Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 26)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 26)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
“بی بی۔۔!”
رات کو گیسٹ روم کا گیٹ کھول کر اندر آتی فرخندہ نے اسے پکارا ساتھ ہی کھانے کی ٹرے ٹیبل پر رکھی،نیچے بیٹھی بیڈ کی پائنتی سے ٹیک لگائے وہ اب تک رورہی تھی،فرق صرف اتنا تھا کہ آواز بند ہوچکی تھی،
“مطیبہ بی بی کھانا کھالیں۔۔”
اس کے پاس آتی فرخندہ ترحم نظروں سے اسے دیکھتی ہلکی آواز میں بولی،بھوک تو اسے شدید لگ رہی تھی مگر اب اذیتوں کے ساتھ ساتھ شدید غصہ تھا جو اس کے رگ و پے میں سرایت کررہا تھا،
“نہیں کھانا مجھے۔۔”
حد سے زیادہ چیخنے کے باعث اب آواز بیٹھ چکی تھی اس کی تبھی آہستگی سے بولی،
“بی بی تھوڑا سا کھالیں۔۔۔آپ نے دوپہر میں بھی نہیں کھایا۔۔”
“میرے کھانے یا نہ کھانے سے کسی کو فرق نہیں پڑے گا۔۔لے جاؤ یہ ٹرے یہاں سے۔۔”
لہجے میں بلا کا کرب لیے کہتی وہ اپنی سلگتی آنکھیں بند کرگئی،
“بی بی آپ کی طبیعت پہلے ہی ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔نہیں کھائیں گی تو بیمار پڑجائیں گی۔۔۔تھوڑا سا ہی کھالیں جی۔۔”
فرخندہ کے لہجے میں اپنے لیے فکرمندی محسوس کرتی مطیبہ خود اذیتی سے مسکرائی،وہ ملازمہ ہوکر اپنائیت دکھارہی تھی لیکن جو اپنے تھے۔۔،انہوں نے کس طرح اسے ہر چیز سے ہر رشتے سے بآسانی برخاست کردیا تھا،
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔لے جاؤ اسے۔۔”
اپنے بھیگے گالوں کو صاف کرتی وہ سر گھٹنوں میں دے گئی،
“بی بی۔۔”
“فرخندہ میں نے کہا نا نہیں کھانا مجھے۔۔”
اب کے سر اٹھاکر وہ سخت لہجے میں بولی،کچھ پل تو فرخندہ اسے دیکھے گئی پھر ٹرے اٹھاکر باہر لے گئی،اس کے جانے کے بعد مطیبہ پھر سر گھٹنوں میں دے گئی،ابھی تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ اچانک دھاڑ کی آواز سمیت دروازہ کھلا،تیز آواز پر مطیبہ بوکھلاکر سر اٹھائی سامنے ہی اس ستمگر کی سخت گھوری خود پر دیکھ وہ گھبرائی،
“کیا تماشہ لگا رکھا ہے۔۔”
اسے گھورتا وہ غصے میں جھڑکا تو مطیبہ ناسمجھی سے اسے دیکھی،
“مہ۔۔میں نے کوئی تماشہ نہیں لگایا۔۔”
“کھانا کیوں نہیں کھارہی ہو۔۔”
اس کی بھرائی آواز پر جب وہ گھرک کر بولا تب مطیبہ کو الگ طرح سے رونا آیا یعنی فرخندہ اسے بتا آئی تھی،
“جواب دو۔۔”
اشتعال میں آگے بڑھ کر وہ نیچے جھکا ساتھ ہی مطیبہ کا بازو پکڑ کر جھٹکے سے اسے کھڑا کِیا،اچانک ہلکی سی درد کی ٹیس اٹھی مطیبہ کے وجود میں،
“ہیثم۔۔”
پیٹ پر ہاتھ رکھتی وہ کراہی اور ہیثم کا غصہ چند پل کے لیے حیرت میں بدلا،
“کیا ہوا۔۔”
لہجہ خودبخود دھیما پڑا تھا جس پر مطیبہ کے حواس بےساختہ ہلے،وہ ڈری تھی کہ مقابل کو اگر زرا بھی بھنک پڑی تو کہیں وہ اسے نقصان نہ پہنچائے،
“کک۔۔کچھ نہیں۔۔”
لہجے کو بمشکل قابو کرتی وہ نظریں چرائی تو ہیثم سر جھٹکا،
“فرخندہ۔۔”
اسے بازو سے تھامے ہی ہیثم پکارا،کچھ دیر بعد کھانے کی ٹرے لیے فرخندہ روم میں داخل ہوئی،ہیثم کے اشارے پر وہ ٹرے بیڈ پر رکھتی واپس پلٹ کر چلی گئی،
“کھاؤ فوراً۔۔”
ٹرے کو دیکھتے ہی مطیبہ روہانسی ہوئی،
“مجھے نہیں کھانا۔۔”
اپنے بازو پر سے ہیثم کا ہاتھ ہٹانے کی کوشش سمیت وہ بھیگی آواز میں بولی،بجائے اس کا بازو چھوڑنے کے ہیثم اسے خود سے قریب کیا اور یہی پر مطیبہ کی جان ہوا ہونے لگی،
“میں یہاں تمہارا ڈرامہ دیکھنے نہیں آیا ہوں۔۔۔”
دھیمی آواز میں بولتے ہوئے وہ اس کے بازو پر سختی سے دباؤ بڑھا کر چھوڑا کہ مطیبہ کو اپنا بازو اکڑتا ہوا محسوس ہوا،
“بیٹھو۔۔”
اس کے کرخت لہجے میں کہنے پر مطیبہ روتی ہوئی بیڈ پر بیٹھی،
“کھاؤ بھی۔۔”
ہیثم کے یوں بولنے پر مطیبہ کو بےساختہ ایک دن پہلے کی وہ رات یاد آئی جب وہ اس کی فکر کے تحت کھانے کا کہا تھا،کتنا اچھا لگا تھا اسے مقابل کا اپنی فکر کرنا لیکن اب۔۔،بےساختہ چہرہ ہاتھوں میں چھپائے وہ ہچکیوں سے رونے لگی،
“ڈرامے بند کرو۔۔۔کھاؤ فوراً۔۔”
اس ستمگر کی تیز آواز کانوں میں پڑی تو چہرے پر سے ہاتھ ہٹائے وہ خود پر بمشکل قابو پاتی کپکپاتے ہاتھ سے اسپون اٹھائی،وہ بغور اس کی بکھری حالت کو دیکھ رہا تھا،دل عجیب ہوا تھا اس لڑکی کو ایسے دیکھ مگر دماغ نے جیسے انکار کردیا تھا اس پر رحم کھانے سے،
دو تین اسپون کھانے کے بعد وہ پانی کا گلاس اٹھاکر لبوں سے لگائی تبھی ہیثم کی آواز کانوں میں پڑی،
“نفرت کرنے والوں سے بھی کچھ انسانیت رکھنا جانتا ہوں میں۔۔تمہاری طرح نہیں کہ جن سے نفرت ہو انہیں موت کے منہ میں ڈال کر خود معصوم بن جاؤں۔۔”
اور مطیبہ کو اپنے منہ میں لیا پانی یکدم زہر کے مانند کڑوا لگنے لگا،وہ سمجھ چکی تھی مقابل کا اشارہ اس بار ناذلی کی موت پر تھا،غم و بےبسی کی حالت میں وہ ہاتھ میں لیا گلاس زور سے پھینکی تھی نیچے،
“میں نے کتنی مرتبہ کہا کہ میں نے نہیں مارا ناذلی کو پھر اس بات کا کیا جواز بنتا ہے اب۔۔”
وہ جو ٹوٹ کر چکنا چور ہوئے گلاس کو دیکھ رہا تھا مطیبہ کے چیخنے پر اس کی جانب متوجہ ہوا،
“اس ہی بات کا تو جواز ہے اصل۔۔۔نہ تم ناذلی کو مارتی نہ میری شادی تم سے ہوتی اور نہ کل تم نے وہ حرکت کی ہوتی۔۔”
کہتے ہوئے وہ مطیبہ کی جانب بڑھا،
“یُو نو اگر تمہاری مجھ سے شادی نہ ہوئی ہوتی اور پھر تم وہ حرکت کرتی تو مجھے زرا فرق نہیں پڑتا مگر میری بیوی ہوکر میرے بھائی پر نظریں۔۔”
“ہیثم چپ ہوجائیں۔۔بس کریں میں مرجاؤں گی ایسے الزامات پر۔۔”
اچانک اس کی بات کاٹتی وہ ہذیانی انداز میں چیختے اپنے کانوں میں ہاتھ رکھ گئی،مقابل کے لفظوں کے تیر نے اس کا دل مکمل چھلنی کر ڈالا تھا،تکلیف حد سے سوا ہونے لگی،دوسری جانب ہیثم کی آنکھوں میں نمی جھلکنے لگی،دل خواہش کیا تھا اس بکھری ہوئی لڑکی کو اپنی باہوں میں سمیٹ لینے کی مگر ذہن جس بری طرح بدگمان تھا وہ چاہ کر بھی قدم آگے بڑھانے کے بجائے پیچھے کرتا نکلا تھا روم سے،اوپر جانے سے پہلے وہ باہر کھڑی فرخندہ کو اشارہ کرنا نہ بھولا جس پر آہستگی سے آکے وہ لاک کی تھی گیسٹ روم کو،
اندر بیٹھی مطیبہ بیڈ پر منہ چھپائے بآواز رونے لگی،سکندر ولا کی درو دیوار ہلی تھی اس بےبس لڑکی کو بےتحاشہ روتے دیکھ،اس کا غم ماحول کو کچھ یوں اداس کیا کہ باہر ہوا کے شور کے ساتھ بادلوں نے تیزی سے برسنا شروع کیا اور اس ہی شور میں مطیبہ جہانگیر کے لب پھڑپھڑانے لگے،
“یااللّٰہ یا تو مجھے موت دے دیں یا پھر اس شخص کی محبت میرے دل سے نکال دیں۔۔میں نفرت کرنا چاہتی ہوں اس سے بےپناہ نفرت مگر یہ میرے بس میں نہیں۔۔”
پھوٹ پھوٹ کر روتے وہ ان لفظوں کا مسلسل ورد کرنے لگی تھی،آج اس شخص نے اپنے الفاظ سے اسے بری طرح توڑ دیا تھا،
“ہوسکتا ہے مرجاؤں چند دنوں میں،
وہ ستمگر جلارہا ہے دل روز تھوڑا تھوڑا،”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پولیس اسٹیشن آیا تھا عفان سے ملی گئی خبر کے بعد،وہاں آکر اس نے دیکھا سامنے ہی ہناد بیٹھا افسر سے کچھ بات کررہا تھا،
“مسٹر مسٹر۔۔”
اسے دیکھ افسر نے خوشگوار حیرت ظاہر کی،
“بیٹھیں نا۔۔”
وہ جس انداز میں سلسبیل سے بات کررہا تھا ہناد اچھنبے کی کیفیت میں بےاختیار کرسی سے کھڑا ہوا،
“بتائیں کیسے آنا ہوا۔۔”
وہ افسر بےحد خوش دلی سے مخاطب تھا سلسبیل سے،
“سنا ہے کچھ شکایات درج ہورہی ہیں میرے خلاف۔۔۔”
دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسائے سلسبیل بولا تو افسر سے تھا مگر سرد نظریں ہناد پر ٹکائے رکھا،
“آپ کے خلاف کمپلین۔۔۔نہیں تو۔۔”
افسر کے لہجے میں اب حیرت گھلی،
“انسپیکٹر۔۔میں نے جس انسان پر شک ظاہر کیا ہے وہ یہی ہے۔۔۔سلسبیل مراد۔۔”
ہناد اچانک تندہی سے گویا ہوتا اس کی جانب اشارہ کیا،
“واٹ۔۔ان مرڈرز کا شک آپ کو ان پر ہے۔۔”
وہ افسر کافی حیران ہوا تھا ہناد کی بات پر،
“جی بلکل۔۔”
“میں نہیں مان سکتا۔۔۔بلکہ میں کیا یہاں کا اسٹاف تک نہیں مان سکتا یہ بات۔۔”
اگلے ہی پل اپنی چئیر سے ٹیک لگائے افسر دونوں ہاتھ فضا میں بلند کیے کہا جس پر ہناد جھٹکا کھا کر رہ گیا،سلسبیل انجوائے کیا تھا اس کے ایکسپریشن،
“کیا مطلب۔۔۔کیسے نہیں جب میں کہہ رہا ہوں کہ میرے اب تک جتنے دوستوں کا قتل ہوا ہے اس میں اس آدمی کا ہاتھ ہے تو پھر۔۔”
“کام ڈاؤن۔۔چلے مان لیتے ہیں لیکن جب آپ ثبوت دیں گے ہمیں تب۔۔”
اس کے غصے میں برسنے پر افسر رسانیت سے کہا تو ہناد ایک پل کو چپ ہوا،کہہ تو وہ دھڑلے سے رہا تھا مگر اب ثبوت اس کے پاس کچھ نہ تھا،
“ثبوت نہیں ہے لیکن میں کہہ رہا ہوں نا آپ ایک مرتبہ انکوائری کروا۔۔۔”
“بات سنیں مسٹر ہناد سکندر۔۔۔جس شخص پر آپ بڑی آسانی سے یہ خطرناک الزام عائد کررہے ہیں ہم بہت اچھے سے جانتے ہیں اس شخص کو۔۔۔سلسبیل مراد ایک نہایت شریف انسان ہیں۔۔کئی پرابلمز میں انہوں نے ہماری مدد کی۔۔اکثر لوگوں کی مدد میں آگے رہنے والے شخص پر آپ ایسے الزام لگائیں گی تو پھر ہمیں الٹا آپ پر ہی انکوائری کرنی پڑے گی۔۔۔”
افسر کی بات پر ہناد بےیقینی سے سلسبیل کو دیکھا جو عنابی لبوں پر تمسخر اڑاتی مسکراہٹ لیے اسے سرد نظروں سے دیکھ رہا تھا،تراشی گئی آبرو کچھ یوں اٹھیں تھیں جیسے سوال کررہا ہو کہ اب کیا کہنا چاہو گے۔۔،بےبسی سے لب بھینچتا ہناد اسے گھورنے کے سوا کچھ نہ کرسکا،
“ٹھیک ہے اگر آپ کو ثبوت چاہیے تو میں جلد ثبوت کے ساتھ بھی حاضر ہوں گا پھر بہت اچھے سے بتاؤں گا آپ کو اس شخص کی شرافت کا۔۔”
اصل وہ تپا ہی افسر کے شریف کہنے پر تھا تبھی اسے گھورتا نکلا تھا وہاں سے،
“سوری مسٹر سلسبیل آپ کو تکلیف اٹھانی پڑی۔۔۔لیکن بےفکر رہیں ہمیں بھروسہ ہے آپ پر۔۔چونکہ مسٹر ہناد چند دنوں سے اس سلسلے میں یہاں پر آرہے تھے تو صرف آپ نے کل آکر کچھ پیپرز پر سائن کرنے ہیں تاکہ آگے جاکر آپ کے لیے وہ پرابلم کا باعث نہ بنیں۔۔”
افسر کے نرمی سے کہنے پر سلسبیل مسکراکر اثبات میں سر ہلایا مگر ذہین دماغی تیزی سے سوچیں بُننے لگا،اسے اب ہناد کا جلد از جلد انتظام کرنا تھا،پرسوں سکندر ولا جانے کا پروگرام ملتوی کرتا وہ افسر سے ہاتھ ملاکر نکلا تھا،باہر نکلتا سلسبیل ابھی اپنی کار کی جانب ہی بڑھنے لگا تھا کہ اچانک کسی احساس کے تحت اس کی نظر کچھ دور گئی،جہاں پولیس موبائل سے زرا ہٹ کر کنارے کی طرف ہناد کسی لڑکی سے کچھ بات کررہا تھا،دونوں کے انداز سے لگ رہا تھا جیسے بات کم اور بحث زیادہ ہورہی ہو،کیونکہ ہناد کچھ غصے میں دکھا تھا،
ایک نظر آس پاس ڈالتا سلسبیل بنا چاپ کیے چند قدم اٹھاتا پولیس موبائل کے پاس جاکھڑا ہوا،وہاں پہنچ کر اسے باتوں کی زیادہ نہیں پر ہلکی آواز آنے لگی،
“میں تمہارا حشر بگاڑ کر رکھ دوں گا اگر تم نے ایسا کچھ بھی کیا تو۔۔”
ہناد اسے آنکھیں دکھاتا غرایا،
“بگاڑ تو تم بہت کچھ چکے ہو میرا۔۔۔اب کیا کرنا چاہتے ہو۔۔اور جو بھی کرنا ہے کرلو ہناد سکندر مگر میں اپنی بہن کا بدلہ ضرور لوں گی تم سے۔۔”
اپنی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں کو رگڑتی وہ لڑکی نڈر بن کر بولی،
“لگالو پھر سارا زور۔۔۔دیکھتا ہوں کیا کرلیتی ہو۔۔۔مگر پھر آگے سے میرے رئیکشن کے لیے بھی تیار رہنا۔۔۔سوئیٹ ہارٹ۔۔”
کمینگی سے کہتا آگے بڑھ کر ہناد اس کے گال پر ہاتھ رکھنے لگا،موقع پر وہ لڑکی فوراً پیچھے ہوتی اس کی کوشش ناکام بناگئی،
“ہاتھ مت لگاؤ مجھے تم وحشی۔۔”
اس کے لہجے میں بلا کا درد تھا،مگر آنکھیں جیسے انگارہ برسانے کو تھیں،اس کی حالت پر حذ اٹھاتا ہناد نفی میں سرہلاتا وہاں سے گیا،
“ایکسکیوز می۔۔”
کچھ دیر بعد وہ لڑکی بےبسی سے روتے پلٹنے لگی تبھی سلسبیل پکارا،
عقب سے آتی بھاری دلکش آواز پر وہ حیرت سے مڑی،مقابل کھڑے شاندار شخص کو دیکھ آنکھوں میں ستائیش کی جگہ ناگواریت جھلکی،
“کچھ بات کرسکتا ہوں آپ سے۔۔”
سنجیدہ تاثرات سمیت اسے دیکھتا سلسبیل پوچھا،
“آپ کون۔۔؟”
چہرے پر ناگواری لائے وہ سوال کی،
“میں۔۔سلسبیل مراد۔۔”
“میں نہیں جانتی کسی سلسبیل مراد کو۔۔”
اس کے بتانے پر وہ لڑکی لٹھ مار لہجے میں بولی،
“میں نے کہا بھی نہیں کہ آپ مجھے جانتی ہیں۔۔”
سلسبیل کا لہجہ پل میں سرد ہوا تھا،
“تو پھر۔۔”
“محترمہ کچھ بات کرنی ہے۔۔”
اس بار وہ تحمل سے کہا،
“جی کہیں۔۔”
“ابھی جس شخص سے آپ بات کررہی تھیں بتاسکتی ہیں وہ کون ہے۔۔۔”
بغور اس کے تاثرات دیکھ سلسبیل پوچھا اور اس لڑکی کے تاثرات پل میں بدلے،
“وہ شخص۔۔۔وہ نہایت گھٹیا انسان ہے۔۔۔ایک نمبر کا وحشی۔۔خدا بخشے گا نہیں اسے۔۔قہر نازل ہوگا اس پر۔۔”
غصے میں اپنی بھڑاس نکالتی وہ رونے کو ہوئی۔۔،
“آخر ایسا بھی کیا کردیا ہے اس نے جو آپ اتنی بددعائیں دے رہی ہیں۔۔”
سسلبیل کے سوال پر وہ لڑکی کچھ دیر کے لیے چپ ہوئی،
“وہ ظالم انسان۔۔۔میری بہن کا قاتل۔۔اس نے۔۔”
“جی میں سن رہا ہوں۔۔”
اس لڑکی کا کہنا مشکل ہورہا تھا تبھی سلسبیل نرمی سے بولا،
“اس نے میری چھوٹی بہن کا۔۔۔ریپ کیا۔۔۔”
سلسبیل کے جبڑے تنے تھے اس بات پر،بےساختہ وہ نگاہ پھیرا،اس کی سوچ سے کئی گناہ زیادہ گھٹیا نکلا تھا ہناد سکندر،
“اس کی وجہ سے۔۔مہ۔۔میری بہن نے خودکشی کرلی۔۔۔اور اس صدمے میں۔۔میری امی مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔وہ انسان نہیں وحشی ہے۔۔۔میں یہاں پر اس ہی سلسلے میں آئی تھی مگر اس سے ٹکر ہوگئی اور اب وہ مجھے دھمکی دے رہا ہے کہ میں رپورٹ نہ کرواؤں لیکن میں ڈرنے والی نہیں۔۔۔اسے سزا دلواکر رہوں گی۔۔”
نان سٹاپ بولتے ہوئے وہ اپنی بھڑاس بھی ساتھ ساتھ نکال رہی تھی،
“پولیس کے پاس جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔”
اس کے خاموش ہونے پر سلسبیل بولا اور وہ بےیقینی سے اسے دیکھنے لگی،
“کیا مطلب پولیس کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ایک منٹ کہیں تم بھی تو اس سے نہیں ملے ہوئے۔۔۔اچھا تبھی میں سوچوں کہ اس کے جانے کے فوراً بعد ہی تم کیوں آئے دیکھو اگر کو تم دونوں جو چاہ رہے ہو۔۔۔”
“کچھ دیر کے لیے چپ نہیں ہوسکتی۔۔”
اس کے مسلسل بولنے پر سلسبیل ناگواری سے گِھرکا،
“کیوں چپ ہوجاؤں میں۔۔۔تم ہوتے کون ہو مجھے چپ کروانے والے۔۔”
“لڑکی۔۔نام کیا ہے تمہارا۔۔”
اسے سمجھانے کے غرض سلسبیل تحمل سے بولتے رک کر اچانک پوچھا،
“سنابِل۔۔”
سلسبیل جو مشکوک نظروں سے گھورتی وہ بولی،آنسو ہنوز آنکھوں سے جاری تھے،
“دیکھو سنابِل۔۔۔پولیس میں رپورٹ کروانے سے کیا ہوگا زیادہ سے زیادہ وہ اپنے جرم کی سزا بھگتے کا چند سال پھر واپس نکل آئے گا۔۔۔اور ویسے بھی وہ صرف تمہاری بہن کا نہیں بلکہ اور بھی لوگوں کا گناہگار ہے تو اگر چاہتی ہو اسے بد سے بدتر سزا ملے تو تھوڑا انتظار کرو۔۔۔بہت جلد اس کا انجام تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھو گی۔۔فلحال کے لیے تم گھر جاؤ اپنے۔۔”
اس کو خاموشی سے اپنی بات سمجھتے دیکھ سلسبیل آخر میں سنجیدگی سے بولا،
“میں چاہتی ہوں اسے عبرتناک موت مِلے۔۔”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سنابل نم لہجے میں بولی،
“ضرور ملے گی لیکن میری بات غور سے سنو لڑک۔۔سنابل کہ پولیس کو انفورم نہیں کروگی تم۔۔”
اسکے نام کی تصحیح کرتا سلسبیل اب نرم لہجے میں کہا جس پر سنابل اثبات میں سر ہلائی،
“یہ لو۔۔”
جیب سے رومال نکالتا وہ اس کی جانب بڑھایا،سنابل کی آنکھوں میں حیرت ابھری اس کے بڑھے ہاتھ کو دیکھ،
“تمہیں ضرورت ہے اس کی۔۔”
سلسبیل کے نرم مسکراہٹ سمیت کہنے پر وہ ہاتھ بڑھا کر اس سے رومال لی،مقابل کی دلکش مسکراہٹ نے اس قدر پریشانی میں بھی سنابل کا دل دھڑکا کر رکھ دیا تھا جس سے نظریں چرائی تھی وہ،
“اور یہ بھی رکھو۔۔”
اپنے جیب سے کارڈ نکالتا سلسبیل اب بڑھایا تھا اس کی جانب،
“یہ کیا۔۔؟”
“کارڈ ہے میرا۔۔اگر وہ کبھی تمہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے تو تم کال کرسکتی ہو مجھے۔۔”
سنابل کو کارڈ لیتے دیکھ وہ سنجیدگی سے کہا،
“آپ میری مدد کیوں کررہے ہیں۔۔؟”
اس کے مڑنے پر سنابل ہلکی آواز میں پوچھی،
“پتا نہیں۔۔”
کندھے اچکاکر سلسبیل اپنی کار کی جانب گیا،کسی بھی سوال کا جواب دینے کے لیے وہ اب رکنا نہیں چاہ رہا تھا کیونکہ وقت زیادہ ہونے لگا تھا اور وہ جانتا تھا کہ یقیناً عنادیہ اب تک اس کے لیے جاگی ہوئی ہوگی،تبھی اسے جلد از جلد اپنے مینشن جانا تھا اب،
خود سے دور جاتے اس مہربان شخص کی چوڑی پشت کو سنابل خاموش نظروں سے تب تک دیکھے گئی جب تک وہ چلا نہیں گیا وہاں سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ سکندر ولا کی رونقیں ختم ہورہی تھیں،آج اسے ایک مہینہ ہوچکا تھا گیسٹ روم میں بند،اس رات کے بعد ہیثم نہیں آیا تھا وہاں لیکن مہناز بیگم کبھی کبھی ضرور جاتی گیسٹ روم میں اور جب تک اپنے طعنوں سے مطیبہ کو رُلا نہ دیتی وہاں سے نکلتی نہیں،وہ بڑی تھیں تبھی چاہ کر بھی مطیبہ ان سے بدتمیزی نہ کرپاتی۔۔۔،کوئی تو غم گسار نہ رہا تھا اس کا وہاں۔۔۔،تنہائی الگ اس کی جان نکالتی،ایک کمرے میں بند رہ رہ کر اس کا دم گھٹنے لگا تھا،اپنا آپ اسے کسی قیدی کے مانند لگنے لگا تھا جو ناحق اپنی سزا کاٹ رہا ہو،اکثر راتیں اس کی آنکھوں میں گزرتیں،فرخندہ وقت پر کھانا دینے آتی،اس عرصے میں مطیبہ کی پریگنینسی کا اسے بھی معلوم ہوا تھا وہ بتانا چاہی تھی ہیثم کو مگر مطیبہ نے اپنے ازلی ڈر سے یہ بات اسے کسی کو بھی بتانے سے منع کی،مہینہ بھر ایک کمرے میں بند رہ کر اس کی حالت روز بروز کچھ عجیب سی ہونے لگی تھی،خود سے غافل وہ ہر گزرتے دنوں میں دو فرد کو بےحد یاد کرتی،ناذلی اور جہانگیر صاحب،صرف وہی دونوں تو تھے جو بلا کسی جواز اس سے محبت کرتے اس پر بھروسہ کرتے،ناذلی کا سوچتے اسے نئے سرے سے رونا آتا،اتنا چاہنے والی بہن کو کیوں اس نے بددعا دی تھی وہ بھی ایک ایسے شخص کے لیے جسے اس کے جینے یا مرنے سے زرا فرق نہیں پڑتا،وہ بےحد پچھتاتی ناذلی کے ساتھ اپنے کیے گئے رویوں پر،ان سب سوچوں میں سب سے زیادہ متاثر اس کا ذہن ہوا تھا،سبھی کے بدلے رویے اور الفاظوں نے اس کا دماغ جیسے خالی کر ڈالا تھا،
“فرخندہ۔۔”
دوپہر کو فرخندہ مطیبہ کے لیے کھانا لے کر آئی تھی تبھی اس نے پکارا،
“جی بی بی۔۔”
“مجھے آج کھانا نہیں کھانا۔۔۔کوئی فروٹ لے آؤ گی۔۔”
تھکی ہوئی آواز تھی اس کی،
“جی بی بی میں ابھی لاتی ہوں۔۔”
اس کے کہنے پر فرخندہ کو خوشی ہوئی تھی کہ اس عرصے میں پہلی مرتبہ وہ کسی چیز کی خواہش کی تھی،
“سنو۔۔”
اسے دروازے پر جاتے دیکھ وہ پھر پکاری،
“فروٹ اور چھری لے آؤ میں خود کاٹ لوں گی۔۔”
“نہ بی بی آپ زحمت نہ کریں میں کاٹ کر لے آتی ہوں۔۔”
“فرخندہ میں کاٹ لوں گی خود۔۔”
اچانک اس کا لہجہ ضد میں بدلتے دیکھ فرخندہ کچھ چونکی پھر اثبات میں سر ہلاتی باہر گئی،تھوڑی دیر بعد وہ آئی تو ہاتھ میں ایک پلیٹ پر دو سیب اور چھری رکھی تھی،اس کے پاس رکھنے کے بعد فرخندہ وہی کھڑی ہوئی،
“تم جاؤ۔۔۔”
اسے ایک جگہ ایستاہ دیکھ مطیبہ سپاٹ تاثرات سمیت کہی،
فرخندہ کے جانے کے بعد وہ ایک خاموش نظر بند دروازے پر ڈالی،گداز لبوں پر اذیت بھری مسکان پھیلی تھی،ہلکے ہوتے دماغ میں اس ستمگر کی کٹیلی باتوں کے علاوہ کچھ نہ تھا،پلیٹ پر رکھی چھری کو لرزتے ہاتھوں سے اٹھاتی وہ دیکھنے لگی،خالی آنکھوں میں تیزی سے نمی اترتی رخسار پر پھسلی،یہ آسان نہیں تھا مگر اب وہ تھک چکی تھی،ایک ایک لمحہ خود پر تنگ ہونے لگا تھا اس کا،چھری کی نوک کلائی پر رکھتے ہی کانوں میں اس ستمگر کے نفرت سے پُر الفاظ گونجے،
“میں تمہیں موت کی بھیک مانگنے پر مجبور کردوں گا مطیبہ جہانگیر”
واقعی اس شخص نے اسے موت کی بھیک مانگنے پر مجبور کیا تھا۔۔،کئی اذیتوں میں گھرے وہ سسک کر روتی اپنی کلائی پر چھری کا زور بڑھانے لگی،دل بری طرح ڈرا ہوا بھی تھا اپنے عمل پر،اس کا جسم لرزنے لگا تھا اور تبھی گھبراکر مطیبہ چھری دور کرنے لگی مگر اچانک اندر داخل ہوتی فرخندہ کی نظر اس پر پڑی،وہ خوف سے چیختے چیختے رکی تھی،مطیبہ کا عجیب لہجہ اسے پہلے ہی ڈرایا تھا کہ کہیں وہ کچھ غلط نہ کرلے خود سے اس ہی لیے اپنے ڈر کی وجہ سے ایک نظر اندر آکر وہ دیکھنے کا سوچی اور اب اسے چھری کلائی پر رکھے دیکھ فرخندہ کی جان نکلنے کو ہوئی،
“بی بی کیا کررہی ہیں۔۔”
تیزی میں آگے بڑھتی وہ مطیبہ کے ہاتھوں سے چھری لے کر پھینکی،
“خود کے ساتھ ساتھ ایک اور معصوم جان کو نقصان پہنچارہی ہیں۔۔۔”
وہ گھبراکر بولنے لگی جس پر اپنا سر پکڑتی مطیبہ بےبسی سے چہرہ جھکاگئی،
“تو کیا کروں فرخندہ۔۔تنگ آچکی ہوں ان سب سے۔۔کوئی یقین نہیں کرتا میرا۔۔ہر کوئی مجھے ہی گناہگار رمجھ رہا۔۔زندگی تنگ ہورہی ہے مجھ پر۔۔نہیں رہا جارہا مجھ سے یہاں۔۔چلی جانا چاہتی یہاں سے دور بہت دور۔۔۔جہاں ان لوگوں میں سے کوئی نہ ہو۔۔۔”
بھرائی آواز میں کہتی وہ فرخندہ کو نہایت بےبس لگی،
“ابتداء وہ تھی کہ جینا تھا محال محبت میں،
انتہا یہ ہے کہ اب مرنا بھی مشکل ہوگیا۔”
اسے بےحد افسوس ہوتا تھا مطیبہ پر اور اب اسے یوں روتے دیکھ آگے بڑھ کر وہ نرمی سے مطیبہ کے سر پر ہاتھ رکھی،
“بی بی آپ بہت اچھی ہو۔۔اور مجھے اللّٰہ پر پورا بھروسہ ہے کہ ایک دن آپ کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔بس آپ بھی اللّٰہ پر بھروسہ رکھو۔۔”
فرخندہ کی بات پر وہ اور بری طرح رونے لگی صحیح ہونے کا انتظار کرتے ہوئے ہی تو تھک چکی تھی وہ اب،اتنے سالوں سے اس ستمگر کی بےرخی برداشت کی اور اب اس الزام کے ساتھ ناجانے کب تک وہ اسے یہاں پر بند رکھنے والا تھا،
کافی دیر تک رونے کے بعد جب اس کا وجود ساکت ہوا تب فرخندہ کو اس کے سونے کا گمان ہوا،مطیبہ کے سر پر ہاتھ پھیرتی وہ اٹھی تھی ساتھ چھری اور پلیٹ لے کر روم سے نکلی،کچھ سوچ کر وہ لینڈ لائن نمبر سے ہیثم کو کال کی،اسے ڈر تھا کہ کہیں ایک مرتبہ پھر مطیبہ خود کو نقصان نہ پہنچائے تبھی اس کی فکر کے خاطر کچھ دیر پہلے کی گئی مطیبہ کی کاروائی وہ ہیثم کو کال پر بتائی،دوسری جانب یہ سنتا وہ تیزی سے اٹھا تھا ہناد کو ضروری کام کا کہہ کر وہ گھر کا رخ کِیا،وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مطیبہ اتنا بڑا قدم اٹھانے کی کوشش کرے گی،بقول اس کے وہ ایک نہایت کم ہمت لڑکی تھی پھر کیسے اس نے یہ کرنا چاہا،ایک پل کو دل گھبرایا تھا مگر جلد ہی خود پر برف خول چڑھائے وہ کار سکندر ولا جاتے رستے پر موڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
