ہے منال ادھر ہی لیٹ جاو بیٹا۔۔۔اوپر تو حنان پھیلا ہو گا سارے بستر پر۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔تو منال بھی مسکرا دی۔۔۔!!
اور جا کر دادو کے بیڈ پر ہی لیٹ گئی کمبل اوڑھ کر ۔۔۔وہ واقعی تھکی ہوئی تھی۔۔۔لیٹتے لیٹتے ہی اس کی آنکھ لگ گئی۔۔۔!!
دیکھا اماں جان سو گئی نہ۔۔۔مجھے پتہ تھا یہ تھکی ہوئی ہے۔۔۔حنان کی امی بولی۔۔۔تو دونوں مسکرا دیں۔۔۔!!
اچھا اماں جان میں دیکھ لوں آپ کے لیے سوپ تیار ہوا یا نہی۔۔۔شبانہ کو کہ کر آئی تھی۔۔۔دیکھ لوں زرا۔۔۔کہتے ہوئے وہ کمرے سے نکل گئیں۔۔۔!!
حنان کی آنکھ کھلی تو اسے منال نظر نہی آئی کمرے میں اس نے سوچا شاید واش روم گئی ہو۔۔کچھ دیر تک جب منال نہ آئی تو وہ واش روم کی طرف بڑھا۔۔۔دروازہ کھولا تھا۔۔۔!!
وہ سٹڈی کی طرف گیا۔۔۔منال وہاں بھی نہی تھی۔۔۔وہ سب جگہ ڈھونڈ چکا تھا اسے منال نظر نہی آئی تو وہ نیچے کی طرف بڑھ گیا۔۔ماما منال کہاں ہے۔۔۔میں نے ہر جگہ دیکھ لیا۔۔۔مجھے نظر نہی آ رہی۔۔!!
سامنے سے اپنی مام کو آتے دیکھا تو جلدی سے بول پڑا۔۔۔!!
کہاں جائے گی گھر میں ہی ہو گی۔۔۔اچھی طرح دیکھو۔۔۔حنان۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولیں۔۔۔!!
نہی مام میں نے سب کمروں میں دیکھ لیا وہ نہی ہے۔۔۔کہی وہ اپنے گھر واپس تو نہی چلی گئی۔۔۔۔حنان کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے۔۔۔!!
تو تمہیں تو وہ پسند ہی نہی ہے چلی بھی گئی ہو تو کیا ہے جانے دو۔۔۔وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولیں۔۔۔۔!!!!
ایسے کیسے جانے دوں میں نے نکاح کیا ہے اس سے بیوی ہے وہ میری۔۔۔میری مرضی کے بغیر نہی جا سکتی کہی بھی وہ۔۔۔۔حنان کا لہجہ حق جتانے والا تھا۔۔۔!!
اچھا۔۔۔جاو پھر دادو کے کمرے میں دیکھ لو۔۔۔شاید وہاں ہو۔۔۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں۔۔۔!!
حنان جلدی سے دادو کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔دروازہ کھولا تو منال اسے سامنے دادو کے بیڈ پر لیٹی نظر آئی۔۔۔تو اس کی جان میں جان آئی۔۔۔!!
حنان چلتا ہوا اس کے پاس آیا۔۔۔منال۔۔اس نے آواز دی لیکن منال نہی اٹھی۔۔۔!!
سونے دو اسے حنان تھکی ہوئی ہے بچی۔۔۔دادو منال کی طرف داری میں بولیں۔۔۔!!
میں بھی تھکا ہوا ہوں۔۔۔اسے زرا خیال نہی میرا بھوک سے برا حال ہے۔۔۔بجائے اس کے کہ میرے لیے کچھ کھانے کے لیے لے کر آئے۔۔۔یہاں آ کر سو گئی ہے۔۔۔!!
تو اپنی ماں سے کہ دو نا کچھ دے تو تمہیں کھانے کو اسے کیوں جگا رہے ہو۔۔۔؟؟ دادو پھر سے بول پڑیں۔۔۔!!
اب میرے سارے کام اس کے زمے ہیں۔۔۔اب ماما سے کیوں کہوں میں۔۔۔اٹھو منال۔۔۔اس نے پھر سے منال کو آواز دی۔۔۔لیکن وہ اپنی جگہ سے زرا نہ ہلی۔۔۔!!
حنان نے کمبل پیچھے کیا اور منال کو دونوں بازووں میں اٹھا کر اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اب منال کی آنکھ کھل چکی تھی۔۔۔دادو مسکرا دیں۔۔۔!!
مسز ملک نے اور باقی سارے ملازموں نے بھی دیکھا منال کو لے جاتے ہوئے۔۔۔سب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔!!
منال شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔۔۔حنان چھوڑیں مجھے نیچے اتاریں۔۔۔پلیز سب دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔اس نے خود کو چھڑوانے کی کوشش کی لیکن کوئی فائدہ نہی ہوا۔۔۔۔!!
حنان نے کمرے میں پہنچ کر منال کو نیچے اتار دیا۔۔۔چھوڑنے کے لیے نکاح نہی کیا سمجھی۔۔۔۔؟؟؟ حنان اسے نیچے اتارتے ہوئے بولا۔۔۔!!
آپ نے ایسا کیوں کیا۔۔۔سب دیکھ رہے تھے۔۔اب میں سب کا سامنا کیسے کروں گی۔۔۔منال رونے کو تھی۔۔۔!!!
اچھا۔۔۔تو وہ کیا تھا شاپنگ مال میں تب تو بھاگتے ہوئے میرے گلے لگ گئی تھی۔۔۔تب بھی تو سب دیکھ رہے تھے۔۔۔تب کیا تھا۔۔۔حنان منال کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔۔۔!!
تب سیچوایشن کچھ اور تھی۔۔۔میں ڈر گئی تھی۔۔۔منال پیچھے ہٹتی ہوئی بولی۔۔۔۔!!
تب ہی دروازہ ناک ہوا اور حنان جلدی سے پیچھے ہٹا۔۔۔حنان کچھ دیر کے لیے تمہارا لیپ ٹاپ چاہیے تھا۔۔۔اگر فری ہے تو۔۔۔احسن اندر آتے ہوئے بولا۔۔۔!!
احسن کو اندر آتے دیکھ منال جلدی سے کپڑوں والی الماری کھول کر کھڑی ہو گئی۔۔۔!!
جی فری ہے سٹڈی میں پڑا ہے لا دیتا ہوں۔۔ویٹ۔۔۔کہتے ہوئے حنان سٹڈی روم کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اور لیپ ٹاپ لا کر احسن کو تھما دیا۔۔۔!!
تھینکس۔۔۔احسن شکریہ ادا کرتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔!!
احسن کے جاتے ہی حنان منال کی طرف بڑھا۔۔۔اب یہاں کیا کرنے بیٹھ گئی ہو۔۔۔مجھے بھوک لگی ہے کچھ لے کر آو میرے کھانے کے لیے۔۔۔!!
جی میں لاتی ہوں۔۔منال الماری بند کر کے کمرے سے باہر نکل گئی اور حنان بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔اسے احسن کا کمرے میں آنا بلکل اچھا نہی لگا تھا۔۔۔۔!!
