Dill Sambhal Ja Zara by Khanzadi NovelR50498 Sambhal Ja Zara (Episode 19)
No Download Link
Rate this Novel
Sambhal Ja Zara (Episode 19)
Sambhal Ja Zara by Khanzadi
حنان کے جاتے ہی حیدر کے فون پر میسیج ٹون بجی۔۔شام کو دیکھتا ہوں تجھے۔۔۔ساتھ غصے والا ایموجی تھا۔۔۔حنان کا میسیج پڑھ کر حیدر کی ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔!!!
اوکے بے بی دیکھ لینا۔۔۔ہاہاہاہا میسیج سینڈ کر دیا۔۔۔۔۔!!!
دادو کی نظر پھر سے حیدر پر پڑی۔۔۔حیدر کی ہنسی کو بریک لگی۔۔جلدی سے دادو کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔۔۔!!!
یہ کس کلموہی کے پیغام پڑھ پڑھ کر ہنس رہا تھا تو۔۔دادو حیدر کو گھورتے ہوئے بولیں۔۔۔!!!!
دادو یہ کوئی کلموہی نہی آپ کا موسٹ ہینڈسم پوتا ملک حنان تھا۔۔۔حیدر دادو کے کان میں بولا۔۔۔!!!!!
اچھا تو ایسا کیا کہ دیا اس نے جو تیری بتیسی نکل رہی تھی۔۔۔اور ابھی تو یہاں سے گیا ہے جاتے ہی اداس ہو گیا تجھ سے۔۔۔۔اداس تو اسے اپنی بیوی سے ہونا چاہیے تھا۔۔۔دادو بھی رازدانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔!!!!
حیدر بھی ہنس پڑا۔۔ارے نہی دادو مجھ سے اداس نہی ہوا۔۔مجھے دھمی دے رہا تھا۔۔کہ تجھے شام کو پوچھتا ہوں آ کر۔۔۔!!!
دھمکی کس لیے کیا کر دیا تو نے دادو حیرانگی سے بولیں۔۔۔!!!
وہی جو ابھی میں نے اس کی چوری جو پکڑ لی تھی سب کے سامنے کہ دیا کہ تم نے کپڑے کیوں نہی چینج کیے۔۔۔اسی لیے اب مجھ معصوم کو دھمکی بھرے میسیج موصول ہو رہے ہیں۔۔۔!!!!!!!!!!!!!
دادو نے اسے گھورا۔۔معصوم اور تو۔چل دفع ہو یہاں سے شرم نہی آتی بھائی کو تنگ کرتا ہوئے۔۔۔دادو بولیں تو حیدر ہنستے ہوئے وہاں سے گارڈن کی طرف بھاگ گیا۔۔۔!!!!
سامنے جھولے پر ماہم بیٹھی جھولا جھول رہی تھی۔۔حیدر اس کی طرف بڑھا۔لیکن سامنے سے آتی ہانی سے ٹکرایا۔۔اور ہانی گئی سوئمنگ پول میں۔۔۔۔!!!!!
اوہ۔۔ماہم بھاگتی ہوئی آئی۔۔حیدر یہ کیا کر دیا تم نے۔۔۔ہانی باہر آو۔۔۔!!!
حیدر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔۔جبکہ ہانی اسے گھور رہی تھی پانی میں کھڑی۔۔۔۔!!!!!
حیدر دو انگلیوں سے فلائنگ کس سینڈ کر کے آنکھ دبا کر ہیو سم فن بے کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔۔اور جھولے پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔!!!!
ہانی پانی سے باہر آئی وہ پوری طرح بھیگ چکی تھی۔۔۔اوپر سے سردی تھی۔۔ماہم جلدی سے اس کی طرف بڑھی۔۔۔ہانی حیدر کی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں۔۔!!!
تم جلدی سے چینج کر لو جا کر کہیں بیمار نہ ہو جاو۔۔۔ماہم گھبراتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!
اٹس اوکے ماہم تمہاری کوئی غلطی نہی اس میں۔۔۔وہ میرا ہی دھیان نہی تھا۔۔۔میں نے حیدر کو دیکھا ہی نہی سامنے سے آتے ہوئے۔۔۔میں چینج کر کے آتی ہوں۔۔۔ہانی جلدی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!!!!!!
حیدر دور سے ہانی کو جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔۔۔ہانی نے پلٹ کر اس کو گھورا۔۔تو حیدر کی پھر سے ہنسی چھوٹ گئی۔۔اچھا مزہ چکھایا آج اس کو۔۔۔۔دوبارہ پنگا نہی لے گی مجھ سے۔۔۔!!!!
حیدر نے دیکھ لیا تھا ہانی کو سامنے سے آتے ہوئے۔وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے مسکراتے ہوئے جا رہی تھی۔۔اس کی نظریں نیچے تھیں۔۔حیدر کو دیکھ نہی سکی۔۔۔!!!!
اور اسی بات کا حیدر نے فائدہ اٹھایا۔۔۔اور جان بوجھ کر اس طرح ٹکرایا ہانی سے کہ وہ سوئمنگ پول میں جا گری۔۔۔!!!!
منال صبح سے بیٹھے بیٹھے تھک چکی تھی۔۔۔وہ بھی گارڈن میں آ گئی۔۔۔ماہم وہیں بیٹھی تھی بینچ پر ہانی بھی چینج کر کے آ گئی۔۔۔!!!!
منال یونہی چلتے چلتے حیدر کے پاس پہنچی۔۔تو حیدر جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔آئیں بھابی بیٹھ جائیں آپ یہاں چلتے چلتے تھک گئی ہو گی۔۔حیدر کھڑا ہوتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!
نہی آپ بیٹھ جائیں۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔منال نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔!!!!!
نہی نہی بھابی آپ بیٹھیں میں اندر جا رہا ہوں۔۔۔حیدر نے کہا تو منال بیٹھ گئی جھولے پر۔۔۔۔!!!!
ہانی اور ماہم نے یہ منظر بہت غور سے دیکھا۔۔۔حیدر پاس سے گزرنے لگا تو ماہم نے اسے روک لیا۔۔۔۔۔!!!!!!!!!!!
بات سنو حیدر۔۔۔۔صبح جب میں نے تمہیں اٹھنے کو کہا تب تو نہی اٹھے تھے تم۔۔۔۔اب تو بڑی جلدی اٹھ گئے۔۔۔۔کیا میری کوئی ویلیو نہی ہے تمہاری نظر میں۔۔۔!!!!
کیا مسلہ ہے ماہم۔۔۔بھابی ہیں وہ ہماری۔۔۔تم کیسی بے وقوفوں والی باتیں کر رہی ہو۔۔۔تم سے کس نے کہ دیا کہ تمہاری کوئی ویلیو نہی ہے۔۔۔تم بھی بیٹھ جاو جا کر ان کے ساتھ۔۔۔دوستی کر لو ان سے۔۔۔!!!!!!!!
پاگلوں کے ساتھ رہو گی تو پاگلوں والی ہی باتیں کرو گی۔۔۔حیدر کا نشانہ ہانی کی طرف تھا۔۔۔میں چلتا ہوں بہت تھکا ہوا ہو۔۔نیند آ رہی ہے مجھے۔۔۔کہتے ہوئے حیدر اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔!!!!!
منال بیٹھے بیٹھے بور ہو رہی تھی تو اندر جانے کے لیے اٹھی ہی تھی کہ حنان کی کال آ گئی۔۔اور وہ واپس بیٹھ گئی۔۔۔!!!!
اسلام و علیکم۔۔۔۔۔منال کال پک کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!
ہمممم وعلیکم اسلام۔۔۔کیا ہو رہا ہے۔۔۔حنان سلام کا جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!
کچھ نہی بس گارڈن میں آئی تھی ابھی اندر جانے کا سوچ رہی تھی۔۔دھوپ بھی کم ہو گئی ہے۔۔منال نے جواب دیا۔۔۔!!!!
اچھا ٹھیک ہے اب کچھ دیر آرام کر لو کمرے میں جا کر۔۔۔حنان تھوڑا مصروف سا بولا۔۔۔۔!!!!
نہی اب نیند نہی آ رہی میں ابھی نیچے ہی بیٹھو گی سب کے ساتھ۔۔۔شام کو ہی جاوں گی اوپر۔۔۔۔!!!!!!!
اوکے شام کو ملاقات ہو گی۔۔۔ٹیک کئیر۔۔کہتے ہوئے حنان نے فون بند کر دیا۔۔۔۔!!!!!!
منال اندر جانے کے لیے اٹھی ہی تھی کہ ماہم اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔۔۔۔!!!!!
جِی۔۔۔منال اسے سامنے کھڑے دیکھتے بولی۔۔۔۔۔۔!!!!!!!!!
سمجھتی کیا ہو تم اپنے آپ کو ماہم منال کو گھورتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!
جِی۔۔۔میں کچھ سمجھی نہی۔۔۔۔منال نے جواب دیا۔۔۔۔!!!!!
سمجھ تو تم اچھی طرح گئی ہو۔۔۔بہتر ہو گا کہ خود کو ٹھیک کر لو۔۔۔یہ نا ہو بعد میں پچھتانا پڑے تمہیں۔۔۔ماہم کہتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔۔!!!!!!!!!!!
منال سمجھ نہی پائی یہ کیا ہوا۔۔۔ماہم نے کیوں کہا ایسا۔۔۔۔سر جھٹکتے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔!!!!
ؑسب لوگ اندر جا چکے تھے۔۔۔منال بھی اندر سب کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔۔یونہی بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی۔۔۔!!!!
منال انتظار کر رہی تھی حنان کا کہ وہ آئے تو کمرے میں جائے وہ بیٹھےبیٹھے تھک چکی تھی۔۔۔۔اس کی طبیعت بوجھل سی ہو رہی تھی۔۔سر میں درد ہو رہا تھا۔۔۔۔۔اوپر سے ماہم کی باتیں۔۔۔۔!!!
وہ سمجھ نہی پا رہی تھی کہ آخر ماہم کا رویہ اس کے ساتھ ایسا کیوں ہے۔۔۔۔!!!!!!
گاڑی کا ہارن سنائی دیا تو منال کی جان میں جان آئی۔۔۔ملک صاحب اور حنان اندر آئے۔۔۔سب کو مشترکہ سلام کیا۔۔اور ملک صاحب اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔!!!!!
حنان وہی بیٹھ گیا صوفے پر ٹائی کھول کر گلے میں ڈال لی۔۔۔جاو چینج کر لو جا کر پہلے حنان بہت تھکے تھکے لگ رہے ہو۔۔۔مسز ملک حنان کو ٹائی کھولتے دیکھ کر بولیں۔۔۔!!!!
جی مام چلتا ہوں۔۔۔کہتے ہوئے حنان اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!!
جاو منال بیٹا کپڑے نکال دو حنان کو۔۔۔مسز ملک منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں۔۔تو منال اوپر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔!!!!
کمرے میں گئی تو حنان اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔۔۔اور بڑے آرام سے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔۔۔۔!!!!
ویسے آپ کو دیکھ کر تو نہی لگ رہا کہ آپ کی طبیعت خراب ہے۔۔منال اس کے پاس کھڑی ہو کر بولی۔۔۔حنان نے اسے بازو سے کھینچا تو منال حنان کے سینے سے جا لگی۔۔۔!!!
حنان نے دونوں بازو اس کے گرد پھیلا کر بازو کا گھیرا بنا دیا۔۔۔اگر میں ایسا نا کرتا تو تم ابھی تک وہی بیٹھی ہوتی۔۔۔تھوڑا بہت جھوٹ بولنا پڑتا ہے حنان آنکھ دبا کر بولا۔۔۔۔!!!!!
منال نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن حنان کی گرفت مظبوط تھی۔۔۔آوچ۔۔۔میرا ہاتھ۔۔۔منال کو درد کا احساس ہوا تو حنان نے اسے چھوڑ دیا۔۔۔۔!!!!!
اوہ۔۔۔آئی ایم سوری۔۔منال میرے زہن میں ہی نہی رہا۔۔۔منال جلدی سے اٹھ بیٹھی۔۔۔دکھاو مجھے۔۔۔حنان اس کے ہاتھ کا جائزہ لینے لگ پڑا۔۔۔۔!!!!!
حنان سچ میں پریشان ہو چکا تھا۔۔۔منال مسکرا دی۔۔۔حنان نے منال کو مسکراتے دیکھا تو سمجھ گیا کہ اس نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔۔۔۔!!!!
اس سے پہلے کہ حنان آگے بڑھتا منال جلدی سے الماری کی طرف بڑھ گئی اور حنان کے کپڑے نکال کر کمرے سے باہر بھاگ گئی۔۔۔!!!!
حنان مسکراتے ہوئے واش روم کی طرف بڑھ گیا اور کچھ دیر بعد نیچے چلا آیا۔۔۔آ کر دادو کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔کیونکہ منال جو وہیں بیٹھی تھی۔۔۔!!!!
ماہم ایک کپ چائے لا دو پلیز۔۔۔حنان ماہم کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!!!
ماہم اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔پھر یاد آیا کہ حنان تو چائےپیتا ہی نہی۔۔۔واپس چلی گئی دوبارہ حنان سے پوچھنے اسے لگا شاید اس نے غلط سنا ہے۔۔۔۔۔!!!!
حنان کیا لاوں چائے یا کافی ماہم حنان کے سامنے رکتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔!!!!
چائے کہا تھا۔۔لگتا ہے تمہیں کم سنائی دینے لگ پڑا ہے ماہم۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔!!!!
لیکن تم تو چائے پیتے نہی ہو نا۔۔اسی لیے میں نے دوبارہ پوچھا۔۔ماہم دانت پیستے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!!!!!!!
ہاں پہلے نہی پیتا تھا۔۔لیکن اب پیتا ہوں میں کیوں کہ میری بیوی کو پسند ہے۔۔۔۔حنان مسکراتے ہوئے منال کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔!!!!
ماہم جلتی بھنتی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔اگر اتنا ہی پینے کا شوق ہے تو اپنی بیوی سے کہ دیتا بنانے کو میں کیا اس کی ملازمہ ہوں۔۔جو مجھے آرڈر دیا ہے اس نے۔۔۔۔!!!!!
ماہم پہلے ہی غصے میں تھی۔۔۔اوپر سے ہانی آ گئی جلے پر نمک چھڑکنے۔۔۔۔دیکھا تم نے ماہم میں نے کہا تھا نا حنان اب وہ حنان نہی رہا۔۔کیسے اس نے سب کے سامنے تمہیں زلیل کیا ہے۔۔۔۔!!!!!
میں نے تو تمہیں بہت سمجھایا لیکن تم تو میری بات سمجھی ہی نہی۔۔اب کرتی رہو ملازمہ بن کر اس کے کام اور وہ ملکہ بن کر بیٹھی رہے گی۔۔۔۔!!!!!!!
ماہم سوچ میں پڑ گئی لیکن بولی کچھ نہی۔۔۔۔ہانی کچن سے باہر نکل گئی۔۔۔!!!!
ماہم نے چائے لا کر دی تو حنان چائے پینے لگ پڑا۔۔۔حنان نے چائے پی کر کپ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔حیدر بھی نیچے آ گیا۔۔۔!!!!
اسے دیکھتے ہی حنان اس کی طرف بڑھا۔۔۔اور اس کا بازو مڑور دیے پیچھے کو اب بتاو کیا کہ رہے تھے۔۔۔حنان اس سےصبح والی بات کا بدلہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔!!!!!
حنان چھوڑ دو مجھے ورنہ اچھا نہی ہو گا۔۔حیدر بری طرح پھنس چکا تھا۔۔۔سب ان کو دیکھ کر ہنس دئیے۔۔۔!!!
دیکھو زرا بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں۔۔۔پتہ نہی یہ دونوں کب بڑے ہو گے۔۔۔بڑی ماما بولیں۔۔۔تو حنان ہنس دیا۔۔اور حیدر کو چھوڑ دیا۔۔۔!!!!
ہم تب بڑے ہو گے جب حنان پاپا اور میں چاچو بنوں گا۔۔۔کہ کر حیدر نے دوڑ لگا دی۔۔۔اور حنان اپنا سر کھجاتا ہوا واپس بیٹھ گیا۔۔۔۔!!!!
ابھی حنان بیٹھا ہی تھا کہ حیدر نے پیچھے سے گردن نکالی۔۔۔کیا لڑکیوں کی طرح بلش کر رہے ہو یار۔۔۔حنان مڑا اور حیدر نے پھر سے دوڑ لگا دی۔۔۔باقی سب کا قہقہ بلند ہوا۔۔۔۔!!!!
حنان نے منال کی طرف دیکھا تو منال مسکرا کر نظریں جھکا گئی۔۔۔حنان بھی مسکرا دیا۔۔۔۔!!!!!!!!!!!!!!!!!!
احسن گھر آیا تو سب کو سامنے دیکھ اس کی خوشی کی انتہا نہی رہی۔۔۔ ڈیڈ۔۔احسن جلدی سے اپنے بابا کی طرف بڑھا۔۔انہوں نے جوش سے احسن کو گلے لگایا۔۔۔۔میرا بیٹا کیسا ہے۔۔۔وہ احسن کو خود سے الگ کرتے ہوئے بولے۔۔۔۔۔!!!
فٹ اینڈ فائن۔۔۔پھر احسن ماں کی طرف بڑھا ان سے مل کر پھر ماہم سے ملا۔۔۔کیسی ہے میری گڑیا۔۔ماہم کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔!!!
میں ٹھیک ہوں بھائی آپ کیسے ہیں۔۔ماہم بھائی کے گلے لگتے ہوئے بولی۔۔۔۔!!!!
آپ سب نے تو مجھے سرپرائزڈ کر دیا ہے۔۔۔تھینک یو سو مچ ڈیڈ آپ سوچ نہی سکتے کتنا خوش ہوں میں آپ سب کو دیکھ کر۔۔۔تھینک یو سو مچ مام ڈیڈ فار دس پلیزنٹ سرپرائز۔۔۔۔!!!!
مجھے بھول گئے آپ۔۔۔۔حیدر کی آواز پر احسن پلٹا۔۔۔اوہ۔۔۔تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں تم تو میری جان ہو یار۔۔احسن حیدر کو گلے لگاتے ہوئے بولا۔۔۔۔!!!!!
آئی مس یو بھائی حیدر بچوں کی طرح بولا۔۔۔آئی مس یو ٹو میری جان۔۔۔چلو بیٹھو میں چینج کر کے آتا ہوں۔۔۔۔کہ کر احسن ایک نظر حنان پر ڈالتے ہوئے اوپر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔!!!!
