Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 4)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 4)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

“کیا ہوا موڈ کو۔۔۔؟”

کار ڈرائیو کرتے ہیثم جو ہر تھوڑی دیر میں ایک نظر برابر میں بیٹھی اپنی مکینِ دل پر ڈال رہا تھا اسے خاموش شیشے سے باہر دیکھتے نارملی پوچھا،اسکے سوال پر ناذلی جو کل کی مطیبہ کی حرکت کا سوچ رہی تھی اچانک چونکی،

“ہیثم۔۔۔!”

ایک لفظی اسکا نام لیتی وہ چپ ہوئی،اسے سمجھ نہ آیا کہ ہیثم کو وہ بات بتائے یا نہیں۔۔،پر مطیبہ کی وارننگ جو اسے واضح الفاظوں میں ہیثم کو کہنے کا بولی تھی یہ سوچ کر وہ کہنے لگی،

“آپ اس طرح سے نہ کیا کریں۔۔۔”

اسکی بےتکی بات پر ہیثم کار سلو کرتا اسے دیکھا،

“میں نے کیا کِیا میڈم۔۔۔”

ایک آبرو آچکا کر وہ نرم نظروں سے ناذلی کو دیکھ کر پوچھا،

“آپ۔۔۔آ۔۔۔کیا ہوجائے گا اگر آپ میرے لیے اپنے جذباتوں کا اظہار سب کے سامنے کھل کر نہ کریں تو۔۔۔”

بہت ہمت مجتمع کر کے وہ یہ بات ایک ہی سانس میں تیزی سے بولی تو ہیثم حیرت بھری نظروں سے اس کو دیکھا،

“کیوں نہ کروں میں اپنے جذباتوں کا اظہار تم پر۔۔۔پاگل محبت کرتا ہوں تم سے۔۔۔اور ویسے بھی میرے دل میں تمہارے لیے جذبات سے سبھی واقف ہیں۔۔۔”

روڈ پر نظریں جمائے وہ رسانیت سے بولتے ہوئے ناذلی کے گال سرخ ہونے پر مجبور کرگیا،اسکی بےباک بات سے تمتماتا چہرہ موڑے وہ لبوں پر شرمگیں مسکراہٹ سجائی تھی پھر تبھی کچھ سوچ کر اس کے لبوں سے پھسلا،

“پر آپی غصہ ہوتی ہیں۔۔۔”

اور یہ بات کہتے جہاں ناذلی نے دانتوں تلے زبان دبائی وہیں ہیثم جھٹکے سے کار روکا تھا،وہ جی بھر کر حیران ہوا تھا ناذلی کی اس بات پر،

“کیا۔۔۔”

گہری خاموشی کے بعد اس نے اچھنبے سے پوچھا،

“وہ۔۔۔وہ ہیثم۔۔۔آپی غصہ ہوتی ہیں۔۔۔مطلب کہ انہوں نے کہا۔۔۔کہ۔۔۔اچ۔۔اچھا نہیں۔۔لگتا۔۔انہیں یہ سب۔۔۔میرا مطلب۔۔۔کہ۔۔۔ان کا۔۔مطلب ہے کہ۔۔۔وہ۔۔۔انہوں نے کہا تھا۔۔۔کہ جب میں بڑی ہوجاؤں گی تو۔۔۔فلوقت آپ حد میں رہیں۔۔نہیں۔۔۔مطلب میں کیسے۔۔۔”

وہ بھرپور کوشش کرنے لگی تھی اسے سمجھانے کی پر ساتھ ہی ہیثم کا دل مطیبہ کی طرف سے خراب نہ ہو اس لیے باتوں کو پوزیٹیوو انداز میں کہنے لگی لیکن آخر میں خود ہی اپنی کہی باتوں میں الجھتی پریشان ہوکر چپ ہوگئی،

“پہلے تو مجھے یہ بتاؤ کہ تم ہو کتنی چھوٹی۔۔۔سترہ کی ہو۔۔۔دو تین سال بعد انیس بیس کی ہوجاؤ گی۔۔۔تو اس میں اتنی بھی بچی نہیں ہو۔۔۔اور جہاں تک بات ہے مطیبہ کے غصہ ہونے کی تو اس سے میں خود ہی بات کرلوں گا۔۔۔کیا اچھا لگتا ہے کیا نہیں فلحال تم یہ نہ ہی سوچو تو بہتر ہے۔۔۔اور کیا برا لگتا ہے۔۔۔کونسی ولگر حرکت کی ہے میں نے سب کے سامنے جو یہ بات کی اس نے تم سے۔۔۔”

ہیثم کا شدید خون کھولا تھا ناذلی کے یوں بولنے پر تبھی دھیمے لہجے میں اسے جھڑکتا وہ تپ کر استفسار کرنے لگا،اسکے یوں جھڑکنے پر ناذلی کی آنکھیں پل میں ڈبڈبائیں تھیں اور ہیثم کے اندر امڈتا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا،

“ناذلی۔۔۔آہ۔۔۔ناذو۔۔۔یار تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔اچھا ٹھیک ہے۔۔۔سوری۔۔۔”

وہ سمجھا تھا کہ اسکا لہجہ ناذلی کی خوبصورت آنکھوں میں لایا ہے تبھی ندامت بھرے لہجے میں کہتا وہ جیب سے رومال نکالتا اسکی جانب بڑھایا،سوں سوں کرتی ناذلی نے پہلے تو ناراض نظروں سے اسے دیکھا پھر جھپٹنے کے انداز میں رومال لیتی دوسری جانب منہ کرگئی،واضع ناراضگی کا اظہار تھا،

“ناذلی سوری۔۔۔”

اسکی ناراضگی پر بےچین ہوتا ہیثم پشیمان لہجے میں بولا،اسے مطیبہ پر بہت غصہ آرہا تھا جس کے باعث وہ ناذلی کو ڈانٹ گیا،آخر کیسے وہ اپنی متاعِ جاں کو ڈانٹ سکتا تھا،اس قدر غصہ کیسے آگیا تھا اسے وہ خود نہ جان پایا،شاید وجہ ہی یہی تھی کہ ناذلی نے اسکے نرم جذباتوں کے اکثر و بیشتر کیے جانے والے اظہار کو برا کہا تھا،

“میرا پیپر ہے آج۔۔۔لیٹ ہورہی ہوں۔۔۔مجھے کالج چھوڑ دیں پلیز۔۔۔”

کچھ دیر بعد ناذلی کی ناراض آواز پر وہ گہرا سانس بھرکر کار سٹارٹ کیا تھا،اسے کالج ڈراپ کرنے کے بعد ہیثم نے بھی یونی کا رخ کیا،جب ناذلی نے اسے مطیبہ کی کہی بات بتائی تو ایک پل کو ہیثم کا دماغ منتشر ہوا تھا،آخر مطیبہ کے ساتھ پرابلم کیا تھی جو وہ ناذلی کو یہ بات کہہ رہی تھی،ہوسکتا ہے وہ بڑی بہن ہونے کے باعث اسکی فکر کررہی ہو،پر اس نے تو کبھی ناذلی کے ساتھ کوئی بری حرکت نہیں کی جو وہ اسے حد میں رہنے کی وارننگ ناذلی کے ذریعے کی تھی،پھر کیوں اس نے یوں بولا،ان سوچوں سے سر جھٹک کر ہیثم نے ناذلی کو جلد منانے کا ارادہ کیے یونیورسٹی میں اپنی کار روکی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ابھی ابھی جِم سے واپس آیا تھا،اب اسکا ارادہ ناشتہ کرنے کے بعد یونی جانے کا تھا،تیزی میں اپنی ٹی شرٹ اتار کر لاؤنج کے صوفے پر پھینکتا وہ کچن کا رخ کیا،جوس وہ لیتے آیا تھا جم سے واپسی پر اپنے ساتھ،اب انڈے نکال ہی رہا تھا فریج سے جب کسی احساس کے تحت چونکا،فریج بند کر کے اس نے گیٹ کی جانب دیکھا جہاں فِلذہ کھڑی دلچسپ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی،اسے یاد آیا کہ جلدی میں وہ انیکسی کا گیٹ بند کرنا بھول گیا تھا،

“میں نے ڈسٹرب تو نہیں کیا۔۔۔”

مسکراتے ہوئے کہہ کر وہ چند قدم آگے آتی بغور اسکے کسرتی چوڑے سینے کو دیکھی،برہنہ بازو میں اب تک پسینے کی چمک تھی،جنہیں دیکھ فلذہ کی دھڑکنیں بڑھیں،

“کوئی کام تھا آپ کو۔۔”

آبنوسی آنکھوں میں ناگواری گھلی تھی فلذہ کے یوں دھڑلے سے آنے پر پھر بھی سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھتا وہ لہجے کو حتٰی الامکان نارمل رکھے بولا ساتھ ہی مضبوط قدموں سمیت اوپن کچن سے نکلتا صوفے پر سے اپنی ٹی شرٹ اٹھا کر پہنا،فِلذہ جو مقابل کے سحر میں کھوئی تھی یکدم چونکی جب وہ چٹکی بجایا اسکے آگے،

“ہا۔۔ہاں وہ میں نے تمہیں ابھی باہر سے آتے دیکھا۔۔۔کیا تم جِم گئے تھے۔۔۔”

خود کو کمپوز کرتی وہ کھلے لہلہاتے بالوں کو کان کے پیچھے کرکے پوچھی،مقابل کے سامنے خودبخود لبوں پر مسکراہٹ بکھرے جارہی تھی،بدتمیز لہجہ تو کہیں کھو ہی گیا تھا وہ بہت شائستگی سے بات کررہی تھی سابی سے،

“جی۔۔۔”

مختصر جواب دیا تھا اس نے،لڑکیوں سے زیادہ بات ہی نہ کرتا تھا وہ،اور اگر کبھی ایسا اتفاق ہوتا بھی تو نہایت مختصر جملے ہوتے اسکے،

“ہے۔۔۔تم ایکسرسائز کے لیے باہر کیوں جاتے ہو۔۔۔سکندر ولا میں ہے جمنیسئیم۔۔۔تم یہی کرلیا کرو ایکسرسائز۔۔۔”

فرینک ہوکر بولتی وہ نگاہ پھیری،مقابل کی آبنوسی آنکھوں کا سحر اسے اپنے الفاظ بھلا دے رہا تھا،کس قدر حسین آنکھیں تھی اسکی،کیسا طلسم تھا مقابل میں جو فِلذہ جیسی بولڈ لڑکی کو بھی بھلے ایک ہی پل کے لیے مگر بوکھلارہا تھا،

“نہیں۔۔۔۔انکل نے مجھے یہاں پر رہنے کے لیے جگہ دی۔۔۔یہ ہی بہت ہے۔۔۔میں اپنی ذات سے کسی کو پریشان کرنا نہیں چاہوں گا۔۔۔”

سہولت سے اسے انکار کرتا وہ دونوں بازو سینے پر باندھا،اشارہ صاف تھا فلذہ کے لیے کہ اور کچھ۔۔۔،بازو فولڈ کرنے پر ان پر ابھرتی رگوں کو دیکھ فلذہ پلک جھپکنے پر مجبور ہوئی تھی،

“کہیں جارہے تھے۔۔۔؟”

وہ بھی صدا کی ڈھیٹ تھی،مقابل کے لہجے میں اپنے لیے کوئی مٹھاس تو کیا نرمی تک نہ محسوس ہوئی پھر بھی یونہی بیٹھی اوپن کچن کے جانب ایک نظر ڈالے پوچھی،

“ہاں یونی جانے کی تیاری کررہا تھا۔۔۔لیٹ ہورہا ہوں۔۔۔”

اس بار لہجے میں بنا لچک کے وہ بولا ساتھ ہی ایک نظر وال کلاک پر ڈالی،

“ناشتہ ہمارے گھر میں کرلو۔۔۔اگر دیر ہورہی ہے تو۔۔۔”

فلذہ کا ابھی کوئی موڈ نہیں ہورہا تھا اسکے پاس سے جانے کا تبھی باتوں کو طول دیتی وہ کھڑی ہوکر کچن کی طرف آئی،سابی کی پیشانی پر ایک ناگوار بل پڑا تھا،لڑکیوں سے اسے پہلے ہی الرجی تھی اور اب فلذہ کا یوں فضول میں فرینک ہونا اسے بلکل نہ بھایا،

“میں پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکا ہوں۔۔۔ناشتہ نہیں کروں گا۔۔۔”

اسے کسی بھی طرح یہاں سے بھیجنے کے چکر میں سابی سفید جھوٹ بولا،حالانکہ اسے شدید بھوک لگ رہی تھی پر اب دیر ہونے کے باعٹ اسکا ارادہ بدل چکا تھا،

دوسری جانب فِلذہ کو اب مقابل کے لہجے میں ناگواری محسوس ہونے لگی تبھی مسکراکر سر اثبات میں ہلاتی بولی،

“پھر ٹھیک ہے۔۔۔رات کے ڈنر پر میں تمہیں سکندر ولا مدعو کرتی ہوں۔۔۔امید ہے کہ تم اس کے لیے کم از کم انکار نہ کرو۔۔۔”

پُرشوق نظروں سے اسکے تیکھے نقوش کو دیکھتی وہ آس سے پوچھی جس پر سابی نے زبردستی لبوں پر مسکراہٹ سجائی،

“اگر فری ہوا تو ضرور آؤں گا۔۔۔”

اسکے اثبات میں انکار شامل ہونے پر بھی فلذہ کو فرق نہ پڑا،وہ تو ایک مرتبہ پھر محو ہوئی تھی مقابل کے لبوں پر سجی ہلکی مسکراہٹ دیکھ،دل نے ایک بِیٹ مِس کی،جس پر گھبراکر نگاہ پھیرتے وہ انیکسی سے نکلی،ادھر سابی نے اسکے جانے کے بعد فوراً گیٹ بند کیا پھر تیار ہونے کے لیے روم کا رخ کیا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کیا میں اندر آسکتی ہوں۔۔؟”

وہ جو اپنے کمرے میں ہاتھ کے اندازے کی مدد سے دیوار پر کِیل ٹھونک رہا تھا پیچھے سے آتی مانوس آواز پر جی بھر کر بیزار ہوا،

“نہیں۔۔۔”

ہمیشہ کی طرح سرد لہجہ،عندلیب گہرا سانس بھرتی اندر داخل ہوئی،

“کیا کررہے ہو۔۔۔؟”

دبیز کارپیٹ کی نرمی تلووں پر محسوس کرتی وہ پوچھی جس پر مسلسل کِیل پر ہتھوڑی سے ہلکی ضربیں لگاتا سلسبیل کا بھاری ہاتھ ایک پل کو رُکا،

“دِکھ نہیں رہا۔۔۔؟”

الٹا سوال مگر غصیلے لہجے میں کہ عندلیب تھوڑا بوکھلائی،

“کچھ بات کرنی تھی۔۔۔؟”

وہ اس بار آہستگی سے پوچھی تو سلسبیل ہاتھ روک کر پلٹا،اسکی خالی آنکھوں کو دیکھ عندلیب کے دل میں ہمیشہ کی طرح ایک ٹِیس سی اٹھی جسے اندر دباتی وہ خود کو کمپوز کیے بولی،

“کل اتوار ہے۔۔۔ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ۔۔۔یاد ہے ناں۔۔۔”

یہ بات کہتے اسے سلسبیل کے تاثرات سے صاف سمجھ میں آیا کہ وہ بھول گیا ہے،پھر کچھ سوچ کر وہ اثبات میں سر ہلائے برابر سے اسٹیک پکڑتا بیڈ پر آکر بیٹھا،اسکے تاثرات نارمل دیکھ عندلیب لبوں پر زبان پھیرتی تھوڑے فاصلے پر رکھے ٹو سیٹر صوفے پر بیٹھی،

“تمہارے کالج میں پڑھائی نہیں ہوتی کیا۔۔۔؟”

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ اسکی بھاری آواز اُبھری اور عندلیب ششدہ سی ہوکر اسے دیکھنے لگی،ان دو سالوں میں پہلی مرتبہ وہ خود اس سے کوئی سوال پوچھا تھا،

“ہا۔۔۔ہاں۔۔ہاں۔۔۔ہوتی ہے۔۔۔”

جلدی سے خود کی خوشی سے جھومتی دھڑکنوں پر قابو پاتی وہ مسکراتے ہوئے بولی،

“تو پھر ہر ہفتے منہ اٹھاکر یہاں کیوں آجاتی ہو۔۔۔”

اور اس بات پر عندلیب کی ساری خوشی پل میں دفن ہوئی،اسکا منہ لٹکا تھا،تپ کر سلسبیل کے ناگوار تاثرات دیکھ وہ بولی،

“گرینی سے ملنے آتی ہوں۔۔۔ورنہ مجھے کوئی شوق تھوڑی ہے اپنی پڑھائی خراب کرنے کا۔۔۔”

اسکے یوں بولنے پر سلسبیل طنزیہ انداز میں مسکرایا،

“ہنہہ۔۔۔بہت پڑھاکو ہو تم۔۔۔”

وہ طنز کیا تھا اس پر،عندلیب نے سلگ کر ایک نظر پھر اسے دیکھا اور بس۔۔۔،ایک نظر کا دیکھنا تھا کہ وہ دیکھتی رہ گئی،مقابل مسکرایا تھا،بھلے طنزیہ پر وہ مسکرایا تو تھا،ہاں وہ بہت کم مسکراتا پر جب مسکراتا تو دیکھنے والے کی دھڑکنیں منتشر کردیتا،اور ابھی یہی حال عندلیب کا ہوا تھا،بمشکل اپنی شور مچاتی دھڑکنوں کو نظرانداز کرتی وہ بولی،

“ان سب باتوں کو چھوڑو یہ بتاؤ کہ کل اگر ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ تمہاری بینائی جلد واپس آجائے گی۔۔۔تو پھر تمہاری کوئی ایسی وِش ہوگی جو تم سب سے پہلے پوری کرنا چاہو گے۔۔۔”

بات بدلتی وہ مزے سے پوچھی،پہلی بار مقابل اسے اتنی اہمیت دے رہا تھا کہ اس سے کم از کم چند ہی دیر پر بات تو کیا تھا اور یہ بات عندلیب کے لیے کسی خوشی سے کم تھوڑی تھی،

“وِش۔۔۔”

اسکے باریک تراشے لب پھڑپھڑائے تھے،ماضی کے دردناک مناظر ذہن میں گھومتے اسکی پیشانی کی رگیں پُھولا گئے،جبڑیں بےساختہ بھنچے تھے

“بتاؤ بھی کیا وِش ہے۔۔۔؟”

عندلیب اسکی خاموشی پر بضد ہوئی جس پر مقابل کے بےتاثر چہرے پر ہلکی سی اذیت اپنی جھلک دکھا کر غائب ہوئی،

“میری وِش یہی ہے کہ بس میری بینائی واپس آجائے۔۔۔پھر اسکے بعد میں ان لوگوں کو بےتحاشہ تڑپاؤں گا جنہوں نے مجھے تڑپاتے ہوئے ایک لمحے بھی رحم نہ کھایا۔۔۔۔”

یہ بات کہتے سلسبیل کے لہجے میں اس قدر ٹھنڈا تاثر سفاکیت لیے تھا کہ عندلیب ایک پل کو جھرجھری لینے پر مجبور ہوئی،اندھے ہونے کے باوجود اس انسان کی شخصیت ایسی تھی کہ مقابل بات کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچے،ناجانے جب اسکی بینائی تھی تب وہ کیسا ہوتا ہوگا،یہ سوچ ہمیشہ کی طرح اب بھی عندلیب کے دماغ میں آئی جسے وہ جلد ہی جھٹکی،

“اچھا چھوڑو۔۔۔یہ بتاؤ تمہارا پسندیدہ جانور کونسا ہے۔۔؟”

ٹاپک چینج کرتی وہ یونہی پوچھی،سلسبیل کے تراشے ہوئے لبوں پر سرد مسکراہٹ آٹہری اس سوال پر،

“میرا پسندیدہ جانور۔۔۔۔بھیڑیا۔۔۔وہ مجھے بےحد پسند ہے۔۔”

اسکے جواب پر عندلیب کانپی تھی،دماغ یکدم گھوما،اس انسان کے ہر جواب اتنے خوفناک کیوں ہوتے،سلسبیل کی خالی آنکھوں کو دیکھ بےساختہ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوئی کہ کس نے اس وجاہت کے شاہکار کے ساتھ ایسا کیا ہوگا،اور گر کو اسکی بینائی واپس بھی آگئی تو کیا انجام کرے گا وہ اس انسان کا،

“تم۔۔۔اب جاؤ یہاں سے۔۔۔”

وہ جو سوچوں میں گُم تھی سلسبیل کی سرد آواز پر چونکی،

“کیوں۔۔۔ابھی تو آئی ہوں۔۔۔”

اچانک اسکے وجیہہ چہرے پر اذیتیں رقم دیکھ وہ حیرت سے پوچھی،

“میں نے کہا جاؤ یہاں سے۔۔۔”

جلد ہی عندلیب کو احساس ہوا کہ وہ یہ سوال کر کے غلطی کرچکی ہے کیونکہ جواباً سلسبیل اپنے مضبوط ہاتھ میں پکڑی ہتھوڑی سامنے دیوار پر مارتے ہوئے دھاڑا تھا جو کہ وہاں نسب ایل ای پر لگتے ہی چھناکے کی آواز سمیت ایل ای ڈی توڑ گئی،عندلیب گھبراکر اٹھی ساتھ ہی پیچھے ہٹی،

“م۔۔۔می۔۔میں جا۔۔جارہی ہوں۔۔۔”

بآواز کہتے ہوئے وہ گیٹ کی طرف بڑھی پر نکلنے سے پہلے ایک تکلیف بھری نظر اس مضبوط انسان پر ڈالنا نہ بھولی جو اکثر و بیشتر اپنی بےبسی کا غصہ عندلیب پر ان طریقوں سے اتار دیتا اور وہ ہمیشہ اسکے غصے کو خاموشی سے برداشت کرلیتی۔۔۔،آخر کو اس سے محبت جو کرتی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔