Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 16)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 16)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
“ماما۔۔۔”
ہیثم تقریباً چلایا تھا،
وہ ابھی ابھی آفس سے تھکا ہارا آیا تھا پر اپنے روم میں مطیبہ کو آنکھوں پر بازو رکھے سوتے دیکھ اس کا اندر تک خون جلا جس کے باعث وہ روم سے نکل کر نیچے آتا مہناز بیگم کو پکارا،
“کیا ہوگیا ہے بیٹا۔۔۔چلا کیوں رہے ہو۔۔۔؟”
لان کی طرف سے اندر آتی مہناز بیگم نے اس کی بلند آواز سن کر کہا،
“اسے نکالیں میرے روم سے۔۔۔”
دانت پیس کر کہا تھا وہ،
“کسے۔۔؟”
مہناز بیگم نے پوچھا تو پر اگلے ہی لمحے بات سمجھ آنے پر بولیں،
“وہ صبح سے تیز بخار میں پھنک رہی ہے۔۔۔اس حال میں کیسے اسے نیچے لاؤں۔۔۔”
مہناز بیگم کی بات سن کر وہ لب بھینچا پھر کہا،
“مجھے نہیں معلوم پر کسی بھی طرح اسے نکالیں میرے روم سے۔۔۔”
اس کے جھنجھلاکر بولنے پر مہناز بیگم کے چہرے پر ناگواری کا انثر ظاہر ہوا،
“وہ صرف تمہارا روم نہیں ہے۔۔۔تمہاری بیوی ہونے کے باعث مطیبہ کا بھی حق ہے وہاں رہنے کا۔۔۔”
سنجیدگی سے کہہ کر وہ جانے لگیں،
“میں نہیں مانتا اسے اپنی بیوی۔۔۔”
ہیثم کے چڑے ہوئے انداز پر وہ رکی پھر مڑ کر چند پل خاموشی سے اسے دیکھنے لگیں،
“اگر نہیں مانتے تو صبح وہ تمہارے کمرے میں کیوں تھی۔۔۔”
ان کی بات سن کر ہیثم نے نگاہ پھیری،
“رات۔۔۔کو۔۔خود ہی آئی تھی۔۔”
ٹہر ٹہر کر یہ بات کہتا وہ مکمل گریز کیا تھا ان سے نظریں ملانے سے،جانتا تھا کل رات نفرت میں اندھا ہوتا وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھا تھا،
“رات کو آئی تھی تو رات ہی کو نکال دیتے۔۔۔صبح تک کیوں رکھا۔۔۔”
اس بات پر ہیثم اپنے جبڑے بھینچتا نگاہ چرایا،خون تو بہت کھولا تھا اس کا مگر اب جواب ہی کیا دیتا،
“بیٹا بیوی ہے وہ تمہاری۔۔۔بس کردو۔۔چھ سال کم عرصہ نہیں ہوتا کسی کو بھلانے کے لیے،ناذلی کا دکھ ہم سب کو ہے پر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم زندگی میں آگے نہ بڑھیں۔۔۔جانے والے چلے جاتے ہیں ان کے ساتھ جایا نہیں جاسکتا اور نہ ہی رک سکتے ہیں۔۔۔اسی لیے زندگی میں آگے بڑھو۔۔۔جو نہیں ہے اس کا دکھ گلے سے لگائے رکھا ہے اور جو ہے اس کی قدر نہیں۔۔۔”
“وہ ہے قدر کے لائق۔۔۔”
مہناز بیگم نے ملامت بھری نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھا،
“اور کتنی سزا دو گے اسے۔۔۔بےقصور وہ قصوروار ٹہرائی ہے۔۔”
“آپ کو کچھ نہیں معلوم امی۔۔۔وہ قاتل ہے ناذلی کی۔۔۔”
غصے میں وہ یکدم دھاڑا پر اگلے ہی لمحے ان کی آنکھوں میں دکھ کی نمی جھلکتے دیکھ شرمندہ ہوا اپنے لہجے پر تبھی پلٹ کر واپس اوپر کی جانب گیا،مہناز بیگم نے تاسف سے اس کی پشت کو دیکھا،
“ماما۔۔۔”
اپنے کمرے سے بھاگ کر آتی انہیں پکارنے والی یہ فلذہ تھی،
“بولو۔۔”
اس کے چہرے پر خوشی کی دمک دیکھ انہوں نے استفسار کیا،
“ماما۔۔۔میں نے آپ کو سیفی کے بارے میں بتایا تھا نا۔۔۔جو میرے ساتھ یونی میں پڑھتا تھا۔۔۔”
ان کا ہاتھ تھامتی وہ خوشی سے بتانے لگی،
“ہاں۔۔”
“ماما وہ دو دن بعد اپنے مام ڈیڈ کو لے کر آرہا ہے۔۔۔میرے رشتے کے لیے۔۔”
انہیں بتاتی وہ جس قدر خوش لگ رہی تھی مہناز بیگم کو اتنی ہی فکر لاحق ہوئی،
“پر بیٹا جو باتیں تم نے بتائیں اس حساب سے وہ مجھے صحیح لڑکا نہیں لگتا۔۔۔”
“اوہ کم آن ماما۔۔۔وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور میرے ساتھ اس کا بلکل پرفیکٹ میچ ہوگا۔۔۔بیسٹ کپل۔۔۔اب پلیز ماما منع کر کے میرا موڈ خراب نہ کرنا۔۔۔”
ان کو لاڈ سے کہتی وہ مہناز بیگم کے کندھے پر سر رکھی جیسے منانا چاہ رہی ہو،
“دعا ہے اچھا نصیب ہو تمہارا۔۔۔”
جس طرح کی اس کی صحبت تھی مہناز بیگم کو ڈر ہی لگا رہتا،اور اب اس نے یہ نیا شوشہ چھوڑا،وہ واقعی پریشان ہوئی تھیں،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیڈ پر آنکھوں پر بازو رکھے وہ لیٹی صبح ہوئی باتوں کا سوچ رہی تھی،کچن میں جب وہ اپنے لیے چائے کا پانی چڑھارہی تھی تبھی مہناز بیگم اسکے پاس آئی،مطیبہ کی صبح سے ڈل طبیعت کو مدنظر رکھتیں وہ اس کا ماتھا چھوئی پر تبھی وہ حیران ہوئیں جب دیکھا کہ اسے تیز بخار ہے،وہ صبح مطیبہ کو ہیثم کے روم سے نکلتے دیکھیں تھیں وجہ دریافت کرنا انہوں نے مناسب نہ سمجھا پر کچھ ہی دیر بعد ملازمہ سے مطیبہ کا سارا سامان گیسٹ روم سے ہیثم کے روم میں رکھوایا،وہ ڈری تھی بہت لیکن اس کے انکار کرنے پر مطیبہ کو تسلی دیتی وہ ہیثم کے روم میں لے گئیں،دوائی کھلانے کے بعد اسکی طبیعت کو دیکھ انہوں نے اسے تنبیہہ کی بیڈ سے نہ اٹھنے کی،اور تب سے اب تک رات ہوچکی تھی مگر وہ یہی پر لیٹی تھی،خوف تو اب بھی تھا کہ ناجانے وہ آکر کیا ردِعمل ظاہر کرے،
روم میں داخل ہوتا وہ گیٹ بند کیے خاموشی سے بنا اس پر نگاہِ غلط ڈالے وارڈروب کی طرف گیا مگر اگلے ہی لمحے وہ سخت جھنجھلایا جب وارڈروب پر آدھے سے زیادہ کپڑے مطیبہ کے ہینگ ہوئے دیکھے،
“کیا مسئلہ ہے یار۔۔۔کپڑے ہٹاؤ وہاں سے اپنے۔۔”
چڑتا ہوا وہ بیڈ کی طرف آیا،مطیبہ کا دل گھبرایا مگر خود سوتی بنتی وہ یونہی لیٹی رہی،
“ڈرامہ کرنا بند کرو۔۔۔”
اچانک اس کا بازو آنکھوں پر سے جھٹک کر ہیثم نے ناگواریت سے کہا،چوری پکڑے جانے پر اٹھ کر بیٹھتی مطیبہ سر جھکاگئی،
اس کے خاموشی سے لب کاٹنے پر ہیثم کا غصہ بڑھا تبھی واپس وارڈروب کے پاس جاتا وہ مطیبہ کے کپڑے نکال کر نیچے پھینکنے لگا،اس کا یہ عمل دیکھتی مطیبہ تیزی میں اٹھی تھی بیڈ سے،
“کیا کررہے ہو۔۔”
جلدی سے اپنے کپڑے اٹھاتی وہ روہانسی ہوئی،
“کمرے میں رہنے کا یہ مطلب نہیں کہ ہر جگہ اپنی چیزیں رکھو۔۔۔آئندہ میرے وارڈروب میں نہ دکھیں یہ کپڑے۔۔”
کرخت لہجے میں کہہ کر ہیثم ٹاول لے کر واشروم میں جانے لگا،
“میں کہاں رکھوں انہیں۔۔۔”
سخت لاچارگی کے عالم میں اس نے مجبوراً پوچھا،
“میری بلا سے جہاں بھی رکھو سوائے یہاں کہ۔۔۔”
کندھے اچکا کر وہ واشروم میں گم ہوا،کچھ دیر سوچنے کے بعد مطیبہ کو جب کوئی جگہ سمجھ نہ آئی تو ایک بیگ میں اپنے سارے کپڑے رکھتی وہ بیگ وسیع وارڈروب کے اندر ایک خالی خانے میں رکھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سکندر ولا کے باہر کار روکے وہ گلاسز اتارتا بغور اس ولا کو دیکھنے لگا،یہی وہ جگہ تھی جہاں سے اس کی بدقسمتی شروع ہوئی تھی،اس جگہ پر جہاں وہ سکندر صاحب کے احسان کے بدولت آیا تھا،کچھ اچھی تو بہت سی بری یادوں کو لیے نکلا تھا وہ اس ولا سمیت شہر سے بھی،تب وہ بےبس تھا کہ اپنے ساتھ ہوئے دھوکے کا بدلہ نہیں کے سکتا تھا مگر اب،عنابی بھنچے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ پھیلی،باہر کھڑے گارڈ نے اسے دیکھا تو اندر کا رخ کیا پھر کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو ساتھ مہناز بیگم بھی تھیں،اس کے کار سے باہر نکلنے پر جہاں ان کے ماتھے پر شکن آنے لگی تھی سلسبیل کو دیکھ وہی مقابل کی شاندار پرسنیلٹی نے انہیں کافی مرعوب کیا،مضبوط قدم اٹھاتا وہ ٹھیک ان کے سامنے جا کھڑا ہوا،
“امید ہے یاد رہا ہوں گا۔۔”
سنجیدہ کسی بھی طنز سے عاری لہجہ تھا،
“تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔”
ان کا اشارہ صاف فلذہ کے دیے بیان کی طرف تھا،سکندر صاحب کے لفظی وہ ہاسپٹل سے نکل کر جان تو گیا تھا کہ کیا کِیا الزامات فلذہ اور ہناد نے اس پر عائد کیے ہیں تبھی ان کی بات کا مطلب سمجھتا خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا،
مہناز بیگم بغور اس کی آنکھوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھیں،کانچ مانند خوبصورت آنکھیں بلکل انکی بیٹی عندی کی طرح۔۔۔،مگر سلسبیل کا اس سے کیا تعلق یہ سوچ کر وہ ذہن میں آتا برا خیال جھٹک دیں،
“پچھلی غلطیوں کو سدھارنا چاہتا ہوں۔۔۔کچھ بات کرنی ہے۔۔۔”
ٹہرے ہوئے لہجے میں وہ جس انداز میں بات کررہا تھا مہناز بیگم متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکیں،مقابل کی خود اعتمادی اور روعب ہی تھا جو انہیں ہمیشہ سے متاثر کرتا،اثبات میں سر ہلاتی وہ اسے اندر کا راستہ دکھائیں،
“افسوس ہوا۔۔۔”
باتوں کے درمیان جب اسے سکندر صاحب کے بارے میں معلوم ہوا تو بولا،
سامنے ہر طرح کی ریفریشمنٹس رکھی تھیں مگر وہ ایک چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگایا،مہناز بیگم یہ انتظامات کبھی نہ کرتیں مگر وہ دنیا دیکھیں تھیں اور مقابل کا بدلا انداز لب و لہجہ اور مزاج ان پر واضح ظاہر کررہا تھا کہ سامنے بیٹھا وہ روعب دار شخصیت کا حامل سخص اپنے خوابوں کو حقیقت کی شکل دینے میں کامیاب ٹہرا ہے،ہاں وہ کامیاب ہوا تھا اپنی قابلیت کے بدولت اس خواب کی تکث پر جس کا اس نے ساتھ سال پہلے سکندر ولا میں ڈنر کرتے ہوئے اظہار کیا تھا،
فلذہ جو مہناز بیگم کے بلوانے ہر کچھ دیر پہلے ہی آئی تھی اب سامنے سلسبیل کو دیکھ وہ پہلے خوف میں مبتلا ہوئی تھی مگر اس کا نارمل بات کرنے کا انداز دیکھ حیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش بھی ہوئی اور اب،جب وہ مہناز بیگم سے باتیں کررہا تھا تب فلذہ کو جیسے اور کوئی کام ہی نہیں تھا اسے دیکھنے کے سوا،گرے پینٹ کوٹ میں بالوں کو جیل سے سیٹ کیے ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر جماکر سنجیدہ تاثرات سمیت ایک ساحر ہی لگا فلذہ کو جو اسکے گرد اپنا سحر پھونک رہا ہو جیسے،کھڑی مغرور ناک بھنچے عنابی لب کے ساتھ ہی سرد آنکھوں میں برف کا تاثر جیسے اس کی پرسنیلٹی کو سب سے الگ بنارہا تھا،
“تمہاری آنکھوں کا رنگ کچھ بدلا سا ہے۔۔۔”
مہناز بیگم کو جیسے اب تک کھٹکا لگا تھا تبھی آخر کار پوچھ بیٹھیں،سلسبیل کچھ پل خاموش رہا،
“ایک محسن کا احسان ہے”
ہلکے لہجے میں کہہ کر وہ چپ ہوا،مہناز بیگم کو اس کی بات کچھ سمجھ نہ آئی مگر زیادہ پوچھنا انہوں نے مناسب نہ سمجھا،
“سابی بھائی۔۔۔”
نیچے آتے ہیثم کی نظر اس پر پڑی تو بےساختہ مسکراکر وہ پکارا،اتنے سالوں تک وہ کتنا تلاش کیا تھا اسے،اور اب اچانک سامنے یوں دیکھ خوشگوار حیرت میں مبتلا تھا،
“کیسے ہو۔۔۔”
اٹھ کر اس کے گلے لگتا سلسبیل پوچھا،ہیثم کے لبوں پر بھرپور مسکراہٹ نے اسے مطمئن کیا تھا کہ وہ اپنی فیملی جیسا نہیں،
“تم کچھ ضروری بات کررہے تھے۔۔۔سابی؟”
مہناز بیگم نے اسے یاد دلایا،جس پر کچھ سوچ کر سر ہلاتا وہ بیٹھا،ہیثم بھی سامنے صوفے پر بیٹھا تھا،
اپنے روم سے نکل کر سیڑھیوں کی جانب آتی وہ مہناز بیگم کی آواز پر چونکی تھی،کالی نظریں بےاختیار نیچے گئیں اور بس،وہ آنکھیں انکاری ہوئی تھی اس جگہ سے ہٹنے کو،نیچے بلکل اس کی نظروں کے سامنے وہ بیٹھا تھا،ایک پل کو اسے لگا کہ یہ شاید وہم ہو مگر کچھ پل بعد وہ یقین کرنے پر مجبور ہوئی کہ مقابل وہم نہیں بلکہ سچ میں نیچے بیٹھا اس کا محبوب ہے جس کی یاد میں اکثر وہ راتیں جاگ کر گزارتی،اسے لگا تھا کہ زندگی نے یکدم خوشیوں کی پھوار برسائی ہے۔۔۔،ڈھائی سال کی تکالیف کے بعد آج وہ اس کے سامنے تھا،بےساختہ اس کا دل چاہا کہ خدا کے آگے یہی پر سجدہ ریز ہو جائے جس نے اس کے محبوب کو اتنے طویل انتظار کے بعد اس کے سامنے لاکھڑا کیا تھا،کالی آنکھیں خوشی میں شدت سے رونا چاہتی تھی مگر آنسو ندار تھے تبھی سیڑھیوں پر قدم رکھتی وہ ان دو سالوں میں پہلی مرتبہ اپنی پرانے انداز میں زندگی سے بھرپور مسکراہٹ پنکھڑی لبوں پر سجائی تھی،دل جس قدر خوش تھا وہ بیان نہیں کرسکتی تھی،
“میں۔۔۔فِلذہ کو اپنے نکاح میں لینا میں لینا چاہتا ہوں۔۔۔امید ہے کہ آپ اعتراض نہیں کریں گی۔۔۔”
ٹہرے ہوئے انداز میں وہ لہجہ حتیٰ الامکان نارمل رکھنے کی کوشش کیا تھا ورنہ مقابل کھڑی اس لڑکی کو جس شدت سے مارنے کی خواہش نے اس کے سینے میں سر ابھارا تھا وہ بہت مشکل سے خود پر قابو کیا تھا کہ ابھی اسے تحمل سے چلنا ہے۔۔،اس لڑکی کی موت لکھی تھی اس کے ہاتھوں مگر ابھی نہیں،ان سوچوں میں سلسبیل کا دل اچانک ہی الگ لے پر دھڑکا کہ وہ چونک کر رہ گیا،اتنے سالوں بعد اس کا دل دھڑکا تھا پر کیوں وہ سمجھ نہ پایا،دھڑکنوں نے جھوم کر ایک الگ ہی راگ سنایا تھا جیسے کسی اپنے کی موجودگی کا احساس دلارہی ہوں،ان سب سے بےبہرہ بنا وہ مہناز بیگم کے جواب کا منتظر ہوا مگر یہ کیا،سینے میں دھڑکتے دل کی حالت کچھ عجیب ہونے لگی،اردگرد فسوں سا بننے لگا،وہ یہاں موجود کسی چیز سے خوش نہیں تھا مگر اس کا دل ناجانے کیوں اس قدر دھڑکنے لگا تھا،
اس کی بات پر جہاں فلذہ کا منہ کھلا تھا وہی ہیثم اور مہناز بیگم نے سلسبیل کو حیرت سے دیکھا،اتنا سب ہونے کے باوجود وہ خود ان سے یہ بات کہہ رہا تھا،مہناز بیگم کو تعجب بہت ہوا مگر جلد ہی خود کو کمپوز کرتیں وہ ہلکا سا مسکرائیں،
“مجھے کیوں اعتراض ہوگا۔۔۔”
یہ مقابل بیٹھے شخص کی کامیابی سے مرعوبیت تھی ورنہ وہ منہ پر انکار کردیں مگر فلذہ کے لیے فلحال انہیں سلسبیل سے بہتر کوئی چوائس نہ لگی،ادھر فلذہ بھی یوں خوش ہوئی تھی جیسے مدتوں کی مراد پوری ہوگئی ہو،اپنی خوشی میں وہ بھول ہی گئی تھی کہ ایک دن بعد سیفی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بلایا تھا اس نے،
سلسبیل زبردستی مسکرایا کہ ایک مرحلہ طے ہوا مگر دوسری جانب وہ جو خوشی سے سیڑھیاں طے کررہی تھی آخری سیڑھی پر پہنچتے ہی سلسبیل مراد کی اس بات نے اس کے قدم زنجیر کر ڈالے،جھومتی دھڑکنیں اچانک رکی تھی اور یوں محسوس ہونے لگا جیسے ایک مرتبہ پھر اس کی دنیا ویران ہوگئی ہو،وہ شخص تو اس سے محبت کا دعویدار تھا پھر کیا اتنی کمزور محبت تھی اسکی،اتنی تکلیف اسے ان دو سالوں میں نہیں ہوئی تھی جتنی ان تھوڑے سے لمحات میں سلسبیل کے لفظوں سے ہوئی،دل ٹوٹا تھا اس کا،مگر پھر خیال آیا کہ وہ کیا حق رکھتی ہے اس سے کسی بھی طرح کے سوال کرنے کی،وہ تو اس کو حاصل کرنے کی متمنی نہ تھی پھر کیوں اس کی بےوفائی پر سوال کرتی،مگر نادان دل کا کیا کرتی جو پل میں چور ہوا تھا،مگر اسے مکمل نظر انداز کرتی وہ مسکرائی کہ سامنے بیٹھا شخص اپنے حلیے اور انداز سے واضح کرگیا تھا کہ اس کی قربانی ضیائع نہیں گئی،
اپنی دلی حالت پر قابو پاتا سلسبیل تھوڑا بےچین تب ہونے لگا جب آنکھوں میں پھر نمی آنے لگی،اسے سخت غصہ آیا،کیوں ہورہا تھا ایسا،کیوں ضدی دل بنا کسی جواز کے خوش ہورہا تھا ساتھ آنکھوں کی نمی تھی کہ بڑھتی جارہی تھی،اپنے منہ پر ایک ہاتھ پھیرتا وہ ٹشو سے آنکھیں پونچھتا گردن موڑا،کانچ آنکھوں نے سیدھا سیڑھی پر کھڑی اس لڑکی کو دیکھا تھا اور سلسبیل مراد پتھر ہوا،سفید شلوار قمیض پر شانوں پر دوپٹہ پھیلائے بالوں کو چوٹی کی صورت بناکر آگے کیے وہ لڑکی پہلی نظر میں اسے کوئی مومی گڑیا لگی،جو زرا سا چھونے پر ٹوٹ کر بکھرجائے،سرخ و سفید عارض کو چومتی کچھ لٹیں چھوٹی سی ستواں ناک جبکہ پنکھڑی مانند گلابی لب سلسبیل مراد کو یوں لگا کہ جو تصویر وہ اپنے ذہن کے پردے پر اتنے سالوں سے عندلیب کی بناتا آیا تھا مقابل کھڑی لڑکی اس تصویر پر مکمل اتری ہے،تضاد اس پر کہ کالی مگر سُرخ ہوتی آنکھوں کی سوگواریت نے اس کے حسن میں اضافہ کیا تھا،خوبصورت چہرے پر ایک الگ ہی کرب رقم کیے وہ خاموش نظروں سے سلسبیل کو ہی دیکھ رہی تھی،مگر وہ بےخبر اب بھی نہ جان پایا تھا کہ دل کیوں اس قدر خوش ہے،ایک فسوں تھا جو ان دونوں کے اردگرد بنتا گیا،اس نے بغور مقابل کی آنکھوں میں دیکھتے شناسائی کی رمق ڈھونڈی پر سلسبیل کی سرد آنکھوں میں سوائے زرا سی حیرت کے کچھ نہ تھا،
“حیرت کروں،ملال کروں یا گِلہ کروں،
تم غیر لگ رہے ہو بتاؤ میں کیا کروں۔”
“یہ۔۔”
بےاختیار کھڑے ہوتے سلسبیل کے لبوں میں جنبش ہوئی،
“یہ عنادیہ ہے۔۔۔میری چھوٹی بیٹی۔۔۔تم نہیں جانتے ہو اسے کیونکہ جب تم ہمارے گھر رہتے تھے تب یہ ہوسٹل میں اپنی پڑھائی کے غرض سے تھی۔۔”
مہناز بیگم مسکراتے ہوئے اسے بتارہی تھیں مگر سلسبیل کے دل نے جیسے ان کی بات سے انکار کیا تھا وہ گواہی دیا تھا اس بات کی کہ سامنے کھڑی لڑکی کو وہ جانتا ہے بہت اچھے سے،دل کی کیفیات حد درجہ بدلنے لگیں تو اثبات میں سر ہلاتا وہ عنادیہ ہر نظر رکھے ہی بولا،
“چلتا ہوں آنٹی۔۔۔کچھ ضروری کام ہے۔۔۔”
“بھائی۔۔۔کھانا ساتھ کھائیں گے۔۔۔رک جائیں۔۔”
ہیثم نہیں چاہا تھا کہ وہ ابھی جائے مگر اسے سہولت سے انکار کرتا وہ نکلا تھا وہاں سے،سینے میں دھڑکتا ضدی دل سلسبیل سے سخت ناراض ہوا تھا اس پری وش سے نظریں ہٹانے پر،
دوسری جانب عنادیہ اب تک اس گیٹ کی جانب دیکھ رہی تھی جہاں سے ابھی ابھی وہ اوجھل ہوا تھا،کچھ دیر پہلے ان دونوں کی نظروں کا طویل ارتکاز وہاں کھڑی فلذہ سے مخفی نہ رہا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کان پر فون لگائے وہ مسلسل کسی سے بات کرتا سکندر ولا میں داخل ہورہا تھا مگر سامنے نظر کرتے ہی جیسے اس پر سکتہ لگا تھا،ایک پل کو تو ہناد کو یقین نہ آیا پر سلسبیل جب اسے سرد نظروں سے دیکھتا قدم بہ قدم قریب آنے لگا تب ہناد کا سکتہ ٹوٹا،بےیقینی یقین میں بدلی ساتھ ہی شدید حیرت میں مبتلا وہ اسے دیکھنے لگا،
“تُو۔۔”
وہ صرف لب ہی ہلا سکا،جھٹکا ہی اتنا برا لگا تھا،بےیقینی سے یقین کی کیفیت میں وہ تب آیا جب سلسبیل اسے نظرانداز کرتا برابر سے گزرنے لگا،
“تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔”
اس کے غصے میں کہنے پر سلسبیل رک کر پلٹا،پھر حیرت سے اسے دیکھنے لگا،
“تُم۔۔کون۔۔ہناد۔۔رائٹ۔۔”
ہناد کو لگا وہ کھڑے کھڑے طمانچہ مارا ہے اسکے منہ پر،کیا وہ سچ میں اسے نہیں پہچانا تھا یا پھر انجان بن رہا تھا،
“انجان مت بن۔۔بہت اچھے سے جانتا ہوں تجھے۔۔۔”
اسے چیک کرنے کے غرض ہناد ناگوار لہجے میں بولا،جس پر سلسبیل کی سرد آنکھوں میں ہلکی سی آگ جلی تھی،عنابی لبوں پر زہریلی مسکان پھیلی،
“جانتے نہیں ہو۔۔۔جان جاؤ گے۔۔۔بہت جلد۔۔”
ہناد کا کندھا تھپتھپا کر وہ ازلی سرد مسکراہٹ سمیت بولا ساتھ ہی مڑ کر گلاسز پہنتا کار میں بیٹھا،اس کے جانے کے بعد ہناد حیران پریشان سا اندر داخل ہوا،جاننے کہ آخر معاملہ کیا ہے،کیونکہ سب سے زیادہ جھٹکا تو اسے سلسبیل کی کانچ آنکھوں نے دیا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
