Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 25)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 25)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

شام کو اپنے مینشن کے ہال میں بیٹھا وہ کسی کا منتظر تھا،نظریں ہر تھوڑی دیر میں گیٹ کے پاس جاتیں،آنے والا کوئی اور نہیں اس کا وہی دوست تھا جس کی بدولت سلسبیل مراد نے دوستی کا خوبصورت پہلو دیکھا،دریہ بیگم اور عنادیہ کو اس نے دوپہر میں ہی بتادیا تھا آج رات اپنے دوست کی آمد کا،عنادیہ کچن میں اسماء کے ساتھ جبکہ دریہ بیگم اپنے کمرے میں تھیں،

“صاحب مہمان آگئے۔۔۔”

فرمان نے آکر اسے بتایا جس پر سلسبیل کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ آٹہری،اور مسکراتا بھی کیوں نہ وہ آنے والا تھا ہی ایسا،وہ گیٹ کے پاس آیا تبھی مقابل بھی باہر سے آتا عین گیٹ پر کھڑا ہوا،بلیک پینٹ اور ٹی شرٹ پر وائٹ جیکٹ پہنا چند بالوں کو ہمیشہ کی طرح کشادہ پیشانی پر بکھرائے مخصوص طنزیہ مسکراہٹ سمیت کھڑا وہ سلسبیل کو دیکھ رہا تھا،

“میں نے وِد فیملی کہا تھا۔۔۔”

اس کو اکیلا دیکھ سلسبیل نے جیسے یاد دلایا،مقابل کھڑا وہ تھوڑا حیران ہوکر اپنے پیچھے دیکھا پھر زیرِ لب بڑبڑایا،

“آتے ہوئے تو ساری پلٹن ساتھ تھی۔۔۔اب کہاں چلے گئے۔۔۔”

اس کا بڑبڑانا تھا کہ باہر پورچ پر سے ایک بچی کے چیخنے کی آواز آئی،اور وہ آبرو اچکایا،

“دراصل میرے بیٹے کی عادت ہے۔۔۔کہیں بھی جائے پروف ضرور دیتا ہے کہ “وہ آیا ہے”۔۔۔تو۔۔۔ایکسکیوز می۔۔۔”

طنزیہ مسکراہٹ زبردستی کی مسکراہٹ میں بدلی جبکہ دوسری طرف سلسبیل اپنی مسکراہٹ دباتا اثبات میں سر ہلایا،

سلسبیل سے ایکسکیوز کیے وہ باہر پورچ پر آیا،تاثرات بدلے تھے وجیہہ چہرے کے اب،

“کیا وائفی۔۔۔ایک بچہ نہیں سنبھل سکا۔۔”

اس کے سخت لہجے میں استفسار کرنے پر اس کی بیوی جو ان تینوں بچوں میں الجھی تھی اسے گھوری،

“تمہارا بچہ ایک نہیں دس کے برابر ہے۔۔۔کہیں جو سکون سے رہنے دے کسی کو”

ترخ کر جواب دیا تھا اس نے کہ وہ پہلے تو روتی ہوئی اس ننھی سی بچی کو دیکھا جس کی بڑی بڑی خوفزدہ آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گررہے تھے پھر اپنے بیٹے کو جو اس کے بھانجے کو کھاجانے والی نظروں سے گھوررہا تھا پر اگلے ہی لمحے گڑبڑاکر بتیسی دکھانے لگا جب اپنے باپ کی سخت نظریں خود پر محسوس ہوئیں،

“کیا تماشہ ہے بان۔۔؟”

کرخت لہجے میں استفسار کیا اس نے اپنے بیٹے سے جس پر عقبان ابھی منہ کھولنے ہی لگا تھا کہ سامنے کھڑا ابتسام جھٹ سے بولا،

“ماموں مفلحہ کار سے اتر رہی تھی تبھی بان سے اس کا ہاتھ پکڑ کر زور سے کھینچا اور وہ سیدھا نیچے گرگئی۔۔”

ابتسام کی شکایت پر پاس کھڑی مفلحہ کا رونا اور بڑھا تبھی شانزے آگے بڑھتی اسے گود میں اٹھاتی چپ کرانے لگی،

“چوٹ تو نہیں لگی ناں آپ کو۔۔۔”

وہ فکرمندی سے مفلحہ کا ہاتھ پیر دیکھتے پیار سے پوچھی جس پر مفلحہ نے نفی میں سرہلائی،رونا اب تھما تھا،

“کبھی انسانوں والے کام کر کے فیل کروادیا کرو بیٹا کہ میں ایک انسان کا باپ ہوں۔۔”

اپنے بیٹے کو گھورتا وہ گِھرکا تو ابتسام کے لبوں پر مسکراہٹ امڈ آئی،

“میں انسانوں والے کام ہی کرتا ہوں ڈیڈ۔۔”

عقبان منہ بسورتا گویا ہوا،

“لگتا نہیں ہے۔۔”

ابتسام نے ہلکی آواز میں طنز کیا،

“تمہیں نہیں لگتا کیونکہ تم خود انسان نہیں ہو۔۔”

“دیکھا ماموں یہ اس ہی طرح مجھ سے بدتمیزیاں کرتا ہے۔۔۔”

عقبان کے غصے میں چیخنے پر جلدی سے ابتسام اشارہ کرتے اسے بتایا،

“بان۔۔”

اس بار لہجے میں تنبیہہ تھی،عقبان دانت پیستا چپ ہوا،

“اب چلو اندر۔۔”

ان دونوں کے کندھے کو اپنے بھاری ہاتھوں سے تھپتھپاتا وہ اندر لے گیا،

سلسبیل گیٹ پر ہی کھڑا تھا،اب اس کو اپنی بیوی اور تین بچوں کے ساتھ آتا دیکھ وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوا،

“پیام مرتضیٰ۔۔پہلی مرتبہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ دِکھے۔۔۔اچھا لگا۔۔”

“یہ میری پوری فیملی نہیں۔۔۔آدھی گھر پر ہے۔۔۔”

آنکھیں گھوماتے وہ بتایا ساتھ ہی ایک بھرپور نظر سلسبیل کے پیچھے ڈالا،

“کافی خوبصورت گھر بنوایا ہے۔۔۔تیری ہونے والی بیٹی پکا میری بہو بنے گی بڑی ہوکر۔۔۔”

پیام کے الفاظ پر سلسبیل ہلکا سا ہنسا،

“میری بیٹی چھوڑ اپنی بیٹی کو دیکھ۔۔ویسے بہت پیاری ہے یہ۔۔”

شانزے کے گود میں اس کیوٹ سی بچی کو دیکھ سلسبیل نے کہا،

“میری بیٹی۔۔۔؟”

پیام چونکا اس کے یوں بولنے پر تبھی سلسبیل تھوڑا ناسمجھی سے اسے دیکھا پھر بولا

“ہاں۔۔تیری بیٹی۔۔۔ایک منٹ۔۔یہ تینوں تیرے ہی بچے ہیں نا۔۔۔”

“نہیں۔۔!”

اس کے سوال کی منافی میں یک بیک چیخنے والے یہ ابتسام اور عقبان تھے،

“یہ اور میرا بھائی کبھی نہیں۔۔۔”

عقبان کو جیسے اس سوچ سے بھی جھرجھری آئی تھی،

“ہاں میری تو جیسے قسمت ہی کِھل جاتی اگر تُو میرا بھائی ہوتا۔۔۔”

ابتسام تپا تھا اس کے انداز پر،

“تیری قسمت کا نہیں پتا پر میری قسمت ضرور پھوٹتی۔۔”

طنزیہ مسکراہٹ سمیت عقبان آنکھیں گھمایا،شانزے کا گھورنا تھا کہ پھر وہ جلدی سے سیدھا ہوا،

“کافی اچھے بچے ہیں۔۔”

ان دونوں کو دیکھ سلسبیل آبرو اچکاتا بولا،

“تو۔۔۔یہی تک رہنے کی اجازت ہے۔۔”

پیام لبوں کو پھیلائے ایک آبرو اٹھایا،

“آہ۔۔آؤ اندر۔۔آئیں۔۔بھابھی۔۔”

وہ پہلے مرتبہ جھجھکا تھا،لفظ بھابھی کہنا کچھ عجیب لگ رہا تھا،

دریہ بیگم بھی روم سے نکلتی ہال میں آئیں،عنادیہ کو شانزے سے مِل کر کافی اچھا لگا،شاید اسے پہلے سے معلوم تھا عنادیہ کی قوتِ گویائی کی محرومی کا تبھی وہ اس بارے میں کوئی حیرت ظاہر نہیں کی،

دریہ بیگم اور عنادیہ شانزے کے ساتھ بیٹھی تھیں جبکہ سلسبیل پیام سے باتوں میں محو تھا،ایسے میں مفلحہ نے پُرشوق نظریں چاروں طرف دوڑائیں ساتھ ہی اس خوبصورت و وسیع مینشن کو دیکھنے کے غرض شانزے کی گود سے اترتی سیڑھیوں کا رُخ کی،اسے اوپر جاتا دیکھ عقبان ایک نظر سب پر ڈالتا دبے پیر مفلحہ کے پیچھے گیا،

“ہے ڈرپوک چہیا۔۔”

وہ جو اوپر آکر اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھیلائے خوش ہوتی ہر جانب دیکھ رہی تھی عقبان کی پکار پر اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی،

“بام بائی۔۔”

آنکھوں میں خوف چھایا تھا اسے دیکھ،

“یہاں کیا کررہی ہو۔۔”

دونوں ہاتھوں کو کمر پر رکھے وہ بڑوں کی طرح پوچھا،

“میں۔۔دھل دیتھ لی تھی۔۔بہت پیالا ہے۔۔(میں گھر دیکھ رہی تھی۔۔بہت پیارا ہے۔۔)”

اس کے ڈر ڈر کر بتانے پر عقبان آنکھیں سکیڑا پھر کچھ سوچ کر مسکراتا فوراً بولنے لگا،

“تمہیں پتا ہے یہاں پر ایک سب سے خوبصورت روم بھی ہے۔۔”

عقبان کا نرم لہجہ سن کر مفلحہ کا خوف تھوڑا کم ہوا اب کہ وہ آنکھیں مکمل کھولی،

“سچی بام بائی۔۔۔”

اس کا پرجوش انداز دیکھ عقبان اثبات میں سر ہلایا،

“دیکھو گی۔۔”

“دی۔۔(جی۔۔)”

اس کی رضامندی دیکھ عقبان اسے سامنے بنے روم میں لے گیا،روم کھلا تھا،عقبان کے کہے کے مطابق وہ روم واقعی نہایت حسین تھا،مفلحہ روم کے بیچ میں آتی مبہوت ہوتی اس خوبصورت کمرے کو دیکھنے لگی،تبھی پیچھے کھڑا عقبان لب دانتوں میں دباتا ہاتھ اونچا کر کے لائٹس آف کیا ساتھ ہی دروازہ جلدی سے بند کرگیا،مفلحہ کا ارتکاز اندھیرا ہوتے ہی ٹوٹا،صدا کی ڈرپوک وہ چیخی مگر باہر ہلکی ہی آواز آئی،

اس کی چیخ پر زور سے ہنستا عقبان بند دروازے کو دیکھ واپس مڑا پر سامنے ہی ابتسام غصے سے اسے گھوررہا تھا،

“مومی۔۔”

اندر سے مفلحہ کی ایک اور چیخ اس جانب ہلکی آواز میں سنائی دی،ابتسام جلدی سے عقبان کو برابر میں دھکیل کر دروازہ کھولا،وہ بری طرح رورہی تھی،بڑی بڑی آنسو بھری آنکھیں پٹپٹاتے وہ خوفزدہ لگ رہی تھی بہت،جبکہ عقبان کی تیوریاں چڑھیں ابتسام کو مفلحہ کو چپ کراتے دیکھ،تیزی میں آگے بڑھتا وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے ابتسام کو دھکا دیا،

“میری کزن کو مت چھوؤ۔۔۔”

ابتسام جو اس کے دھکے پر کچھ قدم پیچھے ہوا تھا اب تپ کر آگے بڑھا،

“یہ میری بھی کزن ہے۔۔اور تم اس سے زرا دور رہا کرو۔۔ہمیشہ جان بوجھ کر اسے پریشان کرتے ہو۔۔”

عقبان کے دھکا دینے سے زیادہ وہ مفلحہ کے حساس ہونے کے باوجود عقبان کو اسے تنگ کرنے پر تپا تھا،

“ہاں تو کروں گا۔۔۔ہمیشہ پریشان کروں گا کیونکہ یہ میری کزن ہے صرف میری۔۔۔تم کوئی نہیں ہو اس کے۔۔”

اس کے لہجے میں ضد دیکھ ابتسام چونکا پھر طنزیہ مسکرایا،

“اچھا۔۔تو یہ مفلحہ سے ہی پوچھ لیتے ہیں کہ کون اس کا کزن ہے۔۔۔بتاؤ مفلحہ یہ تمہارا کزن ہے یا میں۔۔”

یہ بات کہتا ابتسام مفلحہ کو دیکھا جو جب سے سہمائی نظروں سے عقبان کو دیکھ رہی تھی،اب کی بار عقبان بھی غصے سے ننھی ناک سرخ کیے اسے گھورا،آنکھیں اشارہ کررہی تھیں اپنی جانب آنے کا،

“ابتام بائی۔۔آپ میلے بوت اچے دوشت ہو۔۔۔یہ دندے ہیں۔۔(ابتسام بھائی۔۔آپ میرے بہت اچھے دوست ہو۔۔۔یہ گندے ہیں۔۔)”

جھٹ سے ابتسام کی طرف ہوتی وہ عقبان کی طرف دیکھے بغیر بولی ساتھ ہی سیڑھیوں کی جانب بھاگنے لگی،

“میں پھر بھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑوں گا ڈرپوک چہیا۔۔۔”

اس کے پیچھے بھاگتا عقبان بلند آواز میں کہا،ابتسام بھی ان دونوں کو جاتا دیکھ وہاں ہولیا،

“کام کیسا چل رہا ہے۔۔؟”

باتوں کے دوران پیام نے دھیمے لہجے میں پوچھا،

“بہت بہتر۔۔ان دنوں کچھ مصروفیات کم ہیں آفس کی۔۔”

“میں نے اس کام کا نہیں پوچھا۔۔”

وہ جو سنجیدگی سے مقابل کو اپنی روٹین بتارہا تھا یکلخت چپ ہوا پھر آنکھیں سکیڑ کر بغور پیام کو دیکھا،

“بس آخری دو ٹارگیٹ رہتے ہیں۔۔”

اب کی بار سلسبیل کا لہجہ بھی دھیما ہوا،

“ہمم۔۔۔صحیح۔۔پھر کب ارادہ ہے ان دو کو بھی اصل مقام پر پہنچانے کا۔۔۔”

“بہت جلد۔۔”

کہہ کر سلسبیل اٹھا ساتھ پیام بھی کیونکہ ڈائننگ پر کھانا لگ چکا تھا اور اسماء دوسری مرتبہ ان دونوں کو بلانے آئی تھی،

کھانے کا دورانیہ خوشگوار ماحول میں بہت اچھا گزرا،سلسبیل کو مفلحہ بہت پیاری لگی تھی،چند ایک بات اس سے کر کے وہ مفلحہ کی توتلی زبان میں دیے گئے جوابات پر ہنس دیتا،

“کیا ہوا وائفی۔۔۔”

وہ لوگ نکل چکے تھے سلسبیل کے مینشن سے،اب کار میں شانزے کو جب سے چپ دیکھ پیام پوچھا،

“عنادیہ بہت اچھی لڑکی ہے پر۔۔۔”

کہتے ہوئے شانزے پھر چپ ہوئی،

“پر۔۔؟”

روڈ پر نظریں مرکوز کیے وہ ایک آبرو اچکایا،

“ایک بات بتاؤ۔۔۔سلسبیل تمہارے دوست ہیں۔۔۔وہ کیسے ہیں۔۔؟”

شانزے کے سوال پر پیام تیڑھی نظروں سے اسے دیکھا،

“تم سے مطلب۔۔؟”

اس کے مشکوک لہجے پر وہ جو سنجیدہ بیٹھی تھی لب بھینچی،

“تم اپنا یہ مذاق زرا سائیڈ پر رکھو۔۔۔اور بتاؤ مجھے۔۔؟”

“ہاں بھئی۔۔۔صحیح آدمی ہے کیوں کیا ہوا۔۔؟”

اب وہ نارملی بولا،

“عنادیہ کو اس پر بھروسہ کرنا چاہیے۔۔”

وہ ہلکی آواز میں بولتی روڈ پر نظر ڈالی،

“ایک تو باتوں کو اتنا گھوماتی ہو نا۔۔۔سیدھے طریقے سے سمجھا نہیں سکتی کیا بات ہے۔۔”

اس بار اس نے چڑ کر کہا تو شانزے گردن موڑ کر اسے گھوری،

“عنادیہ بول سکتی ہے۔۔۔”

کچھ پل کی خاموشی توڑ کر وہ بولی جس پر پیام اچانک بریک لگاتا حیرت سے اسے دیکھا،

“اوہ واؤ۔۔۔کتنی اچھی خبر سنائی نا۔۔۔مجھے تو جیسے معلوم ہی نہیں تھا۔۔”

اسے حیرت میں مبتلا دیکھ شانزے جو مسکرانے لگی تھی پیام کے یوں بولنے پر اس کے لب سُکڑے،آنکھوں میں حیرت ابھری،

“کیا مطلب۔۔تمہیں معلوم تھا۔۔”

شانزے کے سوال پر وہ طنزیہ مسکراہٹ سمیت کندھے اچکایا،

“مگر کیسے۔۔”

“کومن سینس وائفی ایک فرد قوتِ گویائی سے محروم ہے لیکن جب وہ کھانسے تو اس کی آواز ٹھیک نکلے۔۔۔”

پیام کی بات پر شانزے کو بےساختہ عنادیہ کا کھانے کے دوران ہلکا سا کھانسنا یاد آیا تو وہ مسکرائی،

“ویسے تم لڑکیوں کو کچھ زیادہ ہی نوٹ نہیں کرتے۔۔۔”

وہ یونہی اسے چھیڑی تھی،

“چھچھورا جو ٹہرا۔۔”

شانزے کو اس جواب کی امید ہرگز نہیں تھی تبھی وہ منہ کھولے پیام کو دیکھی پھر یکدم برسنے کو ہوئی،

“تم بےشرم انسان۔۔۔بات مت کرنا اب مجھ سے۔۔”

پیام مسکراہٹ دبائے اسے دیکھا جس کا چہرہ پل میں لال بھبوکا ہوا تھا،

“اوہ وائفی۔۔بس کرو جب جانتی ہو پیام مرتضیٰ صرف تم پر ہی مرتا ہے تو کیوں اس طرح کے سوال کرتی ہو۔۔”

اسکے ہاتھ کو نرمی سے اپنے ہاتھ میں لے کر دباتا وہ مسکراکر بولا،

“میں نے مذاق کیا تھا۔۔”

منہ بنا کر وہ آہستگی سے بولی،

“میں نے بھی وہی کیا۔۔”

“لیکن تم۔۔”

“آنی بام بائی مال لے ہیں۔۔(آنی بان بھائی ماررہے ہیں۔۔)”

پیچھے سے آتی مفلحہ کی روہانسی آواز پر شانزے بات ادھوری چھوڑے گردن گھومائی جہاں اونگھتے ہوئے بھی اس کا بیٹا برابر میں بیٹھی مفلحہ کو ہلکی چپت لگارہا تھا،اس کا ہاتھ مفلحہ پر سے ہٹاتی شانزے پیچھے ہوکر مفلحہ کو اٹھائی پھر اسے اپنے ساتھ بیٹھانے لگی،

“یہ سدھرے گا نہیں۔۔”

“تم پر گیا ہے۔۔”

شانزے کو تاسف سے کہتے دیکھ پیام بولا ساتھ ہی کار پھر اسٹارٹ کرنے لگا،

“مجھ پر گیا ہوتا تو سدھرا ہوا ہوتا۔۔یہ تو تمہاری کاپی ہے بلکل۔۔۔”

اسے گھور کر شانزے تپتے ہوئے بولی،

“جب کوئی غلط کام کرے تو مجھ پر گیا ہے اور جب کوئی۔۔”

“صحیح کام کا مت بولو وہ تمہارے بیٹے نے آج تک نہیں کیا۔۔”

پیام کی بات کاٹتی وہ بولی،

“میرا بیٹا بڑا ہوکر کرے گا اچھے کام۔۔۔”

پیام پُریقین لہجے میں بولا،

“حرکتیں دیکھ کر نہیں لگتا پر دعا یہی ہے۔۔”

گہرا سانس بھرتی شانزے بڑبڑائی ساتھ ہی سیٹ سے ٹیک لگائے مفلحہ کی پشت سہلانے لگی کیونکہ وہ اب سورہی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“عنادیہ۔۔۔”

وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ائیرنگ اتار رہی تھی،نظریں ہنوز جھکی دیکھ سلسبیل جو کچھ دیر پہلے روم میں آیا تھا اسے پکارا،

پکار پر نظریں اٹھاکر اس نے سامنے دیکھا،وہ چونکا تھا عنادیہ کی آنکھوں میں نمی اترے دیکھ،

“تم رورہی ہو۔۔”

لہجے میں تھوڑی حیرت گھلی تھی،آگے بڑھ کر اس کا رخ اپنی جانب موڑتا سلسبیل نرمی سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیا،

“جانم کیا ہوا۔۔”

پل میں ضبط سے سرخ ہوتا اس کا چہرہ نظروں میں لیے وہ انتہائی نرمی سے پوچھا،اب کی بار عنادیہ کی نظریں اٹھی تو ان میں ناراضگی کا انثر تھا،بغور اس کی آنکھوں میں دیکھ سلسبیل پوچھا،

“آنٹی کی یاد آرہی ہے۔۔؟”

اور وہ ہلکے سے اثبات میں سر ہلائی،ڈر تھا کہ مقابل یہ بات سن کر غصہ نہ ہو،

“کل کچھ مصروفیت رہے گی۔۔۔ہم پرسوں چلیں گے وہاں۔۔”

کچھ سوچ کر سلسبیل سنجیدگی سے بولا جس پر عنادیہ بےیقینی میں آنکھیں پھیلائے اسے دیکھی،مقابل کی بات میں سچائی محسوس کرتی وہ بےساختہ خوشی سے مسکرائی اور سلسبیل کی نظریں سیدھا اس کے گالوں پر بنتے گڑھوں پر پڑی،وہ پہلی بار عنادیہ کو مسکراتا دیکھ رہا تھا اور پہلی بار اس ڈمپل پر،مبہوت ہوکر اسے دیکھتا سلسبیل اعتراف کیا تھا کہ مسکراہٹ سامنے کھڑی اس لڑکی کے حسن پر چاند کی طرح سجتی تھی،

گال پر پڑتے اس ڈمپل کو بغور دیکھ سلسبیل مسکراتا ہوا جُھکا ساتھ ہی نرمی سے اس پر اپنے تشنہ لب رکھ گیا،وہ جو پہلے ہی اس عنایت پر سمٹی تھی کچھ دیر بعد سلسبیل کو گال سے ہوتے اپنے لبوں پر آتے دیکھ گھبراکر پیچھے سِرکتی چہرہ موڑی،دھڑکنیں بےہنگم ہونے لگی تھیں،سلسبیل لب بھینچا اس کے دور ہونے پر،لمحوں میں اس کی کلائی اپنی گرفت میں لے کر وہ جھٹکے سے اسے اپنے قریب کیا،

“مجھ سے دور مت ہوا کرو۔۔”

اس کے لہجے میں سختی محسوس کیے عنادیہ اور بوکھلائی،اس سے پہلے ایک مرتبہ پھر وہ رونی صورت بناتی سلسبیل جھک کر اس کے لبوں کو مقید کرگیا،دھڑکنیں سست ہونے کے ساتھ عنادیہ کی پلکیں بوجھل ہوتی عارض پر بچھی،آہستگی سے سلسبیل کی کالر جکڑتی وہ آنکھیں بند کی تھی،کچھ دیر بعد اس کی جاں بخشی کرتا سلسبیل نرمی سے اپنی پیشانی اس کی پیشانی سے ٹکاکر خود سے نہایت نزدیک اس کے سرخ چہرے کو دیکھا،آنکھیں ہنوز بند کیے وہ گہری سانس لے رہی تھی،

“میں چاہتا ہوں تم مجھ پر بھروسہ کرو۔۔”

اس کے سنبھلنے پر سلسبیل گھمبیر لہجے میں کہا،

“کروگی مجھ پر بھروسہ۔۔”

نرمی سے اس کے دہکتے رخسار کو سہلاتا وہ بھاری لہجے میں پوچھا،وہ جو مقابل کے سحر میں گرفتار اثبات میں سر ہلانے لگی تھی مال والا واقعہ ذہن میں آتے ہی نفی میں سر ہلائی،

بےبسی سے اس کی نم آنکھوں کو دیکھ سلسبیل اسے خود میں بھینچا،

“میری جان کچھ تو بتاؤ مجھے آخر کس بات نے تمہیں میرے ساتھ ایسا بی ہیو کرنے پر مجبور کردیا ہے۔۔۔”

اس کی بھاری آواز سنتی عنادیہ تکلیف سے آنکھیں میچی،اگر کو وہ شخص اس سے اتنی محبت کرتا تھا تو کیوں فلذہ سے وہ بات کہا تھا،

کچھ لمحوں بعد سلسبیل اسے الگ کیا تھا خود سے کیونکہ جیب میں رکھا موبائل پر تھوڑی دیر میں بار بار وائبریٹ ہورہا تھا،پہلے وہ اگنور کرتا رہا تھا مگر اب جب وائبریشن مسلسل ہونے لگی تب وہ فون نکالتا کال ریسیو کیا،

دوسری جانب سے عفان نے جو بتایا اس پر سلسبیل لب بھینچتا بمشکل اپنے تاثرات نارمل رکھا،

“میں دس منٹ میں آرہا ہوں۔۔”

کہہ کر کال کٹ کرتا وہ ایک نظر عنادیہ کو دیکھ بولا،

“تم سوجانا۔۔۔مجھے تھوڑی دیر ہو جائے گی۔۔”

وہ جانے لگا تھا مگر تبھی عنادیہ اس کا ہاتھ پکڑی،کالی آنکھوں میں پریشانی دیکھ وہ رکا،

“کچھ کام ہے۔۔۔کوشش کروں گا جلد آنے کی۔۔”

اس کا گال تھپتھپاتا وہ عنادیہ کی آنکھوں میں امڈتے سوال کا جواب نرمی سے دیتا پلٹا،اب تاثرات بدل کر چٹان مانند سخت ہوئے جبکہ کشادہ پیشانی شکنوں سے بھری،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔