Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 36)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 36)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

“اداس مت ہو۔۔”

مسلسل کار ڈرائیو کرتا سلسبیل برابر میں خاموش بیٹھی عنادیہ کو دیکھ کر کہا،وہ دونوں دوپہر کو ہی گئے تھے اورفونیچ پر بسمہ نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا،وہ اورفونیچ کے بچوں کے ساتھ خود کو کمفرٹیبل محسوس کررہی تھی،عنادیہ کا دل تھا اسے منانے کا پر سلسبیل نے اسے زیادہ موقع نہ دیا،وہ نہیں چاہ رہا تھا کہ بسمہ کے ساتھ کوئی زبردستی ہو،تبھی خود بھی عنادیہ کو منع کیا،پندرہ منٹ بعد اورفونیچ سے نکل کر عنادیہ کے کہے کے مطابق سلسبیل نے سبھی سامان پھر کار میں رکھا اور اس ہی وقت وہ دونوں واپسی کے سفر پر روانہ ہوگئے تھے،اور اب انہیں اپنے شہر کے حدود میں داخل ہوئے ایک گھنٹہ ہوچکا تھا،مینشن زیادہ دور نہ تھا اب،

“ہم ملتے رہیں گے اکثر ان سے۔۔”

اب کی بار وہ عنادیہ کا ایک ہاتھ گرفت میں لے کر نرمی سے کہا تو اس کی جانب دیکھ وہ آسودگی سے مسکرائی اور تبھی روڈ کی طرف نظریں جمائے سلسبیل نے جھٹکے سے کار روکی،

“کیا ہو۔۔”

عنادیہ کے الفاظ تھمے تھے جب اس کی نظر سامنے کچھ دور الٹی پڑی دھواں اڑاتی کار پر پڑی،

“تم یہیں پر رہو میں دیکھ کر آتا ہوں۔۔”

کار سے نکلتا سلسبیل تشویش سے کہا،عنادیہ جو اس کار کو دیکھ فکرمند ہوئی تھی اچانک نظر کار کے نمبر پر پڑی تو وہ ساکت ہوکر رہ گئی،دماغ سلب ہوا تھا اور وہ اگلے ہی لمحے ہوش میں آتی کار سے نکل کر چیخی،

“ہیثم بھائی۔۔!”

کار کے قریب پہنچا سلسبیل عنادیہ کے چیخنے پر چونک کر اس کی جانب دیکھا جو تقریباً بھاگتے ہوئے کار کے پاس آئی تھی،

“عنادیہ۔۔”

وہ حیران ہوا تھا،

“یہ۔۔یہ۔کار۔۔بھائی۔۔ہیثم بھائی کی ہے سلسبیل۔۔”

بھرائی آواز میں کہتی وہ جھکی،دوسری جانب سلسبیل بھی جلدی سے جھک کر ٹوٹے ہوئے شیشے کی جانب دیکھا،اندر بری طرح سے چھلنی ہوا ساکت پڑا مضبوط وجود کسی اور کا نہیں ہیثم سکندر کا ہی تھا،

“بھائی۔۔”

عنادیہ کی پھر چیخ نکلی تھی اپنے بھائی کا یہ حشر دیکھ،دل بری طرح گھبرانے لگا تھا کہ پتہ نہیں وہ زندہ تھا بھی یا،اس سے آگے وہ سوچ نہ سکی،کچھ سمجھ نہ آنے پر وہ بآواز رونے لگی،

“عنادیہ خاموش رہو۔۔”

اسے یوں روتا دیکھ سلسبیل ٹوکا ساتھ ہیثم کو کار سے نکالنے کی کوشش کے تحت ڈور کھولنے لگا،آہنی ہاتھ کے دو تین جھٹکوں پر ہی وہ کھوکھلا ہوا ڈور ٹوٹا تھا،اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر برابر میں گراتا سلسبیل آگے ہوکر ہیثم کو تھامنے لگا،سیٹ بیلٹ کھولتے ہی ہیثم لڑھکا تھا اور فوراً سے پہلے سلسبیل اسے تھامتا لب بھینچا،

“عنادیہ۔۔”

وہ جو سلسبیل کی کاروائی دیکھ مسلسل رورہی تھی اب اس کے پکارنے پر فوراً آگے آئی،

“ہماری کار قریب لے کر آؤ۔۔”

اس کی ہدایت پر جھٹ اثبات میں سر ہلاتی وہ واپس تیزی میں گئی پھر سلسبیل کی کار میں بیٹھ کر اسے سٹارٹ کرتی سلسبیل کے بلکل برابر میں لاکھڑا کی،

عنادیہ کے بیک ڈور کھولنے پر سلسبیل ہیثم کے بےجان ہوتے وجود کو سنبھالتا بیک سیٹ پر لیٹایا،

“بیٹھو جلدی۔۔”

کار میں بیٹھتا سلسبیل عنادیہ کو بولا،وہ سیدھا پیچھے جا کر بیٹھی،ہیثم کا سر اپنی گود میں رکھے وہ بارہا سلسبیل کو کار کی سپیڈ تیز کرنے کا کہتی گئی،ہمت نہ تھی مگر بہت کوشش کے بعد اس نے دو انگلیاں ہیثم کی ناک کے قریب کی،دھیمی۔۔۔،بےحد دھیمی سانس چل رہی تھی جیسے کچھ سیکینڈ میں سانسوں کی وہ ڈور ٹوٹنے کو تھی،عنادیہ کو اپنا دل باہر آتا محسوس ہوا،تمام راستے وہ ہیثم کی زندگی کی دعائیں کرتی گئی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اب آپ کو زیادہ مشکل نہیں ہورہی۔۔”

خوشی سے کہتی یہ صغریٰ تھی،دوپہر کو مطیبہ کو چلنے میں مدد کرتی وہ آہستگی سے مطیبہ کا ہاتھ چھوڑی تھی جس پر زیادہ نہیں پر کافی حد تک مطیبہ چلنے لگی تھی،پیر میں درد بھی اب کل کی طرح محسوس نہیں ہورہا تھا،صغریٰ کی بات سنتی وہ بمشکل مسکرانے کی کوشش کی مگر ناکام رہی،الٹا آنکھوں میں دکھ کے سایے لہرانے لگے،ماضی کے ہوئے ستم بھولتے ہی نہیں تھے،

صغریٰ کا فون بجا تھا،مطیبہ چونک کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی،

“بی بی فرخندہ کی کال ہے۔۔”

اسے بتاتی صغریٰ کال ریسیو کی اور چند لمحوں میں اس کے تاثرات بدلے،چہرے پر گھبراہٹ کے آثار نمایاں ہوئے،

“کیا ہوا صغریٰ۔۔”

اس کے فون رکھنے پر مطیبہ نے پوچھا،

“بی بی ہیثم صاحب کا کل رات ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔۔۔حالت بہت خراب ہے۔۔۔فرخندہ نے بتایا بیگم صاحبہ بہت رورہی تھیں،ابھی وہ لوگ ہسپتال میں ہیں۔۔”

صغریٰ جیسے جیسے اسے بتارہی تھیں مطیبہ کی جھیل آنکھوں میں ویسے ویسے سرد تاثر ابھرتا گیا،پتا نہیں کیوں پر اسے فرق تک نہیں پڑا تھا اس خبر سے،شاید کہ اس کا دل اپنے ساتھ ہوئے ظلم کے باعث کافی حد تک پتھر ہوچکا تھا،جس میں کسی کے لیے کوئی نرم احساس تک نہیں جاگ پارہا تھا،اب بھی وہ خاموش نظروں سے صغریٰ کو دیکھ رہی تھی،

“بی بی۔۔۔آپ جائیں گی۔۔”

اس کے تاثرات میں زرا بھی بدلاؤ نہ آنے پر صغریٰ نے ڈرتے ڈرتے پوچھا،

“جا کے کام کرو اپنا۔۔”

سنجیدگی سے کہتی مطیبہ پھر لاؤنج میں ٹہلنے کے غرض چھوٹے چھوٹے قدم اٹھانے لگی،اس کے کہنے پر صغریٰ سر ہلاتی کام میں مشغول ہوئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن بعد اسے ہوش آیا تھا،اپنی متلاشی بےچین آنکھوں کو ہر طرف دوڑایا مگر وہ اسے کہیں نہ دکھی جس دیکھنا چاہ رہا تھا،ہاں مطیبہ جہانگیر کہیں نہ تھی،ایک ہفتے کے لگاتار علاج نے اسے کافی حد تک بہتر کیا تھا،چہرے کا زخم زیادہ گہرا نہیں تھا جلد بہتر ہونے کے امکان تھے،گردن میں گہرا کٹ لگنے کے باعث تکلیف ہنوز تھی جبکہ پیروں اور ایک بازو میں پلاسٹر لگنے کی وجہ سے ان میں سنسناہٹ اور تکلیف ہر تھوڑی دیر میں اٹھتی،

“کار سپیڈ میں چلاکر تم ہیرو بننے کی خواہش رکھ رہے تھے۔۔”

وارڈ میں اس کے سامنے کھڑا سلسبیل سرد لہجے میں استفسار کیا تھا،ہیثم سر جھکا گیا،سب کے پوچھنے پر اس نے بنا کسی جھوٹ کی ملاوٹ کے صاف بتادیا تھا کہ کار حد سے زیادہ سپیڈ میں کرنے کے باعث اس کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا،

“سلسبیل وہ ابھی تکلیف میں ہیں۔۔”

عنادیہ لاچارگی سے ٹوکی تو اس پر ایک سنجیدہ نظر ڈالتا سلسبیل چپ ہوا،وہ مہناز بیگم کو سنبھال رہی تھی،اس رات سلسبیل نے جب مہناز بیگم کو اطلاع دی تو ان کے ہاسپٹل میں آنے پر عنادیہ روتے ہوئے ان سے لپٹ گئی،بری طرح روتے وہ ہوش میں نہ ہونے کے باعث ہیثم کی سلامتی کی بآواز دعا کررہی تھی اور تبھی مہناز بیگم اِسٹل ہوئی تھیں اس کی آواز سن کر،وہ بول سکتی تھی،انہیں سمجھ نہ آیا کہ اس وقت وہ اپنی بیٹی کے بولنے پر خوش ہوں یا بیٹے کی حالت پر روئیں،ہیثم کے ہوش میں آنے پر جب وہ بھی عنادیہ کو بولتا دیکھا تو یک گونہ اسے خوشی ہوئی تھی پر وہ خوشی پل میں ماند پڑی اپنے اردگرد اس لڑکی کو ناپاکر،اوّل تو ایکسیڈنٹ کے وقت اسے آخری بات جو ذہن میں آئی تھی یہی تھی کہ اب وہ نہیں بچ پائے گا اور دوسرا اگر کو وہ زندہ ہوتا تو شدت سے اپنے سامنے اس لڑکی کو دیکھنے کا خواہشمند تھا مگر اس کی یہ خواہش۔۔۔،خواہش ہی رہ گئی،

“مجھے گھر جانا ہے۔۔”

کافی دیر کی خاموشی کے بعد وہ دھیمے لہجے میں بولا،

“دو ہفتے بعد ڈسچارج ہوگے تم۔۔”

سنجیدگی سے کہتا سلسبیل عنادیہ اور مہناز بیگم کو دیکھ وارڈ سے نکلا دریہ بیگم کو یہاں لانے کے غرض،وہ جب سے اسے کال کررہی تھیں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جہانگیر ہاؤس کے لان میں ٹہلتی اس کی مکمل سوچوں کا محور یہی تھا کہ اب وہ کیسے اپنی اجڑی زندگی کا نیا موڑ لے،ہاں وہ آگے بڑھنا چاہتی تھی پر اب سمجھ کچھ نہیں آرہا تھا،دیڑھ مہینہ ہونے کو تھا،اب وہ مکمل بہتری کی طرف لوٹ آئی تھی،الجھے ذہن میں خیال آیا کہ اس کے بینک اکاؤنٹ میں بھی اب زیادہ پیسے نہیں رہے تھے،مطیبہ کا ذہن جاب کی طرف گیا تھا،وہی آخری وصیلہ تھا اسے نئے سٹارٹ کی طرف قدم رکھنے کا،

“بی بی۔۔عنادیہ بی بی آئی ہیں۔۔”

صغریٰ کے لان میں آکر بتانے پر مطیبہ چونکی،عنادیہ کا یہاں آنا اسے حیران کرگیا،

کچھ دیر بعد لان میں آتی عنادیہ اسے صحت یاب دیکھ آزردگی سے مسکرائی،چونکہ مطیبہ کو عنادیہ سے کوئی بیر نہ تھا تبھی اس کے بھی گداز لب زرا سے پھیل کر سمٹے،

“کیسی ہیں آپی۔۔؟”

ہنوز نرم مسکراہٹ سجائے عنادیہ پوچھی،مطیبہ ٹھٹھکی تھی اسے بولتے دیکھ مگر جلد ہی سنبھلی،

“خیال آگیا تمہیں یہ پوچھنے کا۔۔”

ناچاہتے ہوئے بھی مطیبہ کے لبوں سے شکوہ نکلا،عنادیہ لب سکڑے،ہتک کے احساس کے تحت اس کا خوبصورت چہرہ جھک کر اٹھا،

“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ کے ساتھ اتنا غلط ہوگا۔۔۔افسوس ہے کہ میں بےخبر رہی ان سب سے۔۔۔اگر معلوم ہوتا تو شاید۔۔”

“تو بھی وہ بےحس لوگ اپنے ظلم سے باز نہ آتے۔۔تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے روکنے سے وہ لوگ رک جاتے۔۔۔”

کہتے ہوئے مطیبہ کا لہجہ سخت ہوا،شرمندگی کے احساس تلے عنادیہ کو اس سے نظریں ملانا محال لگا،

“سوری۔۔”

پشیماں ہوتی وہ بولی،

“تم نے کچھ غلط نہیں کیا میرے ساتھ تو تمہارے یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔۔”

بازو فولڈ کرتی مطیبہ اب سنجیدگی سے بولی،

“میں اپنی بےخبری پر شرمندہ ہوں آپی۔۔۔جانتی ہوں آپ ان کے ظلم پر کبھی معاف نہیں کرسکتی انہیں مگر ایک فریاد لے کر آئی ہوں۔۔۔آپ انکار مت کیجیے گا۔۔”

مطیبہ کے منہ سے اتنا سننے کے بعد وہ کہنا تو نہیں چاہ رہی تھی مگر مہناز بیگم کا بھیگے لہجے میں اس سے درخواست کرنا عنادیہ کو مجبور کرگیا،مطیبہ کی سوالیہ نظریں خود پر مرکوز دیکھ وہ بولنا شروع کی،

“آپ بھلے انہیں معاف نہ کریں مگر جب تک وہ بہتر نہیں ہوجاتیں پلیز تب تک سکندر ولا آجائیں۔۔۔ایک مہینہ ہونے کو ہے انہیں گھر آئے۔۔۔وہ آپ کو بہت یاد کرتے ہیں اور مام بھی بہت۔۔۔روتی۔۔ہیں آپ کا سوچ۔۔کر۔۔”

اپنے بولنے کے ساتھ ساتھ مطیبہ کے تاثرات میں سختی آنے پر عنادیہ آخر میں کچھ اٹکی،

“تو تم بھی اس ہی مقصد سے یہاں پر آئی ہو۔۔”

اسے استہفامیہ نگاہوں سے دیکھتی مطیبہ استفسار کی،

“نہیں آپی۔۔میرا کوئی غلط مقصد نہیں۔۔میں آپ کی خیریت دریافت کرنے آئی تھی اور پھر میں آپ کو ہمیشہ کے لیے وہاں رہنے کا نہیں کہہ رہی صرف کچھ عرصے کے۔۔۔”

“میری خیریت معلوم کرنے آئی تھی نا۔۔”

بوکھلاکر کہتی عنادیہ کی بات کاٹتی مطیبہ سرد لہجے میں پوچھی تو وہ اثبات میں سرہلائی،

“ٹھیک ہوں میں۔۔۔اب اگر کچھ دیر بیٹھنا چاہتی ہو تو بیٹھو لیکن اگر اس ہی ٹاپک پر بات کرنی ہے تمہیں تو یہاں سے سیدھا جاؤ اور بائیں طرف مڑو۔۔۔باہر کا راستہ دکھ جائے گا۔۔”

وہ جیسا لٹھ مار لہجہ اپنائی تھی عنادیہ کو شدید دکھ ہوا،ہتک سے سر جھکائی وہ کچھ اور بولنے کی ہمت نہ لا پائی خود میں،تبھی اسے خدا حافظ کہتی مڑی تھی،اس کے جانے کے بعد مطیبہ کو افسوس ہوا اس لڑکی سے ایسا لہجہ اپنانے پر لیکن اگر وہ اس سے زرا اور نرمی برتنے لگتی تو یقیناً عنادیہ اسے منانے کے غرض کافی دیر تک اس کے پیچھے لگے رہتی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین دن بعد وہ سکندر ولا سے فرخندہ کے عوض اپنی پڑھائی کے سرٹیفکیٹ اور چند ضروری کاغذات منگوائی تھی وہ،اور اب دو جگہوں سے ریجیکٹ ہوکر تیسری جگہ میں ویٹنگ ایریا پر بیٹھی اپنی باری کا انتظار کررہی تھی،کچھ دیر بعد اپنا نام کال ہونے پر وہ قدم اٹھاتی آفس کے جانب گئی،دل گھبرا بھی رہا تھا،سوچا نہیں تھا ایسا دن بھی آئے گا،جھیل آنکھوں میں گھبراہٹ عیاں تھی کہ یہاں سے بھی کہیں ریجیکٹ نہ ہوجائے،اگر ایسا ہوتا تو پھر مطیبہ میں اور ہمت نہ تھی کہیں اور جانے کی،

اجازت ملنے پر مطیبہ اندر داخل ہوتی نظر اٹھائی،اور خوبصورت چہرے پر شدید حیرت کے تاثر نمایاں ہونے لگے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھ،

“بیٹھیں۔۔”

مضبوط لہجے میں مقابل کے کہنے پر وہ حیرت میں گھری چئیر پر بیٹھی،

“سابی بھائی۔۔”

“مطیبہ جہانگیر۔۔یہی نام ہے نا آپ کا۔۔”

اس کی ٹیبل پر رکھی فائلز اٹھاتا سلسبیل سنجیدگی سے پوچھا،لہجہ زرا بھی شناسا نہ تھا،مطیبہ کو سمجھ نہ آیا وہ اجنبیت کیوں برت رہا ہے،

“مطیبہ جہانگیر۔۔”

فائلز پر سے نظر اٹھاتا وہ اپنے سامنے اسے دیکھا جو الجھی ہوئی نظر سلسبیل پر ہی ڈالی ہوئی تھی،اس کے پھر کہنے پر چونکتی مطیبہ اثبات میں سر ہلائی،

“یہی نام ہے آپ کا۔۔”

تیسری بار پوچھنے پر بھی مطیبہ نے اثبات میں سرہلایا،

“تو کب محروم ہوئیں۔۔؟”

فائلز برابر میں رکھتا وہ آگے ہوکر اچانک پوچھا،مطیبہ ٹھٹھکی اس کے سوال کر،

“قوتِ گویائی سے۔۔۔کب ہوئی محروم۔۔؟”

دلکش مگر طنزیہ آواز مطیبہ جلد سمجھی تھی اس کی بات کا مطلب تبھی فوراً بولی،

“جی۔۔میرا ہی نام ہے مطیبہ جہانگیر۔۔”

اگر وہ اجنبیت ہی برتنا چاہ رہا تھا تو مطیبہ کو کوئی پرابلم نہ تھی تبھی کہی،اب اس کے بولنے پر سلسبیل سمجھنے والے انداز میں اثبات میں سر ہلاتا راکنگ چئیر سے ٹیک لگایا،

“کوالیفیکیشن کچھ خاص تو نہیں ساتھ ایکسپیرئنس بھی زیرو ہے آپ کا۔۔۔پھر بھی اس عہدے میں آنا چاہتی ہیں۔۔۔؟”

وہ سنجیدگی لیے پوچھا تھا اور مطیبہ بےچین ہوئی،پچھلی دو جگہوں سے بھی اس ہی لیے ریجیکٹ ہوئی تھی،

“ایکسپیرئنس نہیں ہے پر ہوجائے گا۔۔۔میں شکایت کا کوئی موقع نہیں دوں گی سابی بھائی۔۔”

“سر۔۔!”

پرسکون سا وہ تصحیح کروایا،مطیبہ کے لب بھنچے مقابل کے ایٹیٹیوڈ پر،

“میں اپنی جانب سے ہر کوشش کروں گی جلد کام سیکھنے کی سر۔۔”

بمشکل اپنے زچ ہوتے تاثرات نرم کرتی وہ بےچارگی سے بولی،

“اتنا انسِس نہ کریں میں جلد رحم کھالیتا ہوں لوگوں پر ویسے کوما سے نکلی لڑکی ہیں اتنی جلدی دماغ اسٹیبل تو نہیں ہوا ہوگا آپ کا۔۔”

“آپ تو مجھے جانتے نہیں پھر کیسے معلوم کہ میں کوما میں تھی۔۔”

اس کے ہنوز اجنبیت بھرے لہجے پر چوٹ کرتی مطیبہ طنز کی،

“میری وائف کی بھابھی ہیں نا آپ۔۔۔”

اس کی جانب اشارہ کرتا سلسبیل یاد کرنے کی ایکٹنگ کرتا پوچھا،مطیبہ کا بےحد خون جلا تھا اس شخص کی حرکت پر،

“نہیں۔۔”

ٹھنڈے لہجے میں جواب دی تھی وہ،

“میرے آفس میں جھوٹ بلکل الاؤڈ نہیں۔۔”

پیپر ویٹ گھماتا سلسبیل آبرو اچکایا،

“تو پھر آپ کیوں اجنبی بن کر بات کررہے ہیں مجھ سے۔۔”

مطیبہ دوبدو جواب دی،

“میں اجنبی بن کر نہیں بلکہ آفس کا اونر بن کر بات کررہا ہوں تم سے۔۔”

ٹہرے ہوئے لہجے میں سلسبیل اسے باور کروایا،مطیبہ کو بات سمجھ آنے پر سبکی محسوس ہوئی،

“سوری۔۔”

“اٹس اوکے۔۔۔یہ فائلز اٹھائیں اور اب آپ جاسکتی ہیں۔۔”

پیپر ویٹ رکھ کر وہ دونوں ہاتھوں کو ایک دوسرے میں پھنساتا بنا کسی تاثر کے کہا جس پر مطیبہ شدید پریشانی سے سلسبیل کو دیکھی،پھر آہستگی سے فائلز اٹھاتی کھڑی ہوئی،ابھی ڈور کے پاس وہ پہنچی ہی تھی کہ کچھ سوچتا سلسبیل بولا،

“کل نو بجے آفس آجانا۔۔۔عفان کام سمجھا دے گا مجھے۔۔”

مطیبہ بےیقینی سے مڑی تھی اس کی بات پر مگر سلسبیل تب تک اپنے کام میں مشغول ہوچکا تھا،

“تھینک یُو بھائی۔۔”

خوشی سے کہتی وہ پلٹی،

“سر۔۔۔!”

مقابل ٹوکنا نہ بھولا تھا اسے،

سلسبیل کے آفس سے مطمئن ہوکر نکلتی وہ ٹیکسی دیکھنے لگی تبھی اس کا موبائل رنگ کیا،یہ موبائل اس نے چند دن پہلے ہی خریدہ تھا جس میں سوائے صغریٰ کے اس نے کسی کا نمبر نہ رکھا تھا پر اب انجان نمبر سے آتی کال پر وہ ریسیو کی،

“ہیلو۔۔”

دوسری جانب سے گہری خاموشی تھی،

“کون ہے۔۔”

روڈ پر نظر دوڑاتی مطیبہ چڑ کر تھوڑی تیز آواز میں بولی،

“مطیبہ۔۔”

مہناز بیگم اس کا نام لیتے ہی روئی تھیں اور اس آواز پر مطیبہ کی بل لی پیشانی صاف ہوئی،خوبصورت چہرے کے تاثرات بلکل سپاٹ ہوئے تھے،

“بیٹا پلیز واپس آجاؤ۔۔۔”

بھبھک کر روتی وہ بھیگی آواز میں بولیں مگر مطیبہ نے جھٹ سے کال کٹ کی،ان کی بھیگی آواز اسے کچھ بےچین کی تھی،وہ حیران ہوئی کہ انہیں اس کا نمبر کس نے دیا،ذہن میں صغریٰ آئی تھی جس پر تپتی مطیبہ کچھ دیر بعد ٹیکسی ملنے پر جہانگیر ہاؤس کی جانب روانہ ہوئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔