Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 19)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 19)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
سبھی مہمانوں کی آمد کے بعد منگنی کی رسم بھی شروع کردی گئی تھی،مطیبہ سٹیج پر فلذہ کے بلکل برابر میں کھڑی فلذہ کے چہرے پر سب کچھ پالینے کی خوشی کی دمک دیکھ رہی تھی،اس کے دماغ میں کئی طرح کے سوچوں کے حصار بنے کہ سامنے بیٹھی اس کی دوست کی قسمت کا قدر اچھی ہے۔۔۔جسے چاہتی تھی آخر کار وہ اسے مل ہی گیا۔۔۔،حالانکہ فلذہ کی دل پھینک عادت سے وہ واقف تھی تبھی اسے اپنا خیال آیا،وہ تو دل پھینک نہ تھی،اس نے تو جب سے ہوش سنبھالا تھا تب سے صرف ایک ہی فرد پر اپنے دل کے دروازے کھولے تھے،ایک ہی انسان کو جنون کی حد تک چاہا مگر ہمت کبھی نہ کر پائی اسے بتانے کی،پھر بھی۔۔۔،پھر بھی کیوں وہ اس شخص کی نظروں میں اتنی گری ہوئی ہے۔۔۔کیوں وہ اس کا ہوکر بھی اس کا نہیں۔۔۔،اس طرح کی بہت سی سوچوں کا ارتکاز تب ٹوٹا جب اسے اپنا چہرہ کسی کی نظروں کی تپش سے جلتا محسوس ہوا،وہ سمجھ گئی تھی کہ اسے اتنے غور سے دیکھنے والا ضرور ہناد ہی ہوگا تبھی ایک نظر تنفر سے اس نے نیچے دوڑائی مگر ہناد اس کی طرف متوجہ نہ تھا،وہ حیران ہوئی پر ہیثم پر نظر پڑتے ہی اس کا دل زور سے دھڑک کر رہ گیا مقابل کو مسلسل اپنی طرف دیکھتا پاکر،پل میں گلابی ہوتے عارض پر پلکوں کی جھالریں گراتی وہ نگاہ پھیر گئی،دوسری طرف ہیثم جو خاموش نظروں سے مطیبہ کے اداس چہرے کو دیکھ رہا تھا اچانک اس کے گال سرخ پڑتے دیکھ وہ نظریں ہٹایا تھا اس پر سے،
“سلسبیل رسم شروع ہوگئی ہے بیٹا چلو۔۔۔”
وہ جو پلر کے پاس کھڑا کال پر کسی سے محو گفتگو تھا دریہ بیگم کی آواز پر اثبات میں سر ہلایا،
“گرینی رکیں۔۔”
اسے بتاکر دریہ بیگم اسٹیج پر جانے لگیں تبھی وہ پکارا،
“بولو بیٹا۔۔”
ان کے رکنے پر سلسبیل نے ایک نظر اسٹیج پر مہناز بیگم کے برابر میں کھڑی عنادیہ پر ڈالی پھر آنکھوں سے اس کی طرف اشارہ کرتا وہ دریہ بیگم سے پوچھا،
“آپ کو نہیں لگتا کہ وہ لڑکی کچھ جانی پہچانی سی ہے۔۔۔”
سلسبیل کے اشارے پر دریہ بیگم نے اسٹیج پر سوگوار روپ میں کھڑی عنادیہ کو دیکھا پھر ناسمجھی سے سلسبیل کو دیکھ گویا ہوئیں،
“نہیں تو۔۔۔پہلی مرتبہ دیکھ رہی ہوں اسے۔۔۔کیوں۔۔”
ان کی بات سے سلسبیل کے دل پر اوس پڑی،بھنچے لب سمیت وہ نفی میں سر ہلاتا اسٹیج کی طرف گیا،کچھ عجیب ہی لگنے لگا تھا اسے،دل گواہی دیتا کہ وہ کوئی اور نہیں اس کی عندلیب ہے مگر دریہ بیگم کی باتوں اور تاثرات سے اس پر واضح ہوا کہ انہوں نے پہلی مرتبہ اسے دیکھا ہے،
سلسبیل کو اسٹیج کی طرف جاتے دیکھ دریہ بیگم کے تاثرات بدلے تھے،دکھ اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں وہ اپنے پوتے کی پشت کو دیکھیں،یقیناً اس کی محبت سچی تھی جو وہ عندلیب کے شناسا احساس کو پہچان رہا تھا،اپنے ہاتھ میں عنادیہ کا دیا لیٹر دیکھ ان کی آنکھیں جھلملائیں،کتنی خوش ہوئی تھیں وہ اسے زندہ دیکھ مگر اس لیٹر نے ان کی خوشی پل میں مدفون کی،ایک دفعہ پھر انہوں نے اسٹیج پر دیکھا جہاں عنادیہ انہیں ہی دیکھ رہی تھی،دریہ بیگم کو دیکھ وہ عاجزانہ انداز میں نفی میں سرہلائی جیسے منع کررہی ہو جس پر انہوں نے اسے مطمئن کرنے کے غرض آہستگی سے آنکھیں موند کر کھولی،
کچھ ہی دیر بعد انگوٹھی پہنانے کی رسم شروع ہوئی،فلذہ نے سلسبیل کو جب رنگ پہنائی تب سلسبیل کی سرد نظروں نے سیدھا اس کے پیچھے کھڑی پری وش کو دیکھا جو آنکھوں میں الگ ہی کرب جبکہ پنکھڑی مانند لبوں پر زبردستی کی مسکان سجائے اسے دیکھ رہی تھی،جب باری سلسبیل کی انگوٹھی مہنانے کی آئی تب عنادیہ کی برداشت ختم ہوئی،اس کا دم گھٹنے لگا تھا،وہ اور نہیں دیکھ سکتی تھی یہ تبھی اسٹیج سے اتر کر سیدھا ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی سلسبیل کی نظروں نے اس کا تعاقب کیا تھا،
“پہناؤ بھی۔۔۔”
اسے ہاتھ میں رنگ یونہی تھامے دیکھ فلذہ نے ہلکی مگر پرجوش آواز میں کہا تو سلسبیل نے ایک سرد نظر اس پر ڈالی پھر طنزیہ مسکراہٹ سمیت اسٹیج اور لوگوں کی بھیڑ سے بلکل دور کونے میں اسے دیکھا جو ہاتھ میں گن تھامے سلسبیل کی جانب نشانہ لیے کھڑا تھا،کیپ پہنے رہنے کی وجہ سے اس شخص کا چہرہ آدھا چھپا ہوا تھا مگر عنابی لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ صاف پتا دے رہی تھی کہ کچھ الگ کرنے کا ارادہ کرتا ہے وہ،سلسبیل کا نشانہ لیتے وہ گن پکڑے ہاتھ کو اچانک اوپر کیا پھر بیچ میں لگے خوبصورت فانوس پر رکھے ٹریگر دبایا،
ٹھاہ کی آواز سمیت وہاں لوگوں کا شور برپا ہوا،فانوس کے دو بلب ٹوٹے تھے مگر کچھ ہی دیر میں بینکوئیٹ میں چھایا اندھیرا شور کی آواز سمیت لوگوں میں بھگ دڑ مچنے پر مجبور کرگیا،مہناز بیگم فلذہ کو پکڑتی گھبرائی تھیں،دریہ بیگم نے سلسبیل کو پکارا مگر وہ وہاں ہوتا تو ان کی پکار کا جواب دیتا،
“کیا ہوا ہے۔۔۔”
ان کے پوچھنے پر ہیثم حیران ہوتا مینیجمینٹ کو دیکھنے گیا تو ہناد اپنے اس ساتھی کو ڈھونڈنے لگا اسے یقین تھا کہ مقابل نے ضرور کچھ گڑبڑ کردی ہے،
ڈریسنگ روم میں چئیر پر بیٹھی عنادیہ گھبرائی تھی اچانک اندھیرا ہونے پر،ابھی وہ اٹھ کر جلدی سے دروازے کے پاس جاتی مگر تبھی ٹھٹھکی کسی کو اندر داخل ہوتے دیکھ،اس کا ارادہ مقابل کے برابر سے ہوکر جانے کا تھا مگر آنے والا شاید یہ نہیں چاہتا تھا تبھی عنادیہ کا بازو پکڑ کر وہ اسے اندر کیا ساتھ ہی دروازہ بند کرتے ہوئے اس کی جانب آیا،اندھیرے میں عنادیہ کو دشواری ہوئی تھی اس شخص کو دیکھنے میں مگر مقابل کا انداز بتانے لگا تھا کہ کون ہے وہ،
تبھی اپنی مٹھی میں مقید کو ڈائمنڈ کی چمکتی رنگ نکال کر حیران پریشان کھڑی عنادیہ کے بلکل سامنے آیا،ساتھ ہی اس کا ہاتھ نہایت نرمی سے تھاما مگر اگلے ہی لمحے اپنا ہاتھ جھٹک کر چھڑواتی عنادیہ دروازے کی طرف بھاگی،
ناب پر ہاتھ رکھتے ہی سلسبیل نے اس کی نازک کمر پر پیچھے سے بازو حائل کیا اور تقریباً جھٹکے سے اسکی پشت اپنے سینے سے لگایا،وہ جو سوچ رہی تھی مقابل کے سامنے سے کسی بھی طرح غائب ہونے کی اچانک بوکھلائی سلسبیل کی فولادی گرفت اپنے گرد محسوس کر کے،وہ کیا کرنے والا تھا،اس سوچ نے عنادیہ کا دماغ پل میں ماؤف کیا،
“پرانی عادت اب تک نہیں گئی۔۔۔کبھی سیدھی طریقے سے بات نہیں مانتی۔۔۔”
عنادیہ کی خود کو چھڑانے کی جی توڑ مزاحمت پر وہ دھیمی مسکان سمیت بولا،مقابل کی گھمبیر بھاری آواز اتنے قریب سے سنتی عنادیہ کا دل بری طرح شور کر اٹھا،اپنی بےقابو ہوتی دھڑکنوں سے نظریں چراتی وہ رونے کو ہوئی جب سلسبیل نے اس کی مزاحمت پر گرفت تھوڑی سخت کی،وہ بول کیا رہا تھا اسے۔۔۔،کیا دریہ بیگم نے اسے سب بتادیا تھا،نہیں۔۔۔،عنادیہ نے قسم لی تھی ان سے،اور وہ قسم توڑنے والوں میں سے نہیں تھیں پھر مقابل اتنے یقین سے کیوں یہ بات بول گیا تھا،
اسے سوچوں میں گم دیکھ سلسبیل مسکراتا ہوا عنادیہ کا ہاتھ پکڑا،ہوش میں آتی عنادیہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ چھڑوانا چاہا مگر کمر کے گرد زیادہ سخت ہوتی گرفت نے اسے سسکنے پر مجبور کیا،تڑپ کر وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش چھوڑتی آنکھیں میچ گئی،اور تب سلسبیل اس کے تھک کر گردن جھکا لینے پر ہاتھ میں تھامی وہ رنگ عنادیہ کی انگلی میں پہنایا،
“مبارک ہو۔۔۔”ہماری منگنی”..”
اس کی کلائی کو انگوٹھے سے سہلاتا وہ بغور عنادیہ کی مخروطی انگلی پر اپنی پہنائی گئی رنگ کو دیکھا،کئی آنسو یک بیک عنادیہ کی آنکھوں سے نکلے،مقابل کی قربت پر پہلے ہی اس کی جان جارہی تھی اوپر سے اس کی یہ عنایت۔۔۔،عنادیہ کا دماغ فلحال کچھ بھی سوچنے سمجھنے سے پرے تھا،وہ نہیں سمجھ پارہی تھی اس کے دماغ میں چلتے کھیل کو،
مستقل عنادیہ کو سر جھکائے دیکھ وہ اپنی گرفت ڈھیلی کرتا اسے چھوڑا پھر آہستگی سے اس کا رخ اپنی جانب کیا،
“کہہ دو کہ تم ہی میری محبت ہو۔۔۔”
وہ نرمی سے عنادیہ کے چہرے کو اپنے ہاتھ میں تھام کر نہایت ہلکی سرگوشی کیا تھا جس پر پل میں عنادیہ کی آنکھوں سے نکلتے آنسو تھمے،فوراً سے پہلے کالی آنکھوں میں اجنبیت ابھری اور وہ سرخ چہرے سمیت نفی میں سرہلائی،
سلسبیل کا ہاتھ گرا تھا نیچے،تکلیف تو بہت ہوئی اس کے انکار پر مگر ضدی دل کی گواہیوں کو یکدم ڈپٹتا وہ خود کو لمحے کے ہزارویں حصّے میں یوں کمپوز کیا جیسے کبھی کمزور لمحے کے ضد میں آیا ہی نہ ہو،
“باہر چلیں۔۔۔”
اچانک اس کا ہاتھ پکڑتا وہ ازلی سرد لہجے میں بولا ساتھ ہی عنادیہ کو تقریباً کھینچتے ہوئے وہاں سے لے کر گیا،ڈریسنگ روم سے نکلنے کے فوراً بعد ساری لائٹس اون ہوئی تھیں،باہر آکر عنادیہ کا ہاتھ چھوڑتا وہ تنے جبڑوں سمیت کرخت تاثرات لیے دریہ بیگم کے پاس گیا،اس دوران بار بار وہ شناسا لمس سوچ اسے غصہ آیا،گر کو وہ عندلیب کا ہی لمس تھا تو کیوں اس نے انکار کیا،
“سلسبیل۔۔۔بیٹا اس ماحول میں فلذہ بہت گھبراگئی ہے تو رسم ہم چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔رنگ آپ بھجوادینا کل سکندر ولا۔۔۔”
اسکے آنے پر فلذہ کو تھامی مہناز بیگم نے سلسبیل اور دریہ بیگم کو دیکھتے ہوئے کہا،یہی تو وہ چاہتا تھا تبھی اثبات میں سر ہلاتا فلذہ کو دیکھا جس کے تاثرات سے واضح ہوا تھا کہ وہ ڈری ہوئی ہے،یقیناً اس کا ڈر گولی کی آواز پر ہی کوندا تھا،اتنی گناہگار ہونے کے بعد اگر موت کی آواز آتی ہے تو ڈرنا تو یقیناً تھا اس کا،
“مینیجمینٹ سے بات ہوئی ہے۔۔۔انہوں نے کہا ہے سب کو دیکھ کر ہی اندر بلایا تھا مگر گولی کس نے چلائی اس بات سے وہ بھی انجان ہیں۔۔۔”
ہیثم نے آکر ان لوگوں کو بتایا،گولی کا سن کر وہاں پر آتی عنادیہ نے پریشانی سے سلسبیل کو دیکھا اور سلسبیل مراد نے ان کالی آنکھوں میں اپنے لیے بےپناہ فکرمندی دیکھ جانا تھا کہ شاید نہیں یقیناً سامنے کھڑی لڑکی کوئی اور نہیں اس کی عندلیب ہے۔۔۔،وہی انداز تھا فکر کا،سلسبیل نے بمشکل لب دباکر اپنی مسکراہٹ چھپائی،وہ لڑکی کتنی کوشش کررہی تھی اس کے سامنے اجنبیت دکھانے کی مگر اپنے عمل سے اس کا رواں رواں ظاہر کررہا تھا کہ وہ عندلیب ہی ہے،
“ماما اس سے پہلے کچھ اور ہو۔۔۔چلیں یہاں سے۔۔”
گولی چلنے پر فلذہ بہت ڈری تھی تبھی اپنی جان کی فکر کرتی وہ بولی اسے کچھ نہ ہونے کی تسلی دیتی مہناز بیگم نے دریہ بیگم سے اجازت لی پھر وہ لوگ وہاں سے ٹھیک اسی طرح نکلے جس طرح آئے تھے،مگر جاتے ہوئے عنادیہ نے اپنے دوپٹے سے اس ہاتھ کو مکمل کوور کرے رکھا جس میں سلسبیل کی پہنائی گئی رنگ تھی،ہناد کار سٹارٹ کرنے سے پہلے کتنی کالز ملایا اسے مگر دوسری جانب سے وہ شخص جیسے کال ریسیو کرنا بھول ہی گیا تھا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر کار کی پشت سے ٹیک لگائی مطیبہ مسلسل باہر کی طرف دیکھ رہی تھی،اپنی قسمت کی ستم ظریفی اس کی سمجھ سے بالاتر تھی،اس شخص کا اس سے نفرت کا دعویدار ہونا پھر اسے اذیتوں سے دوچار کرنا اور اب۔۔۔،آج جس نرمی سے اس کا بات کرنا،پر جو بھی تھا مطیبہ کو آج ہیثم کا رویہ بہت بھایا تھا،وہ خوش تھی اس ستمگر کی اتنی عنایت پر بھی،آخر کو محبت جو کرتی تھی اس سے،کار کے بریک لگنے پر وہ سوچوں سے نکلتی چونکی،مطیبہ کو شدید حیرت ہوئی یہ دیکھ کر کہ وہ گاڑی سکندر ولا کی جگہ ساحل سمندر پر روکا ہے،
“ہیثم۔۔”
ناسمجھ نظروں سے ہیثم کے سپاٹ چہرے کو دیکھتی وہ پکاری مگر بدلے میں اسے کچھ بھی کہنے کے ہیثم سیدھا کار سے اترا،وہ جو اب تک حیران سی مقابل کو دیکھ رہی تھی اس کے پچھلا گیٹ کھول کر سیٹ سے کچھ نکالنے پر ٹھٹھکی،وہ چیز کوئی اور نہیں مطیبہ کی وہی ڈائری تھی جسے اپنے قہر میں اندھا ہوتا وہ پانچ سال پہلے جلانے کی کوشش کیا تھا مگر مطیبہ نے بمشکل آدھے حصے کو بچایا تھا جلنے سے،
“یہ۔۔۔”
اسے ڈائری ہاتھ میں لیے تیزی سے آتی لہروں کے جانب دیکھ مطیبہ گھبرائی ساتھ ہی کار سے اتر کر بھاگی تھی ہیثم کے پیچھے،اس کا ارادہ بھانپ وہ روکنے کے غرض پکاری ہیثم کو لیکن مطیبہ کی پکار کو ان سنا کرتا وہ ڈائری پھینکا تھا پانی میں،
“ہیثم نہیں۔۔”
چیختے ہوئے مطیبہ بھاگی پانی کی جانب ڈائری اٹھانے لیکن اس کا بازو جکڑتا ہیثم بڑی آسانی سے اس کی کوشش ناکام بناگیا،
“تم سنگ دل انسان۔۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔”
اس سے اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرتی مطیبہ یکدم غصے سے حلق کے بل چلائی لیکن وہ تو جیسے بےبہرہ بنا خاموشی سے اسے چیختے ہوئے دیکھ رہا تھا،
“یہ کیا کِیا تم نے۔۔”
جب کافی دیر تک وہ اسے یونہی پکڑے رکھا تب بےبسی سے نیچے بیٹھتی وہ روتے ہوئے چیخی،اپنی ڈائری اسے حد درجہ عزیز تھی۔۔۔،تبھی تو اپنا ہاتھ جلا ڈالا تھا اس ڈائری کو جلنے سے بچانے کے غرض مگر اب اسے سمندر کی لہروں میں مدفون سوچ کر ہی مطیبہ کی جان نکلنے کو ہورہی تھی،
“تم کیوں اتنے ظالم ہو۔۔۔”
حد سے زیادہ رونے کے باعث اچانک دماغ کی رگیں سن ہونے لگیں تبھی وہ اٹھ کر ہیثم کا کالر پکڑتے غصے میں چلائی،
“جواب دو مجھے۔۔۔”
“اپنی آواز نیچے رکھو۔۔”
جب وہ بلند سے بلند تر آواز کرنے لگی تب ہیثم کرختگی سے کہا،
“نہیں رکھوں گی آواز نیچے۔۔۔سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔تم کچھ بھی کرسکتے ہو۔۔۔آخر چاہتے کیا ہو۔۔۔تم نفرت کرتے ہو مجھ سے۔۔۔میں نے کبھی منع کیا تمہیں کہ مت کرو مجھ سے نفرت۔۔۔ہاں ہوں میں نفرت کے لائق بےشک کرو جتنی کرنی ہے کرو نفرت لیکن۔۔۔۔لیکن جب میں تمہاری نفرت کے بیچ کوئی اعتراض نہیں کرتی تو تم کون ہوتے ہو میری محبت پر اعتراض کرنے والے۔۔۔”
یہ بھڑاس ہی تو تھی جب سے اندر دبی جو اب وہ برداشت ختم ہونے پر مقابل پہ نکال رہی تھی،مطیبہ کے لفظوں کے ساتھ ساتھ ہیثم کے تاثرات میں سختی آنے لگی،
“کون ہوتے ہو تم میری محبت پر اعتراض کرنے والے۔۔۔کیا میں نے کبھی تم سے کبھی کہا کہ مجھ سے محبت کرو۔۔۔کیا کبھی تم سے اپنی محبت کا تقاضہ کیا۔۔۔نہیں نا۔۔۔پھر تم کیوں بار بار ایسا کرتے ہو۔۔۔کیوں مجھے تکلیف دینے کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے۔۔۔تمہاری یک طرفہ نفرت نفرت ہے۔۔۔اور میری یک طرفہ محبت۔۔۔،وہ کھیل۔۔۔بےکار چیز۔۔ہے نا۔۔”
“ہیثم سکندر بس کردو۔۔۔میری محبت کو میرے لیے سزا مت بناؤ۔۔۔مت کرو ایسا کہ نفرت ہو مجھے اس بات سے کہ میں نے تم سے محبت کی۔۔۔،مت کرو۔۔۔”
انتہائی کرب میں کہتی وہ ہیثم کو پتھر ہونے پر مجبور کی،صحیح تو کہہ رہی تھی وہ۔۔۔۔،اس نے کب اپنی محبت کا تقاضہ کیا تھا،وہ لڑکی تو اظہار سے بھی ڈرتی تھی کجا کہ کبھی اس سے کوئی تعلق بنانے کا تقاضہ کیا ہو،پھر وہ کیوں بار بار اس سے اپنی نفرت کا اظہار کررہا تھا،شاید کہ وہ ڈر رہا تھا کہ اپنے بنائے گئے اس نفرت کے کھیل میں اگر زرا سا بھی چُوک گیا تو پھر محبت نہ کربیٹھے۔۔،ہاں یہی وجہ تھی جو بار بار وہ یہ الفاظ دہراتا کہ اسے مطیبہ جہانگیر سے نفرت ہے،تاکہ یاد رہے کہ وہ نفرت ہی کرتا ہے اس سے،
“تم قاتل ہو ناذلی کی۔۔۔اور قاتل کبھی سکون سے نہیں رہتا۔۔۔تو اپنے کیے کا الزام مجھ پر مت ڈالو۔۔۔”
مطیبہ بےیقینی سے اس شخص کو دیکھی تھی جو اسے کئی اذیتوں میں گھرا کر اب سارے الزام اس ہی پر عائد کیا ان تکالیف کو اس کے گناہوں کی سزا بتاتا خود بری الزمہ ہوکر پرسکون سا مڑا اور کار کی طرف گیا تھا،پیروں سے یکدم جان نکلی تھی اور وہ لڑکھڑاکر نیچے گری،بآواز روتے ہوئے مطیبہ بےبسی سے سمندر کی آتی جاتی لہروں کو دیکھی،جہاں اس کے جذباتوں سے بھری ڈائری کہی گم سی ہوگئی تھی،
“جو بھی کیا صحیح کیا۔۔۔نفرت کرتا ہوں اس لڑکی سے میں۔۔”
کار میں بیٹھا وہ روتی ہوئی مطیبہ کو دیکھ ایک مرتبہ پھر بڑبڑایا مگر پہلی مرتبہ ہیثم سکندر کو اپنی یہ بات کھوکھلی سی لگی،وہ حیران ہوا تھا مگر جلد ہی سر جھٹک کر پشت سے ٹیک لگاگیا،کافی دیر تک وہ اسے روتا دیکھتا رہا پھر ٹائم زیادہ بڑھنے پر نکل کر باہر آیا،نم ہوئی مٹی اور تیز لہروں کے چھینٹے سے تقریباً بھیگ چکی تھی،
ساری رات یہی رونے کا ارادہ ہے یا گھر بھی چلنا ہے۔۔
ہیثم کی سخت آواز پر وہ غم و غصے کی حالت میں اسے دیکھی،
“نہیں جانا مجھے۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔”
وہ ہر دی تکلیف برداشت کرلیتی مگر یہاں اس کے بچپن سے لکھے گئے جذبات تھے اس ڈائری میں،وہی غصہ تھا کہ ختم نہیں ہو کہ دے رہا تھا،
“ٹھیک ہے۔۔۔پھر رہو یہیں۔۔۔”
بلند آواز میں کہہ کر وہ واپس گیا کار میں،کچھ دیر بعد مطیبہ نے سر اٹھاکر دیکھا،وہ واقعی جاچکا تھا،ایک نئے سرے سے اس کے اندر تکلیف کی لہر دوڑی،کیا اتنی عرزاں تھی وہ کہ مقابل ایک مرتبہ پھر بولا بھی نہیں۔۔،اپنے بھیگے گالوں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کرتی وہ اٹھی پھر پیدل چلتی وہاں سے جانے لگی،ساحل سمندر سے کافی دور آنے کے بعد جب اندھیرے روڈ پر نکلی تب پیروں میں درد کے ساتھ ساتھ اسے شدید خوف بھی محسوس ہوا،رونا الگ آرہا تھا بار بار کہ آخر کیسے گھر جائے گی،اسے تو راستہ بھی سوجھائی نہیں دے رہا تھا تبھی ایک رکشہ وہاں سے گزرا،
“بھائی رکو۔۔”
وہ بلند آواز میں پکاری جس پر تھوڑے دور جاکر رکشہ رکا،سنسان روڈ میں ایک امید دیکھ مطیبہ کو یک گونہ سکون ہوا،تبھی جلدی جلدی چلتے ہوئے رکشے تک آئی،سکندر ولا کا ایڈریس بتاتی وہ رکشہ میں سوار ہوئی،ابھی رکشہ کچھ دور ہی گیا تھا جب مطیبہ جو بیٹھے بیٹھے عجیب سی الجھن ہونے لگی،پریشان ہوتی وہ نم ہوکر چہرے سے چپکے ریشمی بالوں کو ہٹاتی ایک غیرارادی نظر بیک وییو مرر پر ڈالی اور یہی مطیبہ کا دل بری طرح گھبرایا،رکشہ چلانے والا وہ آدمی ہر تھوڑی دیر بعد اسے بغور دیکھ رہا تھا،
“ر۔۔رکشہ۔۔روکو بھائی۔۔”
بوکھلاکر وہ فوراً بولی مگر وہ آدمی اپنے پکڑے جانے پر بھی نڈر بنتا رکشہ چلاتے رہا،
“میں نے کہا روکو۔۔۔”
وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی تبھی ماتھے پر شکنیں لائے اس بار سختی سے بولی البتہ گھبراتے دل کی دھڑکنیں خطرے کی گھنٹیوں کے مانند محسوس ہورہی تھیں،جب وہ مسلسل یونہی ان سنا رہ کر رکشہ چلاتا رہا تب مطیبہ ہمت کر کے اپنی عصمت بچانے کے غرض کودی تھی رکشے سے،یوں اچانک روڈ پر کودنے سے کئی خراشیں آئیں تھی اسکے ہاتھ میں،بازو پر سے قمیض پھٹی تھی مگر دماغ میں خوف اس قدر سوار تھا کہ ان سب کی فکر کیے بنا وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی،کچھ دور جاکر رکشہ رکا پھر اس میں سے وہ آدمی نکلتا مطیبہ کی جانب آنے لگا،وہ اب باقاعدہ رونے لگی تھی،اتنی رات کے اندھیرے میں اس سنسنان روڈ پر اگر وہ چیختی بھی تو کوئی ذی روح موجود نہ تھا اس کی آواز سننے کو،پیر مڑنے کے باعث تکلیف کی وجہ سے اٹھا بھی نہیں جارہا تھا،کچھ نہ سمجھ آنے پر وہ بےبسی سے روتی اپنا سر گھٹنوں میں چھپاگئی،تاکہ کم از کم اس انسان کی حوس بھری نظریں نہ دیکھے،اس آدمی میں اسے ہناد دکھا تھا،آج اپنی عصمت اسے جاتی ہوئی محسوس ہورہی تھی مگر تبھی کار کے تیز ہارن پر وہ جھٹکے سے سر اٹھائی،یوں لگا جیسے گھپ اندھیرے میں زندگی کی کرن دکھائی ہو کسی نے،رکشے والا مقابل کو کار سے اترتے دیکھ واپس بھاگا تھا اپنے رکشے پر ساتھ ہی اس پر سوار ہوتا وہاں سے نکلا،
شدید حیرت کا مجسمہ بنی مطیبہ اسے دیکھی جو کشادہ پیشانی پر بل لیے اسے گھوررہا رہا تھا،وہ تو جاچکا تھا۔۔۔،
“اب بھی چلنا ہے یا خود چلی جاؤ گی۔۔۔”
اسے خود کو بےیقینی سے دیکھتا پاکر ہیثم تپا مگر مطیبہ کے سر جھکا کر لب کاٹنے پر وہ قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا،
“چلو۔۔”
اب کی بار اس نے مطیبہ کا ہاتھ پکڑ کر اوپر جھٹکا تھا مگر جب وہ یونہی بیٹھے رہی تب جھک کر بولا،
“مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔”
ہیثم کے سوال پر پانی سے بھرے نین کٹورے اٹھائے وہ اسے بےبسی سے دیکھ اپنے پیر کو دیکھی جہاں سے کٹ لگنے پر خون کی لکیریں بنی تھیں،پل میں معملہ سمجھ کر وہ لب بھینچا پھر گہرا سانس بھر کر سیدھا ہوا،وہ جو سمجھنے لگی تھی کہ ایک مرتبہ پھر اسے چھوڑ کر مقابل جارہا ہے رونے کو ہوئی مگر تبھی اس کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی جب ہیثم پھر سے جھک کر اسے اپنے باہوں میں بھرا،پھٹی آنکھوں سے اس کے بےتاثر مگر وجیہہ چہرے کو دیکھ مطیبہ شرم سے چہرہ جھکائی،
اسے کار میں بیٹھا کر ہیثم دوسری جانب سے آکر خود بھی بیٹھا،
“اب بھی کیوں آئے۔۔۔نہیں آتے۔۔۔تمہیں تو شوق ہے نا پہلے مجھے مصیبت میں ڈالو پھر اچھا بن کر آؤ۔۔۔نہ تم جاتے نہ میرے ساتھ وہ ہوتا۔۔۔”
اس آدمی کی نظروں کو سوچ وہ جھرجھری لیتے ہوئے پھر روئی،ہیثم جو خاموشی سے کار سٹارٹ کررہا تھا اس کے ایک مرتبہ پھر شروع ہونے پر جبڑے بھینچتا آنکھیں بند کر کے کھولا،
“چپ رہو۔۔”
سنجیدگی سے ٹوکا تھا وہ اسے،جانتا تھا اس بات غلطی خود کی ہی تھی،
“جب غلطی اپنی ہو تو چپ کرادو۔۔۔اور جب میری ہو تو ڈانٹوں سناؤ چیخو۔۔۔اب میرا بولنا کیوں برا لگ رہا ہے۔۔۔اور بولا بھی کیا میں نے۔۔۔ایک بات ہی پوچھی کہ اب کیوں آئے۔۔۔جب جب ضرورت پڑتی ہے تب کیوں نہیں آتے۔۔۔آج بڑا خیال ہوا میرا۔۔۔”
اس آدمی کے ساتھ ساتھ جب ہناد کی کی گئیں گستاخیاں اور نظریں یاد آئیں تو وہ اور بھڑکی،آج جیسے تھوڑی تھوڑی دیر میں وہ اپنی بھڑاس نکالنے کا ارادہ کی ہوئی تھی،اسے مسلسل بولتے دیکھ ہیثم نے گردن موڑ کر پہلے تو سخت گھوری سے نوازا تھا اسے مگر اپنی گھوری بھی بےسود ہوتی دیکھ وہ جھکا تھا مطیبہ کی طرف،مقابل کو اپنی جانب جھکتے دیکھ وہ پیچھے ہوتی دیکھی مگر تب تک دیر ہوچکی تھی،وہ اسے کچھ دیکھنے کا موقع دیے بنا مطیبہ کے گلابی لبوں پر اپنے لب رکھتا اسے چپ کراگیا،لمحے میں دل کی دھڑکنیں ایک سو بیس کی رفتار سے دھڑکنیں لگیں،شدتِ جذبات میں اپنی آنکھیں میچ کر مطیبہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھی تھی دھکا دینے کے غرض مگر اس کی کلائی مٹھی میں لے کر وہ بند شیشے سے لگاگیا،کار میں بڑھتی معنیٰ خیز خاموشی پر مطیبہ کی دھڑکنیں واضح سنائی دے رہی تھی،مقابل کی بےباک جسارت پر گھبرائی وہ سانس رکنے پر اپنا ہاتھ چھڑانے کی بھرپور کوشش کرنے لگی اور تبھی اس کی جاں بخشی کرتا وہ آہستگی سے اسے چھوڑا،مطیبہ کا لال ٹماٹر ہوا چہرہ گواہی دے رہا تھا کہ وہ ابھی شدید خواہش رکھتی ہے اس کی نظروں سے کہیں بہت دور چلے جانے کی،اپنے سینے پر ہاتھ رکھتی وہ زیرو بم ہوتی سانس کو متواتر کرنے کی کوشش میں تھی جبکہ اس کے حیا سے تمتماتے خوبصورت چہرے کو دیکھ ہیثم طنزیہ مسکراہٹ سمیت کہا،
“امید ہے اب چپ رہو گی۔۔”
ابھی وہ اس حالت میں نہ تھی کہ کوئی جواب دے سکے تبھی چہرہ جھکائے بلکل خاموش رہی،ادھر اس کے تاثرات بغور دیکھتے ہیثم کے لبوں پر ایک دلکش مسکراہٹ اپنی چھب دکھلاکر غائب ہوئی،وہ جو چور نظر اٹھاکر اب اسے دیکھنے لگی تھی ہیثم کے لبوں پر زبان پھیرنے سے اس کے بقیہ ہوش بھی اڑے،سر جھکا کر اس مرتبہ اس نے مکمل گریز کیا مقابل کو دیکھنے سے،
مطیبہ کو روتا چھوڑ اس کا ارادہ تھا چلا جائے وہاں سے مگر کچھ دور جاکر وہ ایک عجیب احساس کے تحت کار موڑا،واپس آیا تو دیکھا محترمہ پیدل ہی وہاں سے کچھ دور جارہی تھی،کار کو سلو چلاتا وہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ آخر کہاں تک وہ اکیلے جاسکتی ہے،پھر اسے رکشے میں سوار دیکھ ہیثم نے کار کی ہیڈ لائیٹس آف کیں ساتھ ہی نہایت ہلکی رفتار میں اس رکشے کا پیچھا کیا،وہ چاہتا تو یہ سب کرنے کے بجائے سیدھا اسے لے آتا مگر ناجانے کیوںپہلی مرتبہ دل کیا تھا اس ڈرپوک لڑکی ہمت دیکھنے کو،رکشے سے اسے کودتا دیکھ ہیثم کو جھٹکا لگا تھا مگر تبھی رکشے والے کو رکشہ سے اتر کر مطیبہ کی جانب آتا دیکھ وہ معاملہ سمجھتا ہارن بجا کر اترا،
وہ اتنے سالوں تک اس سے نفرت کا دعویدار رہا تھا مگر ان چند مہینوں میں اس لڑکی کے ساتھ رہ رہ کر ہیثم کے دل میں زیادہ نہیں مگر تھوڑا بہت نرم گوشہ پیدا کیا تھا مطیبہ کے آنسوؤں نے۔۔۔،لیکن خود پر ازلی نفرت کا خول چڑھائے وہ کبھی اس نرم گوشے کو ظاہر نہ کرتا اور نہ ہی چاہتا کہ کبھی یہ ظاہر بھی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہناز بیگم،فلذہ اور عنادیہ کو سکندر ولا چھوڑتا وہ اسے کال کیا،اس بار کال ریسیو کرلی گئی تھی،
“کہاں مر گیا تھا۔۔۔”
کال ریسیو ہوتے ہی ہناد بھڑکا،
“مسڈ کالز سے تو فلحال یہی لگ رہا ہے کہ تُو مررہا تھا۔۔۔بتا۔۔۔کیا کام ہے۔۔”
وہ جیسے تیار تھا بلکل طنز کرنے کے لیے،اس کی ہمیشہ کی طرح حاضر جوابی پر ہناد تپ کر گویا ہوا،
“کیا کام ہے۔۔۔کمینے تجھے پتا ہے میرا ابھی کتنا خون کھول رہا ہے۔۔۔”
“خون کو چولہے پر چڑھایا ہے جو کھول رہا ہے۔۔۔”
“خون۔۔چولہے۔۔پر۔۔کیا۔بول رہا۔۔یار تُو پاگل ہے کیا۔۔”
اس کے کچھ بھی بولنے پر ہناد برسا،
“پاگل ہوگا تُو۔۔۔گدھے ابھی میرا موڈ بہت خراب ہے۔۔۔بات مت کر۔۔”
“کیوں تیرے موڈ کو کیا ہوا۔۔”
ہناد کو یکدم اپنی پریشانی بھول کر مقابل کی فکر ہوئی،آخر کو بیسٹ فرینڈ تھا اس کا،
“تجھے پتا ہے کھانا تو بہت اچھا تھا مگر میٹھے میں گلاب جامن رکھوایا اس کمینے نے۔۔۔جو کہ مجھے زرا نہیں پسند۔۔۔سارے موڈ کا بیڑا غرق ہوا۔۔۔”
ہناد کو یوں بتاکر جیسے کوئی ضروری بات ہو اب وہ خود ہی زیرِ لب بڑبڑایا،
“پر یار گلاب جامن تو اچھے ہو۔۔۔ایک منٹ۔۔تیرا موڈ اس لیے خراب ہے۔۔۔”
وہ جو مقابل کی بےوقوفانہ بات پر اسے وضاحت دینے لگا تھا اچانک اپنا مدعا یاد آنے پر تپ کر رہ گیا،
“ہاں تو۔۔”
“دیکھ میرے بھائی۔۔۔اس سے پہلے میں پاگل ہوں تُو بتا کہاں پر ہے۔۔۔مجھے ملنا ہے ابھی تجھ سے۔۔۔”
شدید ٹینشن میں وہ بولا تھا۔۔،پھر اس کے پتہ بتانے پر ہناد پہلے تو اپنا سر پکڑا پھر واپس بینکوئیٹ کا رخ کیا،وہ اب تک وہی پر تھا،
بینکوئیٹ کے باہر ہی کچھ دور کار روک کر وہ اترا،سامنے دکھتے میدان کی طرف اسے سایہ دکھا تھا،یقیناً وہی تھا،ہناد قدم اٹھاتا اس کے پاس گیا،آج اچھا موقع تھا سلسبیل کو مروانے کا مگر وہ جاننا چاہتا تھا اس انسان سے جو ہناد کے دوست کے درجے پر فائز تھا کہ آخر کای وجہ تھی جو وہ شکار کو مارنے کے بجائے میٹھے میں گلاب جامن کا دکھ لیے کھڑا تھا،
“اوئے۔۔”
اسے اپنی کار سے ٹیک لگائے دیکھ ہناد پکارا،
بلو ٹی شرٹ اور پینٹ پر وائٹ جیکٹ پہنا کیپ لگائے کھڑا گردن موڑ کر ہناد کو دیکھا تھا،عنابی لبوں پر ہمیشہ کی طرح طنزیہ مسکراہٹ نے احاطہ کیا ہوا تھا،جبکہ ایک دائیں ہاتھ کی انگلی گن کو یوں گھمارہی تھی جیسے کوئی کھلونا ہو۔۔۔،
“تجھے ایک کام دیا تھا۔۔۔”
اس کے پاس آتا ہناد غصے میں بولا،
“رئیلی۔۔۔ایک کام۔۔”
تمسخر بھرا لہجہ کچھ باور کرایا تھا،
“مطلب۔۔۔بہت سے۔۔۔کام دیے تھے۔۔سب ٹائم پر کیا مگر یہ کام۔۔۔یہ کام تو سب سے ایزی تھا۔۔۔صرف نشانہ کے کر ٹریگر دبانا تھا۔۔”
“ہاں تو دبایا تو تھا ٹریگر۔۔۔”
ازلی بےنیازی،
“تو پھر مرا کیوں نہیں سلسبیل مراد۔۔۔”
آبر بھنچے وہ پوچھا،
“نشانہ چُوک گیا۔۔۔ایک موٹی عورت ٹکراگئی تھی۔۔۔”
وجیہہ چہرہ بگاڑے جواب دیا گیا،
“سیریسلی۔۔۔ایک عورت کے ٹکرانے سے گولی سلسبیل کی جگہ سیدھا فانوس پر لگی۔۔۔ایہ بات بتا۔۔لائف میں پہلے کبھی کسی پر گولی چلائی ہے۔۔۔”
کسی شک کی بنا پر ہناد تفتیشی لہجے میں پوچھا،
“ہاں بلکل۔۔۔”
“کیسے۔۔۔”
“ایسے۔۔”
یہ کہتے ہی مقابل ہناد کا نشانہ لیتا ٹریگر دبایا،ٹھاہ کی کان چیرنے والی آواز کے ساتھ ہناد کی دلخراش چیخ فضا میں بلند ہوئی،گولی اس کے بازو کو چھوتی ہوئی گئی تھی،مگر خون تیزی میں نکلا ساتھ ہی تکلیف کی شدت سے وہ کراہ کر رہ گیا،
“کمینے یہ کیا کِیا۔۔۔”
“جو تُو نے کہا تھا۔۔”
نارملی بتایا تھا وہ جیسے کوئی بڑی بات نہ ہو،
“یار۔۔۔پیام مرتضیٰ۔۔۔تُو ہے کیا چیز۔۔۔”
بےتحاشہ غصہ آنے پر ہناد بازو پر سختی سے ہاتھ جماکر تلملایا،
“ماں کی نظر میں ان کا لاڈلا۔۔۔بیوی کی نظر میں چھچھورہ اور باپ کی نظر میں ایک نافرمان بگڑی اولاد۔۔۔”
بلا کی سنجیدگی سمیت وہ یوں بتایا جیسے کوئی اہم معلومات دے رہا ہو۔۔،
“ابے کمینے۔۔مجھے ہاسپٹل لے کر چل۔۔”
پسٹل سے نکلتے دھوئے کو جب وہ پھونکا تب ہناد جھنجھلاکر بولا،
“پیٹرول کے پیسے دے گا۔۔۔”
“پر کیوں۔۔”
ہناد کی آنکھیں حیرت سے ابلنے کو ہوئیں،
“کام تیرا ہے۔۔۔”
“خراب تو تُو نے کیا نا۔۔۔”
اپنے بازو سے نکلتے خون سے ہاتھ رنگین ہوتا دیکھ وہ چیخا،
“پر کہا تو تُو نے تھا۔۔۔اور میں دوستوں کا کہا گیا ٹالتا نہیں ہوں۔۔۔”
اپنی ایک اور خوبی بڑے پرشوق انداز میں بیان کی گئی،
“یار دے دوں گا میں پیسے۔۔۔ابھی چل جلدی۔۔”
بازو میں اٹھتی تکلیف بڑھنے پر ہناد سکندر شاید زندگی میں پہلے مرتبہ عاجزی سے بولا تھا جس پر پیام تمسخر سے مسکراتا کار میں بیٹھا،
“ایک بات بتا۔۔”
کار کی پشت سے ٹیک لگائے خون کی روانی روکنے کی کوشش کرتا ہناد پوچھا،
“ہمم۔۔”
گہری براؤن آنکھوں کو روڈ پر مرکوز کیے وہ ہنکارا،
“تجھے نہیں لگتا کہ تُو کچھ زیادہ ہی اوور کونفیڈنٹ ہے۔۔۔”
ہناد کے سوال پر عنابی لبوں پر تبسم پھیلا مقابل کو تپادینے والا،
“جس طرح تجھ میں کمینگی کُوٹ کُوٹ کر بھری ہے ٹھیک اسی طرح میں اور اوور کونفیڈنٹ ایک دوسرے کے بنا ادھورے ہیں۔۔”
اس کا ازلی تپانے والے انداز پر ہناد مسکراکر آنکھیں موند گیا،وہ زیادہ ناراض نہیں تھا اس سے۔۔،جانتا تھا اس طرح کے کام کرنا پیام مرتضیٰ کی فطرت کا خاصا ہے۔۔،اور ویسے بھی بقول ہناد کے وہ دوست تھا اس کا،بہترین دوست۔۔۔!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
