Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 40) 2nd Last Episode

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 40) 2nd Last Episode

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

“مررہا ہوں میں۔۔۔پلیز بچالو مجھے۔۔”

بوجھل لہجے میں سرگوشی کرتا ہیثم گال پر سے ہاتھ نیچے لاکر مطیبہ کے بازو پر پھیرتا اس کی کلائی پکڑا ساتھ ہی اسکے ہاتھ کو اپنے سینے پر رکھتا مطیبہ کی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکایا،وہ جو مفلوج ہوتے حواس سمیت اسے دور کرنے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی مقابل کی سست دھڑکنیں محسوس کرتی اپنی آنکھیں میچ گئی،انداز ایسا تھا جیسے بھاگ جانا چاہ رہی ہو وہ یہاں سے بہت دور،نہیں محسوس کرنا چاہتی ہو ان دھڑکنوں کو،

ہیثم کے بھاری ہاتھ میں چھپے اپنے نازک ہاتھ سے ہیثم کے سینے پر دباؤ ڈالتی وہ بمشکل اس سے فاصلہ قائم کرنے کی کوشش کی مگر اگلے ہی لمحے مطیبہ کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوئے جب نیم وا سرخ آنکھوں سے اس کو دیکھ ہیثم آہستگی سے جھکتا اپنا وجیہہ چہرہ مطیبہ کے ریشمی بالوں میں چھپاگیا،مطیبہ کی سانسیں بکھری تھیں مقابل کے سلگتے لب اپنی سفید گردن پر محسوس کر کے،ہیثم کی بھیگی شرٹ اور جسم نے اسکے کپڑے بھی کافی حد تک گیلے کردیے تھے،مطیبہ کے وجود میں لرزراہٹ محسوس کرتا ہیثم اس کی گردن پر سے لب ہٹاتا چہرہ سامنے کیا،نیم تاریکی میں بھی مطیبہ کا بری طرح دہکتا چہرہ اسے واضح دکھ رہا تھا،ایک بازو کی گرفت کمر پر تو دوسرے میں اپنا ہاتھ مقید وہ اس کی قید میں بلکل بےبس ہوئی آنکھیں میچے بے آواز رورہی تھی،اس کے چہرے پر آئے بال کو نہایت نرمی سے کان کے پیچھے اڑستا ہیثم آہستگی سے اسکے سینے سے لگا تھا،اس لڑکی کے گلے لگتے ہی ہیثم یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں بعد اس کے پورے وجود میں سکون سا سرایت کیا ہے،بےچین دل کو قرار سا ملا تھا،وہ کسی قیمتی خزانے کے مانند اسے خود میں بھینچتا گیا،مقابل کی حد درجہ مضبوط پکڑ پر مطیبہ کا دم گھٹنے لگا،

“مجھے لگا تھا میں نے تم پر ظلم کر کے سب سے بڑا گناہ کیا ہے پر آج میں غلط ثابت ہوگیا کیونکہ اس سے بھی بڑا گناہ تو میں اب کر بیٹھا ہوں تمہاری نفرتوں اور دھتکار کے باوجود تمہارے ساتھ ایک اور زیادتی کردی میں نے۔۔۔مطیبہ جہانگیر۔۔۔میں تم سے عشق کر بیٹھا ہوں۔۔”

جذبات کے بہاؤ میں آکر وہ انجانے میں اس پر اپنے دل کی بات عیاں کربیٹھا تھا ساتھ ہی مطیبہ کی پشت پر بازوؤں کا حصار اور تنگ کیا جیسے ڈرا ہو کہ وہ اس سے پھر دور نہ ہوجائے،دوسری جانب مطیبہ پتھر ہوئی تھی مقابل کے اظہار پر،یہ وہ کیا کہہ رہا تھا،اسے مطیبہ جہانگیر سے کیسے عشق ہو سکتا تھا،مطیبہ جہانگیر تو صرف ایک قابلِ نفرت لڑکی تھی اس سے کوئی محبت تک نہیں کرسکتا تھا عشق تو بہت دور کی بات تھی،جھیل آنکھیں پھٹی تھیں جن میں سے تیزی میں نکلتا پانی ہیثم سکندر کے جملے سے ہوئی اس کی اذیت کی عکاسی کیا تھا،

آہستگی سے اس سے دور ہوتا ہیثم نرمی سے مطیبہ کا چہرہ تھاما تھا،وہ ہنوز ساکت سی آنکھیں پھیلائے کھڑی تھی،جھیل رنگ آنکھوں سے بہتے آنسو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چنتا وہ نظر بھٹکنے پر اس کے گداز لبوں کو دیکھا جن کی کپکپاہٹ واضح تھی،وہ اور ہوش کھونا نہیں چاہتا تھا مگر خود پر قابو نہ کرتا جھکا تھا ساتھ اپنے باریک لبوں میں اس کے گداز ہونٹ قید کرگیا،مطیبہ کے ساکت وجود میں جنبش سی ہوئی تھی،مقابل کی گرم سانسوں سے جھلسنے پر وہ لرزی تھی ساتھ ہونٹ پر یکدم اٹھتی تکلیف سے تڑپ کر مچلی،پورے وجود میں غصے کی لہر دوڑی تھی اور وہ اسے دور کرنے کے چکر میں ہیثم کے کندھے پر ہاتھ ماری مگر معائے افسوس اس نے مطیبہ کی دونوں کلائیوں کو اپنے ایک ہاتھ میں مقید کرلیا،کبوتر کی طرح مطیبہ کا دل دھڑکنے لگا تھا،سانسیں تھمنے پر وہ تڑپتی اپنا چہرہ موڑی،

“مجھے چھوڑو ہیثم ورنہ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔”

منہ میں خون کا ذائقہ گھلا تھا جس پر وہ چہرہ موڑے ہی چیخی،ادھر وہ جو مکمل مدہوش ہونے کے درپے تھا مطیبہ کی چیخ پر اس کا ہاتھ چھوڑا مگر اگلے ہی لمحے گال پر تیز تھپڑ پڑتے ہی ہیثم ہوش کی دنیا میں لوٹا،وہ نم پلکیں جھپکتا سامنے دیکھا جہاں مطیبہ شدید اشتعال کے عالم میں اسے گھوررہی تھی،

“سوری۔۔مطیبہ میں۔۔”

ہیثم کو سمجھ نہ آیا کیا کہے،مطیبہ کے نچلے ہونٹ سے نکلتا خون دیکھ وہ بوکھلا کر آگے بڑھا مگر تبھی اسے خود سے پرے دھکیل کر مطیبہ دروازہ کھولتی بھاگی تھی وہاں سے،اس کے جاتے ہی ہیثم بالوں پر ہاتھ پھیرا ساتھ گال پر اس جلتے لمس کو چھوا،اسے تکلیف نہیں ہوئی تھی۔۔۔،اسے اذیت پہنچی تھی،کرب سے مسکراتا وہ پلٹ کر مطیبہ کی لائی کافی کو دیکھا جو اب تک ٹھنڈی ہوچکی تھی،اپنی سلگتی آنکھیں مسل کر ہیثم ڈریسنگ کے پاس گیا پھر پہلی دراز کھولتا وہ شیشی نکالا جس میں سے روز تھوڑے سفوف کسی محلول میں ڈال کر وہ پیتا تھا،یہی تو وہ فیصلہ تھا جو اس نے پچھلے دو ہفتوں میں مطیبہ کی خوشی کے لیے کیا تھا،ایک مرتبہ پھر اس شیشی کو کھول کر ہیثم زرا سا سفوف کافی میں ڈالا ساتھ شیشی پینٹ کی جیب میں رکھ کر مگ اٹھاتا گھونٹ در گھونٹ کافی پینے لگا،کافی ختم ہوتے ہی اسے اپنی ناک میں گیلے پن کا احساس ہوا پھر کچھ ہی دیر میں خون کی لکیر ناک پر سے نکلی،تڑپتے دل کی منافی پر اسے ڈپٹ کر ہیثم ضبط سے لال بھبھوکا ہوئے چہرے سمیت مسکراتا ناک سے نکلتا خون صاف کیا،

باہر بادلوں نے گرجنا شروع کیا تھا اور ادھر ہیثم کے اندر کی توڑ پھوڑ اس کے کانوں میں گونجی،سر میں اچانک بری طرح درد اٹھا تھا،نسیں پھٹنے کو ہونے لگی تھیں،پیشانی زور سے مسلتا وہ سر جھٹک کر اپنے قدم بیڈ کی جانب لے جانے لگا مگر دو قدم پر ہی لڑکھڑاتا نیچے گرا،نظریں دھندلانے لگیں تھیں اور دکھتے سر کو پکڑتا وہ سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں اپنی سرخ آنکھیں بند کرتا بےسدھ ہوا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے کمرے میں آتے ہی وہ تیزی سے دروازہ بند کرتی بیڈ پر جا بیٹھی،اس ستمگر کا لمس ایسا تھا کہ مطیبہ کا خوبصورت چہرہ اب تک تمتمارہا تھا،تاثرات اب تک غصہ لیے تھے،اصل خون اس کا ہیثم کے اظہار پر کھولا تھا،وہ کیسے یہ الفاظ اسے کہہ سکتا تھا حالانکہ خود ہی تو وہ اکثر اسے باور کرواتا کہ مطیبہ جہانگیر صرف نفرت کے قابل لڑکی ہے،

“وہ۔۔جھ۔۔جھوٹ کہہ رہا تھا۔۔صرف جھوٹ۔۔”

بری طرح دھڑکتا دل اب تک بےیقین تھا،بآواز بڑبڑاتی وہ ہونٹ پر بہت بڑھتی جلن کے باعث غصے میں اپنے ہونٹ رگڑتی رونے لگی،وہ نہیں ہٹنا چاہ رہی تھی اپنی نفرت کے خول سے پیچھے،جس طرح اپنے گرد وہ یہ خول چڑھائی تھی یقین تھا کہ کبھی یہ خول نہیں چٹخے گا مگر اب وہ بےبس ہونے لگی تھی،اور اپنی بےبسی اس ستمگر پر کسی طور عیاں نہیں کرنا چاہتی تھی تبھی مطیبہ نے لمحوں میں فیصلہ کیا تھا اس کمرے اس جگہ بلکہ سکندر ولا سے بہت دور جانے کا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح درد سے پھٹتے سر سمیت اس نے سوجی ہوئی آنکھیں وا کی تھیں،اپنے جسم میں درد کی ہلکی ٹیسیں اٹھنے پر ہیثم ہمت کر کے اٹھا تو خود کو زمین پر پایا،غنودگی سے باہر آتے ذہن میں رات کا منظر گھوما تو وہ ہوش میں آتا سیدھا ہوا،کل رات مدہوشی میں وہ یقیناً پھر ہرٹ کرگیا تھا مطیبہ کو،

اپنے درد کو نظرانداز کرتا ہیثم جلدی سے اٹھا تھا سر کا درد شدت پکڑنے لگا مگر سر جھٹک کر وہ دروازہ کھول کر کمرے سے نکلا،قدم تیزی سے سیڑھیاں عبور کرنے لگے مگر تبھی نظر لاؤنج کے وسط میں ہینڈ کیری تھامی مطیبہ پر پڑی جسے روکنے کے غرض فرخندہ منت کررہی تھی،ہیثم کی مانوں جان نکلنے کو ہوئی،وہ وقت سے پہلے کیوں جارہی تھی،ابھی کچھ وقت ہی تو تھا اس کے پاس جو وہ اس لڑکی کو دیکھ گزارنا چاہ رہا تھا،

“مطیبہ۔۔۔!”

اسے پکارتا ہیثم تیزی میں سیڑھیوں سے اترتا نیچے آیا،اسے آتا دیکھ فرخندہ خوش ہوئی یہ سوچ کر کہ یقیناً وہ روک لے گا مطیبہ کو تبھی اس نے کچن میں جانا بہتر سمجھا،

“پانی۔۔”

فرخندہ کو جاتا دیکھ ہیثم اسے بولا چونکہ سر کا درد کم ہو کے نہیں دے رہا تھا،کچھ ہی دیر میں فرخندہ پانی رکھ گئی،وہ جو پانی کا گلاس اٹھانے لگا تھا مطیبہ کو پھر ہینڈ کیری سمیت باہر کی جانب بڑھتے دیکھ گلاس چھوڑ کر بوکھلاتے ہوئے پکارا،

“مطیبہ رکو۔۔”

ہیثم کے پھر پکارنے پر مطیبہ کے تاثرات یکدم سپاٹ ہوئے،رات کا کوئی خوف چہرے پر نہ تھا اب،

“تم۔۔”

“جارہی ہوں۔۔اس گھر سے جہاں اب خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتی میں۔۔”

ہیثم اس کی بات کا مطلب سمجھ کر بےحد شرمندگی محسوس کیا،

“کل رات کے لیے میں معافی مانگتا ہوں مطیبہ مگر اس کے لیے پلیز گھر چھوڑ کر تو مت جاؤ۔۔”

کس قدر تڑپ تھی اس کے لہجے میں،ایک پل کو تو مطیبہ ڈگمگائی مگر اگلے ہی لمحے سنبھل کر گویا ہوئی،

“تم کیوں معافی مانگ رہے ہو۔۔۔تم نے تو آج تک کچھ غلط نہیں کیا نا ہیثم سکندر۔۔۔تم تو ایک مظلوم انسان ہو جس پر ظلم ہوتا آیا ہے۔۔۔اصل ظالم تو میں ہوں جس نے تمہاری خوشیاں کھالیں۔۔۔اور کل جو ہوا اس میں بھی تمہارا قصور نہیں۔۔۔غلطی تو میری ہی تھی نا کہ میں خود آئی تمہارے روم میں جیسے پہلے گئی تھی اس وحشی کے کمرے میں۔۔”

“مطیبہ پلیز مت دہراؤ وہ سب۔۔”

ہناد کے بارے میں اس کے منہ سے سنتے ہی ہیثم جلتے کوئلوں کے زد میں خود کو محسوس کیا تبھی تڑپ کر ٹوکا اسے،

“کیوں نہ دہراؤں۔۔تمہیں صرف سننے میں اتنی تکلیف ہورہی ہے ہیثم اور وہ سب مجھ پر گزرا تھا۔۔”

کرب میں گھری وہ کہتی ہوئی آخر میں تڑپ کر چلاتی ہیثم کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتی اسے دھکا دی،ناچاہتے ہوئے بھی وہ سب ایک برے خواب کی طرح اس کی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چلتا،لاکھ کوششوں کے باوجود ان بدترین یادوں کو نہ بھلاپاتی تھی وہ،

“میں کیا کروں مطیبہ تم بتاؤ مجھے۔۔۔جانتا ہوں بہت غلط کیا تمہارے ساتھ مگر سمجھ نہیں آتا کیسے اپنے گناہ کا مداوا کروں۔۔”

اسے روتا دیکھ مطیبہ کے سامنے آتا ہیثم تکلیف دہ لہجے میں بےبسی سے کہا،

“مداوا کرنا چاہتے ہو اپنے گناہ کا۔۔۔تو چھٹکارا دے دو مجھے۔۔۔نہیں رہ سکتی میں تمہارے ساتھ۔۔۔تم جیسے کم ظرف کے ساتھ رہنا محال ہے میرے لیے۔۔”

اپنے آنسو رگڑ کر وہ بےتاثر لہجے میں کہی،اس کے الفاظ طمانچے کے مانند محسوس ہوئے ہیثم کو،جامنی ہوتے لبوں کو سختی سے بھینچا تھا وہ ان لفظوں کے تیر کو برداشت کرنے کے لیے،

“چھٹکارا چاہیے نا تمہیں مجھ سے۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ ہیثم سکندر سے تمہیں ہمیشہ کے لیے چھٹکارا مل جائے گا مگر صرف ایک مرتبہ مجھے معاف کردو۔۔”

اس کے سپاٹ تاثرات کو کرب سے دیکھتا ہیثم دھیمی آواز میں کہا،لہجے میں درد کی بےپناہ آمیزش تھی،مقابل کی آنکھوں کے حد سے زیادہ سرخ ڈورے اگر مطیبہ جہانگیر نفرت کے پردے ہٹاکر دیکھتی تو یقیناً کانپ جاتی،

“ٹھیک ہے پھر۔۔۔معاف کیا تمہیں میں نے ہیثم سکندر۔۔”

گردن گھوما کر وہ مضبوط لہجے میں کہتی آخر میں گداز لبوں کو طنزیہ انداز میں پھیلائی،ہیثم کی دھندلائی نظروں کا مرکز گداز لب پر وہ زخم بنا جو بےساختگی میں اس نے مقابل کھڑی لڑکی کو دیا تھا،کاش کہ کل وہ خود پر قابو کرلیتا تو آج وہ یوں نہ جارہی ہوتی یہاں سے،

اس کی نظروں کا مرکز دیکھ مطیبہ تنفر سے ہیثم کو دیکھ ہینڈ کیری تھامتی آگے بڑھی تھی مگر اگلے ہی لمحے اس کی کلائی ہیثم کے گرفت میں آئی،وہ نفرت سے جھٹکنے کی لگی تھی اس کا ہاتھ مگر ہیثم کے لفظوں نے اسے یہ کرنے سے روک دیا،

“سمجھو کہ مِل گیا چھٹکارا تمہیں ہیثم سکندر سے۔۔”

اذیت سے مسکراکر کہتا وہ آہستگی سے کلائی چھوڑا تھا اس کی،مقابل کے گہرے لفظوں کی سنگینی پر بنا غور کیے مطیبہ باہر کی جانب قدم بڑھائی تھی،ہیثم نے پلٹ کر اسے دیکھنا گوارا نہ کیا،جانتا تھا کہ اگر مڑ جاتا تو یقیناً اسے پھر روک لیتا اور وہ نہیں چاہتا کہ اب مطیبہ جہانگیر رکے،اسے پورا حق تھا اپنی زندگی جینے کا،ایک ایسی زندگی جس میں ہیثم سکندر کا نام و نشان نہ ہوتا،بہت برا ہارا تھا وہ اس لڑکی سے،جان چکا تھا ناممکن ہے اس لڑکی کی نفرت سہنا اب،کیا تھی وہ لڑکی،جس کی محبت بھی کمال کی تھی اور اب نفرت بھی لاجواب،

بےتحاشہ اذیت میں گِھرا وہ پینٹ کی جیب میں سے شیشی نکالا تھا،اس کے اندر وہ سفوف اب صرف آدھا ہی رہ گیا تھا،ٹیبل پر سے پانی کا گلاس اٹھا کر ہیثم شیشی کھولتا وہ سفوف اس بار زرا سا ڈالنے کے بجائے پورا ڈالا تھا ساتھ پانی کا گلاس لبوں سے لگاتا لمحوں میں خالی کیا،خالی گلاس ٹیبل پر رکھنے کے لیے ہیثم جھکا ہی تھا کہ ناک سے خون کی بوند نکلتی ٹیبل پر گری،رومال سے وہ صاف کیا تھا خون مگر روز کے مخالف خون صاف ہونے کے بجائے نکلتا چلا گیا،حلق میں ہوتی چبھن بڑھی تھی ساتھ ایک شدت بھری درد کی لہر پورے جسم میں دوڑتی اس کا دل بند کرنے لگی،سانس لینے میں یکدم دشواری پیش آئی تھی جس کے باعث وہ منہ کھولا مگر منہ سے بھی اچانک خون نکلنے لگا تھا اور تکلیف سے چور ہوتے جسم کو ڈھیلا چھوڑتا جہاں ہیثم سکندر گِرا تھا زمین پر وہی مطیبہ جہانگیر سکندر ولا سے اپنے قدم باہر نکالے وہاں سے نکلتی چلی گئی،

“صاحب۔۔”

کچھ گرنے کی آواز پر باہر نکلتی فرخندہ گھبراکر پکاری ساتھ بھاگتی ہوئی ہیثم کے پاس آئی،جس کے اوندھے پڑے وجود میں ہلکی سی بھی جنبش نہ تھی،وہ نگاہ دوڑائی،مطیبہ بھی کہیں نہ تھی،

“صاحب۔۔ہیثم صاحب۔۔”

کافی پکار پر بھی وہ ہلا تک نہ،

“یہ کیا ہوگیا۔۔”

بری طرح بوکھلاتی وہ بڑبڑائی ساتھ گھبراکر کر سب سے پہلے پورچ میں آئی،

“بی بی کہاں ہیں۔۔؟”

وہ ڈرائیور سے پوچھی تھی،

“ابھی ابھی گئیں ہیں۔۔”

ڈرائیور کے جواب پر فرخندہ سخت پریشان ہوئی پھر کچھ سمجھ نہ آنے پر واپس اندر آتی وہ لینڈ لائن نمبر سے مطیبہ کو کال کرنے لگی،دو تین مرتبہ کرنے کے باوجود مطیبہ کال ریسیو نہ کی،ہیثم کے ارد گرد خون دیکھ فرخندہ کو ہول اٹھنے لگے تبھی کچھ سوچ کر وہ ہڑبڑاتی عنادیہ کا نمبر ڈائل کی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہانگیر ہاؤس کو خالی نظروں سے دیکھتی مطیبہ بجھے دل کے ساتھ اندر داخل ہوئی،واپس آتے ہوئے وہ ایک نظر بھی مڑ کر اس ستمگر کو دیکھنا نہیں چاہتی تھی،جانتی تھی اگر پلٹتی تو یقیناً کمزور پڑجاتی،پورا گھر گھپ اندھیرے میں نہایا ہوا تھا،اس گھر سے نکلتے وہ سوچی تھی کہ ایک دو مہینے میں واپس آجائے گی مگر مہناز بیگم کی منتوں نے اس کے واپسی کے قدم زنجیر کر ڈالے تھے،

ہیثم کے اذیت بھرے لہجے میں کہی باتیں اب تک اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں،لائیٹس آن کرتی وہ لاؤنج میں ہینڈ کیری چھوڑتی صوفے پر بیٹھی،ناجانے کیوں دل گھبرانے لگا تھا،کچھ عجیب سا محسوس ہورہا تھا،بےچینی تھی کہ گزرتے وقت کے ساتھ بڑھنے لگی تھی اور یونہی بےسکونی میں دو گھنٹے سرکے تھے،اسے چھوڑ کر وہ بلکل صحیح فیصلہ کی تھی،بار بار دماغ کی اس سوچ پر خود کو دلاسہ دیتی وہ آخر کار اپنی سوچیں پرے کرتی اٹھنے لگی پر تبھی فون پر بیل بجنے لگی،مطیبہ موبائل پرس سے نکال کر دیکھی،سکندر ولا کا لینڈ لائن نمبر تھا،یقیناً وہی کال کررہا ہوگا اسے،اس کے سوچتے سوچتے بیل بجنا بند ہوئی،مطیبہ نے دیکھا اس سے پہلے بھی تین مسڈ کالز آئی ہوئی تھیں،وہ لب بھینچی مگر تبھی پھر رنگ کرنے لگا فون،اس بار دوسری بیل پر کال ریسیو کی تھی وہ،

“بی بی۔۔”

ابھی مطیبہ غصے میں کچھ کھری کھری سنانے کا سوچی ہی تھی ہیثم کو مگر دوسری جانب سے فرخندہ کی بھرائی آواز اسے حیران کرگئی،

“فرخندہ۔۔”

“بی بی ہیثم صاحب۔۔”

اس کی بھیگی آواز نے مطیبہ کو ٹھٹھکنے پر مجبور کیا،کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہوا تھا اسے،

“ہیثم کیا۔۔فرخندہ بولو کیا ہوا۔۔”

اپنے اردگرد کی فضا تنگ لگی اسے،کسی انہونی کا سوچتے ہی کانپتی وہ بلند آواز میں بولی،

“بی بی جلدی سے یہاں آجائیں۔۔۔سب ختم ہوگیا۔۔”

روتے ہوئی فرخندہ بےبسی سے بولی اور مطیبہ لٹھے کے مانند سفید پڑتے چہرے سمیت اٹھ کر سیدھا باہر کی جانب بھاگی،دماغ میں بار بار ہیثم کا تکلیفوں سے رقم چہرہ آرہا تھا،جہانگیر ہاؤس سے نکلتی وہ جیسے بھی کر کے ایک ٹیکسی روکی،مفلوج ہوتے ذہن میں جو حد سے زیادہ خطرناک خیال آیا مطیبہ تیزی میں اس کی نفی کی،پتا نہیں کیوں جھیل آنکھیں ہر تھوڑی دیر میں بھیگ رہی تھیں،دل کی گھبراہٹ اس قدر بڑھی کہ وہ بےچین ہوتی بلاجواز رونے لگی،لرزتے ہاتھوں میں ہمت نہیں تھی دعا کے لیے اٹھنے کو،یہ لمحے وہ کس بےسکونی میں کاٹی تھی صرف وہی جانتی تھی،

سکندر ولا کے باہر ٹیکسی رکنے پر وہ نکلی،

“باجی پیسے۔۔”

وہ جو اندر بھاگنے کو تھی ٹیکسی ڈرائیور کی آواز پر بوکھلاتی مڑی،اس کے سلب ہوتے حواس میں کوئی الفاظ سمجھنے کے قابل نہیں رہا تھا،

“یہ لو۔۔”

عقب سے بھاری آواز کے ساتھ ایک مضبوط ہاتھ میں چند نوٹ ڈرائیور کی جانب بڑھے،پتھرائی آنکھوں سے اس ہاتھ کو دیکھتی مطیبہ پلٹ کر عقب میں دیکھی،سامنے سلسبیل کھڑا وجیہہ چہرے پر سپاٹ تاثرات لیے کھڑا تھا،

“بھائی چینج۔۔”

“رکھ لو پورے۔۔”

ڈرائیور کے کہنے پر آگے سے کہتا وہ پلٹا،

“سابی بھائی۔۔”

مطیبہ کے بےیقینی سے پکارنے پر وہ گردن موڑ کر اسے دیکھا،

“ک۔کک۔۔کیا ہوا ہے۔۔؟”

دھڑکتے دل کے ساتھ وہ زرد ہوئے چہرے سمیت ہکلاتے ہوئے پوچھی،نظروں میں امید تھی کہ مقابل کچھ ایسا بولے جس سے اس کی بےچینی ختم ہو،

“زیادہ کچھ نہیں بس ایک ڈیتھ۔۔”

کندھے اچکاکر مطیبہ کو وہ یوں بتایا جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو،اور مطیبہ کے دل کی بےچینی واقعی ختم ہوئی بلکہ یوں کہنا صحیح تھا کہ مطیبہ جہانگیر خود بھی ختم ہوچکی تھی،

“مررہا ہوں میں۔۔۔پلیز بچالو مجھے۔۔”

کہیں بہت دور سے یہ الفاظ کانوں میں گونجے تھے،سلسبیل اس کے ساکت وجود کو چھوڑ اندر کی جانب بڑھا جہاں لوگوں کا ہجوم لگا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔