Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 41) Last Episode

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 41) Last Episode

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

میت کب گئی تدفین کے لیے اسے کچھ ہوش نہ تھا اور ہوتا بھی کیسے وہ اپنے حواسوں میں ہی نہیں تھیں،خود میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اٹھ کے ایک آخری نظر اس ستمگر کو دیکھ لیتی،یہ خبر ہی پہاڑ بن کر ٹوٹی تھی اس کے سر پر لگ رہا تھا جیسے دنیا ہی اندھیر ہوگئی ہو مکمل،آس پاس لوگوں میں کئی باتیں ہورہی تھیں مگر سب سے بےبہرہ ہوئے وہ خاموش سی خالی نظروں سے زمین گھورتی بیٹھی ہوئی تھی،

“آپ آزاد ہوگئیں۔۔اب کوئی پریشان نہیں کرے گا آپ کو۔۔”

عنادیہ کے لہجے میں کوئی طنز نہ تھا،سادگی سے کہے تھے اس نے یہ الفاظ مگر اس کی بات نے بکھری ہوئی مطیبہ کو دہکتے انگاروں کے زد میں پھینک دیا تھا،نمکین پانی سے بھری آنکھیں اٹھاتی وہ عنادیہ کو دیکھی جس کا خود کا چہرہ حد سے زیادہ رونے کے بعد اب مکمل سرخ ہوچکا تھا،وہ کیا جواب دیتی اس کو،کیسے بتاتی کہ اس ستمگر سے دور جانا چاہ رہی تھی مگر اب وہ دوری بھی محال ہونے لگی تھی اور پھر جب یہ خبر اسے ملی تب کیا بیتی تھی اس پر،ہاں وہ اسے معاف کرنے کی روداد نہ تھی مگر یہاں سے جاتے ہوئے کس قدر تڑپ دل میں چھپائے جارہی تھی،نفرت کا وہ بت تو تبھی ٹوٹ چکا تھا جب وہ ستمگر اس پر اپنے دل کے جذبات ظاہر کیا تھا مگر پھر کس بات کا غصہ دکھارہی تھی وہ۔۔۔،اپنی ہار کا۔۔۔،اس ہار کا جو ہر بار اس ستمگر سے مقابلے میں ملتی تھی اسے،جب وہ اسے میسر نہ تھا تو لاکھ کوشش کی اسے پانے کی مگر جب میسر ہوا تو اس سے دوری کی دعائیں کرتی صرف اس ہی وجہ سے کہ وہ پھر ہارنے لگی تھی اس ستمگر سے،اور آج۔۔۔،آج تو وہ مکمل ٹوٹ چکی تھی،

“چلیں گرینی،عنادیہ۔۔”

سلسبیل کی بھاری آواز نے اسے سوچوں کے محور سے ہوش کی دنیا میں دھکیلا،چونک کر وہ سر اٹھائی،مقابل عورتوں میں بیٹھی دریہ بیگم اور عنادیہ سے مخاطب تھا،

تو کیا تدفین کر کے آچکے تھے وہ لوگ،تڑپ کر روتا دل ایک اور مرتبہ کرلایا یہ سوچ کر ہی،اور سر جھکائے وہ اپنا رونا ضبط کرنے لگی،ارد گرد صرف یہی سوچ گھوم رہی تھی کہ کاش وہ اسے معاف کردیتی۔۔۔،کاش کہ اسے اپنے لفظوں سے نہ توڑتی،عنادیہ نے جب اسے بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق ہیثم سلو پوائزن لے رہا تھا تب اسے خیال آیا کہ کیوں وہ روز بروز اسے گھلتا دکھنے لگا تھا،کیوں اتنا عجیب سا ہونے لگا تھا وہ،

“تم۔۔۔مطیبہ۔۔”

اب کی بار سلسبیل اسے مخاطب کیا تو اپنا دکھتا سر اٹھاتی وہ سوجی آنکھوں سے سلسبیل کو دیکھی،

“بہت چھٹیاں کرلیں تم نے۔۔۔کل سے ٹائم پر آفس آجانا۔۔۔”

اس کے سنجیدگی سے کہنے پر مطیبہ کو بری طرح دھچکا لگا،یہ وہ کہہ کیا رہا تھا،مطیبہ بےیقینی سے عنادیہ کو دیکھی جس کے تاثرات بھی سنجیدگی لیے تھے جیسے سلسبیل کی بات نے اسے چونکایا نہ ہو،

“پر بھائی میں کیسے آسکتی ہوں۔۔؟”

وہ بھرائی آواز میں پوچھی تھی،

“تم کیسے نہیں آسکتی۔۔؟”

سلسبیل سرد لہجے میں الٹا سوال کیا اور مطیبہ کو شدت سے رونے کا دل چاہا،الفاظ اور ساتھ نہیں دے پائے،گلے میں پھندا سا اٹکا تھا آنسوؤں کا تبھی وہ نفی میں سر ہلاتی سر جھکائے پھوٹ پھوٹ کر رودی،

“عنادیہ گرینی میں باہر ویٹ کررہا ہوں۔۔”

“سلسبیل۔۔تم دونوں چلے جاؤ میں یہی پر ہوں۔۔۔”

روتی ہوئی مطیبہ پر ایک نظر ڈال کر دریہ بیگم سلسبیل کو تنبیہہ نظروں سے دیکھتی بولیں جس پر وہ اثبات میں سر ہلایا،

“عنادیہ۔۔”

سلسبیل کے جانے کے بعد عنادیہ اٹھنے لگی تبھی دریہ بیگم اس کے پاس آتی پکاریں،

“بیٹے سلسبیل کو سمجھاؤ۔۔۔شوہر کی ڈیتھ کے بعد لڑکی عدت میں رہتی ہے وہ کیسے اسے آفس آنے کا کہہ سکتا ہے۔۔”

دریہ بیگم کے کہنے پر عنادیہ چند پل کی خاموشی کے بعد گویا ہوئی،

“گرینی سلسبیل اپنے آفس کے معاملات میں کسی کی نہیں سنتے۔۔”

“یہ ان کے آفس کا معاملہ نہیں ہے۔۔”

عنادیہ کی بات پر مطیبہ تڑپ کر ٹوکی،

“یہ آپ کا بھی معاملہ نہیں ہے آپی۔۔”

سنجیدہ تاثرات سمیت اسے جواب دیتی عنادیہ باہر کی جانب بڑھی،مطیبہ کی سمجھ سے بالاتر تھا اس کا یہ جواب مگر وہ بےبسی سے رونے لگی تھی،دریہ بیگم اسے افسوس سے دیکھتی بیٹھی تھی مطیبہ کے پاس مگر ان کے لاکھ دلاسوں کے باوجود مطیبہ کو صبر نہ آیا آخر غم ہی اتنا بڑا تھا،

“گرینی کے پاس سبطین رو تو نہیں رہا۔۔؟”

باہر آتی وہ کار میں بیٹھی تھی تبھی سلسبیل نے اسے مخاطب کیا،عنادیہ نے کوئی جواب تو نہ دیا البتہ نفی میں صرف سر ہلایا،سلسبیل کچھ لمحے اس کے جھکے سر کو دیکھتا رہا پھر کہا،

“تم دکھی ہو۔۔”

وہ بتایا تھا اسے،عنادیہ سرخ آنکھوں سمیت اسے دیکھی،

“دکھی نہیں ہوں میں۔۔۔وہ ڈیزرو کرتے تھے یہ سب۔۔مجھے صرف افسوس ہے کہ وہ میرے بھائی تھے۔۔۔”

نم پلکوں کو صاف کرکے اس نے بھیگے لہجے میں کہا،دل بری طرح تکلیف میں گھرا تھا،اسے دیکھ سلسبیل کار سٹارٹ کیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ایک ہفتہ گزر چکا تھا مطیبہ ہنوز سکندر ولا میں بند رہنے لگی تھی،دو دن کے وقفے سے عنادیہ آرہی تھی اس کے پاس مگر اس کو گہری چپ لگ چکی تھی اور لگتی بھی کیوں نہ اس کی تو پوری دنیا ہی اندھیر ہوچکی تھی،کیا کچھ نہیں تھا اس کی چپ میں،غم،تکلیف کی انتہا اذیت و کرب اور پچھتاوا۔۔،بےحد پچھتاوا،

“ہوسکے تو کبھی مت آنا کیونکہ مطیبہ جہانگیر تمہارے مرنے پر بھی تمہیں معاف نہیں کرنے والی۔۔”

اپنے کہے گئے الفاظ پر ہی آج وہ شدید پچھتائی تھی،کاش کہ وہ اسے ایسا نہ کہتی،کاش کہ اسے ہر بار تنفر سے نہ دھتکارتی پر اب پچھتانے کا فائدہ ہی کیا تھا،اپنی جھوٹی نفرت کے خول نے تو اسے خالی داماں کر کے رکھ دیا تھا،جسے جانا تھا وہ تو جاچکا تھا اب ساتھ صرف ایک “کاش” ہی رہ چکا تھا،

“بی بی۔۔”

فرخندہ کی آواز پر وہ گردن موڑ کر اسے دیکھی،

“فون۔۔”

اس کے بتانے پر مطیبہ کی خالی نظریں برابر میں رکھے اپنے فون پر گئی جو ناجانے کب سے رنگ کررہا تھا،سکرین پر جگ مگ کرتا نمبر دیکھ ناچاہتے ہوئے بھی کال ریسیو کی،

“آپ کو میں نے دوسرے دن آنے کا کہا تھا مگر اب ایک ہفتہ ہوچکا ہے۔۔۔مِس مطیبہ آدھے گھنٹے کے اندر آپ مجھے آفس میں دکھیں۔۔۔”

سلسبیل کا لہجہ واضح طنزیہ تھا،مطیبہ روہانسی ہوئی،جانتے بوجھتے وہ کیوں بلارہا تھا اسے آفس میں،

“مہ۔۔میں نہیں آسکتی۔۔”

بمشکل بولی تھی وہ،

“وجہ۔۔؟”

اس کے سوال پر مطیبہ کو شدت سے رونا آیا،

“میرے ہسبینڈ کی۔۔”

گلہ رندھنے پر اس سے بولا نہ گیا،

“وجہ جو بھی ہو یہ سب میرا سردرد نہیں۔۔۔آدھے گھنٹے کے اندر اندر آفس آؤ سمجھی۔۔”

اس بار سلسبیل سخت لہجے سمیت کہتا کال کٹ کیا،مطیبہ کو اب رونے کے ساتھ ساتھ غصے نے آلیا،تپ کر اٹھتی وہ اوپر روم میں گئی تھی،کچھ دیر بعد آئی تو ساتھ ایک پیپر تھا،

“بی بی کہاں جارہی ہیں۔۔”

اسے باہر کی جانب جاتے دیکھ فرخندہ پریشان ہوکر پوچھی،

“کچھ دیر میں آجاؤں گی واپس۔۔”

پرس میں وہ پیپر رکھتے ہوئے بتائی،

“پر بی بی عدت کے دوران تو سختی سے منع ہوتا ہے باہر جانا آپ کیسے۔۔”

مطیبہ اس کی بات سنتی خاموشی سے باہر نکلی،کیا جواب دیتی کہ یہ بات اسے تو معلوم ہے مگر آدھے گھنٹے کی دوری پر اپنے آفس میں بیٹھا وہ مغرور شخص جانتے ہوئے بھی اگنور کررہا تھا،

آدھے گھنٹے بعد وہ سلسبیل کے آفس میں ٹھیک اس کے سامنے کھڑی تھی،جب کہ سلسبیل اس کا دیا ہوا لیٹر پڑھنے کے بعد اب راکنگ چئیر سے ٹیک لگایا تھا،

“یہ ریزیگنیشن لیٹر اپروو نہیں ہوسکتا۔۔”

وہ جس پرسکونی میں کہا تھا مطیبہ کا اتنا ہی شدید خون کھولا،

“کیوں اپروو نہیں ہوسکتا بھائی۔۔۔”

چہرے پر ناگواریت سجائے وہ پوچھی جس پر سلسبیل طنزیہ مسکراہٹ سمیت اس کی جانب دیکھا،بری طرح سوجی سرخ آنکھیں حد سے زیادہ رونے کی غمازی کررہی تھیں،

“دو سال کا کنٹریکٹ سائن کیا تھا آپ نے اب جب تک آپ کی جگہ کوئی دوسرا ایمپلائے نہیں ہائر کرلیتے ہم تب تک آپ ریزائن دے ہی نہیں سکتی۔۔”

سلسبیل کی بات پر مطیبہ بےبسی سے اسے دیکھی،سوجی ہوئی جھیل آنکھوں میں پھر پانی جمع ہونے لگا،

“بھائی۔۔”

“سر۔۔!”

وہ ٹوکا،

“کیوں کررہے ہیں آپ ایسا۔۔؟”

بھیگی آواز میں وہ بےبسی سے پوچھی،

“میں نے کیا کردیا۔۔”

ازلی اجنبیت بھرا لہجہ،

“کچھ بھی نہیں۔۔”

غصے میں دانت پیستی وہ پلٹی تھی،

“اچھا ٹھیک ہے تم آج آف لے سکتی ہو مگر کل سے ٹائم پر آجانا۔۔”

مقابل کے احسان کرنے والے لہجے نے اسے بری طرح گھائل کیا،بھیگی مگر اشتعال بھری نظروں سے وہ مڑ کر گھوری تھی سلسبیل کو،

“سنو جاہی رہی ہو تو یہ دوائیاں عنادیہ کو دیتے جانا۔۔۔اس نے منگوائی تھیں سبطین کے لیے۔۔”

بنا اس کی گھوری کو خاطر میں لائے سلسبیل ٹیبل پر رکھی ٹیبلیٹس مطیبہ کی جانب سرکا کر بولا،

“میں آپ کے پرسنل کاموں کے لیے نہیں آتی ہوں یہاں پر۔۔”

لہجے میں بےپناہ ناگواریت لیے اس نے جواب دیا تھا،

“یہ میرا نہیں تمہاری نند کا کام ہے۔۔”

آبرو اچکاکر کہتا سلسبیل اپنے سامنے رکھی فائلز پر جھکا،مطیبہ پہلے تو لب بھینچے اسے گھورتی رہی پھر دوائیاں غصے میں اٹھاتی باہر نکلی،اس شخص سے کسی بھی ٹاپک پر بحث بےکار تھی،وہ سوچ چکی تھی کہ یہ لاسٹ ٹائم تھا اب وہ کبھی اس آفس میں نہیں آنے والی چاہے کچھ بھی ہو،

راستے میں سلسبیل کے مینشن میں کار رکواتی وہ دوائیاں لیے کار سے اتری،گیٹ پر فرمان کھڑا تھا اسے دیکھ مطیبہ کھلے گیٹ سے اندر داخل ہوئی،ہال میں کسی کو نہ پاکر وہ کچھ پزل ہوئی،دل عجیب گھبراہٹ کے مارے بلاجواز رونے کو ہورہا تھا،وہ ستمگر جس قدر حواسوں میں سوار تھا اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا،کسی کو سامنے نہ دیکھ وہ دوائیاں ٹیبل پر رکھ کر جانے کا ارادہ کی،ابھی وہ دوائی رکھ کر باہر کی جانب بڑھنے ہی لگی تھی کہ اچانک ٹھٹھکی،ہال میں بنے سب سے کونے والے روم کا دروازہ کھلا دیکھ ایک عجیب سے احساس نے اسے آلیا،سر جھٹک کر اس نے باہر جانے کا سوچا مگر قدموں نے ساتھ نہ دیتے اس روم کا ہی رخ کیا،وہ نہیں جانتی تھی کہ ایسا کیوں ہورہا ہے مگر دل میں انجانا دھڑکا لگا ہوا تھا جسے ختم کرنے کے غرض وہ عین اس روم کے دروازے پر کھڑی ہوئی،عجیب ہی کیفیت ہورہی تھی اس کی،ڈر بھی لگ رہا تھا پھر تجسس بھی ہورہا تھا بس ایک نظر اندر دیکھنے کو،

ہمت کر کے وہ قدم آگے بڑھاتی اندر داخل ہوئی تھی اور سامنے نظر جاتے ہی مطیبہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں،ایک پل کو اسے پوری دنیا رکتی ہوئی لگی،وقت، دن،مہینے،سال سبھی جیسے تھم چکے تھے،سانس جس قدر روکی تھی وہ خوبصورت چہرہ بری طرح سرخ ہوا اور جھٹکے سے سانس کھینچتی وہ اپنے قدم بےیقینی میں ایک قدم پیچھے لی،وہ ہر ناممکن بات پر یقین کرلیتی مگر ابھی جو سامنے دیکھ رہی تھی اس پر یقین کرنا محال تھا،

“ہیثم۔۔۔!”

اس کے لب پھڑپھڑائے،

دوسری جانب وہ جو اس کی موجودگی سے بےخبر سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھانے کی کوشش میں سیدھا ہورہا تھا یکدم چونک کر دروازے کی جانب دیکھا،آنکھوں کی پتلیاں سکڑ کر سیدھی ہوئیں،جبکہ چند لمحوں تک اس کے بکھرے حلیے کو دیکھتے رہنے کے بعد باریک لبوں پر نہایت مدھم سی مسکراہٹ پھیلی،وجیہہ چہرہ زرد مائل ہوچکا تھا جس پر اندرونی تکلیف کے آثار اب تک رقم تھے،

اسے اداسی سے مسکراتے دیکھ جھیل آنکھوں سے تیزی میں ایک موتی نکلتا گال پر پھسلا اور خوشی و بےیقینی کی ملی جلی کیفیت میں مطیبہ بنا کچھ اور سوچے تیزی سے قدم بڑھاتی بیڈ کی جانب گئی پھر ہیثم کو کچھ سمجھنے کا موقع دیے بنا ہی وہاں بیٹھتی اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی،اس کے اچانک عمل پر ہیثم ششدہ رہ گیا،تو کیا وہ اس سے ناراض نہ تھی،وہ شکوے وہ شکایات وہ غصہ۔۔۔،کیا سب کچھ پل میں ختم ہوچکا تھا،

بےساختہ ہیثم کو سلسبیل کا پلین صحیح لگا،ذہن میں وہ وقت گردش کیا تھا،جب اسے ہوش آیا تب اس نے خود کو ہاسپٹل میں پایا تھا،ابھی وہ صحیح سے حواسوں میں بھی نہ لوٹا تھا کہ ایک زور دار تھپڑ نے ہیثم کا ذہن بری طرح منتشر کردیا،دندھلی ہوتی آنکھیں جھپک کر وہ سامنے دیکھا جہاں روتی ہوئی عنادیہ غصے میں کچھ کہتی گھوری تھی مقابل کھڑے سلسبیل کو،

“یہ تھپڑ اس نے خود اپنی تقدیر میں لکھوایا تھا۔۔”

عنادیہ کو جواب دے کر سلسبیل اس کو دیکھا جس کی ناسمجھ نظریں سلسبیل پر ہی تھیں،

“کنفرم کروگے کہ آخر چاہتے کیا ہو۔۔۔کبھی ایکسیڈنٹ کروالیتے ہو اپنا تو کبھی زہر کھاکر مرنے کی تیاری۔۔۔”

اس کے سوال پر ہیثم تھکان سے آنکھیں موند کر کھولا،

“مرنا ہی تو چاہتا ہوں۔۔”

“بھائی۔۔”

عنادیہ تڑپی تھی اس کی بات پر،دوسری جانب ہیثم کی بات پر کچھ سوچتا سلسبیل گویا ہوا،

“مرجاؤ تم۔۔”

“سلسبیل کیا کہہ رہے ہیں۔۔”

اب کی بار عنادیہ گھرکی تھی اسے،

“بلکل ٹھیک کہہ رہا ہوں۔۔۔تمہارے مرنے پر ہم دیکھیں گے کہ اگر تمہاری بیوی کو فرق نہیں پڑتا تو تم چلے جانا اس کی زندگی سے دور لیکن اگر اس کا ردِعمل شدید ہوا تو پھر تم دونوں لیلیٰ مجنوں جانو آگے کے بارے میں۔۔۔”

سلسبیل کی بات پر پہلے تو عنادیہ اور ہیثم ناسمجھی سے اسے دیکھے مگر جب اس کی بات سمجھ آئی تو وہ دونوں بھی سوچ میں پڑ گئے،

“نہیں رہ سکتی۔۔۔میں نہیں رہ سکتی تمہارے بنا۔۔”

اپنے سینے میں منہ چھپائے روتی مطیبہ کی آواز نے اسے سوچ کی دنیا میں قدم رکھنے پر مجبور کیا،آسودگی سے مسکراتا ہیثم اس کے گرد اپنے دونوں بازوؤں کو حائل کیا تھا مگر تبھی مطیبہ کا فون رنگ کرنے لگا،ہیثم سے دور ہوتی وہ کال ریسیو کی،

“پوچھنا یہ تھا کہ کیا اب ریزیگنیشن لیٹر اپروو کرلیا جائے آپ کا۔۔”

سلسبیل کی بھاری آواز میں کہی بات نے مطیبہ کو سبکی کا احساس دلایا،آفس میں اس کے ساتھ برتے اپنے سخت رویے پر شرمندہ ہوکر آنکھیں میچتی وہ لب دبائی،

“نہیں۔۔۔آ۔۔۔سوری بھائی۔۔”

سبکی سے کہتی وہ چور نظروں سے ہیثم کو دیکھی جس کی مسکاتی نظریں اس ہی ہر تھیں،

“سر۔۔”

مقابل ٹوکتا ہوا کال کٹ کیا اور مسکراکر فون رکھتی مطیبہ خوشی سے نم آنکھوں سمیت مقابل محبوب کو دیکھ اس کے سینے پر سر رکھتی گویا ہوئی،

“اس ایک ہفتے کی تکلیف ہر اس تکلیف سے بڑھ کر تھی جو ان سالوں میں مجھ پر بیتی۔۔”

مطیبہ کے بھیگے لہجے پر وہ جھک کر نرمی سے اس کی پیشانی چوما تھا،

“وعدہ کرتا ہوں تمہاری ہر تکلیف کا مداوا اپنی محبت سے کروں گا۔۔تمہاری آنکھوں میں خوشی کے آنسو تو آئیں گے مگر غم کے آنسوؤں کو کبھی ان خوبصورت آنکھوں سے نکلنے نہیں دوں گا۔۔۔”

جذبات سے چور لہجے میں نہایت میٹھی سرگوشی کرتا وہ مطیبہ کے گرد بازوؤں کا حصار بناکر پرسکون سا آنکھیں موندا،مقابل کے اس وعدے نے مطیبہ کو جس قدر سرشار کیا تھا اس کے لیے لفظوں کا بیاں ناقابل تھا،

دروازے کے اوٹ سے انہیں خوشی سے ایک نظر دیکھ عنادیہ ہال میں آئی جہاں دریہ بیگم کی سوالیہ نظریں اس ہی کی منتظر تھیں،ان کو دیکھتی عنادیہ خوشی سے مسکراتی اثبات میں سرہلائی ساتھ ہی ان کے گود سے سبطین کو لیتی اسے پیار کرنے لگی،وہ خوش تھی بےحد خوش کہ اس کے بھائی اور مطیبہ کی زندگی سحل ہوچکی تھی،سکندر ولا سے واپسی پر اس نے دریہ بیگم کو ساری بات سے آشنا کروایا تھا ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ میت کسی اور کی نہیں بلکہ ہناد کی تھی،عنادیہ کو شدید شرمندگی ہوئی تھی ان کے سامنے اپنے اس بھائی کا گناہ بتاتے،وہ دکھی نہیں تھی ہناد کی موت پر بلکہ اسے افسوس تھا بہت کہ اس قدر گناہگار شخص اس کا بھائی تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو سال بعد،

“شوہر جب آفس سے تھکا ہارا گھر آتا ہے تو خواہش کرتا ہے اس کی بیوی استقبال میں ایک نرم مسکراہٹ لازم سجائے رکھے اپنے چہرے پر لیکن یہاں پر تو میری بیوی ناراض شکل بنائے گھوم رہی ہے۔۔۔”

عنادیہ نے آج اسے جلد آنے کی تنبیہہ کی تھی،وجہ رات مطیبہ اور ہیثم کو دی گئی دعوت تھی مگر سلسبیل کافی کوشش کے بعد بھی نو بجے ہی گھر پر لوٹا اور اب عنادیہ کو خود سے ناراض دیکھ وہ چوٹ کیا تھا اس پر،

“ہاں تو شوہر کو بھی احساس ہونا چاہیے کہ بیوی جو بات کہے اس کو مان لیا جائے نا کہ اپنی مرضی چلائیں۔۔۔اب وہ لوگ آنے ہی والے ہوں گے اور خود کو دیکھیں تیار بھی نہیں ہوئے۔۔۔”

چڑ کر تپتی ہوئی اسے جواب دیتی عنادیہ آخر میں سلسبیل کو سبطین کے ساتھ بیڈ پر کھیلتے دیکھ جھنجھلائی،

“فضول میں اپنی انرجی ضائع کررہی ہو جانم۔۔۔وہ دونوں گیارہ بجے سے پہلے نہیں آنے والے۔۔۔”

پرسکون سا کہتا سلسبیل عنادیہ کے ہاتھ سے اپنے کپڑے لے کر برابر میں رکھتا اس کی گود سے سبطین کو لیتے عنادیہ کے گال پر لب رکھا،وہ بدک کر دور ہوتی گھوری تھی سلسبیل کو جس پر ہلکا سا ہنستے سلسبیل سبطین کو دیکھ گویا ہوا،

“تمہاری ماما غصے میں بھی کتنی کیوٹ لگتی ہے نا۔۔”

سبطین کھلکھلایا تھا،جبکہ عنادیہ ان دونوں باپ بیٹے کو گھورنے کے چکر میں بلش ہوتی آخر میں خود بھی مسکرادی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج ہیثم کی فرمائش پر وہ ساڑھی پہنی تھی،ڈریسنگ پر کھڑی ائیرنگ پہن کر اس نے ایک آخری تنقیدی نظر خود پر ڈالی تبھی پیچھے سے آتا وہ نرمی سے اس کے گرد حصار باندھا تھا،مطیبہ کے لب مسکرائے تھے،

“اس خوبصورت چہرے پر سجی یہ حسین مسکراہٹ ہمیشہ میری آنکھیں خیراں کردیتی ہے۔۔۔”

نرمی سے اس کے کان میں سرگوشی کیا تھا ہیثم جس پر پلکوں کی باڑ اٹھاتی مطیبہ آئینے میں دیکھی،مقابل کی لُو دیتی نظروں کی تپش نے اسے سرخ ہونے پر مجبور کیا،لبوں پر پھیلی شرمگیں مسکراہٹ بڑھی تھی ساتھ وہ سرخ عارض سمیت منتشر دھڑکنوں کو سنبھالتی آنکھیں موندی جب مقابل کے لبوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس ہوا مگر تبھی دونوں چونکے جب بیڈ پر سے ان کی جڑواں بیٹیوں(عروشہ اور عریشہ) کے رونے کی آواز آئی،

“ہمیں دیر ہوچکی ہے۔۔۔”

ساڑھے دس بجاتی گھڑی کو دیکھ مطیبہ بیڈ کی جانب جاتے بولی،

“تم چھوڑ دو میں لے لیتا ہوں انہیں۔۔۔”

اسے بمشکل ساڑھی سنبھالتے دیکھ ہیثم مسکراکر کہتا بیڈ پر آیا ساتھ دونوں کو گود میں لیتا اٹھا،مطیبہ مسکرائی تھی اسے دیکھ جو باری باری اب عروشہ اور عریشہ کے گال چومتا اس کو باہر چلنے کا اشارہ کیا تھا،اس شخص نے اپنا کہا پورا کیا تھا ان دو سالوں میں وہ ہر طرح سے مطیبہ پر ظاہر کیا تھا کہ ہیثم کی زندگی کی ساری خوشیاں اس ہی پر آکر تمام ہوتی ہیں،

ہیثم کے صحتیاب ہونے کے بعد وہ آفس جانا چھوڑ چکی تھی،اللّٰہ نے ایک سال بعد ان دونوں کو جڑواں بیٹیوں سے نوازا تھا،باپ کو تو اپنی بیٹی ہوتی ہی عزیز ہے ٹھیک اس ہی طرح ہیثم اپنی دونوں بیٹیوں سے بےحد محبت کرتا تھا،وہ بہت حساس تھا ان دونوں کو لے کر،مطیبہ خدا کا جتنا شکر ادا کرتی اتنا کم تھا کہ ان کی زندگی سے غم کے بادلوں کو ہمیشہ کے لیے ہٹا کر ایک پرسکون اور سحل موڑ پر لایا گیا تھا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

The End