Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 14)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 14)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

“لیکن یہ سب ہوا کیسے۔۔۔؟”

اسے کال آئی تھی حماد کی جس پر اس نے کل رات اچانک ہوئی بازل کی موت کا بتایا،اب بازل کے گھر پر اس کی میت دیکھتا وہ حماد سے پوچھا،

“پتا نہیں یار۔۔۔پولیس کا کہنا ہے کہ ایکسڈنٹ نہیں قتل ہے کیونکہ اس کا کٹا ہوا بازو دیکھنے سے لگتا ہے کہ کسی نے بےدردی سے کاٹا ہے ناکہ کار ایکسڈنٹ میں کٹا ہے۔۔۔”

اسکی طرف دیکھتا حماد تفصیلاً بتایا،

“پر یہ کرے گا کون۔۔۔اس کی کسی سے لڑائی ہوئی تھی کیا پچھلے دنوں۔۔۔”

“نہیں یار۔۔۔ان دنوں تو کسی سے لڑائی نہیں ہوئی تھی پر دشمن تو خیر بہت تھے اس کے۔۔۔ان میں سے ہی کسی ایک کا کام ہوگا۔۔”

اسے بتاکر حماد یکدم چپ ہوا،

“کیا ہوا۔۔”

“جو دشمن اس کے تھے ان میں سے ہی کچھ ہمارے بھی ہیں۔۔۔”

حماد سوچ کر ہی بےساختہ گھبرایا،

“ہنہہ۔۔۔تیرا پتا نہیں۔۔۔پر ہناد سکندر کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔۔۔”

اسکا لہجہ ازلی گھمنڈی تھا،پُرسکون سا کہہ کر وہ میت اٹھانے کا شور سنتے ہی حماد کو اشارہ کیے چلا تھا وہاں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کو لاؤنج کے صوفے پر بیٹھیں مہناز بیگم بار بار گیٹ کی جانب دیکھ رہی تھیں،آج انہوں نے کھانے پر بہت خاص اہتمام کروایا تھا ہیثم کے لیے،آخر کو اتنے سالوں بعد آرہا تھا،اس نے کہا تھا کہ شام تک وہ آجائے گا مگر اب رات دیڑھ بجنے کو تھے پر اس کا کوئی اتا پتا نہیں تھا،انہوں نے کال کی تو نمبر بھی بند جارہا تھا،

“بھائی آگئے۔۔۔”

باہر سے آتی فلذہ مہناز بیگم کو صوفے پر بیٹھے دیکھ پوچھی تھی،

“نہیں۔۔۔نمبر بھی بند جارہا ہے۔۔۔پتا نہیں کہاں ہوگا۔۔۔”

نہایت پریشانی میں کہتی وہ ایک بار پھر گیٹ کی طرف دیکھیں،فلذہ جو فون پر چیٹنگ میں مگن تھی بولی،

“اہہہمم۔۔۔آجائیں گے وہ۔۔۔آپ سوجائیں۔۔۔”

وہ پارٹی سے ابھی آئی تھی اور اب دوستوں کے میسیجز تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے،تبھی انہیں رپلائی کرتی بےپرواہی سے بولی،

“ارے مطیبہ۔۔۔”

وہ جو اپنے کمرے(گیسٹ روم) کی طرف جارہی تھی فلذہ کی اچانک پکار پر چونکی،

“یار تمہیں پتا ہے آج بہت مزہ آیا۔۔۔میں نے تمہیں صفیرہ کا بتایا تھا نا۔۔۔آج وہ بھی آئی تھی۔۔۔اتنا ایٹیٹیوڈ دکھارہی تھی لیکن میں نے بھی اسکی عقل ٹھکانے لگادی نمرہ سے جوس کا گلاس اسکی ڈریس پر گرواکر۔۔۔یار تم بھی چلتی۔۔۔”

اسے مزے سے پوری بات بتاکر آخر میں فلذہ نے کہا جس پر مطیبہ پھیکی مسکراہٹ سجاکر نفی میں سر ہلائی،

“اچھا سنو تو یار۔۔۔”

اسکی بات سن کر مطیبہ جانے لگی لیکن پھر فلذہ کے ٹوکنے پر رکی،

“ایک گلاس پانی تو پلادو۔۔۔پلیز۔۔۔”

فلذہ کے بولنے پر مطیبہ نے مسکراکر کچن کا رخ کیا،

کچھ دیر بعد وہ پانی کا گلاس لاکر صوفے پر موبائل میں مصروف بیٹھی فلذہ کو پکڑانے لگی تبھی پورچ سے آتی ہارن کی آواز پر چونکی،

“بیگم صاحبہ۔۔۔ہیثم بھائی آگئے۔۔”

ملازمہ کی بات پر مطیبہ کا گلاس پکڑا ہاتھ لرزا تھا جس کے نتیجے میں تھوڑا پانی فلذہ پر گرا،

“اوہ شٹ۔۔۔یہ کیا کردیا یار۔۔۔”

اپنے موبائل پر پانی گرنے سے فلذہ نے جھنجھلاکر مطیبہ کو دیکھا پر اسکے زرد مائل چہرہ دیکھ وہ اندر امڈتے خوف کی وجہ جان گئی،دوسری جانب مطیبہ نے بنا اسے کوئی جواب دیے گلاس ٹیبل پر رکھا تھا،ساتھ ہی گیسٹ روم کی جانب تیزی میں گئی،مہناز بیگم نے دکھ سے اس کی پشت کو دیکھا،

کچھ ہی دیر بعد وہ اندر داخل ہوا تھا،مہناز بیگم کی نظر اس پر پڑی تو بےساختہ ان کی آنکھیں جھلملائیں،آسمانی رنگ کی شرٹ اور بلو پینٹ پہنے بالوں کو ماتھے پر بکھرے چھوڑے وہ آستینوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے ایک ہاتھ میں ہینڈ کیری تو دوسرے میں ایک چھوٹا بیگ تھاما ہوا تھا،شیو تھوڑی بڑھی ہوئی ہونے کے باعث تیکھے نقوش کافی وجیہہ لگ رہے تھے،مگر سنجیدہ آنکھوں کے گرد گہرے ہلقے اندر کے درد کی واضح عکاسی کررہے تھے،

“میرا بیٹا۔۔۔”

اس کے پاس آنے پر وہ نرمی سے ہیثم کی پیشانی چوم کر بولیں،

“اب مت جانا کبھی۔۔۔”

اس کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتی وہ مترنم لہجے میں کہنے لگیں جس پر ہیثم زبردستی مسکراتا انکے کندھے کے گرد بازو حائل کیے بولا

“نہیں جاؤں گا۔۔۔”

“کیسے ہیں بھائی۔۔”

فلذہ نے بھی اپنی موجودگی کا احساس دلایا،

“ٹھیک۔۔۔”

لہجے کے برعکس اس کے الفاظ تھے،

“کافی جلدی آئے ہو۔۔۔”

پیچھے سے آتی آواز پر ان تینوں نے گیٹ کے جانب دیکھا جہاں ہناد چہرے پر مسکان سجائے کھڑا تھا،ہیثم کے پاس آکر وہ اس کا کندھا تھپتھپایا،

“اب آگے کیا ارادہ ہے۔۔۔؟”

“ظاہر سی بات ہے۔۔۔بابا کا بزنس۔۔۔”

ہلکی مسکراہٹ سمیت اسے جواب دے کر ہیثم مہناز بیگم کی پکار پر متوجہ ہوا،

“یہ باتیں بعد میں کرنا۔۔۔ابھی چلو فریش ہو آؤ۔۔۔میں کھانا لگواتی ہوں۔۔”

“امی کھانا کھاچکا ہوں۔۔۔آرام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”

صفائی سے جھوٹ بولتا وہ سیڑھیوں کی جانب گیا۔۔۔،فلحال اس کا دل اکیلے رہنے کا کررہا تھا،ہیثم کے جانے کے بعد مہناز بیگم نے بھی اپنے کمرے کا رخ کیا تو فلذہ بھی اوپر گئی،ان لوگوں کے جانے کے بعد ہناد کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوئی،تنفر سے ہیثم کی پشت دیکھتا وہ سکندر ولا سے نکلا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ایک ہفتے بعد وہ دریہ بیگم کو لے کر اس شہر جارہا تھا جہاں زندگی نے اسے اپنا ایک بھیانک پہلو دکھایا تھا،عفان کی کال آئی تھی اس نے بتایا تھا کہ جو تھوڑا بہت کام تھا وہ بھی مکمل ہوچکا تھا،تبھی اس سے بات کرکے سلسبیل نے اب اپنے سیکریٹری کو کال کی تھی،وہ ایک آدھ مہینے بعد اپنا بزنس یہی پر شفٹ کرنے والا تھا آخر کو اب مستقل اس ہی جگہ تو قیام کرنے لگا تھا وہ،تاکہ بآسانی ہر ایک کا بدلہ چکا سکے،کار ڈرائیو کرتا وہ دریہ بیگم سے کچھ باتیں کررہا تھا تبھی اس کا فون رنگ کرنے لگا،سکرین پر جھلملاتا نام دیکھ سلسبیل کے لبوں پر اس عرصے میں پہلی مرتبہ ایک دلکش مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا،

“کیسا ہے۔۔۔”

کان سے لگاتا وہ لب دبائے بولا،

“ارے واہ۔۔۔کون ہے کی جگہ ڈائریکٹ کیسا ہے۔۔۔مطلب نمبر سیوو کرنے کا تکلف کرہی لیا۔۔۔”

دوسری جانب سے بھاری دلکش مگر طنزیہ آواز کہ سلسبیل آنکھیں گھماتا مسکرایا،

“شاید کسی نے خود ہی کیا تھا میرے فون پر اپنا نمبر سیوو۔۔”

وہ اسے یاد دلایا تھا جیسے،

“ہاں کیونکہ “کسی” کی جان جو جارہی تھی میرا نمبر سیوو کرتے ہوئے۔۔۔”

دوسری جانب سے اس ہی کے انداز میں ہنوز طنز کیا گیا،

دریہ بیگم نے مسکراکر کار ڈرائیو کرتے سلسبیل کو دیکھا جو اکثر ایک اسی کال پر اس قدر مسکراکر بات کرتا،وہ نہیں جانتی تھیں کہ اگلی جانب کون ہے پر دل ہی دل میں مقابل بات کرتے شخص کو ہمیشہ دعائیں ضرور دیتیں جو ان کے پوتے کو اکثر کال کر کے اپنی باتوں سے مسکرانے پر مجبور کردیتا،

“سنا ہے شفٹنگ ہورہی ہے تیری۔۔۔”

دوسری جانب سے پوچھا گیا،

“عفان نے بتایا۔۔۔”

سلسبیل کو پہلی فرصت میں اپنا اسسٹنٹ یاد آیا کیونکہ وہی تھا جو ان دونوں کی دوستی سے بخوبی واقف تھا،

“میرے شہر میں آرہا ہے اور مجھے ہی نہیں بتایا۔۔۔”

دوسری جانب لہجے کے بلکل برعکس الفاظوں میں ناراضگی دکھانے کی کوشش تھی،

“جانتا تھا عفان بتادے گا تبھی۔۔۔”

“ہمم۔۔۔شفٹ ہوجائے گا تو بتانا مجھے۔۔۔”

“کیوں۔۔!”

“کمینے کیا کیوں۔۔۔گھر آؤں گا تیرے۔۔۔”

“ضروری ہے کیا۔۔۔”

اور سلسبیل کی اس بات پر دوسری جانب کچھ پل کے لیے خاموشی چھائی،سلسبیل اپنی مسکراہٹ دبائے اگلی جانب اس شخص کی گالیوں کا منتظر ہوا،

“بہت ضروری ہے۔۔۔فیوچر میں تیری ہونے والی بیٹی کا رشتہ کرنا ہے اپنے بیٹے سے۔۔۔اسی سلسلے میں کچھ بات کرنی ہے بس۔۔۔”

“ایک منٹ۔۔۔تُو شادی شدہ ہے۔۔۔”

ان دونوں کے درمیان کبھی اس ٹاپک پر بات نہ ہوئی تھی اور نہ ہی اس نے کبھی سلسبیل کو ایسا کچھ بتایا تھا،تبھی وہ تھوڑا حیران ہوا،

“کیوں تجھے کرنی تھی کیا مجھ سے شادی”

اس بات پر سلسبیل جو ابھی اسے گالیاں سنانے کے لیے منہ کھول ہی رہا تھا اچانک دوسری جانب سے کال کٹنے پر ہلکا سا ہنسا،

“یہ نہیں سدھر سکتا۔۔۔”

زیرِ لب بڑبڑاکر وہ فون ڈیش بورڈ پر رکھا،ہناد کی دوستی کی اس بھیانک شکل کو دیکھنے کے بعد سلسبیل نے پھر کبھی کسی کو دوست نہ بنایا تھا،اس کا بھروسہ ختم ہوا تھا دوستی پر سے لیکن اس شخص سے جب بزنس کے سلسلے میں اس کی ملاقات ہوئی تب شروع میں سلسبیل اس سے بمشکل تھوڑی بہت بات کرتا وہ بھی صرف کام کی حد تک،لیکن جب کام بڑھا تو باتیں بھی بڑھیں اور یوں اس شخص اور سلسبیل کی دوستی کا آغاز ہوا،ہناد کے برعکس اس شخص نے سلسبیل پر دوستی کی خوبصورتی واضح کی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دن ت ہوچکے تھے ہیثم کو یہاں آئے ہوئے،ہناد کے ساتھ آفس جاکر وہ فلحال تھوڑے بہت کام سمجھ رہا تھا،ان دو دنوں میں جہاں ہناد نے مطیبہ پر سے اپنی نظریں ہٹائی تھیں وہی مطیبہ نے بھی حتیٰ الامکان کوشش کی ان دونوں بھائیوں کے سامنے نہ آنے کی،زیادہ تر وہ گیسٹ روم میں بند رہتی،دن میں جب وہ دونوں گھر پر نہ ہوتے تب روم سے نکلتی،

“ماما یہ تو ناانصافی ہے۔۔۔دو دن سے آپ کھانے صرف ہیثم بھائی کے ہی پسند کے بنوارہی ہیں۔۔۔”

رات کے کھانے کے دوران فلذہ منہ بسور کر گویا ہوئی تھی،

“لڑکی۔۔۔بھائی کو ابھی آئے ہوئے ہی دو دن ہوئے ہیں۔۔اور اگر تمہیں اپنے پسند کا کھانا ہی چاہیے تو خود جاکر کچن میں بتادیا کرو ملازمہ کو۔۔۔”

ایک محبت بھری نظر خاموشی سے کھانا کھاتے ہیثم پر ڈال کر وہ فلذہ کو بولی تھیں،

“ویسے آج کا کھانا تو مطیبہ نے خود بنایا ہے بھائی کے لیے۔۔۔ہے نا ماما۔۔۔”

فلذہ نے مسکاتی نظروں سے ہیثم کو چھیڑنے کے غرض سے کہا تھا مگر اس کا منہ میں نوالہ لےجاتا ہاتھ رکا،مہناز بیگم نے تنبیہہ نظروں سے فلذہ کو گھورا مگر وہ پریشان ہوئیں جب ہیثم پلیٹ سرکاتا کھڑا ہوا،

“بیٹا کھانا تو پورا کھاتے جاؤ۔۔۔”

ان کے فکرمند لہجے میں کہی بات پر ہیثم نے بھنچے جبڑوں سمیت انہیں دیکھ کر کہا،

“مرگئی بھوک۔۔۔”

لہجہ واضح جتانے والا تھا کہ سب جانتے بوجھتے اس لڑکی سے کھانا بنوایا گیا،

اس کے جانے کے بعد مہناز بیگم تاسف سے گردن ہلاتی اسے دیکھیں جو خاموشی سے ہیثم کو یوں جاتے دیکھ اداس ہوئی تھی،ہناد طنزیہ مسکرایا جبکہ فلذہ کندھے اچکاکر رہ گئی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کا دوسرا پہر تھا ہناد اپنے روم سے نکلتا ایک نظر چاروں طرف دوڑایا تھا،پورا ولا اندھیرے میں ڈوبا تھا،رات کے سناٹے میں گھڑی کی ٹک ٹک ہی صرف کانوں کو سنائی دے رہی تھی،ملازم سارے سرونٹ کوارٹر میں تھے تبھی اس طرف سے وہ بےفکر رہا،دبے پاؤں چلتے اس کا رخ نیچے گیسٹ روم کی جانب تھا،لبوں پر ازلی کمینگی مسکراہٹ سجائے وہ سیڑھیاں عبور کیا اور اگلے ہی چند لمحوں میں ٹھیک گیسٹ روم کے باہر کھڑا ایک بار پھر پیچھے مڑ کر دیکھا،وہاں کسی کے نہ ہونے پر مطمئن ہوا تو آہستگی سے اس نے دروازہ کھولا،اور ہلکی سی چرچراہٹ کے ساتھ دروازہ نیم وا ہوا تھا،

وہ جو اس ستمگر کی یادوں میں محو ابھی کچی نیند میں ہی تھی،دروازہ کھلنے کی آواز کو وہم سمجھ کر اگنور کر گئی،

ادھر ہناد اندر داخل ہوکر دروازہ بند کر کے مڑتا خباثت بھری نظروں سے بیڈ پر سوئے وجود کو دیکھا،پھر چند قدم اٹھاکر عین اس کے سر پر کھڑا بغور اس کے بےداغ چہرے کو گھورنے لگا،وہ جانتا تھا ہیثم کے آنے کے بعد اسے موقع نہیں ملنے والا تبھی دو دن تک خاموشی برتا لیکن مطیبہ کو ہنوز گیسٹ روم میں سوتے دیکھ آج وہ جان گیا تھا کہ اس ہی موقع کا وہ متلاشی ہے،مطیبہ کے خوبصورت چہرے کو دیکھ وہ بےاختیار تھوڑا جھکا اور اپنا ہاتھ اس کے نرم گال پر رکھنے لگا،وہ جو کچی نیند میں خود پر تیز نظروں کی تپش محسوس کررہی تھی ہٹ سے آنکھیں وا کی،

خود پر جھکے ہناد کو دیکھ وہ بےساختہ چیخنے لگی پر عین وقت پر اس کے لبوں پر ہناد اپنا ہاتھ رکھ گیا،مطیبہ کو اپنے چاروں طرف خطرے کی گھنٹی بجتی محسوس ہوئی،

“ششش۔۔۔”

مطیبہ کی خوف سے پھیلیں جھیل آنکھیں اس کے اندر کے وحشی کو جگانے کے لیے کافی تھیں،

“ہناد بھائی۔۔۔”

اس کا ہاتھ جھٹکتی وہ خوفزدہ ہوکر بولی ساتھ ہی پیچھے سرک کر دوسرے جانب سے اتری،اس انسان کی حوس بھری نظروں نے مطیبہ پر کپکپی طاری کی تھی،بری طرح گھبراتے دل اور خوف سے زرد پڑتی وہ رونے کو ہوئی کیونکہ دوپٹہ بیڈ پر پڑا تھا اور وہ قدم بہ قدم اس کی طرف آنے لگا تھا،

“مطیبہ۔۔۔تم یہاں ہو۔۔۔مجھے لگا کہ ہیثم کے آنے کے بعد تم اس ہی کے کمرے میں سوتی ہوگی۔۔۔ایکچولی میرا دل کررہا تھا آج یہاں سونے کا۔۔۔”

سب کچھ جانتے بوجھتے وہ ایکٹنگ کیا تھا انجان بننے کی،البتہ معنیٰ خیز نظریں مقابل خوف سے لرزتے وجود پر گڑی تھیں،

“سوری میں نے تمہیں ڈسٹرب کردیا۔۔۔تم ریلکس ہوکر سوجاؤ۔۔۔میں چلا جاتا۔۔۔”

“بھائی د۔دو۔ر۔۔۔رہی۔۔رہیں۔۔۔”

وہ جو لہجے میں مکمل فکرمندی گھول کر بولتا اس کے قریب آنے لگا تھا مطیبہ کی ہکلائی آواز پر پاگل ہونے کو ہوا،

“لڑکی تم ڈر کیوں رہی ہو۔۔۔”

اچانک آگے بڑھ کر اس کے بازو پر ہاتھ رکھتا ہناد ہنس کر بولا اور بس،مطیبہ کے حواس یکدم معطل اور کان سائیں سائیں کرنے لگے،جھٹکے سے ہناد کو دھکا دیتی وہ بھاگی تھی کمرے سے،باہر آکر ماؤف ہوتے دماغ میں کچھ نہ سوجھا تو بےاختیار اس کے قدم اوپر جاتی سیڑھیوں پر اٹھے،

اس کے پیچھے ہناد جو روم سے نکلا تھا سیڑھیاں عبور کر کے اب مطیبہ کا رخ ہیثم کے کمرے کی طرف دیکھ تھوڑا گھبرایا مگر جلد ہی وہ خود کو کمپوز کیا کہ جانتا تھا اس میں کم از کم اتنی ہمت تو نہیں ہوگی جو ہیثم کو بتاسکے کچھ بھی،

تیزی میں ہیثم کے روم کا گیٹ جھٹکے سے کھول کر وہ زور سے بند کی تھی،پھر گیٹ کی طرف ہی منہ کیے گہرے گہرے سانس بھرنے لگی،اس کا چہرہ پسینے سے شرابور ہورہا تھا،خوف اس قدر اس پر سوار تھا کہ ماؤف ہوتے دماغ میں پیچھے بیڈ پر بیٹھے اس شخص کا بھی خیال نہ آیا،

کچھ دیر بعد وہ تھوڑا بہت سنبھلی تو سانس بھی متواتر ہوئی،خوف سے ہنوز نازک وجود لرزراہٹ کا شکار تھا،آہستگی سے مڑتی وہ اپنی بند آنکھوں کو وا کی مگر تبھی مطیبہ کا دل اچھل کر حلق میں آیا،بیڈ پر ہاتھ میں ایک فریم لیے وہ خون آشام آنکھوں سمیت مطیبہ کو گھور رہا تھا،پانچ سال بعد ان دونوں کا آمنا سامنا ہوا تھا مگر مقابل کے چہرے پر بےرحم تاثرات اور سرخ آنکھوں میں اپنے لیے ازلی نفرت نے مطیبہ کو رونے پر مجبور کیا تھا،کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے پھر ناب پر ہاتھ رکھا پر اب ہمت نہ ہوئی تھی اسے گھمانے کی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔