Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 32)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 32)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
“ڈاکٹر صرف دیکھنے دے دیں۔۔۔پلیز۔۔”
وہ ہاسپٹل سے نکل کر کار میں بیٹھا تھا تبھی ڈاکٹر کی کال آئی،ریسیو کرنے پر دوسری جانب سے جو خبر اسے ملی ایک پل کو ہیثم جیسے بےیقین ہوا تھا پھر تیزی میں کار سے نکل کر بھاگا تھا اندر،اس کی جلد بازی یہ واضح کررہی تھی جیسے کسی نے صدیوں بعد کوئی خوشی کی نوید سنائی ہو اسے،وارڈ میں ابھی اس نے داخل ہونے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ اندر سے نکلتی ڈاکٹر نے اسے وہی پر روک دیا،ان کا کہنا تھا کہ پیشنٹ کو ابھی ہوش آیا ہے اور وہ کسی سے بھی ملاقات پر انکاری ہیں،اور اب،اس ہی کے باعث جب سے کھڑا وہ ڈاکٹر سے منت سماجت کررہا تھا،
“سوری مسٹر ہیثم۔۔۔وہ کوئی عام پیشنٹ نہیں کوما سے نکلی ہیں اتنے مہینوں بعد اور اگر ہم نے ان کی یہ بات نہ مانی تو یقیناً وہ سٹریس لیں گی پھر ہوسکتا ہے کہ چیخیں چلائیں اور آپ جانتے ہیں اس سب سے ان کے دماغ پر زور پڑے گا بعد میں خطرہ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔”
ہیثم کے ہر بار کی منت پر وہ پیشہ وارانہ انداز میں اسے سمجھانے لگی تھیں،
“ہیثم۔۔”
تبھی مہناز بیگم بھی فرخندہ کے ساتھ آئیں تھی وہاں پر،
“کہاں ہے مطیبہ۔۔”
وہ جس بےتابی سے پوچھیں ہیثم کو اتنی ہی شرمندگی ہوئی،
“اندر ہے۔۔”
“تو چلو۔۔”
“ماما۔۔وہ۔۔وہ نہیں ملنا چاہتی کسی سے۔۔”
پشیمانی سے کہتا وہ تھک کر بینچ پر بیٹھا،
“پر کیوں۔۔”
ان کے سوال پر ہیثم نے جن نظروں سے انہیں دیکھا مہناز بیگم احساسِ ہتک سے خاموش ہوگئیں،
“اچھا ٹھیک ہے صرف ایک بار دیکھ کر آجاتی ہوں۔۔”
کافی دیر بعد وہ بولنے کے لائق ہوئیں تو کہہ کر اندر کی جانب بڑھیں پر ہیثم نے ان کا ہاتھ پکڑلیا،
“ہمیشہ تو اس کی مرضی کے خلاف کام کیا ہے۔۔۔اب اور نہیں۔۔”
اس کے اذیت بھرے لہجے پر بےساختہ مہناز بیگم کو رونا آیا،
“بیگم صاحبہ۔۔۔اگر اجازت ہو تو ایک بات کہوں۔۔”
جب سے خاموش کھڑی فرخندہ ہمت کر کے بولی تو وہ دونوں اس کی جانب متوجہ ہوئے،
“ایک مرتبہ میں جاؤں اندر۔۔”
اس نے عاجزانہ لہجے میں کہا جس پر ہیثم نفی میں سر ہلایا،
“وہ ہم سے نہیں مِل رہی تم سے کیا ملے گی۔۔۔”
مہناز بیگم بھیگی آنکھوں سمیت کہہ کر ہیثم کے برابر میں بیٹھی تو فرخندہ ان دونوں ماں بیٹے کو افسوس سے دیکھی،اب وہ آگے کیا کہتی کہ اس تکلیف کے عرصے میں مطیبہ سے کس حد تک اسے انسیت ہوچکی تھی کیونکہ سکندر ولا میں ایک واحد وہی تھی جو ان لوگوں کی طرح ظالم نہ تھی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوش کی دنیا میں قدم رکھتے اس کا سر بری طرح درد سے پھٹنے لگا تھا،معطل ہوئے حواس کافی دیر میں سنبھلے تب اس نے خود کو رسیوں میں جکڑا پایا،نیم وا آنکھوں کو بمشکل کھولتی وہ درد کرتے سر کو جھٹکی پھر آس پاس دیکھنے لگی،گھپ اندھیرا تھا کہ اسے اپنا ہاتھ تک نہ دِکھا،آخری مرتبہ وہ سیفی کے ساتھ اس کی کار میں تھی اور پھر،بیدار ہوتے ذہن میں جھماکا سا ہوا تبھی جھٹکے سے مکمل آنکھیں کھولتی وہ ہر جانب چہرہ موڑی ساتھ چئیر سے اٹھنے کی کوشش کرنے لگی مگر بےسود،رسیوں سے جس بری طرح اس کے وجود کو باندھا گیا تھا وہ ہل تک نہ سکی،
“کوئی ہے۔۔؟”
خود کو چھڑوانے کی حد درجہ مزاحمت پر اس کے بندھے ہاتھوں میں رسیوں کے دباؤ سے درد ہوا تبھی وہ زور سے چیخی،
“ہیلپ۔۔کوئی ہے یہاں پر۔۔؟
سیفی۔۔!!”
سیفی کا اچانک منہ پر کسی بدبو دار کپڑے کا رکھنا یاد آیا تو غصے میں حلق کے بل چلائی،
“گیا تمہارا سیفی یہاں سے۔۔۔اپنی محبت اس اندھیرے کے حوالے کر کے۔۔۔”
بھاری دلکش مردانہ آواز تھی کہ فلذہ کچھ دیر تک تو شدید حیرت کی کیفیت میں رہی لیکن جب آواز پہچانی تب دھچکا لگا اسے،
“سلسبیل مراد۔۔!!”
اس کے لب پھڑپھڑائے ساتھ ہی وہ اندھیر کمرہ اچانک روشنیوں میں نہاگیا،فلذہ کی آنکھیں چندھیائیں تھیں،چہرہ موڑ کر آنکھیں میچتی وہ کچھ لمحوں بعد آہستگی سے انہیں وا کرتی سامنے دیکھی،گرے ہڈی پر بلیک پینٹ،آہنی ہاتھوں کو جیب میں چھپائے وہ مخصوص پراسرار مسکراہٹ سمیت اسے چئیر سے بندھے بےبس دیکھ رہا تھا،
“اوہ تو تم نے یہ سب کیا ہے۔۔”
ایک نظر خود کو قید دیکھ وہ سلسبیل پر گہری نظر ڈالتی بولی ساتھ ہی طنزیہ مسکرائی،
“رسی جل گئی بل نہیں گئے۔۔۔تم پر فِٹ ہے یہ محاورہ بکواس لڑکی۔۔۔”
قدم بڑھاتا وہ تمسخر سے مسکراتا بولا،فلذہ کو اس کے محاورے سے زیادہ آخر میں بکواس لڑکی کہنا کھلا تبھی اس کی مسکراہٹ تھمی،
“اوقات میں رہو سلسب۔۔”
“اور تم لحاظ رکھو۔۔آخر کو بہنوئی ہوں تمہارا۔۔”
فلذہ کی بات کاٹتا وہ سخت لہجے میں کہہ کر آخر میں ہنسا،اس نے تنفر سے سلسبیل کو دیکھ کر خود کو چھڑوانا چاہا مگر پچھلی مرتبہ کی طرح ناکام رہی،
“کرلو کرلو۔۔ٹھیک سے کوشش کرو آزاد ہونے کی۔۔۔”
پوکٹ سے سیگریٹ نکال کر لائیٹر سے جلاتا وہ پرسکون سا بولا،
“بات سنو تم۔۔۔مجھے ابھی اسی وقت آزاد کرو نہیں تو تم سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ فلذہ سکندر اپنے بدلے کیسے لیتی ہے۔۔۔”
غصے سے کہتی وہ مچلی تھی،لہجہ ہنوز گھمنڈ سے چُور تھا،
“تمہارے بھائی نے بھی یونہی گھمنڈ دکھایا تھا پھر جانتی ہو کیا کِیا اس کے ساتھ میں نے۔۔”
مسلسل سیگریٹ سلگاتا وہ اس سے پوچھا،فلذہ بوکھلائی تھی یہ بات سن کر،دماغ میں ہناد کا اس رات اچانک غائب ہونا آیا اور بےساختہ اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،
“بھائی۔۔بھائی کو غائب تم نے کیا۔۔تم نے کیا کِیا ہے ان کے ساتھ سلسبیل مراد۔۔”
بےیقینی میں بڑبڑاتی وہ آخر میں چلائی تھی،
“زیادہ کچھ نہیں بس حال کچھ یوں ہے کہ نہ زندوں میں کہلائے گا نہ مردوں میں۔۔۔”
فلذہ کے چیخنے کو خاطر میں نہ لاتا وہ مزے سے سوچتا ہوا کہنے لگا،
“میں تمہیں مردے سے بھی بدتر کردوں گی۔۔۔سمجھا کیا ہے تم نے فلذہ سکندر کو۔۔۔”
طیش میں اسے گھورتی وہ سلسبیل کی بےپرواہی پر پھر چیخی،
“ایک ایسی لڑکی جو بنا دل کے پیدا ہوئی ہے۔۔۔جسے پرواہ نہیں کہ اس کے خونی رشتے اس کی حرکتوں کی بدولت کس تکلیف سے گزرے ہیں۔۔۔جسے صرف اپنی خوشیوں کی پڑی رہتی ہے جو اپنے اندر کی حسد میں خاکستر ہوتی اپنی بہن کو بھی نہ بخشی۔۔آؤ ایک چھوٹی سی کلپ دکھاتا ہوں تمہیں۔۔”
چئیر کے ارد گرد چکر لگاتا وہ زہریلے لہجے میں بولتا اپنی جیب سے فون نکالا پھر چند کلکس کے بعد سکرین فلذہ کے جانب کی،
“تم کوشش تو کرو بیٹا۔۔مجھے یقین ہے سلسبیل تمہارے گناہگار کو ضرور سزا دلوائے گا۔۔”
سکرین پر دریہ بیگم اور عنادیہ کے بیچ کسی گفتگو کی ویڈیو چل رہی تھی،فلذہ ماتھے پر لاتعداد بل لیے وہ ویڈیو دیکھی،
“گرینی اگر گناہگار اپنا ہی ہو تو کیا کِیا جائے۔۔۔نہیں معلوم تھا مجھے کہ میری عزیز بہن ہی میری دشمن نکلے گی۔۔۔میں نہیں جانتی کہ آپی کو کیا بیر تھا مجھ سے۔۔۔مگر جب اس رات ہوسپٹل پر میں نیم غنودگی میں تھی تب ان کا جوس میرے جوس میں ٹوٹے کانچ کے ذرات گھولنا دیکھ میرا دل بری طرح ٹوٹا تھا ان کی جانب سے۔۔۔انہیں کوئی تکلیف تھی تو بتاتی مجھے لیکن بہنوں کے ساتھ ایسا کون کرتا ہے گرینی۔۔۔”
بھرائی آواز میں دریہ بیگم کو اذیت سے بتاتی عنادیہ کو دیکھ فلذہ کی سٹی گُم ہوئی،اسے عنادیہ کی باتوں سے کوئی غرض نہ تھا ہوش تو اس کے عنادیہ کو بولتے دیکھ اڑ رہے تھے،وہ چاہتی تھی کہ اس لڑکی میں کوئی تو کمی ہو۔۔۔،تاکہ کم از کم کسی چیز میں خود کو اس سے برتر دیکھ دل کو تسلی ملے مگر اب اس کا بولنا فلذہ بےیقین سے وہ ویڈیو دیکھتی سلسبیل کو دیکھی جس کی نظریں ویڈیو پر ہی تھیں مگر تاثرات بتارہے تھے کہ وہ اب بخشنے والا نہیں اسے،
“قوتِ گویائی سے محروم ہوئی تھی میں مگر چند مہینوں کے لیے۔۔۔ہر ہفتے تاکید سے ہوئے علاج نے کافی بہتری لائی تھی مجھ پر لیکن ڈر تھا کہ کہیں آپی کو پتا نہ چل جائے اور وہ پھر مجھے نقصان نہ پہنچائے تبھی ان سالوں میں یونہی رہی۔۔۔”
دریہ بیگم اس کا کندھا تھپتھپاتی چپ کروارہی تھیں اسے مگر عنادیہ جا رونا نہ رکا،اس کے آگے سلسبیل فون بند کرتا جیب میں رکھا تھا،عنادیہ پر جس دن اسے شک ہوا تھا اس ہی کہ کچھ دن بعد وہ دریہ بیگم کے کمرے میں ایک کیمرہ لگایا تھا تاکہ بات کی تہہ تک پہنچے،
“یہ۔۔یہ کیسے بول سکتی ہے۔۔”
سکتہ ٹوٹنے پر فلذہ زیرِ لب بڑبڑائی،
“بہت جی لی تم فلذہ سکندر اب زرا دردناک موت کا بھی تو مزہ چکھو۔۔”
نفرت سے کہتا سلسبیل ہاتھ میں تھامی سیگریٹ فلذہ کے بندھے ہاتھ کی پشت پر مسلا،وہ چیخی تھی تکلیف سے،
“سلسبیل۔۔۔جانور ہوکیا۔۔؟”
جلن میں شدت آئی تو وہ غصے میں چلائی،سلسبیل جھک کر سرد نظروں سے اسے دیکھ کر مسکرایا،
“تم نے میرا جانور ہونا دیکھا ہی کہاں ہے۔۔۔”
سرد لہجے میں کہتا وہ سیدھا ہوا ساتھ ہی چند قدم کی دوری پر رکھی ٹیبل کے پاس گیا،
“تمہارے بھائی پر میں نے اتنا رحم ضرور کیا تھا کہ وہ کم از کم چیخ کر اپنے درد میں تھوڑی کمی کرلے لیکن تم۔۔۔تمہاری گھٹیا کرتوتوں کے زیرِ اثر میں میں تمہاری آواز سننا تک گوارا نہیں کروں گا۔۔”
لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے وہ ہنوز سرد پن سمیت بولا،فلذہ حیران سی اسے ٹیبل پر سے ٹیپ اٹھاتے ہوئے دیکھی تھی مگر لمحوں میں مقابل کی بات کا مطلب سمجھ آیا تو وہ چیخی،
“نہیں۔۔۔تم مجھے نہیں مارو گے۔۔۔چھوڑو مجھے سلسبیل تمہاری گناہگار میں نہیں بھائی تھے۔۔کوئی ہے یہاں۔۔ہیل۔۔”
وہ جو قدم بہ قدم خود کے قریب آتے اس شخص کو دیکھتے مچل کر چلانے لگی تھی سلسبیل کے لبوں پر ٹیپ لگانے سے بری طرح گھبرائی،
“تمہیں پتا ہے آج مجھے بےحد سکون ملنے والا ہے کہ آج میرا بدلہ مکمل ہوجائے گا۔۔۔”
اسے مچلتے دیکھ مسکراتا وہ واپس ٹیبل کے پاس گیا اب دونوں ہاتھوں میں گلوز پہننے کے بعد وہ ٹیبل پر رکھی چھری اٹھایا پھر فلذہ کے پاس آتا اس کھنڈر کمرے میں کنارے پر رکھا ایک اسٹول گھسیٹ کر بلکل اس کے سامنے کیا،وہ پھٹی آنکھوں سمیت مقابل کے اگلے قدم کا سوچ رہی تھی،تبھی چھری کی مدد سے اس کے ایک ہاتھ کو رسی کی قید سے آزاد کرتا وہ فلذہ کا ہاتھ اسٹول پر رکھا،تیزی سے نفی میں سر ہلاتی وہ سلسبیل کے ہاتھ میں چھری کو دیکھی،
“باقی خامیوں سمیت تم دونوں بھائی بہنوں میں جانتی ہو ایک خامی اور کیا ہے۔۔۔”
اسکے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر اسٹول پر رکھتا وہ چھری کی نوک آہستہ آہستہ ان کے گرد مارتا بولا،فلذہ کی پھیلی آنکھیں واضح کررہی تھیں اس کے اندر کے خوف کو،اپنا ہاتھ مقابل کی گرفت سے چھڑوانے کی کوشش کرتی وہ بےحد خوفزدہ لگ رہی تھی،
“کہ تم دونوں کسی کی بھی زندگی خراب کرنے سے پہلے ایک مرتبہ بھی نہیں سوچتے۔۔۔”
نفرت سے پھنکارتا وہ رفتار بڑھایا تھا چھری کی حرکت کی،اس کے ہاتھ میں مقید فلذہ کا ہاتھ اب باقاعدہ کپکپانے لگا تھا،
“امیر غریب،غیر دوست حتیٰ کہ سگے رشتوں کو بھی نہیں چھوڑتے اپنے گھمنڈ میں حالانکہ اسکول میں یہ سبق پڑھا بھی ہوگا تم لوگوں نے کہ غرور کا سر نیچا ہوتا ہے۔۔۔ویسے کتنا اچھا ہوگا اگر آج اس سبق کی عملی تصویر میں تمہیں دکھاؤں۔۔۔”
تیزی سے چھری چلاتا وہ پرسکون سا کہتا آخر میں جھٹکے سے چھری سیدھا فلذہ کے ہاتھ کی پشت پر پیوست کی اور فلذہ جو لگا اس کے جسم سے کسی نے روح کھینچ کی ہو،ابلی آنکھوں سمیت وہ تڑپی تھی بری طرح چیخنے کے لیے مگر معائے افسوس لبوں پر ٹیپ مضبوطی سے لگے رہنے کے باعث اس کی آواز حلق میں ہی رہ گئی،
“آہ۔۔۔زیادہ درد تو نہیں ہوا نا تمہیں۔۔”
مصنوعی ہمدردی لہجے میں سموئے وہ ہنسا تھا فلذہ کی آنکھوں میں تیزی سے اترتے آنسوؤں کو دیکھ،
“تم روتی بھی ہو ورنہ مجھے تو لگا تھا بےحس ہو۔۔”
چہرے پر حیرت لیے سلسبیل پوچھا،چھری اب تک سیدھ میں گھسی ہوئی تھی فلذہ کے ہاتھ میں،
“خود میں ہر صلاحیت رہنے کے باوجود اندھے رہنے کی تکلیف جانتی ہو کیا ہوتی ہے۔۔۔”
وہ پھر پوچھا تھا ساتھ جیب سے ایک شیشی نکالا،روتی ہوئی فلذہ نفی میں سر ہلانے لگی،بھیگی آنکھوں میں عاجزی ابھری،وہ چیخنا چاہتی تھی،ہاتھ میں اٹھتا درد جان نکال رہا تھا اور اب ناجانے مقابل کیا کرنے والا تھا،اسے شیشی کھولتے دیکھ فلذہ اپنا چہرہ پیچھے کرنے لگی،
“زیادہ نہیں۔۔۔بس زرا سا۔۔”
کہتے ہی وہ شیشی کھول کر زور سے اس کے اندر محلول کو فلذہ کے چہرے پر پھینکا تھا،چونکہ وہ موقع پر چہرہ موڑ چکی تھی تبھی محلول زیادہ نہ گیا آنکھوں پر بس چند چھینٹیں گئی تھیں اندر،آنکھ میں اچانک ہوتی جلن نے فلذہ کو شدید اذیت میں مبتلا کیا،اس بار جس بری طرح وہ تڑپ کر مچلی تھی چئیر ہلتے ساتھ گری پیچھے کے جانب،آنکھیں میچتی وہ محسوس کرسکتی تھی اپنی آنکھوں سے نکلتے خون کو،ٹیپ ہٹا تھا لبوں سے اور وہ حلق کے بل چلائی،
“نہیں مارو مجھے۔۔۔مجھے نہیں مرنا۔۔”
اس کا چیخنا اندر کے بےتحاشہ خوف کی عکاسی کیا تھا،
“میں کونسا تمہیں مار رہا ہوں لڑکی۔۔لڑکیوں ہر ہاتھ اٹھانے کا تو سلسبیل مراد خود قائل نہیں ورنہ تو پہلے ہی حشر نہ بگاڑ کر رکھ دیا ہوتا تمہارا۔۔۔”
اسے بتاتا سلسبیل فلذہ کے زمین پر رکھے ہاتھ کو دیکھ طنزیہ مسکرایا جس میں اب تک چھری لگی ہوئی تھی،قدم اٹھا کر وہ اپنے سنیکر رکھ کر دباؤ ڈالا تھا اس چھری پر اور فلذہ کی وحشت ناک چیخ نے وہاں کی دیواروں کو ہلاکر رکھ دیا،
“نہیں کرو۔۔مجھے جانے دو۔۔۔سلسبیل۔۔”
بھبھک کر روتی وہ فریاد سے بولی تبھی سلسبیل اپنا پیر ہٹایا تھا چھری پر سے،ساتھ جھک کر جھٹکے سے چھری فلذہ کے ہاتھ سے نکالی،حد سے زیادہ تکلیف ہوئی تھی اسے تبھی روتے ہوئے پھر چیخ پڑی جبکہ اس کے رونے سے بےبہرہ بنا سلسبیل اس چھری سے اب فلذہ کے دوسرے ہاتھ کو رسیوں سے آزاد کیا،
“چلو جاؤ۔۔”
فلذہ کو اپنا درد بھولا تھا،بےیقین سی ہوکر وہ مقابل کو دیکھی جس کے تاثرات بلکل سنجیدہ تھے،
“کیا سچ میں۔۔؟”
اسے جیسے یقین نہ آیا تھا تبھی اپنی آنکھوں سے نکلتے ہلکے ہلکے خون جو فوراً صاف کرتی وہ پوچھی،
“جاؤ۔۔”
اس بار سلسبیل دہاڑا کہ وہ جلدی سے الجھی رسیوں سے خود کو نکالتی کھڑی ہوئی پھر آنکھ میں ہوتی جلن تیز ہونے کو نظرانداز کر کے اپنا زخمی ہاتھ سختی سے پکڑتی کمرے کے دروازے کی جانب بھاگی،جلد بازی میں وہ بھول چکی تھی کہ اس کے پیروں میں سینڈل نہیں،سلسبیل خاموش نظروں سے اسے بھاگتا ہوا دیکھنے لگا،
ابھی وہ دروازہ کھول کر باہر ہی نکلی تھی کہ اچانک تکلیف سے چیختی بیٹھتی چلی گئی،دروازے کے عین باہر ٹوٹے کانچ پڑے تھے جو اس کے پیروں کو بری طرح چھلنی کرگئے،
“ماما۔۔”
بلک کر روتی وہ چیخی،
“آرام سے لڑکی۔۔”
جیبوں میں ہاتھوں کو ڈالے وہ اسے کرب سے آنکھیں میچے دیکھ کر بولا جبکہ اس کی تمسخر زدہ آواز پر فلذہ آنکھیں نیم وا کرتی اسے دیکھی،مقابل کی آنکھوں میں حیوانیت صاف واضح تھی جس پر ڈرتی وہ پیروں میں اٹھتی ٹیسوں کے باوجود لڑکھڑا کر اٹھی،
“جہ۔۔جانے دو سلسبیل۔۔”
ہچکیوں سے روتی وہ خونم خون ہوئے پیروں کو پیچھے کرنے لگی ساتھ اچانک مڑتی بھاگی تھی وہاں سے،اس کھنڈر سی جگہ سے کیسے بھی کر کے نکلتی وہ خوش ہوئی تھی کہ اس صیاد کی قید سے نکل آئی،کبھی دیکھی نہیں تھی وہ سلسبیل کی یہ شکل تبھی آج بےحد خوفزدہ ہوئی تھی اس سے،بمشکل قدم بڑھاتی اب وہ لڑکھڑاکر سامنے روڈ پر چلنے لگی،ارد گرد نظر دوڑاتی وہ ہر قدم پر ایک آدھ نظر پیچھے ڈالتی جارہی تھی،
“مدد کرو۔۔۔کوئی ہے۔۔۔”
کچھ دور آکر جب اس سے چلا نہ گیا تب وہی روڈ کنارے بیٹھ کر وہ بلند آواز میں ہر طرف دیکھتی بولی،
“ماما۔۔”
پیروں اور ہاتھ میں جب درد شدت پکڑا تب اپنی خون ہوتی آنکھیں مسلتی سر جھکائے وہ بآواز رونے لگی،
“زیادہ درد ہورہا ہے کیا۔۔۔؟”
کافی دیر بعد پھر وہی بھاری آواز قریب سے سنائی دی،فلذہ جھٹکے سے سر اٹھا کر سامنے دیکھی جہاں وہ اپنی کار کے بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑا تھا،
“نہی۔۔نہیں مار۔۔رو مجھے۔۔”
سسک کر روتی وہ اٹھنے کی کوشش کی،زخمی آنکھوں سے بےانتہا وحشت اتری تھی مقابل کے چٹانوں جیسے تاثرات دیکھ،
“چلو نہیں مارتا۔۔۔ریلیکس ہوجاؤ لو تھوڑا پانی پیو۔۔۔چھوڑ دیتا ہوں تمہیں پھر تمہاری منزل تک۔۔۔”
اسے خوف سے لرز کر کھڑے ہوتے دیکھ سلسبیل ہاتھ میں تھامی پانی کی بوتل اس تک بڑھائے نرمی سے بولا،فلذہ بےیقین ہوئی،
“تت۔۔تم سچ میں۔۔نہ۔۔نہیں مارو گے۔۔”
اس کے بےیقین لہجے پر سلسبیل نفی میں سرہلایا،تبھی حلق میں کانٹے چبھتے محسوس کرکے فلذہ رک رک کر آگے بڑھتی اس سے پانی کی بوتل لی،مقابل کے اچانک نرم پڑتے تاثرات اسے یک گونہ سکون بخشے تھے،تبھی بوتل لبوں سے لگاتی وہ ایک ہی گھونٹ میں پانی حلق میں اتارنے لگی لیکن اگلے ہی لمحے آدھی بوتل نیچے پھینکتی فلذہ بری طرح کھانا کر اپنی گردن پکڑی،اسے لگا وہ اب اگلی سانس نہیں لے پائے گی،پہلے حلق میں پیاس سے کانٹے چبھے تھے مگر اب یوں محسوس ہورہا تھا جیسے باریک باریک کانچ کے ذرات اس کا حلق کاٹ رہے ہوں،زبان بھی چھلنی ہوتی خون سے بھری تھی،
“غہ۔۔غہغہہ۔۔”
بمشکل بولنے کی سعی کرتی وہ اچانک منہ سے خون پھینکی،سلسبیل تاسف سے سرہلاتا پیچھے ہٹا ساتھ ہی جاکر اپنی کار میں بیٹھا،
اسے کار سٹارٹ کرتے دیکھ فلذہ کی آنکھیں پھیلیں،کیونکہ کار کی سیدھ میں بلکل سامنے ہی وہ کھڑی تھی،اپنی گردن پکڑے وہ مسلسل منہ سے نکلتے خون ہر قابو پائے جان بچانے کے غرض بھاگی تھی،
آہستگی سے کار چلاتا سلسبیل جیسے انجوائے کیا تھا اس کا بھاگنا،کچھ دور جاکر جب تکلیف سے وہ پژمردہ سی ہونے لگی تب لڑکھڑاکر گری،حلق چھلنی،زخمی خون سے بھرے ہاتھ،کٹی زبان،آنکھوں میں بڑھتی جلن اور پھر پیر الگ مردہ سے ہونے لگے،اس میں اور ہمت نہیں تھی،سلسبیل کو کار روکے دیکھ فلذہ کو پہلی بار لگا کہ موت اس کے بےحد قریب ہے،وہ زندہ رہنا چاہتی تھی،اسے نہیں مرنا تھا تبھی بےبسی سے چیخنے کے لیے آواز نکالی مگر معائے افسوس صرف منہ سے خون کے کچھ نہ نکلا،تڑپ کر وہ اپنی گردن دبائے تکلیف میں کمی کی کوشش کرنے لگی،اسے پھر کار سٹارٹ کرتے دیکھ فلذہ بری طرح روتے نفی میں سرہلائی،خون ہوتی آنکھوں میں تڑپ ابھری،وہ کرلائی تھی جیسے بھیک مانگی ہو زندگی کی،
تبھی اپنی کار کو پیچھے لیتا سلسبیل پھر تیزی میں آگے بڑھایا ساتھ ہی نیچے گری ہوئی فلذہ کا وجود آگے نکلتی پہاڑیوں میں گم ہوا،خون کے چھینٹے آس پاس کے درختوں میں پڑے تھے اور وہ جھٹکے سے کار روکتا سر اسٹیئرنگ ویل سے ٹکاگیا،گہری سانس لیتا وہ جیسے آج پرسکون ہوا تھا مگر لبوں پر ٹہری مسکراہٹ تھم کر وجیہہ چہرے پر کرب بھرے تاثرات لائی،آٹھ سال پیچھے جاتا وہ آج بھی اپنے عزیز باپ کے شرمندہ ہونے پر تڑپ اٹھا تھا،بےقصور ہوتے ہوئے بھی جب اس پر الزامات لگائے گئے تب کس قدر مراد صاحب ہتک و شرمندگی محسوس کیے تھے،پر انہوں نے اسے کچھ نہ کہا بس جو مان انہیں سلسبیل ہر تھا وہ ٹوٹا تھا اور پھر ایک رات چپکے سے وہ دنیا فانی سے کوچ کرگئے،آج شدت سے اسے ان کی یاد آئی تھی کہ اگر کو وہ اب ہوتے تو سلسبیل انہیں ضرور یقین دلاتا کہ اس نے کبھی ان کا یقین ان کا بھروسہ نہیں توڑا تھا بلکہ اس کے حاسدوں نے اسے توڑ کر رکھ دیا تھا،اپنا فون مسلسل بجتے محسوس کرکے سلسبیل جیب سے موبائل نکالا پھر بنا سکرین پر نظر کیے وہ فون سوئچ آف کردیا،آج کی رات وہ بلکل تنہا رہنا چاہتا تھا،اپنے باپ کو یاد کر کے ان کا سوچتے وہ نہیں چاہتا تھا اسے کوئی زرا بھی پریشان کرے،
سیٹ کی پشت سے ٹیک لگاتا وہ آنکھیں موند گیا اور تبھی کانچ آنکھوں سے چند موتی ٹوٹ کر اس کی کنپٹی پر جذب ہوئے،سلسبیل اذیت سے مسکرایا،جانتا تھا یہ آنسو کیوں بہے،یقیناً اس کی متاعِ حیات اس کے گھر نہ پہنچنے پر پریشان ہوتی روئی ہوگی مگر آج وہ اس کے پاس نہیں جاسکتا تھا،وہ آج بلکل اکیلا رہنا چاہتا تھا کہ آج اس نے پورا کرلیا تھا اپنا بدلہ،اسے یقین تھا کہ اگر عنادیہ روئے گی تو ضرور دریہ بیگم اسے سنبھال لیں گی اس ہی وجہ سے وہ بےفکر ہوا تھا عنادیہ کی جانب سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات بھر ان دیکھی آگ میں سلگتی وہ بےتحاشہ روئی تھی،بےقرار ہوتی کتنی مرتبہ سلسلبیل کو کال بھی کی مگر دوسری جانب سے نمبر بند جارہا تھا،کل وہ نکاح کیا ہوگا سنابِل سے اور پھر رات بھر اس سے آگے عنادیہ سے سوچا نہ گیا،اسے اپنا وجود انگاروں کے زد میں محسوس ہوا تھا،اس محبوب شخص کی ستم ظریفی پر ماتم کناں وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی اور اب سوگ سی کیفیت میں سر صوفے سے لگائے وہ سوجی آنکھوں سمیت بیٹھی تھی،سورج کی کرنیں قدآور کھڑکی سے اندر آتی پورے کمرے کو روشن کررہی تھی مگر عنادیہ کو لگا اب اس کا بجھ کر اندھیر ہوتا دل پھر کبھی روشن نہ ہوسکے گا،دریہ بیگم اسماء سے کہہ کر رات کو اسے کھانے پر بھی بلائیں تھی مگر وہ دروازہ نہ کھولی،پریشان ہوکر انہوں نے خود دروازہ بجایا مگر عنادیہ ہر چیز سے بےبہرہ بس روئی گئی تھی،
عنادیہ کے دروازہ نہ کھولنے پر پریشان دریہ بیگم سلسبیل کو کال کی تھیں مگر اس کا بھی نمبر بند تھا،ایک عنادیہ کی جانب سے ٹینشن تو دوسرا سنابِل کا اچانک گھر سے غائب ہونا انہیں دوہری پریشانی میں مبتلا کیا،رات بھر ان سب کے باعث پریشان رہتی وہ بمشکل آدھی رات کو اسماء کی ضد پر سونے گئیں اور اب پھر صبح ہال میں آتی وہ اسماء سے عنادیہ کا پوچھ رہی تھیں تبھی مینشن میں داخل ہوتے سلسبیل ہر ان کی نظر پڑی،
کل کے بانسبت آج وہ بہت حد تک نارمل لگ رہا تھا،ہڈی کی جگہ اب نیوی بلو شرٹ اور گرے پینٹ نے لی تھی،وجیہہ چہرے پر بلا کی سنجیدگی لیے اندر آتا وہ کچھ حیران ہوا مقابل کھڑی دریہ بیگم اور اسماء کے چہرے پر پریشان تاثرات دیکھ،
“کہاں تھے سلسبیل۔۔۔رات تم گھر بھی نہیں آئے اور فون کیوں بند تھا تمہارا۔۔”
اس پر نظر پڑتے ہی دریہ بیگم جلدی سے سلسبیل کے پاس آکر پریشانی سے استفسار کیں،
“کچھ ضروری کام کے باعث گھر نہ آسکا گرینی اور فون میں بیٹری ختم ہوگئی تھی۔۔”
انہیں رسانیت سے سمجھا کر سلسبیل صوفے پر بیٹھا،
“سنابِل جانتے ہو کہاں ہے۔۔۔لڑکی ناجانے کہاں چلی گئی اچانک۔۔۔”
پریشان ہوکر کہتی وہ سسلبیل کے وجیہہ چہرے کو دیکھیں،
“وہ جہاں بھی ہے خوش ہے۔۔۔”
اس کا پرسکون لہجہ دریہ بیگم کو چونکا گیا،
“مطلب۔۔بتاؤ بھی سلسبیل گھبراہٹ ہوتی ہے مجھے ادھوری باتوں سے۔۔کدھر ہے وہ۔۔؟”
ان کے حد درجہ پریشان ہونے پر سلسبیل کھڑا ہوا پھر دریہ بیگم کا ہاتھ تھام کر انہیں صوفے پر بیٹھایا،جانتا تھا زیادہ سٹریس لینے سے ان کی طبیعت بگڑنے لگے جاتی ہے،تبھی سنابِل کے بارے میں کل کا مکمل واقعہ انہیں گوش گزار کرتا مطمئن کیا،اس کی مکمل بات سننے کے بعد دریہ بیگم نے اس کے سب چھپانے پر کچھ خفگی کا اظہار کیا مگر سنابِل کی کہی بات جب سلسبیل نے انہیں بتائی تب وہ مسکرادیں پھر اچانک ذہن میں جھماکا ہوا اور وہ فوراً گویا ہوئیں،
“تم رات گھر نہیں آئے۔۔۔جانتے ہو عنادیہ رات سے کمرے میں بند ہے۔۔۔کھانا تو دور کی بات وہ آواز تک نہیں دے رہی میرے پکارنے پر۔۔”
پھر فکرمندی سے دریہ بیگم نے کہا جس پر سلسبیل کے تاثرات پل میں بدلے،اگلے ہی لمحے وہ بنا کچھ کہے کھڑا ہوتا تیزی میں اپنے کمرے کی جانب گیا،دروازہ ناک کرنا اس نے ضروری نہ سمجھا،جیب سے کِی نکال کر جھٹکے سے دروازہ کھولا تھا اس نے اور نظر سیدھا کنارے پر صوفے سے ٹیک لگائی خشک آنکھوں سے چھت کو گھورتی اس محبوب لڑکی پر گئی،
“عنادیہ۔۔”
سرخ عارض پر آنسوؤں کے خشک نشان واضح ہوئے تھے تبھی اسے پکارتا سلسبیل آگے بڑھا،ایک پل جو سلسبیل کا دل عجیب ہوا کہ کہیں اسے ہناد یا پھر فلذہ کی موت کا نہ پتا چل گیا ہو،
مانوس آواز پر بےتاثر نظریں نیچے کرتی وہ اپنے قریب آتے ستمگر کو دیکھی،
“ایک رات نہیں آیا تو کیا حال بنالیا تم نے۔۔”
حیرت سے کہتا وہ جھک کر اس کے پاس بیٹھا ساتھ عنادیہ کا چہرہ تھامنے لگا مگر غصے میں اس کا ہاتھ جھٹکتی عنادیہ اٹھ کھڑی ہوئی،
“جھوٹی محبت کا ڈرامہ نہیں کریں اب۔۔۔جو کرنا تھا وہ تو کرہی چکے آخر۔۔۔”
کل صبح وہ نکلا دوسرے کپڑوں میں تھا اور اب اس کے بدلے کپڑے دیکھ عنادیہ کو جو زرا سی امید تھی اس سے وہ بھی ٹوٹی،وجود میں بھانبھڑ سے جلے تھے،تبھی طیش میں آتی وہ چلائی،
“پہلی بات جھوٹی محبت نہیں انسان ہوتے ہیں اور دوسرا اب کیا خطا ہوگئی تمہارے شوہر سے جو اس قدر آپے سے باہر ہورہی ہو۔۔۔”
وہ جانتا تھا رات بھر اس کے گھر نہ آنے کے باعث عنادیہ اب بھری پڑی ہے غصے سے،سلسبیل کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا کہ کاش وہ دوپہر میں ہی اسے کال ہر بتادیتا کہ رات وہ گھر نہ آسکے گا،فلحال بات کو مذاق کا رخ دیتا وہ مسکراکر بولتا آگے بڑھا،
“بلکل۔۔۔جھوٹے انسان ہوتے ہیں ٹھیک آپ کی طرح جو خود تو محبت کرنا جانتے نہیں مگر دوسروں کی محبت کا مذاق بناکر ان کے جذبات کو روندتا بہت بہتر طریقے سے جانتے ہیں۔۔”
مقابل کے لہجے میں مذاق محسوس کرکے اس کا غصہ اور آسمان پر چڑھا تھا،پارہ ہائی ہونے پر وہ چیخی،سلسبیل کے تاثرات بگڑے عنادیہ کے یہ الفاظ سن کر،
“میں جانتا ہوں میری غلطی ہے پر عنادیہ الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو۔۔کب میں نے تمہارے جذبات کو روندا۔۔”
اپنا لہجہ سخت ہونے سے روکے وہ عنادیہ کے سرخ چہرے کو دیکھ تحمل سے بولا،
“سوچ سمجھ ہی تو چھین لی آپ کے عمل نے۔۔۔اپنی مطلب کے غرض نہیں جانتی تھی اتنا گریں گے آپ۔۔۔”
“لڑکی کونسی گری ہوئی حرکت کی ہے میں نے۔۔۔”
اب سلسبیل لہجے کو سخت ہونے سے نہ روک پایا مگر اگلے ہی لمحے نرم پڑا عنادیہ کی آنکھوں میں نمی کی جھلک دیکھ،
“مجھے بتائیں کہاں تھے رات بھر آپ۔۔۔؟”
اس کا سرخ چہرہ حد سے زیادہ ضبط کی گواہی دے رہا تھا،اب سلسبیل کچھ چونکا،
“کچھ۔۔ضروری کام تھا۔۔”
اس عرصے میں پہلی مرتبہ وہ جھجھکا،آخر ڈر جو تھا کہ کہیں مقابل کھڑی اس محبوب لڑکی کو فلذہ کے متعلق سچ نہ معلوم ہوجائے،
“رات کو آپ کورٹ میں گئے۔۔۔کیوں۔۔؟”
نم ہوتی آواز میں وہ پھر پوچھی،سوجی ہوئی آنکھوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے نمی اترنے لگی،ادھر سلسبیل اس کی سرخ آنکھوں سے آنسو لڑھکتے دیکھ فوراً آگے بڑھا،
“کہاں نا کچھ ضروری کام تھا میں بعد میں بتاؤں گا۔۔فلحال یہ آنسو۔۔”
سلسبیل کی بات بیچ میں رکی جب وہ شدید غصے کے عالم میں اسے دھکا دے کر خود سے دور کی ساتھ ہی بھرائی ہوئی آواز میں چیخی،
“اور کتنا چھپائیں گے آپ۔۔۔عفان نے سب بتادیا ہے کہ کیا ضروری کام تھا آپ کو۔۔۔اس سنابِل سے نکاح کیا ہے نا آپ نے کل کورٹ میں اور پھر رات بھر۔۔”
اس سے آگے عنادیہ سے بولا نہ گیا،گلے میں آنسوؤں کا پھندا اٹکا تھا اور وہ انتہائی کرب سے اپنے مقابل اس آدمی کو بھیگی آنکھوں سے دیکھنے لگی جو اس سے بےپناہ محبت کا دعویدار تھا پر اب اس نے کیا کِیا تھا،
دوسری جانب عنادیہ کی بات پر سلسبیل یکدم چپ سا ہوا تھا،اور ہوتا بھی کیوں نہ کچھ کہنے کو جیسے سبھی الفاظ گم جو ہوچکے تھے،کانچ مانند آنکھوں میں بےیقینی ابھری،جبکہ تاثرات شدید حیرت میں بدلے،اسے لگا عنادیہ نے اپنے لفظوں کے عوض اس کی جنونی محبت کو پل میں نیلام کر کے رکھ دیا ہو،وہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی تھی اس کے بارے میں،
“بولیں نا۔۔۔اب بولتے کیوں نہیں۔۔۔جھٹکا لگا نا میرے منہ سے اپنے ایسے کارنامے سن۔۔”
“عنادیہ۔۔۔!!”
اس کی بات کاٹ کر سلسبیل دہاڑا تھا،بھاری ہاتھ اٹھا مگر خود پر قابو کرتا وہ عین وقت پر رکا تھا،دوسری جانب عنادیہ یونہی غصے میں کھڑی اسے گھور رہی تھی،
سلسبیل کا چہرہ ہتک سے سرخ ہونے لگا،کشادہ پیشانی پر ابھرتی نسیں اس کے اندر امڈتے اشتعال کی عکاسی کرنے کو کافی تھیں،معلق ہاتھ کو نیچے کرتا وہ دریہ بیگم کی آواز پر پیچھے ہوا،
“کیا ہوا ہے سلسبیل کیوں چیخ رہے ہو تم دونوں۔۔۔”
جب سے وہ ان دونوں کو اکیلے بات کرنے کے غرض چھوڑیں تھیں اور اب کمرے سے شور کی آواز وہ اندر آتی پوچھیں،
“پوچھیں گرینی ان سے۔۔۔کیا کارنامہ سر انجام دیا ہے کل رات انہوں نے۔۔۔”
دریہ بیگم کو دیکھتی وہ غصے میں بولی جس پر بجائے دریہ بیگم حیران ہونے کے مسکرائیں،
“تو اس بات پر غصہ ہو۔۔۔بیٹا غصے والی بات تو ہے کہ اس نے ہمیں بنا بتائے سنابِل کا نکاح کروایا عفان سے۔۔پر خیر چھوڑو۔۔ویسے بھی سنابِل ہمیں سرپرائز دینا چاہتی تھی بچی کا پورا سرپرائز خراب ہوگیا۔۔۔”
بنا عنادیہ کے روئے چہرے کو نوٹ کرتیں دریہ بیگم مسکراکر بتائیں تھیں جبکہ عنادیہ ٹھٹھک گئی،الجھ کر وہ دریہ بیگم کی مکمل بات سنی تبھی ذہن میں یہ بات آئی کہ شام عفان سے بات کے دوران اس نے صرف نکاح کا سنا تھا،سلسبیل کا سنابِل سے نکاح ہونا ایسا تو وہ کچھ نہیں سنی تھی اور تبھی وہ پھیلیں آنکھوں سمیت سلسبیل کو دیکھی،وجیہہ چہرہ لال بھبوکا ہوا تھا،ضبط سے جبڑے بھینچا وہ عنادیہ کو گھور کر نکلا تھا کمرے سے پھر سیدھا مینشن سے ہی باہر نکلتا چلاگیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
