Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 22)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 22)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
اپنے مینشن پر کار روکتا وہ ایک نظر دریہ بیگم کو دیکھا،اس کا اشارہ سمجھتیں دریہ بیگم پیچھے بیٹھی عنادیہ سے مخاطب ہوئیں جو شیشے سے باہر دیکھتی بار بار آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کررہی تھی،دریہ بیگم اسے ساتھ لے کر اتری تھیں ساتھ ہی اندر گئیں،ان دونوں کے جانے کے بعد سلسبیل سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے آنکھیں موندا،سکندر صاحب کے احسان تھے اس پر جس کے تحت وہ مہناز بیگم سے بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا تھا مگر ان کے تربیت پر ضرب لگانے سے وہ خود پر قابو نہ پاسکا،وہ جانتا تھا کہ انہیں دکھ ہوا ہوگا اس کے عمل سے لیکن مجبور تھا کہ بخشنا بھی نہیں چاہتا تھا اپنے مجرموں کو،
کافی دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد وہ کار سے اترا پھر فرمان کو کار پارک کرنے کے غرض چابی دیتا مینشن میں داخل ہوا،اندر آنے کے بعد اس نے سامنے دریہ بیگم کو دیکھا جو صوفے پر بیٹھی یقیناً اس ہی کی منتظر تھیں،سلسبیل نے ایک متلاشی نظر ہر طرف دوڑائی،
“تمہارے روم میں بھجوادیا ہے اسے اسماء کے ساتھ۔۔۔”
اس کی نظروں کو سمجھ کر دریہ بیگم نے کہا جس پر گہرا سانس بھر کر وہ ان کے پاس بیٹھا،
“تمہارے فیصلے مجھے کبھی غلط نہیں لگے کیونکہ ہر فیصلے کے پیچھے لازمی ایک وجہ ہوتی ہے۔۔۔میں یہ نہیں کہتی کہ عنادیہ مجھے پسند نہیں۔۔بلکہ وہ معصوم لڑکی مجھے بہت بھائی۔۔۔لیکن بتانا چاہو گے کہ اگر شادی اس سے کرنی تھی تو اس بچی کے ساتھ کیوں غلط کیا۔۔۔”
اس بات سے ان کا اشارہ فلذہ کی جانب آخر میں گیا تھا،
“جسے اب بچی کہہ رہی ہیں۔۔۔وہ ہی اصل جڑ ہے ان سب کی۔۔۔گرینی مجھ سے کوئی بھی بدگمان ہو مجھے زرا فرق نہیں پڑتا پر آپ۔۔۔آپ مجھ پر یقین رکھیے گا کہ آپ کا سلسبیل بنا وجہ کبھی کچھ غلط نہیں کرے گا۔۔”
ان کے ہاتھوں کو تھامتا وہ سنجیدگی سے کہا جس پر دریہ بیگم کچھ پل کی خاموشی کے بعد آسودگی سے مسکرائیں،
“جاؤ اوپر۔۔۔وہ شدید ناراض لگ رہی ہے تم سے۔۔”
ان کے گال تھپتھپاکر کہی بات پر سلسبیل نرمی سے مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا،اب اس کے قدم اپنے کمرے کی جانب تھے،
وہاں سے گزرتی اسماء کو دیکھ ایک بجلی کا کوندا سا لپکا تھا ذہین دماغ میں اور بےساختہ اسماء کو پکارا تھا وہ،
“جی صاحب۔۔”
“عنادیہ کمرے میں ہے۔۔۔”
جانتے بوجھتے وہ لفظوں کو ترتیب دینے کی مہلت لینے کے لیے وہ یہ سوال یونہی پوچھا،
“جی۔۔”
“اچھا ٹھیک۔۔آ۔۔تم لے کر گئی تھی نا اسے روم میں۔۔”
“جی بلکل۔۔صاحب بی بی کو میں ہی لے کر گئی تھی۔۔”
“تم نے پہلے کبھی دیکھا ہے کیا اسے۔۔۔”
سلسبیل کے اس سوال پر اسماء چپ سی ہوئی پھر بولی،
“نہیں صاحب۔۔پہلی مرتبہ دیکھ رہی انہیں۔۔۔پر صاحب بہت پیاری سی ہیں بی بی۔۔”
یہ سلسبیل کا نرم ہوتا رویہ تھا کہ وہ آخر میں خوشی سے بولی،لیکن اس بار سلسبیل الجھنے لگا،وہ سمجھا تھا کہ دریہ بیگم اس سے یہ بات چھپارہی ہوں گی مگر پھر اسماء کا بھی انجان انداز،اسے جانے کا اشارہ کرکے وہ پیشانی مسلتا روم میں داخل ہوا،
اس کے کشادہ وسیع خوبصورت روم میں بیٹھی عنادیہ جب سے سوچوں میں غوطہ زن بھیگے گالوں کو صاف کررہی تھی،اسے بار بار مہناز بیگم کی ملامت بھری نظریں یاد آرہی تھیں،کتنی بدگمان ہوچکی ہوں گی وہ اس سے کہ اسے رکنے تک کا نہ کہا اسے شدت سے ہتک کا احساس ہورہا تھا،کاش کہ وہ مرنے کو ہی ترجیح دیتی اس شخص کے نکاح میں آنے سے پہلے،اسے غصہ آیا اپنے ڈر پر جو ریوالور کو دیکھتے ہی اس کے وجود میں دوڑا تھا،اندر آتے سلسبیل پر نظر پڑتے ہی اس کے روتے تاثرات بدل کر سخت ہوئے،اپنا رخ دوسری طرف موڑ کر وہ واضح اعلان کی تھی اس سے کسی بھی قسم کی بات تک نہ کرنے کا،اسے دیکھ سلسبیل مڑ کر گیٹ بند کیا جس پر عنادیہ کا دل بےساختہ گھبرایا،مقابل کے اپنے طرف بڑھتے مضبوط قدموں کو چور نظر سے دیکھتی وہ خود کی گھبراہٹ پر بمشکل قابو پانے کی کوشش کیے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں سختی سے پھنسائے بیٹھی تھی،تب بات اور تھی مگر اب نیا رشتہ اور اس شخص کی چند گھنٹے پہلے کی گئی بےباک جسارت پر وہ کافی ڈر چکی تھی،
“تمہارا غصہ حق بجانب ہے۔۔۔”
صوفے سے چند دوری کے فاصلے پہ اپنے جہازی سائز بیڈ پر بیٹھتا وہ سنجیدگی سے کہا،عنادیہ نے سلگی نظروں سے اسے گھورا،
“میں نے جو کیا کچھ سوچ کر ہی کیا۔۔۔وضاحت دینے کا ابھی موڈ نہیں۔۔۔فلحال تم چینج کرلو۔۔۔کپڑے وارڈروب میں رکھوادیے ہیں۔۔۔”
وہ کافی الجھا ہوا تھا ابھی،اس ہی لیے زیادہ کچھ کہنے کے بجائے یہ بول کر اٹھا،ساتھ ہی ٹیرس پر گیا،وہ جو سمجھ رہی تھی کہ یہاں بیٹھ کر اب مقابل اس سے معافی مانگے گا شدید حیران ہوتی اس کی پشت کو دیکھی،غصہ تو بےتحاشہ آرہا تھا مگر فلحال کچھ کر نہیں سکتی تھی تبھی اٹھ کر وارڈروب کی جانب گئی،وہاں سبھی نئے ڈریسِس ہینگ تھے،ان میں سے ایک سادہ سوٹ لے کر عنادیہ ڈریسنگ روم میں داخل ہوئی،پھر کچھ ہی دیر میں چینج کر کے باہر آتی وہ صوفے کا رخ کی،خود پر طریقے سے دوپٹہ لیے وہ وہی پر لیٹ کر آنکھیں موند گئی،تبھی عفان سے بات کرنے کے بعد واپس روم میں آتا سلسبیل چونکا اسے صوفے پر سوتے دیکھ،
“عنادیہ۔۔”
وہ پکارا تھا اسے مگر مقابل ان سنی کیے سوتی بنی رہی،
“اٹھو لڑکی۔۔”
اس بار سلسبیل نے اس کے قریب آکر پکارا مگر بےسود،وہ خوب سمجھا تھا اس کا سوتے بنے رہنے کا ڈرامہ تبھی اب جھک کر اسے بازوؤں میں لیتا بیڈ پر آیا،عنادیہ کی آنکھیں پٹ سے وا ہوئیں،گھبراکر اس کے آہنی بازوؤں سے آزاد ہونے کے لیے وہ سلسبیل کے سینے پر ہاتھ ماری تھی مگر شرٹ کے اوپری بٹنز کھلے رہنے باعث جب دودھیا ہاتھوں میں سینے کے بالوں کی چبھن محسوس ہوئی تو وہ بری طرح بوکھلاتی سُرخ پڑی،نازک وجود لرز کر رہ گیا جسے بخوبی محسوس کرتا سلسبیل آہستگی سے اسے بیڈ پر بٹھایا،
“آئندہ بتانا نہ پڑے۔۔”
اس کی گھبرائی حالت دیکھ وہ سخت لہجہ اختیار نہ کیا،البتہ انداز باور کرانے والا تھا،اسے اپنے برابر میں لیٹتے دیکھ عنادیہ کی کیفیات عجیب ہونے لگی،نادان دل کی دھڑکنیں عروج پر تھیں،گلابی لبوں پر زبان پھیرتی وہ ایک نظر صوفے کو دیکھی،اچانک سب کچھ ہونے کے باعث اس کا دماغ انکاری تھا اتنی جلدی یہ ایکسیپٹ کرنے سے،اسی لیے عنادیہ کو کچھ فاصلے پر رکھے ٹُو سیٹر صوفے پر سونا ہی مناسب لگا،ہمت کر کے وہ اٹھی تھی بیڈ سے لیکن اس سے پہلے ایک قدم بھی آگے بڑھاتی اپنی کلائی اسے مضبوط گرفت میں محسوس ہوئی اور اگلے ہی لمحے وہ سیدھا بیڈ پر گری تھی،ابھی معمہ سمجھ ہی رہی تھی کہ اس کے اوپر ہی سلسبیل جھکا،کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں خود سے بےحد نزدیک مقابل کے وجیہہ چہرے پر پتھریلے تاثرات دیکھ عنادیہ سانس روک گئی،دل جس تیزی سے دھڑک رہا تھا اسے لگا ابھی پسلیاں توڑ کر باہر نکل آئے گا،
“کیوں ایک بار کی کہی بات پر عمل نہیں کرتی۔۔۔”
اس کے گھمبیر لہجے پر عنادیہ کا خون سوکھا،گھنیری پلکیں لرز کر جھکیں،گہری نظریں اس کے گلال بکھرتے عارض پر ڈال کر سلسبیل ہاتھ عنادیہ کے پیچھے لے جاتا اس کے ریشمی بالوں کو کیچر کی گرفت سے آزاد کیا تھا،وہ شل سی آنکھیں پھیلائے جھٹکے سے سلسبیل کو دیکھی،کالی آنکھوں کے گرد وہ سرخ ڈورے سلسبیل کو بےقرار کیے تھے،
“کیا چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ زبردستی کروں۔۔”
ریشمی بالوں کو انگلیوں میں مس کرتا وہ ان کی نرمی محسوس کیا ساتھ ہی ایک لٹ کو انگلی میں گھماتا سرگوشی کیا،عنادیہ کی جان نکلنے کو ہوئی،جھلساتی سانسوں کے چہرے پر پڑنے سے وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی،کلون کی خوشبو اس کے حواس معطل کرنے لگی،اے سی کی برف کرتی ٹھنڈک پر بھی اس کی سفید پیشانی عرق آلود ہورہی تھی،
“جواب دو۔۔”
ایک مرتبہ پھر سرگوشی کے ساتھ وہ انگلی میں لپیٹی لٹ کھینچا تھا کہ عنادیہ سسک کر آنکھیں میچے نفی میں سرہلائی،اس کی قربت عنادیہ پر سانسیں تنگ کرنے لگی،میچی آنکھوں سے ایک موتی ٹوٹتا بالوں میں جذب ہوا،وہ جو بےتابانہ نظروں سے اس محبوب لڑکی کا خوبصورت چہرہ دیکھ رہا تھا،نوکدار پلکوں پر نمی محسوس کرتے ہی اس کی آنکھوں پر جھکا،ساتھ ہی باری باری ان پر اپنے جلتے لب رکھا،اور تب سے اپنا آپ ادھورا محسوس کرتا سلسبیل مراد آج خود کو مکمل سمجھا تھا،ایک سکون سا سرایت کیا تھا اس کے پورے وجود میں،دوسری طرف مشکل میں گھری وہ نازک جان لڑکی اس نرم گرم لمس پر بیٹ شیٹ دبوچی تھی اپنے ہاتھوں میں،اس سے پہلے وہ بےہوش ہوتی سلسبیل اس پر رحم کھاتا بالوں کی لٹ چھوڑ کر دور ہٹا،
“تم صوفے پر جانا چاہتی ہو تو مجھے زرا اعتراض نہیں لیکن میرے اگلے ردعمل کے لیے بھی تیار رہنا۔۔ویسے حالت بتارہی ہے کہ وہ عمل برداشت نہ کرتے ضرور بےہوش ہوجاؤ گی۔۔سو بی کئیرفُل۔۔”
وہ جو اس کے دور ہٹنے پر بھی اب تک بیٹ شیٹ کو دبوچے آنکھیں میچ کر لیٹی تھی سلسبیل کے سرد لہجے پر اپنے جسم پر سنسنی دوڑتی محسوس کی تبھی فوراً بیڈ کے بلکل کونے پر ہوتی وہ دوسری کروٹ پر لیٹی،اپنے کانوں میں وہ واضح دھڑکنوں کا شور سن سکتی تھیں جو اس کی منتشر ہوئی حالت کا پتا دے رہی تھیں،سلسبیل اس کی حرکت پر بمشکل لبوں پر امڈتی مسکراہٹ کچلا،
“سلسبیل مراد۔۔”
کچھ دیر بعد نیچے سے آتی دھاڑ پر سلسبیل گہرا سانس بھرا،جانتا تھا آنے والی ہستی کون ہے،تبھی ایک نظر اب باقاعدہ سوتی عنادیہ پر ڈال کر وہ اٹھا پھر روم سے نکل کر گیٹ بند کرتا باہر آیا،سامنے ہی ہیثم غصہ ضبط کرنے کے چکر میں سرخ چہرہ لیے اسے دیکھ رہا تھا،
“کیا ہوا بیٹا۔۔”
دریہ بیگم بھی اپنے روم سے نکلی،
“گرینی۔۔۔آپ جائیں اندر ابھی۔۔”
ہیثم کو سوالیہ نظروں سے دیکھتی دریہ بیگم سے سلسبیل نے کہا،
“گرینی پلیز۔۔”
ان کے خاموش رہنے پر وہ پھر بولا جس پر سر ہلاتی وہ اندر گئیں،
“ہمم۔۔بولو۔۔”
اب وہ ہیثم کی طرف متوجہ ہوا،
“کیوں کیا یہ سب۔۔؟”
بہت تحمل کا مظاہرہ کر کے پوچھا تھا اس نے،
“کیا کِیا میں نے۔۔”
انجان بنا گیا تھا،
“واؤ اتنا سب کچھ کر کے اب پوچھ رہے ہیں کہ کیا کِیا۔۔۔میری بہن کے خواب چکنا چور کرڈالے۔۔۔اور۔۔اور عنادیہ کہاں ہے۔۔۔”
بلند آواز میں کرختگی سے کہتا وہ آخر میں پوچھا،
“میری بیوی” سورہی ہے ابھی۔۔”
سنجیدگی سے جواب دیا تھا سلسبیل،ہیثم کے آنکھوں میں دکھ کی جھلکیاں پڑیں،
“بھائی۔۔۔کیوں کیا ایسا۔۔۔”
وہ مانتا تھا بہت سلسبیل کو تبھی چاہ کر بھی اس کے سامنے سختی نہیں برت پارہا تھا،سلسبیل کچھ دیر خاموش نظروں سے اسے دیکھ کر بولا،
“میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔”
“فلذہ کے ساتھ غلط کیا ہے آپ نے۔۔۔خود پر سے الزام ہٹاکر بری الزمہ نہیں ہوسکتے۔۔”
“وہ اس لائق ہے۔۔تم ایک بھائی کی نظر سے یہ سب دیکھ رہے ہو تبھی تمہیں لگتا ہے کہ میں غلط ہوں ورنہ حقیقت سے کسی حد تک تم بھی واقف ہو۔۔۔”
اس بار سلسبیل کا اشارہ 7 سال پہلے ہوئے واقعے پر گیا تھا،جس پر ہیثم نگاہ پھیرا،یہ بات تو اسے ہمیشہ سے کھٹکتی کہ سلسبیل اس وقت غلط نہیں تھا بلکہ الزام لگا تھا اس پر اور آج سلسبیل کی بات نے اس کی تصدیق بھی کردی تھی،
“میں جانتا ہوں فلذہ کو غلط فہمی ہوئی ہوگی یا اگر وہ گناہگار ہے تو ٹھیک۔۔۔لیکن پھر عنادیہ۔۔۔اس نے کیا بگاڑا تھا آپ کا۔۔”
بہت سوچ کر بولتا وہ سلسبیل کو مسکرانے پر مجبور کیا،
“میں نے بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑا۔۔۔”
اس کے مذاقاً لہجے میں کہی بات پر ہیثم خفگی سے دیکھا،
“آپ نے اس سے شادی کی۔۔۔”
“تمہیں لگتا ہے مجھ سے شادی کر کے اس کی قسمت پھوٹی ہے۔۔۔”
“نہیں بھائی۔۔۔میرا وہ مطلب نہیں۔۔۔کیا وہ راضی تھی۔۔”
اس کے پریشان لہجے میں سلسبیل نرم مسکراہٹ لیے مقابل کھڑے اس انسان کو دیکھا جو بہن کے لیے کافی ٹینس لگ رہا تھا،
“اگر رضامند نہ ہوتی تو کبھی نکاح کے پیپرز کر سائن نہیں کرتی۔۔۔”
مختصر انداز میں وہ اس پر جتایا تو ہیثم چپ سا ہوا،
“ہناد نے کہا کہ آپ نے فلذہ سے بدلہ لینے کے لیے یہ سب کیا۔۔۔”
آہستگی سے ہیثم پوچھا،
“بدلہ تو ابھی میں نے لیا ہی نہیں۔۔”
“بھائی پلیز۔۔۔بہن ہے وہ میری۔۔”
ہیثم کی آنکھوں میں عاجزی دیکھ سلسبیل لب بھینچا،
“کیا تمہیں اپنے قریبی رشتے عزیز ہیں۔۔”
شاطر دماغ نے بڑی آسانی سے ٹاپک بدلا تھا،ہیثم الجھا،
“جی بلکل عزیز ہیں۔۔”
“محتاط رہو اپنوں سے کیونکہ ان کے بھروسہ توڑنے پر دل دکھ جاتا ہے۔۔اور اپنی زمہ داری سے غافل مت ہو کہیں آگے جاکر پچھتانا نہ پڑے۔۔۔”
ڈھکے چھپے لہجے میں اسے بہت کچھ باور کرایا تھا سلسبیل۔۔،مگر ہیثم سمجھ نہیں پایا اس کی گہری بات،
“آؤ بیٹھو۔۔”
“نہیں بھائی۔۔گھر جاؤں گا اب۔۔۔فلذہ بہت پراعتماد لڑکی ہے جلد خود کو سنبھال لے گی۔۔۔لیکن عندی۔۔سابی بھائی وہ بہت معصوم ہے۔۔۔”
ہیثم کے کہنے پر سلسبیل ہلکی مسکان سمیت سر اثبات میں ہلایا پھر اس کے گلے مل کر وہاں سے جانے کے بعد دریہ بیگم کے روم میں گیا تا کہ انہیں مطمئن کرسکے۔۔۔،یقیناً باہر ہوتی ان دونوں کی گفتگو سے ناواقف وہ پریشانی میں سوئی بھی نہیں ہوں گی،ان کے روم کا گیٹ ناک کرتے سلسبیل مسکرایا تھا،آخر کو جیسا چاہ رہا تھا ویسا ہی ہوا تھا،وہ جانتا تھا ہیثم کچھ جذباتی ہے تو عنادیہ کو اس کے ساتھ دیکھ ضرور اس کا رئیکشن بھی شدید ہوتا،تبھی اس نے پہلے ہی اسے معاملے سے کچھ دیر کے لیے دور رکھا،وہ جانتا تھا کہ اس وقت سب کے سامنے وہ ہیثم کو اپنے انداز سے بات نہیں سمجھا پائے گا۔۔۔،اسی لیے اس کے مینیجر کو چند پیسوں کے عوض ہیثم کو آفس بلوانے کا کہا،اور اب وہ پرسکون تھا کہ ہیثم زیادہ ناراضگی کا اظہار نہ کرسکا اس سے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلذہ کی بار بار بگڑتی حالت پر جب قابو نہ ہوا تو مہناز بیگم کے کہنے پر وہ اسے نیند کی دوائی دے کر سلاتی اب اپنے روم میں آئی تھی،چینج کر کے واشروم سے منہ دھوکر نکلتی اب اس کا ارادہ سونے کا تھا،تبھی باہر سے آتا ہیثم روم میں داخل ہوا،
“کیا ہوا۔۔”
اسے ڈریسنگ پر کی اور والٹ رکھتے دیکھ مطیبہ پوچھی،گھر آنے کے بعد ہیثم کو جب وہاں ہوئی بات کا ہناد کے ذریعے پتا چلا تب وہ سلسبیل کے مینشن گیا تھا،اور اب اس ہی بارے میں مطیبہ جاننا چاہ رہی تھی،
اس کے سوال پر ایک نظر مطیبہ کو دیکھ وہ نفی میں سرہلایا،
“کھانا نکالوں آپ کا۔۔؟”
وہ بیڈ پر بیٹھا تبھی مطیبہ پھر پوچھی،ہیثم چونکا اس کے آپ کہنے پر،جو بھی تھا اسے مقابل کا یہ انداز کچھ بھایا تھا،دوسری طرف وہ مہناز بیگم کے ٹوکنے پر کوشش کی تھی یوں کہنے کی،
“تم نے کھایا۔۔؟”
الٹا سوال تھا پر مطیبہ کے لیے کسی دھچکے سے کم نہیں تھا،اس کی خاموشی پر ہیثم نے گردن موڑ کر دیکھا تو مطیبہ جلدی سے نفی میں سر ہلائی،
“یہی پر لے آؤ۔۔”
کہہ کر وہ اٹھا،رخ واشروم کی طرف تھا،مطیبہ بھی روم سے نکلی،
کچھ دیر بعد کھانے کی ٹرے لے کر وہ واپس آئی تو دیکھا مقابل فریش ہوکر اب رف سے کپڑوں میں بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں موندا ہوا تھا،
“ہیثم۔۔”
جھک کر ٹرے اس کے سامنے رکھتی وہ پکاری تو ہیثم آنکھیں وا کرتا سیدھا ہوا،وہ جو ابھی ٹرے رکھ کر اٹھ ہی رہی تھی نظریں مقابل کی سرخ پڑتی آنکھوں سے ٹکرائی تو یکدم ہوش کھوتی وہ ان محبوب آنکھوں کو دیکھے گئی،دوسری جانب اس کی جھیل مانند آنکھوں کو دیکھ ہیثم کی نظریں ٹہری تھیں،دونوں کے چہروں کے درمیان چند انچ کا فاصلہ تھا،ایک سحر بننے لگا ان دونوں کے درمیان،سیکنڈ منٹ میں تبدیل ہوئے تو اچانک ہوش میں آتی مطیبہ سیدھی ہوئی،وہ جو ان جھیل مانند خوبصورت آنکھوں کا رنگ بغور دیکھ رہا تھا فوراً سے پہلے خود کو کمپوز کرتا سر جھٹکا،
“بیٹھو۔۔”
مطیبہ کو پلٹتے دیکھ وہ بولا،ادھر اسے شدید حیرت میں مبتلا کرگیا مقابل کا نرم لہجہ،ہیثم کی منتظر نظروں کو دیکھ وہ جھجھکتے ہوئے اس سے کافی فاصلے پر بیٹھی،مطیبہ کا یہ گریز ہمیشہ کی طرح وہ اس بار بھی نوٹ کیا تھا،وہ لڑکی اس سے جنونی محبت کی دعویدار ضرور تھی مگر کبھی خود اس کے قریب نہ آتی یعنیٰ وہ اس کی محبت کی متمنی نہ تھی اور یہی عادت اس کی کہیں نہ کہیں اچھی لگتی ہیثم کو،
اس کے بیٹھنے پر وہ ٹرے سرکایا تھا مطیبہ کی جانب،
“کھاؤ۔۔”
وہ جو ششدہ سی اسے دیکھنے لگی تھی ہیثم کی آواز پر چونکی،
“جی۔۔”
“میں۔۔نے۔۔کہا۔۔کھاؤ۔۔”
ٹہر ٹہر کر وہ بآواز بولا،
“میں۔۔”
“ہاں تم۔۔”
اس بار ہیثم باقاعدہ اشارہ کیا،مطیبہ کی حیرت سے پھیلیں آنکھیں اب تک بےیقین تھی،وہ کب سے اس کی پرواہ کرنے لگا تھا،
“آپ نہیں کھائیں گے۔۔”
اس کا ڈیپیکل بیویوں والا یہ انداز کچھ نیا تھا،
“بھوک نہیں۔۔”
بول کر ہیثم ہاتھ سے رسٹ واچ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا،
“کھاؤ بھی۔۔”
وہ ابھی تک بےیقین بیٹھی تھی تبھی ہیثم اب ایک سخت گھوری کے ساتھ اونچا بولا اور وہ بوکھلا کر جلدی سے اسپون تھامتی تھوڑا تھوڑا کھانے لگی،اس کا خود سے یوں ڈرنا دیکھ ہیثم نفی میں سرہلاتا پھر ٹیک لگایا تھا بیڈ سے،ہر تھوڑی دیر بعد چور نظروں سے اسے دیکھتی وہ کھانا کھارہی تھی،جب زیادہ کھایا نہ گیا تو ٹرے اٹھاکر وہ بنا چاپ کیے روم سے نکلتی کچن میں رکھنے گئی،
واپس آکر دروازہ بند کرتی مطیبہ ہیثم کی طرف آئی،سائیڈ ٹیبل پر رکھا لیمپ بند کرتی وہ اب اپنی مخصوص جگہ صوفے پر سونے گئی،تبھی جھیل رنگ آنکھوں نے ایک نظر مقابل لیٹے محبوب کو دیکھا جو مسلسل دائیں ہاتھ سے پیشانی مسل رہا تھا،اس کی طبیعت کا خیال آیا تو دل بےچین ہوا،کچھ سوچ کر ہمت کرتی وہ اٹھی،
“ہیثم۔۔”
دو مرتبہ کی پکار پر وہ آنکھیں نیم وا کیے نائٹ بلب مدھم روشنی میں بیڈ سے دو قدم دور کھڑی مطیبہ کو دیکھا،اس روشنی میں بھی اس کے دمکتے چہرے پر فکرمندی کی لکیریں ہیثم کو واضح دکھی تھیں،
“سر میں درد ہے۔۔؟”
اس کے دیکھنے پر پریشانی کے عالم میں مطیبہ پوچھی جس پر ہیثم سر اثبات میں ہلایا،
“دوائی دوں۔۔”
کافی ہمت مجمع کرتی وہ مزید بولی
“نہیں۔۔”
نفی میں سر ہلاکر وہ بولا،لہجہ کسی بھی احساس سے عاری تھا،مطیبہ کو اس کا یہ سردپن دکھ پہنچایا تھا،اسے فکر بھی ہورہی تھی،بہت سوچ کر وہ آخر کار قدم بڑھاتی بیڈ پر بیٹھی،دل خوبصورت طرز میں دھڑک کر شور مچانے لگا تھا،لب کاٹتی وہ ایک گہرا سانس بھرکر خود کو نارمل کی پھر خود میں ہمت پیدا کرتی ہیثم کے قریب ہوئی،نازک وجود لرزراہٹ کا شکار ہورہا تھا اپنے عمل کا سوچ کر ہی پھر بھی ایک فاصلے پر اس سے دور رہتی وہ ہاتھ بڑھا کر ہیثم کی پیشانی پر رکھی اور آہستہ آہستہ اسے دبانے لگی،لمحے کے ہزارویں حصّے میں وہ اپنی آنکھیں پٹ سے کھولا تھا،کچھ فاصلے پر بیٹھی مطیبہ کو اپنا سر دباتے دیکھ کشادہ پیشانی پر شکن پڑی،
مطیبہ جو اس کے دیکھنے پر بھی اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی پرسکون بننے کی بھرپور کوشش کیے یونہی سر دبارہی یکدم بوکھلائی جب ہاتھ بڑھاکر ہیثم اس کی سفید گردن پر لٹکی چین پکڑ کر کھینچا،چین کھنچنے سے بےساختہ صراحی دار گردن بھی جھکی تھی،ہاتھ روک کر مطیبہ بوکھلاکر ہیثم کے وجیہہ چہرے کو دیکھی جو بلکل اس کے چہرے سے تقریباً ایک انچ کے فاصلے پر تھا،سرخ آنکھوں میں کچی نیند کا خمار دل دھڑکا گیا،تبھی سختی سے دانتوں میں نچلے لب کو دبائے وہ گہرے سانس بھرنے لگی،
“جان بوجھ کر میرے حواسوں میں سوار ہونے کی کوششیں کرتی ہو۔۔”
بھاری ہوتی آواز سمیت پوچھتا وہ چین کو ہلکا سا جھٹکا دیا جس پر مطیبہ کی ستواں ناک ٹکرائی تھی اس کی کھڑی ناک سے،
“ای۔۔ایسا نہیں ہے۔۔”
گداز لبوں کی حرکت گہری نظروں سے دیکھا تھا وہ،مقابل کی مخمور آنکھوں کا مرکز دیکھ وہ گھبرائی تھی تبھی اس بار دھڑکنیں بےترتیب ہونے پر جس سختی سے لب کاٹی خون کی بوند نکلتی سیدھا ہیثم کے لبوں پر گری،اس پر نظریں مرکوز کیے وہ لبوں پر زبان پھیرا تھا،کمرے کے خواب ناک ماحول میں مقابل کی اس حرکت نے مطیبہ کے رہے سہے اوسان بھی خطا کر ڈالے،وہ سختی سے آنکھیں میچ گئی،دل کی دھڑکنیں کانوں میں سنائی دینے لگیں،دور ہونے کی وہ ہمت کرنہیں سکتی تھی کہ چین اب تک وہ مضبوطی سے تھاما ہوا تھا اپنے ہاتھ میں،
کچھ دیر تک اس کی میچی آنکھوں کو دیکھتے رہنے کے بعد ہیثم گرفت ڈھیلی کرتا چھوڑا تھا چین کو،وہ جو اب کچھ سنبھل کر اپنی چین کو تھامی تھی بےساختہ سرخ ہوئی جب ہیثم اپنا سر اس کی گود میں رکھا،اشارہ تھا سر دبانے کا،وہ آنکھیں موند چکا تھا لیکن مطیبہ کے گال تمتمانے لگے تھے،بمشکل اپنی منتشر کیفیات پر قابو پاتی وہ پوری کوشش کی تھی نارمل ہونے کی پھر کپکپاتے ہاتھوں کو اس کی پیشانی پر رکھتے آہستگی سے دبانے لگی،مطیبہ کی مخروطی انگلیوں کا نرم لمس تھا کہ جلد وہ تھکا ہارا نیند کی وادیوں میں چلاگیا،
آج مقابل کی عنایتوں پر وہ کسی طور نہیں چاہتی تھی خوش فہمیوں کا شکار ہونا پر نازک دل کا کیا کرتی جو ایک مرتبہ پھر اس مستقبل سے انجان بےخبر لڑکی کو خوش فہمیوں میں دھکیل گیا تھا،ہاں وہ پاگل ہی تو ہونے لگی تھی اس کی زرا سی کئیر پر،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
