Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 31)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 31)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
سنابِل کے روم سے نکل کر وہ ابھی قدم اپنے کمرے کے جانب بڑھا ہی رہا کہ نظر ہال میں سپاٹ تاثرات سمیت کھڑی عنادیہ پر پڑی،وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی،کمرے میں جانے کا ارادہ ترک کیے سلسبیل عنادیہ کے پاس آیا،
“کیا ہوا جانم۔۔”
اس کے تاثرات نوٹ کرتا سلسبیل پوچھ کر اس کے عین سامنے کھڑا ہوا،
“کچھ نہیں۔۔اسماء کھانا لگارہی ہیں آپ فریش ہوکر آجائیں میں گرینی کو بلاتی ہوں۔۔”
بےتاثر لہجے میں کہتی وہ دریہ بیگم کے روم کی طرف بڑھی پر سلسبیل نے نرمی سے اس کا بازو تھام لیا،
“سب خیریت ہے۔۔؟”
اب کی بار وہ سنجیدگی سے پوچھا،
“خیریت ہی تو نہیں ہے۔۔۔”
یہ کہتے اس کا لہجہ دکھی ہوا تھا،پہلے آفس سے آکر وہ سب سے پہلے دریہ بیگم اور اس سے ملتا تھا پر آج اسے سنابِل کے روم میں جاتے دیکھ عنادیہ کو دھچکا لگا تھا،اتنی دیر تک وہ اندر ناجانے کیا بات کررہا ہوگا اس سے،اندر بھانبھڑ سے جلے تھے جنہیں بمشکل دباتی وہ سلسبیل کا ہاتھ اپنے بازو پر سے ہٹائے دریہ بیگم کے روم میں گئی،اس کی پشت کو سلسبیل پرسوچ نظروں سے دیکھا تھا،
“گرینی۔۔۔”
دروازہ ناک کرتی وہ آہستگی سے پکاری،اب خود کو کافی حد تک کمپوز کرچکی تھی وہ،
“آؤ بچے۔۔”
انہوں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا جس پر مسکراتی عنادیہ اندر داخل ہوئی،
“یہ کیا کررہی ہیں۔۔؟”
انہیں اون کے دھاگے بُنتے دیکھ عنادیہ حیران ہوتی پوچھی،
“سوئیٹر بنارہی ہوں۔۔”
“میرے لیے۔۔”
عنادیہ کو خوشگوار حیرت ہوئی ان کی بات پر تبھی پوچھی،
“آہاں۔۔اپنی پوتی کے لیے۔۔”
مسلسل ہاتھ چلاتی وہ مسکراکر بولیں،
“تو گرینی وہ تو میں ہی ہوئی نا۔۔۔”
عنادیہ نے اندازہ لگاتے پھر کہا،
“لڑکی۔۔ادھر آؤ۔۔”
اس کی نادانی پر ہلکا سا ہنستی وہ اسے پاس بلائیں،
“جی۔۔”
“میری ہونے والی پر پوتی کا ہوگا مطلب تمہاری اور سلسبیل کی بیٹی۔۔۔”
اس کی تھوڑی کے نیچے ہتھیلی رکھ کر دریہ بیگم نے محبت سے کہا مگر عنادیہ کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی،جبکہ آنکھوں میں تیزی سے نمکین پانی جمع ہوا،
“ارے بچے۔۔رو کیوں رہی ہو۔۔”
کالی آنکھوں میں آنسو دیکھ دریہ بیگم پریشان ہوئیں،
“گرینی۔۔مجھے نہیں لگتا کہ میرے نصیب میں یہ خوشی ہے۔۔”
“نہ بچہ۔۔ایسا مت بولا کرو۔۔یوں تو تم اللّٰہ سے ناامید ہورہی ہو۔۔”
وہ جانتی تھیں کہ چھ مہینوں بعد بھی کوئی خوشخبر نہ ملنے پر عنادیہ اب دن بدن تھوڑی چڑچڑی اور حساس ہوچکی تھی،تبھی اسے نرمی سے سمجھائیں،
“امید۔۔۔ختم ہورہی ہے۔۔اور اب تو یقیناً سلسبیل بھی میری طرف سے بیزار ہوچکے ہوں گے۔۔”
سر جھکائے وہ دھیمے مگر مترنم لہجے میں بولی،
“ایسا کیوں سوچ رہی ہو عنادیہ۔۔۔سلسبیل تم سے کبھی بیزار یا تنگ ہوسکتا ہے بھلا۔۔۔کتنی محبت کرتا ہے وہ تم سے ایسا پھر کبھی مت سوچنا۔۔”
اس کی بات پر اب دریہ بیگم نے تھوڑا سنجیدگی سے کہا تو عنادیہ روہانسی ہوئی،ذہن میں سلسبیل اور سنابِل کی یکجا تصاویر بنی تھی،
“آپ کو پتا ہے گرینی میں نے کل نیٹ پر دیکھا تھا دو میاں بیوی ایک دوسرے سے بےحد محبت کرتے تھے مگر چونکہ دو سال بعد بھی ان کے ہاں اولاد کی نعمت نہ آئی تو شوہر نے بیوی سے تنگ آکر اسے طلاق دے دی۔۔۔اور پھر دوسری لڑکی سے۔۔”
“یااللّٰہ۔۔۔عنادیہ بس کرو لڑکی۔”۔
وہ جو انہیں بتاتی اب باقاعدہ رونے لگی تھی دریہ بیگم کے ٹوکنے پر ہلکی آواز میں سسکیاں لی،
“ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو کم ظرف ہوں اور تمہیں سلسبیل کم ظرف مردوں میں سے لگتا ہے۔۔بچہ وہ کس قدر جنونی ہے تمہیں لے کر اور تم کیا کیا سوچ رہی ہو اس کے بارے میں۔۔۔بس لڑکی۔۔۔اس نیٹ نے تمہیں شکی بنادینا ہے اس معاملے میں کل میں سلسبیل سے کہہ کر نیٹ آف کروادوں گی اور خبردار ایسی چیزیں پھر دیکھی تم نے۔۔۔”
دریہ بیگم کا لہجہ سخت محسوس کرتے ہی وہ بے آواز روتی ان کے پاس سے اٹھی،
“میرا بچہ بیٹھو یہاں۔۔”
اس کا خفگی بھرا انداز دیکھ وہ نفی میں سر ہلاتی عنادیہ کو پھر بیٹھائیں اپنے پاس،
“مجھے بتاؤ کیوں سوچ رہی ہو تم ایسا۔۔۔کیا سلسبیل نے تمہیں کچھ کہا ہے ایسا بتاؤ مجھے پھر میں خبر لیتی ہوں اس کی۔۔۔”
“نہیں گرینی انہوں نے کچھ نہیں کہا۔۔۔”
بھرائی آواز میں کہہ کر اس نے دریہ بیگم کا ہاتھ تھاما،
“مجھ۔۔مجھے ڈر۔۔لگ رہا ہے کہ کہیں وہ مجھ سے دور نہ ہوجائیں۔۔۔”
عنادیہ کے لہجے میں عجیب سا خوف محسوس کیے دریہ بیگم چونکی،
“تم سمجھتی ہو کہ وہ تم سے دور ہو جائے گا اس لیے کہ تم نے بچہ پیدا نہیں کیا۔۔”
اب کی بار وہ صاف لہجے میں پوچھیں جس پر عنادیہ نے جلدی سے اثبات میں سرہلایا،آنسو ہنوز نکل رہے تھے آنکھوں سے،
“اب سنو لڑکی۔۔۔پہلی بات کہ اولاد نرینہ سے نوازنا کسی انسان کے بس میں نہیں یہ اللّٰہ کی دین ہے۔۔۔اور دوسرا میاں بیوی کی محبت کا کوئی یہ اکلوتا ثبوت نہیں۔۔۔تم اور سلسبیل ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہو یہ تم دونوں ہی اچھے سے جانتے ہو تو اس محبت میں یہ بیزاریت یا پھر تنگ آنا۔۔۔تم نے کیسے سوچ لیا کہ یہ ہوگا۔۔
اچھا یہ بتاؤ سلسبیل نے کبھی تمہیں ایسے الفاظ کہے کہ جس سے تمہارا دل دکھا ہو۔۔۔”
اسے نرمی سے سمجھاتی وہ آخری میں سوال کیں،عنادیہ نے فوراً نفی میں سرہلایا،
“کبھی ایسا ہوا کہ تم سے وہ بیزار لہجے میں بات کیا ہو۔۔”
انہوں نے پھر پوچھا اور اس بار بھی عنادیہ نے نفی میں سرہلایا،
“کبھی ایسا ہوا کہ تمہیں اس پر کسی لڑکی کو لے کر شک ہوا ہو۔۔”
اب عنادیہ چپ سی ہوئی دریہ بیگم کو خاموش نظروں سے دیکھی،ذہن میں بار بار سنابِل کے ساتھ وہ محبوب نظر آیا،بمشکل اس نے نفی میں سر ہلایا،
“تو پھر۔۔بس بےفکر رہو۔۔وہ تمہارا تھا ہے اور رہے گا۔۔۔لڑکی جب وہ تم سے الگ رہ کر نہ بھٹکا پھر اب تو تم اس کی بیوی ہو۔۔پاگل ہے وہ تمہارے پیچھے اور اپنے پوتے پر مجھے مکمل یقین ہے کہ چاہے کچھ بھی ہو وہ کبھی نہیں بہک سکتا۔۔۔جانتی ہو سلسبیل ان مردوں میں سے ہے جس نے اگر ایک لڑکی کو چاہا تو اس ہی پر اپنی دنیا فنا کر بیٹھتا ہے۔۔۔پھر چاہے اسے حسین سے حسین لڑکی دکھادو اس کا دل اپنی محبوب لڑکی پر ہی اٹکا رہتا ہے۔۔۔سمجھی۔۔۔”
ہر پہلو کو واضح کرتے وہ بہت آرام سے اسے سمجھارہی تھیں،عنادیہ کے آنسو تھمے،دل کو یک گونہ سکون ہوا تھا دریہ بیگم کی باتوں سے،ہاں وہ شخص صرف اس ہی سے بےتحاشہ محبت کرتا تھا پھر کیسے کسی اور کی طرف راغب ہوسکتا تھا،آخر میں پرسکون سی مسکراہٹ سمیت آنسو صاف کی تھی وہ،
“تھینک یُو گرینی میری غلط سوچوں کو جھٹکنے کے لیے۔۔”
دریہ بیگم کے گلے لگتی وہ خوشی سے بولی تو انہوں نے نرمی سے اس کی پشت تھپکی،
“اب یہ رکھیں۔۔۔اور آئیں کھانا کھالیں۔۔”
ان سے الگ ہوکر اون اٹھا کر برابر میں رکھتی وہ انہیں اٹھائی،
“پہلے وعدہ کرو کہ اب اس طرح کی سوچیں ذہن میں نہیں لاؤ گی اور اللّٰہ سے ناامید نہیں ہوگی۔۔۔”
اسے اپنا ہاتھ تھامے دیکھ وہ آبرو اچکاکر پوچھیں جس پر عنادیہ خوشی سے ہنستی سر اثبات میں ہلائی،
کھانا کافی خوشگوار ماحول میں کھایا جارہا تھا تبھی کچھ دیر بعد جب سے کچن میں سرکھپاتی سنابِل ایک پلٹ ہاتھوں میں تھامی باہر آئی،
“تم کھانا نہیں کھاؤ گی سنابِل۔۔”
دریہ بیگم اسے دیکھ نرمی سے پوچھی،
“جی بلکل کھاؤں گی مگر اس سے پہلے میں آپ لوگوں کو وہ کھلاؤں گی جو میں نے آج بنایا ہے۔۔”
پلیٹ ٹیبل پر رکھتی وہ چہک کر بولی،پلاؤ لبوں تک لے جاتی عنادیہ کا اسپون تھاما ہاتھ رکا جب سنابِل قدم بڑھا کر پہلے اس کے برابر میں بیٹھے سلسبیل کے پاس آئی،
“میں نے سنا ہے آپ کو سینڈوچز بہت پسند ہیں۔۔۔تو سوچا ٹرائے کروں آج۔۔کھاکر بتائیں کیسی بنی ہے۔۔”
سلسبیل ہاتھ روک کر ایک نظر پلیٹ کی جانب دیکھا پھر سنابِل کو دیکھ کر گویا ہوا،
“مجھے سینڈوچز پسند ہیں پر ڈنر میں نہیں۔۔۔یہ اسماء سے کہہ کر فریج میں رکھوادو میں صبح کھالوں گا۔۔”
سلسبیل کی اس بات پر جہاں عنادیہ پرسکون ہوئی وہی سنابِل کا چہرہ بجھا،اس شخص نے اسے بہن بنایا تھا جس کی وجہ سے اب وہ کوشش کی تھی اسے اپنی جانب سے تھوڑا خوش کرنے کی مگر اب اس کا انکار سن کر پلیٹ اٹھائی،
“پر میں تھوڑا ٹیسٹ کرسکتا ہوں اسے۔۔”
سنابِل کا مرجھایا چہرہ دیکھ وہ رسانیت سے کہا اور وہ پل میں کھلی،اس وقت عنادیہ نے بھرپور کوشش کی اپنا دھیان ان دونوں پر سے ہٹانے کی،
“ہمم۔۔۔ٹیسٹی ہیں تمہیں پتا ہے عنادیہ نے بھی اس ہی طرح سینڈوچ بنائی تھی اور مجھے کھلانے آئی تھی۔۔”
سینڈوچ کا بائٹ لیتے سلسبیل کو بےساختہ تین سال پہلے کا وہ دن یاد آیا جس پر وہ مسکراتا ہوا بتایا،سنابِل خوشگواری سے عنادیہ کو دیکھی،
“ہاں پر اس وقت آپ نے میرے سینڈوچز پھینک دیے تھے۔۔”
ناچاہتے ہوئے بھی عنادیہ کا لہجہ کچھ تلخ ہوا،
“جانم اس وقت اتنا جانا بھی تو نہیں تھا تمہیں۔۔”
سلسبیل کے محبت سے کہنے پر جہاں دریہ بیگم اور سنابِل ان دونوں کو مسکراکر دیکھیں وہی عنادیہ تنفر سے سر جھٹکتی اٹھی،
“کیا ہوا۔۔”
سلسبیل کے مسکراتے لب سکڑے وہ جھٹ سے عنادیہ کی کلائی پکڑتا پوچھا،
“کچھ نہیں بس پیٹ بھرگیا۔۔”
اس سے ہاتھ چھڑواکر کہتی عنادیہ چئیر کھسکا کر نکلی پھر اپنے روم کی طرف چل دی،
“تم کر آفس سے آف لو۔۔۔اور کل کا پورا دن اپنی عنادیہ کے ساتھ گزارو۔۔”
جب سے خاموش دریہ بیگم سنجیدگی سے بولیں تو سلسبیل کچھ سوچتا اثبات میں سرہلایا ساتھ ہی اٹھ کر وہ بھی روم میں گیا،
“اسماء سے کہیں روم میں چائے دے جائے دو کپ۔۔”
مڑ کر وہ دریہ بیگم کو کہنا نہ بھولا،
“عنادیہ۔۔”
اندر داخل ہوکر اسے بیڈ پر بیٹھے دیکھ سلسبیل پکارتا ہوا دروازہ بند کیا،
“طبیعت ٹھیک ہے تمہاری۔۔؟”
اس کے پاس آتا وہ تشویش سے پوچھا ساتھ ہی عنادیہ کے ماتھے پر ہاتھ کی پشت رکھا،
“ٹھیک ہوں میں بلکل۔۔”
عنادیہ چڑ کر اس کا ہاتھ ہٹائی،
“کھانا کیوں نہیں کھایا تم نے۔۔۔”
سلسبیل کو ناگوار گزرا تھا اس کا ہاتھ جھٹکنا مگر نظرانداز کرتا وہ پھر فکرمندی سے پوچھا،
“پیٹ بھرگیا تبھی چھوڑ دیا۔۔بتایا تو ہے۔۔”
ذہن میں سلسبیل کو دیکھ سنابِل کا کچھ دیر پہلے کھلا ہوا چہرہ آیا تو اسے غصہ سا آیا تبھی ترخ کر بولتی بیڈ سے اٹھی،
“لڑکی ہوا کیا ہے تمہیں۔۔۔ایسے بی ہیوو کیوں کررہی ہو۔۔”
ڈریسنگ روم کا رخ کرتی عنادیہ کا بازو پکڑے وہ استفسار کیا،
“کیا مطلب کیسا بی ہیوو کررہی ہوں میں۔۔۔”
مڑ کر وہ کمر پر دونوں ہاتھ جماتی غصے سے الٹا سوال کی،سلسبیل کی بےساختہ ہنسی چھوٹی اس کا لڑاکا روپ دیکھ،
“اگر لڑنے کا موڈ ہے تو یونہی کہو ہم مل کر لڑتے ہیں جانم ویسے بھی میرے حد درجہ پیار سے بگڑتی جارہی ہو تم۔۔”
مسکراکر اس کے بازو کو جھٹکا دے عنادیہ کو خود سے قریب کیے وہ ناچاہتے ہوئے بھی آخر میں اس کے تلخ انداز پر خفگی ظاہر کرگیا،
“نہ ہی میرا لڑنے کا موڈ ہے نہ تو میں بگڑی ہوں بلکہ آپ ہی کے تیور کچھ عجیب ہیں۔۔۔”
دل میں دبائی اپنی بات آخر کار وہ کہہ ہی دی،
“اچھا۔۔میرے تیور کیسے عجیب ہیں بتانا چاہیں گی محترمہ۔۔۔”
اسے خود سے قریب کیے سلسبیل مسکراہٹ دبائے پوچھا،
“سلسبیل دور ہٹیں۔۔ہر بار اچھا نہیں لگتا یہ سب۔۔”
اسے خود پر جھکتے دیکھ عنادیہ جھنجھلا کر کہتی دور ہوئی،سلسبیل کے لب سمٹے،عنادیہ کے چڑے ہوئے تاثرات سنجیدگی سے دیکھتا وہ ابھی کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ عنادیہ سیدھا ڈریسنگ روم میں گئی،تبھی دروازہ ناک ہوا،
“سنابِل چائے لے کر آئی تھی۔۔”
ٹیبل پر رکھتی وہ وہی پر کھڑی رہی،
“کچھ کہنا ہے۔۔”
اسے جزبز کا شکار دیکھ سسلبیل دھیمے لہجے میں پوچھا،
“جی۔۔آ۔۔۔سلسبیل یہ کہنا کچھ عجیب ہے مگر آپ پلیز میری بات کا غلط مطلب مت لیجیے گا۔۔”
عنادیہ کا رویہ کافی حد تک وہ سمجھ ہی چکی تھی تبھی اس بارے میں وہ فیصلہ کرتی خود سلسبیل سے بات کرنے کا سوچی،
“کہو۔۔”
“مہ۔۔میں نے بہت سوچا ہے اس بارے میں۔۔کہ اگر آپ می۔۔میرا نکاح جلد کروادیں میرا مطلب۔۔کل تک۔۔اور وہ کورٹ میں تو آپ کو بھی زیادہ پریشانی نہیں ہوگی اور می۔۔میں۔۔”
“میری پریشانی کی تم فکر مت کرو اور جہاں تک بات کل نکاح کی ہے وہ بلکل ناممکن ہے ابھی مجھے عفان سے بات کرنی ہے۔۔پھر ممکن ہے کہ ایک ہفتے بعد ہو۔۔۔”
اس کی بات کاٹ کر سلسبیل سنجیدہ تاثرات سمیت بولا جبکہ سنابِل کو بےحد سبکی محسوس ہوئی،وہ نہیں چاہ رہی تھی اس ٹاپک پر بات کرنا پر عنادیہ کا رویہ حد درجہ تلخ دیکھ اس نے سوچا تھا جلد از جلد یہاں سے جانے کا،
“تمہیں یہاں کوئی پرابلم تو نہیں ہے نا۔۔؟”
اس کی جانب دیکھتا سلسبیل پوچھا تبھی ڈریسنگ روم سے نکلتی عنادیہ کی نظر ان دونوں پر پڑی،سفید پیشانی پر بل بنے تھے،
“نہی۔۔نہیں تو کوئی پرابلم نہیں۔۔۔میں تو بس آپ لوگوں کے احسان پر شرمندہ ہوں بہت۔۔”
“اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں تمہیں میں نے پہلے ہی اپنے اور تمہارے رشتے کے بارے میں مترادف کیا ہے جس کی قدر کر کے مجھے یہ کرنے میں کوئی پریشانی احسان مندی محسوس نہیں ہوئی۔۔۔”
اسے رسانیت سے سمجھاتا سلسبیل سنابِل کے اثبات میں سر ہلاکر جانے پر روم کا دروازہ بند کیا،ادھر عنادیہ اس کی بات سن کر ان دونوں کے بیچ رشتے کا اپنے دماغ میں آتے وسوسوں سمیت سوچتے ہی جھٹکا کھاکر رہ گئی تھی،
“ارے جانم۔۔۔آؤ چائے پیو۔۔”
کچھ دیر پہلے ہوئی بدمزگی کے برعکس وہ بلکل ہلکے پھلکے لہجے میں بولا،
“نہیں پینی مجھے۔۔”
اچانک کاٹ دار لہجے میں کہہ کر وہ بیڈ پر جا لیٹی ساتھ ہی سائیڈ لیمپ آف کر کے کمفرٹر سر تک اوڑھ گئی،
“اس قدر رُوڈ بی ہیوو کی وجہ بتاؤ گی۔۔۔”
بیڈ کے پاس آکر وہ عنادیہ کے منہ سے کمفرٹر ہٹاتا پوچھا،
“چائے نہیں پینی اس میں رُوڈ بی ہیوور کہاں دکھایا میں نے۔۔۔”
آنکھیں پھیلائے وہ پھر الٹا سوال کی تھی،
“میرے سوالات کا جواب دیا کرو الٹا سوال مت کرنے لگ جایا کرو۔۔۔”
سلسبیل کا لہجہ اس بار برہم ہوا تھا،وہ جب سے اس کے رویے کو نظرانداز کررہا تھا،
“ارے بھئی دل نہیں کیا تبھی چائے نہیں پی۔۔۔فضول میں غصہ کیوں ہورہے ہیں آپ۔۔”
تپتے ہوئے اٹھ کر بیٹھتی وہ سلسبیل کے وجیہہ چہرے پر سخت تاثرات دیکھی،
“غصہ ہونے والی حرکتیں کررہی ہو تم۔۔۔ہوا کیا ہے تمہیں۔۔۔نہ کچھ بتارہی ہو نہ میرے سوال پر آگے سے سیدھے جواب دے رہی ہو بس عجیب ہی رویہ رکھا ہوا ہے۔۔۔عنادیہ شئیر کرو مسئلہ کیا ہے آخر۔۔۔”
سخت لہجے میں کہتا آخر میں وہ خود نرم پڑتا پوچھا،اس لڑکی سے چاہ کر بھی وہ سخت رویہ اختیار نہیں کرپارتا تھا،
“مطلب میں کھانا نہ کھاؤں تو آپ کو پرابلم چائے کے لیے انکار کروں تو آپ کو پرابلم مسئلہ آپ کے ساتھ ہے اور پوچھ مجھ سے رہے ہیں۔۔۔رویہ خود کا عجیب ہے اور شکوے مجھ سے ہیں۔۔۔سیدھے الفاظ میں کہہ کیوں نہیں دیتے کہ تنگ آگئے ہیں آپ مجھ سے۔۔۔”
دریہ بیگم کی باتوں کو یکدم ذہن سے فراموش کرتی وہ برس پڑی،سلسبیل ایک پل کو تو اسے دیکھتا رہ گیا،
“تم نے سوچ بھی کیسے لیا کہ میں تم سے تنگ ہوں گا۔۔”
ششدہ سا ہوکر کہتا وہ عنادیہ کے پاس بیٹھا ساتھ ہی اس کا چہرہ ہاتھوں میں تھاما،
“ہٹیں یہاں سے۔۔سونا ہے مجھے۔۔۔”
غصے میں ایک مرتبہ پھر اس کا ہاتھ جھٹکتی پیچھے سرک کر وہ دوسری کروٹ لیے لیٹ گئی،سلسبیل چند لمحوں تک اس کی پشت کو دیکھتا رہا پھر اٹھ کر لائٹ آف کرتا واپس بیڈ پر آیا،اس کا ارادہ چائے پی کر آفس کے کچھ کام نپٹانے کا تھا مگر عنادیہ کے خیال کے غرض اپنے ارادے ترک کیے وہ سیدھا بیڈ پر آیا،لیٹتے ہی سلسبیل نے سب سے پہلے اسے اپنے قریب کیا،
“چھوڑیں سلسبیل۔۔۔مجھے سکون سے سونے دیں۔۔”
اندھیرے میں خود کو مقابل کے بازوؤں کے ہلقے میں دیکھ وہ بری طرح چڑتی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتی دور ہونے لگی،
“شش۔۔۔چپ بلکل۔۔”
اسے مضبوطی سے تھام کر اپنے سینے میں بھینچتا سلسبیل دھیمی آواز میں تھوڑا برہمی سے بولا،
“جانتا ہوں ان دنوں کچھ مصروفیات کے باعث وقت نہیں دے پاتا تمہیں تبھی اس قدر چڑچڑی ہوگئی ہو پر ڈونٹ وری کل کا پورا دن سلسبیل مراد اپنی جانم کے ساتھ گزارے گا۔۔۔”
اس کی پیشانی پر اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا سلسبیل نرم لہجے میں سوگوشی کیا،جبکہ عنادیہ کا ذہن لفظ مصروفیت پر اٹکا،دل میں پھر بدگمانی آئی کہ کس طرح کی مصروفیت ہے مقابل کو،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آفس سے تھکا ہارا وہ آج پھر سیدھا ہاسپٹل میں آیا تھا،وجیہہ چہرے پر بڑھی شیوو اور بلا کے سنجیدہ تاثرات سمیت گہرے ہلقے لیے ویران آنکھیں اندر کے کھوکھلے پن کی غمازی کررہی تھیں،سختی سے لب بھینچے وہ دنیا جہاں سے بےخبر اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا،اتنے مہینوں میں وہ کتنا پچھتایا تھا اپنے کیے پر،اتنے مظالم ڈھایا تھا اس لڑکی پر کہ اب یہ پچھتاوا اس کی زندگی اجیرن بنانے لگا تھا،ناجانے اس لڑکی میں کیسا تاثر پیدا ہوا تھا کہ ان مہینوں میں وہ روز اس کے پاس آتا تو تھا اور گھنٹوں تک اس کے وجود کو خاموشی سے دیکھتا رہتا پر ہمت جیسے بلکل نہ تھی اسے زرا سا چھونے کی بھی،اس کے ہوش میں آنے کی دعا کرتا وہ دل میں موہوم سی امید تو لیے رکھا تھا کہ جب وہ ہوش میں آئے گی تو یقیناً اسے معاف کردے گی مگر نادان شخص یہ بھول چکا تھا کہ موم جب ایک مرتبہ پتھر بن جائے تو اسے واپس پگھلانا ناممکنات میں شمار ہوجاتا ہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں جانتی ہوں بیٹا تم ناراض ہو اس بات پر لیکن تم ہی بتاؤ ہم سب خود ہی اتنا الجھے ہیں کہ منتشر ذہن میں تمہیں بتانے کا خیال تک نہ آیا،
آج شام وہ سلسبیل کی غیر موجودگی میں دریہ بیگم کی اجازت لیتی سکندر ولا آئی تھی مگر یہاں آکر جب اسے مطیبہ کے بارے میں مہناز بیگم نے بتایا تو عنادیہ سخت رنجیدہ ہوئی،اسے اپنے بھائیوں سے اس طرح کی امید نہیں تھی،وہ دکھی تھی ساتھ مہناز بیگم سے بھی اکھڑی اکھڑی ہوئی جس پر انہوں نے غمگین لہجے میں کہا،
وہ ملنا چاہتی تھی مطیبہ سے تبھی کچھ سوچتی سلسبیل کو میسیج کی،ان دونوں کے بیچ اس رات کی بدمزگی کو گزرے ایک ہفتہ ہوچکا تھا،اس ایک ہفتے میں سلسبیل نے اسے جتنا وقت دیا اور جس قدر محبت سے اس کے ساتھ رہا کافی حد تک عنادیہ نارمل ہوچکی تھی اس کے ساتھ،
کچھ دیر بعد سکندر ولا سے نکل کر وہ کار میں بیٹھتی فرمان کو واپسی مینشن جانے کا بولی ساتھ ہی سلسبیل کا نمبر ملائی،مہناز بیگم کے سامنے وہ کال نہیں کرسکتی تھی ڈر تھا کہ کہیں یہ بات ان کے ذریعے فلذہ تک نہ پہنچے،
“ہیلو۔۔۔”
دوسری جانب سے آتی اجنبی مردانہ آواز پر عنادیہ کچھ چونکی،فون کان سے ہٹائے وہ ایک مرتبہ نمبر دیکھی جو سلسبیل کا ہی تھا،
“سلسبیل۔۔”
کنفیوز ہوتی وہ پکاری،
“بھابھی میں عفان۔۔”
دوسری جانب سے تعارف کروایا گیا جس پر عنادیہ کچھ اور الجھی،
“عفان۔۔سلسبیل۔۔کا فون۔۔۔”
“جی بھابھی دراصل کچھ کلائنٹس کو کال کرنے کے لیے سر کا فون لیا تھا میں نے۔۔۔”
“اچھا کہاں ہیں سلسبیل۔۔؟”
کچھ پرسکون ہونے پر وہ پھر پوچھی،
“سر اور میں تو کورٹ میں ہیں۔۔۔رکیں میں دیتا ہوں سر کو فون۔۔”
عفان کی بات پر عنادیہ بری طرح الجھ کر رہ گئی،کورٹ میں سلسبیل کیوں گیا تھا یہ اس کی سوچ سے بالاتر ہوا،
“عفان فون رکھو۔۔۔اور جلدی ادھر آؤ۔۔”
دوسری جانب سلسبیل کی پیچھے سے آواز سنائی دی،
“سر لیکن کال پر۔۔”
“کال چھوڑو۔۔نکاح کے بعد مجھے جانا بھی ہے کام سے۔۔۔سنابِل جب سے بیٹھی ہے۔۔جلدی آؤ۔۔۔”
ایک مرتبہ پھر آتی سلسبیل کی اس آواز نے عنادیہ کو سٹل کردیا،پتھر بنی وہ ساکت سی مقابل کی بات کو سنی تھی،ذہن میں آج دوپہر سنابِل کا بنا دریہ بیگم کو کچھ بتائے فرمان کے ساتھ کہیں جانا آیا،بھرائی نظروں سمیت بمشکل وہ خود کو سنبھالی،موبائل گرتے گرتے بچا تھا ہاتھ سے،پل میں اسے اپنا سب کچھ ختم ہوتا لگا،تبھی فرمان نے مینشن پر کار روکی،
فوراً سے پہلے کار سے اترتی وہ تیزی میں اندر کی جانب بھاگی،اتفاقاً ہال میں کوئی نہ تھا تبھی اپنے روم کی طرف بڑھتی وہ دھاڑ کی آواز سمیت دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی،اب تک جیسے بےیقینی کی کیفیت طاری تھی اس پر،اپنا سر تھامتی وہ زمین پر بیٹھتے اچانک روئی تھی پھوٹ پھوٹ کر،ذہن میں ہر مرتبہ کی طرح سنابِل اور سلسبیل کی تصاویر ابھری اور نفی میں سر ہلاتی وہ بآواز روئی تھی،
“میں۔۔نے کہا تھا کہ آپ۔۔بیزار ہیں مجھ سے۔۔ا۔۔اور وہی ہوا۔۔دھ۔۔دھوکہ۔۔دے دیا۔۔مجھ۔۔مجھے۔۔مذاق بنادیا میری محبت کا۔۔”
زیرِ لب بڑبڑاتی وہ آخر میں موبائل زور سے پٹخی تھی زمین پر،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نکاح سنابِل کے کہنے پر مجبوراً سلسبیل کو کورٹ میں سادگی سے کرنا پڑا،چونکہ عفان کے ماں باپ کو اس پر کوئی اعتراض نہ تھا تو اسے زیادہ پرابلم نہ ہوئی،انہیں بھی سنابِل اپنے بیٹے کے لیے بےحد بھائی تھی جبکہ عفان کا حال کچھ یوں تھا اس دوران جیسے دلی مراد بنا کہے پوری ہوگئی ہو،
“سلسبیل۔۔۔”
نکاح کے بعد اس کا ارادہ عفان کے ماں باپ سے مل کر ساتھ عفان کو بھی سنابِل کی جانب سے نصیحت کرکے جانے کا تھا مگر عین وقت پر نکلتے سنابِل اسے پکار اٹھی،
“آپ نے بتایا تو نہیں نا دریہ آنٹی اور عنادیہ آپی کو۔۔”
وہ پہلے ہی سلسبیل کو انکار کی تھی ان دونوں کو اس سلسلے میں بتانے سے،سنابِل کا ارادہ تھا کہ سلسبیل نکاح کے دوسرے دن ان دونوں کو عفان کے گھر لاکر سرپرائز دے،کچھ اسے عنادیہ کو بھی مطمئن کرنا تھا،
“بےفکر رہو نہیں بتایا۔۔”
مسکراکر کہتا وہ سنابل کے سر پر ہاتھ پھیرا،
“آپ کل آئیں گے نا لازمی ان دونوں کو لے کر۔۔”
اس کے جواب پر مطمئن ہوتی وہ پھر پوچھی،
“ضرور آؤں گا۔۔”
ہلکا سا ہنس کر سلسبیل بولا ساتھ ہی ان لوگوں کے کورٹ سے جانے کے بعد خود بھی نکلا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“واٹ۔۔۔مطیبہ کو ہوش آگیا۔۔۔مام آپ ہوش میں تو ہیں۔۔”
بےیقینی کے عالم میں کہتی فلذہ اچانک فون پیچھے کر کے دیکھی،مہناز بیگم دوسری جانب سے غصے میں کال کٹ کرچکی تھیں،
“کیا ہوا۔۔”
کار ڈرائیو کرتا سیفی پوچھا،
ان دونوں کا بہت جلد پیچ اپ ہوا تھا اور اس میں زیادہ تر ہاتھ فلذہ کا تھا وہ سیفی کو سلسبیل کے جانب سے ملے دھوکے کا کچھ یوں بولی تھی کہ سیفی مان جائے اور ہوا بھی یہی،وہ حیران ہوئی تھی سیفی کے بنا کسی سوال کے جلدی مان جانے پر،اور اب وہ اکثر اس کے ساتھ ہی زیادہ تر اپنا وقت گزارتی،
“جو نہیں ہونا چاہیے تھا وہ ہوگیا۔۔۔”
تنفر سے کہتی فلذہ پریشان ہوتی سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائی،
“خیر چھوڑو۔۔سیفی کسی بار میں چلو پورا موڈ خراب کردیا ماما نے۔۔۔”
بگڑے چہرے سمیت کہتی وہ شیشے کے باہر دیکھنے لگی،
کافی دیر بعد بھی جب سیفی مسلسل کار ڈرائیو کرتا رہا تو فلذہ ٹھٹھکی،
“سیفی بار جانے کا کہا تھا یہ کہاں جارہے ہیں ہم۔۔۔”
خشمگیں نگاہوں سے سیفی کو دیکھ وہ گویا ہوئی،
“بہت جلد پتا چل جائے گا ڈارلنگ۔۔۔”
مخصوص لوفرانہ لہجے میں کہتا وہ طنزیہ مسکرایا ساتھ ایک جگہ پر کار روک کر فلذہ کو دیکھا،
“اب کار کیوں روک۔۔”
جھنجھلاتی ہوئی فلذہ کی آواز حلق میں ہی رہ گئی جب اچانک سیفی اس کی ناک پر رومال رکھا،لمحے میں وہ پھٹی آنکھوں سمیت مچلی تھی مگر مضبوطی سے اس کے چہرے پر سیفی رومال جمائے رکھا،اگلے ہی لمحے جب وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی تب نفرت سے اسے گھور کر سیفی فون نکالا،
“جیسا کہا تھا ویسا کردیا۔۔۔اب کہاں پہنچانا ہے اسے۔۔۔”
اس کے بےہوش وجود کو دیکھ کال پر وہ پوچھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
