Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 13)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 13)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
شام کو سکندر ولا کے لان میں بیٹھی وہ جب سے خاموش خالی نظروں سے ہوا سے لہلہاتے تازہ گلاب کے پھولوں کو دیکھ رہی تھی،ذہن میں امڈتی سوچوں کا محور ڈھائی تین سال پیچھے تھا جب وہ بلکل ایسے ہی تازہ گلابوں کا گلدستہ لے کر سلسبیل کے گھر جاتی،کس قدر خوش رہتی تھی وہ ان دنوں،سلسبیل کی ڈانٹ سن کر بھی جب وہ ڈھیٹ کی طرح اس کے پاس جاتی تو کتنا چڑتا تھا وہ اس سے۔۔۔،اور پھر جب سب ٹھیک ہونے لگا تھا۔۔۔،وہ بھی اس سے اظہار محبت کیا تھا،اس وقت تکلیف میں بھی اس کا دل خوشی سے جھومنے کو ہونے لگا تھا مگر اس محبوب کو پھر نہ دیکھ پانے خوف تھا جو اس پر حاوی ہوتا اس کی خوشیوں کو مدفون کرگیا،
“عندی۔۔۔”
مہناز بیگم کی پکار پر وہ چونک کر ان کی جانب متوجہ ہوئی جو اس کے سامنے والی چئیر پر بیٹھی تھیں،
“میری بیٹی۔۔۔کیوں اتنی کھوئی کھوئی رہتی ہو۔۔۔”
اس کے خوبصورت مگر اداس چہرے کو دیکھتی وہ دکھی ہوئی،گہری سانس بھرکر اس نے نفی میں سر ہلایا،
“تائی امی۔۔۔کافی۔۔”
کچھ دیر بعد مطیبہ لان میں آتی کافی کا مگ مہناز بیگم کے جانب بڑھا کر بولی،
“عندی۔۔۔تمہارے لیے بھی لاؤں۔۔”
اب مطیبہ اس سے مخاطب ہوئی جو ایک مرتبہ پھر ان گلاب کے پھولوں کو دیکھنے میں مگن ہوئی تھی،
مطیبہ کے سوال پر اس نے آسودگی سے مسکراکر نفی میں سرہلایا،
“مطیبہ بیٹھو۔۔۔”
اسے پلٹ کر جاتے دیکھ مہناز بیگم نے کہا جس پر مطیبہ نے پہلے ایک نظر لان کی طرف کھلتے گیٹ کو دیکھا جہاں ہناد کال پر کسی سے بات کررہا تھا،وہ شاید ابھی آیا تھا کیونکہ مطیبہ جب لان میں کافی لے کر آئی تب وہ وہاں پر نہیں تھا،کال پر بات کرتے ہوئے ہناد کی تیز نظریں اس ہی پر جمی تھیں،بےساختہ جھرجھری لیتی مطیبہ نے وہاں جانے سے بہتر لان میں بیٹھنے کو ترجیح دیا،
“گھر میں پہلے ہی اتنی خاموشی رہتی ہے۔۔۔خوشیاں جیسے روٹھ چکی ہیں سکندر ولا کی درو دیوار سے،اس پر اب تم دونوں بھی یوں اداس و سوگ کے عالم میں رہتی ہو۔۔۔عندی تو بول نہیں سکتی۔۔کم از کم تم ہی بات کیا کرو ہنس دیا کرو۔۔۔”
اس کے چئیر پر بیٹھتے ہی مہناز بیگم افسردگی سے بولیں،مطیبہ نے بس ایک خاموش نظر ان پر ڈالی تھی،
“میں تھک چکی ہو ان سوگواریت سے۔۔۔فلذہ اور ہناد کے ساتھ تم کبھی پلے ایریا میں کھیل لیا کرو۔۔۔باسکٹ بال تو تم لوگوں کو پسند بھی بہت ہے۔۔۔”
مطیبہ کی خاموشی پر وہ اور بولیں،
“کیوں نہیں۔۔۔بلکل کھیلیں گے باسکٹ بال مام۔۔۔۔آخر کو اتنا ٹائم ہوگیا وہ کھیلے۔۔۔ہے نا مطیبہ۔۔۔”
مطیبہ کو چئیر پر بیٹھتے دیکھ اس طرف آتے ہوئے ہناد نے مہناز بیگم کی بات سن لی تھی تبھی بآواز کہتا مطیبہ کے کندھے پر اپنا رکھ کر تائید چاہا،
وہ جو اسکے آنے سے ہی پریشان ہوئی تھی اب ہناد کے ہاتھ کا دباؤ کندھے پر محسوس کرکے بوکھلائی،مہناز بیگم نے مسکراکر ہناد کو دیکھا،وہ شاید ہناد کے ہاتھ رکھنے سے مطیبہ کے چہرے پر رقم خوف نہیں دیکھ پائی تھیں،
اس کا ہاتھ ہٹانے کے غرض مطیبہ نے جلدی سے اثبات میں سر ہلایا،
“ویسے تم لوگوں کے لیے ایک گڈ نیوز ہے۔۔۔”
اچانک یاد آنے پر مہناز بیگم خوشی سے بولیں،
“کیا۔۔۔”
ہناد ان کے خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھ پوچھا،ہاتھ ہنوز گھبرائی ہوئی مطیبہ کے کندھے پر جما تھا،
“ہیثم آرہا ہے۔۔!”
ان کی بات پر مطیبہ تقریباً لرز کر رہ گئی،ہناد کا ہاتھ بےساختہ اسکے کندھے پر سے ہٹا،وہ ناسمجھی سے مہناز بیگم کو دیکھتا تصدیق چاہا،
“کیا سچ میں۔۔!”
“ہاں بلکل۔۔۔وہ بھی ہمیشہ کے لیے۔۔۔شکر میرے بچے کو اپنی ماں کا احساس تو ہوا۔۔۔کل رات فون آیا تھا۔۔۔اس نے کہا دو دن میں اپنا تھوڑا بہت کام وائینڈ اپ کر کے آجائے گا۔۔۔تم کہتے تھے نا۔۔۔اکیلے اتنا بڑا بزنس سنبھالا نہیں جاتا تم سے۔۔۔تو اب بےفکر ہوجاؤ وہ آکر تمہارا ساتھ دے گا۔۔۔”
مہناز بیگم جیسے جیسے خوشی سے بتارہی تھیں مطیبہ کا چہرہ اتنا ہی خوف سے زرد پڑنے لگا،دوسری جانب ہناد کو کچھ خاص خوشی نہ ہوئی اس کے آنے سے الٹا اس کا چہرہ بگڑا۔۔۔،ایک نظر مطیبہ کو دیکھ وہ بنا کچھ اور کہے گیا تھا لان سے،
“اب دیکھنا مطیبہ۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”
اس کا ٹھنڈا پڑتا ہاتھ تھامتی مہناز بیگم نے دلاسہ دینے والے انداز میں کہا جس پر مطیبہ بمشکل اثبات میں سر ہلائی،ڈر اس قدر حاوی تھا کہ وہ مسکرا بھی نہ پائی،
ادھر وہ جو مہناز بیگم کی باتوں کو سن یاسیت سے مسکرانے لگی تھی ان کے سب ٹھیک ہو جائے گا بولنے پر یکدم پنکھڑی مانند لب سمٹ گئے،کالی آنکھوں میں محبوب کا چہرہ آیا تو زخمی دل میں ہمیشہ کی طرح ٹیس اٹھی،
“آج شدت سے______دل چاہ رہا ہے،
بند آنکھیں کھولوں تو سامنے تم ہو،”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے خوبصورت مینشن میں کار روکتے سلسبیل مراد کی کانچ مانند آنکھیں یکدم نم ہونے لگیں،اسے حیرت نہ ہوئی اپنے آنکھوں کے یوں بھیگنے پر،کیونکہ یہ تو ہمیشہ سے اس کے ساتھ ہوتا آرہا تھا،اچانک ہی آنکھوں سے بنا کسی جواز کے کبھی بھی آنسو جاری ہوتے،وہ شروع میں ڈاکٹرز سے چیک اپ بھی کروایا تھا کہ آخر کیوں اس کی آنکھوں سے یوں کسی بھی وقت آنسو نکلتے مگر ڈاکٹرز نے کسی قسم کی پرابلم کا نہیں بتایا،وہ ڈراپس بھی ڈالتا تھا آنکھوں میں مگر پھر بھی یہ آنسو کیوں نکلتے سلسبیل کی سوچ سے بالاتر تھا،وہ نہیں جانتا تھا کہ دور بیٹھی اس کی متاعِ جاں جب تکلیف میں ہوتی تو یونہی رونے کے لیے ترستی مگر کالی آنکھیں ہمیشہ خالی رہتی اتنی کہ ان میں آنسو تک نہ آپاتے،اور اس لڑکی کے اندر اٹھتی درد کی ٹیسیں اکثر ان کانچ مانند آنکھوں کو نم ہونے کے لیے مجبور کردیتیں،
“گرینی۔۔۔”
ٹشو سے آنکھیں صاف کرتا وہ دریہ بیگم کو پکارا،
“ہاں میرے بچے۔۔۔”
“چائے بنوائیں میں فریش ہوکر آتا ہوں۔۔۔”
وہ تھکا ہوا تھا مگر ان کے محبت بھرے لہجے پر دریہ بیگم کا ماتھا چوم کر بولا ساتھ ہی اپنے کمرے کے جانب گیا،
کچھ دیر بعد فریش ہوکر وہ رف سے حلیے میں باہر آیا،
“آج کام بہت تھا۔۔۔”
چائے کا کپ ہاتھ میں لیے وہ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ دریہ بیگم نے نرمی سے پوچھا،
“جی۔۔”
“تھک گئے ہو۔۔۔”
“بلکل۔۔”
“جانا کب تک ہے۔۔۔”
اس سے سوالات کرتیں دریہ بیگم اچانک پوچھیں،وہ سمجھ گیا تھا کہ ان کا اشارہ کس طرف ہے،
“اس ہفتے بعد۔۔۔”
دھواں اڑاتی چائے کے گھونٹ بھرتا وہ جواب دیا،
“میرا بھی دل نہیں لگ رہا یہاں۔۔۔وہاں جانے کے بعد تم فرمان اور اسماء کو تو بلارہے ہو نا۔۔۔”
دو روز سے دہرائی گئی بات وہ ایک مرتبہ پھر دہرائی تھیں،جس پر سلسبیل نے ایک نظر انہیں دیکھا،
“کال کرچکا ہوں۔۔۔ہمارے شفٹ ہونے کے بعد آجائیں گے۔۔۔”
انہیں بتاتا وہ اب موبائل اٹھایا تھا رنگ ہونے پر،
عفان کے نمبر سے دو تین تصاویر موصول ہوئی تھیں اسے،ایک عالی شان پُرآسائش بنگلہ،اس تصویر کو دیکھ سلسبیل ابھی موبائل واپس رکھ ہی رہا تھا کہ اب کال آنے لگی،اس نے ریسیو کر کے فون کان سے لگایا،
“تو سر۔۔۔کیسا کروایا ہے میں نے آپ کا کام۔۔۔”
پرجوش لہجے میں کہتے عفان کی بات پر سلسبیل نے کوفت سے آنکھیں بند کر کے کھولیں،
“ہمم۔۔۔اچھا کروایا ہے۔۔۔”
“سر ایک اور بات۔۔۔”
سلسبیل نے کال کٹ کرنے کا سوچا مگر پھر عفان کے بولنے پر پوچھا،
“کیا۔۔”
“سر میں یہ پوچھ رہا تھا کہ اب اور کتنے مہینے رہنا ہوگا مجھے۔۔۔مطلب سر مجھے تو کوئی ایشو نہیں ہے پر۔۔۔سر دس مہینے ہونے کو ہیں۔۔۔ابا کال پر واپس آنے کا کہہ رہے تھے۔۔۔”
سر کھجاتا وہ اسے مکمل تفصیل بتاکر پوچھنے لگا،
“اپنی فیملی کو لے کر تم وہی پر شفٹ ہوجاؤ۔۔۔”
سلسبیل کی بات پر وہ تقریباً چکرایا،
“مگر سر۔۔۔میں کیسے اپنی فیملی کو لے کر وہاں۔۔۔ہیلو۔۔۔ہیلو سر۔۔۔”
بوکھلاکر وہ بولنے لگا تھا مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ دوسری جانب سے کال کٹ ہوچکی ہے،
“عجیب آدمی ہیں یار۔۔۔”
اپنے موبائل کو گھور کر وہ بڑبڑایا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا سورج طلوع ہورہا تھا اور وہ ہر دن کی طرح ایک مرتبہ پھر ہاتھ میں اس فریم کو تھامے ناجانے کب سے تک رہا تھا،مسکراتی ہوئی معصوم ناذلی کی تصویر،جس نے ہیثم کی آنکھوں کو رات بھر بھگوئے رکھا اور اب سوجی نیم وا آنکھوں سمیت اس کی تصویر دیکھ کر وہ اس کے ساتھ گزاریں پلوں کو یاد کر کے کبھی مسکرادیتا تو کبھی اس دن ناذلی کا بےجان خون سے لت پت چہرہ یاد کر کے تڑپنے لگتا،جو بھی تھا اتنے سالوں میں بھی وہ اسے بُھلا نہیں پایا تھا،بلکہ ان گزریں سالوں میں اس قدر شدت سے وہ اسے یاد کرتا کہ آخر تھک کر اذیتوں میں گھرے رونے لگتا،
“کاش کہ وقت پلٹ جائے۔۔۔اور تم واپس آجاؤ۔۔۔”
اس کی مسکراتی تصویر پر ہاتھ پھیرتا وہ کرب سے بولا ساتھ ہی آنکھیں میچ گیا،یکایک ذہن کے پردے پر مطیبہ جہانگیر کا چہرہ لہرایا اور پل میں اس کی اذیتیں دوہری ہوئیں،
شدت بھری نفرت پورے وجود میں سرایت کرتی اس کی سوجی آنکھوں کو خون کے مانند سرخ کرگئیں،
“کوشش کرنا کہ ہمارا سامنا نہ ہو مطیبہ جہانگیر۔۔۔ورنہ ہماری ملاقات کو اس قدر عبرت بناؤں گا تمہارے لیے کہ پھر میرے سامنے آنے سے پہلے موت کو ترجیح دوگی۔۔۔”
انتہائی تنفر سے کہتا وہ جھٹکے سے کھڑا ہوا،اسے واپس جانے سے پہلے یہاں کے چند کام نپٹانے بھی تھے،تبھی ناذلی کی تصویر کو ایک مرتبہ پھر نظر بھر دیکھ کر وہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور واشروم کا رخ کیا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
