Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz Readelle 50374 Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 30)
Rate this Novel
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar (Episode 30)
Deedar-E-Mehboob Ka Hijar By Nishal Aziz
رات بھر وہ وہی بینچ پر بیٹھا رہا،آنکھوں میں نیند کا خمار تک نہ آیا،بلکہ سرخ آنکھیں رات پر اذیت میں رہنے کی گواہی دے رہی تھیں،دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے وہ کئی گھنٹوں سے بس نیچے چمکتے ماربل کو گھوررہا تھا،ذہن میں جس قدر جھکڑ چل رہے تھے اس کے بلکل برعکس وہ ہارے ہوئے جواری کے مانند خاموش سا تھا،باریک لب ایک دوسرے میں اس سختی سے بھنچے تھے کہ اسے منہ سے خون کا ذائقہ محسوس ہوا،
چونکہ وہ ابھی اوپریشن تھئیٹر میں ہی تھی تبھی ڈاکٹرز نے اندر جانا فلحال الاؤ نہیں کیا تھا،جیب میں رکھے فون پر مسلسل ہوتی رنگ اسے سوچ کی دنیا سے نکال کر حال میں لائی،کال ریسیو کرتا وہ فون کان سے لگایا،
“ہیلو ہیثم۔۔۔بیٹا گھر آجاؤ جلدی سے۔۔۔”
دوسری جانب مہناز بیگم تھیں،ان کی بھیگی آواز پر ہیثم نے تھکی ہوئی سانس کھینچی،
“وجہ۔۔۔؟”
“بیٹا تم آؤ تو صحیح۔۔”
اب کی بار ان کے لہجے میں التجاء تھی،ہیثم کال رکھتا اٹھا پھر ایک تکلیف بھری نظر تھئیٹر پر ڈالتا نکلا وہاں سے،چند منٹ کی مسافت کے بعد وہ سکندر ولا کے پورچ میں کار روکا،
اندر داخل ہونے پر دیکھا کہ مہناز بیگم اب تک رورہی تھیں جبکہ ان کے پاس بیٹھی فلذہ بھی کافی پریشان لگ رہی تھی،
“جی کہیں۔۔”
ایک نظر تنفر سے فلذہ کو دیکھ وہ مہناز بیگم سے مخاطب ہوا،اس کی نظروں میں کاٹ محسوس کیے فلذہ گھبراہٹ کا شکار ہوتی کھڑی ہوئی،
“بیٹا ہناد کا کچھ اتا پتا نہیں چل رہا۔۔۔فون بھی بند ہے میں نے پتہ کروایا پر ہر جانب سے مایوسی ملی۔۔میرا دل عجیب ہورہا ہے کہ کہیں اسے کچھ ہوا نہ ہو۔۔”
ان کی بات پر ہیثم کے تاثرات پل میں پتھریلے ہوئے،
“مر ہی جائے تو بہتر۔۔”
لہجے میں بےانتہا نفرت لیے وہ گویا ہوا،
“ایسا مت بولو بیٹا بھائی ہے وہ تمہارا۔۔”
“نہیں ہے میرا بھائی وہ۔۔۔ایسا گھٹیا انسان جس نے میرے بھروسے کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔۔۔مجھے گناہگار بنا ڈالا ایسا شخص ہو ہی نہیں سکتا میرا بھائی اور یہ۔۔۔یہ تو دوست تھی نا مطیبہ کی۔۔۔دوست کی شکل میں آستین کا سانپ نکلی۔۔بےحیا۔۔”
غصے سے پھٹتے سر سمیت وہ آخر میں فلذہ جو دیکھ دہاڑا جس پر چند قدم پیچھے لیتی فلذہ گھبراکر سر جھکاگئی،
“اس میں مکمل قصور ہناد یا فلذہ کا نہیں۔۔تم اور میں بھی پورے پورے شریک ہیں۔۔چلو میرا دل خراب ہوا اس کی جانب سے کیونکہ مجھے اپنی اولادوں سے بہت محبت اور ان پر بھروسہ تھا پر تم۔۔تم تو شوہر تھے اس کے۔۔۔اپنی بیوی پر بھروسہ نہ تھا تمہیں۔۔”
مہناز بیگم نے مترنم آواز میں اسے آئینہ دکھانا چاہا،ان کی بات پر ہیثم پشیمانی سے اپنی نظریں اٹھانے کے قابل نہ رہا،شرمندگی سے زمین میں گڑھتا وہ نگاہ چرایا،
“ماما۔۔وہ۔۔وہ کوما میں چلی گئی۔۔”
کافی دیر بعد وہ بولنے کے قابل ہوا تو نہایت اذیت میں کہتا آنکھیں میچا،مہناز بیگم کے بےساختہ الفاظ گم ہوئے،وہ بےیقینی سے ہیثم کو دیکھتے رہ گئیں،انہیں لگا تھا وہ ٹھیک ہی ہو ہوگی تبھی اب ہناد کے لیے فکرمند ہوئی تھیں،
“یہ کیا۔۔ہو۔۔گیا۔۔”
اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھتی وہ صدمے کی کیفیت میں بڑبڑائیں،فلذہ کے چہرے پر بھی ہلکا سا ملال ابھرا تھا جبکہ ہیثم مڑ کر ایک مرتبہ پھر سکندر ولا سے نکلا،پورچ میں آتے ہی وہ رکا اندر آتی صغریٰ کی پکار پر،
“صاحب پہنچانا مجھے۔۔”
وہ خوشی سے پوچھی،جبکہ ہیثم اثبات میں سر ہلایا،
“ارے صاحب کیا بتاؤں اس دن ناذلی بی بی کے چھت سے گرنے پر میں دوبارہ وہاں آ بھی نہیں پائیں۔۔پتا ہے میرا مرد مرگیا تھا تو گاؤں چلی گئی۔۔۔آج شہر آنا ہوا تو وہاں پتا چلا کہ جہانگیر ہاؤس تو کافی سالوں سے بند ہے تبھی ادھر آئی میں۔۔۔سنا مطیبہ بی بی سے شادی ہوئی آپ کی۔۔۔ویسے صاحب بہت کھلتا ہے جب کوئی آنکھوں کے سامنے گِر کر مرجائے بڑا دکھ ہوا تھا ناذلی بی بی کی موت کا سن کر۔۔”
صغریٰ کی مکمل بات وہ بےدھیانی میں سن رہا تھا مگر آخری بات پر جیسے جھٹکا کھاکر رہ گیا ہو،
“ایک منٹ۔۔۔آنکھوں کے سامنے گِر جائے مطلب۔۔۔ناذلی کو گرتے تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔۔۔؟”
وہ شدید حیران ہوتا صغریٰ سے تصدیق چاہ رہا تھا،
“ہاں تو اور کیا۔۔۔میں وہی تھی نا۔۔کپڑے ڈال رہی تھی تار پے۔۔۔ارے صاحب مطیبہ بی بی نے انہیں کہا بھی کہ ریلینگ سے اترو ورنہ گرو گی۔۔۔پر انہوں نے زرا نہیں مانی اور آخر کار گر گئی۔۔”
وہ بولتے جارہی تھی جبکہ ہیثم سے وہاں کھڑا رہنا محال ہوا،مطیبہ بھی تو یہی کہتی تھی اس سے کہ وہ قاتل نہیں تھی ناذلی کی،وہ گرجاتا اگر کار کا سہارا نہ لیتا،
“صاحب آپ ٹھیک ہو نا۔۔”
صغریٰ کے سوال پر وہ بمشکل اثبات میں سرہلاتا کار میں بیٹھا،اچانک دم گھٹنے لگا تھا،حواس جیسے بری طرح ہل چکے تھے،کتنا بڑا گناہگار بن چکا تھا وہ،کتنا ظالم تھا کہ اس لڑکی کی ایک بات پر بھی یقین نہ کرتا،وہ رو رو کر اسے یقین دلانے کی کوشش کرتی مگر یہ کیا کرتا بدلے میں اسے دوہری تکالیف میں مبتلا کردیتا اپنے الفاظوں سے،اذیت کی انتہا کو چھوتا وہ سر اسٹیئرنگ سے ٹکاگیا،درد حد سے سوا ہوا تھا ضبط کرتے کرتے،سینے میں تڑپتا دل کرلا کر رہ گیا اس کی گئی بےحسی پر،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بی بی سر کا اسسٹنٹ آیا ہے۔۔”
وہ اپنے کمرے سے نکل کر ہال میں آئی تھی تبھی فرمان نے آکر کہا،
“کون آیا ہے فرمان۔۔؟”
عنادیہ دریہ بیگم کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے کے جانب جانے لگی تھی تبھی فرمان کو سنابِل سے یہ کہتے دیکھ رک کر پوچھی،
“سلسبیل صاحب کے آفس سے ان کا اسسٹنٹ آیا ہے۔۔۔کسی فائل کی بات کررہا ہے۔۔”
وہ جو فرمان سے پوچھ کر اب ترچھی نظروں سے سنابِل کو دیکھ رہی تھی اچانک چونکی،
“ہاں عفان ہے نا۔۔۔آپ اسے اندر بلالیں۔۔”
اسے یاد آیا تھا کہ دوپہر سلسبیل نے اسے کال پر بتایا تھا کہ شام کو عفان ایک فائل لینے آئے گا،وہ عنادیہ کو اسے دینی تھی،تبھی فرمان کو بول کر اب وہ روم کی جانب گئی فائل لینے،ادھر سنابِل خاموش نظروں سے عنادیہ کی پشت کو دیکھی،وہ چاہتی تھی کہ عنادیہ اس سے پہلے کی طرح بات کرے مگر ناجانے کیوں آج کل وہ سنابِل سے زیادہ بات نہ کرتی اور اس کے خود بات کرنے پر مختصر جواب دیتی،اسے ڈر تھا کہ کہیں عنادیہ نے اس کی آنکھوں میں سلسبیل کے لیے پسندیدگی تو نہیں دیکھ لی،مگر اپنی سوچ کی وہ خود نفی کی،آخر کو اس نے اب عنادیہ کے سامنے سلسبیل کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے سے پرہیز جو کرلیا تھا پھر کیوں وہ اس سے اتنے روکھے لہجے میں بات کرتی،
“ایکسکیوز می۔۔”
وہ جو سوچ میں گم تھی پاس سے آتی مردانہ آواز پر ہوش میں آتی سامنے دیکھی،عفان اندر آتے ہی سامنے اس پری وش کو دیکھ مبہوت ہوا تھا اب اسے سوچ میں گم دیکھ پکارا تھا،
“ہیلو۔۔”
سامنے کھڑی لڑکی اسے پہلی ہی نظر میں بےحد بھائی تھی،سب سے زیادہ اس لڑکی کے سوگوار اداس چہرے نے عفان کی توجہ کھینچی تھی،اب سنابِل کے دیکھنے پر وہ ہاتھ آگے بڑھاتا بولا،
سنابِل اسے دیکھ خاموشی سے نگاہ واپس پھیر گئی جبکہ عفان اس کے ہاتھ نہ ملانے پر سبکی محسوس کرتا ہاتھ پیچھے کیا،
“ویسے آپ کون ہیں۔۔۔پہلے کبھی دیکھا نہیں نا۔۔”
اس کا اکثر یہاں سلسبیل کے کام کی وجہ سے آنا ہوتا اور اس لڑکی کو پہلی مرتبہ دیکھ وہ تھوڑا تجسس سے پوچھا،
“یہ لو عفان۔۔”
سنابِل نے اس کے سوال کا جواب نہ دیا،ادھر عنادیہ فائل لاکر عفان کے آگے بڑھائی،عنادیہ سے فائل لے کر وہ ایک نظر پھر اس لڑکی کو دیکھا جو اب پلٹ کر اندر روم میں جارہی تھی،
“کچھ اور چاہیے عفان۔۔؟”
عنادیہ کے سوال پر چونک کر وہ اسے دیکھا،
“نہی۔۔نہیں بھابھی۔۔”
جلدی سے کہہ کر وہ مسکراتے ہوئے مڑا،نامحسوس انداز میں اس لڑکی نے پہلی نظر میں ہی بڑے شان سے اس کے دل کی سلطنت پر اپنے قدم جمائے تھے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دن بوجھل سے گزرنے لگے تھے،مطیبہ کو کوما میں رہے پانچ مہینے ہوچکے تھے،وہ بہت حد تک چپ سا ہوچکا تھا،اکثر راتیں ہاسپٹل پر گزارے وہ اس لڑکی کی صحت یابی کی دعائیں مانگتا،سکندر ولا سے اس کا جیسے صرف چند گھنٹوں کا تعلق ہوکر رہ گیا تھا،بہت کم ہی وہ گھر کی شکل دیکھتا،ادھر مہناز بیگم بھی کبھی کبھی ہاسپٹل آتیں مطیبہ کو دیکھنے،وہ دوہری تکلیف میں مبتلا روز بروز کمزور ہوتی جارہی تھیں،ایک بھتیجی کے ساتھ اپنی کی گئی زیادتیوں پر تو دوسرا ہناد کا لاپتہ ہونا،ان سب میں اگر کوئی اپنے معمول پر تھا تو وہ فلذہ تھی،اسے جیسے اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی زیادہ فرق نہ پڑا تھا،وہ خوش تھی اپنی لائف میں یہ بُھلائے کہ کسی کی زندگی بگاڑ کر اس کا خود کا انجام کیسا ہونے والا ہے،
دوسری جانب عفان تھا کہ اب اس کا روز کا آنا جانا ہوا تھا اس پری وش کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے،سلسبیل سے اس کی یہ حرکتیں مخفی نہ رہیں تھیں،وہ شروع میں کوشش میں تھا سنابِل کے لیے ایک فلیٹ لے کر اسے وہاں منتقل کرنے مگر چونکہ سنابِل اسے بتاچکی تھی کہ ماں اور بہن کے علاوہ اس کا کوئی نہیں تبھی وہ اپنی اس سوچ پر عمل نہیں کرپایا تھا کہ اسے اکیلے فلیٹ پر کیسے چھوڑ سکتا تھا،کافی سوچ بچار کر اب اس نے جو فیصلہ لیا تھا اس پر سب سے پہلے وہ سنابِل سے بات کرنا چاہا تھا تبھی آج آفس سے آکر سیدھا اس کے کمرے میں گیا،
دروازہ ناک کرنے کے بعد جب اندر سے اس کی آواز آئی تب سلسبیل مضبوط قدموں سے اندر داخل ہوا،
“سلسبیل۔۔۔بیٹھیں۔۔”
اتنے مہینوں میں اسے پہلی مرتبہ اپنے روم میں آتے دیکھ سنابِل تیزی میں کھڑی ہوئی،
“تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔”
مناسب لفظوں کا چناؤ کرنے کے باعث وہ سنجیدگی سے گویا ہوا،ساتھ کنارے پر رکھے صوفے پر بیٹھتا سنابِل کو کافی فاصلے پر رکھے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا،
“جی۔۔”
بیڈ پر بیٹھ کر وہ لبوں پر نرم مسکراہٹ سجائے بولی،
“سنابِل۔۔۔تم نے بتایا تھا کہ تمہاری امی اور بہن کے بعد کوئی رشتہ دار یا سرپرست نہیں ہے تمہارا۔۔”
ٹہرے ہوئے لہجے میں وہ بات کا آغاز کِیا،
“یوں تو میرا تم سے کوئی رشتہ نہیں مگر چونکہ تم یہاں اتنے مہینوں سے رہ رہی ہو تو کچھ انسیت سی ہوئی ہے۔۔۔”
سلسبیل کی اس بات پر سنابِل کا چہرہ دمک اٹھا تھا،ناچاہتے ہوئے بھی چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے،
“دیکھو میں جو کہوں گا پلیز تھوڑا تحمل سے اور بہت سوچ کر اس کا جواب دینا۔۔۔یوں سمجھ لو جیسے ایک بڑا بھائی اپنی بہن کے لیے فکرمند ہوتا ہے ٹھیک مجھے بھی یوں ہی فکر ہے۔۔۔میری کوئی بہن نہیں پر اتنے مہینوں میں تم سے بہنوں جیسی انسیت ہوئی مجھے۔۔۔اور بلییو می ایک بھائی اپنی بہن کے لیے کبھی غلط نہیں سوچتا۔۔۔تو سنابِل۔۔عفان ایک اچھا لڑکا ہے۔۔اور۔۔”
وہ جو مقابل کے سحر میں ایک مرتبہ پھر جکڑنے لگی تھی یکدم اس کے آخری جملوں پر جھٹکا کھاکر رہ گئی،یوں محسوس ہوا جیسے آسمان پر لے جاکر کسی نے اسے زور سے زمین پر پٹخا ہو،آنکھوں میں نمی اترنے لگی تو اسے سمجھاتا سلسبیل اچانک رکا،
“آر یُو اوکے سنابِل۔۔”
“جی۔۔ہمم۔۔۔”
اپنی آنکھیں صاف کرتی وہ جلدی سے اثبات میں سر ہلائی،
“میں جانتا ہوں تمہیں یہ کچھ عجیب لگے گا۔۔۔لیکن پریشان بلکل مت ہو وہ ایک بہت اچھا انسان ہے۔۔۔ویل سیٹلڈ ہے،کسی بری عادت میں بھی نہیں اور سب سے بڑھ کر تمہیں پسند بھی کرتا ہے۔۔۔لیکن ان سب کے باوجود اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو۔۔”
“نہیں۔۔”
سلسبیل اسے پھر سمجھاتا آخر میں سنجیدگی سے بولا سنابِل کو پھر روہانسا دیکھ،سنابِل کے تاثرات سے اسے محسوس ہوا شاید وہ رضامند نہیں ہے تبھی کہا مگر وہ جھٹ سے اسے ٹوک گئی،
“مجھ۔۔مجھے۔۔کک۔۔کوئی اعتراض نہیں۔۔آپ۔۔نے پہلے ہی اتن۔۔اتنے احسان۔۔کیے ہیں مجھ پر میرے مجرم کو سزا دے کر اور پھر یہاں اتنے دنوں تک مجھے جگہ دی۔۔۔”
وہ نہیں چاہتی تھی اس شخص کی کسی بات پر منفی اظہار کرنا تبھی دل پر پتھر رکھے زبردستی مسکراتی بولی،البتہ بھرائی آواز نے اسے زیادہ بولنے نہ دیا،
“وہ احسان نہیں تھے۔۔بس بہن سمجھا تو رکھا بھی۔۔۔اب رو مت۔۔۔ابھی رخصتی نہیں ہورہی تمہاری۔۔”
نرم لہجے میں کہتا وہ آخر میں مسکرایا ساتھ ہی پلٹ کر باہر کی جانب قدم اٹھایا،
“سنیں۔۔”
وہ سسک کر پکاری تو سلسبیل رک کر گردن گھومایا،
“ش۔۔شک۔۔شکریہ۔۔۔بھائی۔۔”
بمشکل یہ الفاظ ادا کی تھی وہ جس پر سلسبیل نفی میں سرہلاتا مسکراکر نکلا روم سے،وہ گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی بیڈ پر،کیا سوچنے لگی تھی وہ اس شخص کے بارے میں اور وہ مہربان شخص،
وہ تو اسے بہن مانتا تھا،کتنی پاگل تھی وہ کہ اس کی امداد کو پسندیدگی سمجھتی احسان فراموش بن رہی تھی،اب اس کے ذہن میں عنادیہ کا روکھا لہجہ آیا تھا،واقعی وہ غلط ہی تو کرنے جارہی تھی اس شخص سے دل لگاکر جس نے اس پر اتنے احسانات کیے تھے،اگر کو وہ جان جاتا اس کے دل میں اپنے لیے ایسے جذباتوں کو تو شاید شکل بھی نہ دیکھنا پسند کرتا اس کی،ہاں وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا تھا صرف تو پھر کیسے کسی دوسری لڑکی کی آنکھوں میں اپنے لیے جذبات دیکھنے کی زحمت کرتا،اپنے آنسو رگڑتی وہ عہد کی تھی اس شخص کی طرف سے اپنا دل ہٹانے کی،جو خوبصورت رشتہ وہ اپنے اور سنابِل کے بیچ ابھی بتاکر گیا تھا اس کی بےحرمتی یا ناقدری نہیں کرسکتی تھی وہ کبھی،اسے عنادیہ سے بھی معافی مانگنی تھی،مگر ڈر بھی تھا آگے سے اس کے رئیکشن پر،تبھی فلحال خاموش رہتی قسمت کے لیے فیصلے پر شکر ادا کی،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔![]()
![]()
![]()
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
