Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 17)

414.5K
41

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 17)

Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz

سلسبیل کے جانے کے بعد وہ واپس اپنے روم میں آئی تھی،اتنے سالوں سے اس زخمی دل میں پل میں خوشیوں کی پھوار پڑی تھی لیکن اگلے ہی لمحے سلسبیل کے لفظوں نے ان پر انگارے جلانے کا کام کیا،اس قدر معمولی تو نہ تھی اس کی محبت جو مقابل صرف ڈھائی سالوں میں اسے بھلا چکا تھا،ہاں وہ اسے بھلا ہی چکا تھا تبھی شاید پہچان نہ پایا،پرانی یادوں میں کھوتے ہوئے کالی آنکھوں کے ڈورے حد سے زیادہ لال ہونے لگے،

“عندی۔۔”

کمرے میں تیزی میں داخل ہوکر اس کی سوچوں کا تسلسل توڑنے والی یہ فلذہ تھی،

“مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔”

وہ ان دونوں کے نظروں کے ارتکاز سے کافی پریشان ہوئی تھی کہ اس بار وہ اپنے اور سلسبیل کے بیچ کسی قسم کی رکاوٹ نہیں چاہتی تھی،

عنادیہ کے اثبات میں سر ہلانے پر وہ بیڈ پہ اس کے پاس آکر بیٹھی،

“وہ۔۔سلسبیل تھا جو کچھ سال پہلے اپنی پڑھائی کے سلسلے میں یہاں انیکسی میں رہنے آیا تھا۔۔۔”

ناپ تول کر لفظوں کو چنتی وہ بات کا آغاز کرنے لگی،عنادیہ جو سنجیدہ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی،اسکی آنکھوں میں حیرت گھلی،تو مطلب دریہ بیگم نے اسے جس فیملی کا بتایا تھا وہ اس ہی کی فیملی تھی جہاں سلسبیل پڑھائی کے غرض گیا تھا اور پھر اس کے ساتھ وہ حادثہ پیش آیا،مگر وہ حادثہ تو نہیں تھا،کسی نے جان بوجھ کر اس کے ساتھ یہ کیا تھا مگر کس نے،یہ سوچ سوچتے ہوئے عنادیہ مسلسل فلذہ کے چہرے پر اتار چڑھاؤ بغور دیکھ رہی تھی،

“تمہیں پتا ہے وہ اب مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتا تھا۔۔۔”

حتیٰ الامکان کوشش کی گئی لہجے کو آبدیدہ بنانے کی،عنادیہ کی ناسمجھ نظروں کو دیکھ وہ مزید گویا ہوئی،

“کیونکہ جب وہ یہاں پڑھنے کے غرض سے آیا تھا تب ہماری فرینڈ شِپ ہوگئی تھی۔۔۔میں اسے بہت اچھا انسان سمجھتی تھی لیکن۔۔۔”

“لیکن ایک دن میری دوستی اور معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا اور جانتی ہو عندی میں بہت مشکل سے اس دن اپنی عزت بچائی تھی ورنہ تو۔۔۔”

مکمل رونے کی تیاری کرتی وہ بات روک گئی جیسے لہجہ بھراگیا ہو،عنادیہ کی آنکھوں میں ناگواری کے ساتھ ساتھ ملامت ابھرنے لگی،

“خیر چھوڑو اس بات کو۔۔۔میں بس یہ بتانا چاہ رہی ہوں کہ وہ اس دن کی غلطی پر کافی شرمندہ ہے تبھی اب مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔۔۔”

اس کی بات سن کر عنادیہ نے ہاتھ سے اسکی جانب اشارہ کیا،گویا پوچھ رہی ہو کہ آپ کیوں تیار ہوئیں نکاح کے لیے گر وہ اتنا برا ہے۔۔۔،جس پر فلذہ تھوڑا گڑبڑائی پھر بولی،

“ہم لڑکیوں کو اپنی عزت عزیز ہوتی ہے عندی۔۔۔اب اگر وہ شرمندہ ہوکر مجھ سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو مجھے اسے ایک موقع تو دینا چاہیے نا۔۔۔”

عنادیہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی وہ شاطرانہ انداز میں خود کو معصوم ظاہر کی تھی،غیر محسوس طریقے میں عنادیہ فلذہ کے ہاتھ کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالی تھی،اس کی آنکھوں میں زرا ہمدردی نہ آئی تھی مقابل بیٹھی فلذہ کے لیے،

“ایکسکیوز می۔۔”

اچانک ہی سیفی کی کال اس کے نمبر پر آنے لگی تبھی اس سے ایکسکیوز کرتی باہر کی راہ لی مگر عنادیہ کی ملامت بھری نظروں نے اس وقت تک فلذہ کی پشت کو دیکھا جب تک وہ روم سے نہ نکل گئی ہو،

“ہیلو۔۔”

باہر نکل کر وہ کال ریسیو کرتے بولی،

“کیسی ہو ہنی۔۔۔؟”

دوسری جانب سے سیفی کے کہنے پر وہ آنکھیں کوفت سے بند کی،

“ظاہر سی بات ہے ٹھیک ہی ہوں گی۔۔۔”

بیزاریت بھرا لہجہ کے سیفی حیران ہوا،

“کیا ہوا فلذہ۔۔موڈ خراب ہے کیا۔۔؟”

“نہیں۔۔تم بتاؤ کیا کام ہے۔۔؟”

اس کا بدلا لہجہ سیفی کو جھٹکوں کے زد میں لے گیا تھا،کہاں وہ لڑکی اس کے آگے پیچھے گھومنے والی اور اب کیسے بات کررہی تھی،

“ضروری نہیں کہ کام ہو تبھی کال کروں۔۔۔میں تو تمہیں یہ کہنے کے لیے کال کیا ہوں کہ نروس بلکل مت ہونا ایک دن بعد جب مام ڈیڈ آئیں گے۔۔۔کیونکہ انہیں میں نے تمہاری پک دکھائی تھی۔۔۔کافی پسند آئی ہو تم ان دونوں کو۔۔۔”

جتنی خوشی سے وہ بتارہا تھا فلذہ کا اتنا ہی چہرہ بگڑا،

“سیفی تم۔۔تم اپنے مام ڈیڈ کو نہیں بھیجو یہاں۔۔۔”

کچھ پل کی خاموشی کے بعد وہ بولتے ہوئے سیفی کو شدید حیران کرگئی،

“مطلب۔۔کیوں نہ بھیجوں۔۔کوئی پرابلم ہے کیا۔۔۔”

“نہیں پرابلم نہیں۔۔۔میرا مطلب ہاں۔۔پرابلم یہ ہے کہ ماما کو تم پسند نہیں آئے۔۔۔”

سوچ سوچ کر جواز پیش کی تھی وہ،

“ارے تو یہ کان سی بڑی بات ہے۔۔۔میں منالوں گا آنٹی کو۔۔تمہارے لیے اتنا تو کر ہی لوں گا۔۔۔”

وہ فوراً حل بتایا،فلذہ کا یکدم دل اُچاٹ ہوا تھا اس سے،ذہن کے پردے پر بار بار وہ مغرور شخص آرہا تھا،

“نہیں ماما پھر بھی نہیں مانیں گی۔۔۔”

“فلذہ تم بےفکر رہو۔۔میں منالوں گا۔۔۔”

“ارے کہا نا نہیں تو بس نہیں۔۔۔عجیب زبردستی ہے۔۔۔دیکھو سیفی میں اپنی ماما سے بہت محبت کرتی ہوں اور ہمیشہ ان کا کہا گیا مانتی ہوں اس لیے اگر تم انہیں پسند نہیں تو پھر۔۔۔مجھے بھی پسند نہیں۔۔۔اب آئندہ کال مت کرنا مجھے۔۔۔”

اچانک ہی بھڑک کر کہتی وہ کال کٹ کرگئی ساتھ ہی گہرا سانس بھری کہ جان چھوٹ گئی،اس کے بعد کتنی ہی کالز آئیں سیفی کی مگر وہ فوراً سے پہلے اس کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈالی تھی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلسبیل کے جانے کے بعد وہ اوپر اپنے روم میں آیا،ارادہ تیار ہوکر آفس جانے کا تھا مگر وہ ٹھٹھکا جب نظر مطیبہ پر پڑی جو آئرن سٹینڈ کے پاس کھڑی اس کی ایک شرٹ پریس کررہی تھی،نازک کمر پر پھیلے بھیگے بالوں نے واضح کیا کہ وہ کچھ دیر پہلے ہی نہاکر نکلی تھی،پنک قمیض شلوار پر بےترتیبی سے دوپٹہ لیے وہ اسکی موجودگی سے بےخبر بلکل مصروف تھی اپنے کام میں،بغور اس کا جائزہ لیتے ہیثم کے ماتھے پر شکنوں کا جال بنا،آہستگی سے قدم اٹھاتا وہ عین مطیبہ کے پیچھے کھڑا ہوا ساتھ ہی اپنا ہاتھ اس کی کمر پر رکھا،بری طرح چونکتی مطیبہ کا ہاتھ لرز کر رکا تھا جب مقابل کا ہاتھ اپنی کمر پر رینگتا محسوس ہوا،اپنا سینہ آہستہ سے اس کی پشت سے لگایا تھا وہ،وہ جو مدھم ہوتی سانسوں سمیت اس کی انگلیوں کا گرم لمس برداشت کررہی تھی یکدم سانس روکی جب استری تھامے مطیبہ کے ہاتھ پر وہ اپنا بھاری ہاتھ رکھا،ایک آنسو نکل کر عارض پر گرا مقابل کی نرمی پر،وہ کتنی نرمی سے اپنی شرٹ پر اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھے استری چلارہا تھا،مطیبہ کے گداز لب مسکرائے تھے مگر اگلے ہی لمحے وہ چیخ اٹھی جب اچانک اس کا دوسرا ہاتھ پکڑتا وہ استری اس پر رکھا،

“چپ۔۔۔”

فوراً استری اسٹینڈ پر رکھ کر وہ مطیبہ کے لبوں پر بھاری ہاتھ جماکر گویا ہوا،تیزی سے بھیگتی آنکھوں سمیت وہ خوفزدہ نظروں سے اپنی پشت پر چہرہ موڑے ہیثم کو دیکھی تھی،ہاتھ کی پشت پر ہوتی جلن حد سے سوا تھی،درد سے وہ چیخنا چاہتی تھی مگر مقابل کی سخت گھوری نے اس میں ہمت بھی پیدا نہ ہونے دی،

“یہ فرسٹ اور لاسٹ وارننگ سمجھنا کہ آئندہ اپنے خونی ہاتھوں سے میری چیزیں داغدار مت کرنا۔۔۔”

اس کے لبوں سے ہاتھ ہٹاکر وہ جھٹکے سے اسے چھوڑا کہ مطیبہ خود کو سنبھالنے کے چکر میں سیدھا نیچے گری،اہانت کا احساس اسے نظریں اٹھانے نہیں دے رہا تھا،اپنے جلے ہاتھ کو سختی سے پکڑے وہ دبی آواز میں آنکھیں میچ کر بلک کر رونے لگی تھی،ہاتھ کی پشت زیادہ نہیں جلی تھی مگر اس کی جلن ہی اتنی شدید تھی کہ مطیبہ کے آنسوؤں کا ایک مرتبہ پھر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا،اس کو تنفر سے دیکھتا ہیثم اپنی شرٹ آئرن اسٹینڈ سے اٹھایا ساتھ ہی اسے دھونے کے لیے رکھتا دوسری شرٹ نکال کر ملازمہ کو آواز دیا،اسے شرٹ پکڑاتا ہیثم گھورا جب وہ ترحم نظروں سے نیچے چہرہ جھکائے روتی مطیبہ کو دیکھنے لگی،ہیثم کی گھوری پر گڑبڑاکر وہ ملازمہ شرٹ لے کر پریس کرنے کے لیے گئی،

“بابا۔۔۔!!”

ہیثم نے واشروم کا رخ کیا جبکہ نیچے بنا آواز کے روتی مطیبہ بےساختہ پکاری،اسے شدت سے جہانگیر صاحب کی یاد آئی تھی جو اپنی بیٹیوں کو بےحد چاہتے تھے،دل کیا تھا کسی بھی طرح ان کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے،اس کا ایک ایک پل رہنا اب محال ہونے لگا تھا یہاں،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنے آفس میں راکنگ چئیر پر بیٹھا وہ آنکھیں موندے مسلسل صبح ہوئے واقعے کا سوچ رہا تھا،اس کا سکندر ولا جانا،فلذہ سے شادی کا پروپوزل دینا،مہناز بیگم کا خوش ہونا،اچانک بدلتی دل کی حالت اور پھر اس اپسرا کا سامنے آنا،وہ آج تک کسی کے حسن سے متاثر نہ ہوا تھا مگر عنادیہ کا خوبصورت چہرہ دیکھ اسے لگا کہ لفظ حسین بھی کم پڑا ہو اس لڑکی کی سوگوار خوبصورتی بیان کرنے میں،اس لڑکی کی موجودگی نے اسے عندلیب کا احساس دلایا تھا،وہ دل کی دھڑکنوں کا شور مچانا بلکل اس ہی طرح جب عندلیب اس کے پاس ہوتی،مگر وہ اپنے دل کی بات پر صاف انکار کرگیا،کیونکہ عندلیب تو مرچکی تھی،اس سوچ نے سلسبیل کو بیٹھے بیٹھے اذیتوں کے گھڑوں میں ڈالا تھا،

“پر وہ عندلیب ہی کیوں لگی تھی۔۔۔”

دل نے تھوڑی سی کوشش کی تھی پھر سمجھانے کی،سلسبیل کا سر درد سے پھٹنے کو ہوا،تبھی ٹیبل کے دراز سے سگریٹ کی ڈبی کے ساتھ لائیٹر نکالتا وہ سگریٹ سلگایا،تھوڑی ہی دیر بعد وہ منہ سے دھواں چھوڑتا کال ریسیو کیا جب فون بجنے لگا،

“سو وہ آدمی ابھی کچھ دیر پہلے اپنے گھر سے نکلا ہے۔۔۔کال پر کسی سے بات کررہا تھا کہ رات کو (۔۔۔۔) ہوٹل میں روم بک کرنا ہے۔۔۔”

عفان نے اسے ہناد کے ایک اور دوست کی خبر دی،جس پر سلسبیل اسے رات تک اس آدمی پر نظر رکھنے کا کہتا کال کٹ کیا،

“اس کے بعد صرف تین اور۔۔۔”

پراسراریت سر مسکراتا وہ زیرِ لب بڑبڑایا،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی وہ مہناز بیگم سے طویل بحث کرکے ان کے روم سے نکلا تھا،اسے شدید غصہ آیا تھا یہ سن کر کہ سلسبیل نے فلذہ کے لیے پروپوزل دیا،اور وہ غصہ مہناز بیگم کی اس رشتے پر رضامندی سے بڑھا تھا،وہ انہیں وارن کرنے لگا تھا کہ سلسبیل یہ سب صرف بدلے کے لیے کررہا ہے مگر انہوں نے ہناد کی ایک نہ سنی۔۔۔سلسبیل کا اچھا رویہ انہیں اس قدر بھایا تھا کہ اب وہ جیسے اٹل ہوچکی تھی اپنے فیصلے پر،لاؤنج میں کھڑا وہ اپنی پیشانی مسلتا شدید چائے کی طلب ہونے پر ملازمہ جو آواز دینے کے لیے منہ کھول ہی رہا تھا جب نظر سیڑھیوں سے اترتی مطیبہ پر پڑی،ہناد کا سر درد پل میں غائب ہوا،اس نے رسٹ واچ پر نظر ڈالی،ہیثم جو آفس گئے ایک گھنٹہ ہونے کو تھا تبھی لبوں پر معنیٰ خیز مسکراہٹ سجائے اس نے مطیبہ جو پکارا،

وہ جو ہیثم کے آفس جانے کے بعد ہاتھ کی پشت پر برنال لگاتے ہوئے مسلسل رونے میں مصروف تھی اب اپنے آنسو صاف کر کے ہاتھ پکڑے نیچے آرہی تھی مگر ہناد کی پکار پر بوکھلا کر نیچے لاؤنج میں صوفے کے قریب کھڑے ہناد کو دیکھنے لگی،

“ایک کپ چائے بنادو گی۔۔۔سر میں بہت درد ہورہا ہے۔۔۔”

اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھتا وہ بےچارگی سے بولا،ان کا سامنا اس رات کے بعد سے اب ہوا تھا تبھی مطیبہ کافی ڈر بھی رہی تھی،

“ہناد بھائی میں فرخندہ سے کہہ دیتی ہوں کیونکہ مجھے تائی امی کے لیے کافی بنانی ہے۔۔۔”

جلدی سے بہانہ سوچتی وہ ملازمہ کا نام لی،

“ارے تو کوئی بات نہیں۔۔۔آپ کے ہاتھ کی کافی بھی قبول ہمیں۔۔۔”

کمینگی مسکراہٹ سمیت اس کے سرخ چہرے کو دیکھ وہ پرسکون سا کہنے لگا،مطیبہ کو جی بھر کر رونا آیا،آخر کیوں وہ انسان اس کی جان نہیں چھوڑتا،

“ایک منٹ۔۔۔یہ ہاتھ کو کیا ہوا تمہارے۔۔۔”

وہ جو اب نیچے آتی سیدھا کچن کا رخ کرنے لگی تھی ہناد کے اچانک سامنے آکر کہنے پر گھبراکر پیچھے ہوئی،

“دکھاؤ زرا مجھے۔۔۔”

اس سے پہلے مطیبہ اپنا ہاتھ پیچھے کرتی وہ پھرتی سے اس کی کلائی پکڑتا ہاتھ کی پشت سامنے کیا،مطیبہ کا مانو خون نچڑ کر گالوں پر آیا تھا،گھبراتے ہوئے وہ سہم کر ہناد کو دیکھنے لگی جو زخم دیکھنے کے بہانے اس کی کلائی سہلانے میں مگن تھا،

“کیسے ہوا یہ۔۔۔”

بہت فکرمند لہجہ بنایا تھا وہ،

“کپ۔۔کپڑے پریس۔۔۔کر۔کرتے ہوئے۔۔غلطی۔۔سے۔۔ہوگیا۔۔”

مقابل کے ہاتھوں سے زبردستی اپنا ہاتھ نکال کر وہ ہکلاتے ہوئے بولی،

“مطیبہ۔۔۔خیال رکھا کرو اپنا۔۔کتنی فکر ہوتی ہے مجہ۔۔”

“ممہ۔۔میں کافی بنادیتی ہوں۔۔۔”

وہ جو باتوں کو طول دینے کے غرض اس کے قریب ہورہا تھا مطیبہ نے بات کاٹ کر جلدی سے کہا ساتھ ہی کچن کی طرف تقریباً بھاگی،

“چہچہچہ۔۔۔ہا۔۔۔ڈرپوک لڑکی۔۔”

اس کے پیچھے ہی کچن میں آتا وہ بڑبڑایا،اتفاقاً اس وقت کچن میں مطیبہ کے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا،

کچن میں آکر مطیبہ نے ابھی سکون کا سانس ہی لیا تھا کہ اچانک اس کا دل گھبرایا جب سامنے ہی ہناد کو فریج سے ٹیک لگائے دیکھا خود کو گھورتے دیکھا،

میں نے سوچا کہ اب تم کافی بناکر میرے لیے روم میں لانے کا تکلف کروگی تو کیوں نہ میں یہی کھڑے رہوں۔۔۔جب تم کافی بنالو گی تو میں خود ہی لے لوں گا۔۔۔

اس کے خوبصورت بوکھلائے چہرے کو نظروں میں لیے وہ بولا،مطیبہ نے جواب دینا بےسود سمجھا کہ جانتی تھی وہ شخص اب جانے نہیں والا یہاں سے تبھی خاموشی سے کافی بنانے لگی،کافی بنانے کے دوران وہ حد سے زیادہ پریشان ہوئی تھی ہناد کی نظروں سے،بار بار اپنا دوپٹہ ٹھیک کرتی وہ مڑی تھی ریک سے لینے کے لیے اور تبھی ہناد قدم اٹھاتا ٹھیک اس کے عین پیچھے جا کھڑا ہوا بغور مطیبہ کی پشت پر پھیلے ریشمی بالوں کو دیکھ وہ آہستگی سے اپنے ہاتھ کی پشت پھیرا تھا اس پر،وہ جو سفید ماتھے پر شدید پریشانی کی شکنیں لیے مگ اٹھا رہی تھی یکدم اچھل کر رہ گئی،مگ نیچے گر کر ٹوٹا جبکہ مطیبہ پلٹ کر پیچھے ہوکر سیدھا سلیپ سے جالگی،

“ڈر گئی۔۔۔؟”

ہناد ہنستے ہوئے بول کر غور سے اس کی اڑی ہوئی رنگت کو دیکھا،مطیبہ اندر تک لرزی تھی مقابل کی گستاخی پر،دماغ بری طرح ہلا،

“آپ۔۔آپ جائیں یہاں سے۔۔۔”

اچانک ہی غصہ اس کی رگ و پے میں سرایت کرگیا تو وہ سخت لہجے میں بولی،

“میں مذاق کررہا تھا مطیبہ۔۔”

اس کے تاثرات میں سختی گھلتے دیکھ ہناد نے جواز پیش کیا،

“میں نے کہا جائیں یہاں سے۔۔۔مہ۔۔میں کافی بھجوادوں گی فرخندہ سے۔۔۔”

اس کے دل میں ہول اٹھنے لگے تھے،کسی بھی طرح وہ بس ہناد کی خباثت بھری نظروں سے غائب ہونا چاہتی تھی،

“پر مطیبہ۔۔۔”

“بھائی۔۔”

دونوں چونکے تھے اس آواز پر،ہناد نے دیکھا کچن کے داخلی حصے پر کھڑی فلذہ ناگوار نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی،کچھ دیر پہلے کی گئی اس کی گستاخی فلذہ کی نظروں سے مخفی نہ رہی تھی،مطیبہ کو یک گونہ سکون ملا تھا اسے دیکھ کر،

“آپ کو ماما بلارہی ہیں۔۔۔”

ناگواریت سے کہہ کر وہ ہناد کے جانے کا انتظار کی،جب وہ ایک نظر مطیبہ پر ڈال کر خاموشی سے نکلا کچن سے تبھی فلذہ اندر آئی،

“تم ٹھیک ہو۔۔؟”

مطیبہ کے کندھے پر ہاتھ رکھتی وہ سنجیدگی سے پوچھی اور مطیبہ کا ضبط ٹوٹا،اس سے گلے لگ کر مطیبہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی،

“میں مرجاؤں گی فلذہ یہاں پر۔۔۔اس شخص نے میرا جینا محال کردیا ہے۔۔۔مجھے بچالو پلیز اس سے۔۔۔کوئی میری بات کا یقین نہیں کرے گا۔۔۔تم۔۔صرف تم ہو جو مجھے اس سے نجات دلاسکتی ہو۔۔۔”

اس کے گلے لگے وہ جیسے اتنے دنوں کی بھڑاس نکالنے لگی تھی،تکلیف شدید تھی تو آنسو بھی اتنی ہی روانی سے نکل رہے تھے،جھیل آنکھیں سوج چکی تھی مگر وہ رونا بند نہیں کی،

“ریلیکس ہوجاؤ مطیبہ۔۔۔میں ہوں نا۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔”

اسے دور کر کے فلذہ مطیبہ کے گال ہر ہاتھ رکھتی تسلی دی،اتنے سالوں بعد کسی کو خود سے ہمدردی کرتے دیکھ مطیبہ کی آنکھیں بار بار بھرارہی تھیں تبھی وہ اثبات میں سرہلائی،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔💞💞💞💞۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔