Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368

Paband Slasal By Yumna Writes Readelle 50368 Last updated: 17 November 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Paband Slasal By Yumna Writes

اُسکی نگاہیں خیرت اور خوف سے پھیلی " اس نے آنکھیں جھپکتے سامنے کی جانب دیکھا " خوف اور دہشت سے اُسکا جسم کپکپانے لگا ۔
سامنے کھڑے وجود کو دیکھتے اس پر خوف طاری ہونے لگا ۔۔
وہ پہاڑ جیسے وجود کا مالک شخص " جس کے ایک رخسار پر كٹ کے بے شمار نشان تھے" کے اس کا چہرہ اتنا بدھا لگتا کے دیکھنے میں خوف محسوس ہوتا ۔۔
سیاہ رنگت پر اُس کے نشان اُسے بہت خوف ناک دکھاتے تھے ۔
وہ شخص اُسے دیکھ کے مکرو مسکراہٹ چہرے پر سجائے گھٹنوں کے بل فرش پر اُس کے قریب بیٹھا ۔
سید معراج کی محبوبہ " آخر ہاتھ لگ ہی گئی ۔۔۔۔۔
کہاں ہے تمہارا بھائی اور عاشق " انہیں بھلاؤ _____
چلاو" ________ کیوں کے آج تمہیں میرے قہر سے یہاں کوئی نہیں بچا پائے گا ۔۔
ڈرامائی انداز میں تھوڑی پر ہاتھ رکھے وہ بولا "
لیکن وہ تو مجھے تلاش کر رہے ہیں ۔
چلو کوئی نہیں " تم انہیں میرا پیغام دے دینا " شیطانی قہقہ لگاتے اُس نے خنفہ کے بالوں سے پکڑ کر اسے کھڑا کیا ۔
دور رہو ذلیل انسان "________
تم جانتے نہیں میرے بھائی کو ٫ ،، اگر مجھے کچھ ہوا تو وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے " خنفہ خوف کے باوجود چیخی ۔۔
وہ جو مسکرا رہا تھا " خنفہ کی بات سنتے اشتعال میں آتا خنفه کا چہرہ اپنے سامنے کرتے اس نے ایک زور دار تھپڑ مارا ۔۔
تھپر اتنا سخت اور شدید تھا ،، کے اس کی تاب نہ لاتے وہ فرش پر منھ کے بل گری " ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا ۔۔
چہرے پر انگلیوں کے نشان پڑ گئے ۔۔
اس کو تو آج تک اس کے بھائی نے سخت ہوا کو بھی چھونے کی اجازت نہ دی تھی " آج وہ ظالم شخص اسے اپنے عتاب کا نشانہ بنا رہا تھا ۔۔
اسکا روم روم کانپ اٹھا تھا " ________
اُس کے آدمی گن تھامے کھڑے تھے کے کسی میں ہمت نہ تھی اُسے بچانے کی ۔
وہ ابھی سمبھلی بھی نہ تھی " کے اُسکی گردن سے دوبوچے پوری طاقت کے ساتھ سامنے شیشے کی دیوار کے ساتھ اُس کا سر مارا کے ایک چھناکے سے شیشہ چکنا چور ہوتا گیا ،،
خنفہ کے ماتھے اور سر سے بل بل خون بہنے لگا " ۔۔
تکلیف کی شدت سے اُسکی چیخیں فضا میں گونج اٹھی" ۔۔۔۔
کیا کہا تھا تیرا بھائی ".... بلا اپنے اس عاشق اور بھائی کو ۔۔
تجھے ایسی سزا دوں گا کے ان دونوں کو عبرت حاصل ہوگی ۔۔
دوبارہ کبھی میرے کام میں ٹانگ اڑانے کی کوشش نہیں کریں گے سالے "
مجھے مارنا چاہتے ہیں وہ " جانتے نہیں میں کون ہوں ۔
ملاحظات بکتے اُس نے فرش پر گری خنفہ کے ترپتے وجود پر لاتوں کی برسات شروع کر دی ۔
درد سے ترپتے وہ خود کو بچانے کے لیے گھٹری بنی چہرے پر ہاتھ رکھ گئی ۔
اس نے اپنی پوری طاقت لگا کے
اُس کی کمر پر ضرب لگای جس سے وہ کچھ دور فرش پر گری" اور اُس کے خلق سے ایک دل خراش چیخ نکلی ۔۔
آنسو آنکھوں سے نکلتے ٫،، چہرے پر بہنے لگے ۔
فرش پر بکھرا کانچ اُس کے وجود میں بری طرح پیوست ہوا ۔۔۔اور وہ تکلیف اور وجود میں اٹھتی ٹیسو کی تاب نہ لاتے اپنے خواص کھونے لگی " ۔۔ آنکھیں بند کرتے جو آخری چہرہ اُس کی نگاہوں کے سامنے لہرایا " وہ معراج اور دلشیر کا تھا ۔
اُس کی پشت خون آلود اُس کے بدن سے چپک چکی تھی ۔۔
ہاتھوں پر خون لگا ہوا تھا " چہرے پر تھپڑ کے نشان " اور پھٹا ہوا ہونٹ " ۔۔۔
وہ خون میں لت پت ادھڑی پری تھی ۔
اُسکے ساکن وجود کو دیکھتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔
اُسکی آواز نے اُسے جھنجھور ڈالا " ۔۔ اُسکا چہرہ لٹھے کی مانند سفید پرنے لگا ،، جیسے جسم میں خون ختم ہو گیا ہو ۔
اُس کے خشک لب پھرپھرائے تھے " لیکن وہ اُسے روندھتا ہوا لے گیا تھا
اُسکے وجود کو تار تار کر گیا تھا ____________.
اُسکی آنکھوں میں موجود درد " آنسو کی صورت بہنے لگا ۔
یااللہ رحم " _________ اس کے لب سے آخری لفظ نکلا تھا ۔