Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 18)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 18)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

کچھ دن بعد سلسبیل دریہ بیگم کو لے کر گیا تھا سکندر ولا مہناز بیگم کے بلانے پر،اس دن عنادیہ مکمل کمرہ نشین رہی،باتوں ہی باتوں میں مہناز بیگم سے سلسبیل کو معلوم ہوا کہ ان کی چھوٹی بیٹی قوتِ گویائی سے محروم ہے۔۔یہ بات سلسبیل کے لیے کسی دھچکے سے کم نہ تھی مگر وہ ظاہر کچھ نہ کیا،جس مقصد سے وہ یہاں آیا تھا اس کا فوکس فلحال اسی پر تھا تبھی دریہ بیگم نے وہ کہا جو سلسبیل نے انہیں سمجھایا تھا،وہ جلد سے جلد نکاح کرنا چاہتی تھی پر یہاں مہناز بیگم نے اپنی خواہش ظاہر کی کہ فلذہ ان کی پہلی بیٹی ہے جس کی وہ نکاح سے پہلے منگنی کی رسم لازمی رکھنا چاہتی ہیں،ان کی بات پر جہاں سلسبیل لب بھینچا وہی دریہ بیگم نے کوئی خاص اعتراض نہ کیا،

“فلذہ۔۔۔”

وہ کال پر اپنی دوست کو انوائیٹ کررہی تھی منگنی پر تبھی ہناد دندناتا ہوا اس کے کمرے میں آیا،کال رکھتی فلذہ ہناد کی طرف متوجہ ہوئی،

“میں مام سے بھی یہ بات کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اور تمہیں بھی بتارہا ہوں۔۔۔وہ آدمی صرف ہم سے بدلہ لینے کے لیے واپس آیا ہے فلذہ۔۔۔تو بند کرو یہ شادی وادی کا ڈرامہ۔۔۔”

“انف بھائی۔۔”

وہ جو سخت لہجے میں اسے بتانے لگا تھا فلذہ کے ٹوکنے پر چپ ہوا،

“آپ سابی جو نہیں جانتے۔۔۔اسے احساس ہوا ہے میری محبت کا اور ویسے بھی ایک مرتبہ پھر میں اسے کھونا نہیں چاہتی تو اپنا یہ لیکچر مجھے مت سناؤ۔۔۔”

“ہنہہ۔۔۔فرسٹ آف آل تمہیں سابی سے کوئی محبت نہیں تم صرف اس کی پرسنیلٹی سے ہمیشہ متاثر رہی ہو اور یہ محبت نہیں ضد ہوتی ہے کہ جو آپ کو اچھا لگے وہ آپ کا ہو نہیں تو کسی کا بھی نہیں۔۔۔”

“آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھو۔۔۔آئی ڈونٹ کئیر۔۔۔”

ہناد کے آئینہ دکھانے پر وہ نگاہ چراتی بولی،

“آخری مرتبہ وارن کررہا ہوں۔۔۔رک جاؤ۔۔مت ساتھ دو اس شخص کا بدلہ لینے میں۔۔”

وہ جیسے کسی طور سمجھانا چاہ رہا تھا فلذہ کو،

“بھائی وہ پسند کرتا ہے مجھے۔۔۔”

اور ہناد نے اسے اور سمجھانا فضول سمجھا،لب بھینچتا وہ فلذہ کے کمرے سے نکلا،اپنے ایک اور دوست کے قتل کا سن کر اب وہ بہت زیادہ پریشان رہنے لگا تھا،پورچ میں آکر اپنی کار میں بیٹھتے ہوئے اس کا شیطانی دماغ مسلسل سوچ و بچار میں مصروف تھا،پہلے بازل کی ڈیتھ پھر حماد کی اور اب سلسبیل کا اچانک آکر فلذہ کے لیے شادی کا پروپوزل دینا شادی جلد از جلد کرنے کی بات،اور پھر اس کے ایک اور دوست کا قتل،یکدم ہناد کے دماغ میں جھماکا سا ہوا،اس کے صرف انہیں دوستوں کا قتل ہورہا تھا جو اس رات سلسبیل کو مارنے میں اس کا ساتھ دیے تھے اور ہناد جھٹکے سے کار روکا،ایک لمحے میں ہی اس کی پیشانی پسینے سے شرابور ہوئی،چہرے پر بےیقینی کی جھلکیاں دکھیں،

“جانتے نہیں ہو۔۔۔جان جاؤ گے۔۔۔بہت جلد۔۔”

سلسبیل کے الفاظ کانوں میں گونجے اور وہ شاکی کیفیت میں سر سیٹ کی پشت سے ٹکاگیا،اگر کو وہ جو سوچ رہا تھا سچ ہوا تو بہت بڑی گڑبڑ ہونے والی تھی،مطلب اس نے سلسبیل کے بارے میں صحیح اندازہ لگایا تھا،مقابل کی خاموشی ایک انہونی کا پتا تھی جو ایک ایک کر کے اس کے دوستوں کو نگل گئی اور اب باری اس کے آخری دوست شارق کی تھی،اپنا دکھتا سر پکڑتا وہ سوچ کے گھوڑے دوڑانے لگا سلسبیل مراد کا پتہ صاف کرنے کے لیے اور تبھی اس کے شیطانی دماغ میں ایک بجلی کا کوندا سا لپکا،ہناد کے لبوں پر بےساختہ مکروہ مسکراہٹ سجی،جلدی سے موبائل نکالتا وہ ایک نمبر ڈائل کرنے لگا،پہلی بیل،دوسری اور پھر تیسری۔۔۔،کال ریسیو کرلی گئی تھی،

“کون۔۔؟”

بھاری دلکش مگر مصروف انداز میں آواز ابھری،

“میں ہناد۔۔۔تُو نمبر کب سیوو کرے گا میرا۔۔۔”

یکدم ہناد کو اس کی عادت پر جی بھر کر غصہ آیا،

“اتنا فالتو ٹائم نہیں۔۔۔کام بول۔۔”

اس بار ہناد لب بھینچا تھا مقابل کے لہجے پر،

“ضروری نہیں کہ کام ہو تبھی کال کروں۔۔۔”

“اچھا۔۔۔ہمیشہ تو یونہی بات کرنے کے لیے کال کرتا ہے تُو۔۔۔ہے نا۔۔!”

مقابل جیسے طنز کیا تھا اس پر،

“اچھا نا۔۔سن۔۔”

“بھونک۔۔!”

اس کے لہجے پر ہناد صبر کے گھونٹ پی کر رہ گیا،جانتا تھا یہی لہجہ اس کی فطرت کا خاصا ہے اور سمجھانا بےسود تھا،

“ایک۔۔۔کام ہے۔۔!”

اس نے ٹہر ٹہر کر بولا،

“ہیں۔۔۔تجھے کام کیسے یاد آگیا۔۔تُو تو صرف مجھ سے بات کرنے کے لیے کال کرتا تھا نا۔۔”

ایک مرتبہ پھر طنزیہ لہجہ،

“ہاں کام کے لیے ہی کال کرتا ہوں بس۔۔”

اس بار ہناد جھنجھلایا،پہلے کم ٹینشن تھی جو وہ اپنی باتوں سے اسے اور پریشان کررہا تھا،

“ہاں اب ٹھیک۔۔۔بھونک کیا کام ہے۔۔”

“ایک بندے کو اوپر پہنچانا ہے۔۔”

“معاف کر یار مگر اس کام کے لیے تُو کسی پائلٹ سے رجوع کر۔۔۔کیونکہ وہی لوگوں کو اوپر پہنچاتا ہے۔۔۔”

پہلے تو ہناد ناسمجھی سے موبائل کو دیکھا مگر اگلے ہی پل بات سمجھ آنے پر اس کا دل چاہا فون ہی پٹخ ڈالے،

“سالے مارنا ہے۔۔”

“اوہ تو ایسے بول کے ٹپکانا ہے۔۔۔پر کس کو۔۔”

وہ اب سمجھ آنے والے انداز میں کہا تھا،

“دیکھ بھائی۔۔۔میری بات بلکل سنجیدگی سے سن۔۔”

“کیوں تجھے کیا لگتا ہے میں بہت غیر سنجیدگی سے باتیں سنتا ہوں۔۔”

“نہیں بھئی تُو بہت سنجیدہ انسان ہے۔۔۔”

ابھی وہ اسے پوری بات نہیں سمجھایا تھا اس میں ہی ہناد کا پورا سر کھپ گیا تھا باقی بات میں تو یقیناً اسے لگا کہ پاگل ہونے لگے گا،تبھی مختصر انداز میں تیزی سے شروع ہوا،

“اب بات سن۔۔۔اتوار کی رات کو تجھے اسے اوپر۔۔۔مطلب مارنا ہے۔۔وہ کیسے یہ تُو جانتا ہوگا اچھی طرح۔۔۔مگر مجھے کسی بھی طرح اس انسان کی شکل پیر کی صبح نہیں دکھنی چاہیے۔۔۔”

“سوری جگرے۔۔۔اطلاع کے مطابق تجھے پیر کی صبح بھی اس بندے کی شکل دیکھنے پڑے گی۔۔”

“پر کیوں۔۔”

“کیونکہ اتوار کی رات مجھے بیوی کو لے کر مووی دیکھنے جانا ہے۔۔۔”

وہ اپنی مجبوری بیان کیا جس پر ہناد نے منہ پر ہاتھ پھیرا،

“ایک دن نہیں لے کر جائے گا تو کچھ ہو نہیں جائے گا۔۔”

“کیوں نہیں ہوگا ضرور ہوگا۔۔”

“کیا ہوگا۔۔”

“میری بیوی مجھے روم سے باہر نکال دے گی ایک رات کے لیے۔۔۔ویسے منڈے کو بھی مجھے اسے لانگ ڈرائیو پر لے کر جانا ہے مگر دوستی کے لیے اتنا تو کر ہی سکتا ہوں۔۔”

اپنا دکھڑا روتے مقابل اب پرسکون سا بولا،

“تُو اپنی بیوی سے ڈرتا ہے۔۔۔”

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ہناد حیرت سے پوچھا،جس پر دوسری جانب مکمل خاموشی چھائی پھر کہا گیا،

“ڈونٹ آسک پرسنل کوئیسشن۔۔۔!!!”

اور ہناد کا قہقہہ بےساختہ تھا مقابل کے سنجیدہ لہجے پر،

“اوہ گاڈ تُو سچ میں ڈرتا ہے۔۔۔”

“نام بتا اس بندے کا نہیں تو کال کٹ کررہا ہوں۔۔”

اچانک لہجہ سنجیدگی سے بدل کر چڑا تھا جس پر ہناد جلدی سے سنجیدہ ہوا،

“اوکے۔۔۔نام سلسبیل۔۔۔سلسبیل مراد۔۔۔پِک تجھے سینڈ کرتا ہوں۔۔۔”

“پک بعد میں سینڈ کرنا۔۔۔پہلے پیسوں کی بات کر۔۔۔”

وہ جو اسے بتاکر اب کال کٹ کرنے لگا تھا اچانک جھٹکا لگنے پر بولا،

“پیسے۔۔۔پر پیسے کیوں۔۔تُو دوست ہے میرا۔۔”

“دوست ہوں تو کیا مطلب۔۔۔پیسے نہ لوں۔۔دیکھ بھائی میں دوستی میں جان دینے والا انسان بھلے ہوں لیکن جب بات پیسوں کی آجائے تو۔۔۔”

“تو۔۔”

“چھوڑ نا پیسے بتا اب۔۔۔”

مقابل کی ہمیشہ کی طرح انوکھی باتوں پر ہناد بےحد کڑا پھر کہا،

“منہ مانگی دام دوں گا۔۔۔مگر اسے بس راستے سے ہٹادے۔۔”

“میں ٹریفک پولیس تھوڑی ہوں جو راستے سے ہٹاؤں گا۔۔۔”

کہہ کر کال کٹ کردی گئی تھی،

“اس بندے سے بات کرنا مطلب بیٹھے بیٹھے ذہنی ورزش کرنا۔۔۔”

بڑبڑاکر ہناد بعد میں آہستگی سے مسکرایا،وہ زیادہ پرانا دوست نہیں تھا ہناد کا،ایک سال پہلے ہی ان کی دوستی ہوئی تھی مگر اس ایک سال میں وہ انسان اپنی دلچسپ باتوں اور انوکھے انداز کی بدولت ہناد کا بیسٹ فرینڈ بنا تھا،بقول ہناد وہ ہر مشکل میں اس کا ساتھ دیتا،تبھی اب جب کوئی پریشانی ہوتی وہ اسے کال کرتا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج پیر کو سلسبیل اور فلذہ کی منگنی کی رسم تھی،جو کہ سلسبیل نے ایک بڑے پیمانے کے خوبصورت بینکوئیٹ میں منعقد کروائی تھی،عنادیہ کا بلکل دل نہیں تھا جانے کا مگر مہناز بیگم نے اس بار اس کی ایک نہ سنی تبھی مجبوراََ وہ سادہ سی تیار ہوکر ہناد کی پورچ میں کھڑی کار میں جاکر بیٹھی،کچھ دیر بعد فلذہ بھی اپنی چند دوستوں کے ساتھ تیار ہوکر باہر آئی تھی،اب وہ لوگ ویٹ کررہے تھے تو مطیبہ کا،

“ہیثم مطیبہ کو تم لے آنا اپنی کار میں۔۔۔دیر ہورہی ہے دریہ بیگم کی کتنی مرتبہ کالز آچکی ہیں۔۔۔”

آخر کار پریشان ہوتی مہناز بیگم نے حل نکالا جس پر ہیثم تپا،

“ماما میں اسے لے کر نہیں آرہا۔۔۔وہ آپ لوگوں کے ساتھ ہناد کی کار میں چلی جائے گی میں فلذہ کو لے کر آؤں گا۔۔”

“فلذہ ہمارے ساتھ چلی جائے گی اور اس کی دوستیوں کو ڈرائیو چھوڑدے گا۔۔۔ہیثم بیوی ہے وہ تمہاری بند کرو یہ نخرے۔۔۔تم لے آنا اسے۔۔”

انہوں نے جیسے اٹل لہجے میں کہا تھا،ڈرائیونگ سیٹ میں بیٹھا ہناد کُڑ کر رہ گیا تھا اپنی ماں کی بات پر،دوسری جانب ان لوگوں کے جانے کے بعد ہیثم تپتے ہوئے اندر آیا جہاں مطیبہ ابھی تک رف حلیے میں بیگ کے پاس بیٹھی تھی،

“تمہارا ہوا نہیں کیا اب تک یا ابھی اور دو تین گھنٹے لگنے ہیں۔۔۔”

اسے اپنے ساتھ لے جانے کا سوچ کر ہی ہیثم جو غصہ آرہا تھا تبھی برسا،وہ جو اپنے دونوں ہاتھوں میں ڈریس لی ہوئی تھی ہیثم کے آنے پر حیران پریشان سی اسے دیکھنے لگی،

“کیا ہوا۔۔”

اس کی خاموشی پر وہ بھڑکا،

“آپ لوگ چلے جائیں۔۔۔میں نہیں جارہی۔۔”

یہ بات بولتی وہ روہانسی ہوئی،ویسے تو وہ اکثر روتی ہوئی دکھتی مگر ابھی یوں بےبات کے رونا ہیثم کو چونکا گیا،

“سب آلریڈی جاچکے ہیں۔۔۔اور۔۔۔تم کیوں نہیں جارہی۔۔”

اسے بتاکر اب وہ تھوڑا سخت لہجے میں پوچھا،

“میرے کپڑے جو میں نے پریس کیے تھے ان پر چائے گرادی آپ نے۔۔۔اور اب میں کپڑے نکال کر پریس کروں گی پھر تیار ہوں گی۔۔پورا ٹائم ضائع ہی ہوجائے گا۔۔۔تبھی نہیں جاؤں گی میں۔۔”

اس کا پوچھنا تھا کہ وہ جو رونے کی مکمل تیاری کر چکی تھی تیزی میں بلند آواز میں بولتی گئی،پہلی مرتبہ اس کا عام بیویوں والا انداز ہیثم کو کچھ الگ لگا تھا،

“میں نے گرائی نہیں تھی۔۔۔دوپہر میں پیتے ہوئے غلطی سے گر گئی تھی۔۔۔”

پہلی بار وہ اسے وضاحت دے رہا تھا،

“ہاں تو اب بتائیں میں کیسے تیار ہوں۔۔۔مجھے کپڑے سمجھ نہیں آرہے پہننے کو۔۔اور ابھی پریس بھی کرنا ہے۔۔۔”

اس کا رونا یونہی جاری تھا،ہیثم نے گہرا سانس بھرا پھر جھک کر مطیبہ کو بازو سے پکڑ کر اٹھایا،

“تم جاکر تیار ہو۔۔۔میں۔۔کپڑے۔۔نکال کر۔۔پریس کردیتا ہوں۔۔”

یہ سب تھوڑا عجیب لگ رہا تھا اسے تبھی جھجھکتے ہوئے کہا،مطیبہ کو رونا ہی بھول گیا،ششدہ سی وہ پھیلیں آنکھوں سمیت مقابل اپنے شوہر کو دیکھی جو شاید پہلی مرتبہ اس سے نرمی سے بات کررہا تھا بلکہ آفر کررہا تھا کہ وہ اس کے کپڑے پریس کرے گا۔۔۔،اسے لگا شاید وہ کچھ غلط سنی ہے،

“جاؤ بھی اب۔۔۔”

اسے یوں بےیقین دیکھ ہیثم تھوڑا چڑا،اسے خود ہی یقین نہیں آرہا تھا کہ کیسے اسے بول دیا یہ بات،

“آپ۔۔۔نہیں۔۔میں خود کرلوں گی۔۔”

یقین و بےیقینی کی کیفیات میں گھری وہ بولی،اور ہیثم کی برداشت ختم ہوئی،اس کی کلائی پکڑتا وہ مطیبہ کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا کیا،

“اب چپ کر کے تیار ہو۔۔”

سنجیدہ تاثرات سمیت کہہ کر وہ بیگ کے پاس گیا پھر جھک کر اس کے لیے کپڑے دیکھنے لگا،ایک لمحے کو ہیثم چکرایا تھا،اتنے سے بیگ میں اتنے سارے کپڑے وہ لڑکی کیسے رکھتی ہوگی،پھر جلد ہی اپنا سر جھٹک کر اس نے ایک خوبصورت سے نفیس کڑھائی والی ہرے رنگ کی فراک نکالی،جس پر گولڈن کام ہوا تھا،ایک نظر جلدی جلدی تیار ہوتی مطیبہ پر ڈال کر وہ آئرن سٹینڈ کے سامنے جاکھڑا ہوا،کچھ ہی دیر میں اسے ڈریس تھماتا وہ مطیبہ کے ڈریسنگ روم میں جانے کے بعد اس کے بیگ سے کچھ نکالتا باہر جاکر اپنی کار میں بیٹھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مہمانوں کی آمد کی خبر اس کے گارڈ نے آکر دی جس پر سلسبیل باہر آیا،کار سے اترتی فلذہ کو تمسخر سے مسکراکر دیکھتا اس کا ذہین دماغ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا،دوسری طرف وہ جو آج سلسبیل کے ہوش اڑانے کا سوچ انٹری پر اپنی دوستوں کی مدد سے چل کر آرہی تھی،یکدم مبہوت ہوئی،

گرے شلوار قمیض پر وائیٹ ویس کوٹ پہنا وہ بالوں کو جیل سے سیٹ کیے کانچ مانند سرد آنکھوں میں دنیا جہاں کی مغروریت مدفون کیے کھڑا تھا سیدھا فلذہ کے دل میں اترتا اس کا دل زور سے دھڑکا گیا،چمکتی آنکھوں سمیت اسے نظر بھر دیکھتی فلذہ کو گھمنڈ سا ہوا تھا خود پر،جب اپنی دوستوں کی بھی پرشوق نظروں کو مقابل کھڑے مغرور شخص پر دیکھا،تبھی دریہ بیگم اسماء کے ساتھ وہاں آتیں اسے اور مہناز بیگم کو اندر لے کر گئیں،وہاں کی پر رونق آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی اور لوگوں کی بھیڑ میں بھی سلسبیل مراد کی سرد نظریں فلذہ سے ہٹ کر اب ان کی کار کی طرف گئیں،وہ متلاشی بےچین نظریں سکون میں آئی تھیں اسے کار سے اترتے دیکھ،گرے ہلکی کامدار قمیض شلوار پر سلیقے سے سر پر دوپٹہ اوڑھے ہمیشہ کی طرح کچھ گستاخ لٹوں کو عارض پر لہراتے چھوڑ وہ سادہ سی سلسبیل مراد کو پچھلی بار کی طرح پھر شناسائی کا احساس دلائی تھی،ایک دفعہ پھر اس کے دل کی حالت بدلنے لگی،ضدی دل شدید خواہش کیا تھا اس اپسرا کو قریب سے دیکھنے کی اور سلسبیل قدم بڑھاکر سیدھا اس کے پاس آیا تھا،وہ جو کار کا گیٹ بند کرتی ہاتھ میں وہ لیٹر(جو گھر سے نکلنے سے پہلے دریہ بیگم کے لیے لکھا تھا)لیے سوچ رہی تھی کہ کیسے ان سے الگ مل کر وہ یہ تھمائے انہیں،اب مڑنے پر بلکل سامنے سلسبیل کو دیکھ بوکھلائی،اسے یقین نہ آیا کہ وہ محبوب شخص اس کے سامنے کھڑا ہے،گھبراکر عنادیہ اپنے لب کھولتی بند کی جیسے کچھ کہنا چاہ رہی ہو۔۔،سلسبیل نے بغور ان پنکھڑی مانند لبوں کی حرکت دیکھی،مقابل کی بےباک نظروں سے گھبراتی وہ جلدی سے اس کے برابر سے ہوکر نکلی مگر تبھی سلسبیل اسے روکنے کے غرض عنادیہ کی دودھیا کلائی پکڑا اور بس۔۔۔،

سلسبیل مراد لمحوں میں ڈھائی سال پیچھے گیا تھا،وہ شناسا لمس۔۔،جب عندلیب نے اس کا ہاتھ پکڑا تھا پہلی مرتبہ،وہی احساس تھا جو اسے عندلیب کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ محسوس کرتے ہوا تھا،عنادیہ کا ہاتھ چھوڑتا وہ اس کے سامنے آیا،بغور اس کے خوبصورت نقش دیکھتا سلسبیل ایک پل کو الجھن کا شکار ہوا لیکن جلد ہی اپنی کیفیت پر قابو پاکر خود کو کمپوز کیا،دوسری جانب عنادیہ کی حالت بھی کچھ کم نہ تھی مقابل سے۔۔۔،آخر کو اتنے سال بعد وہ دونوں ایک دوسرے کے بلکل سامنے کھڑے تھے،

“کون ہو تم۔۔۔؟”

اس کا یہ سوال عنادیہ کو چونکنے پر مجبور کیا،کیا واقعی یہ بات مقابل کو بتانے والی تھی کہ کون ہے وہ،کیا وہ نہیں جان سکتا تھا،

“خیر چھوڑو۔۔تم آئی “ہماری منگنی” میں۔۔۔اچھا لگا۔۔”

اپنی بات ہوا میں اڑا کر وہ کچھ خاص لہجے میں بول کر پیچھے ہوتی عنادیہ کے گاڑی سے لگنے پر ایک ہاتھ اپنا کار پر رکھا مگر عنادیہ نے جیسے اس کا لہجہ نوٹ نہ کیا،وہ تو آنکھوں میں اذیتوں کا جہاں آباد کیے اسے دیکھی تھی،سلسبیل جو اس کے نگاہ پھیرنے پر یہ الفاظ بولا تھا اب عنادیہ کی خود پر نظر پڑنے پر بغور اس کی آنکھوں میں دیکھا،کیا کچھ نہیں تھا وہاں۔۔۔،تکلیف،اذیت،بھروسہ ٹوٹنے پر خفا بےیقین کالی آنکھیں حیرت سے اسے دیکھ رہی تھیں،سلسبیل کے ہلکے پھلکے کہے گئے جملے عنادیہ کی ان کالی آنکھوں پر یقیناً پہلی مرتبہ نمی لائے تھے،کیا وہ سچ میں خوش تھا فلذہ سے شادی پر،چاہ کر بھی عنادیہ اپنے دل کو ایک جو آخری امید تھی وہ بھی نہ دے سکی،اسی لیے اپنا درد کم کرنے کی چھوٹی سی کوشش کے تحت سلسبیل پر سے نگاہ ہٹا کر وہ پیچھے دیکھی جہاں تقریباً سبھی لوگ اندر جاچکے تھے،دور بینکوئیٹ کے باہر گارڈز کے علاوہ اب کوئی نہیں تھا،

بِچھڑ کے مجھ سے وہ خُوش رہ رہا ھے حیرت ھے،

میرے بعد اُسے کس نے حوصلے دیئے ہیں؟

“کچھ کہنا چاہتی ہو۔۔۔؟”

اس کو اپنے علاوہ ہر طرف نظر دوڑاتے دیکھ سلسبیل آہستگی سے گھمبیر لہجے میں پوچھا جانتا تھا کہ وہ کچھ بول نہیں سکتی لیکن پھر بھی اسے دیکھنے کے بہانے وہ یہ سوال کررہا تھا ساتھ ہی کار پر اب دوسرا ہاتھ رکھ کر تھوڑا اس کے قریب ہوا،عنادیہ کی جان پر بنی تھی اسے نزدیک ہوتے دیکھ،مقابل اس کے وہاں سے جانے کے تمام راستے مسدود کیے مزے سے کھڑا تھا تبھی ہمت کر کے سلسبیل کے بازو پر ہاتھ رکھ کر وہ اسے دور کرنے لگی تاکہ وہاں سے جانے کو راستہ مل سکے پر سلسبیل تھما تھا۔۔۔۔،ایک مرتبہ پھر وہی مانوس لمس اسے ڈھائی سال پیچھے لے گیا،

دوسری جانب اس کے پیچھے نہ ہٹنے پر عنادیہ نے ہاتھ پیچھے کرلیے ساتھ ہی زچ ہوکر سلسبیل کو دیکھنے لگی جو بنا پلک جھپکائے اپنی کانچ مانند آنکھوں کو اس کی کالی آنکھوں پر مرکوز کیے تھا،

“کون ہو تم۔۔۔؟”

ایک مرتبہ پھر وہی سوال پوچھا تھا وہ،عنادیہ کے خوبصورت چہرے پر دنیا جہاں کا کرب اُبھرا،کالی سرخ آنکھوں نے نگاہ ہٹائی تھی مقابل کھڑے محبوب کے وجیہہ چہرے پر سے،

“ایک سوال۔۔۔!!”

وہ دھیمی آواز میں بولا تو عنادیہ نے ایک نظر پھر اسے دیکھا،

“تمہاری یہ آنکھیں۔۔۔۔۔ہر پل سُرخ کیوں رہتی ہیں۔۔۔؟”

بےحد نرم لہجہ کہ عنادیہ سسکنے پر مجبور ہوئی،دل تکلیف کی جس انتہا پر پہنچا تھا اس سوال پر وہ چاہ کر بھی اسے بتا نہیں سکتی تھی،کیوں وہ اس کی آنکھوں میں درد کی لکیروں کو سمجھ نہیں پارہا تھا،کیا اتنی کھوکھلی محبت تھی اسکی،

“اتنا تو میرے حال پر احسان کیا کر،

آنکھوں سے میرے درد کو پہچان لیا کر۔”

اس سے پہلے آنکھوں میں جھلملاتا موتی ٹوٹ کر عارض پر پھسلتا وہ گردن موڑ گئی اور تبھی سلسبیل کی نظریں بھٹک کر ایک بار پھر اس کی صراحی دار گردن پر ان دو دمکتے تِلوں پر گئی جو ایک دوسرے کے قریب ہی تھے،نظروں کا جانا تھا کہ دل گستاخی کرنے کو مچلا،وہ تل کس قدر جچ رہے تھے اس کی سفید گردن پر،اس مرتبہ اپنی دل کی مانتا سلسبیل ہاتھ اٹھایا تھا پھر نہایت ہی نرمی سے اپنے انگوٹھے کو عنادیہ کی صراحی دار گردن پر ان تِلوں کے اوپر رکھتا نرمی سے سہلایا،عنادیہ کرنٹ کھا کر رہ گئی تھی،نادان دل کی دھڑکنیں پل میں بےہنگم ہوئیں،اسے نہیں معلوم تھا کہ مقابل یہ گستاخی بھی کرے گا،سلگ کر اس نے آنکھیں پھیلائے اپنے چہرے سے بلکل نزدیک مقابل کے محبوب وجیہہ چہرے کو گھورا،

ان سلگتی آنکھوں کے سرخ ڈوروں میں سلسبیل کو اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا،ہاتھ پیچھے کیے وہ اب خاموشی سے عنادیہ کے گلال بھرے سرخ چہرے کو تکتنے لگا،

“عندی۔۔۔!”

پیچھے سے آتی سخت آواز پر دونوں کا ہی ارتکاز ٹوٹا تھا،سلسبیل عنادیہ سے چند قدم دور ہوکر مڑا تو عنادیہ کی نظر بھی سامنے پڑی جہاں ہناد سخت چتونوں سمیت سلسبیل کو گھوررہا تھا،

“کیا ہورہا ہے یہاں۔۔؟”

قدم آگے بڑھاکر وہ عنادیہ کے پاس آتا پوچھا،سلسبیل کی پُرتپش نظریں پل میں واپس سرد ہوئی تھیں جبکہ وجیہہ چہرہ ایک مرتبہ پھر سپاٹ بےتاثر،

“جو دِکھ رہا تھا تمہیں۔۔۔”

ٹھنڈے لہجے میں کہہ کر سلسبیل کار سے ٹیک لگاگیا،عنادیہ نے ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالی ساتھ ہی وہاں سے چلی گئی،

“میری بہن سے دور رہ۔۔۔”

تقریباً غراکر بولتے ہوئے ایک تنفر بھری گھوری سے سلسبیل کو نوازتا ہناد بھی وہاں سے جانے لگا مگر اگلے قدم پر ہی وہ لڑکھڑاکر منہ کے بل گِرا،

“سنبھل کر۔۔۔”

دونوں بازوؤں کو فولڈ کیے سلسبیل بےتاثر لہجے میں بولا،جس پر ہناد تیزی میں کھڑے ہوکر ہاتھ جھاڑا ساتھ ہی کار سے ٹیک لگائے سلسبیل کے سامنے آیا،

“اتنے سالوں سے سب ٹھیک تھا۔۔۔مگر جب سے تُو واپس آیا ہے۔۔۔میرے ہر اس دوست کی موت واقع ہورہی ہے جو اس رات میرے ساتھ تھے۔۔ان کے گھروں میں کہرام مچا ہے۔۔۔۔تجھے کیا لگتا ہے۔۔۔میں کچھ سمجھ نہیں پاؤں گا کہ کون کررہا ہے یہ سب۔۔۔”

اس کے وجیہہ مگر سپاٹ چہرے کو نفرت سے گھورتا ہناد دانت پیس کر بولا،

“تبھی تو کہا۔۔۔زرا سنبھل کر۔۔۔”

اب کی بار سلسبیل کا لہجہ برف کے مانند سرد ہوا تھا،وہ گیا تو ہناد کے کندھے سے اپنا پتھر مانند کندھا ٹکراکر صاف اشارہ تھا اگلی مرتبہ کے لیے تیار رہنے کا،ہر وقت نڈر بننے والا ہناد آج پہلی بار گھبرایا تھا اس کے سرد لہجے سے،تبھی جلدی سے فون نکال کر وو نمبر ڈائل کیا،

“ہاں یار۔۔۔تُو پہنچا بینکوئیٹ۔۔۔”

اس کی آواز میں گھبراہٹ کا انثر تھا،

“آدھے گھنٹے پہلے سے۔۔”

مقابل کی بےنیاز آواز پر ہناد حیران ہوا،

“تُو آدھے گھنٹے سے یہاں ہر ہے اور مجھے کال کر کے بتایا بھی نہیں۔۔۔”

وہ غصے میں برسنے کو ہوا،

“کام تیرا ہے تو تُو کال کرے گا۔۔میں کیوں اپنا بیلنس ختم کروں۔۔۔”

اس بات پر ہناد کا دل کیا فون سے ہی اس کے منہ پر تھپڑ رسید کرے،

“کم از کم مسڈ کال ہی دے دیتا۔۔۔”

“مجھے یاد نہیں رہا۔۔”

“تجھے یہ تو یاد ہے نا کہ کس کام سے آیا ہے یہاں۔۔۔”

دانت کچکچاکر ہناد اسے یاد دلایا،

“ہاں بھئی۔۔۔کتنی بکواس کرتا ہے۔۔۔اب فون رکھ۔۔”

“رک مارے گا کیسے۔۔۔”

اچانک یاد پڑنے پر ہناد بولا،

“وہ میرا کام ہے تیرا نہیں اب کال کر کے ڈسٹرب مت کرنا۔۔۔کھانا کھانے دے سکون سے۔۔۔”

ازلی بےپرواہ انداز ہناد اپنے موبائل کو گھورتا بولا،

“تو قتل کرنے آیا ہے یا کھانا کھانے۔۔۔”

“ابے مرڈر ہی کرنا ہے پر اس سے پہلے کھانا تو کھالوں۔۔۔ویسے انتظام بہت اچھا کروایا ہے کھانے کا۔۔۔”

مقابل جیسے اس کی نالج میں اضافے کے غرض مزے سے بتارہا تھا،ہناد کے جبڑے تنے تبھی غصے میں وہ کال کٹ کیا،مگر اس ہی وقت اس نمبر سے کال آئی،

“کمینے۔۔۔کال کٹ کرنا میرا کام ہے تیرا نہیں۔۔۔آئندہ میری کال کٹ کیا تو کوئی کام نہیں کروں گا تیرا۔۔۔مطلبی انسان۔۔۔”

اسے اور بھی گوہر افشانیاں سناکر دوسری جانب سے کال کٹ کی گئی،

“اب بیلنس کم نہیں ہوا اس کا۔۔”

اپنے فون کو گھور کر وہ بڑبڑایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔