Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 15)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 15)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

اس کو نفرت سے گھورتا ہیثم ہاتھ میں لی ناذلی کی فریم کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اٹھا تھا بیڈ سے،

“ہی۔۔ہیثم۔۔”

باہر جانے کا رسک وہ نہیں لینا چاہتی تھی تبھی بھیگی آنکھوں سمیت اس کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ بولنے کی کوشش کی،اسے نہیں معلوم تھا کہ اتنی رات تک وہ جاگا ہوگا،

“و۔۔وہا۔۔وہاں۔۔۔گ۔۔گیسٹ روم میں۔۔۔می۔۔میں۔۔سورہی۔۔تھ۔۔تھی۔۔۔تو نا۔۔”

“منع کیا تھا نا سامنے آنے سے۔۔۔”

اس سے دو قدم کے فاصلے پر رک کر ہیثم سختی سے استفسار کیا،جھیل آنکھوں سے ٹپ ٹپ گرتے اشکوں نے بھی اس کا پتھر دل نرم نہ کیا،

“می۔۔میں۔۔۔جان بوجھ۔۔۔کر نہیں۔۔آئی۔۔و۔۔وہاں۔۔ج۔۔جب میں۔۔گگ۔۔گیسٹ روم۔۔۔میں سو۔۔سورہی۔۔تھ۔۔تھی تو ہنا۔۔۔آہ ہ ہ۔۔۔”

وہ جو روتے ہوئے ہچکیوں کے دوران اسے بمشکل بتانے کی کوشش کررہی تھی ہیثم کے یکدم بازو دبوچ کر اپنے قریب کرنے پر دبی چیخ برآمد ہوئی تھی اس کے منہ سے،مقابل کی قربت جان لینے کو ہونے لگی،خوف اس قدر غالب آیا تھا کہ چہرہ یوں سفید ہوا جیسے خون ہی نہ ہو،

“جان بوجھ۔۔۔ہنہہ۔۔۔جان بوجھ کر ہی تو آئی ہو میرے سامنے۔۔۔پہلے میرے لیے کھانا بناکر مجھے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور جب دیکھا کہ وہ طریقہ بھی کام نہ آیا تو خود ہی چلی آئی میرے روم میں۔۔۔تاکہ تمہیں دیکھ کر سب غم بھلائے تمہاری طرف مائل ہوجاؤں ہے نا۔۔۔”

اس کے بازو پر گرفت سخت ترین کرتا وہ دانت پیس کر بولا ساتھ ہی آخر میں اس کے بازو کو جھٹکا دے کر پوچھنے لگا،

“نہ۔۔نہیں۔۔ہی۔۔ہیثم۔۔می۔۔میں۔۔جا۔۔جان بوجھ کر نہیں۔۔۔”

“شروع سے یہی تو کرتی آرہی ہو۔۔۔پہلے ناذلی تھی تو اسے ہٹادیا راستے سے مگر پھر بھی میرے دل میں جب تمہارے لیے زرا بھی نرم گوشہ پیدا نہ ہوا تو اب اپنا آپ میرے سامنے پیش کررہی ہو۔۔۔”

“ہیثم۔۔۔!”

اس کی بات کاٹتا وہ مزید بولا،مقابل کے زہریلے لفظوں کو بمشکل سنتی وہ آخر میں اپنے بارے میں لفظ “پیش کرنا” سن کر تڑپ ہی گئی تبھی چیخ پڑی مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ وہ غلط کرگئی جب ہیثم اشتعال میں اس کی تھوڑی جکڑا تھا اپنے ہاتھ میں،

“آواز نیچے۔۔۔”

مطیبہ کی تھوڑی پر گرفت سخت کیے وہ غرایا،اس لڑکی کو دیکھتے ہی اندر و باہر جیسے شرارے پھوٹنے لگے تھے،

“تم جیسی خود کو پیش کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ جانتی ہو کیا کِیا جاتا ہے۔۔۔میں بتاتا ہوں۔۔۔”

وہ جیسے پوری کوشش کیا تھا اپنے لفظوں سے اسے تکلیف دینے کی،نفرت کی آگ میں اندھا ہوتا وہ بھول چکا تھا صحیح غلط کا فرق،دوسری جانب اپنے جبڑے سن ہوتے محسوس کرکے مطیبہ روتے ہوئے اس کا ہاتھ تھوڑی سے ہٹانے کی کوشش کرتے نفی میں سرہلائی پر تبھی تھوڑی پر گرفت اور سخت کیے ہیثم اس کا چہرہ قریب کیا تھا ساتھ ہی مطیبہ کے گداز ہونٹوں کو اپنے لبوں میں مقید کرگیا،مطیبہ جھٹکا کھاکر رہی تھی،شدت جذبات سے پھٹی آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہنے لگے جبکہ دل کی دھڑکنیں تیزی سے منتشر ہوئیں،مقابل کا پہلا لمس کہیں سے بھی اسے نرم نہ لگا،الٹا تڑپ کر وہ ہیثم کو دھکا دینے لگی،جس پر جھٹکے سے اسے چھوڑتا ہیثم اسکی نازک کمر پر بازو حائل کرتا اسے خود سے قریب ترین کیا،

“نہیں۔۔۔!”

اسے ایک مرتبہ پھر اپنے لبوں پر جھکتے دیکھ مطیبہ تڑپ کر چہرہ موڑ گئی،

“ہی۔۔ہیثم۔۔کیا کررہے ہو۔۔۔”

اس بار رونے کے ساتھ ساتھ مطیبہ کو شدید غصہ آیا تھا تبھی بھرائی آواز میں زچ ہوکر بولی،

“وہی۔۔۔جو تم چاہتی ہو۔۔۔”

کہتے ہی ہیثم اس کی گردن پر جھکا،ہلکی بڑھی شیف کی چبھن سمیت اس کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے ہی مطیبہ کو منتشر ہوئی دھڑکنیں اپنے کانوں میں سنائی دینے لگی تبھی اس بار اپنا پورا زور لگاکر اسے دھکا دیتی وہ دور کی تھی،ساتھ ہی واشروم کی جانب بھاگی،اس کو بس کسی بھی طرح مقابل کی نظروں سے غائب ہونا تھا کیونکہ ہیثم کی سرخ آنکھوں کا قہر بتارہا تھا کہ وہ اپنے آپے میں نہیں پر معائے قسمت عین واشروم کے دروازے پر پہنچتے ہی ہیثم نے اسے پیچھے سے گرفت میں لیا تھا ساتھ ہی بیڈ پر تقریباً پٹخا،مسلسل روتے ہوئے نفی میں سر ہلائے وہ پیچھے سرک کر اپنی طرف آتے ہیثم کو سہمی نظروں سے دیکھنے لگی،

“ت۔تم ایس۔۔ایسا نہیں۔۔۔کر۔۔کرسکتے۔۔۔ہی۔۔ہیثم۔۔۔تم۔۔تم تو۔۔۔نف۔۔نفرت۔۔۔کرتے ہو مجھ سے۔۔۔”

بےبسی کے عالم میں بھبھک کر روتی وہ اسے یاد دلائی تھی جیسے،ہیثم کو شرٹ کے بٹنز کھولتے دیکھ وہ بوکھلا کر پھر بیڈ سے اترنے لگی مگر اس بار ہیثم نے اس کی پشت پر قمیض کو جس زور سے پکڑا مطیبہ کے جھٹکا کھانے سے وہ سیدھ میں پھٹتی چلی گئی،بےاختیار مطیبہ بیڈ پر چت لیٹی تھی،ہیثم کو خود پر جھکتے دیکھ اس کے تھوڑے بہت جو حواس بچے تھے وہ بھی سلب ہونے لگے،ان دونوں بھائیوں نے اسے کیا سمجھ رکھا تھا،وہ کوئی کھلونا تو نہ تھی،

“تم مجھ سے زبردستی نہیں کرسکتے۔۔۔”

ہیثم کو اپنے چہرے پر جھکتے دیکھ وہ جلدی سے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھتی ترخ کر سخت لہجے میں بولی،بھیگی آنکھیں راہِ فرار ڈھونڈنے کی کوشش میں تھی مگر وہ دیو کی طرح مکمل اس پر حاوی تھا،

“جب تم مجھ سے زبردستی شادی کرسکتی ہو۔۔۔۔تو میں تمہارے ساتھ زبردستی کیوں نہیں کرسکتا۔۔۔”

لبوں پر رکھا مطیبہ کا ہاتھ دبوچ کر مروڑتا وہ پھنکارا،ہاتھ میں اٹھتی تکلیف پر مطیبہ سختی سے آنکھیں میچ گئی منہ بےساختہ سے سسکی نکلی اور تبھی اسے مقابل کا ہاتھ اپنے وجود پر رینگتا محسوس ہوا،

“ہیثم۔۔۔نہی۔۔نہیں کرو۔۔۔پ۔۔پلیز۔۔۔صر۔۔صرف۔۔ایک موقع دے دو۔۔۔می۔۔میں اب۔۔۔کبھ۔۔کبھی سا۔۔سامنے نہ۔۔نہیں آو۔۔۔آؤں گی تمہارے۔۔۔”

اس کا دم گھٹنے لگا تھا،تبھی بمشکل سانس کھینچتی بولی مگر پھر پھوٹ پھوٹ کر رودی جب مقابل اپنی نفرت کا ایک ایک لمس اس پر چھوڑنے لگا،وہ رکنے والا نہیں تھا اور نہ ہی رکا۔۔۔،مطیبہ کی فریادیں رائیگاں گئی تھیں،رات بھر اپنے تکلیف دہ لمس سے اسے تڑپاتا وہ لفظوں سے بھی اسکے کان میں زہر گھولتا رہا،جس قدر وہ اس کی عزتِ نفس کو روندا تھا مطیبہ نے زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے لیے موت مانگی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے سناٹے میں بار کی روشنیوں میں لگ ہی نہیں رہا تھا کہ یہ آخری پہر ہے،شراب کے نشے میں چور حماد لڑکھڑاتا ہوا باہر نکلا تھا،

“بائے دوست۔۔۔”

باہر کار کی جانب آتا وہ مڑ کر گارڈز کو ہاتھ ہلا کر بوجھل لہجے میں بولنے لگا،

“ہائے دوست۔۔۔”

کار کے لاک میں کی ڈالنے کی کوشش کرتے حماد کے کندھے پر اچانک کوئی ہاتھ رکھتے ہوئے بولا تھا،

“دوست۔۔!”

ناسمجھ نظروں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے کی کوشش کرتا وہ دہرایا،دراز قد بلیک ہُڈی سمیت ہاتھوں میں بلیک ہی گلووز لگائے اس شخص کا چہرہ ہڈی کے باعث چھپا ہوا تھا،

“کون دوست۔۔۔بھئی کون ہو تم۔۔۔”

حد سے زیادہ شراب پینے کی وجہ سے اس کی آواز بلکل نشے میں گھلی ہوئی تھی،

“آؤ بتاتا ہوں۔۔”

اچانک ہی اس کے کندھے پر بازو حائل کیے وہ شخص حماد کو بار کے پچھلے حصّے کی طرف لے کر گیا تھا،

“ارے بھئی کون۔۔۔ہ۔۔ہو۔۔”

مقابل کے تیز قدموں کے ساتھ بمشکل قدم ملائے وہ بولنے کی کوشش کیا،نشہ بری طرح طاری ہونے کے باعث اس کی آنکھیں بار بار بند ہورہی تھیں،

بار کے پچھلے حصّے میں جہاں اس کی کار رکھی تھی وہی پر حماد کو بلکل بیچ میں کھڑا کیے وہ کار سے کچھ نکالا تھا،ایک جگہ پر کھڑا حماد بار بار ادھر ادھر لڑھکتا سیدھا کھڑے رہنے کی بھرپور کوشش کررہا تھا،

ہاتھ میں ٹیپ لیے وہ حماد کے بلکل سامنے کھڑا ہوا تھا ساتھ ہی اچانک ہڈی اٹھائی،حماد کے اوسان خطا ہوئے تھے مقابل کھڑے شخص کو دیکھ،وہ کیسے بھول سکتا تھا اسے،ٹھیک اس ہی جگہ پر تو اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ ہناد کے کہنے پر اسے مارا تھا بری طرح اس نے،سلسبیل کی سرد آنکھوں نے اسکے اردگرد خطرے کا الارم بجایا تھا،

“کک۔۔کون ہو تم۔۔؟”

نشہ پل میں اڑن چھو ہوا،اب وہ پوری ایکٹنگ کرنے لگا تھا انجان بننے کی،

“تیری موت۔۔۔!”

سلسبیل کہتے ساتھ ٹیپ کھولتا جس پھرتی سے حماد کے منہ پر لپیٹنے لگا وہ سمجھ نہ پایا،اور جب تک سمجھنے کے قابل ہوا وہ اسکے منہ پر پیچھے سے لے کر آگے تک مکمل طریقے سے ٹیپ لگا چکا تھا،پھٹی آنکھوں سے مقابل کھڑے سیاد کی آنکھوں میں درندگی دیکھتا وہ وحشت میں مبتلا ہوا،ابھی وہ اسے دھکا دینے ہی لگا تھا جب سلسبیل اس پر ٹوٹ پڑا،حماد کی دبی دبی چیخیں بتارہی تھیں کہ مقابل کا فولادی ہاتھ اس پر کتنا بھاری پڑرہا تھا،اسے مسلسل مارتا سلسبیل یہی سوچ رہا تھا کہ اسے مارنے میں سب سے زیادہ ہاتھ اس ہی انسان کا تھا اور بس،ہاتھ کا سوچتے ہی سلسبیل کے لبوں پر ایک پراسرار مسکراہٹ در آئی،حماد کا خون سے بھرا چہرہ دیکھ وہ سیٹی کی دُھن بجاتا بجاتا سیدھا ہوا پھر اپنی کار کی طرف گیا،کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں کانچ کی ایک بوتل لیے آیا تھا،اس میں کچھ محلول تھا جسے دیکھ حماد شدید تکلیف کے باوجود بھی لڑکھڑاتا ہوا اٹھا،منہ پر ٹیپ لگے رہنے کے باعث وہ روتے ہوئے سلسبیل کے آگے ہاتھ جوڑنے لگا،گویا بھیک مانگ رہا ہو زندگی کی،مگر مقابل پر جیسے بھوت سوار تھا بدلے کا تبھی اس کے پیٹ پر لات مارا،حماد کراہتا ہوا نیچے منہ کے بل گِرا ابھی وہ پھر اٹھنے کی کوشش میں تھا کہ سلسبیل بوتل کھولتا اس کے پاس آیا ساتھ ہی بوتل میں موجود محلول اس کے ہاتھ پر گرانے لگا،حماد کی آنکھیں ابلنے کو ہوئیں،مقابل تیزاب گرارہا تھا اسکے ہاتھ پر،وہ شدت سے چیخنا چاہتا تھا مگر ٹیپ جس سختی سے لگا تھا وہ منہ سے آواز تک نہ نکال پایا،بوتل خالی ہونے پر سلسبیل ایک حقارت بھری نظر اس کے تڑپتے وجود پر ڈالتا نکلا تھا وہاں سے پر جاتے ہوئے ٹیپ اٹھانا نہ بھولا،

“ممہ۔۔مم۔۔”

کار میں بیٹھتے ہوئے حماد کی دبی آواز نے اس کے کشادہ پیشانی پر ایک شکن لائی تھی،وہ اب تک مرا نہیں،یہ بات سلسبیل کا خون کھولانے کے لیے کافی تھی،کانچ مانند نظروں نے ڈیش بورڈ پر نظر ڈالی جہاں ایک چمکتا تیز دھار کا چاقو رکھا تھا اور تبھی اس کے لبوں پر ایک بےرحم مسکراہٹ ٹہری،

چاقو اٹھاتا وہ واپس حماد کے پاس آیا جو پھٹی آنکھوں سمیت چیخنے کی بھرپور کوشش کرتا نفی میں سر ہلارہا تھا،نیچے گھٹنوں پر جھکتا وہ حماد کی گردن پر چاقو کی نوک رکھا پھر آہستگی سے اس پر دباؤ بڑھانے لگا،فضا میں حماد کی وحشت بھری دبی آواز گونجنے لگی،منہ سے نکلتا خون ٹیپ کو تیزی میں رنگین کرگیا،پیر زوروں سے زبین پر مارتا وہ بری طرح تڑپنے لگا پھر کچھ ہی دیر میں اس کا تڑپتا وجود بےجان ہوا تھا،سلسبیل نے جب اس کی بےرونق زندگی سے خالی آنکھوں کو دیکھا تو ہلکا سا ہنس کر چاقو گردن سے نکالتا اٹھا،کالی ہڈی میں خون کے چھینٹے پڑ کر چُھپے تھے،اس کے مردہ وجود کو دیکھ سلسبیل کو سکون سا ملا تھا،

“بس۔۔۔چار اور۔۔۔”

خون سے رنگین چاقو کو بغور دیکھتا وہ سفاکیت سے بڑبڑایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح نہاکر وہ واشروم سے نکلا تھا،بھیگے بالوں کو ہاتھ سے جھٹک کر اس نے بیڈ پر نظر ڈالی جہاں وہ بےدم پڑی اب تک سسک رہی تھی،رات بھر رونے سے سوج کر سرخ ہوتی نیم وا آنکھیں ہنوز چھت کو گھوررہی تھیں جن سے نکلتا گرم سیال کنپٹی سے ہوتا ریشمی بالوں کو بھگورہا تھا،چند قدم اٹھاتا ہیثم اس کے سر پر آن کھڑا ہوا پھر جھک کر کمفرٹر اوڑھی مطیبہ کے بال سہلاتے ہوئے بولا،

“کیا ہوا سوئیٹ ہارٹ۔۔۔جو چاہتی تھی وہی تو کِیا ہے پھر یہ سوگ کس بات کا منارہی ہو۔۔۔”

رات سے مسلسل اس کے رونے پر وہ چوٹ کیا تھا،کل سے اب تک یہ پہلا لمس تھا جو اسکے بالوں پر وہ نرمی سے اپنی انگلیوں کے بدولت چھوڑرہا تھا،ہیثم کی باتوں کو سنتی وہ کرب سے آنکھیں میچ گئی،

“تم ایک بےحس شخص ہو۔۔۔جسے اپنی تکالیف کے آگے کسی کی اذیت تک نہیں دکھتی۔۔۔جسے لگتا ہے کہ اس کا درد درد اور دوسروں کا درد ناٹک۔۔۔ہیثم سکندر۔۔۔ڈرو اس رب سے جس کی لاٹھی بے آواز ہے۔۔۔”

رات بھر اپنے کردار کے بارے میں اس کی گوہر افشائی سننے کے باعث وہ اب نہایت کرب کے عالم میں بولی تھی جس پر ہیثم تمسخر سے ہنسا،بال سہلاتا ہاتھ اچانک ہی ان ریشمی بالوں کو جکڑا تھا،وہ جو پہلے ہی زخموں سے چور نڈھال پڑی تھی بےساختہ تکلیف ضبط کرنے کے لیے لب سختی سے بھینچی،

“ہنہہ۔۔کس حق سے یہ الفاظ مجھے کہہ رہی ہو۔۔۔ڈرنا تو تمہیں چاہیے مطیبہ جہانگیر۔۔۔جس نے اپنی بےحسی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی ہی بہن کی خوشیاں چھین لیں۔۔۔اسے مار ڈالا کہ اگر خود خوش نہیں رہ سکتی تو اسے بھی حق نہ دیا۔۔۔تم جیسی لڑکیاں آستین کے سانپ ہی ہوتے ہیں جو دشمنوں کی جگہ اپنوں کو نقصان پہنچانے کی حتیٰ الامکان کوشش کرتے ہیں اور جب نقصان ہوجاتا ہے تو ٹسوے بہاکر سب سے ہمدردیاں بٹورنے لگتے ہیں۔۔۔”

اس کے بالوں کو جھٹکا دیتا وہ دھیمی آواز میں غرارہا تھا،پر جلد ہی وہ مطیبہ کے بالوں کو گرفت سے آزاد کیا جب لگا کہ مقابل درد سے چور وجود سمیت پڑی وہ لڑکی برداشت ختم ہونے پر یکدم بےہوش ہوئی تھی،ایک نظر تنفر سے اس کے سرخ چہرے پر ڈال کر ہیثم سیدھا ہو کر پیچھے ہٹتے ہوئے وارڈروب کا رخ کیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حماد کی ناگہانی موت نے ہناد کو کافی پریشان کر رکھا تھا،یہ بات ہی سمجھ سے بالاتر تھی کہ آخر کون ہے جو پہلے بازل اور پھر حماد کو مارا تھا،اتنا تو اس کے تیزی سے چلتے شیطانی دماغ نے جان لیا تھا کہ ہونا ہو ان دونوں کا قاتل ایک ہی شخص ہے،پر کون۔۔۔،یہاں آکر وہ الجھ جاتا،ابھی بھی دوپہر کو اس کے گھر پر کھڑا وہ یہی سوچ رہا تھا،حماد کے گھر میں کہرام مچا ہوا تھا،جبکہ اس کا بڑا بھائی پولیس کو جلد سے جلد اس کے قتل کا پتا لگانے کی تنبیہات کررہا تھا،

“آخری بار یہ کب ملے تھے آپ سے۔۔۔؟”

کچھ دیر بعد حماد کے بھائی سے اس کے دوستوں کا پوچھ کر پولیس اس کے پاس آئی تھی چند سوالات کے بعد انہوں نے ہناد سے پوچھا،

“کل رات کو۔۔۔”

“رات کو کس ٹائم۔۔”

“دس بجے۔۔”

“اس کے بعد آپ کہا گئے تھے۔۔۔”

پولیس جس شک بھری نظروں سے اسے دیکھ کر سوالات کررہی تھی ہناد کے ماتھے پر لاتعداد بل پڑے،

“مطلب کیا ہے آپ کا۔۔۔میں نے مارا ہے اسے۔۔۔میں قاتل ہوں۔۔۔”

اس کی انا پر چوٹ پڑی تھی تبھی استہفامیہ انداز میں بولا،

“دیکھو مسٹر۔۔۔طریقے سے سوالات کے جواب دو۔۔۔ورنہ باہر کی ہوا میں یہ جو اکڑ دکھا رہے ہو جیل کی ہوا میں ساری اڑ جائے گی۔۔۔”

اس کے لہجے پر ناگواری ظاہر کرتے افسر نے کہا،

“لگتا ہے ہناد سکندر کو جانتے نہیں ہو۔۔۔”

طنزیہ مسکراہٹ سمیت کہتا وہ جیب سے والٹ نکالا ساتھ ہی کچھ نوٹ اس میں سے نکال کر افسر کے آگے بڑھائے،مطلب صاف تھا کہ پیسے لو اور نکلو،وہ ابھی کسی بھی سوال کا جواب دینے کے موڈ میں نہیں تھا،

“تم جیسے شہریوں کی وجہ سے ملک کا نظام خراب ہوتا ہے۔۔۔یہ امیری کا روعب کہیں اور جھاڑنا۔۔۔اور اگر اگلی مرتبہ ایسی حرکت کی تو ڈائرکٹ اندر کردوں گا۔۔۔”

سخت لہجے میں بول کر وہ پولیس افسر ڈنڈے کی مدد سے اس کے ہاتھ کو پیچھے کیا،ہتک کے احساس سے ہناد کا چہرہ سرخ ہوا،دانت پر دانت جمائے اپنا غصہ ضبط کرتا وہ نکلا تھا حماد کے گھر سے،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔