Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 29)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 29)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
“کون ہے تُو۔۔۔؟”
مقابل کا ہڈی میں آدھ چھپا چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہناد غصے میں پوچھا،تبھی وہ ہڈی چہرے پر سے ہٹایا اور ہناد کے تاثرات پل میں بگڑے،
“اوہ۔۔تُو۔۔”
سلسبیل کو دیکھ وہ تمسخر سے کہا،
“ہاں۔۔میں۔۔”
سرد لہجے میں بول کر وہ آگے بڑھا،
“کیوں دوست اپنی زندگی پیاری نہیں جو آج خود ہناد سکندر کے پاس چل کر آیا ہے۔۔۔ویسے ٹھیک ہی ہے اس سناٹے میں تجھے اس رات سے زیادہ بدتر انداز میں مارنے کا الگ ہی مزہ ہوگا۔۔”
ایک نظر ہر جانب ہوئے سناٹے کو دیکھ وہ تمسخر اڑاتی نظروں سمیت مسکرایا مگر اگلے ہی لمحے اس کی یہ مسکراہٹ سمٹی سلسبیل کو ہلکا سا ہنستا دیکھ،ایک مذاق اڑاتی ہنسی تھی اس کی،
“دوست لفظ تیری زبان پر جچتا نہیں اسے نہ ہی بول تو بہتر ہے اور جہاں تک بات مارنے کی ہے تو آجا دیکھتے ہیں آج کس میں کتنا جنون ہے اپنے حریف کو ختم کرنے کا۔۔۔”
طنزیہ ہنسی ہنس کر آخر میں وہ جنونی لہجے میں کہا ساتھ ہی بنا کوئی وقت ضائع کیے ہناد کی جانب بڑھا،تھوڑی ہی دیر میں ان دونوں کے درمیان ہونے والی مارپیٹ وہاں کے سناٹے میں ارتعاش پیدا کرنے لگی،چونکہ سلسبیل جنون میں بنارکے اس پر ہاتھ اٹھا رہا تھا تبھی ہناد کو کم ہی موقع ملا اس پر ایک دو ہاتھ اٹھانے کا،دوسرا وہ ہیثم سے جس قدر پٹا تھا اب اور ہمت نہیں ہورہی تھی،دونوں کی یہ لڑائی فضا میں اچانک ٹھاہ کی آواز سمیت رکی ساتھ ہی ہناد کی دردناک چیخ فضا میں بلند ہوئی،سلسبیل کچھ حیرت میں اسے لڑکھڑا کر نیچے گرتے دیکھا،
“تیری قسم میرے دوست۔۔۔میں تو صرف چیک کررہا تھا کہ یہ چل بھی رہی ہے یا نہیں۔۔۔”
سلسبیل بےساختہ مسکرایا آنے والی ہستی کو دیکھ جبکہ ہناد گردن موڑے بےیقینی کے عالم میں اسے دیکھتا رہ گیا جو پسٹل ہاتھ میں تھامے کھڑا تھا،
“پیام مرتضیٰ۔۔”
اس کے لبوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی،پیروں میں اٹھتی تکلیف کے ساتھ ساتھ اس کا دماغ بھی یکدم بھک سے اڑا،مقابل تو اس کا دوست تھا بہترین دوست۔۔۔!
پھر یہ کیسی دوستی تھی کہ وہ آج اس ہی کو نقصان پہنچایا تھا،سلسبیل کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجے دیکھ وہ پل میں تمام معاملہ سمجھا،
“تُو دوست تھا میرا کمینے۔۔”
غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں وہ زور سے چلایا،
“ہاں یار میں تیرا ہی دوست ہوں۔۔ٹھیک تیرے جیسا کمینہ،خودغرض اور دھوکے باز۔۔۔”
اپنی جیکٹ جھٹکتے وہ کندھے اچکاکر بولا،پیر میں اٹھتی تکلیف پر ہناد سختی سے آنکھیں میچ کر وا کیا،اٹھنے کی ناکام کوشش میں درد حد سے سوا ہوا تو وہ واپس لڑھک کر بیٹھ گیا،
“تجھے مارنے میں مجھے بہت مزہ آئے گا۔۔”
کار کی جانب جاتا سلسبیل بآواز کہا،پیام تب تک اپنی کار کے بونٹ پر بیٹھ گیا،
کچھ دیر بعد وہ کار سے نکلا تو ہاتھ میں دو چیزیں تھامی تھیں،ایک کو زمین پر رکھے سلسبیل دوسرے ہاتھ میں تھامے چاقو کو لایا،
“تجھ سے زیادہ مزہ مجھے آنے والا ہے۔۔”
مزے سے کہہ کر پیام پرسکون سا ہوکر ان دونوں کو دیکھتا اپنی جیب سے موبائل نکالا،ساتھ ہی ویڈیو ریکارڈر اون کیا،
“د۔۔دی۔۔دیکھ سلسبیل مراد۔۔می۔۔میں تجھے چھوڑوں گا نہیں اگر تُو نے کچھ بھی کیا تو۔۔۔تُو جانتا نہیں میں کیا کِیا کرسکتا ہوں۔۔”
سلسبیل کو چاقو لیے نیچے جھکتے دیکھ وہ لہجہ مضبوط بنا کر دھمکی دینے کی اپنی سی کوشش کیا مگر جب سلسبیل چاقو اس کی آنکھ کے قریب لایا تب بمشکل پیچھے سرکتا ہناد بری طرح ڈرا،
“جانتا ہوں۔۔بہت اچھے سے جانتا ہوں تُو کِیا کیا کرسکتا ہے۔۔۔دوستی میں دھوکے بازی،حسد اور دوسروں کی عزتوں پر گندی نظر۔۔۔اور یہ۔۔۔کیا اچھا ہی ہو کہ یہ گندی نظر سے دیکھنے والی آنکھیں ہی نکال دی جائیں تو۔۔۔”
رسانیت سے بولتا ہوا وہ آخر میں اچانک اپنا لہجہ برف سا سرد کیا ساتھ ہی سفاکیت سے ہناد کے سفید پڑتے چہرے کو دیکھ چاقو سیدھا اس کی آنکھ میں ڈالا،لمحوں میں ہناد کی ہذیانی چیخ بلند ہوئی،تڑپ کر بری طرح چلایا تھا وہ،تبھی جھٹکے سے چاقو کھینچے سلسبیل اس کے تڑپتے چلاتے چہرے کو نفرت سے دیکھا،
“نہ۔۔نہی۔۔نہیں سابی۔۔۔معہ۔۔معاف۔۔معاف کردے یار۔۔۔می۔۔میں جانتا۔۔ہو۔۔ہوں میں نے غلط کیا۔۔۔معاف کر۔۔دے۔۔”
اپنے ایک خالی خون سے بھرے پپوٹے پر سختی سے ہاتھ رکھا وہ سلسبیل کو دوسری آنکھ کے قریب چاقو لاتے دیکھ روتا ہوا گڑگڑایا،
“پہلی بات تُو نے غلطی نہیں گناہ کیے ہیں۔۔۔دوسری بات تجھ جیسے معافی نہیں سزا کے لیے ہوتے ہیں۔۔۔”
کہتے ہی سلسبیل اچانک اس کی دوسری آنکھ میں بھی چاقو ڈالنے لگا مگر عین وقت پر ہناد اس کا ہاتھ پکڑلیا،
“بھائی۔۔معہ۔۔معاف۔۔کردے۔۔فل۔۔فلذہ۔۔نے بہک۔۔بہکایا تھا مجھے۔۔۔ور۔۔ورنہ تُو۔۔تُجھے تو دوست مانتا تھا میں۔۔”
خون سے بھرے چاقو کو خوف سے دیکھ وہ بچوں کی طرح رونے لگا تھا،خوف پورے وجود کو مفلوج کرگیا تھا اس کے،ہمت نہیں تھی مقابل بیٹھے مضبوط انسان سے لڑنے یا اسے دھمکانے کی تبھی وہ یہ حربہ اپنایا،
“اسے چھوڑ۔۔یہ چھوٹی سی سزا اس کی ہے جب تُو نے عزت دار لڑکیوں کے دامن داغدار کیے۔۔۔”
کہتے ساتھ سلسبیل چاقو کا دباؤ تیزی میں بڑھایا تھا اس کی دوسری آنکھ میں،پاگلوں کی طرح چیختا ہناد اذیت میں گھرا سر زمین پر مارنے لگا،خون بھل بھل نکل رہا تھا دونوں آنکھوں سے،تکلیف اتنی تھی کہ وہ یکدم مرنے کی خواہش کرنے لگا مگر جان تھی کہ نکل کر ہی نہیں دے رہی تھی،
“آہا۔۔۔میرے موبائل کی میموری فُل ہورہی ہے۔۔جلدی کر نا یار۔۔۔”
پیچھے سے پیام کے ہانک لگانے پر سلسبیل کھڑا ہوا ساتھ ہی کٹر لے کر آیا،ایک نظر نیچے ہذیانی انداز میں مسلسل چیختے ہناد کو تمسخر سے دیکھ وہ جھک کر اس کا ہاتھ پکڑا تھا،
“نہ۔۔نہیں۔۔سابی۔۔چھوڑ۔۔دے۔۔مت۔۔مار۔۔مجھے پلیز چھوڑدے۔۔بچاؤ۔۔۔کوئی ہے۔۔”
تکلیف کی شدت برداشت نہ ہونے پر وہ تڑپ کر چیخ رہا تھا مگر وہاں دور دور تک اس کی چیخ سننے والا کوئی نہ تھا،طنزیہ ہنسی ہنستا سلسبیل اسکی انگلی پر کٹر کو پھنسایا تھا اور بنا ہناد کے گڑگڑانے کو خاطر میں لائے اگلے لمحے اس کی انگلی کاٹ دی،ہناد کو لگا وہ مرجائے گا،اس بار درد جس قدر بڑھا تھا اس کی آواز ہی مقفود ہوکر رہ گئی،پیروں کو پاگلوں کی طرح زمین پر مارتا وہ مسلسل سر نفی میں ہلانے لگا،
وہ جتنا تڑپ رہا تھا سلسبیل کو اتنا ہی سکون محسوس ہورہا تھا،اگلے منٹوں میں وہ پرسکون سا ہوتا ایک ایک کرکے اس کی انگلیاں کاٹنے لگا،
“پی۔۔پیا۔۔پیام۔۔۔میر۔میرے۔۔بھا۔۔بھائی۔۔بچ۔۔بچا۔۔لے۔۔”
اب کی بار تکلیف سے بےحال ہوتا ہناد دبی آواز میں بولا،ہر جانب چھائے اندھیرے سمیت شدت سے اٹھتے درد پر اسے احساس ہوا تھا کہ جب سلسبیل کی آنکھوں میں وہ کیمیکل ڈالا ہوگا تو اس پر کیا گزری ہوگی،
“میرے دوست۔۔میں تجھے ضرور بچاتا اگر یہ ویڈیو نہ بنانی ہوتی تو۔۔۔تو سوری ہاں۔۔”
مزے سے کہتا وہ پھر بےنیاز بن کر ویڈیو ریکارڈ کرنے میں مصروف ہوا،ادھر ہر بڑھتی تکلیف کے ساتھ ہناد کے ذہن میں اپنے کیے گناہ آئے،وہ تڑپ کررہ گیا سب سوچ کر ہی،جانتا تھا دولت کے نشے میں چُور کتنی لڑکیوں کو اس نے داغدار کیا تھا،کسی کو دھوکہ دے دیتا،پر اب ان سب سوچوں کا کیا فائدہ،تڑپتا گڑگڑاتا وہ بری طرح سسکنے لگا تھا،اور اپنی سسکی میں اسے وہ لڑکی یاد آئی جس کی بہن کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی،یک بیک ذہن کے پردے میں مطیبہ کا بھی سسکنا تڑپنا یاد آیا تو وہ بآواز رونے لگا،کتنا خوش ہوتا تھا وہ اسے تکلیف دے کر،ڈرا کر،اس پر الزامات عائد کر کے،
سلسبیل تنفر سے اس کے بےسدھ ہوتے وجود کو دیکھ اٹھا پھر واپس کار کی جانب گیا اب آیا تو ہاتھ میں کلہاڑی تھی،
“اے بھائی۔۔بےچارے کی جان لے گا کیا۔۔۔”
وہ ہناد کے قریب آتا شدید اشتعال کے عالم میں کلہاڑی فضا میں بلند کیا تھا تبھی پیام نے جھٹ سے کہا،
“کیا مطلب۔۔”
سسلبیل کچھ حیران ہوا،
“مطلب یہ کہ۔۔جان لے کر ایک ہی مرتبہ آزادی ساری تکالیف سے۔۔۔ارے بھئی زندہ چھوڑ تاکہ ساری زندگی معزور رہ کر گزارے تو سمجھ میں آئے کیسا فیل ہوتا ہے جب آپ دوسروں کو بےبس کردیتے ہو۔۔۔”
اپنی عقل مندی کا مظاہرہ کرتے پیام جس طرح سے سلسبیل کو پلین بتارہا تھا ہناد کی تکلیف میں اتنا ہی اضافہ ہوا،وہ بہت بھروسہ کرتا تھا اس شخص پر اور آج وہی اس کس مزے سے اس کی سزا تجویز کررہا تھا،
“ابے یار۔۔یہ پلین تو میرے دماغ میں آیا ہی نہیں۔۔”
سلسبیل مصنوعی حیرت کا اظہار کرتے بولا،
“ہیں۔۔تیرے پاس دماغ بھی ہے نئی خبر سنائی یار۔۔”
پیام اس سے بھی بڑھ کر حیرت سے کہا جس پر سلسبیل کی مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی،
“سدھر جا سالے۔۔”
اسے گھور کر سلسبیل نے کہا پھر ہناد کی طرف متوجہ ہوا،
“اب اس کا کریں گے کیا۔۔؟”
ریکارڈر بند کرکے پیام اس سے سوال کیا،
“میرے فام ہاؤس لے چلتے ہیں اسے۔۔۔پھر وہی مہینے دو مہینے علاج کرینگے اس کا۔۔۔”
ہناد کے نڈھال پڑے وجود کو دیکھ سلسبیل بولا،
“چلتے ہیں نہیں۔۔چلا جا۔۔۔تُو جا اسے لے کر۔۔۔میں تب تک تیرے کیے کارنامے کے ثبوت مٹاتا ہوں۔۔”
وہ سلسبیل کو یاد دہانی کروایا جس پر سلسبیل کا قہقہہ بلند ہوا جبکہ زخم سے چور ہوتے جسم سمیت اپنے حال پر بےبسی سے پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا ہناد سکندر،اس مرتبہ نیچے جھک کر سلسبیل ہناد کے بالوں کو مٹھی میں جکڑا،
“کیوں دوست چلو گے اپنی خدمت گاہ میں۔۔۔ہمیشہ کے لیے۔۔”
اس کی بےبسی پر تمسخر سے کہہ کر سلسبیل جھٹکے سے اس کے بالوں کو کھینچا کہ چند بال ہاتھ میں آتے ساتھ ہناد کی وحشت بھری چیخ نے ہر طرف شور سا برپا کردیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسپٹل میں بیٹھا وہ زیرِ لب یہی دُعا کررہا تھا کہ اسے کچھ نہ ہو،اپنے خون سے رنگین ہاتھوں کو دیکھ وہ اذیت سے آنکھیں میچا،ان ہاتھوں میں اسی کا خون لگا تھا جسے اتنے سالوں سے اذیتوں میں گھرائے رکھا تھا،جس پر اس نے نفرت میں اندھا ہوکر زندگی تنگ کردی تھی اتنی کہ آج اس لڑکی نے اس کے ساتھ سے بہتر موت کو گلے لگانا سمجھا،یوں تو یہ سوسائیڈ کیس تھا مگر وہ جانتا تھا کہ اگر اسے کچھ ہوا تو ہیثم کی نظر میں وہ قتل ہوگا،آخر اس ہی نے تو مارا تھا مطیبہ جہانگیر کو،اس کی روح کو جس قدر گھائل کیا وہ اندر سے مرہی تو چکی تھی آج صرف اپنے لاش کے مانند جسم کو ختم کیا تھا،دکھ و بےبسی کی عالم میں آج اپنی نفرت پر پچھتاوے کے سوا کر ہی کیا سکتا تھا وہ،کتنا روئی تھی وہ لڑکی،ہر بار اسے خود پر یقین کرنے کا کہتی مگر اس نے کیا کِیا تھا،بنا کچھ سوچے کسی بھی تحقیق کے بغیر اس پاک دامن پر بدکردار کا ٹیگ لگادیا،اس کی عزتِ نفس کو ہر بار روندتا اپنے لفظوں کے تیر سے اس کی روح چھلنی کر ڈالتا،اس سوچ کے ذہن میں آتے ہی وہ اپنا سر جکڑگیا،تبھی اوپریشن تھئیٹر کھلا تھا اور چونک کر کھڑا ہوتا ہیثم لیڈی ڈاکٹر کو نکلتے دیکھ جلدی سے آگے بڑھا،
“ڈ۔۔ڈاکٹر۔۔وہ۔۔”
گھبراہٹ جس قدر طاری تھی اس پر وہ بول بھی نہیں پایا تھا،بس جسم کا ہر عضو کان بنا ڈاکٹر کے منہ سے یہ لفظ سننے کا منتظر تھا کہ وہ ٹھیک ہے مگر ناجانے کیوں دل عجیب خوفزدہ تھا مقابل کھڑی ڈاکٹر کے مایوس چہرے کو دیکھ،
“تحمل سے بات سنیں مسٹر۔۔۔ہم نے اپنی طرف سے مکمل کوشش کی لیکن سر پر گہری چوٹ لگنے کے باعث خون بہت بہہ چکا ہے اور چونکہ ان کا مِسکیریج بھی ہوا ہے تو۔۔۔سوری پیشنٹ کوما میں چلی گئیں ہیں۔۔”
ڈاکٹر پیشہ وارانہ انداز میں کہی تھیں مگر ہیثم پتھرائی نظروں سے انہیں دیکھتا رہ گیا،دل میں درد کی جو بری ٹیس اٹھی تھی اسے لگا وہ اس کا سینا چیر دے گی،ڈاکٹر کے کہے الفاظ اسے انگارے کے مانند اپنے جسم کو جلاتے محسوس ہوئے،بےجان ہوئے قدموں کی وجہ سے لڑکھڑاتا وہ گرنے کے انداز میں بینچ پر بیٹھا،اپنی نفرت،غصے اور انا کی بدولت وہ اتنا اندھا ہوچکا تھا کہ اس لڑکی کی حالت پر بھی نہ سمجھ پایا،یکدم دماغ میں وہ دن آیا جب وہ جھٹکے سے مطیبہ کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا تھا تب مطیبہ کا پیٹ پر ہاتھ رکھے کراہنا اور اس کے سوال پر بوکھلانا،وہ کرب سے آنکھیں میچا،
“ہوسکتا ہے انہیں چند دنوں میں ہوش آجائے یا چند ماہ یا پھر سال بھی لگ سکتے ہیں۔۔۔اور یہ بھی کہ شاید کوما میں ہی ان کی موت واقع ہوجائے۔۔”
وہ جھٹکے سے آنکھیں کھولا تھا اس بات پر مگر ڈاکٹر تب تک آگے بڑھ چکی تھیں،آج ہیثم سکندر ہارا تھا،بہت برا ہارا تھا خود سے،اپنی نفرت سے اور اس لڑکی سے،یوں لگا تھا جیسے مطیبہ جہانگیر کے صبر کی مار پڑی ہو اسے،بےاختیار سسکتا وہ اچانک آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے آنسوؤں کو صاف کیا،ضبط سے سرخ چہرہ لیے وہ آج دنیا جہاں سے بےخبر مطیبہ جہانگیر کے لیے رو رہا تھا،اس لڑکی کے لیے جس سے کبھی وہ بےپناہ نفرت کا دعویدار تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہناد کو فارم ہاؤس میں اپنے آدمیوں کے زد کرتا وہ رات دیر کو مینشن پہنچا تھا،پیام سے راستے میں بات ہوئی تھی،وہ تمام ثبوت مٹاچکا تھا،اب ایک نظر اپنی گرے ہڈی پر لگے ہناد کے خون کے دھبوں کو تنفر سے دیکھ وہ ہال میں ہی ہڈی اتار کر صوفے پر پھینکا تھا،اندر بلیک ویسٹ پہنے اس نے ابھی اپنے روم کے جانب قدم بڑھائے ہی تھے کہ گیسٹ روم میں کسی چیز کے گرنے کی زوردار آواز آئی،وہ تھوڑا چونکا تھا،مضبوط قدم خودبخود مڑ کر گیسٹ روم کی جانب گئے،دروازے پر پہنچ کر اس نے آہستگی سے ناک کِیا،دوسری جانب سے خاموشی پاکر سلسبیل واپس روم میں جانے کا ارادہ کیا تھا مگر تبھی جھٹکے سے گیسٹ روم کا دروازہ کھلا،خوف سے زرد پڑتا چہرہ لیے سنابِل اسے دیکھتے ہی آگے بڑھ کر سلسبیل کے کشادہ سینے میں چہرہ چھپائی تھی،دوسری جانب سلسبیل کی منتظر عنادیہ بھی گرنے کی آواز سن کر کچھ سوچتی اٹھی ساتھ ہی حیرت میں روم سے نکلی مگر وہ اگلے قدم پر ہی ٹھٹھک کر رکی،قدم زنجیر ہوئے تھے سلسبیل اور سنابِل کو گلے لگے دیکھ،آنکھیں بےیقین ہوکر پھیلیں،اسے شدید جھٹکا لگا تھا حیرت کا،
لمحوں میں سلسبیل سنابِل کو خود سے دور کیا تھا،
“یہ کیا بےشرمی ہے۔۔”
چہرے پر ناگواریت بھرے تاثرات لیے وہ دھیمے لہجے میں پوچھا،چونکہ اس کی آواز دھیمی تھی تو عنادیہ کی سماعت تک نہ پہنچ پائی،وہ تو بس ان دونوں کو خاموش نظروں سے دیکھ مردہ قدم اٹھائے واپس روم میں گئی تھی،
“سہ۔۔سو۔۔سوری پر۔۔وہ۔۔وہ جو ویڈیو آپ نے سینڈ کی۔۔۔وہ اس میں کتنی بری طرح مارا ہے آپ نے اسے۔۔۔مجھے بےحد خوف محسوس ہوا اس کی حالت دیکھ۔۔۔اور میں۔۔سوری۔۔بوکھلاہٹ میں غلطی ہوگئی مجھ سے۔۔۔”
بار بار بال کو کان کے پیچھے اڑستی تو کبھی انگلیاں چٹخاتی وہ بہت کنفیوز ہوکر اسے شرمندہ سی وضاحت دے رہی تھی،البتہ چہرے پر خوف کی لکیریں تصدیق کی تھیں اس کی باتوں کی،ایک نظر سلسبیل اندر کمرے میں ڈالا جہاں کل ہی اس کا لایا نیو موبائل نیچے گرا اپنی ناقدری پر ماتم کناں تھا،
“وہ انسان اس ہی لائق تھا اور تم نے ہی تو کہا تھا کہ اسے عبرتناک سزا دی جائے۔۔”
“ہاں میں نے کہا تھا۔۔مگر آنکھیں کون نکالتا ہے اور انگلیاں۔۔۔میری جان نکلنے کو ہوئی تھی وہ سب دیکھ کر،ہمت نہیں ہوئی اور آگے دیکھنے کی۔۔۔”
اس ویڈیو کا سوچ ایک مرتبہ پھر جھرجھری لی تھی سنابِل جس پر سلسبیل نفی میں سر ہلایا،
“سوجاؤ لڑکی۔۔اگلی مرتبہ اپنے ڈر کا اظہار زرا ہوش میں رہ کر کرنا۔۔”
سنجیدگی سے اس پر طنز کرتا سلسبیل سر جھٹک کر اپنے روم کی طرف گیا،جبکہ اس کی چوڑی پشت کو دیکھ سنابِل ناچاہتے ہوئے بھی اداس سا مسکرائی،وہ بہت کوشش کی تھی اپنے دل پر بندھ باندھنے کی مگر ناجانے کیسا سحر تھا اس شخص میں کہ جب سامنے آتا اسے اپنا گرویدہ بنالیتا،
“جانم۔۔”
کمرے میں داخل ہوکر جیسے ہی بیڈ پر بیٹھی اپنی متاعِ جاں پر نظر پڑی اس کے اندر تک سکون سا اترا تبھی دروازہ بند کیے وہ اس کی جانب بڑھا،
“کتنی مرتبہ کہا ہے کہ میرے انتظار کے چکر میں اپنی ان خوبصورت آنکھوں کو سرخ نہ کیا کرو۔۔۔دیکھو نیند کے باعث کتنی لال ہورہی ہیں یہ۔۔”
اس کے پاس بیٹھ کر نرمی سے کہتا وہ عنادیہ کی لال ڈورے سے سجی کالی آنکھوں پر جھکا مگر سپاٹ چہرہ لیے وہ سلسبیل کو فوراً سے پہلے دور کرتی اُٹھی،
“آپ چینج کرلیں۔۔۔میں کھانا لگاتی ہوں۔۔”
بےتاثر لہجے میں کہہ کر وہ روم سے جانے کے لیے قدم بڑھائی مگر سلسبیل اس کی کلائی پکڑگیا،
“بھوک نہیں مجھے۔۔۔یہ بتاؤ میرے انتظار میں آج کتنے گھنٹے اور منٹس گنے۔۔۔”
روز رات اس کے لیٹ آنے پر جس طرح عنادیہ اسے گھنٹے اور منٹس گن کر بتاتی اب سلسبیل اس ہی کے بارے میں پوچھتا کھڑا ہوا ساتھ ہی عنادیہ کی کمر پر پیچھے سے دونوں بازو حائل کرتا اس کے کندھے پر تھوڑی رکھا،
“لڑکی۔۔موڈ کیوں خراب ہے بتاؤ مجھے فوراً۔۔۔”
تھوڑی اس کے کندھے پر رکھے ہی وہ اچانک سنجیدگی سے پوچھا ادھر عنادیہ کے خوبصورت چہرے پر لمحوں میں تکلیف کے آثار ابھرے،وہ منظر یاد آتے ہی دماغ ہلکا ہونے لگا،
“کوئی بات ہے تو کلئیر کرو مجھ سے۔۔۔”
اسے عنادیہ کا رویہ باقی دنوں کے مقابل کافی مختلف لگا تبھی پھر کہا ساتھ ہی اس کی پتلی سفید گردن پر دمکتے ان تِلوں کو اپنے عنابی لبوں سے چھوا،وہ سسکی تھی کہ پہلی مرتبہ یہ نرم لمس اسے خوشگوار احساس بخشنے کے بجائے تکلیف میں اضافہ کیا تھا،
“مجھے نیند آرہی ہے۔۔۔”
مقابل کا نرم گرم لمس جابجا اپنی گردن پر محسوس کیے وہ زچ ہوکر بولی،سلسبیل رکا تھا،ماتھے پر ہلکی شکن پڑی عنادیہ کے لہجے پر اور اگلے ہی لمحے اس کا رخ اپنی جانب کرتا وہ ایک ہاتھ نرمی سے اسکے گال پر رکھتا پوچھا،
“کیا ہوا ہے عنادیہ۔۔۔بتاؤ کس بات پر تمہارا رویہ اتنا عجیب ہے۔۔۔گرینی کی کوئی بات بری لگی ہے۔۔۔”
وہ جانتا تھا کہ دریہ بیگم اور عنادیہ کے درمیان کبھی کوئی بدمزگی نہیں ہوسکتی مگر پھر بھی احتیاطاً پوچھا،
“نہ ہی گرینی کی کوئی بات بری لگی ہے نہ ہی میرا رویہ عجیب ہے۔۔۔مجھے بس نیند آرہی ہے سلسبیل۔۔”
اس بار خود پر قابو پاتی وہ زبردستی مسکراکر بولی،سلسبیل مطمئن نہ ہوا تھا کیونکہ لفظوں کے بطور عنادیہ کا لہجہ واضح جھوٹ بول رہا تھا،
“واقعی۔۔”
وہ جیسے تصدیق چاہ رہا تھا،
“ہاں بلکل۔۔کوئی بات نہیں ہے۔۔”
عنادیہ کو لگا وہ رو دے گی اگر مقابل ایک مرتبہ پھر اس سے کوئی سوال کیا تو،جبکہ سلسبیل مسکراتا ہوا اس کے چہرے پر جھکا پھر نرمی سے اس کی پیشانی چوم واش روم کی جانب گیا،
اس کے جانے کے بعد اپنی تیزی سے بھیگتی آنکھوں کو صاف کرتی وہ لائٹ آف کرکے بیڈ پر جالیٹی،کچھ دیر بعد نہاکر ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں باہر آتا سلسبیل ایک نظر سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کی روشنی میں عنادیہ کے دمکتے چہرے کو دیکھا پھر بالوں پر برش کرتا بیڈ پر آلیٹا،روز کی روٹین کے خلاف عنادیہ کا مکمل دوسری جانب کونے سے لگ کر سونا اسے تھوڑا کھلا تبھی ہاتھ بڑھا کر وہ اسے قریب کیا ساتھ ہی اپنے بازو کے حلقے میں لے کر عنادیہ کی پشت اپنے سینے سے لگاکر اسے تقریباً خود میں بھینچ گیا،وہ جو مقابل کے باہر نکلنے پر فوراً سوتی بنی تھی اب نمکین پانی سے بھری آنکھیں وا کی،
“جانم ہمارے لیے میری محبت کافی ہے تم صرف مجھ پر اپنا بھروسہ ہمیشہ قائم رکھنا۔۔”
روز کی طرح اس بار بھی وہ عنادیہ کے کان میں نہایت دھیمی سرگوشی کیا ساتھ ہی اسکی کان کی لُو پر لب رکھ کر آنکھیں موند گیا،ادھر عنادیہ اس سرگوشی پر خوش ہونے کے بجائے دکھ میں مبتلا ہوئی تھی،اپنی نم پلکیں جھپک کر وہ بمشکل سونے کی کوشش کرنے لگی مگر نیند جیسے آج آنکھوں سے کوسوں دور تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
