Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 9)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 9)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
اس دن کے بعد سے عندلیب ہر ہفتے اورفونیچ سے ہوکر گرینی کے پاس آتی ضرور تھی پر فرق یہ آیا تھا کہ اب اس نے سلسبیل سے بات تو کیا ملنا تک ترک کردیا تھا،یہ نہیں تھا کہ وہ ناراض تھی اس سے،بلکہ اس نے وہی کرنا چاہا جس سے سلسبیل کم از کم پرسکون رہے،اس دن سلسبیل کی باتوں سے عندلیب سمجھ چکی تھی کہ اس کی موجودگی پر سسلبیل ارریٹیٹ ہوتا ہے تبھی وہ اب نہیں جاتی تھی اس کے پاس،
دوسری جانب سلسبیل رپورٹ آنے کے بعد سے اپنے کمرے تک محدود ہوکر رہ گیا تھا،شروع میں تو عندلیب کے نہ آنے پر وہ یہی سوچا تھا کہ اب جان چھوٹی پر جب عندلیب پورے ایک مہینے بعد بھی اس سے ملنے نہ آئی تب ایک الگ ہی بےچینی نے اسے آگھیرا،ہاں وہ عادی تھا اسے دھتکارنے کا پر اب جب وہ نہیں تھی تو الجھن ہوتی،ہر ہفتے کو لاؤنج سے آتی عندلیب کی کھنکتی آوازیں اسے عجیب بےکلی میں مبتلا کردیتیں،وہ کبھی اسماء کی کسی بات پر ہنستی تو کبھی دریہ بیگم سے نان سٹاپ باتیں کررہی ہوتی،پہلے جو اس کی آواز سے پریشان ہوتا تھا اب ہفتے کا انتظار کرتا کہ کب وہ آئے اور اپنی خوبصورت آواز سے اسے پرسکون کردے،
آج دیڑھ مہینے ہوچکے تھے،ہفتہ تھا وہ جب سے انتظار کررہا تھا بیڈ پر بیٹھا کہ کب وہ مدھر آواز آئے اور تبھی سلسبیل کے تراشے ہوئے عنابی لب زندگی سے بھرپور مسکرائے جب باہر سے وہ شیرینی آواز آتی اس کے کانوں سے ٹکرائی،وہ انجان نہیں تھا،خوب سمجھتا تھا اپنے اندر پیدا ہوئے نئے جذباتوں کو،یا شاید یہ جذبات ان کی پہلی ملاقات میں ہی اس کے دل میں آئے تھے پر وہ اس وقت اس سچویشن میں نہیں تھا کہ سمجھ پائے،
“آج میں نے ایک ریسیپی دیکھی ہے۔۔۔وہ ٹرائے کرتی ہوں۔۔۔”
مزے سے کہتی عندلیب کچن کے سلیپ پر ہاتھ بجاتی محضوظ ہوئی،
“مطلب ایک بار پھر مجھے پورا دن لگے گا کچن صاف کرنے میں۔۔۔”
اسماء نے مصنوعی لاچارگی دکھائی،
“ہنہہ۔۔۔تو جیسا کہ یہاں ایک عدد جیلِس بھی ہے گرینی۔۔”
اس کی طرف اشارہ کیے عندلیب نے دریہ بیگم کو کہا جس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا پر ان کی مسکراہٹ غائب ہوئی جب ٹک ٹک کی آواز پر ان کی نگاہ سلسبیل کے روم کی جانب گئی،وہ اسٹیک کے سہارے کچن کی طرف آرہا تھا،
“ارے سلسبیل۔۔۔بیٹا کچھ چاہیے کیا۔۔۔”
عندلیب کی موجودگی میں اس کا غصہ یاد کرکے ہی دریہ بیگم گھبرائی تھیں تبھی جلدی سے اس کے پاس جاتی بولیں،
“جی۔۔”
“کیا چاہیے۔۔۔”
ان کے سوال پر سلسبیل کچھ دیر خاموش رہا پھر کہا،
“عندلیب سے بات کرنی ہے۔۔۔”
اور دریہ بیگم کو لگا کہ آج پھر وہ توڑ پھوڑ کرنے والا ہے۔۔۔،
“وہ صرف مجھ سے ملنے آئی ہے پھر چلی جائے گی تھوڑی دیر میں۔۔۔”
انہیں ڈر تھا تبھی وہ پریشانی سے جواز پیش کرنے لگیں،پر ان دونوں کی یہ بآواز بحث کچن میں کھڑی عندلیب صاف سن رہی تھی تبھی چند قدم اٹھاتی وہ کچن سے باہر دریہ بیگم کے پاس آئی،
“مجھے صرف پندرہ منٹ دیں گی اس سے بات کرنے کے لیے۔۔۔”
اب سلسبیل بلا کے سنجیدہ لہجے میں بولا کہ دریہ بیگم نے ایک لاچار نظر اپنے برابر میں کھڑی عندلیب پر ڈالی پھر کہا،
“تم کمرے میں جاؤ میں بھیجتی ہوں اسے۔۔۔”
ان کے کہنے پر سلسبیل اسٹیک کے سہارے مڑتا اپنے کمرے میں گیا تھا،
“دیکھو بچے۔۔۔میں جانتی ہوں وہ ضرور غصہ ہوگا تم پر۔۔۔لیکن جہاں تمہیں لگے کہ اس کا غصہ بڑھ رہا ہے تم روم سے نکل جانا۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچادے۔۔۔”
دریہ بیگم اسے سمجھاتے ہوئے وہ دن یاد کرنے لگیں جب وہ غصہ بڑھنے پر کمرے کی حالت بدتر کر کے رکھ چکا تھا،
“میری پیاری گرینی۔۔۔آئی نو اس کا اپنے غصے پر قابو نہیں ہے۔۔۔پر یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ کبھی مجھے نقصان نہیں پہنچائے گا۔۔۔سو جسٹ ریلیکس۔۔۔”
پریقین لہجے میں کہہ کر مسکراتی وہ سلسبیل کے کمرے کی جانب گئی،
وہ بیڈ پر بیٹھا تھا،عندلیب ایک دو مرتبہ گیٹ ناک کرتی اندر داخل ہوئی،اس کی موجودگی محسوس کرتے ہی مقابل کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ اپنی چھب دکھلاکر غائب ہوئی،
کچھ فاصلے پر رکھے صوفے پر بیٹھتی وہ کھنکھاری،جیسے قسم کھائی ہو بات کا آغاز خود نہیں کرے گی،
“5 سال۔۔!”
وہ چونکی سلسبیل کی اچانک ابھرتی آواز پر،
“5 سال سے بےبس ہوں۔۔۔ناجانے اب آگے اور کتنے سال تک رہنا ہے۔۔۔تمہیں پتا ہے بےبس رہنا کیسا لگتا ہے۔۔۔؟
جیسے آپ کا وجود بےمعنٰی ہو۔۔۔دنیا میں ہوتے ہوئے بھی آپ نہ ہونے کے برابر ہوجاتے ہو۔۔۔یہ بےبسی یہ محتاجی جب شروع میں مجھے ملی تو میں بہت تڑپا تھا۔۔۔رویا بھی تھا۔۔لیکن پھر امید رکھی کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا ایک دن۔۔۔۔لیکن ایک دن۔۔۔کچھ ٹھیک تو نہ ہوا پر میری امیدیں ضرور ختم ہوگئی۔۔۔۔مجھے یقین ہوچلا کہ یہ محتاجی اب ساری زندگی میرے گلے پر پھندے کی طرح اٹکے رہے گی۔۔۔میں دنیا دیکھنا چاہتا تھا پر مجھ سے یہ حق چھین لیا گیا،میں خواب بنتا تھا میرے خوابوں کو آنکھوں سے نوچ ڈالا۔۔۔صرف اس لیے کہ میں غریب ہوں۔۔”
وہ آج اپنا آپ اس پر آشکار کررہا تھا۔۔۔،پہلی مرتبہ وہ آج کسی پر اپنا غم اپنی اذیتیں کھول رہا تھا اور کسی عندلیب سکندر تھی،وہی عندلیب سکندر جس سے کبھی وہ بےتحاشہ نفرت کا دعویدار تھا،
“تم نے کہا تھا کہ میں ایک بزدل انسان ہوں۔۔۔”
اس کا لہجہ ضبط کی انتہا کی واضح دلیل تھا،عندلیب جس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں اس کی بات سن کر بےساختہ بولی،
“میرا وہ مطلب نہیں۔۔۔”
“دوستی میں فریب کی بھیانک شکل دیکھنا،کسی کی نظروں میں گرنا،بےقصور ہونے کے باوجود قصوروار ٹہرانا اور۔۔۔۔”
کرب آمیز لہجے میں بولتا وہ آواز بھاری ہونے پر رُکا،عندلیب کے گال بھیگنے لگے تھے،
“اور زندگی کے انتہائی تکلیف دہ عرصے میں کسی اپنے کا ساتھ چھوٹ جانا کہ جس کی وجہ سے آپ جی رہے ہو،خواب بُن رہے ہو وہ اگر آپ سے اتنا دور چلا جائے کہ واپسی ناممکنات میں شمار ہو اور آپ خود اتنے بےبس ہوجاؤ کہ اس کے لیے رو تک نہ سکو تو جانتی کیسا لگتا ہے۔۔۔”
ہر لفظ کے ساتھ اس کا لہجہ بھیگ رہا تھا آخر میں وہ اچانک پوچھا عندلیب سے،
“ایسا لگتا ہے کہ بس اب موت کو گلے لگا لیا جائے۔۔۔مگر ان سب اذیتوں کو برداشت کرتا میں ایک آخری فرد گرینی کے لیے اس زندگی کو کاٹ رہا تھا۔۔،ان سب کے باوجود اگر تم مجھے بزدل کہتی ہو تو ٹھیک۔۔۔ہوں میں ایک بزدل انسان۔۔۔کیونکہ تنگ آچکا ہوں ایسی زندگی سے۔۔۔”
چبھتے لہجے میں بول کر وہ اچانک خاموش ہوا،عندلیب کافی دیر تک اسکے وجیہہ چہرے پر رقم کرب کو تکتی رہی پھر اپنے گال رگڑتی اٹھی،بیڈ پر اس سے کچھ فاصلے پر بیٹھتی وہ گہرا سانس بھری تھی،پھر ہمت کر کے کپکپاتے ہاتھ کو اس کے بھاری ہاتھ پر رکھی،
“شکریہ۔۔۔”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولی،
“کس لیے۔۔”
“اپنی کچھ باتیں مجھ سے شئیر کی۔۔۔مجھے اس لائق سمجھنے کے لیے شکریہ۔۔۔”
نم آواز میں مسکراکر بولتی وہ کچھ سوچ کر پھر اچانک کہنے لگی،
“تم نے اتنے دن تک مجھ سے بات نہ کی تو اسی باعث میں تمہیں بتا نہیں سکی۔۔”
“کیا۔۔”
“تمہیں یاد ہے لاسٹ ٹائم جب ہم تمہارا ٹیسٹ کروانے گئے تھے تب جو رپورٹ ہمیں ملی تھی وہ غلط تھی۔۔۔ڈاکٹر کی کال آئی تھی۔۔۔انہوں نے کہا تھا کہ اس دن ایک اور بلائینڈ پیشنٹ آیا تھا وہ رپورٹ اس کی تھی۔۔۔انہوں نے مجھے تمہاری رپورٹ کا بتایا تھا ساتھ ہی ایک گُڈنیوز دی۔۔۔اب گیس کرو وہ گُڈنیوز کیا ہوگی۔۔۔”
اس کے ہاتھ پر سے ہاتھ ہٹاتی وہ اب بھرپور ہنسنے کی کوشش کرتی بولی،سلسبیل کچھ پل کی خاموشی کے بعد بولا،
“کیا۔۔۔”
“یہی کہ امکانات ہیں اور وہ بھی کافی زیادہ۔۔۔انہوں نے اگلے ہفتے سرجری کے لیے بلایا ہے۔۔۔میں تو یہ بات گرینی کو بتانا ہی بھول گئی۔۔۔سلسبیل مطلب سوچو کہ تم اب دیکھ پاؤ گے۔۔۔”
باوجود کوشش اس کا لہجہ کھوکھلا ہورہا تھا،سلسبیل الجھا،
“تم۔۔۔سچ کہہ رہی ہو۔۔۔”
“نہیں تو کیا جھوٹ بولوں گی۔۔۔”
“میں نہیں مان سکتا۔۔۔”
“نہ مانو۔۔۔میں چلی گرینی کو بتانے۔۔۔”
مزے سے کہتی وہ بیڈ سے اٹھی،
“عندلیب۔۔۔!”
وہ تھمی تھی مقابل کی پکار پر،ڈر تھا کہ جھوٹ نہ پکڑایا جائے،
“ایسے کیسے۔۔۔مطلب اتنے سال تک تو کوئی امکان نہیں تھا پھر اچانک۔۔۔”
سلسبیل شاید بات کی تہہ جاننا چاہ رہا تھا،
“لفظ معجزہ سنا ہے۔۔۔”
مڑ کر اس کے وجیہہ چہرے کو نظر بھر دیکھتی وہ پوچھی سلسبیل طنزیہ مسکرایا،
“ہاں اس دور میں قسمت والوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔۔۔”
اپنے لفظوں سے خود کا ہی مذاق اڑایا تھا وہ،عندلیب اس کے عنابی لبوں کی مسکراہٹ سے نظریں چرائی تھی،دل زور سے دھڑکا پھر جلد ہی خود کو کمپوز کرتی بولی،
“تو سمجھ لو تم بھی قسمت والے ہو۔۔۔”
یاسیت زدہ سی مسکراتی وہ بولی،
“ہنہہ۔۔۔میں اور۔۔۔قسمت والا۔۔۔”
تنفر سے کہا گیا تھا،
“ایسا نہیں بولتے۔۔۔”
سمجھانے والے انداز میں کہتی عندلیب مڑی،
“سنو۔۔۔”
قدموں کی چاپ سے سلسبیل کو محسوس ہوا وہ جارہی ہے تبھی پھر پکارا،
“ہممم۔۔۔”
عندلیب کا فلحال اس کے سامنے رہنا محال ہورہا تھا،جو بڑا فیصلہ وہ چند لمحوں میں لے چکی تھی اب ڈر تھا کہ کہیں کچھ دیر اور بیٹھی تو رو ہی نہ دے،
“تم۔۔۔ایک اچھی لڑکی ہو۔۔۔”
جتنے سرد لہجے میں وہ عام دنوں میں بات کرتا ابھی اتنا ہی نرم لہجہ تھا کہ عندلیب نے بےیقینی میں آنکھیں پھیلائے اسے دیکھا،وہ پہلی مرتبہ اسے کسی اچھے خطاب سے نوازا تھا،دل بےتحاشہ تکلیف میں بھی جھوم اٹھا تھا،اپنی نم ہوتی پلکیں جھپکتے وہ کھلکھلائی،
“مجھے معلوم ہے کھڑوس۔۔۔”
اچانک بول کر وہ نکلی روم سے،سلسبیل شاید اتنے سالوں بعد کھل کر مسکرایا تھا،ایک نرم پرسکون سی مسکراہٹ جو وہ سالوں ہوئے بھول چکا تھا آج اس کے لبوں پر سجی تھی،
دوسری جانب عندلیب گرینی سے مل کر انہیں سلسبیل کی جانب سے مطمئن کرتی وہاں سے نکلی تھی،اسے اب ہاسپٹل جانا تھا،ڈاکٹر سے بات کرنے،ابھی وہ راستے میں ہی تھی کہ اس کا فون رنگ کرنے لگا،
“ہیلو مام۔۔۔”
مہناز بیگم کی کال تھی،
“عندلیب۔۔۔بیٹا تمہارے لیے ایک گڈ نیوز ہے۔۔۔”
وہ بہت پرجوش لگ رہی تھیں عندلیب کو،
“کیا مام۔۔”
“بیٹا اگلے ہفتے میں تم سے ملنے آرہی ہوں۔۔۔”
ان کے اس سرپرائز پر عندلیب جس بری طرح گڑبڑائی تھی بےاختیار کار روکی تھی،
“مام۔۔اگلے ہفتے۔۔مجھ سے ملنے۔۔۔پر کیوں۔۔”
وہ خوش ہوتی بہت اگر کو کچھ دیر پہلے والا فیصلہ نہ لیا ہوتا اس نے،پر اب اسے نئی فکر لاحق ہوئی تھی،
“ہاں بلکل۔۔تمہیں خوشی نہیں ہوئی۔۔”
انہیں اس کا لہجہ شک میں مبتلا کیا تھا،
“آ۔۔۔نہ۔۔نہیں مام۔۔می۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔آپ۔۔آرہی ہیں تو ظاہر سی بات ہے خوشی تو ہوگی ہی نا۔۔۔”
انہیں منع وہ چاہ کر بھی نہیں کرسکتی تھی آخر کو پہلی بار آرہی تھیں اس سے ملنے،
“چلو ٹھیک ہے اب میں رکھتی ہوں۔۔۔مس فاریہ کو بھی کال کر کے بتادوں۔۔۔اور ہاں لڑکی سنو۔۔۔پڑھائی پر زیادہ دھیان دو انہوں نے کہا ہے اس بار بھی کچھ خاص اچھی نہیں جارہی تمہاری تیاری۔۔۔”
پوری بات کہہ کر آخر میں اسے ڈپٹتیں وہ فون رکھیں،عندلیب نے پریشانی میں سر بےساختہ اسٹیئرنگ ویل سے ٹکایا لیکن کچھ ہی دیر بعد وہ جھٹکے سے سیدھی ہوئی،
“مام اگلے ہفتے آرہی ہیں تو کیوں نہ سرجری اس ہفتے ہوجائے۔۔۔”
اپنے آئیڈیے پر خوش ہوتی وہ جلدی سے کار سٹارٹ کی مگر اس سے پہلے مہناز بیگم کے نمبر پر فیس کے نام پر اور رقم مانگنا نہ بھولی،وہ جانتی تھی اس کی ماں تھوڑا غصہ ہوں گی۔۔۔پر پیسے لازمی اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کروادیں گی۔۔۔ان پیسوں کی اس بار اسے اشد ضرورت پڑنے والی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تیار ہوکر ہناد کے بتائے گئے بار میں آیا تھا،ایسی جگہیں اسے بلکل پسند نہیں تھیں پر دوستی کا بھرم رکھنے کے لیے وہ ہناد کو منع بھی نہیں کرسکتا تھا،
“ہے سابی۔۔۔”
ہناد کی پکار پر سابی جو گیٹ کے باہر گارڈ کے کچھ پوچھنے پر کھڑا انہیں جواب دے رہا تھا چونک کر اندر دیکھا،
“اُسے آنے دو۔۔۔”
اپنے دوستوں کے جھنڈ میں گھرا وہ گارڈ کو اشارہ کیا جس پر گارڈ نے سر ہلاکر سابی کو جگہ دی،
“یہاں آنے میں کوئی پروبلم تو نہیں ہوئی نا۔۔۔”
اس کا جائزہ لیتے ہوئے ہناد نارملی پوچھا،گرے ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ پر وائٹ جیکٹ پہنا وہ بالوں کو کشادہ ماتھے پر بکھرے چھوڑے کہیں سے بھی غریب نہیں لگ رہا تھا،اس کی پرسنیلٹی تھی ہی ایسی کہ جہاں جاتا ہر کوئی مرعوب ہوتا،ہناد کی پیشانی شکنوں کا جال بنی تھی،پھر زبردستی مسکراتا وہ اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا،
“نہیں۔۔۔”
مسکراکر کہتے ہوئے وہ ہناد کو اب تک بلکل ٹھیک لگا،
“میرا گفٹ یوز کیا تھا۔۔۔”
تنقیدی نظروں سے اب سابی کو دیکھے وہ بلاجھجک صاف لہجے میں پوچھا
“بلکل۔۔۔فریگرینس بہت اچھی ہے۔۔۔”
سابی کا مسکاتے لہجے میں دیا جواب ہناد کو ہضم نہ ہوا،
اسے کچھ گڑبڑ لگی تبھی سابی کا اپنے دوستوں سے تعارف کرواکر اسے ان لوگوں کے ساتھ چھوڑکر ایکسکیوز کرتا سائیڈ پر گیا،ساتھ ہی ایک نمبر ڈائل کیا،
“ہیلو۔۔۔”
دوسری جانب سے نیند میں بھری آواز ابھری،
“بات سنو۔۔۔تم نے پرفیوم کی شیشی میں الکلی(alkali) (ایک خاص قسم کا کیمیکل جو آنکھوں پہ بنے حفاظتی ٹشوز پر بہت برا اثرانداز ہوتا ہے کہ بینائی جانے کا خطرہ ہو۔)ڈالا تھا بھی یا نہیں۔۔۔”
ہناد کی سخت آواز پر وہ سیلزبوائے بوکھلا کر اٹھا،
“اوہ سوری سر۔۔۔میں بھول گیا تھا۔۔۔”
“واٹ رابش یُو(گالی)۔۔۔بھولنے کے پیسے نہیں دیے تھے تمہیں۔۔۔”
“سو سوری سر۔۔۔می۔۔۔میرے پاس وہ اب تک ہے۔۔۔آپ مجھے کہیں تو ابھی لاکر دے دیتا ہوں۔۔۔”
غلطی کے مداوے کا سوچتے وہ عاجزی سے بولا،جس پر ہناد پہلے تو مڑ کر اپنے دوستوں سے باتیں کرتے سابی کو گھورا پھر کہا،
“کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ہناد سکندر ہر چیز کا انتظام پہلے سے کرکے رکھتا ہے۔۔۔”
کہہ کر وہ کال کٹ کیا ساتھ ہی جیب میں موبائل رکھتا واپس سابی کے پاس گیا،
“کیا باتیں ہورہی ہے دوستوں۔۔۔”
سابی کے گلے کے گرد بازو حائل کرتا وہ فرینکلی پوچھا،
“زیادہ کچھ نہیں بس تیرے اس دوست کی آنکھوں کا رنگ بہت خوبصورت ہے۔۔۔وہی بتارہے تھے اسے۔۔۔”
اس کے ایک دوست نے طنزیہ مسکراہٹ سمیت کہا،
“ہاں یہ تو ہے۔۔۔”
ہناد بھی اب سابی کو دیکھ کر بولا جس پر اس نے صرف مسکرانے پر اکتفاء کیا،
“چل میرے دوست۔۔۔”
اس کا کندھا ہلائے ہناد کہنے لگا،
“کہاں۔۔؟”
“پارٹی میں اور کہاں۔۔۔”
“پر پارٹی کے لیے جگہ تو تم نے یہ بتائی تھی۔۔۔”
سابی الجھا تھا اسکی بات پر تبھی پوچھا،
“امہمم۔۔اصل جگہ یہ نہیں کہیں اور ہے۔۔۔تم چلو تو۔۔”
اب کی بار ہناد اسے باقاعدہ اپنے ساتھ لے کر نکلنے لگا بار سے،اس کے دوست بھی ان دونوں کے ساتھ ساتھ تھے،
بار سے نکل کر وہ لوگ پچھلے حصّے میں پیدل آئے تھے،داخلی حصّے پر جتنی رونق رنگینیاں اور شور تھا یہاں اتنا ہی سناٹا اور اندھیرا ہورہا تھا،
“ہم یہاں پارٹی کرنے والے ہیں۔۔۔”
چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے سابی گردن موڑ کر اپنے شانہ بشانہ چلتے ہناد سے پوچھا،
“ہاں بلکل۔۔۔اب شروع ہوتی ہے پارٹی۔۔۔”
تمسخر سے کہتا ہناد جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک چھوٹی شیشی نکالا تھا،کسی قسم کا سپرے تھا وہ،اس میں کچھ محلول تھا،سابی ابھی حیران کن نظروں سے اسے دیکھ ہی رہا تھا کہ ہناد پھر بولا،
“تمہیں دنیا دیکھنے کا شوق ہے۔۔۔؟”
ہاتھ میں شیشی اچھالتا ہناد سنجیدگی سے پوچھا،
“بےحد۔۔۔”
“اگر یہ شوق صرف شوق ہی رہے تو کیا کروگے تم۔۔”
سابی کے جواب پر وہ پھر پوچھا،
“مطلب۔۔۔”
سابی کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس قدر عجیب سوالات کیوں کررہا ہے اس سے،
“مطلب۔۔۔اگر تم پھر کبھی دنیا دیکھ ہی نہ سکو۔۔۔یہ شوق شوق ہی رہ جائے تو کیا کروگے۔۔۔”
“محنت کروں گا۔۔۔اور یقیناً دنیا گھوموں گا دیکھوں گا۔۔۔اپنی قابلیت پر اتنا تو بھروسہ ہے مجھے۔۔۔”
رسانیت سے کہتا سابی ہلکا سا ہنسا،
“اور اگر میں تمہاری یہ قابلیت تم سے چھین لوں پھر۔۔۔”
اچانک ہیثم نفرت سے تقریباً پھنکارا تھا اور سابی کے بنا کچھ اور سمجھنے سے پہلے ہی وہ شیشی اسکی آنکھوں کے قریب کرتا دو تین مرتبہ سپرے کیا،سابی کے منہ سے بےاختیار چیخ نکلی،آنکھیں میچتا وہ ابھی اچانک ہوئے حملے کو سمجھنے کی کوشش ہی کررہا تھا کہ ہناد جب سے خاموش کھڑے اپنے دوستوں کو اشارہ کیا تھا،
اس کا اشارہ کرنا تھا اور وہ پانچوں ایک ساتھ ہی سابی پر ٹوٹ پڑے،بری طرح اسے ان لوگوں سے پٹتے دیکھ ہناد فلذہ کا نمبر ڈائل کیا تھا،
“اس کمینے کا حشر دیکھنا چاہو گی۔۔۔”
اس کے ریسیو کرنے پر وہ پوچھا،
“بلکل۔۔۔شدت سے دل چاہ رہا ہے۔۔۔”
ہناد کے پیچھے سابی کی چیخ سمیت اس کے دوستوں کے منہ سے نکلتی گالیوں کی آواز سن کر فلذہ پرسکون سی بولی،
“تو پھر آجاؤ۔۔۔بار(۔۔۔۔۔) کے پیچھے۔۔۔”
فلذہ کی آمادگی پر کال کٹ کرتا وہ اس طرف دیکھا جہاں سابی اب ادھ موا ہوچکا تھا ان لوگوں سے پٹتے ہوئے لیکن اس کے دوست بھی شاید اس ہی کی طرح پتھر دل تھے جو اس کی دلخراش چیخوں پر بھی اپنا ہاتھ نہیں روک رہے تھے،شور کی آواز پر بار کے باہر کھڑے گارڈ اس حصے پر آئے تھے پر ہناد نے چند نوٹوں کے توسط بڑی چالاکی سے ان کا منہ بند کروایا ساتھ ہی کچھ ہدایت دیا تھا،وہ دونوں گارڈ ایک نظر زمین پر پڑے تکلیف میں کراہتے سابی کو دیکھ سر ہلاتے وہاں سے چلے گئے،
“پیچھے ہٹو۔۔۔”
وہ جو اب ہاتھ کے بعد اس پر لاتوں سے ٹھوکر ماررہے تھے ہناد کی آواز پر پیچھے ہٹے،
“ابےیار۔۔۔تھوڑا تو اور ہاتھ صاف کرنے دے۔۔۔بڑا مزہ آرہا ہے مارنے میں۔۔۔”
اس کا ایک دوست حماد بولا تھا،ہناد اسے اگنور کرتا خون سے تر چہرے میں پڑے سابی کے پاس جا کر جھکا،جو اب تک آنکھیں میچے کراہ رہا تھا،اس کی آنکھوں سے بھی اب باقاعدہ خون نکلنے لگا تھا،
“تو دوست۔۔۔کیسا فیل ہورہا ہے اب۔۔۔”
ہناد کی آواز پر وہ بمشکل نیم آنکھیں وا کیا تھا،دھندلا۔۔۔، انتہائی دھندلا نظر آیا تھا اسے ہناد کا چہرہ،آنکھوں میں مرچیوں سے بھی بدتر جلن ہورہی تھی جس کے باعث وہ پھر آنکھیں میچا،
“کک۔۔کیوں۔۔کیا۔۔ایس۔۔ایسا۔۔۔دو۔۔دوست۔۔۔ما۔۔مانت۔۔مانتا تھا۔۔۔تم۔۔”
ناک اور منہ سے نکلتے خون اور درد سے جسم ٹوٹنے کے باعث وہ بمشکل بول کر رکا،ساتھ ہی گہرے سانس لینے لگا،
“ہا۔۔۔دوست۔۔۔یہ دوستی بھی نہ۔۔۔دکھنے میں جتنی اچھی لگتی ہے اندر سے اتنی ہی زہریلی ہوتی ہے۔۔۔اور دوست تُو مانتا تھا مجھے۔۔۔میں تو نہیں۔۔۔”
سابی کے بالوں کو زور سے جکڑ کر اس کے چہرے کو اونچا کرتا وہ غرایا،
“کمینے۔۔۔ہناد سکندر سے بات کرنے کی تیری اوقات نہیں تھی۔۔۔پھر بھی میں نے تجھے دوست بنایا اور تُو۔۔۔دوستی کی آڑ میں میری بہن کے ساتھ بدتمیزی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔”
بےپناہ تنفر سے کہہ کر ہناد کھڑا ہوا ساتھ ہی اس کے ہاتھ پر شوز رکھا،وہ جو پہلے ہی تکلیف سے مرنے کو تھا اس پر ضبط کی انتہا کو پہنچتا سختی سے لب بھینچا،
“پہلے ڈیڈ کے سامنے اچھا بنا پھر مام اور پھر میری بہن کو پٹانے لگا،تجھے کیا لگتا ہے میں اُلّو ہوں جو تیری چالاکیوں سے واقف نہ رہ پاؤں گا۔۔۔تُو جس گندی نیت سے سکندر ولا آیا تھا۔۔۔میں نے سوچا کیوں ناں اس میں دوستی نامی فریب ڈال کر تجھے تیری اوقات یاد دلائی جائے۔۔۔”
وہ جو نیچے پڑا یہ سوچ رہا تھا کہ مقابل کھڑا اس کا دوست بہن کی محبت میں اندھا ہوا ہے اس پر اب آشکار ہوا تھا کہ وہ انسان شروع سے ہی دوستی کا ناٹک کررہا تھا اس کے ساتھ،
“بھائی۔۔۔”
فلذہ کی آواز پر وہ جو شوز سے تقریباً اس کے ہاتھ کو کچلنے کی کوشش میں تھا رک کر پلٹا،
“تم لوگ جاؤ۔۔۔”
اپنے دوستوں کو وہاں سے بھیج کر اب وہ فلذہ کو دیکھ کر ہنسا،
“جتنا ہوسکا اتنا معزور تو کرچکا ہوں۔۔۔باقی تمہیں بھی کوئی کسر اتارنی ہے تو اتارلو۔۔۔”
ہناد کی بات پر وہ چند قدم کا فاصلہ طے کرتی اس کے پاس آئی تو ہناد تھوڑا پیچھے ہوا،
“ہنہہ۔۔۔اس آدھی لاش کے ساتھ اب اور کیا کِیا جاسکتا ہے۔۔۔بس اتنا کہوں گی کہ۔۔”
بات روک کر تمسخر اڑاتی نظروں سے سابی کے وجود کو دیکھتی وہ جھکی پھر نہایت ہی دھیمی سرگوشی میں بولی،
“امید ہے کہ یاد رہے گا فلذہ سکندر کو ٹھکرانے کا یہ انجام۔۔۔”
اپنا جملہ مکمل کرتی وہ جھٹکے سے اٹھی،پھر ہناد کو وہاں سے چلنے کا کہہ کر مڑی،سابی نے ایک آخری مرتبہ پھر آبنوس رنگ خوبصورت مگر خون آلود آنکھوں کو بمشکل کھول کر دھندلائی نظروں سے اپنے سے دور جاتے ان دونوں بھائی بہنوں کو دیکھا پھر بہت مشکل سے بلند آواز میں بولا،
“دو۔۔۔دوستی جیسے خوبصورت رشت۔۔رشتے کا مذاق بن۔۔بنایا ہے تم نے۔۔۔ہن۔۔ہناد۔۔سکندر۔۔۔بہ۔۔بہت جلد۔۔۔اس کی سز۔۔سزا تمہ۔۔تمہیں اپن۔۔اپنے ہاتھ۔۔ہاتھوں سے دوں گا۔۔۔”
بلا کا کرب تھا اس کے لہجے میں ہناد بےساختہ قہقہہ لگایا،
“مجھے سزا تب دینا جب خود دیکھنے لائق بن جاؤ۔۔۔سلسبیل مراد۔۔”
وہ کہہ کر مڑا تھا اور سلسبیل کی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے چھاتا اندھیرا اس کے ذہن میں بھی تاریکی کو مدفون کرگیا،رات بھر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ وہاں نیم مردہ حالت میں پڑا رہا،صبح کچھ لوگوں نے دیکھا تو ایمبولینس کے ساتھ ساتھ پولیس کو بھی کال کی،
سلسبیل کو تو ہاسپٹل لےجایا گیا تھا پر پولیس نے جب گارڈز سے تفتیش کی اس بارے میں تو ان کا صاف کہنا تھا کہ کل رات وہ لڑکا ایک لڑکی کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کررہا تھا تبھی وہاں پر کچھ لڑکوں نے اسے دیکھا تو پیٹ ڈالا،دوسری جانب گھر پر سلسبیل کی بابت دریافت کرتے سکندر صاحب کو جب ہناد نے یہ بتایا کہ وہ رات کو نشے کی حالت میں سکندر صاحب کے ایک دوست کے بار کے بیرونی حصے میں پڑا ملا ہے تو انہیں کافی حیرت ہوئی،اپنی حیرت میں وہ ہناد سے یہ تک پوچھنے کا نہ سوچ پائے کہ اسے کیسے خبر کہ سلسبیل بار کے پچھلے حصے میں پڑا ملا ہے،سکندر صاحب نے بنا وقت ضائع کیے اس بار کا رخ کیا تھا پھر گارڈ سے سب دریافت کرنا چاہا تو گارڈ نے کل رات ہناد کا رٹا رٹایا جو پولیس کو بتایا وہی انہیں بھی بتادیا،ان سب کے بعد سکندر صاحب کو جب یقین نہ آیا تو ولا میں واپس آتے انہوں نے یہ بات مہناز بیگم کے سامنے رکھی،تبھی فلذہ نے ایک پتہ پھینکا کہ سلسبیل اس کے ساتھ بھی کتنی بار بدتمیزی کرنے کی کوششیں کرچکا ہے،بیٹی کی بات سن کر سکندر صاحب بےیقین ہونے کے ساتھ ساتھ بہت رنجیدہ بھی ہوئے،انہیں یقین نہیں تھا کہ سلسبیل اس قسم کا ہوگا،ہیثم کو تو کسی طور اس بات پر یقین نہ آیا تھا پر بہن کی گواہی کے آگے وہ بھی خاموش ہوچکا تھا،کچھ بولنے کو تھا ہی کیا جب وہ دلیری سے کہہ رہی تھی سلسبیل غلط انسان تھا،
اس واقعے کے دو دن بعد سکندر صاحب نے مراد صاحب کو کال کر کے دوسرے شہر سے بلوایا تھا،ان کے آنے پر وہ مراد صاحب کو اس ہاسپٹل میں لے کر گئے جہاں سلسبیل ایڈمٹ تھا پھر صاف لفظوں میں انہوں نے مراد صاحب کو کہہ دیا کہ وہ اب ان کے کریکٹرلیس بیٹے کو اپنے گھر پر کوئی جگہ نہیں دے سکتے،مراد صاحب کو سکندر صاحب کا روکھا لہجہ تکلیف دیا تھا کہ وہ دونوں کافی پرانے دوست تھے،پر انکے سب بتانے کے بعد وہ خود شرمندگی سے خاموش تھے،سکندر صاحب نے ان پر اتنا ضرور احسان کیا تھا کہ دو ہفتے بعد جب سلسبیل کافی حد تک صحت یاب ہوا تو ہاسپٹل کا بل خود ادا کیا اور دونوں باپ بیٹوں کو آبائی شہر بھیجنے کا انتظام بھی خود ہی کیا،جب سے ڈاکٹر نے مراد صاحب کو بتایا تھا کہ ان کے بیٹے کی بینائی اب کبھی واپس نہیں آسکتی وہ بےحد تکلیف میں تھے،اپنے شہر آنے کے بعد انہوں نے سلسبیل سے نہ کوئی سوال کیا نہ اسے ڈانٹا،وہ بس خاموش ہوگئے تھے،
دریہ بیگم نے سلسبیل کی حالت دیکھی تو خوب بھبھک کر روئیں لیکن پھر انہوں نے اس کا خیال رکھنے میں جی جان لگادی،ابھی وہ پوتے کی حالت کے غم سے ہی نہ نکلی تھیں جب ایک رات مراد صاحب کو دل کا دورہ پڑا،اور وہ یونہی چپ چاپ دنیائے فانی سے کوچ کرگئے،اس پوری رات سلسبیل رویا تھا،بےتحاشہ بچوں کی طرح چیخ چیخ کر۔۔۔،جیسے کوئی قیمتی اثاثہ کھوگیا ہو۔۔۔اور یہ سچ ہی تو تھا،جس قدر وہ محبت کرتا تھا اپنے باپ سے۔۔۔،ان کا یوں اچانک چلے جانا کیسے برداشت کرلیتا،
دن گزرے مہینے اور پھر ایک سال۔۔۔،سب کچھ وقت کی دیکھ ریکھ میں چلتا پر سلسبیل مراد رک چکا تھا،اپنے خوابوں سمیت زندگی کے ایک ہی موڑ پر رک چکا تھا وہ،زندگی سے اسے ایک نہایت ہی بھیانک پہلو دکھایا تھا ایسا کہ اب وہ خود کچھ دیکھنے لائق نہ رہا تھا،وجیہہ ہر پل مسکراتا چہرہ اب سپاٹ ہوچکا تھا،خالی آنکھیں ہر دم سرد تو دل میں الگ ہی انگارے جلتے،بدلے کے انگارے،جو اپنے مجرموں کو جلا کر راکھ کرنے کے لیے ابلتے رہتے ہوں۔۔۔،وہ اس وقت کا منتظر تھا جب یہ موقع اسے قسمت نوازتی،اور سلسبیل کو یقین تھا کہ یہ موقع لازمی ملے گا اسے ایک دن۔۔،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
