Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 1)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 1)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

“سوزِ فراق یار میں مرنا نہیں کمال،

مر مر کے ہجر یار میں جینا کمال ہے۔”

“تھینک یُو سو مچ آپی۔۔۔اتنی کئیر کرنے کے لیے ہماری۔۔۔”

بارہ سالہ نائمہ کے کہنے پر عندلیب چونکی،

“ارے لڑکی۔۔۔منع کیا تھا نا کہ ہم فرینڈز ہیں اور فرینڈشپ میں نو سوری نو تھینک یُو۔۔۔اچھا اب یہ لو۔۔۔اریشہ جب اٹھ جائے تو اسے دے دینا۔۔۔”

اسے پیسٹری کے پیکٹس پکڑائے عندلیب بولی ساتھ ہی اپنی لائی گئی شاپرز میں سے اور بھی چیزیں نکال کر سبھی بچوں میں بانٹنے لگی،

“آپی مجھے یہ والی چاکلیٹس چائیے۔۔۔”

ان میں سے ایک بچہ عندلیب کے لائے دوسرے شاپر کو کھول کر بولا،

“معاذ پاگل ہوگئے ہو۔۔۔یہ چاکلیٹس ہمارے لیے نہیں ہیں۔۔۔”

اس بچے کو ڈپٹتے نائمہ نے بڑپن کا مظاہرہ کر کے کہا،

“پھر کس کی ہیں۔۔۔”

وہ معصومیت سے پوچھا تھا،جس پر عندلیب کے پنکھڑی کے مانند گلابی لب مسکرائے،

“یہ چاکلیٹس گرینی دُرّیہ کے گھر لے کر جائیں گی آپی۔۔۔بھول گئے کیا۔۔۔”

ننھے ہاتھ سے معاذ کے سر پر ہلکی سی چپت لگائے نائمہ نے بتایا،

“اوہ۔۔میں تو بھول گیا۔۔۔سوری آپی۔۔۔”

یہ کہتے معاذ تھوڑا اپ سیٹ ہوا اور عندلیب کو اسکا اداس ہونا زرا اچھا نہ لگا،

“کوئی بات نہیں گرینی دُرّیہ کی چاکلیٹس تو بہت ساری ہیں۔۔۔ایسا کرتے ہیں اس میں سے کچھ چاکلیٹس ہم معاذ کو دیتے ہیں۔۔۔ٹھیک ہے معاذ۔۔۔؟”

خوش دلی سے پوری بات کہتے وہ آخر میں معاذ سے تائیدی لینا چاہی تھی جس کا چہرہ اب کِھل چکا تھا،

عندلیب کی بات پر وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلایا پھر شاپر میں سے چند چاکلیٹس نکال کر عندلیب معاذ کی طرف بڑھائی،

“تھینک یُو آپی۔۔۔یُو آر دی بیسٹ۔۔۔”

مسکراکر خوشی سے جھومتا 6 سالہ معاذ چوکلیٹس ہلاتے ہوئے بولا اسے مسکراتا دیکھ عندلیب مطمئن سی ہوکر اٹھی پھر برابر میں رکھے بوکیٹ کو اٹھاکر ساتھ ہی شاپر ہاتھوں میں تھامی،

“چلو بچوں اب میں گرینی کے گھر جارہی ہوں۔۔۔تو جلدی سے بتاؤ وہ ابھی کہاں ہے۔۔۔”

چاکلیٹ کھاتے بچوں کو دیکھتی وہ بآواز پوچھی،

“کون آپی؟”

ایک بار پھر معاذ جو کھانے میں مگن تھا سوالیہ نظروں سے عندلیب کو دیکھا،

“اوہو معاذ۔۔۔تم کتنے بھلکڑ ہو۔۔۔آپی اس کا پوچھ رہی ہیں۔۔۔وہ کھڑوس۔۔۔!”

اس مرتبہ یتیم خانے کی سب سے پٹاخہ 9 سالہ انوشہ تھی،

“اوووووہ۔۔۔وہ کھڑوووس۔۔۔!!”

ہونٹوں کو گول کیے معاذ عندلیب کو دیکھتے بولا،وہ جھینپی تھی،

“اس وقت تو نہیں تھے گارڈن میں اب دیکھ کر بتاتی ہوں۔۔۔”

انگلی تھوڑی کے نیچے رکھ کر یاد کرتے ہوئے انوشہ بولی ساتھ ہی یتیم خانے کے پچھلے حصّے کی جانب بھاگی،یہ یتیم خانہ زیادہ بڑا نہیں پر بےحد خوبصورت تھا،عندلیب یہاں پر کافی سالوں سے آرہی تھی،اورفونیچ کے بچوں کو وہ بےحد عزیز ہوچکی تھی خود اسے بھی بچے بہت پسند تھے کچھ اسکا دل بھی بہل جاتا ورنہ ہوسٹل میں پڑھائی کرتے کرتے بور ہوجاتی تھی وہ،یتیم خانے کے بلکل پیچھے کافی بڑے رقبے پر ایک چھوٹا مگر نہایت خوبصورت گھر تھا،وہ گھر چھوٹا ضرور تھا مگر سلیتقے سے بننے اور ہر چیز اعلیٰ معیار کی ہونے کے باعث اس علاقے میں اپنی مثال آپ تھا،اس گھر کے پچھلے حصّے میں بنا رنگ برنگے پھولوں اور اعلیٰ قسم کے پودوں سے بھرا گارڈن یتیم خانے کے پچھلے حصّے میں بنی چھوٹی دیوار سے صاف دکھتا ابھی بھی انوشے اسٹول رکھ کر چڑھی ساتھ ہی وہاں سے جھانکنے کے بعد نیچے اترتی واپس باہر کی جانب بھاگی،

“آپی آپی۔۔۔وہ کھڑوس گارڈن میں ہے ابھی۔۔۔لگتا ہے پھر آج گندگی ہونے والی ہے گارڈن میں کیونکہ وہ وہاں پر کافی ساری لکڑیاں کاٹ رہے ہیں۔۔۔اور وہ بھی اس زور سے کے کان میں آواز لگ رہی ہے۔۔۔”

ہاتھ چلا چلا کر بتاتی انوشے کی بات پر عندلیب نے آبرو اچکائی،

“اوپس۔۔۔مطلب آج پھر موڈ خراب ہے۔۔۔چلو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔۔۔”

زیرِ لب بڑبڑاتی وہ مڑی،

“آپی آج نہیں جاؤ غصے میں لگ رہے ہیں وہ بہت۔۔۔”

نائمہ گھبراتی ہوئی بولی،

“وہ کب غصے میں نہیں ہوتا۔۔۔”

پلٹ کر عندلیب اس سے کہتے ہوئے مسکرائی،

“وہ آپکی اتنی انسلٹ کردیتے ہیں۔۔۔ہر وقت غصہ ہوتے رہتے ہیں۔۔۔کبھی کسی سے اچھے سے بات نہیں کرتے اتنے برے ہیں پھر بھی آپ انکے پاس کیوں جاتی ہو۔۔۔؟”

جب سے اسے دیکھتی انوشے منہ بناکر پوچھی

“کوئی بھی انسان برا نہیں ہوتا بس کچھ حالات انسان کو برا بننے پر مجبور کردیتے ہیں۔۔۔”

اسکے جواب میں عندلیب کندھے اچکاکر بولی،

“ہییییں۔۔۔مطلب وہ بھی پہلے اچھے تھے۔۔۔”

آنکھیں پٹپٹاتے معاذ پوچھا تھا جس پر عندلیب نے اثبات میں سرہلایا،

“پر مجھے تو وہ اب بھی بہہہہت اچھے لگتے ہیں۔۔۔”

تھوڑی کو ہتھیلیوں کے نیچے رکھ کر کھوئے ہوئے لہجے میں کہنے والی یہ 8 سالہ بِسمہ تھی،جس شخص سے اورفونیچ کا ہر بچہ ڈرتا تھا یہ اس شخص کی دیوانی تھی بقول بسمہ کے وہ آج تک اس جیسا وجاہت سے بھرپور انسان کہیں نہیں دیکھی تھی،اکثرو بیشتر وہ اورفونیچ کے پچھلے حصے میں پائی جاتی،وجہ بھی یہی کہ بس جب وہ گارڈن میں ہوتا بناپلک جھپکائے اسے دیکھتے رہتی،اسکی بات سنتی عندلیب نفی میں سرہلاکر ہنسی،جانتی تھی وہ شروع سے ایسی ہی تھی،

“گرینی نے کہا تھا وہ پہلے بہت اچھا تھا۔۔۔پھر۔۔”

کچھ سوچ کر کہتی عندلیب رکی،سب جو بسمہ کے آہ بھرنے پر اسے دیکھ رہے تھے اب عندلیب کی طرف متوجہ ہوئے،

“پھر پھر۔۔۔۔پھر کیا۔۔۔”

بغور اسکی بات سنتی انوشے تجسس کے مارے جلدی سے پوچھی،

“پھر کچھ نہیں۔۔۔میں جارہی ہوں۔۔۔دیر ہوجائے گی۔۔۔ابھی بہت سارا ٹیسٹ بھی یاد کرنا ہے مجھے ورنہ کل میری مس نے بخشنا نہیں تمہاری آپی کو۔۔۔”

انوشے کے بال بگاڑ کر بولتے وہ مسکراکر مڑی،اب اسکا رخ باہر کی جانب تھا

یتیم خانے سے نکل کر کچھ قدم کا راستہ طے کر کے وہ اس گھر کے سامنے آئی پھر گہرا سانس بھرتی گیٹ کے پاس گئی،دو بیل پر ہی گیٹ کھلا تھا،

“اسلام وعلیکم گرینی۔۔۔”

چہرے پر ہمیشہ کی طرح پیاری سی مسکان سجائے وہ بولی،دُرّیہ بیگم نے ایک نظر اسے سر تاپیر دیکھا،ہلکے نیلے رنگ کی قمیض شلوار پر دوپٹے کو مفلر کی طرح گلے میں ڈال کر بالوں کی اونچی پونی بنائے وہ ہر طرح کی زیب و آرائش سے پاک سرخ و سفید حسین چہرے پر مسکراہٹ سجائے انہیں دیکھ رہی تھی،دودھیا گال دھوپ پڑنے سے ہلکے گلابی ہونے لگے جبکہ مسکرانے سے گال پر پڑتا ڈمپل اسکی خوبصورتی میں اضافہ کررہا تھا،مگر حسین چہرے میں سب سے زیادہ مقابل کو متاثر اسکی آنکھیں کرتیں،کانچ سی چمکیلی آنکھیں،پہلی نظر میں دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا کہ وہ کوئی موم کی نازک سی گڑیا ہے،جسے زرا سا چھو لو تو ٹوٹ کر بکھر جائے گی،آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکی نظریں اتارتی دُرّیہ بیگم نے چہرے کے تاثرات ناراض بنائے،

“ایک تو پہلے ہی ہفتے میں ایک مرتبہ آتی ہو اوپر سے آج پورے دو گھنٹے لیٹ ہو۔۔۔”

سلام کا جواب دے کر وہ خفگی سے بولیں،

“اوووہ۔۔۔تو عندلیب کا انتظار بھی کیا جاتا ہے۔۔۔”

ستائشی نظروں سے انہیں دیکھ کر کہتی وہ آگے بڑھ کر انکے گلے لگی،

“سوری گرینی۔۔۔پتا ہے۔۔۔یہ پھول مل کر نہیں دے رہے تھے آج بس اسی لیے تھوڑی دیر ہوگئی۔۔۔”

ان سے دور ہوکر وہ بوکیٹ آگے کرتی بولی ساتھ ہی آگے قدم بڑھاتی چاکلیٹس کی شاپر ٹیبل پر رکھی،

“لڑکی تمہیں منع بھی کیا تھا اتنے پھول نہ لایا کرو۔۔۔یہاں تو آلریڈی سلسبیل نے گارڈن میں کتنے پھول لگوائے ہیں۔۔۔”

بوکیٹ کو ٹیبل پر آرام سے رکھتیں دریہ بیگم بولیں،

“کوئی نہیں یہ پھول بھی لگادیں گے گارڈن میں۔۔۔آج تو میں اس کھڑوس کی ایک نہیں سنوں گی۔۔۔اپنے ہاتھوں سے لگاؤں گی انہیں۔۔۔”

ہفتے میں ایک دن جب وہ یہاں آتی تب اسکا موڈ کافی خوشگوار ہوتا،آج بھی اسی موڈ کے ساتھ چہک کر کہتی وہ کچن کا رخ کی،

“چلیں سب سے پہلے آج ہم کچھ بناتے ہیں۔۔۔”

ایپرین کی ڈوری باندھ کر سوچتی وہ بولی پھر اچانک چٹکی بجائی،

“سینڈوچز بناتے ہیں۔۔۔کیوں گرینی۔۔۔؟”

خوشی سے بول کر وہ تائید چاہی جس پر دریہ بیگم مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلائیں،

“بی بی۔۔۔مجھے پتہ تھا آج آپ کا پھر کچن خراب کرنے کا پلین ہے تبھی میں نے پہلے ہی صفائی کر رکھی تھی۔۔۔”

اسے چڑانے کے غرض کہنے والی یہ دریہ بیگم کی پرانی خادمہ اور فرمان کی بیوی اسماء تھی،

“ہنہہ۔۔۔آپ جلتی ہو میرے ہنر سے۔۔۔”

ناک چڑھاکر اسے جواب دیتی عندلیب نے فریج سے انڈے نکالے پھر بریڈ کے لیے نظر دوڑائی،دریہ بیگم کو ہمیشہ سے اسکا یہ فری انداز بہت بھاتا،یوں انکے گھر آکر وہ اکثر کوئی نہ کوئی ڈِش بناتی،

آدھا گھنٹہ لگاکر وہ سینڈوچز تیار کی تھی اور اس آدھے گھنٹے میں جو کچن کا حال اس نے کیا اسماء اپنا سر تھام کر رہ گئی،

دریہ بیگم کو سینڈوچ دینے کے بعد اب پلیٹ پر ایک سنڈوِچ رکھے اسکا رخ گھر کے پچھلے حصّے یعنی کہ گارڈن کے جانب تھا جہاں سے مسلسل کھٹ پٹ کی تیز آواز آرہی تھی یوں محسوس ہوتا جیسے وہ لکڑیاں کاٹ کم اور اپنا غصّہ زیادہ اتاررہا ہو پر سچ بھی یہی تھا جب غصے میں وہ ہوتا تو یونہی کرتا،

“آج پھر اسکا مُوڈ خراب ہے۔۔۔تم نہیں جاؤ بیٹی۔۔۔”

عندلیب کی ضدی عادت کو جان کر بھی دریہ بیگم اپنی سی کوشش کی تھیں اسے روکنے کی،

“اوہو گرینی۔۔۔کیا کرلے زیادہ سے زیادہ۔۔۔چیخے گا ڈانٹے گا۔۔۔کوئی نہیں سن لوں گی اسکی ڈانٹ بھی۔۔۔”

ایک ہاتھ کو ہوا میں لہرا کر بےنیازی سے کہتی وہ پلٹی،دریہ بیگم نے تاسف سے اُس دیوانی کی پشت کو دیکھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہاتھ میں پلیٹ تھامے تو دوسرے میں لال کھلتے تازہ گلاب تھامے وہ دبے پاؤں آئی تھی وہاں،گلابی لب کو دانتوں میں دباکر اس نے آہستگی سے گارڈن میں ایک طرف بنے بینچ پر پھول اور پلیٹ رکھی پھر سیدھی ہوتی سامنے کی طرف بغور دیکھی،

وائٹ شرٹ کی آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے وہ مضبوط ہاتھوں میں کلہاڑی تھامے مسلسل سِل پر رکھی لکڑی پر ماررہا تھا،کلہاڑی پر سخت گرفت ہونے کے باعث سفید آہنی بازو میں ابھرتی نسیں نمایاں ہورہی تھیں،پسینے سے شرابور کشادہ پیشانی پر بکھرے گیلے گہرے بھورے بال،رخ ترچھا ہونے کے باعث کنارے سے نظر آتے حد سے زیادہ سرخ وجیہہ چہرے پر تاثرات بلا کے پتھریلے تھے کہ مقابل ایک پل کو لازمی ڈگمگاتا اور یہی ابھی عندلیب کے ساتھ ہوا اسکے ہر ایک حرکت پر نظر رکھے عندلیب کا دل بےساختہ دھڑک کر رہ گیا جب وہ اپنے ہاتھ روک کر سیدھا ہوا،چوڑی کسرتی پشت موڑ کر وہ رخ اسکی جانب کیا،شرٹ کے دو اوپری بٹن کھلے رہنے کے باعث کشادہ سینہ صاف دکھ رہا تھا،اپنی شاندار شخصیت سے مقابل کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتا سلسبیل مُراد واقعی بھرپور وجاہت کا مالک ایک مکمل شخص ہوتا اگر کو اس میں ایک کمی نہ ہوتی،۔۔۔کمی۔۔۔،ہاں اس شخص میں بس ایک کمی تھی،

اور وہ کمی اسکی آنکھیں تھیں۔۔۔ہاں وہ آبنوس رنگ آنکھیں ہمیشہ کی طرح آج بھی خالی تھیں،جیسے اسکے ذہین دماغ میں بُننے والے سارے حسین خواب ان آنکھوں میں کہیں دفن ہوچکے ہوں،ایک بینائی نہ ہونے کی وجہ سے وہ سب کچھ چھوڑ چکا تھا حتیٰ کہ اپنے خوابوں کی تکمیل بھی ترک کردی،اپنی گرینی کے علاوہ دنیا کے ہر ایک فرد سے نفرت کرتا تھا وہ حتٰی کے خود سے بھی ناراض رہتا،اسکے غصے کا بھی کچھ پتا نہیں تھا کب کہیں کسی بھی وقت اچانک آتا اور ایسا آتا کہ مقابل جب تک اسے تنہا نہ چھوڑدیتا تب تک غصہ کم نہ ہوتا،

“کیا ہے۔۔۔؟”

بھاری سخت مگر دل دھڑکا دینے والی آواز پر لٹھ مار لہجہ تھا کہ عندلیب جو بناپلک جھپکائے اس شاندار شخص کو دیکھنے میں محو تھی یکدم ہوش میں آتی بری طرح بوکھلائی،تبھی گہرا سانس بھرتی وہ ایک بار پھر نظر اسکی طرف کی،آخر کیسے قوتِ سماعت رکھتا تھا وہ کہ دبے پاؤں آنے کے باوجود اسکی موجودگی سے ہمیشہ واقف ہوجاتا،تھوڑی دیر تو عندلیب کو الفاظ کے انتخاب میں لگی،اس انسان کے سامنے کچھ بھی بولنا اسے کافی ہمت والا کام لگتا،

“ہا۔۔۔کچھ خاص نہیں میں تو بس گرینی سے ملنے آئی تھی تو سوچا تمہیں بھی دیکھ ہی لوں۔۔۔”

لہجے کو بےپرواہ بنانے کی بھرپور کوشش کرتی وہ بغور اسکی خالی آنکھوں کو تک رہی تھی،

“دیکھ لیا۔۔۔اب جاؤ۔۔۔”

سپاٹ لہجے میں کہہ کر وہ مڑا اور عندلیب کا منہ کھلا،

“ویسے۔۔۔آ۔۔۔یہ کیا کررہے ہو۔۔۔؟”

ہر طرف بکھری ابتر حالت میں کٹی لکڑیوں کو دیکھ وہ پوچھی پر دوسری جانب سلسبیل کی کشادہ پیشانی ناگواری سے شکن آلود ہوئی،اپنے کام میں اسے کسی قسم کی مداخلت پسند نہ تھی خاص کر جب وہ لڑکی آتی تب تو اس کا اور خون جل جاتا،

“جہاں تک مجھے پتا ہے کہ بینائی میری نہیں ہے پر آج یہ بھی معلوم ہوگیا کہ میرے ساتھ ساتھ تم بھی اندھی ہو۔۔۔”

وہ اس سے یوں بات کررہا تھا جیسے لفظوں کو ادا کم پھینک زیادہ رہا ہو،اس بار عندلیب اپنے چہرے کو بگڑنے سے نہ روک پائی،

“میں تو بس یونہی پوچھ رہی تھی۔۔۔پتا نہیں تھا نا اس لیے”

منہ بناکر وہ بولی تو سلسبیل کے تراشے ہوئے عنابی لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری،

“کیوں۔۔۔تمہارے جاسوسوں نے اور باتوں سمیت یہ نہیں بتایا تھا کہ میں کیا کررہا ہوں۔۔۔”

اسکی بات پر عندلیب اپنی آنکھیں میچی تھی،وہ کیسے سمجھ جاتا تھا اسکی ہر حرکت کو،بےساختہ عندلیب نے ترچھی نظروں سے کونے والی دیوار کو دیکھا جہاں پر اب بھی ننھی بسمہ ہتھیلیوں پر اپنا چھوٹا سا چہرہ رکھے محو سی ہوکر سلسبیل کو خواب دیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی،اسے یوں دیکھ عندلیب نے سر جھٹکا،فلحال تو اسے اپنی چوری پکڑے جانے پر غصہ آرہا تھا،

“کھڑوس کہیں کا۔۔۔”

منہ پھلا کر ہلکی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے وہ ایک نظر بینچ پر رکھی سینڈوچ کی پلیٹ کو دیکھی اور پل میں اسکا موڈ واپس خوشگوار سا ہوا،

“سنو یہ زرا سینڈوچ کھاکر بتاؤ۔۔۔کیسے بنے ہیں۔۔۔تمہیں پتا ہے میں نے بہت محنت سے بنائے ہیں۔۔۔پلیز تعریف لازمی کرنا۔۔۔کیونکہ پھر مجھے برا لگے گا۔۔۔اور مجھے برا لگا تو میں۔۔۔میں۔۔۔ہاں۔۔۔میں چلی جاؤں گی یہاں سے۔۔۔”

پلیٹ اٹھا کر اسکے سامنے آتی عندلیب بنارکے بولے جارہی تھی،وہ جو پھر کلہاڑی والا ہاتھ اٹھانے لگا تھا ایک دم غصے میں کلہاڑی پھینک کر اپنا بھاری ہاتھ آگے کیا ادھر عندلیب کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا،ہر بار اسکی بنائی چیزوں کو اگنور کرنے والا وہ آج اس سے مانگ رہا تھا سینڈوِچ کی پلیٹ،

“یہ لو۔۔۔”

چہک کر کہتے ہوئے اس نے پلیٹ سلسبیل کے بھاری ہاتھ میں رکھی بنا اسکے تاثرات کا نوٹس لیے لیکن اگلے ہی لمحے عندلیب کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،جب وہ پلیٹ تھوڑے دور زور سے پھینکا،اتنی محنت سے بنائی گئی اپنی سینڈوچ کی ناقدری کو وہ شاکی نظروں سے دیکھی تھی،

“یہ۔۔۔کیا۔۔۔”

صدمہ ایسا لگا کہ بمشکل وہ دو الفاظ ادا کرسکی،

“کردی تعریف۔۔۔۔اب گم کرو خود کو یہاں سے۔۔۔۔”

سرد سنسنی خیز لہجہ ہوا تھا مقابل کا جس جس پر عندلیب روہانسی ہوتی اسے دیکھی،

“رزق کی یوں بےحرمتی نہیں کرتے۔۔۔۔”

دھیمی آواز میں بول کر وہ قدم اٹھاتی نیچے گری پلیٹ اور سینڈوچ کی طرف گئی پھر جھک کر انہیں اٹھانے کے بعد بینچ پر رکھی،افسردہ ہوکر وہ ابھی جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک نظر بینچ پر رکھے گلاب پر پڑی اور بس،ایک بار پھر عندلیب کا بجھا ہوا چہرہ کِھلا،

“آہاں۔۔۔یہ تو بتانا بھول ہی گئی تمہیں کہ میں نے یہ خوبصورت گلاب لیے تھے یہاں آنے سے پہلے۔۔۔اور جانتے ہو انہیں اگر ہم اس گارڈن ایریا میں لگائیں تو آگے جاکر چند دنوں میں گارڈن کا وہ حصہ کتنا مہکے گا ان خوبصورت گلابوں کی خوشبو سے۔۔۔۔لو یہ تم لگادو۔۔۔بلکہ نہیں۔۔۔تم تو پھر پھینک دو گے۔۔۔ایسا کرتی ہوں یہ میں خود ہی لگادیتی ہوں۔۔۔”

پھر سے عندلیب کا نان سٹاپ بولنا شروع ہوچکا تھا ادھر سلسبیل اسکی باتوں کو سن کر اپنے اندر تک کڑواہٹ گھلتی محسوس کرنے لگا،پچھلی بار کی کئی تذلیلوں کے باوجود اب پھر اسکا اپنے بےکار گلاب لانا سلسبیل کو غصہ دلایا تھا،

اپنی تیز سماعتوں سے عندلیب کے قدموں کی چاپ کا اندازہ لگاتا وہ اسکے پاس گیا،عندلیب جو بڑے مگن سے انداز میں بولتی باغ کے ایک کنارے پر آئی تھی سلسبیل کو اچانک اپنے برابر میں دیکھ چونکی اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی سلسبیل ہاتھ بڑھایا پھر جیسے ہی بھاری سخت ہاتھوں میں نم پھولوں کی نرمی محسوس ہوئی انہیں دبوچ کر نیچے پھینکتا سلسبیل اپنے جوتوں تلے کچلا تھا ان گہرے لال رنگ کے حسین گلابوں کو،

نیچے اسکے جوتوں تلے کچلے اپنے پھولوں کو دیکھ عندلیب باوجود کوشش کہ اس بار اپنی آنکھیں نم ہونے سے نہیں روک پائی،

“یہ۔۔۔کیوں۔۔۔کیا۔۔۔؟”

بھیگی آنکھوں سمیت سلسبیل کے وجیہہ چہرے پر سرد تاثرات دیکھ وہ بولی

“بلکل تمہاری طرح انکی بھی یہی اوقات تھی۔۔۔آئندہ مجھے یہ بات ریپیٹ نہ کرنی پڑے کہ اپنے بےکار پھولوں کو یہاں نہیں لگاسکتی تم۔۔۔”

گلابوں کے ساتھ اسے بھی پل میں دو کوڑی کا کرتا وہ اسکے برابر سے گزرا،تبھی لہجے کو بمشکل ہلکا پھلکا بناتے وہ بولی،

“خیر۔۔۔ٹھیک ہے نہیں کروں گی آئندہ کبھی یہ گستاخی۔۔۔فلحال میں جاتی ہوں گرینی کے پاس۔۔۔”

یہ بات کہتے وہ پوری کوشش کی تھی ہنسنے کی،سلسبیل کے آبرو پھر بھنچیں،کیوں اتنی بےعزتی کے بعد بھی وہ اس سے یوں بات کرتی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،

خوبصورت آنکھوں سے چھلکنے کو بےتاب آنسوؤں کو اندر ہی دھکیلتی وہ سینڈوچ کی پلیٹ اٹھاتی وہاں سے واپس گھر کے اندر آئی،کچن میں پلیٹ رکھ کر ابھی وہ پلٹی ہی تھی کہ گرینی سامنے دکھیں،تاسف بھری نظروں سے وہ عندلیب کو ہی دیکھ رہی تھیں،آنسو روکنے کے چکر میں اس کے سرخ ہوتے گال اور ناک دیکھ وہ نرمی سے بولیں،

“کیوں ہر بار اپنی انسلٹ کروانے چلی جاتی ہو لڑکی اسکے پاس۔۔۔۔”

وہ جو گرینی کو دیکھ زبردستی مسکرانے لگی تھی اچانک آنکھوں میں پھر آنسو آنے پر نگاہ پھیری،

“کبھی تو اسے احساس ہوگا نا گرینی۔۔۔”

آہستگی سے کہہ کر وہ پلٹی،اسکا لہجہ جتنا دل گرفتہ تھا دریہ بیگم کو اتنا ہی دکھ ہوا،

“ترک کردو یہ کوششیں بیٹی۔۔۔جو تم چاہتی ہو وہ لاحاصل ہے۔۔۔”

افسردگی سے بولتے ہوئے وہ اسکے پاس آئیں،

“لاحاصل وہ تب ہوتا جب میں اسے حاصل کرنا چاہتی۔۔۔۔پر میں تو ایسا کچھ نہیں چاہتی۔۔۔ہاں پر دل صرف اتنی خوائش رکھتا ہے کہ وہ ستمگر اپنی تکالیف مجھ سے بانٹ لے۔۔۔۔گرینی۔۔۔وہ خوش رہ لے۔۔۔میرے لیا اتنا ہی بہت ہے۔۔۔میں اسے صرف مسکراتا دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔اس سے ڈھیر ساری باتیں کرنا چاہتی ہوں۔۔۔بس اور کچھ نہیں۔۔۔”

پُر اذیت لہجے میں کہتی وہ آخری میں ہنسی،اسکی ہنسی میں جیسے تڑپ تھی،دریہ بیگم نے نفی میں سر ہلایا،

“اوہ ہو۔۔۔یہ اسماء کو تو میں سینڈوچ کھلانا ہی بھول گئی۔۔۔رکیں گرینی میں زرا انہیں دیکھ لوں۔۔۔کہاں ہیں۔۔۔اسماء۔۔۔”

اچانک ہی موڈ ٹھیک کر کے وہ نارملی بات بدل کر بولتی انکے برابر سے ہوکر نکلی ساتھ ہی اسماء کو پکارنے لگی،دریہ بیگم نے ترحم بھری نظروں سے اس نادان لڑکی کو دیکھا جو اپنی معصوم محبت کے چکر میں انکے پوتے سے اکثر و بیشتر ذلیل ہوتے رہتی،

“یہ اُداس اُداس اُداسیاں،

اور دور دور کی دوریاں،

مجھے اشک اشک بکھیرکے،

پھر ہنس ہنس کر سمیٹنا۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔