Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 27)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 27)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

سکندر ولا کے پورچ میں کار روکتا وہ تیزی میں نکلا تھا،اندر داخل ہوتے ہی مضبوط قدم گیسٹ روم کے جانب ہوئے،ماتھے پر ہزاروں بل لیے وہ لاک کھولتا اندر داخل ہوا سامنے ہی وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی،ہیثم کی آنکھوں میں تنفر ابھرا اس کے ساکت وجود کو دیکھ،

“اب یہ نیا ڈرامہ سٹارٹ کیا ہے۔۔”

برہمی سے کہتا وہ آگے بڑھا،مقابل کا وجود ہنوز ساکت تھا،

“میں یہاں کھڑا بکواس نہیں کررہا ہوں۔۔”

وہ جھک کر اس کا بازو جھنجھوڑا مگر بےسود،لب بھینچتا ہیثم سیدھا ہوا،نظر دوڑانے پر سائیڈ ٹیبل پر پانی سے بھرا گلاس دِکھا،وہ اٹھاتا ہیثم واپس اس کے سامنے آیا،پھر مطیبہ کا جھکا چہرہ اٹھا کر پانی پھینکا،لمحوں میں ہڑبڑاکر وہ اٹھی،ناک میں پانی جانے سے بری طرح کھانستی وہ ہلکان ہونے کو ہوئی اور تبھی ہیثم کی بھاری آواز پھر ابھری،

“سوسائیڈ کا ڈرامہ کرنے سے تمہارے گناہ کم نہیں ہوجائیں گے۔۔۔”

ابھی وہ سنبھلی تھی کہ مقابل کی تنفر بھری آواز پر آنکھوں میں ناسمجھی لیے اسے دیکھتی کھڑی ہوئی،

ایک پل کو تو ہیثم چونکا،ملگجے کپڑے،بکھرے بال آنسو کے مٹے نشان لیے عارض زردی مائل رنگت آج پورے ایک مہینے بعد وہ اسے دیکھ رہا تھا اور ہیثم کو کہیں سے بھی وہ مطیبہ نہ لگی جو پہلے لگتی،جھیل مانند آنکھیں خالی تھی اور ان کے گرد گہرے ہلقے،وہ بےساختہ نگاہ چرایا،

“جواب دینا پسند کروگی کہ یہ میں کیا سن رہا ہوں۔۔؟”

لہجے کو ازلی سخت بنائے وہ استفسار کیا،مطیبہ اب تک ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی،

“کیا۔۔”

اس کی آنکھوں کی حیرت ہیثم کو کسی کھٹکے کا احساس دلانے لگی،

“تم نے۔۔۔سوسائیڈ کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔”

اب کی بار لہجہ تحمل لیے تھا ہیثم کا،

“نہیں تو۔۔”

یہ سن کر ہیثم شدید حیران ہوا،

“جھوٹ مت بولو مطیبہ۔۔مجھے فرخندہ نے بتادیا ہے۔۔”

اس کے مکرنے پر وہ غصہ ہوا،

“کون فرخندہ۔۔؟”

اور مطیبہ کے اس سوال پر ہیثم کو جھٹکا لگا،

“اوہ تو اب تم فرخندہ کو بھی نہیں جانتی۔۔۔ٹہرو۔۔”

اس کا اجنبی لہجہ کچھ برا ہونے کا احساس دلا رہا تھا مگر اپنی سوچ کی نفی کرتا ہیثم تپ کر بولا ساتھ ہی فرخندہ کو آواز دیا،کچھ ہی دیر میں وہ گیسٹ روم میں آئی،

“بولو اب۔۔کیا نہیں جانتی تم اسے۔۔”

فرخندہ کو اجنبیت بھری نظروں سے دیکھتی مطیبہ کو وہ بازو سے پکڑے پوچھا،

“نہیں۔۔”

اس کا جواب ہیثم کے ساتھ ساتھ فرخندہ کو بھی بےیقین کرگیا،

“بی بی۔۔۔یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔”

“مطیبہ کیا پروبلم ہے۔۔۔کیوں ایسے بی ہیوو کررہی ہو۔۔”

فرخندہ کو پہچاننے سے مسلسل انکاری پر وہ دھیمے لہجے میں دانت پیستے کہا ساتھ ہی اس کے بازو پر گرفت سخت کیا،

“آہ۔۔۔آپ ممہ۔۔میرا۔۔ہاتھ۔۔کی۔۔کیوں دبا۔۔رہے ہیں۔۔”

بازو میں اٹھتی تکلیف پر وہ حیران پریشان سی پوچھی،

“ساری باتیں چھوڑو۔۔یہ بتاؤ کہ تم کچھ دیر پہلے کیا کرنے لگی تھی۔۔۔”

“کچھ بھی نہیں۔۔”

لہجہ ازلی انجان تھا،ہیثم ٹھٹھک کر رہ گیا،

“بی بی آپ نے ہی تو کچھ دیر پہلے خود کو مارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔”

فرخندہ کو حیرت کے ساتھ ساتھ شدید افسوس ہوا اس کی حالت پر،

“مہ۔۔میں نے۔۔نہیں مارا۔۔خود کو نہی۔۔نہیں مارا۔۔کس۔۔کسی کو۔۔نہی۔۔نہیں مارا۔۔ممہ۔۔میں نہ۔۔نے کچھ۔۔نہیں کیا۔۔نہی۔۔نہیں مارا کسی کو۔۔”

فرخندہ کے کہنے پر وہ آگے سے بڑبڑانے لگی،

“بی بی۔۔!”

“تم جاؤ۔۔”

وہ جو مطیبہ کی عجیب انداز میں کی گئی باتوں پر آگے بڑھ رہی تھی ہیثم کے حکم پر سر ہلاتی باہر نکلی،

“میں نے۔۔کسی۔۔کو نہیں۔۔ما۔۔مارا۔۔نہیں مارا کسی۔۔کو۔۔”

اس کے ہنوز بڑبڑانے پر ہیثم یکدم مطیبہ کے دونوں بازوؤں کو تھام کر جھنجھوڑا،

“کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔کیوں ایسا بی ہیوو کررہی ہو۔۔”

خود سے قریب ہیثم کے وجیہہ چہرے پر پتھریلے تاثرات کو وہ خاموش نظروں سے تکی گئی،

“وہ۔۔وہ کہہ رہی۔۔۔ہے۔۔می۔۔میں نے۔۔مارا۔۔ہے۔۔ہی۔۔ہیثم۔ میں۔۔نے۔۔نہی۔۔نہیں مار۔۔مارا۔۔ناذ۔۔ناذلی کو بھی۔۔نہیں مارا۔۔کچھ۔۔نہیں کیا۔۔میں نے۔۔”

اس کا ٹوٹے لہجے میں کچھ عجیب سا تاثر تھا کہ ہیثم کی گرفت بےساختہ ڈھیلی ہوئی،بےیقین نظروں سے مطیبہ کی عجیب باتوں اور حالت کو دیکھتا وہ پیچھے ہوکر اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتا لب دبایا،

“پاگل ہونے کا ناٹک کر کے اگر تم ہمدردیاں بٹورنے کا سوچ رہی ہو تو بہت غلط سوچ رہی ہو”

غصے میں بلند آواز میں کہہ کر وہ نکلا روم سے،ادھر اندر کھڑی مطیبہ خالی آنکھوں سے اس ستمگر کو جاتا دیکھ خاموشی سے نیچے بیٹھی،ماؤف ہوتا دماغ قاصر تھا مقابل کا رویہ سمجھنے سے،چھوٹے قدم اٹھاتی وہ کمرے کی قدآور کھڑکی پر جاکھڑی ہوئی پھر خشک آنکھوں سمیت باہر لان کو دیکھنے لگی،

“اکھڑی نیندیں،سیاہ ہلقے اور چند طعنے ہی آئے،

محبت میں سکون کدھر میسر آتے ہیں۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پچھلے ایک مہینے سے شیڈیول تھوڑا بزی رہا کچھ عفان سے وہ ہناد پر نظر بھی رکھوارہا تھا اور آج وہ عنادیہ کو لے کر سکندر ولا آیا تھا،اتنے عرصے میں وہ جان تو چکا تھا کہ اس کی محبوب بیوی بول سکتی ہے مگر وہ کیوں اس کے سامنے یہ ڈرامہ کررہی تھی یہ سوچ سلسبیل کی سمجھ سے بالاتر تھی،وہ خاموش تھا کہ عنادیہ سے زبردستی نہیں کرنا چاہتا تھا کسی بھی بات میں،وہ چاہ رہا تھا کہ عنادیہ بھروسہ کرے اس پر اتنا کہ خود بتائے اسے کہ آخر کون ہے وہ جس سے وہ اتنا ڈری ہوئی ہے،دوسری جانب سلسبیل کے نرم رویے اور انداز پر وہ جو پہلے ہی اس کی دیوانی تھی اب جو بدگمانی کا بیج دل میں اگا تھا وہ بھی مٹنے لگا،اس کا خوبصورت رویہ عنادیہ کو اکثر بہت خوش کردیتا پر ڈرتی کہ اگر اسے معلوم ہوگیا عنادیہ کی قوتِ گویائی کا تو بات سکندر ولا میں بھی جائے گی اور پھر اگر فلذہ کو یہ معلوم ہوا تو۔۔۔،یہ سوچ اکثر عنادیہ کو جھرجھری لینے پر مجبور کردیتی،اپنی بہن کی بھیانک شکل دیکھ جو چکی تھی،

“آؤ اندر۔۔”

کار سے اتر کر وہ ایک جگہ ہی ایستا وہ اپنے گھر کو دیکھ رہی تھی،دل میں ڈر کنڈلی مارے بیٹھا تھا،تبھی سلسبیل کی بھاری آواز پر چونکی،خوبصورت چہرے پر گھبراہٹ کا انثر ظاہر ہوتا دیکھ سلسبیل اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر گویا ہوا،

“تمہارے ساتھ میں ہوں جانم۔۔۔”

نرم مسکراہٹ سمیت اس کے ہمت دلانے پر عنادیہ اثبات میں سر ہلاتی مدھم سا مسکرائی پھر اس کے ہم قدم چلنے لگی،

اندر داخل ہوتے ہی سامنے فرخندہ دکھی تھی،

“عندی بی بی۔۔آئیں نا اندر۔۔”

اسے دیکھ خوشی سے مسکراتی وہ ان دونوں کو صوفے پر بیٹھنے کا کہی مگر تبھی لان سے آتی مہناز بیگم کی نظر ان پر پڑی،اپنی ماں کی آنکھوں میں ناگواری اترتی دیکھ عنادیہ روہانسی ہوکر سلسبیل کا ہاتھ دبائی،اشارہ تھا واپس چلنے کا،

“توفیق ہو ہی گئی آنے کی۔۔”

روکھے لہجے میں کہتی وہ چند قدم اٹھا کر عنادیہ کے سامنے آئیں،

“اب یقیناً معافی مانگنے آئے ہوگے تم دونوں۔۔”

اب وہ سلسبیل سے مخاطب ہوئیں،

“معافی غلطیوں کی مانگی جاتی ہے اور سلسبیل مراد غلطیاں نہیں کرتا۔۔۔”

سرد لہجے میں کہتا وہ ایک ترچھی نظر ان پر ڈالا،

“تمہارے اندر بےحد اکڑ ہے۔۔”

اسے تاسف سے دیکھ انہوں نے کہا،

“جانتا ہوں۔۔”

“اتنا گھمنڈ اچھا نہیں ہوتا۔۔”

“یہ آپ مجھے بتارہی ہیں۔۔”

اور مہناز بیگم چند پل کے لیے چپ ہوئیں،سمجھ چکی تھی مقابل سے جیتنا آسان نہیں تبھی نفی میں سر ہلاتی اب عنادیہ کو دیکھیں،

“زیادہ کچھ کہہ کر میں دکھی نہیں کروں گی تمہیں۔۔۔آخر کو عزیز ہو تم مجھے مگر جو کیا صحیح نہیں کیا تم نے۔۔”

ان کی بات پر عنادیہ شرمندگی سے سر جھکاگئی،آنسو تیزی سے گال میں پھسلنے لگے،

“خیر ہونی کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔۔شاید یہ ہی تمہارا نصیب تھا پر میں خوش ہوں کہ چلو تم سے تو رویہ بہتر ہے “کسی کا”۔۔۔”

اسے بول کر انہوں نے آخر میں سلسبیل کو دیکھا جبکہ عنادیہ خوشی سے ان کے گلے لگی تھی،

“بیٹھو۔۔”

اسے چپ کراتیں وہ ان دونوں کو صوفے کی طرف اشارہ کر کے بولیں مگر سلسبیل کو وہاں کے ماحول میں کچھ عجیب محسوس ہوا،خاموش نظر ہر طرف ڈالتا وہ بیٹھا صوفے پر،

آج اتفاق اچھا تھا کہ فلذہ گھر پر نہیں تھی،اوپر اپنے کمرے سے پھر آفس کے لیے نکلتے ہیثم کی نظر سلسبیل پر پڑی تو وہ مسکراتا ہوا اس سے ملا،باتوں کے دوران عنادیہ کی متلاشی نظروں پر مہناز بیگم نے استفسار کیا،وہ مطیبہ کو ڈھونڈی تھی جس پر مہناز بیگم نے تھوڑا گھبراتے ہوئے اس کی طبیعت خرابی کا بہانہ بنادیا،کافی دیر تک وہاں بیٹھے رہنے کے بعد سلسبیل عنادیہ کو لیے نکلنے لگا،مہناز بیگم نے کھانے پر رکنے کا کہا پر وہ انکار کرگیا،باہر نکل کر سلسبیل عنادیہ کو کار میں بیٹھنے کا کہہ کر ہیثم کے ساتھ لان کی طرف آیا،

“خیریت بھائی۔۔”

وہاں پر آکر اس کے مسلسل خاموش رہنے پر ہیثم پوچھا،

“تم جب میرے گھر آئے تھے تب میں نے تم سے کچھ کہا تھا۔۔”

“کیا۔۔”

سلسبیل کی بات اسے حیران کرگئی تھی،اسکی ناسمجھی پر سلسبیل پیشانی پر ہلکی شکن لیے ایک غیر ارادی نظر ہر جانب دوڑایا اور کچھ دور ہی اسے گیسٹ روم کی کھڑکی دکھی جہاں اب تک مطیبہ کھڑی تھی،

“وہ بیوی ہے نا تمہاری۔۔؟”

اچانک سلسبیل اس سے پوچھا تو ہیثم نے بھی اس کی نظروں کا تعاقب کِیا،مطیبہ پر نظر پڑتے ہی وہ نگاہ چرایا،

“جی۔۔”

مختصر جواب تھا،

“حیرت ہے۔۔”

تاسف سے کہہ کر سلسبیل قدم اٹھایا دوسری جانب ہیثم کے ذہن میں یکدم سلسبیل کی مینشن میں کہی گئی بات یاد آئی اور وہ ٹھٹھکا،

“ایک منٹ بھائی۔۔”

سسلبیل کو روکتا وہ اس کے سامنے آیا،

“آپ کیوں اس طرح کی عجیب باتیں کرنے لگے ہیں جو میری سمجھ سے بلکل پرے ہوتی ہیں۔۔۔ڈائریکٹ کہیں کہ آخر کیا بات ہے۔۔”

کنفیوز ہوتا وہ پوچھا جس پر سلسبیل چند پل خاموش رہا پھر گویا ہوا،

“میں کسی کے نجی معاملے میں کچھ بولنا نہیں چاہتا مگر تمہیں بھائی مانتا ہوں۔۔۔تو صرف یہی کہنا چاہوں گا کہ اپنی ذمہ داری سے اتنا بھی غافل نہ ہو کہ بعد میں صرف پچھتاوا تمہارے ہاتھ لگے۔۔”

اس کے لہجے میں بلا کی سنجیدگی تھی،مقابل کا اشارہ سمجھتا ہیثم ایک نظر پھر مطیبہ پر ڈالا کچھ دور سے ہی اس کے چہرے پر چھائی پژمردگی واضح دکھائی دے رہی تھی،

“ایسا کچھ نہیں جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔۔”

سلسبیل سے مکمل نگاہ چرائے وہ آہستگی سے بولا،

“ایسا ہی ہے۔۔۔ہیثم۔۔تمہیں میں دوسروں کی طرح نہیں سمجھتا تبھی سمجھاتا ہوں سنبھل جاؤ کہ کہیں وقت نہ نکل جائے۔۔بعد کے پچھتاوے سے اب کا سنبھلنا بہتر ہے۔۔پانچ سال تک بینائی نہ ہونے کے باعث میری محسوس کرنے کی حِس حد درجہ بڑھی ہے اور سکندر ولا کی دیواریں مجھے کچھ بہت برا ہونے کا احساس دلارہی ہیں۔۔۔یوں لگتا ہے جیسے جلد کچھ بےحد غلط ہونے والا ہے۔۔”

انتہائی گھمبیر لہجے میں اسے بتاتا سلسبیل جانے لگا،مقابل کی باتیں اسے حد درجہ پریشان کی تھیں،اپنے گھر کو دیکھ وہ پھر مطیبہ کو دیکھا،

“میری بہن کا خیال رکھیے گا وہ بہت معصوم ہے۔۔”

اس کو جاتا دیکھ ہیثم دھیمی آواز میں کہنے لگا،نظریں ہنوز مطیبہ پر تھیں،

“میں بنا تحقیق کسی بے گناہ کو سزا نہیں دیتا۔۔بھروسہ کرتا ہوں اپنی بیوی پر کہ وہ گناہگاروں میں سے نہیں۔۔”

سلسبیل کی بات اسے تھپڑ کے مانند محسوس ہوئی خود پر،بےیقین سا ہوتا وہ مڑا مگر تب تک سلسبیل مراد جاچکا تھا وہاں سے،اپنے سر پر ہاتھ پھیرتا وہ مڑ کر پھر مطیبہ کو دیکھنے لگا،کہیں وہ سچ میں گناہگار تو نہیں ٹہرا تھا،

“نہیں۔۔میں غلط نہیں ہوسکتا۔۔کبھی آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہوا ہے۔۔۔اور مطیبہ کو تو دونوں گناہ کرتے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔”

دماغ نے اسے یقین دہانی کروائی تو سر جھٹک کر وہ آفس کے لیے نکلا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روڈ پر سنجیدہ نظریں جمائے وہ کار ڈرائیو کررہا تھا،سپاٹ چہرہ گہری سوچ کی عکاسی کررہا تھا،پیشانی پر ہلکی شکن لیے وہ بقیہ دنوں کے مقابلے عنادیہ کو کچھ خاموش لگا،چونکہ وہ آج بےحد خوش تھی مہناز بیگم کے نرم رویے پر تو اسے سلسبیل کا چپ رہنا کھلا وہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی کہ آج مقابل کی طرف سے وہ اس کے دل میں آئی ہلکی سی کدورت بھی ختم ہوچکی تھی،کچھ سوچتی وہ گہرا سانس بھری پھر ہمت کر کے ایک نظر سلسبیل پر ڈالی،

“سلسبیل۔۔!!!”

انتہائی گہری سوچ سے نکلتا وہ جھٹکے سے کار روکا،تین سال پرانی وہی مانوس آواز سلسبیل کو لگا جیسے وقت تھما ہو،شدید حیرت کے عالم میں گردن موڑتا وہ اپنی مکینِ دل کو دیکھا جو اسے پکار کر اب مسکرارہی تھی،کالی آنکھوں میں خوشی کی دمک دیکھ اسے لگا دنیا جہاں کی خوشیاں یک بیک اس کے قدموں میں لاکر رکھ دی ہوں۔۔۔،

وہ بول رہی تھی۔۔،مقابل بیٹھی اس کی محبوب بیوی بول رہی تھی،اسے پکاری تھی،بےتحاشہ خوشی میں گھرے سلسبیل زندگی سے بھرپور مسکرایا،

“تھینک یُو۔۔”

وہ نم آواز میں مسکراکر بولی،

“پھر بولو۔۔”

مقابل جیسے اب تک حیران تھا کہ وہ لڑکی اس پر بھروسہ کرنے لگی ہے،

“تھینک۔۔۔”

“نہیں میرا نام بولو۔۔”

اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیے وہ سرگوشی کیا،

“سلسبیل۔۔!!”

“عندلیب۔۔!”

بےتحاشہ خوشی میں نیہال ہوتا وہ اس کو گلے لگاگیا،اس کی پشت پر ہاتھ رکھتی عنادیہ آنکھیں موندی تھی سکون سے،

“تمہاری آواز نے آج مجھے جس قدر مسرور کیا وہ قابلِ بیان ہے۔۔”

پرسکون لہجے میں کہہ کر وہ اس سے دور ہوا،

“تم سے بہت سی شکایات ہیں۔۔۔کافی وجوہات پوچھنی ہے مگر ابھی نہیں۔۔۔فلحال آج کی شام میری محبت کے نام۔۔۔”

اسے اپنی نرم نگاہوں میں لیتا وہ محبت سے چُور لہجے میں کہا ساتھ ہی کار سٹارٹ کیا،ادھر وجوہات کا سوچ کر عنادیہ کچھ پل کو اسے دیکھے گئی پھر سر جھٹک کر مسکرائی،وہ کم از کم آج پرسکون رہنا چاہ رہی تھی،کچھ ہی دیر میں وہ لوگ ایک خوبصورت ریسٹورنٹ کے باہر تھے،سلسبیل کو مسکراکر دیکھتی وہ کار سے ابھی اترنے ہی لگی تھی کہ سلسبیل کا فون رنگ کیا،

“ایک منٹ۔۔”

انجان نمبر دیکھ وہ عنادیہ سے کہا ساتھ ہی کال ریسیو کی،

“ہیل۔۔ہیلو۔۔۔سلس۔۔سلسبیل مراد۔۔”

بھیگی نسوانی آواز پر سسلبیل کچھ ٹھٹھکا،

“کون۔۔؟”

“ممہ۔۔میں سنابِل۔۔”

دوسری جانب سے حد درجہ سہمی آواز آئی اور سلسبیل کے ذہن میں بےساختہ ایک مہینے پہلے ملی گئی وہ لڑکی آئی،

“خیریت۔۔؟”

اس کے ڈرے ہوئے لہجے پر خدشے کا احساس ہوا تبھی وہ تشویش سے پوچھا،برابر میں بیٹھی عنادیہ ناسمجھی سے سلسبیل کو دیکھ رہی تھی،

“تم۔۔پلیز یہاں آجاؤ۔۔۔۔۔ان لوگوں نے۔۔انہوں نے میرا گھر جلادیا۔۔وہ۔۔لوگ۔۔میرے پیچھے پڑے ہیں۔۔پلیز مجھے بچالو۔۔”

بولتے ہوئے وہ مسلسل رورہی تھی،ہناد کا سنتے ہی سلسبیل سختی سے لب بھینچا،آنکھوں میں خون اترنے لگا،

“کن لوگوں نے۔۔؟”

اس نے حیران ہوتے پوچھا،

“مجھے نہیں پتا۔۔۔تم۔۔تم پلیز مجھے بچالو۔۔وہ لوگ مجھے مار ڈالیں گے۔۔۔”

“اوکے۔۔۔تم پہلے ریلیکس ہو اور مجھے بتاؤ کہاں پر ہو ابھی۔۔”

اس کے مسلسل رونے پر سلسبیل نے کہا ساتھ ہی ایڈریس پوچھا،سلسبیل کے سوال پر وہ جلدی سے ایڈریس بتائی،کچھ دیر بعد فون رکھ کر اس نے عنادیہ کو دیکھا،

“کیا ہوا۔۔؟”

وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتی پوچھی،

“جانم کل کا مکمل دن تمہارے نام۔۔ابھی کچھ ضروری کام ہے۔۔”

“کوئی بات نہیں۔۔”

نرمی سے کہہ کر وہ مسکرائی،دل تھوڑا بجھا تھا مگر جانتی تھی سلسبیل کی مجبوری ہی ہوگی،

“میری جانم۔۔”

آگے ہوکر اس کی پیشانی چومتا وہ محبت سے کہا ساتھ ہی کار سٹارٹ کرتا وہ عنادیہ کو مینشن میں چھوڑا،اس کے بعد سلسبیل کی کار کا رخ سنابل کے بتائے گئے ایڈریس پر گیا،کچھ دیر بعد ہی وہ اس جگہ پہنچا،یہ ایک چھوٹا سا گھر تھا،وہاں کھڑے ہوکر سلسبیل نے اس ہی نمبر پر کال کیا،ریسیو کرنے پر سنابل کی آواز سنائی دی،وہ اسے اپنے آنے سے مطلع کیا جس پر کچھ ہی دیر میں سامنے بنے گھر کا گیٹ کھلا،کال رکھتا سلسبیل سامنے دیکھا،خود کو چادر سے کوور کیے وہ بھیگے چہرے سمیت اسے دیکھ رہی تھی،آنکھیں حد سے زیادہ رونے کے باعث بہت زیادہ سرخ ہورہی تھیں،

“تم ٹھیک ہو۔۔؟”

اس کے پیچھے گیٹ پر کھڑی بوڑھی عورت کو ایک نظر دیکھ سلسبیل پوچھا تو سنابِل نے نفی میں سر ہلایا،

“مجھ۔۔مجھے پلیز۔۔یہاں سے کہیں چلو۔۔ورنہ وہ لوگ یہاں بھی آجائیں گے۔۔۔”

اس کا انداز بتارہا تھا کہ وہ بہت ڈری ہوئی ہے،سلسبیل اسے کار میں بیٹھنے کا اشارہ کیا جس پر مڑتی وہ پہلے اس بوڑھی عورت کا شکریہ ادا کی پھر کار میں آ بیٹھی،

“اب بتاؤ کیا ہوا ہے۔۔۔”

کار کو روڈ پر ڈالتا سلسبیل سنجیدگی سے پوچھا،

“صبح تک سب ٹھیک تھا لیکن شام کو میں جب کام سے اپنے گھر لوٹی تب دیکھا کہ میرا۔۔۔میرا پورا گھر بھڑکتے انگاروں کے زد میں تھا۔۔۔مجھے نہیں معلوم کیا ہوا مگر ہر طرف کھڑے لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے۔۔۔میرے گھر کے ٹھیک باہر چار آدمی کھڑے تھے۔۔۔میرے چیخ کر رونے پر وہ لوگ میری طرف متوجہ ہوئے۔۔۔ان میں سے ایک نے کسی سے کال پر بات کی۔۔۔اور۔۔۔اور پھر وہ لوگ میرے پیچھے بھاگے۔۔۔مجھے کچھ سمجھ نہ آیا سوائے اس کے کہ مجھے بھاگنا ہے اور میں بھاگی۔۔۔میرا پیچھا کرتے وہ لوگ مسلسل مجھے مارنے کی دھمکی دے رہے تھے۔۔۔کسی طرح میں وہاں سے بچ کر نکلی پھر اس گھر میں پناہ لی کچھ دیر کے لیے۔۔۔تمہارا دیا کارڈ میرے پرس میں تھا۔۔تو مجھے تمہارا خیال آیا اور میں نے۔۔۔”

بولتے ہوئے وہ رک کر پھر رونے لگی،اسے ایک نظر دیکھ سلسبیل ڈیش بورڈ سے ٹشو باکس اٹھاتا اس کی جانب بڑھایا،وہ اپنا رونا بھولے اس مہربان شخص کو دیکھے گئی جس کی زیرک نظریں ہنوز روڈ پر تھیں پھر اس سے ٹشو باکس لے کر اپنے آنسو صاف کرنے لگی،

“تمہارے گھر میں اور کوئی تھا۔۔؟”

کچھ دیر بعد وہ ازلی سنجیدگی سے پوچھا،

“نہیں صرف میری بہن اور امی تھیں مگر اب وہ دونوں۔۔”

پھر ہچکیاں شروع ہوئیں اب کی بار سلسبیل خاموش ہوگیا،

“یہ سب اس ہی نے کروایا ہوگا۔۔۔”

کافی دیر بعد چپ ہوتی وہ بولی،

“کس نے۔۔”

“ہناد سکندر۔۔”

اس بار سنابل کا لہجہ نفرت لیے تھا،سلسبیل کچھ چونکا،

“یعنی تم خاموش نہیں بیٹھی۔۔”

سنابل حیران ہوئی تھی مقابل کے حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے یہ سوال کرنے پر،

“مطلب۔۔”

“مطلب صاف ہے۔۔یقیناً تم نے پھر پولیس اسٹیشن کا رُخ کیا ہوگا۔۔۔”

وہ استہفامیہ نگاہوں سے اسے گھور کر پوچھا جس پر سنابل نظریں جھکائی،

“ہاں تو۔۔تم نے کہا تھا کہ اسے عبرتناک موت ملے گی مگر ایک مہینہ ہوچکا تھا اور وہ آزاد گھوم رہا تھا۔۔۔تبھی میں کل۔۔۔”

“کل تم نے اپنی بہادری کا ثبوت دے کر پولیس اسٹیشن کا رُخ کیا۔۔۔رائیٹ۔۔۔”

اس کی بات کاٹتا وہ بولا،لہجہ سخت تھا،سنابِل کا چہرہ جھکا،

“تم بہت بےصبری ہو۔۔”

نفی میں سر ہلاکر وہ بڑبڑایا ساتھ ہی کار روکا،

“یہ کہاں لائے ہو۔۔”

سامنے بنے خوبصورت مینشن کو دیکھ وہ پوچھی،اس کا مشکوک لہجہ سلسبیل کو لب بھینچنے پر مجبور کیا،

“اتنی جلدی یہی ایک محفوظ جگہ ہے تمہارے لیے۔۔بعد میں کچھ انتظام کردوں گا۔۔”

“میں تمہیں زیادہ زحمت نہیں دوں گی۔۔جلد خود کے رہنے کے لیے کوئی جگہ ڈھونڈ لوں گی۔۔”

ہلکی آواز میں کہہ کر وہ کار سے اتری،فرمان کو کار کی چابی پکڑاتا وہ سنابل کو ساتھ آنے کا اشارہ کیے آگے بڑھا،اندر داخل ہونے پر ہی ہال میں نظر عنادیہ اور دریہ بیگم پر پڑی،وہ دونوں کسی بات پر مسکرارہی تھیں لیکن سامنے کھڑے سلسبیل کے ساتھ اس انجان لڑکی کو دیکھ عنادیہ کی مسکراہٹ سمٹی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔