Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 23)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 23)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

روشنی کی کرنیں اس کی آنکھوں میں پڑیں تو چہرے پر ہاتھ رکھتی دوسری کروٹ لے گئی،یوں لگا جیسے کوئی اسے پکارا ہے مگر اپنا وہم سمجھتی وہ ایک مرتبہ پھر نیند کی وادیوں میں کھونے لگی اور تبھی،کسی نے بازوؤں سے پکڑ کر تقریباً اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا،بوکھلا کر بیٹھتی وہ بیدار ہوتے ذہن سمیت ہر جانب نظر دوڑاہی رہی تھی کہ جب سامنے وہ دِکھا،وجیہہ چہرے پر بلا کے سنجیدہ تاثرات لیے وہ اس کی طرف ہی متوجہ تھا،

“اچھی بیویاں شوہر کے اٹھنے سے پہلے ہی ان کا ناشتہ تیار کر کے رکھتی ہیں تاکہ وہ لیٹ نہ ہوجائیں۔۔۔”

عنادیہ کو امید نہ تھی مقابل کے منہ سے اس طرح کی بات کی،وہ ششدہ سی اسے دیکھے گئی پھر ذہن میں خیال آیا،کیا واقعی وہ لیٹ اٹھی تھی،ٹائم دیکھنے پر ایک اور جھٹکا لگا،دیوار پر لگی گھڑی سات بجارہی تھی،جبکہ مقابل رویہ ایسے برت رہا تھا جیسے عنادیہ نے نو دس بجادیے اٹھنے میں،

“میں جلدی اٹھنے کا عادی ہوں لہٰذا روٹین جلد ٹھیک کرلو اپنی۔۔۔”

اس کے سنجیدگی سے کہنے پر عنادیہ گھوری تھی،ایک تو کل زبردستی نکاح کیا اور اب ایک دن کی بیوی کا لحاظ تک نہیں کررہا تھا،یکدم اسے غصے نے آلیا تبھی ڈھیٹ بننے کا مظاہرہ کرتی وہ اس کے سامنے واپس لیٹتی سر تک کمفرٹر اوڑھ گئی،سلسبیل چند پل تو خاموشی سے اس لڑکی کو دیکھے گیا،

“کر تو ایسے رہی ہو جیسے رات پر جگایا تھا میں نے۔۔۔”

اور اس کے ایسے معنیٰ خیز لہجے پر جھٹکے سے کمفرٹر ہٹاتی وہ تقریباً بھاگی تھی واشروم کی جانب،سلسبیل مسکراہٹ دبائے محظوظ ہوا تھا اس کے سرخ پڑنے پر،

کچھ دیر بعد وہ اس ارادے سے نکلی تھی کہ اب تک وہ جاچکا ہوگا مگر معائے افسوس واشروم کے عین باہر دیوار سے ٹیک لگائے وہ اس ہی کا منتظر لگ رہا تھا،مقابل کو ٹھیک سامنے کھڑے دیکھ عنادیہ کا دل دھڑکا تھا،اسے کچن میں جانا ہی مناسب لگا،

“جانے سے پہلے میرے کپڑے نکال جاؤ وارڈروب سے۔۔”

رسانیت سے اسے زچ کرتا وہ واشروم میں جاچکا تھا،اس کے واشروم میں جانے کے بعد بھی عنادیہ کافی دیر تک حیرت زدہ سی وہی دیکھتی رہی،مقابل کا انداز بتارہا تھا کہ وہ اسی تپانے کے موڈ میں ہے،ماتھے پر شکن لیے وہ وارڈروب کے پاس گئی،بہت سوچ کر اس کی ڈریسنگ نکالتی باہر نکل کر کچن کا رخ کی،کچھ ہی دیر میں سلسبیل چینج کرتا سیدھا کچن میں ہی آیا،

“ٹراؤزر اور ٹی شرٹ میں کبھی کسی کو آفس جاتا دیکھا ہے تم نے۔۔۔”

وہ ناشتہ تیار کرتی ابھی ارادہ کر ہی رہی تھی باہر ڈائننگ ٹیبل پر رکھنے کا تبھی اندر داخل ہوتے سلسبیل کے بولنے پر اسے دیکھی،آفس کے لیے بلکل تیار وہ کوٹ بازو میں لیے عنادیہ سے استفسار کیا تھا،جانتا تھا وہ اس سے بدلہ لینے کے غرض ایسی ڈریسنگ نکالی تھی،

“ناشتہ رکھو ٹیبل پر۔۔”

اپنے سوال پر اس کے جھکے سر کو دیکھتا وہ بول کر باہر گیا،عنادیہ چہرہ بگاڑے ناشتے کی ٹرے لے کر باہر آئی،اسے پہلے ہی سلسبیل کے زبردستی نکاح کرنے پر غصہ تھا،ٹیبل پر اس کے سامنے ناشتہ رکھتی وہ پلٹنے لگی،

“یہ ناشتہ ہے۔۔”

سلسبیل کے سخت لہجے پر وہ مڑ کر ایک نظر ٹرے پر ڈالی،ایک ہالف فرائی ایگ،جیم بریڈ اور ساتھ رکھا جوس کا گلاس،عنادیہ کو کچھ غلط نہ لگا تھا وہ ناسمجھی سے سلسبیل کو دیکھی،

“میں ناشتے میں دو ہالف فرائی ایگ اور پراٹھے لیتا ہوں۔۔۔ساتھ چائے۔۔جوس نہیں۔۔”

اس کے خوبصورت چہرے کو نظروں میں لیے وہ جتایا تھا،عنادیہ کے ماتھے پر ایک مرتبہ پھر بل پڑے،

“لے کر جاؤ یہ سب۔۔۔اور جو بتایا ہے وہ ناشتہ تیار کرو۔۔”

اب کے ٹیبل پر کہنیاں رکھ کر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو پھنسائے وہ مزے سے اس پر حکم صادر کیا تھا،اسے جل کر دیکھتی عنادیہ لب بھینچتی ٹرے اٹھائی،خوبصورت چہرے پر تپے ہوئے تاثرات سلسبیل بھرپور انجوائے کیا تھا،

تھوڑی دیر بعد ہاتھ میں پھر ٹرے لیے وہ آئی تھی،ٹیبل پر ٹرے رکھتے ہی وہ ایک قدم پیچھے ہٹی اور سسلبیل اب کی بار بنا ناشتہ دیکھ لب بھینچا،دو ہالف فرائی ایگ کی جگہ آملیٹ بنادیا تھا،دوسری جانب کم دودھ میں کالی ہوتی جائے،صرف پراٹھے ایسے تھے جو دیکھنے لائق لگ رہے تھے،سلسبیل نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا جو اب انجان بنتی پرسکون سی کھڑی تھی،

پھر گہری سانس بھر کر پراٹھے کا ایک نوالہ بناکر منہ میں لیا اور وہ سمجھ گیا کہ کیوں پراٹھے دکھنے میں صحیح لگ رہے تھے کیونکہ کھانے میں ٹیسٹ کچھ یوں تھا جیسے نمک کی برنی انڈیل دی گئی ہو،جھٹکے سے کھڑا ہوتا وہ عنادیہ کی جانب متوجہ ہوا جو اب تک ہلکی مسکان سجائے اس کے ضبط پر محظوظ ہورہی تھی لیکن اچانک سلسبیل کے سخت تاثرات دیکھ بوکھلائی،

“بہت اچھا ناشتہ تیار کیا ہے۔۔۔باقی تم ہی کھالینا فلحال میں آج اس پر گزارا کرلیتا ہوں۔۔”

تاثرات کے بلکل برعکس لہجہ نرمی لیے تھا،عنادیہ ابھی اس کی بات کا مطلب سمجھ ہی رہی تھی کہ وہ اس کے بازو کو گرفت میں لیتا جھٹکے سے اپنے قریب کیا اسے اور بنا کوئی موقع ضائع کیے عنادیہ کے پنکھڑی مانند گلابی لبوں پر جھکتا اپنے عنابی لبوں میں قید کرگیا،عنادیہ کے حواس بگڑے تھے،کالی آنکھیں اسٹل ہوتی پھیلیں جبکہ دل بےترتیبی سے دھڑکنے لگا،وہ امید نہیں کرتی تھی اس جسارت کی،تبھی سلسبیل کو دور کرنے کے غرض اس کے مضبوط کندھے پر ہاتھ رکھی،اپنے ہوش گنواتی اس لڑکی پر رحم کرتا وہ آہستگی سے دور ہٹا پھر مسکاتی نظروں سے اس کے سرخ چہرے کو دیکھا جس پر سے تقریباً خون چھلکنے کو ہورہا تھا،گہرے سانس بھرتی وہ حد درجہ گھبرائی ہوئی تھی،ہال کی جانب چور نظر سے دیکھتی وہ سلسبیل کو مسکرانے پر مجبور کی،

“بےفکر رہو۔۔۔گرینی سمجھدار ہیں۔۔۔کسی کو اس طرف آنے نہیں دیں گی۔۔”

اس کان کے قریب سرگوشی کرتا وہ عنادیہ کی دھڑکنوں میں حشر برپا کررہا تھا،مقابل کی قربت سے گھبراتی وہ نظریں جھکاگئی،نوکدار پلکوں کی لرزراہٹ دیکھتا سلسبیل نرمی سے گویا ہوا،

“کل بھی ایسا ہی ناشتہ بنانا تا کہ۔۔”

اس کے بےباک لہجے میں کہہ کر چپ ہونے پر عنادیہ کے بقیہ ہوش بھی اڑے تبھی اسے خود سے دور دھکیلتی وہ کچن کی جانب بھاگی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح نہایت فریش موڈ میں اٹھتا وہ سیدھا ہوکر بیٹھا، پلٹ کر عقب میں دیکھا تو وہ جو رات بھر اس کا سر دبارہی تھی اب گردن ایک جانب لڑھکائے ہوش کی دنیا سے غافل گہری نیند میں تھی،کل رات اس کا اپنے لیے فکر کرنا ہیثم کو اندر ہی کہیں تمانیت بخشا تھا،اسی وجہ سے اب اس کے خیال کے غرض جھکتا وہ سوتی ہوئی مطیبہ کا کندھا آہستگی سے ہلاتا بولا،

“مطیبہ۔۔۔ٹھیک سے سوجاؤ۔۔”

ہیثم کے ہلانے پر مندی آنکھیں وا کرتی وہ خود پر جھکے ہیثم کو ناسمجھی سے دیکھنے لگی مگر جلد ہی چونک کر بوکھلاتے ہوئے جلدی سے پیچھے ہٹی،

“آہ۔۔”

یکدم گردن میں درد کی ایک شدید ٹیس اٹھنے پر وہ کراہی،

“کیا ہوا۔۔”

حسین چہرے پر تکلیف کے آثار رقم دیکھ ہیثم تشویش سے کہتا اٹھا کیونکہ اس کے سوال پر نفی میں سر ہلاتی مطیبہ بیڈ سے اتر کر کچھ دور کھڑی ہوچکی تھی،نازک ہاتھ ہنوز گردن پر رکھا تھا،رات پر اس محبوب کی نیند میں خلل نہ پڑنے کے چکر میں وہ بیٹھے بیٹھے ہی سوگئی،نتیجتاً اب صراحی دار گردن کی ہڈی میں لچک سی آچکی تھی،

“دکھاؤ زرا مجھے۔۔”

اس کے پاس آتا ہیثم مطیبہ کی گردن پر رکھے اس کے ہاتھ کو ہٹاکر بولا،

“نہیں۔۔۔می۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔”

تکلیف تیز ہوتی جارہی تھی مگر مقابل سے گھبراکر وہ پیچھے ہٹتی بولی،ہیثم کی پیشانی پر شکنیں پڑیں،

“کہا نا دکھاؤ۔۔”

اب کی بار باقاعدہ اس کا ہاتھ جھٹک کر وہ مطیبہ کی سفید گردن پر اپنا مضبوط ہاتھ رکھا تھا،تکلیف کے باوجود وہ شدید نروس ہوئی اس کے نرم گرم لمس سے،

“ٹھیک ہے ہی۔۔ہیثم زیادہ۔۔۔درد نہی۔۔۔آآہ۔۔”

وہ جو اس کے معائنہ کرنے پر اپنی سی کوشش کررہی تھی وضاحت دینے کی،ہیثم کے اچانک گردن سیدھی کرنے سے ٹک کی آواز آنے پر درد سے کراہ اٹھی ساتھ ہی اس کے بازو پر اپنے ناخن گڑائی،خود سے قریب اس حسین چہرے پر درد کا تاثر دیکھتا ہیثم آہستگی سے اب مطیبہ کی گردن ہلایا،

“اب ٹھیک ہے۔۔”

گردن سے ہاتھ ہٹا کر اس کے دھیمی آواز میں پوچھنے پر مطیبہ نے محسوس کیا اب واقعی اسے درد محسوس نہیں ہورہا تھا،خوشگوار حیرت سمیت بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجائے وہ اثبات میں سرہلائی،ہیثم مبہوت ہوا تھا اس کے مسکرانے پر،وہ پہلی مرتبہ اسے یوں مسکراتا دیکھ رہا تھا،کوئی مسکراتے ہوئے اتنا حسین کیسے لگ سکتا تھا،گداز لبوں کا پھیلاؤ واقعی جان لیوا تھا،ایک بیٹ مِس ہوئی تھی اور یکدم خود کو کمپوز کرتا اب وہ مطیبہ پر سے نظریں ہٹائے اپنے بازو کو دیکھا جہاں ناخن کے تازہ نشانات میں سے ہلکی سی خون کی بوند واضح ہورہی تھی،

اس کی نظروں کا تعاقب کیے مطیبہ کا بھی چہرہ جھکا اور وہ بےساختہ بوکھلائی،

“سس۔۔سوری۔۔”

مقابل کا غصہ جانتی تھی تبھی رک رک کر کہتی وہ بےساختگی میں ہیثم کے بازو پر جھک کر ان پر کچھ دیر پہلے اپنے ہی لگائے گئے زخم پر لب رکھی،ایک خوش آئند سکون تھا جو ہیثم سکندر کو اس کے گداز لبوں کے لمس سے محسوس ہوا،اگلے ہی پل وہ لب اس کے بازو سے ہٹاکر دور ہوئی،مطیبہ کا ارادہ پھونک مارنے کا تھا مگر شاید وہ چہرہ چھپانا چاہ رہی تھی تبھی بوکھلاہٹ کا شکار لب رکھ گئی،اپنی طرف سنجیدگی سے دیکھتے ہیثم پر نظر پڑی تو وہ اور کنفیوز ہوئی،

“سوری۔۔پتا نہیں۔۔کیسے۔۔”

“زخم پر لب رکھنے سے زخم ٹھیک ہوجاتا ہے۔۔”

اس کی بات کاٹتا وہ مطیبہ کے دور ہٹنے پر اس کے قریب ہوتا پوچھا ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر اپنا ہاتھ اس کی گردن کے گرد حائل کیا،ایک تو مقابل کا معنیٰ خیز لہجے میں پوچھا سوال دوسرا اس کے انداز پر حد درجہ گھبرائی مطیبہ کے گال گلابی ہونے لگے،

“نہیں۔۔ممہ۔۔مطلب ہاں۔۔نہہ۔۔”

مقابل کی قربت تھی یا اپنی بےساختہ کی حرکت پر شرمندگی کہ وہ بری طرح الجھی اسے جواب دینے کے لیے لفظوں کی متلاشی تھی،

“اگر ایسا ہے تو اس زخم پر بھی لب رکھنے سے یہ جلد ٹھیک ہو جائے گا۔۔”

گہری نظروں سے اس کے گداز لبوں کو دیکھتا وہ معنیٰ خیزی سے کہا،کل رات مطیبہ کے لب کاٹنے پر جو خون نکلا تھا وہ اب خشک ہوچکا تھا،اس کے یوں بولنے پر لرزتی بوجھل ہوئی پلکوں کو بمشکل اٹھاتی مطیبہ اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگی مگر تب تک وہ اس پر جھک چکا تھا،مقابل کی اچانک کی گئی جسارت پر سُن ہوتی مطیبہ آنکھیں میچ کر اس کے کندھے پر ہاتھ ماری لیکن بآسانی اس کی کلائی پکڑتا وہ پیچھے لے جاکر مطیبہ کی نازک کمر سے لگاگیا،

“مہ۔۔ہیثم۔۔”

سانس رکنے پر بمشکل کہتی وہ اپنا چہرہ موڑی،نازک دل پاگل ہونے کے درپے تھا،دھڑکنیں عروج پر ہوتی ہیثم کو واضح سنائی دے رہی تھیں،گہرے سانس لیتی وہ اس کی آہنی گرفت کی قید میں بےبس ہونے لگی،سرخ دہکتا چہرہ اندر کی گھبراہٹ کی عکاسی کررہا تھا،تبھی اس پر رحم کھاتا ہیثم کلائی چھوڑتا پیچھے ہٹا،

اس ستمگر کی گرفت سے آزاد ہوتے ہی وہ بنا وقت ضائع کیے واشروم میں غائب ہوئی تھی،ادھر نفی میں سر ہلاتے ہیثم کے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری،اس نے یہ عمل بےساختگی میں یا جذبات کے بہکاوے میں نہیں کیا تھا بس خواہش ابھری تھی اندر ان گداز لبوں کی نرمی محسوس کرنے کی،

وہ جتنی کوشش کررہا تھا کہ اس لڑکی سے فاصلہ بنائے رکھے اتنا ہی وہ لڑکی روز بروز اس کے حواس سلب کرنے پر تلی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو آفس سے جلد آیا تھا وہ اپنے مینشن،ہال میں قدم رکھتے ہی سسلبیل چونکا دریہ بیگم کے کمرے سے دو نسوانی آواز آنے پر،چونکہ باتیں دھیمے لہجے میں ہورہی تھی تو سلسبیل کو گمان ہوا کہ اسماء اور دریہ بیگم بات کررہی ہوں گی مگر اگلے لمحے ہی وہ ٹھٹھک کر رکا جب نظر دوسری جانب کچن سے کچھ گنگناکر نکلتی اسماء پر پڑی،ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے اس کا رخ دریہ بیگم کے روم کی جانب تھا مگر سامنے ہی سسلبیل کو دیکھ رہ بوکھلا کر رکی،اسماء کے تاثرات سے لگ رہا تھا کہ وہ ابھی اس کے آنے کی توقع نہیں کررہی تھی،

“صاحب آپ اتنی جلدی آگئے۔۔۔”

بلند آواز میں کہتی وہ ایک چور نظر دریہ بیگم کے کمرے پر ڈالی تھی جیسے بول کم اور سنا زیادہ رہی ہو،سلسبیل کی زیرک نظروں سے اس کا عمل مخفی نہ رہا،

“ہاں اکثر آتا ہوں۔۔اتنا چلا کر کیوں بول رہی ہو۔۔۔”

سنجیدگی سے کہہ کر وہ دریہ بیگم کے کمرے کی طرف قدم بڑھایا جہاں سے اب باتوں کی آواز آنا بند ہوچکی تھی،اندر جاکر وہ شدید حیرت میں گھرا،وہاں عنادیہ اور دریہ بیگم کے علاوہ کوئی نہیں تھا،البتہ دریہ بیگم کے چہرے پر گھبراہٹ کے ہلکے آثار تھے جنہیں سلسبیل نوٹ نہ کرپایا،

“کس سے بات کررہی تھیں گرینی۔۔”

ایک نظر خاموش سپاٹ تاثرات لیے عنادیہ کا جائزہ لیتا وہ دریہ بیگم سے مشکوک لہجے میں پوچھا،

“ارے وہ۔۔۔سمینہ تھی نا۔۔۔ہماری پرانی پڑوسن اس کی کال تھی۔۔”

اس کے شکی رویے پر دریہ بیگم نے جواز پیش کیا تھا،

“بات کال پر کررہی تھی اور آواز باہر آرہی تھی۔۔”

وہ جیسے اب بھی مطمئن نہیں ہوا تھا،نظرین ہنوز عنادیہ پر تھیں،

“ہاں تو فون سپیکر پر تھا۔۔۔خیر یہ چھوڑو۔۔تم بتاؤ اتنی جلدی کیسے آنا ہوا۔۔۔”

جلدی سے ٹاپک چینج کر کے وہ اب سلسبیل سے پوچھیں،

“زیادہ کچھ نہیں۔۔۔بس آج کام کم تھا تو سوچا جلد آجاؤں۔۔”

اب کے نظر دریہ بیگم پر رکھے وہ بےتاثر لہجے میں کہا ساتھ ہی روم سے نکلا،اگر کو دریہ بیگم فون سپیکر پر رکھ کر بات کررہی تھی تب بھی آواز اتنی واضح نہ ہوتی تو کیا۔۔،ذہن میں بجلی سا کوندا اور اپنے روم میں داخل ہوتا سلسبیل جھٹکوں کے زد میں آیا،گر کو جو وہ سوچ رہا تھا وہ سچ ہوا تو سب سے پہلے وہ اسماء کو کام سے فارغ کرتا پھر بعد میں دریہ بیگم کی کلاس لیتا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہیثم کے جانے کے بعد سے اب تک وہ کمرہ نشین تھی،وجہ ایک تو ہناد کا آج گھر پر رہنا دوسرا اس کی طبیعت کچھ خراب تھی،صبح سے دو مرتبہ الٹیاں ہوچکی تھی،کہی نہ کہی وہ سمجھ چکی تھی اپنی ایسی طبیعت کا مطلب لیکن تصدیق کے غرض آج رات ہیثم کے آنے پر وہ مہناز بیگم کو بتاکر کلینک جانا چاہ رہی تھی،شام ہونے پر فرخندہ اس کے کمرے میں آئی تھی،

“بی بی بیگم صاحبہ۔۔۔”

“کافی کا پوچھ رہی ہیں۔۔”

اس کی بات اچکی تھی مطیبہ نے جس پر وہ اثبات میں سر ہلائی،اسے بھیج کر مطیبہ اپنا سر پکڑی،دل نہیں کررہا تھا باہر نکلنے کا،ڈر تھا پھر ہناد سے سامنا نہ ہوجائے،

“بہت ہوا۔۔۔آج ہیثم آئیں گے تو انہیں سب بتادوں گی۔۔۔”

زیرِ لب بڑبڑاتی وہ بیڈ سے اٹھی،ہمت کر کے روم سے باہر نکلی ساتھ ہی ایک نظر چاروں طرف دوڑائی،ایک آدھ سرونٹس کے سوا اسے کوئی نہ دِکھا تو پرسکون ہوکر کچن کا رخ کی،

کافی بناتے اس کا ذہن کل رات سے برتے گئے ہیثم کے نرم رویے پر تھا،وہ ستمگر جب جب اس سے نرم لہجے میں بات کرتا مطیبہ کا دل دھڑکا جاتا مگر جب وہ غصہ کرتا،یہ سوچ مطیبہ کو جھرجھری لینے پر مجبور کی اور پھر اچانک صبح کی گئی اس کی جسارت یاد آئی تو بےاختیار عارض پر تیزی سے گلال بِکھرا،کسی نے گہری نظروں سے اس کے سرخ ہوئے گالوں کو دیکھا تھا،ادھر ہر چیز سے بےنیاز کافی نکالتی ایک مرتبہ پھر اپنی طبیعت خرابی کا سوچ مطیبہ کے گداز لب ناچاہتے ہوئے بھی مسکرائے،اگر کو اس بات کی تصدیق ہوئی تو۔۔۔،یہ سوچ اسے بےحد خوشی بخشتی،

“بی بی۔۔۔”

کچھ ہی دیر بعد کچن میں فرخندہ آتے ہوئے اسے پکاری،

“کہو۔۔”

کافی کا مگ تھامے مطیبہ کا ارادہ اب مہناز بیگم کے روم میں جانے کا تھا،

“وہ ہناد صاحب چائے مانگ رہے ہیں۔۔”

“تو دے دو بناکر۔۔”

“بی بی مجھ سے مانگا ہوتا تو دے بھی دیتی پر وہ کہتے ہیں کہ آپ سے بولوں۔۔”

فرخندہ کی بات پر مطیبہ کے چہرے پر ناگواری اتر آئی،

“یہ کافی تائی امی کو دے کر آؤ۔۔۔میں جب تک چائے بنادوں۔۔۔پھر تم دے آنا انہیں۔۔”

اس کی جانب کافی کا مگ بڑھاتی مطیبہ بولی،

“نہ بی بی نہ۔۔۔انہوں نے سختی سے منع کیا ہے کہ میں نہ آؤں۔۔۔وہ کہہ رہے ہیں آپ ہی چائے لے آئیں ان کے کمرے میں۔۔”

اس سے مگ لے کر فرخندہ نے ممانعت کی،مطیبہ کو یکدم غصہ آیا،

“میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔تم دے آنا میں نہیں جاؤں گی۔۔”

ناگوار لہجے میں کہہ کر مطیبہ چائے کا پانی چڑھانے لگی،

“کیوں بی بی غریب کی روٹی بند کروارہی ہیں۔۔۔آپ کو نہیں پتا ہناد صاحب غصے کے تیز ہیں۔۔مجھے فوراً فارغ کردیں گے کام سے۔۔۔”

اس بار فرخندہ عاجزانہ انداز میں بولی تو وہ اسے دیکھی،جانتی تھی مجبور ہے اپنی روزی سے تبھی شدید پریشانی میں اثبات میں سر ہلائی،فرخندہ کے جانے کے بعد اس نے جلدی سے چائے بنائی پھر خود میں ہمت پیدا کیے ہناد کے کمرے کا رخ کی،وہ سوچ چکی تھی کہ چائے رکھ کر فوراً نکل آئے گی روم سے کیونکہ مقابل یقیناً اسے تنگ کرنے کے غرض یہ حرکت کیا ہوگا،

“اب اور برداشت نہیں کروں گی۔۔۔سب بتاؤں گی ہیثم کو۔۔”

غصے میں بڑبڑاتی وہ اس کے روم میں داخل ہوئی،خالی کمرہ منہ چڑا رہا تھا،مطیبہ کو اندر تک سکون ہوا،جلدی سے سوسر میں رکھا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتی وہ پلٹی مگر اگلے ہی لمحے تقریباً منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی،بلکل سامنے کھڑا ہناد کمینگی مسکراہٹ اس کے اڑے ہوئے چہرے پر اچھالا تھا،

“اوہ کم آن۔۔۔کتنا ڈرتی ہو تم مجھ سے۔۔”

اس کے قریب ہوتا ہناد محظوظ ہوتا بولا،

“چچہ۔۔چائے رکھ دی ہے۔۔”

ہکلا کر مطیبہ کپ کی جانب اشارہ کی،کوشش تھی خود پر سے مقابل کا دھیان ہٹانے کی،سب کے سامنے وہ کل آرام سے نڈر بنی تھی مگر اب،جان نکلنے کو ہوئی،

“چائے کی طلب ختم ہوگئی سوئیٹ گرل۔۔”

اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کو دیکھ وہ بولا،

“ممہ۔۔میں لے۔۔جاتی ہوں۔۔یہ کپ۔۔”

بوکھلاکر کہتی وہ کپ اٹھانے کے لیے مڑی اور تبھی ہناد اس کا بازو اپنی گرفت میں لیا،

“مت جاؤ نا ابھ۔۔”

“میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔۔”

مطیبہ کو اپنے وجود میں چونٹیاں سی رینگتی محسوس ہوئی تبھی ہناد کی بات کاٹتی وہ سختی سے کہہ کر اپنا بازو چھڑوانے لگی،

“نوٹ کررہا ہوں بہت ہمت نہیں آگئی تم میں۔۔زبان چلانے لگی ہو تو کبھی سخت لہجہ۔۔”

کل کی بات یاد کرتا وہ اس پر چوٹ کیا ساتھ ہی آخر میں بجائے بازو چھوڑنے کے جھٹکا دے کر اسے خود سے قریب کرگیا،مطیبہ کو اپنے حواس جاتے محسوس ہوئے تبھی اب وہ باقاعدہ ہناد کے سینے پر ہاتھ مارتی اسے دور کرنے لگی،

“دور رہیں مجھ سے ورنہ میں تائی امی کو بلادوں گی۔۔۔”

خود سے نزدیک اس کی حوس بھری آنکھوں میں اپنی جھیل آنکھیں ڈالتی اب وہ تھوڑا اونچی آواز میں بولی،ڈر تو بےتحاشہ لگ رہا تھا مگر وہ مقابل کے سامنے کم از کم اب کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی،

“اوہ۔۔مام کو بلاؤگی۔۔چلو بلاؤ میں بھی دیکھتا ہوں کتنی ہمت ہے تم میں۔۔۔”

چیلنجنگ انداز میں کہہ کر ہناد پیچھے بیڈ پر اسے لیتا گِرا اور مطیبہ کو لگا کہ اگر اب وہ بےبس پڑی تو یقیناً اپنی عصمت گنوا بیٹھے گی،تبھی خود کو سخت سے پکڑے ہناد کے اوپر سے اٹھنے کی کوشش کیے چیخنے کے لیے منہ کھولی،

“مطیبہ۔۔”

عقب سے آتی چنگھاڑتی دھاڑ پر مطیبہ سمیت ہناد بھی بوکھلایا ساتھ ہی جلدی سے مطیبہ کو خود سے دور کرتا سیدھا ہوا،گیٹ پر کھڑا ہیثم لہو چھلکاتی نظروں سمیت ان دونوں کو گھوررہا تھا،

“ہیثم۔۔۔شکر آپ آگئے۔۔ہی۔۔ہیثم یہ انسان۔۔یہ بہت گھٹیا ہے۔۔مجھے۔۔۔اس سے بچالیں۔۔۔”

ہیثم کو دیکھتے ہی وہ بھاگ کر اس کے پاس آتی بولی ساتھ ہی ہیثم کے سینے میں چہرہ چھپائے رونے لگی،مگر جھٹکا مطیبہ کو تب لگا جب ہیثم جھٹکے سے اسے دور دھکیلا تھا،وہ بےیقین سی اس ستمگر کو دیکھے گئی،

“ہیثم اس کی بات کا یقین مت کر۔۔۔یہ غلط بیانی کررہی ہے۔۔۔مطیبہ خود آئی تھی میرے کمرے میں۔۔”

دور کھڑا ہناد بڑی آسانی سے اپنا سارا الزام اس پر ڈالتا ہیثم کو وضاحت دیا،

“نہی۔۔نہیں ہیثم یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔۔۔یہ۔۔یہ مجھے۔۔بہت۔۔پہلے سے۔۔پر۔۔پریشان کرتے آرہے۔۔۔ہیں۔۔۔می۔۔میں بتانے والی۔۔تھی آپ کو۔۔”

“جھوٹ مت بولو مطیبہ۔۔۔جب سے تم ہی کہہ رہی تھی نا کہ ہیثم تم سے بلکل پیار نہیں کرتا اور کیا وہ سب جھوٹ ہے جو کچھ دیر پہلے مجھ سے کہا تھا کہ جلد اسے چھوڑنے والی ہو۔۔۔”

بوکھلاکر خود کو بچانے کے چکر میں وہ جو منہ آیا بولتا گیا،

“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔۔ہیثم۔۔ان کی بات پر یقین مت کریں۔۔میں بتاتی ہوں۔۔۔میں۔۔”

“منہ بند رکھو۔۔۔تم دونوں بےشرموں۔۔۔میرے پیٹ پیچھے ایسی گھٹیا حرکت کرتے ہوئے زرا شرم نہیں آئی اور تُو۔۔۔کمینے تُو بھائی ہے نا میرا۔۔”

ہناد کی طرف بڑھ کر اسے کالر سے دبوچتا ہیثم چیخا تھا،وہ آفس سے جلد آکر اب ہناد کی طبیعت کا پوچھنے اس کے کمرے میں آیا تھا مگر یہاں کا منظر دیکھ اس کا پارہ ہائی ہوا تھا،دماغ جیسے بھک سے اڑا تھا،کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط،ذہن میں آئی تو صرف یہی بات کہ اس کی بیوی اور بھائی مل کر اسے دھوکے میں رکھے تھے،

“تُو مجھے ماردے ہیثم لیکن یقین کر۔۔۔مطیبہ جھوٹ کہہ رہی ہے۔۔۔میں غلط نہیں ہوں۔۔”

چہرے پر دنیا جہاں کی لاچارگی سجائے ہناد بولا،

“مار ہی ڈالوں گا کمینے آج تجھے۔۔۔”

تیزی میں ایک گھونسا ہناد کے چہرے پر جڑتا وہ پھر دھاڑا کہ خوف سے تھرتھراتی مطیبہ بےساختہ ڈر سے چیخ پڑی،

“کیا ہورہا ہے یہاں پر۔۔۔”

اچانک وہاں سے گزرتی فلذہ کے کانوں نے جب شور سنا تو اندر آتی وہ بولی،پہلے ہی کل کے واقعے پر وہ بپھری پڑی تھی اوپر سے یہ شور لیکن اندر آتے فلذہ کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی جب ہناد کو ہیثم سے پٹتا دیکھی،

“بھائی کیا کررہے ہیں۔۔”

ہیثم کو پیچھے کرتی وہ روکنے لگی،فلذہ کے پیچھے ہٹانے پر وہ اب لرزتی ہوئی مطیبہ کو گھورا،

“تمہیں تو میں۔۔”

“بھائی رک جائیں۔۔۔کیا ہوا ہے کوئی بتائے گا بھی۔۔۔”

مطیبہ کے آگے آتی فلذہ اب اونچی آواز میں زچ ہوکر بولی،

“یہ دونوں میرے پیٹ پیچھے مجھے۔۔”

ضبط سے کہتا ہیثم رک کر ایک نظر نیچے گرے ہناد کو پھر مطیبہ کو گھورا،بھائی پر سے بھروسہ اٹھنے کا الگ دکھ دوسرا اس لڑکی کے لیے اب تو نرم گوشہ بننے لگا تھا اس کے اندر لیکن یہ سب دیکھ دماغ کی نسیں جیسے پھٹنے کو ہورہی تھیں،اشتعال تھا کہ کم ہوکے نہیں دیا،آنکھوں میں نفرت کے ساتھ ساتھ ہلکی سی نمی اتری تھی،

“فل۔۔فلذہ۔۔۔تم۔۔تم تو جانتی ہو نا کہ یہ مجھے۔۔۔پریشان کرتے تھے۔۔پلیز ہیثم کو بتاؤ۔۔۔وہ ان کے ساتھ مجھے بھی غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔مہ۔۔میں غلط۔۔نہیں ہوں۔۔۔تم۔۔تم پتا ہے نا سب۔۔۔بتاؤ ہیثم کو پلیز۔۔”

مطیبہ کو امید کی کرن نظر آئی تو جلدی سے فلذہ کے سامنے آتی اسے روتے ہوئے بولی جس پر فلذہ نے ایک نظر ہیثم کو دیکھا وہ بہت ضبط کا مظاہرہ کرتے سرخ چہرہ لیے اس کے جواب کا منتظر تھا،پھر ہناد کو دیکھی جو اب ناک سے نکلتا خون صاف کر کے اپنے نیل پڑے گال کر سہلاتا کھڑا ہوچکا تھا،

“بھائی میں آپ سے اس بارے میں بات کرنے والی تھی کہ۔۔مطیبہ کو سمجھائیں۔۔۔وہ اس طرح کی نازیبانہ حرکتیں پچھلے چند مہینوں سے کررہی ہے۔۔۔ہناد بھائی نے مجھے کہا تھا کہ میں سمجھاؤں اسے۔۔۔انہیں اچھا نہیں لگتا جب یہ جان بوجھ کر ان کے سامنے آتی ہے۔۔۔وہ عزت کرتے ہیں اس کی تبھی خاموش رہتے ہیں۔۔۔آپ کو خود بتاکر شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے تبھی مجھے کہا تھا بتانے۔۔۔”

فلذہ جیسے جیسے بتاتے جارہی تھی مطیبہ کو ہر جملے پر ایک الگ جھٹکا لگ رہا تھا،آنسو رکے تھے اور وہ پھیلیں آنکھوں سمیت اپنی دوست کو دیکھتی رہ گئی جو آج کس طرح اس ہی پر سارے الزام عائد کررہی تھی،بےقصور ہوتے ہوئے بھی اسے قصوروار ٹہرایا جارہا تھا،مطیبہ کو اس سے کم از کم یہ امید نہ تھی،

“جھ۔۔جھو۔۔جھوٹ بول۔۔۔رہی۔۔ہو تم۔۔ہیثم۔۔یہ۔۔جھوٹ۔۔”

بےیقینی کے عالم میں بڑبڑاتی مطیبہ کا منہ اچانک بند ہوا جب اس کا رخ جھٹکے سے اپنی جانب کرتا ہیثم زور دار تھپڑ رسید کیا تھا اس کے گال پر،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔