Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 2)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 2)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

“نو مِس فاریہ۔۔۔عندی کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں چاہوں گی۔۔۔ابھی اسکی عمر ہی کیا ہے۔۔۔صرف پندرہ سال۔۔۔اُسے آپ کسی بھی ٹِرپ پر لے کر نہیں جائیں گی۔۔۔گھر سے دور دوسرے شہر جاکر پڑھنا اُس کا شوق تھا۔۔۔سکندر کی ناراضگی کے باوجود میں نے اسکے شوق کو مدِنظر رکھ کر اسے جانے دیا۔۔۔مگر اب وہاں پر وہ ہر بات پر اپنی مرضی نہیں کرسکتی گی۔۔۔۔میں نے آپ پر بھروسہ کر کے آپ کے ذمے کیا تھا اسے۔۔۔امید ہے کوئی شکایت کا موقع نہیں دیں گی آپ مجھے۔۔۔۔”

کال پر بات اپنی چھوٹی بیٹی کی نینی سے بات کرتی مہناز بیگم تھوڑی برہم ہوئی تھیں،وجہ ہمیشہ کی طرح انکی لاابالی بیٹی کی فرمائش۔۔۔،اسکول کی طرف سے اب اسے ٹرپ پر جانا تھا اور نینی کو اس نے ساتھ جانے سے منع کیا تھا جس کے بعد اب شہناز بیگم نے اسے صاف انکار کردیا تھا ٹرپ پر جانے سے،

“ماما۔۔۔ماما۔۔۔”

ٹک ٹک کرتی ہیلز کی آواز کے ساتھ وہ دندناتی ہوئی مہناز بیگم کے روم میں داخل ہوئی،گیٹ دھاڑ سے کھلنے پر وہ جو فون پر نینی سے باتوں میں محو تھیں چونکی،آنے والی کوئی اور نہیں بلکہ انکی 18 سالہ بڑی مگر سر پھری بیٹی فِلذہ سکندر تھی،

“میں آپ سے بعد میں بات کروں گی۔۔۔”

فِلذہ کے غصیلے تاثرات دیکھ کر حیران ہوتیں وہ کال پر کہہ کر فون رکھی تھیں،

“کیا ہوا سوئیٹی۔۔۔”

بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاس آتیں وہ تشویش بھرے لہجے میں پوچھنے لگی،

“وہاں اتنا سب ہوگیا اور آپ پوچھ رہی ہیں کہ کیا ہوا۔۔۔”

ہاتھ کے اشارے سے باہر کی طرف اشارہ کر کے فلذہ نے بلند آواز میں کہا،

“کہاں کیا ہوگیا۔۔۔؟”

مہناز بیگم اسکے اچانک غصے کی وجہ سمجھ نہیں پارہی تھیں،

“گریٹ۔۔۔مطلب ہمارے گھر کی انیکسی میں کوئی آرہا ہے رہنے اور مِس مہناز کو یہ بات معلوم ہی نہیں۔۔۔رائٹ۔۔۔”

ان کی ناسمجھی پر کاری طنز کرتی وہ آئبرو اچکائی تھی،

ادھر مہناز بیگم کو اب معاملہ سمجھ میں آیا تھا،آہستگی سے سر اثبات میں ہلاتی وہ بولیں

“ہاں وہ تمہارے ڈیڈ کے کوئی دوست ہیں۔۔۔انکا بیٹا پڑھائی کے سلسلے میں آیا ہے دوسرے شہر سے۔۔۔۔”

ان کی بات پر فِلذہ کی آنکھیں سکڑیں،گھور کر انہیں دیکھنے کے بعد وہ بولی،

“ڈیڈ کے۔۔صرف دوست۔۔۔۔یا پھر “غریب دوست”۔۔۔”

اسکے یوں کہنے پر مہناز بیگم نے تائیدی انداز میں کندھے اچکائے،

“اچھا خاصا وہ لڑکا کسی ہوٹل میں رہنے والا تھا پر تمہارے ڈیڈ پر تو رحم دلی کا بھوت سوار رہتا ہے۔۔۔بلالیا یہاں رہنے کے لیے۔۔۔پر خیر چھوڑو۔۔۔انیکسی میں ہی رہے گا نا۔۔۔”

مہناز بیگم کی باتوں سے واضح پتا لگایا جاسکتا تھا کہ انہیں خود بھی اس لڑکے کا آنا شاید پسند نہیں آرہا تھا،پر شوہر کے آگے مجبور ہونے کی وجہ سے خاموش تھیں،

“انیکسی میں رہے گا یا جہاں بھی لیکن رہے گا تو ہمارے گھر کے ہی کسی حصے میں۔۔۔۔آپ جانتی ہیں یہ غریب کس قدر لالچی ہوتے ہیں۔۔۔کہیں ہمارے گھر کو دیکھ اسکی نیت خراب ہوگئی تو۔۔۔اور پھر اس گھٹیا رفاق کی طرح ایک بار پھر چوری ہوگی گھر میں۔۔۔پھر کیا کریں گے ہم۔۔۔۔ماما میں اسی لیے کہتی ہوں کہ نفرت ہے مجھے غریبوں سے۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی ڈیڈ ہر جگہ اپنی من مانی کیوں کرتے ہیں۔۔۔۔”

اپنے ایک پرانے نوکر(جسے چوری کرتے پکڑنے پر سکندر ولا سے نکال دیا گیا تھا) کی مثال دیتے ہوئے کئی خدشات میں گِھر کر وہ زیرِ لب بڑبڑاتی بعد میں مہناز بیگم سے چڑ کر بولی،

“گاڈ۔۔۔تم کتنا آگے کا سوچتی ہو سوئیٹی۔۔۔اتنا تو مجھے بھی یقین ہے کہ وہ تمہارے ڈیڈ کے کسی عزیز دوست کا ہی بیٹا ہے۔۔۔وہ ایسا نہیں کروائے گا کچھ بھی۔۔۔”

بےپرواہ انداز میں کہہ کر انہوں نے پھر نمبر ڈائل کیا نینی کا،عندلیب کی فکر انہیں ستارہی تھی کہ کہیں مس فاریہ سے بضد ہوکر وہ چلی ہی نہ جائے ٹرپ پر،

“ٹھیک ہے رہیں آپ لوگ یونہی لاپرواہ بنے۔۔۔آنے دیں اس لڑکے کو نہ میں نے دو دن میں اسے یہاں سے چلتا کیا تو میرا نام بھی فلذہ سکندر نہیں۔۔۔”

فون رنگ ہونے پر اپنی پینٹ کی جیب سے فون نکالتی وہ انہیں تڑخ کر کہتی نکلی تھی روم سے،

“ہاں بولو مُطیبہ۔۔ہاں آج ہے۔۔۔چلو ٹھیک ہے آجاؤ۔۔۔”

کاریڈور سے گزر کر فون پر بات کرتی وہ اپنی کزن کو بولی ساتھ ہی فون جیب میں رکھی،ہر اتوار سکندر ولا میں بیرونی حصے کے جانب بنے پلے گراؤنڈ میں وہ بہن بھائی اور فلذہ کی کزنز باسکٹ بال کھیلتے تھے،آج بھی اسکی کزن جو کہ فلذہ کی بہترین دوست بھی تھی اسے اپنے آنے کا بتارہی تھی،

سکندر صاحب شہر کے نامور اور عزت دار بزنس تھے،بزنس سے زیادہ انکی شہرت کی وجہ سکندر صاحب کا بہترین اخلاق تھا،اپنی خوش طبع اور سخاوت کے باعث اکثر و بیشتر وہ اپنے شہر اورفونیچ کے چکر لگاتے ساتھ ہی وہاں خود سے جتنا ہوسکے امداد کرتے،بزنس میں دن بدن ترقی کی کہیں نہ کہیں وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں غریبوں سے لگاؤ بہت تھا،سکندر صاحب کی چار اولادیں تھیں دو بیٹے اور دو بیٹیاں،بیٹے ہیثم اور ہناد کی پیدائش میں چند منٹوں کا وقت تھا جس کے باعث وہ دونوں ایک دوسرے سے حتی الامکان مماثلت رکھتے،پر یہ ممالثت صرف انکی شکلوں میں تھی کیونکہ فطرتاً دونوں ایک دوسرے سے بلکل مختلف تھے،21 سالہ ہیثم جہاں خوش اخلاق اور عادت میں اپنے باپ پر گیا تھا وہی ہناد فطرتاً کافی مغرور تھا،ان دونوں سے تین سال چھوٹی فلذہ 18 سال کی اپنی ماں مہناز بیگم کی کاپی تھی خوبصورت وہ بلا کی تھی پر اسکی خوبصورتی کو صرف ایک چیز ماند کردیتی اور وہ تھی اس کے اندر شروع سے پنپتی اپنی چھوٹی بہن عندلیب کے لیے حسد اور مغروریت،دوسروں کو جوتوں کی نوک پر رکھنے والی فلذہ اس بات پر یقین رکھتی تھی کہ پیسوں سے ہر چیز خریدی جاسکتی ہے،غریبوں سے شدید نفرت کرنے والی فلذہ انجان تھی اپنے آنے والے کل سے کہ عنقریب ہی اسکے دل میں ایک غریب ہی گھر کرنے والا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ہیثم اِدھر۔۔۔”

ہناد بھاگتا ہوا تیز آواز میں بولا تھا جس پر ہیثم نے بال کو اسکی جانب اچھالا،وہ لوگ دوپہر میں پلے گراؤنڈ میں باسکٹ بال کھیل رہے تھے فلذہ اور اسکے تایا ابو کی دونوں بیٹیاں ناذلی اور مطیبہ ایک ٹیم میں تھیں جبکہ دوسری جانب صرف ہیثم اور ہناد تھے لیکن یہ دونوں ہی ان تینوں پر بھاری پڑ رہے تھے،ہاتھ میں بال پکڑتے ہی ہناد کے سامنے ناذلی آئی،

“ہناد بھائی۔۔۔پلیز صرف ایک مرتبہ مجھے کرنے دیں پلیز۔۔۔”

اسکا راستہ روکے وہ دائیں بائیں ہوتے لاچارگی سے بال کو دیکھ کر بولی،

“تمہیں دیا تو ہناد ہار جائے گا۔۔۔اور ہناد کو ہارنا بلکل پسند نہیں تو نکلو پہلی فرصت میں۔۔۔”

اپنی بات کہتے ساتھ ہناد ہنستا ہوا اسکے برابر سے تیزی میں نکلا ساتھ ہی اچھل کر بال باسکٹ میں ڈال دی،

“آپ بہت برے ہو بھائی۔۔۔”

غصے میں پیر پٹختی وہ منہ بناکر بولی،ناذلی کو یوں اداس دیکھ ہیثم کو زرا اچھا نہ لگا تبھی اگلی مرتبہ ہاتھ میں بال آتے ہی وہ بھاگا ساتھ ہی بال ناذلی کے جانب اچھالی،ہناد چونکا تھا اسکے چیٹنگ کرنے پر لیکن پھر پھرتی سے بھاگتا وہ ناذلی کے پاس آیا،اسے سامنے دیکھ ناذلی جو بال زمین پر مارتے لے جانے لگی تھی بوکھلائی،

“بھائی نہیں کریں یا۔۔۔”

پریشان ہوکر وہ اور بھی بولنے لگی تبھی ہناد اسے چکمہ دے کر بال لیتا بھاگا,ناذلی روہانسی ہوئی تبھی ہناد جو بال دوڑاتا لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ سجائے اسے دیکھنے لگا تھا اچانک بوکھلایا جب ہیثم اس سے بال لیتا باسکٹ کی جانب بھاگا،

“ناذلی یہ تمہارے لیے۔۔۔”

بال اچھالنے سے پہلے وہ مسکراکر ناذلی کو دیکھتا بولا ساتھ ہی باسکٹ میں بال ڈال دی،ہناد پرسکون ہوا کیونکہ جو بھی تھا جیتے تو پھر بھی وہی لوگ تھے ادھر ناذلی کھلکھلائی ہیثم کی بات پر اور ہیثم کو یوں لگا جیسے نہایت خوبصورت اندام میں کوئی جلترنگ اسکے کانوں میں سنایا تھا،کھلکھلاتے ہوئے 17 سالہ ناذلی اسے اتنی حسین لگ رہی تھی کہ ایک پل کو تو اسے اپنے دل کی دنیا رکتی ہوئی لگی،محو سا اسے دیکھتے وہ بھول چکا تھا کہ کوئی اور بھی ہے جو اسکی ایک نظرِ کرم کے لیے اپنے دل میں تڑپ رکھے ہے،جلتی آنکھوں سے ہیثم کو مبہوت ہوکر ناذلی کو دیکھتے دیکھ مطیبہ نے بےساختہ آنکھیں میچی،اندر جیسے وہ انگاروں کے ضد میں گھرنے لگی،کیوں اس انسان کو مطیبہ کی سچی محبت نہیں دکھتی تھی اپنے لیے،کیوں وہ انجان تھا اسکی اپنے لیے بلاجواز جنونی محبت سے،اس لمحے مطیبہ کو اگر کسی کے وجود سے شدت بھری نفرت ہوئی تھی تو وہ ناذلی تھی،وہی تو تھی جس کے باعث وہ مطیبہ کو ایک نظر بھر کر بھی دیکھنے سے انکاری تھا حالانکہ ایسا نہیں تھا کہ وہ خوبصورت نہ ہو،جتنی کشش ناذلی میں نہ تھی اتنی مطیبہ میں تھی،وہ واقعی اتنی حسین تھی کہ کسی کو بھی اپنے حسن سے اثیر کرلیتی پر پھر بھی ہیثم کے دل میں اپنے قدم ناذلی نے ہی جمائے،یہ بات سمجھنے سے مطیبہ ہمیشہ قاصر رہتی لیکن وہ یہ بات بلکل ہی بالائے طاق رکھ چکی تھی کہ ہیثم کو کبھی ناذلی کی صورت نے مرعوب نہیں کیا وہ تو شروع سے اسکی نٹ کھٹ حرکتوں اور معصومیت کا دیوانہ تھا،ایک مرتبہ پھر کئی خیالوں کے زیرِ اثر کڑھتے ہوئے مطیبہ اچانک کھیل چھوڑ کر اندر چلی گئی تھی،

“اسے کیا ہوا۔۔۔”

ہناد جو اب ہاتھ میں بال لیے اچھال رہا تھا مطیبہ کو اندر جاتے دیکھ بآواز بولا،

“رکو میں دیکھتی ہوں۔۔۔”

ناذلی کے ساتھ ساتھ فلذہ بھی حیران ہوئی تبھی یہ کہہ کر اندر کی جانب بڑھنے لگی،

“ارے سابی بھائی۔۔۔”

ہیثم خوشی سے بولا تھا اور فلذہ کے قدم رکے ذہن میں بےساختہ مہناز بیگم کی بات آئی”وہ آج ہی آرہا ہے۔۔۔سکندر نے بتایا تھا کہ سابی نام ہے اسکا”،

یہ بات یاد آتے ہی فلذہ کے تاثرات سخت ہوئے غصے میں ہیثم کی نظروں کا تعاقب کیے وہ سامنے دیکھی تھی پر تبھی چہرے پر ٹہرے سخت تاثرات محویت کا تاثر اختیار کرگئے،اسکی آنکھیں ساکت ہوئی تھیں،

چھ فٹ سے نکلتا قد،کسرتی جسم کا مالک وہ انسان نیوی بلو شرٹ اور بلیک پینٹ میں سامنے کھڑا فلذہ کے دل کی دنیا میں طلاطم برپا کرگیا،آبنوس رنگ ساحر آنکھیں،تیکھے نقوش،کھڑی مغرور ناک اور ہلکی مونچھوں تلے عنابی لبوں کو مسکراتے دیکھ اسکا دل زور سے دھڑک کر رہ گیا کہ بےاختیار فلذہ ایک قدم پیچھے ہٹی،ایک طلسم تھا مقابل کی شخصیت میں جس میں وہ خود کو بری طرح جکڑتے محسوس کررہی تھی،کیا کچھ نہیں سوچا تھا اس نے آنے والے کو سنانے کے لیے پر مقابل کی پرسنیلٹی نے اسکے لبوں کو ایک دوسرے میں پیوست کر کے رکھ دیا،گہرے بھورے گھنے بال ہوا تیز ہونے کے باعث کشادہ پیشانی پر بکھرنے لگے جنہیں اپنے ایک ہاتھ سے پیچھے کرتا وہ نرم مسکراہٹ چہرے پر سجائے آگے بڑھتا ہیثم کے پاس آیا،

“تو تم نے پہچان لیا مجھے۔۔۔”

بھاری دل دھڑکا دینے والی مسکاتی آواز کے فلذہ پلکیں جھپکانے پر مجبور ہوئی،

“مانا کہ پچھلے ہفتے ہی ڈیڈ نے ہمارا فون پر رابطہ کروایا ہے پر میری یادداشت اتنی کمزور بھی نہیں۔۔۔”

ہنس کر کہتا ہیثم گرم جوشی سے گلے لگا تھا سابی کے،پچھلے ہفتے ہی سکندر صاحب نے سب کو اپنے ایک دوست کے بیٹے سابی کی آمد کا بتایا تھا جس پر گھر میں کسی کو کوئی خاص خوشی نہیں ہوئی تھی سوائے ہیثم کے،وہ سکندر صاحب سے اس ہی دن نمبر لیا تھا سابی کا اور پھر ایک ہفتے میں ہی دونوں کی اچھی خاصی دوستی ہوچکی تھی،

“تو تم ہو سابی۔۔۔!”

بےتاثر لہجے میں کہنے والا یہ ہناد تھا جسکی آواز پر سابی اسکی طرف متوجہ ہوتا مسکراکر اثبات میں سرہلایا،ہیثم جو اپنے بھائی کا سرد لہجہ سمجھ چکا تھا جلدی سے ماحول ہلکا کرنے کے لیے خوش اسلوبی سے بولا،

“سابی بھائی یہ ہناد ہے میرا بھائی۔۔۔فِلذہ۔۔میری بہن اور یہ۔۔۔”

بولتے ہوئے ہیثم رک ہی گیا جب اسکی نظر ناذلی پر پڑی جو اپنی آنکھیں پھیلائے بغور سابی کو دیکھ رہی تھی،وہ تپ کر کھنکھارا تھا جس پر ہوش میں آتی ناذلی اسے دیکھی پر اگلے ہی لمحے مسکراہٹ دبائی ہیثم کا موڈ خراب ہوتے دیکھ،

“بھائی یہ میری کزن ہے۔۔۔ناذلی۔۔۔”

خفگی سے ناذلی کو دیکھے وہ بولا،اسے ناذلی کی یہ عادت بہت بری لگتی کہ جہاں وہ کسی خوبصورت لڑکے کو دیکھتی تو آس پاس کی دنیا بھول ہی جاتی،اکثر و بیشتر وہ اسکی اس عادت پر ناراضگی کا اظہار بھی کرتا رہتا پر ناذلی کا ایک ہی جواب ہوتا کہ آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گی پر یہ جواب صرف تب تک محدود رہتا جب تک پھر کوئی لڑکا نہ دکھ جاتا اسے،

“تم سے مل کر خوشی ہوئی ہناد۔۔۔”

نرمی سے مسکرائے وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھایا،ہناد نے سپاٹ تاثرات سمیت اسکے بھاری ہاتھوں کو دیکھ خاموشی سے اس سے ہاتھ ملایا،

“اب سے لگ بھگ ایک سال تک یہ ہمارے گھر میں رہنے والے ہیں۔۔۔ہیں نا سابی بھائی۔۔۔”

جلد ہی اپنا موڈ ٹھیک کیے ہیثم پرجوشی سے کہتا سابی کو دیکھا جس پر وہ مسکرایا ابھی سابی کچھ بول ہی رہا تھا کہ ہناد بولا،

“ہمارے سکندر ولا میں نہیں ہیثم۔۔۔یہاں کی انیکسی میں۔۔۔”

یہ جتاتے ہوئے وہ طنزیہ مسکراہٹ اچھالا سابی پر،اسکے لہجے میں غرور بھرا تھا جسے محسوس کرتے سابی کے عنابی لبوں پر سے مسکراہٹ چند پل کے لیے تھمی تھی لیکن پھر مخصوص انداز میں مسکرائے وہ کہا،

“صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔انیکسی میں رہوں گا۔۔۔پر ایک سال کے لیے نہیں بلکہ چند مہینوں کے لیے۔۔۔جیسے ہی یہاں مجھے مناسب قیمت میں فلیٹ مل جائے گا میں چلا جاؤں گا۔۔۔”

اسے جواب دے کر سابی ہیثم سے مخاطب ہوا،

“کیا تم مجھے انیکسی دکھادو گے۔۔۔مجھے کسی ملازم نے بتایا تھا کہ تم یہاں ملوگے مجھے تبھی ڈسٹرب کردیا تم لوگوں کو آکر۔۔۔۔”

وہ جیسے جیسے اپنے الفاظ ادا کررہا تھا فلذہ کی دھڑکنیں اتنی ہی بےترتیب ہونے لگی،ایسا پہلے تو کبھی نہیں ہوا تھا اسکے ساتھ،پھر کیوں اس شاندار انسان کے آگے وہ اپنے سینے میں عجیب لے پر دھڑکتے دل کو بےبس محسوس کررہی تھی،

“ڈسٹرب نہیں کیا آپ نے بھائی۔۔۔آئیں میں آپ کو انیکسی دکھاؤں۔۔۔”

ہناد کی بات پر سر جھٹکتا ہیثم خوش اخلاقی سے کہتے ہوئے سابی کو لیے وہاں سے گیا،ہناد کی سنجیدہ آنکھوں میں ناگواری سی گھلی تھی ہیثم کو اس قدر اس غریب لڑکے سے گھل مل کر بات کرتے دیکھ،بےشک 22 سالہ سابی کی پرسنیلٹی مقابل کو متاثر کر دیتی لیکن یہاں ہناد نے اسکی پرسنیلٹی کے بجائے سٹیٹس دیکھا تھا،جبکہ فلذہ کا دل یکدم بجھا،وہ ایک مرتبہ بھی اسکے جانب نہیں دیکھا تھا کیا وہ ایسا ہی بےنیاز تھا یا اسے لگاؤ ہی نہ تھا لڑکیوں میں کیونکہ اتنا تو وہ بھی نوٹ کی تھی کہ اسکے ساتھ ساتھ وہ ناذلی کو بھی ایک نظر نہ دیکھا،مقابل کی یہ عادت اسکا مقام اور بلند کر گئی فلذہ کے دل میں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔