Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 3)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 3)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔”
رات کو ناذلی سونے کی تیاری کررہی تھی تبھی مطیبہ گیٹ کھولتے اس کے روم میں داخل ہوکر سنجیدگی سے بولی،
“اوف آپی۔۔۔کل ٹیسٹ ہے میرا۔۔۔ابھی سونے دیں ہم کل بات کرلیں گے۔۔۔”
ایک نظر دیوار پر نسب گھڑی کو دیکھ وہ بےچاری سی شکل بنائے بولی ساتھ ہی لیٹ کر کمفرٹر اوڑھنے لگی،مطیبہ تپ کر آگے بڑھی اور جھٹکے سے کمفرٹر کھینچتی برابر میں پھینکی،
“آپی کیا ہوگیا ہے۔۔”
ناذلی پل میں گھبرائی تھی اسکے چہرے پر غیر معمولی سنجیدگی دیکھ،اس بات کا اس نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا کہ مطیبہ اپنا ایک ہاتھ پشت پر چھپائی تھی،
“تمہاری ابھی عمر کیا ہے۔۔۔؟”
اچانک وہ پوچھی ادھر اسکے تاثرات سے ڈرتی ناذلی جلدی سے بولی،
“17 سال۔۔۔لیکن آپ۔۔۔”
“ہیثم کی عمر کیا ہے۔۔؟”
ناذلی کے سوال کو کاٹے وہ پھر پوچھی،
“21 سال۔۔۔پر یہ سب کیوں پوچھ رہی ہیں آ۔۔۔”
“یہ عمر ہے تمہاری عشق عاشقی لڑانے کی۔۔۔”
وہ جو حیران پریشان سی اپنی بڑی بہن کو دیکھ کر پوچھنے لگی تھی مطیبہ کے اچانک چیخنے پر گھبراتی پیچھے ہوئی،
“آپی۔۔۔!”
آنکھیں پل میں نم ہوئی ساتھ ہی لب آہستگی سے پھڑپھڑائے،
“ہیثم کو بول دینا کہ اپنی حدود نہ بھولے۔۔۔ماما زندہ نہیں ہیں تو کیا ہوا۔۔۔بابا تو ہیں نا۔۔۔تو کم از کم انکی عزت کا خیال کرلو۔۔۔جب اپنی عمر کو پہنچوگی تب دل بھر کر کرلینا اپنی اداؤں سے سب کو مرعوب۔۔۔۔فلحال کے لیے ختم کرو یہ ڈرامہ تم دونوں۔۔۔”
یہ دوپہر میں ہیثم کی ناذلی کے لیے کی گئی عنایت پر بھری بھڑاس ہی تھی جو وہ اب بلند آواز میں اس پر اتار رہی تھی،ادھر ناذلی کی ہچکیاں بندھی مطیبہ کی باتوں کے زیرِ اثر،
“میں۔۔۔میں کچھ نہیں کہتی آپی۔۔۔و۔۔۔وہ خود میرے پیچھے۔۔۔ا۔۔اور۔۔۔وہ پسند کر۔۔کرتا ہے کہتا ہے کہ جب میں بڑی ہوجاؤں گی تو ش۔۔شاد۔۔”
“بکواس بند کرو۔۔۔”
ناذلی اور بھی کچھ بولنے لگی تھی تبھی مطیبہ تڑخ کر اسکی بات کاٹی،کان اگلی بات سننے سے انکاری تھے،اسے یوں لگا تھا جیسے اسکی روح قبض ہونے کا پروانہ سنارہی ہے ناذلی،
“اب کوئی بکواس نہیں کروگی تم۔۔۔سمجھی۔۔۔شرافت سے اپنے اس۔۔۔عا۔۔۔عاش۔۔۔عاشق کو کہہ دینا کہ اپنی یہ حرکتیں بند کرے نہیں تو میں بابا کو کہہ کر تمہارا چاچی کے گھر جانا بند کروا دوں گی۔۔۔”
ناچاہتے ہوئے بھی مطیبہ کا لہجہ کپکپانے لگا،دل میں اس قدر برا درد اٹھا کہ اسکا چہرہ سفید چہرہ سرخ ہونے میں ایک پل لگا،انگلی اٹھا کر ناذلی کو وارن کرتی وہ الٹے پیر پیچھے ہوئی ساتھ ہی جھٹکے سے مڑ کر نکلی روم سے،اسکے جانے کے بعد ناذلی جو اپنی بڑی بہن کے اچانک بدلتے رویے سے ڈر کر رونے لگی تھی اب آنسو پوچھ کر لیٹی ساتھ ہی آنکھیں میچے سونے کی کوشش کرنے لگی،سینے میں رکھا ننھا دل بہت خوفزدہ ہوا تھا مطیبہ کے عجیب وحشت بھرے لہجے پر،
اپنے کمرے میں آتے ہی مطیبہ نے دائیں ہاتھ میں چھپایا چاقو زور سے بیڈ پر پھینکا،گیٹ بند کر کے وہ بیڈ پر بیٹھی گہرے سانس بھرنے لگی،ناذلی کی باتوں سے اسکے سر میں شدت سے درد ہونے لگا تھا،تو کیا وہ سچ میں ناذلی سے شادی کا خواہشمند تھا اگر کو کبھی ایسا ہوا تو مطیبہ جہانگیر خود کو جان سے مار ڈالے گی،ہاں وہ نہیں جی پائے گی اتنے بڑے غم کے ساتھ،آخر کو ہیثم سکندر اسکی محبت تھا وہ جنون کی حد تک چاہتی تھی اسے پھر کیسے اپنی ہی نظروں کے سامنے اسے کسی اور کا ہوتے دیکھ لیتی پر ہائے یہ زندگی کے ستم کہ وہ کسی اور کوئی اور نہیں بلکہ خود اس ہی کی چھوٹی بہن تھی،کیوں وہ انسان اسکی بچپن کی خالص محبت سے غافل تھا،کیوں اسے زرا برابر احساس نہیں ہوپایا تھا کہ کوئی اسکی توجہ اور محبت کا بھوکا تھا وہی توجہ اور محبت جو اکثر و بیشتر ہیثم جہانگیر اپنے لفظوں سے ناذلی پر نچھاور کرتا،صبح کا واقعہ سوچے ایک بار پھر مطیبہ کے دل میں درد کی ٹیس اٹھی،اندر کی گھٹن بڑھنے لگی تو وہ اٹھ کر جلدی سے کھڑکی کے پٹ وا کی،اسکا دل چاہا چیخ کر روئے،ساری دنیا کو اعلان کرے کہ وہ کس قدر آگے بڑھ چکی ہے ہیثم سکندر کی محبت میں پر وہ انسان اسکی بےلوث محبت سے انجان اپنی دنیا میں خوش تھا،یہ سوچتے اسکی آنکھیں کب بھیگی محسوس نہ ہوا مطیبہ کو،بھرائی نظروں سے وہ بیڈ پر پھینکے گئے چاقو کو دیکھی تھی،کاش کہ وہ تھوڑی اور ہمت کرلیتی،کاش۔۔۔،اگر کو آج خود میں ہمت پیدا کیے وہ ناذلی کو مار ڈالتی تو پھر اسکے اور ہیثم کے بیچ کوئی نہ ہوتا،اس طرح کی بہت سی وحشت بھری سوچیں اسکے ذہن میں آنے لگی تھیں،
“اے خدا۔۔۔آپ تو ہر اختیار رکھتے ہیں نا۔۔۔تو پلیز میری یہ دعا سن لیں۔۔۔ناذلی ہٹ جائے میرے راستے سے۔۔۔کاش کہ وہ مرجائے کاش۔۔۔میں اسے خود نہیں مارسکتی۔۔۔پر وہ اگر زندہ رہی تو کبھی ہیثم میرا ہو بھی نہیں پائے گا۔۔۔وہ مرجائے میرے رب وہ مرجائے۔۔۔”
بکھرے حلیے میں اپنے بال جکڑ کر بری طرح روتے وہ بآواز بڑبڑانے لگی،اسکے لہجے میں تڑپا دینے والا کرب تھا،اذیت سے دوچار ہیثم کی چاہ میں دیوانہ وار یہ بددعا دیتے وہ بھول چکی تھی کہ مقابل کوئی اور نہیں اس ہی کی سگی بہن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسکا ٹیسٹ کچھ خاص اچھا نہیں ہوا تھا،ہاسٹل سے کچھ دور ایک پارک میں وہ اداس سی بیٹھی اپنے ٹیسٹ کے بارے میں سوچ رہی تھیجب جب وہ پریشان یا آپ سیٹ ہوتی تب اس پارک میں آجاتی،ابھی بھی یہاں بیٹھ کر وہ یہی سوچ رہی تھی کہ لاسٹ ائیر تھا اسکا،پیپرز قریب تھے پر تیاری بلکل نہیں،کرتی بھی کیسے وہ تیاری پورا دھیان تو ہر پل اس انسان پر لگا رہتا،کیوں تھا وہ ایسا اتنا عجیب۔۔،سب سے الگ تھلگ رہنے والا،صرف ایک بینائی نہ ہونے سے کوئی کیسے دنیا سے اپنی خوشیوں سے کنارہ کشی کرسکتا تھا،کیوں وہ اوروں کی طرح زندگی جیتا نہیں صرف گزارتا تھا،کون ہوگا جس نے اسکے ساتھ اتنا برا کیا ہوگا،وہ یہ بات سوچ کر کافی حیرت میں مبتلا تھی پر اس سے بھی زیادہ حیرت عندلیب کو یہ سوچ کر ہوتی کہ ناجانے سلسبیل اس انسان کا کیا حشر کرے گا جب اسکی بینائی واپس آجائیں گی۔۔۔لیکن بینائی آئے گی بھی کیسے،گرینی نے تو بتایا تھا کہ ڈاکٹر نے چانسز کافی کم بتائیں ہیں پر پھر بھی وہ دعا گو تھی کہ سلسبیل کی بینائی جلد واپس آجائے،اس شاندار انسان کو یوں بےبس دیکھ اکثر وہ دکھی ہوجاتی،
انہیں سوچوں میں گھری عندلیب تب چونکی جب نظر کچھ دور رکھی دوسری بینچ پر پڑی،وجیہہ چہرے پر ہمیشہ کی طرح پتھریلے تاثرات،کھڑی مغرور ناک اور ایک دوسرے سے پیوست عنابی لب،اسے دیکھتے ہی عندلیب کا بجھا خوبصورت چہرہ پل میں کھلا،وہ یہاں پر تھا تو عندلیب کو اب کچھ اور سوچنے کی ضرورت ہی نہیں تھی،پھرتی سے اٹھ کر وہ تیز قدم اٹھاتی اس بینچ پر گئی جس پر بیٹھا وہ ناجانے کونسی دنیا میں گم تھا،آبنوس رنگ آنکھیں ہمیشہ کی طرح خالی دیکھ عندلیب کو ایک بار پھر دکھ نے آلیا مگر جلد ہی خود کو کمپوز کرتی وہ چہکی،
“کیسے ہو۔۔؟”
پوچھ کر وہ بینچ پر سلسبیل کے برابر میں کافی فاصلے پر بیٹھی،دوسری جانب اسکی خوبصورت دل کو مسرور کردینے والی سُریلی آواز سلسبیل کو دنیا کی سب سے بری آواز لگی،لمحے میں مقابل کو اسکی آواز سے پہنچانتے سلسبیل کے وجیہہ مگر سپاٹ چہرے پر ناگواری پھیلی،کشادہ پیشانی شکن آلود جبکہ عنابی لب بھنچے تھے،
“کیسے ہو۔۔۔؟”
مقابل کے سرد ترین تاثرات دیکھ وہ ایک مرتبہ پھر پوچھی،
“تم سے مطلب۔۔؟”
وہی دل دھڑکا دینے والی آواز مگر لٹھ مار لہجہ عندلیب کو ایک پل کے لیے چپ کراگیا،
“یہاں کیا کررہے تھے۔۔؟”
اسکے روکھے لہجے کو نظر انداز کیے وہ ہلکے پھلکے انداز میں دوسرا سوال کی،
“بیٹھا ہوا تھا پر اب۔۔۔”
زیرِ لب بڑبڑاتا وہ رکا ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر اندازے سے برابر میں رکھی اپنی اسٹیک پکڑی،اسے کھڑا ہوتا دیکھ عندلیب کے پنکھڑی مانند لبوں پر ٹہری نرم مسکراہٹ سمٹی،
“ارے تم میری وجہ سے پریشان مت ہو۔۔۔میں جارہی ہوں۔۔۔تم بیٹھو۔۔۔”
جلدی سے کھڑی ہوکر وہ یہ الفاظ بولی جس پر سلسبیل کچھ دیر تو یونہی کھڑا رہا پھر خاموشی سے بیٹھ گیا،صاف اشارہ تھا کہ وہ یہی چاہتا ہے،عندلیب ایک آزردگی بھری نظر اس پر ڈالتی واپس اپنی بینچ پر آئی پھر وہی سے سلسبیل کو دیکھنے لگی،ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ انسان یہاں ہو اور عندلیب چلے جائے،فاصلے پر ہی سہی پر وہ اسے ابھی جی بھر کر دیکھنا چاہتی تھی،ہتھیلی پر تھوڑی رکھے اس نے مسلسل سلسبیل کو دیکھتے زیرِ لب کہا،
“میرے رب اگر میری ایک قطرہ کے مانند نیکی بھی آپ کو اچھی لگی ہو۔۔۔تو اسکے بدلے سلسبیل کی بینائی واپس آجائے۔۔۔”
یہ دعا کرتے بےساختہ اسکی سرمئی آنکھوں کے کنارے بھیگے تھے،کیوں وہ انسان اسے اس قدر عزیز ہوچکا تھا،کیوں اسکے لیے وہ اتنی پاگل ہوچکی تھی،روز یہ سوال وہ اپنے شفاف دل سے کرتی پر جواب ہمیشہ کی طرح ندارد ہوتا،
“خیالِ یار اسے جا دستک دیا،
وہ وسوسوں کی طرح جھٹک دیا،
حوالہ دیکھو میرے کافر دل کا،
اُٹھا پھر اسکی یاد میں دھڑک دیا۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جلدی کرو ناشتہ۔۔۔تم لیٹ ہورہی ہو۔۔”
ناذلی کا بیگ اسکے برابر والی چئیر پر رکھتی مطیبہ مصروف انداز میں بولی،کل رات والی تکلیف اور بحث کا شائبہ تک نہ تھا دونوں کے چہروں پر،ایسی ہی تو تھیں وہ دونوں پل میں بحث ہوتی اور اگلے ہی پل یوں رہتی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،
“آپی میں کیسے کروں گی۔۔۔آج کا سبجیکٹ تو کچھ خاص یاد بھی نہیں کرپائی۔۔۔”
بےچارگی سے بولتی ناذلی جوس کا گلاس منہ سے لگائی،
“لڑکی ٹینشن مت لو۔۔۔خود کو سٹریس دوگی تو پریشانی میں لکھ بھی نہیں پاؤ گی۔۔۔بلکل ریلیکس رہو۔۔۔”
بریڈ پر جیم لگاکر اسے پکڑاتی وہ رسانیت سے کہہ کر مسکرائی ساتھ ہی اپنی چئیر سے اٹھی کیونکہ جہانگیر صاحب آفس کے لیے تیار سیڑھیوں سے اتر کر نیچے آرہے تھے،
“بیٹھیں بابا۔۔۔میں ناشتہ۔۔۔”
“آہاں۔۔۔نہ بچہ۔۔۔۔۔ناشتہ نہیں۔۔آج لیٹ ہوگیا ہوں امپورٹنٹ میٹنگ ہے۔۔۔آپ دونوں ناشتہ کر کے جاؤ پڑھنے۔۔۔اور ہاں نازو۔۔۔پیپر اچھے سے کرنا۔۔۔”
محبت سے کہتے وہ آخر میں ناذلی کے پاس آکر اسکی پیشانی چومتے نرمی سے بولے جس پر وہ چہک کر سر اثبات میں ہلائی،
“کوئی لیٹ نہیں ہورہے۔۔۔مالک ہیں آپ ورکر نہیں۔۔۔اور ویسے بھی بڑے بابا نے کونسا غصہ ہوجانا ہے۔۔۔وہ جانتے ہیں آپ ہمیشہ سے پنکچول رہے ہو۔۔۔بس آج ہی کچھ منٹ لیٹ ہوگے۔۔۔اب جلدی سے بیٹھیں یہاں۔۔۔”
جہانگیر صاحب کا بازو اپنے دونوں ہاتھ میں تھام کر انہیں چئیر پر بیٹھاتی مطیبہ مستقل بولتے آخر میں رکی جب نظر گھر داخلی دروازے پر کھڑے ہیثم پر پڑی،براؤن پینٹ پر وائٹ ٹی شرٹ ساتھ ہی اس پر گرے ہُڈی پہنے وہ باریک لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ سجائے قدم بڑھاکر ان لوگوں کے پاس آیا،اس کے پُرکشش چہرے کے کھلے نقوش دیکھ مطیبہ بےساختہ نگاہ پھیرنے پر مجبور ہوئی اس ڈر سے کہ کہیں جھیل رنگ آنکھوں میں امڈتے کئی خوبصورت محبت کے رنگ وہاں بیٹھے نفوس کے سامنے آشکار نہ ہوجائے،صبح صبح اس شخص کو یہاں دیکھ اس کا دل بےحد مسرور ہوا تھا،
“آئیے برخوردار۔۔۔؟”
اسے دیکھ کر جہانگیر صاحب خوش باش سے کہتے اشارہ کیے چئیر کی جانب،واضع تھا کہ وہ اسے ناشتے پر مدعو کررہے ہیں،انہیں ہیثم کو وہاں دیکھ حیرت نہیں ہوئی کیونکہ اکثر وہ کسی نہ کسی بہانے جہانگیر ہاؤس آتا رہتا،
“نہیں چاچو آج نہیں۔۔۔پھر کبھی۔۔۔میں تو بس یونی کے لیے نکل رہا تھا تو سوچا یہاں کا بھی چکر لگاتے جاؤں۔۔۔”
ایک نظر سر جھکائی ناذلی پر ڈالتے وہ مسکراکر سہولت سے انکار کیا،
“آ۔۔۔ناذلی۔۔۔تمہارا پیپر ہے نا آج۔۔۔لیٹ نہیں ہورہی۔۔۔”
وہ جو اپنی پلیٹ پر ناجانے کیا تلاش کرنے میں مگن سرجھکائے بیٹھی تھی ہیثم کے بولنے پر لبوں کو دانتوں میں دباتی اپنا چہرہ اٹھائی،اسکی اس ادا پر ہیثم نثار ہونے لگا،دوسری جانب مطیبہ کے چہرے پر جو ہیثم کی موجودگی کے باعث دھیمی مسکان سج چکی تھی یکدم غائب ہوئی،جھیل رنگ آنکھوں میں ناگواری چھائی مقابل کو نرم مسکراہٹ سمیت ناذلی کو دیکھتے دیکھ،
“لیٹ۔۔۔تو۔۔۔ہورہی ہوں۔۔۔پر۔۔”
ناذلی کو کل رات والی مطیبہ کی ڈانٹ یاد آئی تو اسے ایک چور نظر دیکھ کر ہلکی آواز میں بولی،
“تو چلو۔۔۔میں یونی جارہا ہوں۔۔۔تمہیں بھی کالج ڈراپ کردوں گا۔۔۔”
وہ تو جیسے منتظر تھا اس جملے کا تبھی جھٹ سے بولا،
“نہیں۔۔۔میں ڈرائیور کے ساتھ۔۔۔”
“ارے بیٹا وہ جب کہہ رہا ہے کہ تمہیں ڈراپ کردے گا تو چلی جاؤ۔۔۔”
ناذلی جو پہلے ہی ڈری تھی ہیثم کی آفر پر اب جہانگیر صاحب کے بات کاٹ کر نرمی سے کہنے پر سچ میں پریشان ہوتی مطیبہ کو دیکھی جس کے تاثرات پل میں سپاٹ ہوئے تھے،
“تو چلیں۔۔۔”
اسکی خاموشی پر ہیثم خوشی سے بولا اب تو جہانگیر صاحب نے بھی اجازت دے دی تھی،ناذلی آہستگی سے اثبات میں سر ہلاتی چئیر کھسکا کر اٹھی ساتھ ہی برابر رکھی چئیر پر سے اپنا بیگ اٹھایا،
“مطیبہ۔۔۔آپ نے بھی جانا ہے نا یونی۔۔۔”
اچانک جہانگیر صاحب نے ناشتے سے ہاتھ روک کر کہا جس پر مطیبہ کی نظریں ہیثم کے جانب اٹھیں،اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی جہانگیر صاحب کی اس بات پر تبھی چہرے پر بدمزگی لائے وہ ناذلی کو دیکھنے لگا،
“نہیں بابا۔۔۔آج یونی نہیں جانا مجھے۔۔۔”
بےتاثر لہجے میں کہہ کر اس نے کچن کا رخ کیا،دوسری جانب ہیثم خوشی سے سرشار ہوا،
“ہیں۔۔۔پر آپی آپ نے تو کہا تھا کہ جانا۔۔۔”
“چھوڑو ناذلی۔۔۔اگر وہ نہیں جانا چاہ رہی تو ہم ضد تھوڑی کرسکتے ہیں۔۔۔اسکا موڈ نہیں ہوگا۔۔۔چلو تمہیں ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔دیر ہوجائے گی ورنہ۔۔۔”
ناذلی جو جزبز کا شکار کچن میں جاتی مطیبہ کو بول رہی تھی یکدم اسکی بات کاٹتا ہیثم جہانگیر صاحب کا لحاظ کر کے مسکراتا آخر میں اسے دیکھ کر دانت پیسے بولا،پھر جلدی سے جہانگیر صاحب سے اجازت لیتا ناذلی کے ساتھ باہر آیا،
“بیٹھیں میڈم۔۔۔”
مسکراکر کار کا گیٹ کھولے وہ ادب سے تھوڑا جھک کر بولنے کی ایکٹنگ کیا جس پر کھلکھلاتی ناذلی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی،ناذلی کے بیٹھتے ہی وہ گیٹ بند کیے خوشی سے بالوں میں ہاتھ پھیرتا دوسرے جانب آتا گیٹ کھول کر بیٹھا،یہ منظر کچن کی کھڑکی(جو کہ پورچ کے جانب کھلتی) سے مطیبہ نے جلتی آنکھوں سے دیکھا،اس وقت جس قدر بھانبھڑ اسکے اندر جل رہے تھے اسکا شدت سے دل چاہا کہ ان سے ناذلی جہانگیر کو جلاکر رکھ دے،کیوں وہ اس سے چھوٹی ہونے پر بھی مقابل کی محبت کی پہلی حقدار بنی تھی،کیوں اس کی پاک بےلوث محبت یکطرفہ ہی رہ گئی تھی اور یقیناً اس کی یہ محبت یکطرفہ ہی رہنی تھی جس میں ہیثم سکندر اپنی عنایت کے چند سکے بھی نہیں ڈالنے والا تھا،اففف۔۔۔۔،کس قدر بےبس تھی وہ،چاہ کر بھی اپنے جذبات مقابل پر آشکار نہیں کرسکتی تھی،آنسو کب جھیل سی آنکھوں سے ٹوٹ کر رخسار پر پھسلے وہ اپنی اذیتوں کے بدولت محسوس ہی نہ کرسکی،پورچ پر کار سٹارٹ ہونے کی آواز سے اسکا محور ٹوٹا،جہانگیر صاحب بھی اب جارہے تھے،انکی کار کو جاتا دیکھ وہ پلٹ کر کچن سے نکلی،
مُردہ قدموں سے اپنے کمرے میں داخل ہوتی وہ وارڈروب کے جانب بڑھی،ایک مرتبہ پھر اپنے تڑپتے کرب بھرے جذباتوں کو لفظوں کے نام دینے،چابی سے لاک ہوئی ڈرار کھول کر اس نے اپنی ڈائری نکالی،ایک شفاف موتی ٹوٹ کر اس ڈائری پر گرا،وہ دونوں کار میں ایک ساتھ ہوں گے ابھی،یہ سوچ آتے ہی وہ بےساختہ سسکی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
