Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 37)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 37)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

کافی دیر سے بیڈ پر ٹیک لگائے بیٹھا وہ خود سے سر زد ہوئے ظلموں کا سوچتے اب آنکھیں موندا تھا،آنکھ کے کنارے پر ٹہرا ایک ندامت کا آنسو چپکے سے نکلتا اس کی داڑھی میں جذب ہوا،بےسکونی سے بھرا دل روز کی طرح پھر کرلایا اس لڑکی پر اپنی بےیقینی کا سوچ،کیوں وہ اس قدر بےرحم بنا تھا،کیوں اس لڑکی کے رونے تڑپنے کو ڈرامہ سمجھتا،

“ہیثم سکندر بس کردو۔۔۔میری محبت کو میرے لیے سزا مت بناؤ۔۔۔مت کرو ایسا کہ نفرت ہو مجھے اس بات سے کہ میں نے تم سے محبت کی۔۔۔،مت کرو۔۔۔”

کتنے کرب کے عالم میں کہی تھی وہ یہ الفاظ مگر اس وقت ہیثم جیسے بےبہرہ بن چکا تھا پر اب،واقعی اس کی نفرت نے مطیبہ جہانگیر کو اپنی محبت سے نفرت کرنے پر مجبور کردیا تھا،کیا ہوجاتا گر وہ ان الفاظوں پر غور کرتا اس موم کی گڑیا کو پتھر ہونے سے بچالیتا،توڑ دیتا اپنی نفرت کا بُت،

“مجھے میری ڈائری بہت عزیز تھی۔۔۔وہ چھوٹی سی چیز نہیں تھی۔۔۔بچپن سے لے کر اب تک وہ میرے ساتھ تھی۔۔۔میں اس میں اپنے جذبات لکھتی تھی۔۔۔”

کیا تھی وہ لڑکی،کس قدر معصوم انداز تھا اس کی محبت کا،آج تک کبھی اس کے مد مقابل آکر اظہار نہ کیا تھا مگر اپنی ڈائری میں ایک ایک جذبات لکھتی،ہمیشہ اس سے نظریں ملانے پر ڈرتی مگر ڈائری میں اس کا ہر ایک نقش لکھی تھی،پر اس نے کیا کِیا تھا اپنی بےحسی کا واضح ثبوت دیتا اس خوبصورت جذباتوں سے سجی ڈائری کو جلا کر پانی میں پھینک دیا،کس قدر روئی تھی وہ اس کے عمل پر مگر وہ جیسے اپنی ظلمت کا ثبوت دیا تھا اسے،

“میں نے نہیں مارا ناذلی کو۔۔”

اس کے تڑپتے الفاظ کانوں میں پڑے تو ہیثم کو سانس لینا محال لگا،وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی،نہیں مارا تھا اس نے ناذلی کو،ناذلی کی چھت سے گر کر موت اس کی تقدیر میں تھی وگرنہ اس سے بھی زیادہ اونچائی سے تو خود مطیبہ کودی تھی،اگر چھت سے گر کر ہی لازماً موت ہونی ہوتی تو مطیبہ جہانگیر بھی آج زندہ نہ ہوتی،پر یہ باتیں اس کے ذہن کے پردے میں کب آئیں جب وہ لڑکی اپنا دل اس کی طرف سے پتھر کرچکی تھی،

اس پر بےجا ظلم کرتا آج جب وہ خود کو یوں پٹیوں میں جکڑے بےبسی کی تصویر بنا دیکھتا تو دل خون کے آنسو رونے لگتا تھا،

“ہیثم۔۔۔!”

دروازہ ناک ہونے کے بعد مہناز بیگم کی آواز جب کانوں سے ٹکرائی تو اس نے اپنی سلگ کر انگارہ ہوتی آنکھوں کو وا کیا،

“فضل نے آج ڈریسنگ نہیں کی تمہاری۔۔”

کل کی لگی پٹیوں کو دیکھ مہناز بیگم ہیثم کے لیے ہائیر کیے گئے بوائے کے بابت پوچھی تھیں،

“میں نے منع کردیا تھا۔۔”

باریک ہونٹوں میں زرا سی جنبش ہوئی،اس کا سرخ چہرہ اور آنکھوں کے گرد گہرے ہلقے دیکھ مہناز بیگم کا غم سے چور دل شدید دکھ میں گھرا،پہلے ہی دو بچوں کی گمشدگی،اس پر اپنے کیے کا پچھتاوا اور اب ہیثم کی بکھری حالت،وہ روزبروز بڑھتے غم میں گھلتی جارہی تھیں،

“اگر روز زخموں پر ڈریسنگ نہیں کرواؤ گے تو یہ بڑھ جائیں گے۔۔”

ہیثم کے گال پر محبت سے ہاتھ رکھتی وہ اندر امڈتے درد پر ضبط کیے نرمی سے بولیں،ان کی بات سن کر ہیثم اذیت سے مسکرایا،

“کاش کہ یہ زخم بڑھ جائیں اور انہیں زخموں کے بدولت مجھے موت آجائے تب جاکر شاید میرے ظلموں کا مداوا ہو۔۔۔”

مہناز بیگم کی آنکھیں جھلملائیں تھیں اپنے بیٹے کو جسمانی و روحانی اذیتوں میں تڑپتے دیکھ،

“مت کہو ہیثم ایسے۔۔۔ایک عندی اور تم ہی رہ گئے ہو جن کے باعث میں یہ زندگی گزاررہی ہوں۔۔۔اگر تمہیں بھی کچھ ہوگیا تو مرجاؤں گی میرے بیٹے۔۔”

“امّی۔۔”

انہیں کرب آمیز لہجے میں کہہ کر آخر میں روتے دیکھ ہیثم بےبس ہوتا پکارا،بازو اور پیروں پر لگی پٹی کی وجہ سے ہمت نہیں تھی کہ آگے ہوکر اپنی بلکتی ماں کو گلے لگالے،

“نہ روئیں یار۔۔”

انہیں مسلسل روتے دیکھ وہ شدید تکلیف محسوس کیا،

“ہم نے بہت غلط کیا ہے اس کے ساتھ ہیثم۔۔ہمارے ظلموں نے اسے پتھر کر دیا اس قدر کہ وہ اب شاید کبھی رخ نہ کرے یہاں کا۔۔”

بھبھک کر کہتے ان کی بوڑھی آواز کپکپانے لگی تھی آخر میں،ہیثم کو لگا اس کا سر درد سے پھٹ جائے گا اب،ماں کی تکلیف کہاں گوارا ہورہی تھی اسے،بمشکل ہمت کر کے آگے ہوتا وہ مہناز بیگم کو گلے لگایا،

“بیگم صاحبہ۔۔”

فرخندہ کی خوشی سے بھری آواز پر وہ دونوں چونکے،

“بیگم صاحبہ۔۔۔مطیبہ بی بی۔۔”

خوشی کے مارے اس سے بولا نہیں جارہا تھا،جبکہ مہناز بیگم اس کے چہرے کو چمکتے دیکھ مکمل بات سمجھ کر بےیقینی سے ہیثم کو دیکھیں،وہ خود ساکت ہوا تھا فرخندہ کی آواز پر،

“مطیبہ۔۔”

خوشگوار حیرت سے زیرِ لب کہتیں وہ ہیثم کا گال تھپتھپاکر اٹھیں،تیز قدم روم سے باہر کی جانب تھے،چونکہ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ہیثم کو سیڑھیوں سے اوپر اس کے روم تک نہیں لے جایا جاسکتا تھا تبھی فلحال اس کا قیام نیچے گیسٹ روم میں تھا،

ہینڈ کیری تھامے وہ خاموش نظروں سے چاروں اطراف میں دیکھتی دوپہر کا سوچ رہی تھی،جہانگیر ہاؤس پہنچ کر صغریٰ پر جب اس نے غصہ کیا تھا نمبر دینے کے حوالے سے تب اس نے مطیبہ کو مہناز بیگم کی آمد کا بتایا،اس نے کہا تھا وہ بہت رو رہی تھیں اور بار بار مطیبہ سے بات کرنے کا کہہ رہی تھیں تب مجبوراً انہیں وہ نمبر دی تھی،یہ سن کر مطیبہ سوچ میں پڑگئی،جو بھی تھا وہ اس کی تائی امی تھی جنہوں نے اسے بچپن سے ماں کی طرح محبت دی تھی،بعد میں گرچہ وہ فلذہ اور ہناد کی محبت میں اس سے بدگمان ہوئی تھیں مگر ان سب میں وہ انکی بچپن سے جوانی تک کی محبت نہیں فراموش کرسکتی تھی،صغریٰ سے فرخندہ کے عوض اسے کئی مہینوں سے ہناد اور فلذہ کے اچانک لاپتہ ہونے کے متعلق بھی معلوم ہوا تھا تبھی کافی سوچ بچار کے بعد وہ سکندر ولا آنے کا فیصلہ کی،اور اب اتنے مہینوں بعد وہ اس ہی گھر میں کھڑی تھی جہاں اس نے کئی سال اذیتوں کے زد میں گزارے تھے،

“مطیبہ۔۔”

اسے لاؤنج کے وسط میں ہی کھڑے دیکھ مہناز بیگم خوشی سے آگے بڑھتی مطیبہ کو گلے لگاگئیں،وہ لب بھینچتی ہینڈ کیری چھوڑی،

“کیسی ہو میری بچی۔۔”

اس سے دور ہوکر مترنم آواز میں انہوں نے مطیبہ کا گال چھوکر پوچھا،دوسری جانب سے وہ ہنوز خاموش تھی،البتہ آنکھوں کا سرد تاثر خود ان پر باور کررہا تھا کہ کیا کیسی ہونی چاہیے وہ،جھیل آنکھوں میں اترتے سوال نے انہیں شرمندہ کیا،

“آؤ تم میں یہ سامان فرخندہ سے رکھوادوں گی۔۔”

“میں گیسٹ روم میں رہوں گی۔۔”

وہ پہلے ہی فیصلہ سنائی تھی اپنا،آخر کو جس شخص کے لیے وہ آئی ہی نہیں تھی یہاں تو کیوں رہتی پھر اس کے ساتھ،

“بیٹا گیسٹ روم میں ہیثم کو رکھا گیا ہے۔۔۔”

مہناز بیگم اس کی بات کا مطلب صاف سمجھی تھیں کہ وہ کسی طور ہیثم کے روم میں نہیں رہنے والی تبھی اسے بتائیں،ان کی بات سن کر مطیبہ کی آنکھوں میں تنفر ابھرا،

“تم ایسا کرو اوپر جو کارنر والا روم خالی رہتا ہے اس میں رہ لو۔۔”

مطیبہ کو ان کی یہ بات مناسب لگی تبھی ہینڈ کیری تھامی،

“بی بی اسے چھوڑ دیں۔۔”

“میں لے جاؤں گی فرخندہ۔۔”

فرخندہ کے آگے بڑھنے پر سرد لہجے میں اسے ٹوکتی مطیبہ سیڑھیوں کی جانب گئی،مہناز بیگم اس کے ٹھنڈے رویے پر مایوس ہوئی تھیں،انہیں دکھ دیا تھا اس کا انداز مگر جانتی تھی اس کو ایسا بنانے میں ان لوگوں کا ہی کِیا دھرا تھا،

وہ مطیبہ کے پیچھے اوپر جانا چاہ رہی تھیں پر گیسٹ روم میں یقیناً ہیثم بیٹھا بےچین ہورہا ہوگا مطیبہ کا سن کر تبھی فرخندہ کو مطیبہ کی مدد کے غرض اوپر بھیجتی وہ گیسٹ روم کا رُخ کیں،

“ماما۔۔”

ان کے اندر داخل ہوتے ہی ہیثم بےچینی سے پکارا،اس ایک لفظ میں جیسے کئی سوالات پوچھے تھے اس نے،اپنے بیٹے کو دکھ سے دیکھتی مہناز بیگم دھیما سا مسکرائیں،

“وہ آگئی۔۔”

ان کے اس جواب نے اتنے مہینوں بعد ہیثم کو پہلی بار سکون بخشا تھا،یوں محسوس ہوا جیسے خوشیوں نے دستک دی ہے اس کی اجڑی ہوئی زندگی میں اور مستقبل سے بےخبر وہ اس تمام عرصے میں پہلی بار آسودگی سے مسکرایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کس بات کی خوشی منائی جارہی ہے۔۔”

رات کو تھوڑا لیٹ وہ آفس سے لوٹا تھا،پر مینشن میں داخل ہوکر ہال میں عنادیہ کو کھلکھلاتے اور دریہ بیگم کے بھی لب مسکاتے دیکھ وہ حیرت سے پوچھا،

اس کی آواز سن کر چونکتی عنادیہ خوشی سے دمکتے چہرے سمیت سلسبیل کے پاس آئی،

“مطیبہ آپی واپس آگئی سکندر ولا سلسبیل۔۔۔مام نے ابھی کچھی دیر پہلے کال پر بتایا۔۔”

عنادیہ جتنی خوشی سے یہ بات بتارہی تھی سلسبیل کے مسکراتے لب لمحوں میں سکڑے،کانچ مانند آنکھوں میں ہلکی سی ناگواری ایک جھلک دکھا کر غائب ہوئی،

“میں جانتی تھی وہ ضرور واپس آئیں گی وہ ہیں ہی اتنی اچھی۔۔۔جلد مان جانے والی۔۔میں کل گرینی کے ساتھ گھر جاؤں گی ان سے ملنے۔۔”

بنا سلسبیل کے تاثرات نوٹ کرتی وہ نان سٹاپ بولے گئی،

“کچھ زیادہ ہی اچھی ہے وہ۔۔”

استہزیہ انداز میں زیرِ لب سلسبیل کے بڑبڑانے پر عنادیہ چونکی،

“کیا مطلب۔۔”

وہ حیران کن نظروں سے اسے دیکھ پوچھی،

“کچھ نہیں۔۔کھانا لگاؤ میں فریش ہوکر آتا ہوں۔۔”

بات بدل کر اس کے گال تھپتھپاتا سلسبیل دریہ بیگم سے مل کر روم میں گیا،عنادیہ کو اس کی بڑبڑاہٹ الجھن کا شکار کی تھی،ساری خوشی پل میں غائب ہوتی سلسبیل کے اس جملے پر،وہ وجہ جاننا چاہتی مگر فلحال خاموش رہی،غائب دماغی سے کھانا کھاتی وہ اسماء کے ساتھ مل کر برتن اٹھوائی،پھر دریہ بیگم کے روم میں جانے کے بعد سلسبیل کے کہنے پر اس کی چائے بناکر روم میں لائی،

بلیک ویسٹ اور ٹراؤزر میں وہ بیڈ پر بیٹھا کسی سے کال پر محو گفتگو تھا،عنادیہ کو چائے سائیڈ ٹیبل پر بغور رکھتے دیکھ سلسبیل نے اسے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا،

اس کے خاموشی سے بیٹھنے پر کچھ دیر بعد کال رکھتا وہ عنادیہ کے بجھے چہرے کی جانب متوجہ ہوا،

“چہرہ کیوں اترا ہوا ہے تمہارا۔۔؟”

ہاتھ تھام کر اس کی مخروطی انگلیوں سے کھیلتا وہ سنجیدگی سے پوچھا،عنابی لبوں پر اپنی محبوب بیوی کو دیکھ ہمیشہ کی طرح نرم مسکراہٹ سجی تھی،

“آپ نے باہر ایسا کیوں کہا۔۔؟”

جب سے پریشان کرتا سوال وہ آخر پوچھ ہی بیٹھی،سلسبیل کے لب سمٹے،

“کیا کہا میں نے باہر۔۔؟”

جانتے بوجھتے وہ انجان بنا،عنادیہ خفگی سے اسے دیکھی تھی،

“کیا آپ کو مطیبہ آپی کا سکندر ولا میں آنا اچھا نہیں لگا۔۔؟”

اب کی بار عنادیہ صاف انداز میں پوچھی،

“اس میں اچھا یا برا لگنے کی بات نہیں بس مجھے کچھ عجیب لگا اس کا آنا۔۔”

سلسبیل کے جواب نے عنادیہ کو اور الجھایا،

“میں سمجھ نہیں پارہی آپ واضح لفظوں میں بتائیں۔۔”

اس کے الجھے ہوئے لہجے پر سلسبیل چند پل خاموشی سے اسے دیکھا پھر گویا ہوا،

“صاف لفظوں میں سننا ہے تو سنو۔۔مجھے شدید ناگواریت ہوئی مطیبہ کے واپس وہاں جانے پر۔۔”

عنادیہ بری طرح جھٹکا کھائی اس کی بات پر،

“پر کیوں۔۔؟”

“کتنا سٹوپِٹ سوال پوچھا ہے تم نے۔۔۔عنادیہ “کیوں”۔۔جہاں تک تم نے مجھے بتایا تھا کہ آنٹی اور ہیثم نے اسے غلط سمجھ کر اس پر بدکردار کا ٹیگ لگادیا تھا اوپر سے وہ لڑکی ان کے ظلموں سے نیم پاگل ہوئی حتیٰ کہ خودکشی کی کوشش بھی کی تھی۔۔۔اور اب۔۔۔اب سب بھول بھال کے واپس سکندر ولا چلی جاتی ہے گریٹ۔۔!”

سلسبیل کی تاسف سے کہی گئی بات عنادیہ کو بےحد بری لگی،شکوہ کناہ نظروں سے اسے دیکھتی وہ پوچھی،

“تو آپ کیا چاہتے ہیں مطیبہ آپی بھائی کو کبھی معاف نہ کریں۔۔”

“بلکل۔۔۔اس کا گناہ معافی لائق نہیں۔۔”

کندھے اچکاکر سلسبیل ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل سے چائے کا کپ اٹھاتا لبوں سے لگایا،

“ایسا آپ کو لگتا ہے کیونکہ آپ خود کسی کو معاف نہیں کرتے ہوں گے۔۔”

عنادیہ کے ناراض لہجے پر گرم چائے حلق میں اتارتا سلسبیل پر نفرت انداز میں مسکرایا،کانچ مانند آنکھوں میں سرد سا تاثر ابھر کر چھپا،

“بلکل میں اپنے گناہگاروں کو معافی نہیں سزائیں دیتا ہوں اور وہ بھی عبرتناک۔۔۔!”

اس کے گہرے لہجے میں کہی بات عنادیہ کے زرا پلے نہ پڑی،نہ تو وہ اس کی کانچ مانند آنکھوں میں حیوانیت کی جھلک دیکھ سکی،

“آپ سزائیں دیتے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر کوئی اپنے گناہگار کو سزا ہی دے اور دیکھیے گا مطیبہ آپی بھائی کو ضرور معاف کریں گی۔۔”

کہتے ہوئے عنادیہ کو اپنی بات ہی جھوٹی لگی تھی،

“مجھے نہیں لگتا اتنا سب ہونے کے بعد بھی وہ اسے معاف کرے گی خیر اگر مجھ سے پوچھو تو مطیبہ کو اسے بلکل معاف نہیں کرنا چاہیے۔۔”

سلسبیل کی بات نے عنادیہ کو باور کیا تھا کہ ہیثم کی ایمیج کافی حد تک اس کی نظروں میں خراب ہوچکی ہے،

“بھائی شرمندہ ہیں سلسبیل۔۔”

اپنی جانب سے وہ کوشش کی تھی سلسبیل کا دل ہیثم کی طرف سے صاف کرنے کا،

“عنادیہ کسی بھی لڑکی کے لیے لفظ بدکردار اسے زندہ لاش بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے۔۔۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہیثم شرمندہ نہیں لیکن اگر وہ شرمندہ ہے تو اس لڑکی کا پیچھا چھوڑ دے۔۔”

“مطلب آپ چاہتے ہیں کہ وہ دونوں الگ ہو جائیں۔۔”

عنادیہ کو غصہ دلاگئی تھی سلسبیل کی یہ بات،

“بلکل۔۔”

“آپ کیسے کہہ سکتے ہیں یہ سب۔۔۔جہاں معاملہ کچھ ٹھنڈا ہونے لگا ہے وہی آپ اپنے لفظوں سے جلی پر نمک چھڑک رہے ہیں۔۔”

وہ بپھری تھی،سلسبیل کا لبوں پر کپ لےجاتا ہاتھ رکا عنادیہ کے بگڑے لہجے پر،

“اوکے فائن۔۔۔اس ٹاپک پر اب ہم بات نہیں کریں گے۔۔”

عنادیہ کا انداز اسے برا لگا تھا،وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان دونوں کے درمیان کسی اور کو لے کر بات خراب ہو تبھی یہ ٹاپک یہی پر کلوز کرنے لگا،

“مجھے آپ سے ایسی باتوں کی امید بلکل نہیں تھی سلسبیل۔۔۔اگر گناہ کا احساس ہونے کے بعد کوئی سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللّٰہ بھی اسے معاف کردیتے ہیں ہم تو پھر انسان ہیں۔۔”

“عنادیہ اس ٹاپک کو بند کرو۔۔۔چلو اٹھو یہ کپ رکھ آؤ۔۔”

اسے تحمل سے ٹوکتا وہ آخر میں نرمی سے کہہ کر عنادیہ کی جانب کپ بڑھایا،

“آپ میں معاف کرنے کا ظرف نہیں اس کا یہ مطلب نہیں بنتا کہ کوئی بھی اپنے گناہگار کو معاف نہ کرے۔۔”

کپ تھامنے کے بجائے اس بار عنادیہ کچھ اونچے لہجے میں بولی تو سلسبیل کے کشادہ ماتھے پر شکنیں پڑنے لگیں،

“کہا نا بند کرو یہ ٹاپک۔۔”

بھنچے لب سمیت وہ گِھرکا،

“نہیں کروں گی بند۔۔۔آپ پہلے بتائیں کہ۔۔”

“واٹ رابش۔۔”

اچانک دہاڑتا سلسبیل ہاتھ میں تھاما کپ پھینکا زمین پر،عنادیہ سہم کر پیچھے ہوئی،سراسیمہ ہوتی وہ بےیقین نظروں سے سلسبیل کو دیکھی جو آنکھوں میں ناگواریت لیے اسے گھور رہا تھا،

وہ جتنا معاملہ رفہ دفعہ کرنا چاہ رہا تھا عنادیہ اتنا ہی اس ٹاپک پر اس سے بحث کرتی آواز اونچی کررہی تھی،سلسبیل کا شدید خون کھولا تھا،نہیں چاہتا تھا ہر بار ان دونوں کے بیچ کسی دوسرے کی وجہ بدمزگی ہو اور عنادیہ نے یہ حرکت کوئی دوسری مرتبہ کی تھی،

“ہر بار باتوں کو طول دینا ضروری نہیں ہوتا۔۔”

اس کی سہمائی نظروں کو دیکھ اپنے اشتعال پر بمشکل قابو پاتا سلسبیل دانت پیستے بولا،دوسری جانب مقابل کی محبت کی عادی وہ اس کا سخت لہجہ برداشت نہ کرپائی،تیزی سے بھیگتی آنکھوں سمیت اسے شکوہ کناہ نظروں سے دیکھتی عنادیہ اٹھی تھی،ساتھ سائیڈ ٹیبل پر سے پِرچ اٹھا کر روم سے نکلتی چلی گئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔