Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 5)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 5)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
“ناذلی۔۔”
وہ دوپہر کو اپنے کمرے میں بیٹھی اگلے پیپر کی تیاری کررہی تھی جبھی مطیبہ اندر داخل ہوتی اسے پکاری،
“جی آپی۔۔”
مطیبہ کے تنفر بھرے تاثرات وہ سوالیہ نظروں سے دیکھی،
“لو۔۔۔ہیثم کو بات کرنی ہے تم سے۔۔۔”
بمشکل لہجہ بےپرواہ رکھتے وہ بولی،
کم عمری کے باعث جہانگیر صاحب نے فلحال ناذلی کو موبائل رکھنے کی اجازت نہیں دی تھی،اسے جو بھی کام یا بات اپنی کسی دوست سے کرنی ہوتی وہ ہمیشہ مطیبہ کے فون سے ہی کرتی،ادھر اسکے پاس فون نہ ہونے کی وجہ سے ہیثم بھی جب اپنے دل کی بےقراری سے مجبور ہوتا تو مطیبہ کے نمبر پر کال کر کے ناذلی سے بات کرتا،ابھی بھی اس نے مطیبہ کو کال کی پر ہمیشہ سے ہٹ کر آج مطیبہ کو اسکا لب ولہجہ خود سے بات کرتے کافی سرد لگا تھا،ناذلی کو فون پکڑا کر وہ اپنے دل کی تڑپتی دہائیوں کو نظرانداز کرتی باہر کے جانب گئی پر بےچینی حد سے سوا ہونے کے بدولت باہر گیٹ سے ہی ٹیک لگاکر کھڑی رہ گئی،
“تم کالج سے ڈرائیور کے ساتھ گھر چلی گئی اور مجھے بتانا تک ضروری نہ سمجھا۔۔۔”
اسکے ہیلو بولتے ہی دوسری جانب سے ہیثم نے ناراضگی کا اظہار کیا پر ناذلی کے پھر بھی خاموش رہنے پر وہ بےساختہ مسکرایا،
“اب تک ناراض ہو۔۔؟”
انتہائی نرم لہجے میں پوچھا تھا کہ ناذلی کی دھڑکنیں بےترتیب ہوئیں،
“سوری۔۔۔”
ناچاہتے ہوئے بھی ناذلی کے لب مسکرائے اسکے یوں بولنے پر،
“یار بات تو کرو۔۔۔”
مستقل خاموشی کھلنے پر وہ بےقراری سے بولا،
“میں نہیں کرتی معاف آپ کو۔۔۔”
کچھ سوچتے ہوئے وہ اتراکر بولی،
“پوچھ سکتا ہوں وجہ۔۔۔”
اسکا شرارت بھرا لہجہ ہیثم کو پرسکون کرگیا تبھی مسکراتے ہوئے پوچھا،
“کل صبح آپ جب مجھے کالج کے لیے پک کرنے آئیں گے تو سب سے پہلے میرے لیے میری فیورٹ ڈھیر ساری چاکلیٹس لے کرآئیں گے۔۔۔پھر سوچوں گی میں کہ آپ کو معاف کیا جاسکتا ہے یا نہیں۔۔۔”
نزاکت بھرے لہجے میں کہتی وہ ہیثم کو ہنسنے پر مجبور کی تھی،
“جو حکم محترمہ۔۔۔”
وہ جس قدر تابعداری سے کہا تھا ناذلی بےاختیار کھلکھلائی اور بس مطیبہ کی برداشت یہی تک تھی،جھٹکے سے اندر آتی وہ ناذلی کے سر پر کھڑی ہوئی،
“فون دو۔۔۔”
ناذلی جو اسکے آنے پر چونکی تھی اچانک مطیبہ کے ہاتھ بڑھا کر ضبط سے بولنے پر حیران ہوئی،
“پر آپی۔۔۔”
“مجھے کام ہے دو فون۔۔۔”
غصے میں کہتی وہ جھپٹی تھی ناذلی کے ہاتھ سے فون ساتھ ہی تیزی میں کال کٹ کرتی اسے نفرت سے گھورتی نکلی روم سے،ہیثم جو کال پر اچانک ہونے والی بحث نہ سن پایا تھا کال کٹنے پر چونکا،
“کال کیوں کاٹ دی۔۔۔”
زیرِ لب بڑبڑاتا وہ دوبارہ نمبر ڈائل کیا تھا مگر دوسری جانب سے اس بار کال ریسیو نہیں کی گئی،دو تین مرتبہ کال کرنے کے باوجود جب دوسری جانب سے خاموشی رہی تو ہیثم فون سائیڈ میں رکھ کر گہرا سانس بھرا تھا،ناذلی نے اسے چاکلیٹس لانے کو کل کہا تھا پر وہ ذہن میں کچھ اور ہی سوچ کر مسکراتا اپنے روم سے نکلا،
ادھر ناذلی اداس ہوئی تھی،پڑھائی سے یکدم دل اُچاٹ ہوا،کتابیں برابر میں رکھتی بیڈ سے ٹیک لگائے مطیبہ کے رویے کا سوچنے لگی،یہ نہیں تھا کہ مطیبہ اس سے محبت نہیں کرتی۔۔،مطیبہ کی خود کے لیے کئیر دیکھ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اسکے ماں کے جانے کے بعد ایک مطیبہ ہی ہے جو اس کا خیال جہانگیر صاحب سے بھی زیادہ رکھتی تھی مگر کبھی کبھی اسکا رویہ ناذلی سے اس قدر برا ہوجاتا کہ ناذلی الجھ کر رہ جاتی،ابھی بھی اسکی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ ناذلی ہمیشہ کی طرح خوفزدہ ہوئی تھی،بےساختہ اسے رونا آیا،اس معصوم کا چھوٹا دماغ اس بات کو سمجھنے سے عاری تھا کہ اس کی سگی بہن جس میں ناذلی اکثر اپنی ماں کو دیکھتی وہ بہن اس سے حسد کا شکار ہوچکی تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا کہا ہے ڈاکٹر نے۔۔۔؟”
وہ باہر بینچ پر اسٹیک ہاتھ میں تھامے بیٹھا تھا،کچھ دیر پہلے ہی چیک اپ کرواکر وہ اندر سے نکلا تھا،جبھی عندلیب جو اندر ڈاکٹر سے بات کررہی تھی اسکے نکلنے پر قدموں کی آہٹ بھانپتا پوچھا،
سلسبیل کے سوال پر عندلیب نے مایوس نظروں سے اسکی آبنوس رنگ خالی آنکھوں کو دیکھا پھر حتیٰ الامکان لہجے کو نارمل رکھ کر بولی،
“امکانات ہیں۔۔کہ جلد۔۔۔بینائی۔۔۔”
“جھوٹ مت بولو۔۔۔”
باوجود کوشش عندلیب کا لڑکھڑاتا لہجہ اسے باور کراگیا تھا کہ مقابل کھڑی لڑکی اسے جھوٹی امید دلارہی تھی،تبھی سختی سے اسکی بات کاٹا تھا وہ،
“چانسس نہیں ہیں ناں میری بینائی واپس آنے کے۔۔۔”
اس کا لہجہ یہ بات کہتے بھی اتنا سرد تھا عندلیب نے بےساختہ سر جھکایا،
“چانس ہے۔۔۔پر بہت کم۔۔۔”
اب کی بار اس نے سچ بولنا ہی مناسب سمجھا،اس نے سنا تھا سچ کڑوا ہوتا ہے پر یہ سچ سلسبیل مراد سے زیادہ عندلیب کو کڑوا لگا تھا،کرب سے آنکھیں موند کر وہ خود کو کمپوز کرتی واپس آنکھیں وا کی،اور کانچ سی آنکھیں حیرت سے پھیلیں جب نظر سلسبیل مراد کے تراشے گئے عنابی لبوں پر پڑی،وہ مسکرارہا تھا،ہاں وہ طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر سجایا تھا،جیسے اپنی بےبسی کا خود ہی مذاق اڑارہا ہو،اسکی یہ مسکراہٹ عندلیب سے زیادہ دیر تک دیکھی نہ گئی تو وہ جلدی سے نگاہ پھیر گئی،
تبھی جھٹکے سے اٹھتا وہ اسٹیک کے سہارے وہاں سے نکلنے لگا،عندلیب اسکے پیچھے تیز قدموں سمیت گئی،باہر آکر اسے بجائے کار میں بیٹھنے کہ یونہی پیدل جاتے دیکھ وہ پریشان ہوئی،
“سلسبیل۔۔۔!”
عندلیب کی پکار پر بھی وہ نہ رکا اور ناک کی سیدھ میں چلتا گیا،اسکی یہ کاروائی پہلے تو عندلیب نہ سمجھ پائی پر جب سلسبیل اچانک روڈ کے بیچوں بیچ کھڑا ہوتا اپنی اسٹیک دور پھینکا تھا تب عندلیب کے چہرے پر سے ہوائیاں اڑی،یوں محسوس ہوا جیسے کچھ ہی دیر میں اسکا دل کٹ کر گرجائے گا،قریب ہی ایک بس تیزی میں اس طرف آرہی تھی جس کی آواز سنتے سلسبیل کے وجیہہ چہرے پر سے مسکراہٹ سمٹی،معاً غم و غصے کے شدید عالم میں وہ اپنے دونوں بازو پھیلایا تھا تبھی بس کے قریب آنے پر عندلیب جھٹکے سے اسکا ہوا میں معلق بازو پکڑ کر کھینچی تھی،ان کے بلکل قریب سے ہوتی بس گزری،کچھ دیر تو عندلیب سکتے کے عالم میں زمین کو گھورتی رہی،پھر زرا سنبھلنے پر نظر اٹھاکر دیکھا،وہ سامنے سرخ چہرہ لیے کھڑا تھا،جیسے یہ مداخلت اسکے غضب کو ہوا دے گئی ہو،
“تم پاگل ہو۔۔۔”
عندلیب حلق کے بل چلائی تھی،کیسا تھا وہ انسان خود موت کے قریب جارہا تھا،اگر کو اسے ابھی کچھ ہوجاتا تو۔۔۔،یہ سوچ عندلیب کو اذیتوں میں جھونکی تھی،آنسو تیزییں لڑھکے تھے اسکے سرخ عارض پر،جبکہ اسکی آواز سنتا سلسبیل یکایک دہاڑا،
“ہاں ہوں میں پاگل۔۔۔ہوں پاگل۔۔۔پر تم۔۔تم کون ہوتی ہو مجھے بچانے والی۔۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کام میں مداخلت کرنے کی۔۔۔”
اسکی دہاڑ پر آتے جاتے لوگ متوجہ ہونے لگے تھے ان دونوں کی جانب،
“تم جانتے بھی ہو کیا کرنے والے تھے تم۔۔۔”
پانیوں سے بھری آنکھیں پھیلائے وہ پوچھی تھی،
“اچھے سے جانتا ہوں کیا کرنے والا تھا۔۔۔”
اگلے ہی لمحے وہ خود کو کافی حد تک سنبھال چکا تھا تبھی نارملی بولا جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو،
“یہ کرتے ہوئے تم کم از کم گرینی کا تو سوچ لیتے۔۔۔”
وہ تڑپی تھی مقابل کی بےحسی پر تبھی گلے میں ابھرتے پھندے پر قابو پاتی بولی،
“ہنہہ۔۔۔مجھے نہیں پرواہ کسی کی۔۔۔”
اس کی یہ بات سنتے ہی عندلیب بےیقین ہوئی،دل میں درد کی اٹھتی ٹیسیں بڑھیں تو وہ چیخی،
“واقعی۔۔۔تمہیں کہاں پرواہ ہے کسی کی۔۔۔تم تو ایک بےحس جذبات سے عاری انسان ہو۔۔۔جسے زرا فرق نہیں پڑتا کہ کون کون تڑپتا ہے اسکے لیے۔۔۔تمہیں پرواہ ہے تو بس اپنی۔۔۔کہ تم ٹھیک رہو۔۔۔تمہاری بینائی آجائے اور اگر بینائی نہ آئے تو چلو۔۔۔مرنے چلتے ہیں۔۔۔ایسے پھر آزادی مل جائے گی تمہیں ہر تکلیف سے۔۔۔ہے ناں۔۔۔یہی سوچتے ہو ناں تم۔۔۔”
عندلیب کے مستقل چیخنے پر آس پاس کھڑے ان دونوں کے مکالمے کو سمجھنے کی کوشش کرتے لوگ پریشان ہوئے تھے،جبکہ سسلبیل اب لبوں کو ایک دوسرے میں سختی سے بھنچے کھڑا تھا،
“پر تم جانتے ہو۔۔۔یوں مر کر اپنا دامن بچانے سے تم بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔۔۔ایسے صرف تم ایک بزدل انسان تصور کیے جاؤں گے۔۔۔جو حالات سے گھبراکر مرنے کو فوقیت دیتا منہ چراگیا۔۔۔”
اور اس بات پر سلسبیل کی کشادہ پیشانی شکنوں کے جال سے بھری،
“ہاں سلسبیل مراد۔۔۔۔تم ایک بزدل تصور کیے جاؤ گے۔۔۔اگر ہمت ہے تو مقابلہ کرو اس حالات کا۔۔۔جب مجھے پورا یقین ہے کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا تو تم کیوں ناامید ہوئے ہو۔۔۔”
وہ اب تھکی آواز میں بول کر اسکے پاس آئی تھی،
“مجھے یہاں سے لے چلو۔۔۔”
اچانک سلسبیل نے اپنا بھاری ہاتھ آگے کیا تھا اور وہ ہاتھ عندلیب کے ہاتھ کی نرمی محسوس کرتے ہی اسکے ہاتھ کو سختی سے تھام گیا،تبھی وہ دھیمے لہجے میں بولا،
عندلیب ساکت سی نظروں سے اسکے بھاری ہاتھوں میں چھپا اپنی نازک ہاتھ دیکھی تھی،وہ خود اسکا ہاتھ تھاما تھا،مقابل کی اس عنایت پر عندلیب کا دل زور سے دھڑک کر رہ گیا،معاً تمتماتے گالوں سمیت وہ ایک نظر چاروں طرف کھڑے لوگوں کو چور نظر سے دیکھتی سلسبیل کو لیے وہاں سے نکلی،کار کے قریب آنے تک وہ سختی سے اسکا ہاتھ تھامے رکھا تھا،عندلیب بمشکل دل کی منتشر ہوتی دھڑکنوں پر قابو پاتی اسے کار میں بیٹھائی تھی،تبھی سلسبیل اسکا نازک ہاتھ چھوڑا،مقابل کی سخت گرفت میں رہنے کے باعث عندلیب کو اپنا سرخ ہوتا ہاتھ اکڑتا محسوس ہوا،دور پھینکی گئی سلسبیل کی اسٹیک کو وہ ساتھ ہی اٹھالائی تھی،آج اسے سلسبیل کے لہجے پر جو دکھ پہنچا تھا اسی کے ساتھ ساتھ ایک خوشی بھی ہوئی تھی،اور وہ خوشی تھی سلسبیل کا اسکے ہاتھ کو پکڑ کر وہاں سے لے جانے کا کہنا،اتنا تو اسے یقین ہوگیا تھا کہ مقابل پتھر دکھنے والے شخص کو عندلیب پر بھروسہ ہونے لگا ہے،تبھی وہ اب انجانے میں اس پر یہ واضح کرنے لگا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کو ڈنر کے لیے وہ سکندر ہاؤس میں آیا تھا،فلذہ کے بولنے پر اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا یہاں آنے کا پر شام کو سکندر صاحب نے جب اسے کال کر کے بالخصوص مدعو کیا تب وہ انہیں انکار نہ کرسکا،سکندر صاحب اور ہیثم نے اسکا پرتپاک استقبال کیا تھا،پر ہناد کے تاثرات ہنوز سرد تھے،البتہ اسکی پرسنیلٹی بھانپتی مہناز بیگم بھی کافی حد تک متاثر ہوئی تھیں سابی سے،فلذہ کی زبانی اسکی تعریفوں کے پل سن کر اب انہیں احساس ہوا تھا کہ انکی مغرور نہ چڑھی بیٹی کو آخر کیسے ایک غریب لڑکا اتنا بھایا تھا،اسکے آنے پر فلذہ بھی اپنے میک اپ کو آخری ٹچ دیتی نیچے آئی تھی،جینز کا ڈینم لباس پہنے بالوں کو پونی میں مقید کیے وہ لائٹ سے میک اپ میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی،تضاد لبوں پر بکھری مسکراہٹ نے اضافہ کیا تھا خوبصورتی میں مگر اسکی یہ خوبصورت مسکراہٹ ماند پڑی جب سابی نے ایک نظر بھی اسکی طرف نہ دیکھا،
“سابی۔۔۔ہمم۔۔۔مراد نے بتایا تھا کہ تمہیں اپنا بزنس کرنے کا جنون کی حد تک شوق ہے۔۔۔”
فورک کی مدد سے مِیل کھاتے سکندر صاحب نے مخصوص ٹہراؤ لہجے میں کہا،جس پر پانی کے گھونٹ بھرتا سابی گلاس رکھا تھا،
“جی بلکل۔۔۔”
نرم لہجے میں دیا گیا مختصر جواب تھا،فِلذہ کی بےتاب نظریں اب تک مقابل کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے مچل رہی تھیں،
“تو تم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ۔۔۔پڑھائی کے ساتھ ساتھ میرے بزنس میں تھوڑا ہاتھ بٹادو۔۔۔یوں تمہیں تھوڑا تجربہ بھی ہوجائے گا۔۔۔اور جہاں تک مجھے معلوم ہے۔۔۔اپنی ذہانت کے بدولت تم جلد ہی ہمارے آفس میں ایک اچھے عہدے پر بھی پہنچ جاؤ گے۔۔۔”
سکندر صاحب کی رسانیت سے کہی گئی اس بات پر جہاں سابی چونکا وہی ہناد کا چمچ چلاتا ہاتھ رکا تھا،قوتِ سماعت ان دونوں کی باتوں پر مرکوز ہوئیں،
“میں مزید اور احسان نہیں چاہتا خود پر۔۔۔پہلے ہی آپ نے کافی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے مجھے یہاں جگہ دے کر۔۔۔”
یاسیت سے مسکراتا وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں انکار کرنے لگا،سکندر صاحب مسکرائے تھے،
“پر میں نہیں سمجھتا کہ میں نے کوئی احسان کیا تم پر۔۔۔یہ تمہاری قابلیت اور کرئیر بنانے کی جستجو تھی جس کی بدولت تم یہاں ہو۔۔۔اور یقیناً ایک دن بہت اچھے مقام پر بھی ہوگے۔۔۔”
وہ اسکے انکار کو سمجھ چکے تھے تبھی اسکی خودداری پر ستائشی نظروں سے سابی کو دیکھتے گویا ہوئے،ہناد کی سرد نظریں اٹھ کر سابی پر مرکوز ہوئیں،تنے جبڑوں سمیت وہ اسے گھورا تھا،
“یہ بات تو سچ کہی بابا۔۔۔سابی بھائی ہیں بہت قابل اور متاثر کن۔۔۔ہے ناں ماما۔۔”
ہیثم نے بھی گفتگو میں حصّہ لیا تھا ساتھ ہی بات کے آخر میں مہناز بیگم سے تائید چاہی جس پر انہوں نے ایک گھوری اسے نوازی،اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ سابی کی شخصیت نے انہیں متاثر کیا ہو پر وہ جلد کسی کی تعریف کرنے والوں میں سے نہیں تھیں،
“سیلیڈ کی پلیٹ دو گے مجھے۔۔۔”
نسوانی لہجے کا مخاطب سابی تھا،وہ جب سے اب دیکھا تھا ڈائیننگ ٹیبل پر اپنے بلکل سامنے بیٹھی فلذہ کو پھر مسکراکر اثبات میں سر ہلاتا اپنے قریب رکھی پلیٹ اٹھا کر اسکے جانب بڑھائی،فلذہ کے اندر تک سکون سرایت کرگیا تھا،وہ اسے دیکھ کر مسکرایا تو یقیناً مطلب یہی تھا کہ فلذہ کا حسن اس پر بھی اپنا کام کرنے لگا ہے،تبھی اپنی مسکراہٹ لبوں پر کچلتی وہ ایک بھرپور نظر سلسبیل پر ڈالی تھی،
ڈنر ختم ہونے کے کچھ دیر تک سکندر صاحب سے بات کرنے کے بعد وہ وہاں سے ان کی اجازت لیتا نکلا اور واپس انیکسی میں آیا تھا،کپڑے چینج کرنے کے بعد وہ کال پر کچھ دیر تک مراد صاحب سے اور پھر گرینی سے بات کیا تھا،اپنے لیے گرینی کی فکر مندی سنتا وہ انکی باتوں پر بار بار مسکرادیتا،پھر انہیں پورے دن کی روٹین بتاکر مطمئن کرتا فون رکھا،ساتھ ہی کتابیں لے کر بیڈ پر بیٹھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
