Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 20)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 20)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

سکندر ولا پہنچنے کے بعد پورچ میں کار روکتا وہ مطیبہ کی جانب متوجہ ہوا جو اب تک سر جھکائے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں مروڑ رہی تھی،کار سے اتر کر وہ دوسری جانب آتا گیٹ کھولا،

“مہ۔۔می۔۔میں اتر۔۔جاؤں گی۔۔”

اسے اپنی طرف جھکتے دیکھ مطیبہ بوکھلا کر جلدی سے بولی،

“اچھا۔۔اترو پھر۔۔”

وہ جانتا تھا کہ مقابل بیٹھی وہ لڑکی اس سے حتیٰ الامکان گھبرائی ہوئی ہے،تبھی سیدھا ہوتا بولا،اس کے پیچھے ہٹنے پر مطیبہ ایک چور نظر اس پر ڈالتی کار سے قدم باہر رکھی،ابھی وہ کھڑی ہی ہونے لگی تھی جب ایڑھی پر لگے کٹ نے اسے لڑکھڑانے پر مجبور کیا اور اگلے ہی لمحے وہ ہیثم کی باہوں میں جھولی،

“اترگئی۔۔۔”

اسے گود میں اٹھائے وہ طنز کیا،حیا سے مطیبہ چہرہ چھپاگئی اس کے کشادہ سینے میں،اسے لیے اندر داخل ہوتا ہیثم اچانک لاؤنج میں رکا جب نظر مہناز بیگم پر پڑی،وہ پریشان سی لاؤنج میں چکر لگا رہی تھیں،

“کہاں تھ۔۔”

ان دونوں کو دیکھ وہ جو بولنے لگی تھیں یکدم چپ ہوئیں،ساتھ ہی خوشگوار حیرت سمیت مسکرائیں،

“وہ۔۔مط۔۔مطیبہ کے پیر میں چوٹ لگی ہے۔۔۔”

ان کے مسکرانے پر سبکی کا احساس ہوا تبھی وہ ہچکچاکر جواز پیش کیا،دوسری جانب مطیبہ جس کی پہلے ہی جان پر بنی تھی مقابل کی باہوں میں اب وہ مکمل سانس روکے یونہی چہرہ چھپائے رکھی،شرم سے اس کی آنکھیں میچی تھیں،

“ہمم۔۔یہ چوٹ تو پھر مطیبہ کے لیے اچھی ثابت ہوئی۔۔۔”

ان دونوں کی حالت پر وہ چھیڑیں تو مطیبہ کا ہیثم کی کالر کو تھاما ہاتھ مٹھی بنا تھا جس کے باعث ہیثم اپنی کالر اسے دبوچتے دیکھ لب بھینچتا مہناز بیگم کو دیکھا تو وہ ان دونوں کو اور پریشان کرنے کا ارادہ ختم کرتی کہنے لگیں،

“اچھا جاؤ تم لوگ۔۔۔اب یہ ہناد کہاں رہ گیا ہے کبھی جو وقت پر آئے۔۔۔ہمیں چھوڑ کر ناجانے کہاں چلاگیا تھا۔۔۔”

اسے بتاتیں مہناز بیگم پھر گیٹ کی طرف متوجہ ہوئیں جس پر اپنی جان بخشی ہوتے ہی ہیثم سیدھا اوپر گیا،کمرے میں لاکر وہ مطیبہ کو اپنے بیڈ کے بجائے اس کی جگہ یعنیٰ صوفے پر ہی بیٹھایا،اسے بیٹھنے کے باوجود اپنی شرٹ دبوچے دیکھ ہیثم نے مطیبہ کا چہرہ دیکھا جو اب تک دہک رہا تھا،

“میں یہاں تمہارے ساتھ سونے نہیں والا۔۔۔”

اس کی آواز پر مطیبہ نے بوکھلاکر جھٹکے سے ہیثم کا کالر چھوڑا،شرم سے لال ہوتے گال سمیت وہ چہرہ موڑ گئی،تبھی ہیثم کھڑا ہوا،اس کا رخ ڈریسنگ روم کی جانب تھا،کچھ دیر بعد چینج کر کے وہ بلو ٹی شرٹ اور گرے ٹراؤزر میں باہر نکلا تو دیکھا وہ جب سے اب تک یونہی بیٹھی ہے،ایڑھی پر خون کے سوکھے نشان کو دیکھ ہیثم فرسٹ ایڈ باکس لیتا اس کے پاس آیا،

“لو۔۔”

وہ مطیبہ کی طرف فرسٹ ایڈ باکس بڑھایا تو جھجھک کر اس نے باکس لیا،ہیثم کو دروازہ اور لائٹ بند کر کے بیڈ پر لیٹتا دیکھ وہ باکس کھولی ساتھ ہی کاٹن کی مدد سے دوائی ایڑھی پر لگانے کی کوشش کرنے لگی،چوٹ پر دوائی لگتے ہی جلن کے احساس سے وہ سسک کر رہ گئی پھر بمشکل اس پر پلاسٹ لگاتی اٹھی،چلنے سے درد تو بہت ہورہا تھا مگر اسے الجھن ہورہی تھی جیولری میں،ابھی وہ دو قدم ہی چلی تھی کہ لڑکھڑاکر نیچے گری،

بیڈ پر چت لیٹ کر چھت کو گھورتا ہیثم اپنی سوچوں سے نکلتا چونکا،

“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔دوائی لگاکر سوجاؤ۔۔۔اب کیا بار بار آکر تمہیں گود میں اٹھاؤں۔۔”

اسے نیچے گرے دیکھ وہ اچانک بھڑکا جس پر مطیبہ کی آنکھوں نے نم ہونے میں زرا دیر نہ لگائی،مقابل کی ڈانٹ پر وہ ہتک سے لب دانتوں تلے سختی سے دبائے صوفے پر ہاتھ رکھ کر اٹھی،پیروں میں درد کی جب بری ٹیسیں اٹھنے لگیں تب برداشت نہ ہونے پر وہ واپس صوفے پر بیٹھ گئی،اس ستمگر کی نظریں اب تک خود پر محسوس کیے مطیبہ جلدی جلدی جیولری اتاری پھر اسے کورنر ٹیبل پر رکھتی فوراً لیٹ گئی،اس کے لیٹتے ہی ہیثم ہاتھ بڑھا کر لیمپ کا سوئچ آف کیا،

ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا جب کمرے کی خاموشی میں مطیبہ کی ہچکیاں گونجنے لگیں،وہ رورہی تھی،اپنی سوچوں میں گم ہیثم سخت جھنجھلایا،کیوں وہ لڑکی بار بار اسے اپنے عمل سے پریشان کررہی تھی،تیزی میں بیڈ سے اٹھتا وہ صوفے کے پاس گیا جہاں وہ آنکھوں پر بازو رکھے اس کے سر پر کھڑے رہنے سے بےخبر اپنے رونے کا شغل جاری رکھی تھی،

“تمہارے ساتھ آخر پرابلم کیا ہے۔۔۔”

اچانک وہ برسا جس پر گھبراکر مطیبہ ہاتھ ہٹا کر اسے دیکھی،

“نہ خود سکون سورہی ہو نہ سونے دے رہی ہو۔۔۔”

اس کی خوفزدہ نظروں کو اگنور کرتے ہوئے وہ مزید بولا،

“اب بولو بھی۔۔کیوں رورہی ہو۔۔۔”

وہ جب اٹھ کر بیٹھی تب ہیثم کرختگی سے کہا،

“مجھے میری ڈائری بہت عزیز تھی۔۔۔”

ہلکی مگر بھرائی آواز کہ ہیثم دانت پر دانت جمائے ضبط کیا خود پر،

“ایک چھوٹی سی چیز کے لیے تم اتنے ٹسوے بہارہی ہو۔۔۔”

“وہ چھوٹی سی چیز نہیں تھی۔۔۔”

اس کے یوں بولنے پر مطیبہ تڑپ کر رہ گئی،

“پھر کیا تھا۔۔؟”

“بچپن سے لے کر اب تک وہ میرے ساتھ تھی۔۔۔میں اس میں اپنے جذبات لکھتی تھی۔۔۔”

“کس کے لیے۔۔؟”

“تمہار۔۔۔”

اور وہ جو مقابل کے سوالوں کا بےدھیانی میں جواب دے رہی تھی یکدم چپ سی ہوئی،ہیثم خاموش نظروں سمیت اسے دیکھتا بیٹھا تھا صوفے پر،مطیبہ کا دل دھڑکا تھا مقابل کو اپنے قریب بیٹھے دیکھ تبھی وہ فاصلہ قائم کرنے کے غرض سرکی،اس کی پشت پر ہاتھ رکھتا ہیثم اچانک اسے قریب کیا تھا خود کے،سرخ عارض پر سایہ فگن بھیگی گھنی پلکوں کو دیکھ وہ مطیبہ کی تھوڑی تھام کر اس کا چہرہ اوپر کیا،اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں اور مقابل کی گرم سانسوں سے گھبراتی مطیبہ کی پلکیں اٹھنے سے انکاری ہوئیں،

“سنو۔۔”

گھمبیر آواز پر بھی جب مطیبہ نے بھاری ہوتی پلکیں نہ اٹھائی تب پشت پر اس کے ہاتھ کا دباؤ بڑھا جس کے باعث ناچاہتے ہوئے بھی مطیبہ کو اپنے سے انتہائی نزدیک اس کا وجیہہ چہرہ دیکھنا پڑا،جھکی نظریں اٹھیں تو سیدھا اس ستمگر کی آنکھوں سے ٹکرائیں،نظروں کا ملنا تھا کہ سلسلہ تھوڑا طویل ہوا اور پھر ہیثم کی آواز ابھری،

“ڈائری پر پین سے لکھنے سے یا جلی ہوئی ڈائری کو بچانے کے چکر میں ہاتھوں کو جلانے سے ہیثم سکندر تمہارا نہیں ہوجائے گا۔۔۔وہ صرف ناذلی جہانگیر کا تھا اور اسی کا رہے گا۔۔۔چند ایک ہمدردانہ عمل سے یہ بلکل مت سمجھنا کہ میں تمہارے آنسوؤں سے پگھل جاؤں گا۔۔۔اسے صرف احسان سمجھ لیا کرو میرا۔۔۔”

بےتاثر لہجے میں مطیبہ کے دل میں امڈتی خوش فہمیوں پر پانی پھیر کر باور کرایا تھا اس نے،وہ جو آج پے در پے سامنے بیٹھے اس ستمگر کی عنایات پر سمجھنے لگی تھی کہ وہ ٹھیک ہورہا ہے اب اس کے اندر یکدم کرب بھرا،مقابل کے سفاک الفاظوں کے بدولت آنسوؤں نے زرا دیر نہ کی آنکھوں سے نکلنے میں،لب دانتوں سے دباکر اپنی سسکیاں روکتی وہ اس ستمگر کے سپاٹ چہرے کو دھندلائی نظروں سے دیکھتے رہ گئی تبھی اسے جھٹکے سے خود سے پرے کرتا ہیثم اٹھا اور سیدھا بیڈ پر جالیٹا،

“اب آواز نہ آئے تمہاری۔۔۔”

نیم اندھیرے میں اس کی سخت آواز کانوں میں پڑتے ہی مطیبہ لبوں پر سختی سے ہاتھ رکھ کر اپنی سسکیوں کا گلا گھونٹنے لگی مگر جب خود پر قابو نہ کرپائی تو چہرہ تکیے پر چھپائے شدت سے روپڑی،اسے لگا تھا کہ اب اس کی سزا ختم ہونے لگی ہے مگر ہیثم کی باتوں نے واضح کردیا تھا کہ اگر وہ ساری زندگی بھی تڑپے گی تب بھی سکون اسے نصیب نہیں ہوگا،اور ہوتا بھی کیسے بقول ہیثم کے وہ قاتل جو تھی،اب تو مطیبہ کو بھی یقین ہونے لگا تھا کہ وہ قاتل ہی ہے اپنی بہن کی تبھی اسے زندگی صرف چند پل کی خوشی دے کر ہمیشہ کے لیے تڑپنے چھوڑدیتی ہے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج وہ سکندر ولا آیا تھا فلذہ کو شاپنگ کے غرض باہر لے جانے کے لیے،مہناز بیگم نے فلذہ کے ساتھ مطیبہ اور عنادیہ کو بھی جانے کا کہا تھا مگر مطیبہ نے سہولت سے انکار کردیا،عنادیہ بھی نہیں جانا چاہ رہی تھی لیکن اس معاملے میں مہناز بیگم نے اس کی ایک نہ سنی،ان کا کہنا تھا وہ باہر کے ماحول میں نکلے گی تبھی اس کی تنہائی میں رہنے والی عادت ختم ہوگی تبھی مجبوراً اسے سلسبیل اور فلذہ کے ساتھ جانا پڑا،اس طرح جو وہ چاہتا تھا آخر کو وہی ہوا،شاپنگ کے دوران فلذہ نے اپنی پسند کی کئی چیزوں کا انتخاب کیا مگر عنادیہ نے کچھ بھی لینے سے انکار کردیا،ان دونوں کو ایک شاپ پر چھوڑتا سلسبیل جیولری شاپ کی جانب آیا تھا وہاں پر ایک نفیس سا بریسلیٹ اسے بےحد بھایا تھا،اسے پیک کرواتا سلسبیل ابھی پاکٹ میں رکھ کر جیولری شاپ سے نکل ہی رہا تھا جب فلذہ اس کے سامنے آئی،

“کیا لے رہے ہو۔۔۔”

اسے پاکٹ میں بریسلیٹ کا باکس ڈالتے فلذہ نے نہیں دیکھا تھا تبھی پرجوش سی پوچھی،

“لے رہا ہوں نہیں۔۔۔تھا۔۔پر کچھ پسند نہیں آیا۔۔”

بےتاثر نظروں سے اسے دیکھتا سلسبیل بولا،فلذہ سمجھ رہی تھی مقابل کا اپنے ساتھ عجیب لب و لہجہ تبھی لبوں پر زبان پھیرتی نرم لہجے میں کہنے لگی،

“دیکھو سابی۔۔۔”

“سلسبیل۔۔”

اس کے ٹوکنے پر فلذہ چند پل چپ ہوئی پھر کہا،

“سلسبیل۔۔دیکھو میں جانتی ہوں تم اب تک اس واقعے پر ناراض ہو۔۔۔مگر تم یقین کرو میں بہت شرمندہ ہوں۔۔میں مانتی ہوں غلطی میری تھی پر۔۔”

“نہیں۔۔غلطی میری تھی سراسر۔۔بہت بڑی غلطی کی تھی میں نے۔۔اور اسی غلطی کا ہی تو مداوا کرنے آیا ہوں میں۔۔۔”

سپاٹ تاثرات سمیت کہتے سلسبیل کا اشارہ فلذہ اور ہناد سے کی دوستی اور ان دونوں پر بھروسے کا تھا لیکن اس کے الفاظوں نے جہاں فلذہ کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا تھا وہی فلذہ کے پیچھے آتی عنادیہ کو بےیقینی کے گھڑوں میں گھرایا،وہ اسٹل ہوئی تھی۔۔۔،اسے فلذہ کی کہیں اس دن کی باتوں پر زرا یقین نہ تھا پر ابھی سلسبیل کی بات نے فلذہ کے کہے گئے کی جیسے تصدیق کی تھی،دیوار کا سہارا لے کر خود کو بمشکل کھڑا رکھے وہ سلسبیل کو ششدہ نظروں سے دیکھنے لگی،تو کیا وہ انسان سچ میں ایسا تھا،کیا اپنی محبت میں اندھی ہوتی وہ واقعی ایک غلط شخص کا انتخاب کی تھی،زخمی دل تڑپ کر چیخ پڑا،دماغ میں جو بات آئی تھی اس کی خلاف ورزی کرتا دل رویا تھا کہ ایک مرتبہ اس محبوب شخص سے یہ بات پوچھی جائے،مگر دماغ نے صاف انکار کیا تھا،جب وہ نفس کا غلام اپنی غلطی کا مداوا کرنے ہی آیا تھا تو وہ کون ہوتی تھی اس سے کچھ بھی پوچھنے والی،دل و دماغ کے درمیان جیسے جنگ چھڑی تھی اور پھر۔۔۔،دماغ جیت گیا اسے سمجھانے میں کہ وہ کبھی نہیں تھی اس شخص کی زندگی میں،وہ شخص تو صرف یہاں اس کی بہن سے اپنی غلطی کا مداوا کرنے آیا تھا،مترنم آنکھوں سے اپنی انگلی کو دیکھی تھی وہ،جس میں پہنائی گئی اس محبوب کی انگوٹھی چھپانے کے غرض اس نے چوٹ کا بہانہ کر کے پٹی لگائی تھی،شدتِ ضبط سے سرخ ہوتے چہرے سمیت وہ پٹی اتار کر رنگ نکالی تھی اپنی انگلی سے ساتھ ہی وہاں بنی ایک بینچ پر رکھ کر پلٹی،

“ارے عنادیہ۔۔۔تم آگئی۔۔بھئی میری شاپنگ تو ہوگئی۔۔۔اب مجھے بہت بھوک لگی ہے تو چلو کچھ کھاتے ہیں۔۔۔”

سلسبیل سے شادی کی خوشی اس قدر تھی کہ اب فلذہ کا رویہ عنادیہ سے بھی اچھا ہونے لگا تھا،تبھی خوشی سے کہہ کر وہ وہاں سے کیفیٹیریا کی طرف جانے لگی،اس ہی کے پیچھے عنادیہ بنا سلسبیل پر ایک نظر بھی ڈالے گئی وہاں سے تبھی قدم اٹھاتا سلسبیل اس بینچ کے پاس آیا جہاں اس کی تیز نظروں نے عنادیہ جو رنگ اتار کر رکھتے دیکھا تھا،وہ رنگ اٹھاتا سلسبیل جیب میں رکھا،اسے اچھا لگا تھا عنادیہ کا رنگ کو انگلی میں رکھنا مگر اب وہ کیوں اتاری تھی اسے،یہ سلسبیل کو سمجھ نہ آیا مگر اسے غصہ شدید دلاگئی عنادیہ کی یہ حرکت،ان دونوں کو لنچ کروانے کے بعد وہ سکندر ولا میں ڈراپ کرتا نکلا تھا،کار ڈرائیو کرتے ہوئے ذہین دماغ ہمیشہ کی طرح کئی سوچوں کے زد میں تھا،مگر سلسبیل مراد بھول گیا تھا کہ انجانے میں ایک مرتبہ پھر اپنے لفظوں سے وہ اس نادان لڑکی کا دل توڑ گیا ہے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

منگنی والی رات ہوئے واقعے کے بعد فلذہ کے کہنے پر مہناز بیگم نے نکاح کی تقریب سکندر ولا میں ہی رکھوائی تھی،سکندر ولا کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا،دونوں بھائیوں نے کوئی کمی نہ رہنے دی تھی،شام سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو رونقوں میں مزید اضافہ ہوا،چونکہ نکاح جلد رکھایا گیا تھا تبھی مہناز بیگم نے ہیثم کو پارلر بھیجا فلذہ اور مطیبہ کو لینے،ہناد کا آج موڈ کافی خراب تھا اسے اپنا پلین مکمل خراب ہوتا دکھا کیونکہ پیام آفس کے کام کے تحت دوسرے ملک گیا ہوا تھا تبھی اس کا واحد سہارا بھی ختم ہوچکا تھا سلسبیل کو مارنے کا،اور اب مہمانوں کو ویلکم کرتا وہ کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ اگر کو سلسبیل یہ سب بدلے کے لیے ہی کررہا ہے تو اس نے اب تک کوئی خاص اشارہ کیوں نہیں دیا تھا ان لوگوں کو،کیوں وہ اب تک خاموش تھا،باراتیوں کی آمد پر اس نے سلسبیل کو تلاشا مگر دریہ بیگم نے جب مہناز بیگم کو بتایا کہ وہ کچھ ضروری کام کی وجہ سے تھوڑا لیٹ ہو جائے گا تب ہناد کو کچھ گڑبڑ ہونے کا احساس ہوا،اس نے جلدی سے ہیثم کا نمبر ڈائل کیا تھا تاکہ پوچھ سکے کہ فلذہ ٹھیک تو ہے نا۔۔۔،مگر ہیثم کو فلذہ اور مطیبہ سمیت اندر آتے دیکھ ہناد کا دماغ الجھ کر رہ گیا،گر کو فلذہ بھی ٹھیک تھی تو کیا ہوا تھا کہ وہ ابھی نہیں آرہا تھا،

اپنے کمرے میں وہ آج بھی بنا کسی میک اپ کے بس مہناز بیگم کا دیا ہوا خوبصورت سوٹ پہنی تھی،انہوں نے اسے فلذہ اور مطیبہ کے ساتھ بھیجنا چاہا مگر اس بار وہ صاف انکار کرگئی،ابھی ڈریسنگ مرر پر اپنے سوگوار روپ کو دیکھ وہ بالوں کو کیچر میں مقید کرتے اس محبوب کے بارے میں سوچ رہی تھی،آج وہ شخص جسے اس نے بلا کسی جواز بےتحاشہ چاہا تھا جس کی دیوانگی میں وہ اپنا آپ بھلا چکی تھی اس قدر کہ ہمیشہ اپنے سے پہلے اس کا سوچا آج وہی شخص اس کی بہن کا ہمیشہ کے لیے ہونے جارہا تھا،دل میں درد اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ چکا تھا مگر خوبصورت چہرہ بلکل سپاٹ رکھے وہ بڑی مہارت سے اندر چبھتے زخموں کو دبا کی تھی،گہرا سانس بھرتی وہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی لپسٹک کو دیکھی تو مہناز بیگم کی تاکید یاد آئی کہ کم از کم آج اسے تیار دیکھنا چاہتی ہیں وہ،تبھی گلابی لپسٹک اٹھاکر وہ پنکھڑی مانند ہونٹوں کے قدرتی گلابی پن پر لگائے اسے گہرا کی،ابھی وہ لپسٹک واپس رکھ رہی تھی جب کمرے میں عنادیہ کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا،پیچھے مڑ کر وہ چاروں طرف نظر دوڑائی مگر کسی کو نہ پاکر اپنا وہم سمجھ کر سر جھٹکتی لپسٹک رکھی،ایک آخری نظر خود پر ڈالنے کے غرض اس نے نگاہ اٹھائی تو بےساختہ بری طرح گھبرائی،بلیک ہڈی میں چہرہ چھپائے کوئی ٹھیک اس کے پیچھے کھڑا تھا،سہمائی نظروں سے اس لمبے چوڑے مگر پراسرار شخص کو دیکھ وہ پلٹنے کا ارادہ کررہی تھی مگر تبھی اس کی ستواں ناک پر رومال رکھا تھا وہ،عنادیہ تڑپ کر اپنے ہاتھوں سے اس کے رومال رکھے ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش کرنے لگی مگر جلد ہی وہ ہوش کی دنیا سے کوسوں دور گہری نیند سوئی تھی،اس کے خوبصورت چہرے کے تیکھے نقوش بغور دیکھتا مقابل پراسراریت سے مسکرایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔