Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 39)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 39)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

“سلسبیل کہیں اور چلتے ہیں۔۔؟”

رات کو آفس سے وہ جلدی آیا تھا وجہ عنادیہ کی آتی مسلسل کالز تھیں،اسے آئسکریم کھانے کا دل چاہ رہا تھا تبھی اپنی مصروفیت کو برابر رکھتا سلسبیل اسے اب آئسکریم پارلر لے کر آیا تھا لیکن اب یہاں آکر عنادیہ کا یوں اچانک منع کرنا اسے چونکا گیا،

“لڑکی آئسکریم نہیں کھانی تمہیں۔۔؟”

سلسبیل حیرت میں گھرا اسے سے پوچھنے لگا جس کا خوشگوار موڈ ناجانے کیوں اب بدل گیا تھا،

“نہیں۔۔”

“پر کیوں۔۔؟”

“آپ کتنے سوال کرتے ہیں سلسبیل موڈ نہیں ہے کھانے کا تبھی منع کررہی ہوں نا۔۔”

اچانک عنادیہ کا یوں جھنجھلا کر بولنا سلسبیل کو ہنسنے پر مجبور کیا،ایک بھرپور نظر اس کے بھرے بھرے وجود پر ڈال سلسبیل مسکراکر عنادیہ کی جانب جھکا،

“تو کیا کھانا ہے جانم کو۔۔”

اس کے بالوں پر لب رکھتا سلسبیل محبت سے کہہ کر عنادیہ کے گرد چادر کو ٹھیک کیا،ان دنوں عنادیہ حد درجہ چڑچڑی سی ہوگئی تھی تبھی اس کے مزاج کو مدنظر رکھتا وہ نرمی برتا،

“کچھ کھانے کا موڈ نہیں۔۔ایسا کرتے ہیں مام سے مِل آتے ہیں۔۔”

کھڑکی سے باہر نظر ڈال کر وہ سلسبیل کو دیکھتی بولی،

“اس ٹائم۔۔”

سلسبیل ایک نظر رسٹ واچ کو دیکھا،رات کے گیارہ بج رہے تھے،

“ہاں تو۔۔زیادہ رات تھوڑی ہوئی ہے اور ویسے بھی مام اٹھی ہوئی ہوتی ہیں اس وقت۔۔چلیں نا سلسبیل۔۔”

اب کی بار وہ لہجے میں منت سموئے بولی تو نفی میں سر ہلاکر مسکراتا سلسبیل کار سکندر ولا جاتے رستے پر موڑنے لگا،فون رنگ کرنے پر عنادیہ دیکھی،مطیبہ کے نمبر سے کال تھی،

“ہیلو۔۔”

ریسیو کرتی وہ کان سے لگائی،

“آپی۔۔آپ۔۔رو کیوں رہی ہیں۔۔؟”

دوسری جانب سے مطیبہ کے رونے کی آواز پر عنادیہ حیران ہوکر پوچھی،مگر اگلے ہی لمحے جو خبر مطیبہ نے اسے سنائی عنادیہ کا دماغ بھک سے اڑا،کان سائیں سائیں کرنے لگے جبکہ خشک آنکھیں تیزی سے گیلی ہوئیں،

“عنادیہ۔۔”

اسکے سفید پڑتے بھیگے چہرے کو دیکھ سلسبیل فکرمند ہوا،

“مہ۔۔ما۔۔۔مام۔۔”

اس کا لہجہ بری طرح لڑکھڑایا تھا،سلسبیل کچھ غلط ہونے کے احساس پر عنادیہ کے ہاتھ سے فون لیتا کان سے لگایا،

“ہیلو مطیبہ۔۔”

کچھ دیر بعد روتی مطیبہ نے اسے بھی جب مہناز بیگم کی ڈیتھ کا بتایا تب لب بھینچتا سلسبیل کار کی سپیڈ کچھ تیز کرتا فون رکھا،نظریں عنادیہ پر گئیں جس کی طبیعت بگڑنے لگی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہنستا بستا گھر کیسے ویران سا ہوگیا۔۔”

کسی عورت کی آواز اس کے کان میں پڑی تو نم پلکیں اٹھاتی مطیبہ مہناز بیگم کی میت کو دیکھی،

“سالوں ہوئے اس گھر میں اب خوشیوں کا دور دور تک کوئی نشاں نہ رہا۔۔”

دوسری عورت نے اس عورت کو جواب میں کہا،ایک ٹیس سی اٹھی تھی مطیبہ کے دل میں،بھیگی نظریں زرا کی زرا اٹھیں تو سامنے ضبط سے سرخ ہوئے اس چہرے پر گئی جس کو دیکھ کر کوئی بھی بےپناہ درد کی پہچان لمحوں میں کرسکتا تھا،

کئی مرد اسے تسلی بخش الفاظ کہہ رہے تھے مگر وہ ان سب سے بےبہرہ بنا بس خالی نظروں سے اپنی کل کائنات کو پل میں لٹاتا خاموش کھڑا تھا،وہ جب اس کی چیخ پر مہناز بیگم کے کمرے میں گئی تب ہیثم کو اپنے بال جکڑ کر بےیقینی میں روتا دیکھ ساکت ہوئی،وہ بچوں کی طرح چیختے ہوئے ہوش میں بلکل نہ تھا اس ہیثم میں اور اب کے سامنے خاموش کھڑے ہیثم میں دو جہانوں کا فرق لگ رہا تھا،

سلسبیل گیسٹ روم سے نکل کر ہیثم کے پاس آیا،سکندر ولا آتے ہی مہناز بیگم کو دیکھ عنادیہ بےہوش ہوچکی تھی،ڈاکٹر نے سخت آرام کی تلقین کی تھی اسے،ابھی وہ نیم غنودگی میں تھی،کچھ دیر پہلے دریہ بیگم آئیں تھی فرمان کے ساتھ اور ابھی عنادیہ کے پاس سلسبیل انہیں ہی چھوڑ کر آیا تھا،

“میت کی تدفین کا وقت ہورہا ہے۔۔”

ایک عمر دراز شخص کی آواز پر سلسبیل ہیثم کے کندھے پر ہاتھ رکھا،لفظ میت پر اس کا دل ٹکڑوں میں بکھرا،گردن موڑ کر اپنی سلگتی آنکھیں جھپکتا وہ اثبات میں سر ہلایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وقت کا کام تھا گزرنا اور وہ گزرتا رہا مہناز بیگم کی ڈیتھ کو دو مہینے ہونے کو آئے تھے اس عرصے میں اللّٰہ نے عنادیہ خوبصورت بیٹے سے نوازا،مہناز بیگم کی ڈیتھ پر جس قدر اس کی حالت خراب ہورہی تھی سلسبیل کافی حد تک گھبرایا تھا اس کی جانب سے،اس عرصے میں وہ کس طرح عنادیہ کو سنبھالا صرف وہی جانتا تھا،اپنی ماں کے جانے کے فوراً بعد اس خوشی کے ملنے پر عنادیہ روپڑی تھی،منتوں بعد ملی اولاد پر اسے وہ خوشی نہ ہوپائی جیسے وہ چاہتی تھی،ماں کے جانے کا غم ہی اتنا بڑا تھا کہ دل اکثر بھاری رہتا،اکثر و بیشتر انہیں یاد کر کے وہ بہت روتی مگر ان اوقات میں سلسبیل اور دریہ بیگم کی حد سے زیادہ کئیر اور محبت نے عنادیہ کو ٹوٹنے نہ دیا،

“سلسبیل۔۔”

ابھی وہ مینشن میں داخل ہی ہوا تھا کہ ہال میں اسے دریہ بیگم دکھیں،وہ گود میں اس کے بیٹے کو لیے بیٹھی تھیں،

“آپ سوئی نہیں ابھی تک۔۔”

وہ دیر سے لوٹا تھا اور انہیں اب تک جاگے دیکھ پوچھا،

“کچھ وقت اپنے پوتے کے ساتھ باتیں کررہی تھی بس۔۔”

مسکراتے ہوئے کہہ کر انہوں نے سبطین کے بھرے بھرے گال چومے تو وہ کسمساکر رونے لگا،

“عنادیہ کہاں ہے۔۔؟”

انہیں سبطین کو اپنی جانب بڑھاتے دیکھ سلسبیل اسے تھام کر پوچھا،باپ کی گود میں آتے ہی اس کا رونا بند ہوا تھا،

“کمرے میں ہے۔۔۔جب سے اسے پریشان کر رکھا تھا سبطین نے رو رو کر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی میرے کہنے پر آرام کرنے گئی ہے۔۔”

ان کے بتانے پر سلسبیل سر اثبات میں ہلایا،

“کھانا نکلواؤں۔۔۔”

“نہیں گرینی بھوک نہیں۔۔”

انہیں نرمی سے جواب دیتا وہ اپنے روم کی جانب قدم بڑھایا،

“میری جانم کو پریشان کردیا گندے بچے نے۔۔”

کمرے میں داخل ہوتا وہ اپنی گود میں سوتے سبطین کو دیکھ بولا،بیڈ پر بیٹھی عنادیہ اس کی بات پر آسودگی سے مسکرائی،

“ہمارا بیٹا گندہ نہیں۔۔”

اسے سبطین کو بیڈ پر لیٹاتے دیکھ عنادیہ مسکراتے ہوئے بولی،

“جانتا ہوں۔۔۔اب یہ بتاؤ آج اتنی حسین مسکراہٹ لبوں پر سجانے کی کوئی خاص وجہ۔۔”

ان دنوں سلسبیل اسے زیادہ تر صرف اداس دیکھتا تھا پر آج عنادیہ کے لبوں پر مسکراہٹ دیکھ وہ خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوا،

“کتنی محبت کرتے ہیں آپ مجھ سے سلسبیل۔۔؟”

اسے جواب دینے کے بجائے عنادیہ الٹا سوال کی تھی،

“وہ پیمانہ اب تک ایجاد نہیں ہوا جس سے سلسبیل مراد کی محبت ناپ لی جائے۔۔”

عنابی لب دلکشی سے مسکراتے ہلے تھے،عنادیہ خاموشی سے اس شخص کو دیکھے گئی،ذہن کے پردے پر دوپہر کا واقعہ گھوما جب سلسبیل والٹ گھر پر بھول گیا تھا تب اس کے والٹ کو وارڈروب میں رکھنے کے غرض عنادیہ اٹھائی لیکن اس ہی وقت ایک فولڈ ہوا پیپر گرا تھا والٹ میں سے،عنادیہ کا ارادہ اسے واپس والٹ میں ڈالنے کا تھا مگر وہ تھمی تھی اس فولڈ ہوئے پیپر کے وسط میں بڑے لفظوں میں “فرام عندلیب” لکھا دیکھ،عنادیہ نے تیزی میں کھولا تھا وہ پیپر اور اس کا ہاتھ بےساختہ لبوں پر گیا،کیسا شخص تھا وہ جسے اپنی محبت اس قدر قیمتی تھی کہ اس سے منسلک وہ خط تک اتنے سالوں بعد بھی اپنے پاس اتنی حفاظت سے رکھا تھا،عنادیہ کو بےاختیار اس شخص پر پیار آیا،

“کس سوچ میں گم ہو۔۔؟”

عنادیہ کے آگے چٹکی بجاتا سلسبیل پوچھا تو وہ چونکی پھر نفی میں سر ہلاکر آگے ہوتی سلسبیل کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئی،سلسبیل کی جنونی محبت کے آگے کبھی کبھی وہ شرمندہ سی ہوجاتی،گزرے دنوں میں وہ کتنا پریشان کی تھی سلسبیل کو،مگر اب عنادیہ خود سے عہد کی تھی کہ چاہے اب کچھ بھی ہو وہ کسی اور کی وجہ سے سلسبیل سے کبھی بحث یا لڑائی نہیں کرے گی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو مہینے کے عرصے میں جہاں ہیثم کو گہری چپ لگی تھی وہی مطیبہ کی روٹین میں تھوڑا بدلاؤ آیا،زیادہ نہیں پر وہ غیر محسوس طریقے سے ہیثم کا تھوڑا بہت خیال رکھنے لگی تھی،وجہ اچانک ہیثم کی طبیعت کا دن بدن ڈل ہونا،وہ سامنا نہ کرتی اس کا مگر ہیثم کے صبح ٹیبل پر آنے سے پہلے ناشتہ تیار کر کے فرخندہ سے بھجوادیتی،یونہی شام کو کافی اور رات کے کھانے کی روٹین تھی،ہیثم سمجھ رہا تھا اس کا کئیر کرنے کا یہ انداز مگر ماں کے جانے کے بعد ایک آخری کلس جو اسے دیمک کی طرح روز ختم کرنے لگی تھی وہ مطیبہ کا اسے معاف نہ کرنا تھا،بےسکونی میں رہتا وہ بہت سوچنے کے بعد ایک فیصلہ کیا تھا جس پر عمل پچھلے دو ہفتوں سے کرتا آرہا تھا،

آج موسم ابر آلود تھا،کار سکندر ولا کی پورچ ہر روکے وہ سر سیٹ کی پشت سے ٹکائے آنکھیں موند کر بیٹھا ہوا تھا،الجھا ذہن گزرے مہینوں کو سوچ رہا تھا،کیا کچھ نہیں کیا تھا وہ اس لڑکی کی معافی کے غرض مگر وہ جیسے اپنی نفرت سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھی مگر اس سب میں مطیبہ کا بھی قصور نہ تھا،آخر کو یہ اس ہی کا تو کیا دھرا تھا ورنہ وہ لڑکی تو بچپن سے اس کے پیچھے پاگل تھی،بھائی بہن کی محبت میں اندھا وہ خود ہی تو اسے لاتعداد اذیتوں میں گھرا کر مطیبہ کے دل سے قطرہ قطرہ کر کے اپنی محبت نکالا تھا پھر اب کیسے امید کرلیتا کہ وہ لڑکی آسانی سے اسے معاف کردے،

بےتحاشہ تکالیف میں مبتلا وہ اپنی لہو ہوتی آنکھیں وا کیا،باہر اچانک برستی تیز بارش نے اس کی سوچوں کا ارتکاز توڑا،ایک کرب بھری مسکراہٹ نے اس کے باریک لبوں کا احاطہ کیا،برستے بادل اسے اپنے غموں کا ساتھ دیتے محسوس ہوئے تھے،کار کے شیشے کھولتا وہ آنکھیں پھر موندتا اندر آتی بارش کی ہلکی بوندوں کو محسوس کرنے لگا،اس سردی میں ٹھنڈی بوندیں بھی ہیثم سکندر کے اندر کی گھٹن کو کم کرنے میں ناکام رہیں،ٹائی تقریباً نوچنے کے انداز میں ڈھیلی کرتا وہ شرٹ کے اوپر دو بٹنز کھولا،عجیب بےکلی سی ہونے لگی تھی،سانسیں خود پر تنگ محسوس کر کے وہ گھٹن حد سے زیادہ بڑھنے پر کار سے نکلا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے روم کی کھڑکی پر کھڑی وہ باہر برستی بارش کو دیکھتے گزرے ماضی کا سوچ رہی تھی،کیا موڑ لیا تھا زندگی نے،جس شخص سے بلاجواز محبت کی اس نے اپنی نفرتوں بھری دھتکار اور اس کے کردار کو داغدار کہہ کر خود سے اسے نفرت کرنے پر مجبور کردیا اور پھر جب اس سے نفرت کرنے لگی تب وہ شخص اس قدر بکھر کر ٹوٹا کہ ناچاہتے ہوئے بھی وہ اس شخص کے لیے فکرمند ہونے لگی،ہاں یہ الگ بات تھی کہ دل اس شخص سے اب تک دُکھا ہوا تھا اور مہناز بیگم کی ڈیتھ کے اگلے مہینے ہی وہ سکندر ولا سے جانے کا سوچی تھی مگر ہیثم کی روز بروز بگڑتی طبیعت نے مطیبہ کو اپنی سوچ پر عمل کرنے سے روک دیا،

کئی سوچوں کے حصار میں قید جب مطیبہ کی نظر نیچے گئی تو وہ کچھ چونکی،پورچ میں اپنی کار سے ٹیک لگائے وہ تیز برستی بارش میں بڑھتی ٹھنڈ سے بےپرواہ بنا بھیگ رہا تھا،پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے وجیہہ چہرہ نیچے جھکائے کوئی ہارا ہوا جواہری لگ رہا تھا،اسے یوں بھیگتے دیکھ مطیبہ کچھ بےچین ہوئی مگر جلد ہی سر جھٹک کر وہ روم سے نکلتی نیچے آئی،کچن میں آکر مطیبہ جلدی سے کافی بنانے لگی،

“فرخندہ۔۔”

کچھ دیر بعد کافی تیار ہونے کے بعد وہ فرخندہ کو پکاری مگر وہ کہیں بھی نہیں تھی،یقیناً وہ کسی کام سے سرونٹ کوارٹر گئی تھی،پہلے مطیبہ نے سوچا کہ اسے وہاں سے بلالے مگر تیز بارش میں اگر وہ سرونٹ کوارٹر تک جاتی تو مکمل بھیگ جاتی تبھی کچھ سوچ کر اس نے کافی کا مگ تھامتے ہوئے سیڑھیوں کا رخ کیا،

ہیثم کے روم کے دروازے پر پہنچ کر مطیبہ پلٹ کر ایک نظر نیچے دیکھی،وہ اب تک اندر داخل نہیں ہوا تھا،گہری سانس بھر کر مطیبہ نے آہستگی سے ناب گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا،دل میں دھڑکا لگا ہوا تھا،اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی وہ قدم روم میں رکھی تھی،لیمپ کی روشنی میں نیم تاریک کمرے کو دیکھ مطیبہ دھواں اڑاتی کافی کا مگ ڈریسنگ پر رکھی تھی،ارادہ مگ رکھ کر سیدھا روم سے جانے کا تھا مگر ایک انجانے احساس کے تحت اس کے قدم زنجیر ہوئے،اس کمرے میں وہ تقریباً دیڑھ سال بعد آئی تھی،مخصوص کلون کی خوشبو میں سیگریٹ کی مہک کا اضافہ ہوا تھا،اس کمرے کو دیکھ جھیل آنکھوں میں نمی اتری تھی،یہی تو جگہ تھی جہاں وہ ستمگر اس کی محبت کا مذاق بناتا ہر گزرتے دن تڑپاتا،اس کمرے سے صرف تکلیف بھری یادیں ہی منسلک تھی سوائے اس رات کہ جب وہ ستمگر اپنی توجہ کے چند پل اسے عنایت کیا تھا،

“میں۔۔نے۔۔کہا۔۔کھاؤ۔۔”

کس قدر چونکایا تھا یہ جملہ اسے جب مقابل اس کو کھانا کھانے کا کہا تھا،وہ ستمگر شاید زندگی میں پہلی مرتبہ اس کی فکر کیا تھا،اس رات کا سوچ ایک دکھ بھری مسکان نے گداز لبوں کو چھوا اور اچانک مطیبہ کی سوچیں اڑن چھو ہوئی جب دھاڑ کی آواز سے دروازہ کھلا،

بری طرح بوکھلاتی وہ پلٹ کر عقب میں دیکھی جہاں ایستا وہ انگارہ ہوتی سرخ آنکھوں سمیت اسے دیکھ رہا تھا،اس عرصے میں پہلی مرتبہ ان دونوں کا باقاعدہ آمنا سامنا ہوا تھا،بھیگے کپڑے سرخ چہرہ اور بکھرے حلیے کے ساتھ ہیثم کی آنکھوں میں ہلکورے لیتے سرخ ڈوروں نے مطیبہ کو ایک پل میں جھرجھری لینے پر مجبور کیا،باہر برستی بارش کا شور،کمرے کا نیم تاریک ماحول اور سامنے دروازے پر دیو کی مانند ایستا وہ شخص،مطیبہ کو ہول اٹھنے لگے،دل گھبرایا تھا مگر جلد سنبھلنے کی کوشش میں اس کے برابر سے ہوتی وہ چہرہ بےتاثر بناتے باہر نکلنے لگی،

عین دروازے پر پہنچتے ہی ہیثم اس کے بازو کو پکڑ کر مطیبہ کو کھینچا تھا اندر ساتھ زور سے دروازہ بند کرتا اسے دروازے سے لگایا،اس کی پھرتی سے کی گئی کاروائی پر مطیبہ کے منہ سے ہلکی چیخ نکلی،دروازے پر لگتے ہی سر میں درد کی لہر دوڑی جبکہ سینے میں مدفون ہوا وہ پتھر دل آج جس زور سے دھڑکا اسے پسلیاں ٹوٹنے کا گمان ہونے لگا،وہ کانپ کر رہ گئی مقابل کی قربت پر،

“کیوں کرنے لگی ہو یہ سب۔۔”

وہ ڈریسنگ پر رکھے مگ کو دیکھ چکا تھا تبھی ان دنوں اس کے کئیر کرنے پر پوچھا تھا اب،

“کیا بےہودگی ہے۔۔۔ہاتھ چھوڑو میرا۔۔”

ہیثم کی جنونی گرفت واضح کررہی تھی کہ وہ ابھی ہوش میں نہیں،مطیبہ ڈری تو بہت تھی اس کے انداز پر لیکن لہجہ مضبوط بنائے سختی سے بولی،

“جواب دو کیوں کررہی ہو یہ سب۔۔۔”

اس بار وہ کچھ تیز آواز میں پوچھا کہ مطیبہ مکمل لرزی تھی،منہ سے اچانک چیخ نکلی،ایک مرتبہ پھر وہی خوف اس پر غالب آنے لگا جو اس ستمگر کی موجودگی میں پہلے ہوتا تھا،

“محبت کرتی ہو نا اب بھی مجھ سے۔۔”

کمرے میں بارش کے شور کے علاوہ مطیبہ کی تیز ہوتی سانسیں گونجنے لگی تھیں،اس پر ہیثم جذبات سے بوجھل لہجے میں کہتا جس نرمی سے اس کے گال جو چھوا تھا دل کی دھڑکنیں منتشر ہوتیں اس کے حواس معطل کرگئیں،

“ہیثم۔۔”

مطیبہ کے لب پھپھڑائے تھے،اسے دور کرنے پر مزاحمت کرتی وہ ہیثم کے بازو کی مضبوط گرفت اپنی کمر پر محسوس کرتی مچل کر رہ گئی،وہ کمزور نہیں پڑنا چاہ رہی تھی مگر مقابل کی گرفت ہی ایسی تھی کہ مطیبہ خود کو بےبس محسوس کرتی روہانسی ہوئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔