Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 7)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 7)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
دوپہر کو جب وہ یونی سے واپس آئی تب اس کا دماغ بری طرح منتشر ہورہا تھا بلکل کل رات کی طرح جیسے وہ خود منتشر ہوئی تھی،رات بھر رونے کے باعث جس قدر اس کی آنکھیں سُوج چکی تھی اس کا زرا دل نہ کیا تھا یونی جانے کا پر ضروری تھا تبھی مجبوراََ جانا پڑا،
گھر میں داخل ہوتے ہوئے ابھی بھی ذہن اس ستمگر کی نفرت بھری آنکھوں میں الجھا ہوا تھا پر اس کا ارتکاز اچانک ہوتی بحث کی آواز پر ٹوٹا،پورچ پار کر کے اس نے اندر داخل ہوتے ہوئے لاؤنج پر قدم رکھا،سکندر صاحب اور مہناز بیگم کے ساتھ وہ ستمگر اسے صوفے پر بیٹھا دِکھا تھا،اس پر نظر پڑتے ہی مطیبہ کا دل چاہا وہ یہاں سے کہی بہت دور چلی جائے،وہ لوگ جہانگیر صاحب کے ساتھ بیٹھے کسی بات پر ہنس رہے تھے جو فلحال تو مطیبہ کے ذہن سے پرے تھے،نظریں جھکاتی وہ ان لوگوں کو بنا مخاطب کیے خاموشی سے سیڑھیوں کا رُخ کرنے لگی پر تبھی مہناز بیگم کی اس پر نظر پڑی تھی،
“ارے مطیبہ بیٹا۔۔۔آگئی تم یونی سے۔۔زرا ادھر تو آؤ۔۔۔”
ان کی محبت بھری پکار پر ناچاہتے ہوئے بھی مطیبہ کو رک کر پلٹنا پڑا ورنہ ہیثم کے ہوتے ہوئے ہمت ہی نہیں تھی ان کا سامنا کرنے کی،ادھر ہیثم کے چہرے کے تاثرات پل میں سرد ہوئے تھے اس کا نام سن کر،
“جی تائی امی۔۔۔”
سکندر صاحب اور انہیں سلام کرتی وہ آہستگی سے چل کر ان کے پاس آکر پوچھی،
“جہانگیر بھائی اب آپ اپنی اس بچی کا بھی کوئی اچھا سا رشتہ ڈھونڈ لیں۔۔۔ورنہ اچھا نہیں لگے گا کہ چھوٹی بہن کا نکاح ہو اور بڑی بہن کا کنواری۔۔۔”
اس کے گرد بازو حائل کیے مطیبہ کی تھوڑی نرمی سے تھام کر مہناز بیگم نے مذاقاً یہ بات کہی تھی پر مطیبہ کو تقریباً جھٹکا لگا،حیران کن نظروں سے وہ جہانگیر صاحب کو دیکھی تھی،اس کی آنکھوں میں سوال دیکھ انہوں نے مسکراکر کہا،
“بچے سکندر بھائی اور بھابھی کا کہنا ہے کہ اس ہفتے ہیثم اور ناذلی کا نکاح کردیا جائے۔۔۔۔رخصتی انشاللّٰہ جب ہیثم سیٹلڈ ہوجائے گا لائف میں تب کریں گے۔۔۔”
جہانگیر صاحب کی بات مکمل ہونے تک مطیبہ کو لگا اس کا وجود ریزہ ریزہ ہو جائے گا اگر وہ کچھ دیر اور یہی کھڑی رہی تو،جھیل آنکھوں میں بےیقینی پھیلی جنہیں بمشکل چھپاتے وہ اپنے خون ہوتے دل کو ڈپٹ کر چپ کرائے ساکت کھڑی رہی،جھٹکا تھا ہی اتنا برا کہ وہ بری طرح جھنجھنائی تھی،پہلے ہی کم کرب میں تھی جو ایک اور ساماں تیار کیا جارہا تھا اسے اذیت کی نئی بھٹی میں جلانے کو،
“باقی سب تو ٹھیک ہے بس مجھے یہی فکر کھائے جارہی ہے کہ اتنی جلدی نکاح کی تیاری کیسے ہوگی۔۔۔”
اسے بتاکر جہانگیر صاحب نے جب سے کہی بات پھر دہرائی،
“کوئی پریشانی کی بات نہیں۔۔۔آرام سے ہوجائے گا نکاح۔۔۔اور تیاری کی فکر آپ نہیں کریں جہانگیر بھائی یہ کام ہم عورتیں اچھے سے اور بہت جلد کرلیتی ہیں۔۔۔”
مہناز بیگم نے ہنستے ہوئے انہیں تسلی دی،ساتھ ہی وہ لوگ اور خوش گپیوں میں لگے تھے بنا یہ جانے کے وہاں کھڑے نفوس کی اندرونی حالت اس وقت کس قدر بدتر ہورہی ہوگی،ہیثم نے اس پورے دورانیے میں مطیبہ پر ایک نگاہِ غلط تک ڈالنا گوارا نہیں کیا تھا،سب کو باتوں میں گم چھوڑ وہ مردہ قدموں سمیت مڑتی سیڑھیاں عبور کی تھی،اپنے روم میں داخل ہونے پر اسے ناذلی وہاں بیڈ بیٹھی نظر آئی،اس کے معصوم چہرے پر سجی شرمگیں مسکراہٹ اس وقت مطیبہ جہانگیر کو اپنی سب سے بڑی حریف لگی،جلتی نظروں کو پھیرتی وہ ناذلی کو مکمل نظر انداز کیے بیگ سائیڈ پر رکھتی واشروم کا رُخ کی،اسے شدت سے رونا آرہا تھا پر یہاں ناذلی کے سامنے وہ خود کو بکھیرنا ہرگز نہیں چاہتی تھی،
“آپی۔۔۔”
اسے دیکھتے ہی ناذلی چہک کر اٹھی تھی ساتھ ہی مطیبہ کے گلے رکھتے خوشی سے بولی،
“آپی میں کیسے بتاؤں آپ کو۔۔۔آج میں کس قدر خوش ہوں۔۔۔پتا ہے آپی شروع میں مجھے لگتا تھا کہ ہیثم مذاق کرتے ہیں انہیں کوئی اتنی سچی محبت نہیں ہوسکتی مجھ سے۔۔۔پر آج آپی۔۔۔میں بہت خوش ہوں۔۔۔”
ناذلی نہیں جانتی تھی کہ اپنی خوشی میں اندھی ہوتی وہ کس قدر اذیت بھرے کنویں میں دھکیل چکی تھی،اب مطیبہ کی برداشت جواب دے گئی،یکدم ناذلی کو اس نے دھکا دے کر خود سے دور کیا،
“تو میں کیا کروں تم خوش ہو تو۔۔۔ضروری ہے کہ ہر بات آکر مجھے بتاؤ۔۔۔”
ناذلی جو حیران پریشان سی اس کے رویے کو دیکھ رہی تھی اچانک مطیبہ کے چٹختے لہجے پر بوکھلائی،
“آپی میں تو بس۔۔۔”
“نکلو یہاں سے۔۔۔”
“جی۔۔”
“میں نے کہا جاؤ یہاں سے ابھی۔۔۔میرے سر میں پہلے ہی درد ہورہا ہے۔۔۔”
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ناذلی کو دھکے دے کر روم سے نکال دے،ادھر ناذلی فکرمند ہوئی اس کی بات پر،
“سر درد ہورہا ہے آپی۔۔۔تو آپ ایسا کریں یہاں بیٹھیں میں دبادوں۔۔۔”
کچھ قدم آگے بڑھا کر وہ مطیبہ کا ہاتھ تھام کر نرم لہجے میں بولی پر اگلے ہی پل ناذلی ڈری تھی جب مطیبہ اس کا ہاتھ جھٹک کر دبی آواز میں چیخی،
“یہ فضول چونچلے مجھے مت دکھایا کرو۔۔۔ابھی کے ابھی نکلو میرے روم سے۔۔۔”
ہاں وہ ہر بار ناذلی سے اچانک سرد رویہ کر لیتی پر آج اس کے لہجے کی چبھن نے ناذلی کو رونے پر مجبور کیا تھا،
“آپی کیوں کررہی ہے اس طرح۔۔۔بتائیں نا مجھے۔۔۔کوئی بات۔۔۔”
روہانسی آواز میں کہتی ناذلی کی ابھی بات بھی مکمل نہ ہوئی تھی جب مطیبہ اپنی سوچ پر عمل کرتی اس کا ہاتھ سختی سے پکڑے دروازے کے باہر تقریباً دھکا دے کر نکالی تھی اسے،ناذلی سیدھا زمین پر گرتی اگر کو وقت پر وہاں سے گزرتا ہیثم نہ تھامتا اسے،وہ ناذلی کے کمرے کے جانب جارہا تھا جو کہ مطیبہ کے کمرے کے بعد والا تھا،
دونوں ہاتھ سے انتہائی آرام سے ناذلی کو سیدھا کرتے وہ گھورا تھا مطیبہ کو جو اب گھبرائی تھی اسے وہاں دیکھ،جبکہ ناذلی بری طرح رونے لگی تھی،
“ناذلی۔۔۔تُم روم میں جاؤ اپنے۔۔۔”
اس کے بازو کو تھامے وہ دھیمی آواز میں مخاطب ناذلی سے تھا پر سخت نظریں مطیبہ کو اب تک گھوررہی تھیں،
“نہیں ہیثم وہ آپی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو اسی لیے تھوڑا غصہ ہیں۔۔۔”
بھیگی آواز پر قابو پاتی وہ اپنی طرف سے جواز پیش کرنے لگی ہیثم کو،ڈر تھا کہ کہیں وہ مطیبہ پر غصہ نہ ہو،
“تم جاؤ روم میں۔۔۔”
اب کی بار ہیثم سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھتا بولا تو ناذلی ایک چور نظر مطیبہ کے سفید پڑتے چہرے پر ڈالتی مجبوراً وہاں سے گئی،
اس کے جانے کے بعد ہیثم قدم بڑھاتا اندر داخل ہوا تھا،مطیبہ جس کی سانس پہلے ہی اسے دیکھ کر رکی ہوئی تھی یکدم واشروم کا رُخ کی تھی،
کل کی فضولیات پڑھ کر پہلے ہی خود کو نظروں سے گراچکی ہو۔۔۔مگر اب اور ایسی اوچھی حرکتیں نہ ہی کرو تو بہتر ہے۔۔۔اچھے لوگوں کے لیے میں جس قدر اچھا ہوں بروں کے لیے اس سے کئی زیادہ برا بھی ہوں۔۔۔
وہ نہ تو اس کے پاس گیا نہ ہی اسے چھوا،بس چند لفظوں میں اس کی اوقات اپنی نظروں میں بتاکر مطیبہ کو زمین میں دھنسا کر وہ مڑا تھا،ہیثم کے جانے کے بعد بجائے واشروم میں جانے کے مطیبہ وہی پر بیٹھتی ہچکیوں سے رونے لگی،جھیل سی آنکھوں میں اذیت کا سمندر جو بہا تھا رکنے کا نام نہ لیا،
ہیثم اور ناذلی کی خاموش محبت کا ان کی فیملی میں ہر ایک کو علم تھا،جس کی وجہ سے وہ مطمئن سا ہوکر اکثر ناذلی سے ملتا یا اسے کہیں لے کر گھومنے چلاجاتا،اسے اپنے اور ناذلی کے رشتے میں شروع سے کوئی رکاوٹ نہ دکھی تھی جس کے باعث وہ سکندر صاحب کے اس فیصلے پر پرسکون تھا کہ ان دونوں کی شادی ٹھیک پانچ سال بعد ہوگی لیکن کل رات مطیبہ کی ڈائری پڑھنے کے بعد وہ بہت ڈسٹرب ہوا تھا،اصل گھبراہٹ اسے یہی ہوئی تھی کہ کہیں مطیبہ اپنے جنون میں ناذلی کو نقصان نہ پہنچادے،بس اس ہی وجہ سے اس نے صبح ہی سکندر صاحب اور مہناز بیگم سے بات کی تھی اس ہفتے نکاح کی،شروع میں تو سکندر صاحب الجھے تھے اس کے اتنی جلدی نکاح کی ضد پر لیکن مہناز بیگم کی رضامندی دیکھ انہوں نے کوئی اعتراض نہ کیا اور اس بات کا زکر جب سکندر صاحب نے جہانگیر صاحب سے کیا تو ہر باپ کی طرح وہ بھی تھوڑا پریشان ہوئے تھے اتنی جلدی نکاح پر،لیکن مہناز بیگم اور سکندر صاحب کے سمجھانے پر انہوں نے زیادہ اعتراضات کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنی خوشنودی ظاہر کی اس بات پر،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کہاں سے آرہے ہو دوست۔۔۔”
شام کو وہ باہر سے آیا تو سکندر ولا کی انیکسی کے جانب اس کا رخ تھا تبھی پیچھے سے آتی آواز پر پلٹا،ہناد کو وہاں کھڑے دیکھ سابی انیکسی میں جانے کا ارادہ ملتوی کیے اس کی طرف آیا،
“یونی کے بعد پارٹ ٹائم جاب کرتا ہوں۔۔۔بس وہی سے آرہا ہوں۔۔۔”
پہلی بار اس کے اچھے رویے پر سابی مسکراتے ہوئے بتایا تھا،
“تم جاب کیوں کررہے ہو۔۔۔”
ہناد حیران ہوا تھا،
“ظاہر سی بات ہے پڑھ رہا ہوں تو فیس بھی تو دینی ہوگی۔۔۔”
کندھے اچکاکر نارملی جواب دیا گیا تھا،
“کیوں تمہارے ڈیڈ نہیں دیتے فیس تمہاری۔۔۔؟”
اسے شدید حیرت نے آگھیرا تھا،کیسے مقابل اپنا خرچہ خود اٹھاتا تھا،اپنے سٹیٹس میں بچپن سے رہنے والا وہ نہیں جانتا تھا کہ مجبوری میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ خوددار لوگ جاب بھی کرتے ہیں۔۔۔
“ڈیڈ اپنا اور گرینی کا خرچہ اپنی پینشن سے چلاتے ہیں۔۔۔اس پر میں ان سے فیس مانگوں یہ میری فطرت گوارا نہیں کرتی۔۔۔”
رسانیت سے کہتا وہ اب باقاعدہ ہناد کے ساتھ ساتھ چلنے لگا تھا،البتہ ایک ہاتھ میں بیگ ہنوز تھاما ہوا تھا،
“حیرت ہے۔۔کیسے کرلیتے ہو یہ سب۔۔۔”
پہلی مرتبہ سابی سے مات کر کے اچھا لگا تھا ہناد کو،
“غربت سب سکھادیتی ہے میرے بھائی۔۔۔”
سابی کی اس بات پر وہ گردن موڑ کر یاسیت سے اسے دیکھا تھا ساتھ ہی آسودگی سے مسکرایا،
“باسکٹ بال کھیلتے ہو۔۔؟”
چلتے چلتے وہ دونوں بیرونی حصے میں آئے تھے تبھی اچانک ہناد پوچھا جس پر سابی نے ایک نظر پلے گراؤنڈ پر ڈالے آئبرو اچکاکر کہا،
“بہت پہلے کھیلتا تھا۔۔۔اب تو شاید بھول چکا ہوں گا۔۔۔”
اس کے یوں بولنے پر ہناد ہنس کر پوچھا،
“ایک مقابلہ ہوجائے پھر۔۔۔”
اس کے سوال پر سابی نے پہلے تو ہناد کو دیکھا پھر مسکراتے ہوئے اثبات میں سرہلاکر بیگ برابر میں نیچے رکھا،
کچھ دیر بعد دونوں میں ایک ناختم ہونے والا مقابلہ شروع ہوا تھا۔۔۔ہر کسی کو منٹوں میں ہرا دینے والا ہناد آج جانا تھا کہ کوئی ہے جو اسے ہر سیکنڈ میں ہرانے کی صلاحیت رکھتا تھا،وہ ہر بار ہارنے کے بعد جب تھکا تو ایک جگہ رک کر گھٹنوں پر دونوں ہاتھ رکھے اپنی سانس متواتر کرنے لگا،
“تم جینیئس ہو دوست۔۔۔”
پھولی ہوئی سانسوں کے درمیان کہتا ہناد ہنسا جس پر سابی بال ایک جانب پھینکتا اس کے پاس آیا،
“تم بھی بہت اچھا کھیلتے ہو۔۔۔”
“تم سے کم۔۔۔”
سابی کی بات کا جواب دے کر وہ کھڑا ہوا تو سابی کندھے اچکایا،
“ہیثم کے نکاح میں آؤ گے۔۔۔”
اسے بیگ اٹھاتے دیکھ ہناد پوچھا
“ہیثم کا نکاح۔۔۔اتنی جلدی۔۔۔”
بیگ ہینگ کرتا وہ مڑ کر ہنسا،
“اسے جلدی ہے۔۔۔خیر حیران نہ ہو رخصتی کچھ سالوں بعد ہوگی۔۔۔”
دونوں ہاتھوں کو جیب میں اڑس کر کہتا ہناد بھی اس کے ساتھ چلنے لگا،
“کب ہے۔۔۔”
“اس ہفتے۔۔۔”
“آ۔۔۔نہیں آپاؤں گا۔۔۔لیکچر ہے امپورٹنٹ۔۔۔”
انیکسی کے جانب آتا وہ مڑ کر ہناد کو بولا،
“اسے میری طرف سے سوری کہہ دینا اور مبارک باد لازمی دینا۔۔۔”
سابی کی مسکاتی آواز میں کہنے پر اس نے ہلکی مسکراہٹ سمیت سر اثبات میں ہلایا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ایک ہفتے بعد وہ پھر آئی تھی وہاں پر،اورفونیچ میں بچوں نے اسے بتایا تھا کہ آج پورا دن وہ پچھلے حصّے میں بنے گارڈن پر نہیں آیا،تبھی خود ہی اس کی خیر خبر لینے وہ آئی،ڈور بیل بجانے کی ضرورت اسے پیش نہ آئی کیونکہ آج گھر کا گیٹ کھلا تھا،شاید فرمان صاحب نے کسی کام سے کھولے چھوڑا تھا،عندلیب اندر داخل ہوتی ایک نظر ہر طرف ڈالی تھی،پھر گہرا سانس بھرتی کچن میں اسماء کو ڈھونڈنے لگی پر تبھی وہ ٹھٹھکی،سلسبیل کے کمرے سے آتی بلند آوازوں پر یقیناً وہ کسی بات پر غصہ تھا،
دروازے کے قریب آتی عندلیب نے ابھی روم میں جانے کا سوچا ہی تھا جب کانوں پر مقابل کے الفاظوں کا ٹکراؤ ہوا اور وہ قدم روک گئی،
“وہ بھی جان بوجھ کر مجھے جھوٹے دلاسے دیتی ہے۔۔۔اور اب آپ بھی وہی کررہی ہیں۔۔۔حالانکہ آپ اچھے سے جانتی ہیں گرینی کے میری بینائی کبھی واپس نہیں آسکتی۔۔۔۔”
غصے میں چیختا وہ شدید اذیت میں مبتلا لگ رہا تھا،
“ایسا نہیں ہے میرے بچے۔۔۔عندلیب نے بتایا ہے کہ چانسس کم ہیں مگر ہے تو۔۔۔اور بیٹا مجھے پوری امید ہے کہ ایک دن تماری آنکھیں ضرور ٹھیک ہوں گی۔۔۔”
دُرّیہ بیگم اس کے غصے کو مدنظر رکھ کر نرمی سے سمجھانے لگیں،
“امید۔۔۔ہنہہ۔۔۔اس امید پر ہی تو پانچ سال سے یہ بےبس محتاج والی زندگی گزار رہا ہوں۔۔۔پر نہیں۔۔۔اب مجھے یقین ہوچلا ہے کہ یہ سب بکواس ہے۔۔۔میری بینائی کبھی واپس نہیں آئے گی۔۔۔گرینی آپ جانتی بھی ہیں کہ وہ کیمیکل کوئی عام کیمیکل نہیں تھا۔۔۔سو میں سے دس پرسنٹ لوگوں کی بینائی رہتی ہے۔۔۔اور میں ان دس پرسنٹ میں سے باہر ہوں۔۔۔”
بےانتہا کرب میں کہتے آخر میں اس کا لہجہ تھکن بھرا ہوا،
“تم انہیں دس پرسنٹ میں ہوگے سلسبیل۔۔۔”
سلسبیل کے پاس آکر نرمی سے اس کا چہرہ تھامتی دریہ بیگم نے نم آواز سمیت کہا،یہ کہتے ہوئے ان کا خود کا لہجہ کھوکھلا ہوا تھا جس پر سلسبیل حذ اٹھاتی مسکان لبوں پر سجایا تھا،
“اسے کہہ دیں اب وہ یہاں نہ آئے۔۔۔”
اچانک وہ بولا تو دریہ بیگم چونکی،
“یہاں پر آکر وہ جان بوجھ کر میرے زخموں کو ادھیڑتی ہے۔۔۔مجھ پر یہ واضح کرتے رہتی ہے کہ میں ایک لاچار انسان ہوں جسے اپنی زندگی جینے کے لیے کسی کے سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔۔اور میں ایسا نہیں یوں گرینی۔۔۔”
دریہ بیگم کے ہاتھوں کو جھٹکتا وہ پوری بات کہتا آخر میں دھاڑا،دروازے پر کھڑی عندلیب بےساختہ ایک قدم پیچھے ہوئی،
“بیٹا اسے تمہاری فکر ہے۔۔۔”
“نہیں ضرورت مجھے اس کی فکر کی۔۔۔میں ایسے ہی ٹھیک ہوں۔۔۔سلسبیل مراد اکیلا ہی ٹھیک ہے گرینی۔۔۔اسے کہہ دیں اب اگر وہ یہاں آئی تو یا تو میں خود کا نقصان کروں گا یا پھر اسے ہی جان سے مار ڈالوں گا۔۔۔”
“سلسبیل۔۔۔!!!”
اس کے جنونی انداز میں کہنے پر دریہ بیگم نے بھیگی نظروں سمیت اسے ٹوکا ساتھ ہی اس کے پاس ہونے لگی لیکن اگلے ہی لمحے انہیں اپنے قدم پیچھے لیے جب سلسبیل کمرے میں رکھی ہر چیز جو ہاتھ میں آتے گئی اٹھا کر ادھر ادھر پھینکنے لگا،پچھلے دنوں کی رپورٹ آنے کے بعد اسے یقین ہوچلا تھا کہ اب وہ کبھی دیکھ نہیں پائے گا۔۔۔ایک ہفتہ وہ کس کرب میں گزارا تھا یہ وہی جانتا تھا اور آج۔۔۔،اسے معلوم تھا وہ پھر آئے گی تبھی پہلے ہی دریہ بیگم کو آگاہ کررہا تھا کہ اس کی موجودگی اب زرا گوارا نہیں سلسبیل مراد کو،
“اسے کہیں مت آیا کرے میرے پاس۔۔۔چلی جائے یہاں سے وہ۔۔۔دور۔۔۔بہت دور چلی جائے۔۔۔سلسبیل مراد کو کسی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔آپ بھی جائیں یہاں سے۔۔۔چلی جائیں آپ۔۔۔”
وحشت بھرے انداز میں دھاڑتا وہ بہت جنونی لگا تھا اس وقت تبھی اپنے آنسو نہ رکنے پر دریہ بیگم مڑ کر اس کے کمرے سے نکلیں،دروازے کے باہر اپنی سسکیاں دبائے کھڑی عندلیب کو دیکھ وہ بوکھلائی تھیں،
“عندلیب بیٹا۔۔۔وہ ابھی تھوڑا۔۔”
ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی عندلیب سکندر پلٹی تھی،جیسے بنا کچھ کہے وہ یہاں آئی ویسے ہی خاموشی سے چلی گئی،اس کے جانے کے بعد دریہ بیگم نفی میں سر ہلاتی لاؤنج میں بنے صوفے پر بیٹھیں تھیں،آنکھوں سے آنسو پونچھ کر وہ ایک تھکان سی نظر سلسبیل کے کمرے پر ڈالی تھیں جہاں سے ابھی بھی توڑ پھوڑ کی آواز آرہی تھی،
“کیا ہوا بیگم صاحبہ۔۔۔سلسبیل صاحب پھر غصہ ہیں۔۔۔”
کوارٹر سے آتی اسماء نے جب شور سنا تو دریہ بیگم سے پوچھا
“مجھ میں اب اتنا دم نہیں ہے اسماء کہ اب یہ سب برداشت کرسکوں۔۔۔اپنے جوان پوتے کو اور یوں بےبس نہیں دیکھ سکتی میں۔۔۔”
تھکے ہوئے لہجے میں کہہ کر انہوں نے صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موندی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن پر لگا کر اڑے تھے،تیاریوں میں کسی کو ہوش ہی نہ رہا تھا۔۔۔مہناز بیگم نے اپنے کہے کے مطابق ایک ہفتے میں تیاری کروائی تھی،آج ناذلی اور ہیثم کے نکاح کی تقریب جہانگیر صاحب کے کہنے پر جہانگیر ہاؤس میں ہی رکھی گئی تھی،اس دن کے بعد مطیبہ نے ہمیشہ کی طرح ناذلی کے ساتھ نارمل رویہ رکھا،چونکہ ناذلی کو اس کے ایسے رویے کی عادت ہوچکی تھی تبھی وہ زیادہ نوٹس نہیں لی تھی،
سفید شلوار قمیض پر لال رنگ کا کامدار دوپٹہ سر پر قرینے سے سیٹ کیے وہ نیچے سب میں گھری بیٹھی تھی،نفیس میک اپ اس کے معصوم چہرے پر خوب جچا تھا،ہیثم کی نگاہ خیراں ہوئی تھی اس دشمنِ جاں کا یہ روپ دیکھ،اس کی پُرتپش نظریں ناذلی کے گال ہر لمحے دہکانے پر تلی تھیں،ہلکے گلابی رنگ کے سوٹ پر سفید دوپٹہ شانوں پر پھیلائے وہ میک اب کے نام پر صرف لبوں پر گلابی لپ سٹک لگائے سوگوار روپ میں بھی مقابل کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں،سُرخ سوجی جھیل رنگ آنکھوں کے لال ڈورے ہر دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کردیتے پر سب سے بےنیاز وہ ایک جگہ پر کھڑی اپنی ہار پر خاموش سوگ منارہی تھی،
اس وقت مطیبہ جہانگیر کو شدت سے اپنی محبت ہارتی ہوئی لگی جب نکاح نامے پر ہیثم کے بعد ناذلی سے دستخط لیے گئے،اپنے اندر کی توڑ پھوڑ کو دبائے وہ مہمانوں کا لحاظ کرتی بمشکل مسکرارہی تھی،آج مطیبہ جہانگیر کو معلوم ہوا تھا کہ جب دل میں اذیتوں کا جہان آباد ہو تو مسکرانا کس قدر مشکل عمل لگتا ہے،بھرائی آنکھوں سمیت مسکراتی وہ خاموشی سے مذاق بنتے دیکھ رہی تھی اپنی محبت کا،وہ خاموش محبت اس کے دل میں دفن ہوکر رہ گئی تھی،ناذلی کے سنگ مسکراتے ہیثم کی نگاہ غیر ارادی طور پر اٹھی تھی اس کی طرف،دونوں کی نظریں ٹکرائی تھیں ایک کی آنکھوں میں کرب تھا تو دوسرے کی آنکھوں میں نفرت،مطیبہ کے بھیگے چہرے کو دیکھتے ہی وہ اگلے لمحے اپنی نگاہ تنفر سے پھیرا جیسے اس خوشی کے موقع پر کوئی بدمزگی نہ چاہتا ہو،مطیبہ نے سختی سے آنکھیں میچ کر کھولی تھیں،
دوسری جانب لبوں پر شرمگیں مسکراہٹ سجائے ناذلی کا حال برا ہوا تھا جب نکاح کے بعد ہیثم نے سب کی موجودگی کے باوجود اس کا ہاتھ بڑے استحقاق سے تھاما،وہ سرخ ہوتے چہرے کو شرم سے جھکا گئی تھی جب کان میں ہیثم کی بھاری آواز سنائی دی،
“اپنی چاہتوں کی دیوار کو تم پر اس قدر تنگ کردوں گا کہ کبھی کوئی بد نظر اسے پار کر کے ہمارے خوبصورت بندھن کو توڑ نہیں پائے ناذلی ہیثم سکندر۔۔۔”
اس کے لفظوں کے زیرِ اثر ناذلی کو اپنا آپ نہایت خوش قسمت لگا۔۔۔سر اٹھاکر وہ ایک مسکاتی نظر اسکے وجیہہ چہرے پر ڈالتی واپس نگاہ جھکائی تھی،یہ منظر مطیبہ جہانگیر کی نظروں سے مخفی نہ رہ سکا،
“کہاں جارہی ہو۔۔۔”
اچانک ناذلی کو اپنی جگہ سے اٹھتے دیکھ وہ اسکا ہاتھ پکڑے پوچھا تھا،
“ہیثم میری دوست آئی ہے۔۔”
ناذلی کی بات پر ہیثم نے نفی میں سر ہلایا،
“لڑکی تو وہ یہاں آجائے گی۔۔۔تم تو بیٹھو۔۔۔”
مہناز بیگم کی آواز پر ہیثم سمیت ناذلی بھی چونکی،
“تائی امی۔۔۔وہ اکیلی ہے۔۔۔نروس ہوتی ہے بھیڑ میں۔۔۔اسے فوراً لے کر آتی ہوں میں۔۔گیٹ پر کھڑی ہوگی۔۔۔”
مہناز بیگم کو دیکھ کر اب کی بار ناذلی نے بولا
“پر بیٹا نکاح ہوا ہے تمہارا ابھی۔۔۔رکو میں کسی۔۔”
“امی جانے دیں۔۔۔”
انہیں عجیب لگ رہا تھا ناذلی کا یوں اٹھ کر گیٹ پر جانا تبھی ٹوکنے لگی پر ہیثم کے بیچ میں بولنے پر گہرا سانس بھرتے مسکراکر سر اثبات میں ہلاگئیں،
اجازت ملنے پر ناذلی خوشی سے جانے لگی پر گیٹ سے کچھ دور ہی وہ بری طرح ٹکرانے پر گری تھی نیچے،اسکی چیخ پر سب چونکے،دوسری طرف مطیبہ سے اس بار ٹکر بےخیالی میں ہوئی تھی پر سامنے بیٹھا ناذلی پر نظر رکھے ہیثم کو یہی لگا کہ ہر بار کی طرح مطیبہ نے اس مرتبہ بھی ناذلی کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا تھا،
“سوری۔۔۔سوری۔۔۔ناذلی۔۔”
نیچے گری ناذلی کو دیکھ بوکھلا کر کہتی مطیبہ جھک کر اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگی،
“ہٹو یہاں سے۔۔۔”
اچانک پیچھے سے ہیثم اس کے کندھے پر اپنا بھاری ہاتھ سختی سے رکھے پیچھے کیا،مطیبہ جھٹکا کھا کر رہ گئی تھی اس کے چھونے سے تبھی فوراً پیچھے ہوئی،اچانک ہوتی افراتفری میں کسی نے نوٹس نہیں لیا تھا ہیثم کا مطیبہ سے سخت لہجہ،سبھی متوجہ ہوئے تھے ناذلی کی طرف،
“تم ٹھیک ہو ناذلی۔۔۔؟”
نیچے جھک کر وہ روتی ہوئی ناذلی سے فکرمندانہ لہجے میں پوچھا پر ہیثم کے سوال پر جب وہ مسلسل روتے ہوئے نفی میں سر ہلائی تب اسے گود میں اٹھاتا ہیثم صوفے کے جانب لے گیا،
“کیسے گری ناذلی۔۔۔”
اس کے پاس بیٹھتے جہانگیر صاحب ناذلی کے گرد بازو حائل کر کے تفکر سے پوچھے تھے،
“پتا نہیں۔۔۔بابا۔۔۔می۔۔میں وہ۔۔ارم کو لینے۔۔جارہی تھی۔۔۔پھر۔۔۔اچانک۔۔”
چوٹ نہیں لگی تھی اسے پر وہ اچانک افتادہ پر گھبرائی تھی بری طرح تبھی رورہی تھی،
“لو پانی پیو۔۔۔”
مہناز بیگم نے ایک گلاس پانی منگواکر اس کے آگے کیا،بمشکل دو گھونٹ پی کر جب وہ کافی حد تک سنبھلی تب سکندر صاحب نے کہا،
“بیٹا آپ ٹھیک ہیں۔۔۔اگر نہیں تو ہم اختتام کرتے ہیں تقریب کا ویسے بھی نکاح تو ہو ہی چکا ہے۔۔۔”
“ہاں۔۔ڈیڈ صحیح کہہ رہے ہیں نکاح تو ہو ہی چکا ہے پھر چلتے ہیں ہم لوگ گھر۔۔۔”
فلذہ جو پہلے ہی موڈ ڈل کیے بیٹھی تھی سابی کے نہ آنے پر فوراً بولی،
“نہیں تایا ابو۔۔می۔۔میں ٹھیک۔۔ہوں۔۔۔”
ایک نظر ہیثم کے دونوں ہاتھوں میں مقید اپنے ہاتھ کو دیکھتی وہ ہلکی آواز میں بولی،
“پکا ٹھیک ہو۔۔۔”
ہیثم کی آواز میں حد درجہ تفکر گھلا تھا جسے محسوس کرتی ناذلی دھیمی مسکان سمیت اثبات میں سر ہلائی،
سب کچھ جیسے پل میں بگڑا تھا ویسے ہی نارمل ہوا،مہناز بیگم ناذلی کے خیال کے غرض اس ہی کے ساتھ بیٹھی رہی تھیں،فلذہ جہاں اپنی دوستوں سے باتوں میں مگن تھی وہی اس کی نظروں نے مطیبہ کو ڈھونڈ رہی تھیں،جو سب سے بےبہرہ ہوتی اوپر جارہی تھی،ہیثم کا ناذلی کے لیے اس قدر فکرمند ہونا ان دونوں کی نظروں کا ملنا۔۔۔،یہ سوچ سوچ کر مطیبہ کا دماغ پھٹا جارہا تھا،وہ اکیلے رہنا چاہتی تھی فلحال،پورے گھر میں مہمان بھرے تھے تبھی اس نے اپنے کمرے میں جانے کے بجائے چھت پر جانا بہتر سمجھا،سیکنڈ فلور پر آکر ابھی اس نے چھت پر جاتی سیڑھیوں پر قدم رکھا ہی تھا کہ کسی نے سختی سے اس کے لبوں پر اپنا بھاری ہاتھ جماکر برابر میں بنے گیسٹ روم میں کھینچا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
